سچ کی تلاش
زیاد اصغر زارون کے قلم سے
کبھی تم نے غور کیا ہے کہ جب تم کسی سے بحث کرتے ہو اور پھر وہی بحث کسی قریبی شخص کو سناتے ہو، تو تم اسے جوں کا توں نہیں سناتے؟ تم کچھ باتیں چھوڑ دیتے ہو، کچھ جملے ایسے بیان کرتے ہو جیسے وہ نرم اور بے ضرر تھے، اور کچھ حصے ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں تم اپنی سہولت کے مطابق بدل دیتے ہو۔
یہ سب تم لاشعوری طور پر کرتے ہو یا شاید جان بوجھ کر، کیونکہ تم اپنے آپ کو صحیح ثابت کرنا چاہتے ہو۔ تم چاہتے ہو کہ جو تمہیں سن رہا ہے، وہ تمہیں بے قصور سمجھے، وہ سمجھے کہ تم نے کچھ غلط نہیں کیا، کہ تم نے صرف اپنا دفاع کیا تھا، یا تم تو بس حق پر تھے۔
لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟
سچ میں ردو بدل کیوں؟
،کبھی خود سے پوچھو
“کیا میں نے واقعی وہ الفاظ کہے تھے جو اب میں سنا رہا ہوں؟”
“کیا میرا لہجہ واقعی اتنا نرم تھا جتنا میں اسے بنا کر پیش کر رہا ہوں؟”
“کیا میں نے بحث میں واقعی اتنی ہی شائستگی برتی تھی، جتنی میں بتا رہا ہوں؟”
“ہوسکتا ہے تمہارا دماغ تمہیں بہلانے کی کوشش کرے، تمہیں تسلی دے کہ “ہاں، تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔”
:مگر کہیں نہ کہیں، تمہارے اندر ایک آواز ہوگی جو کہے گی
“تم حقیقت کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہو۔”
تم کسی اور کو تو قائل کر سکتے ہو، مگر خود کو کیسے؟
ہوسکتا ہے کہ تم جسے اپنی کہانی سنا رہے ہو، وہ تمہاری بات مان لے۔ ہوسکتا ہے وہ تمہاری حمایت کرے، تمہیں دلاسہ دے، تمہیں سچا سمجھے۔
مگر سوال یہ ہے: کیا تم خود کو سچا مان سکتے ہو؟
کیا تم اپنے اندر کے اس حصے کو خاموش کر سکتے ہو جو جانتا ہے کہ حقیقت کچھ اور تھی؟
حقیقت کو اپنی مرضی کے مطابق بدلنا آسان ہے، مگر اس بدلے ہوئے سچ کے ساتھ جینا آسان نہیں۔
کیونکہ وہ اصل حقیقت تمہارے اندر کہیں نہ کہیں زندہ رہتی ہے۔
ذرا رک کر سوچو
اگلی بار جب تم کسی جھگڑے، کسی بحث، کسی تلخ لمحے کو کسی اور کے سامنے پیش کرنے لگو، تو ایک لمحے کے لیے رک جاؤ۔
سوچو کہ کیا تم سچ بول رہے ہو یا صرف وہ سچ جو تمہیں اچھا لگے؟
:اگر تمہیں ذرا سا بھی لگے کہ تم چیزوں کو اپنی طرف جھکا رہے ہو، تو جان لو
تم غلط ہو۔
