ناول درندہ

قسط نمبر 45

باب پنجم: کاسر العاکم

مصنف: زیاد اصغر زارون

°°°°°°°°°°

آبرو نے کانپتے ہاتھوں سے دوپٹے کا کنارہ پکڑا اور چھری سے اسے چاک کرنے لگی۔ دانتوں میں سرا دبائے، لرزتے ہاتھ سے کپڑا چیرتے ہوئے اس کی آنکھوں سے بے آواز آنسو بہنے لگے۔ ہر سانس گھٹی گھٹی نکل رہی تھی، جیسے سینے پر کوئی بوجھ رکھ دیا گیا ہو۔ آخرکار کپڑے کا ایک ٹکڑا الگ ہوا تو اس نے جلدی سے اسے اپنے بازو کے گرد لپیٹنا شروع کر دیا۔ کپڑا خون میں تر ہوتا جارہا تھا، مگر وہ مسلسل لپیٹتی رہی۔ چار پانچ چکر دے کر اس نے کپڑا بازو پر کس دیا اور دانتوں میں کپڑے کا سرا دبا کر گانٹھ لگانے لگی۔ زمین پر خون کی لکیریں اور چھینٹے پھیل چکے تھے، جیسے کوئی خونی نقشہ بن گیا ہو۔ اس کی آستین اور ہاتھ مکمل طور پر سرخ ہو چکے تھے۔ دباؤ کے باعث درد ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ گیا تھا، مگر خوف اور پکڑے جانے کی دہشت نے اسے چیخنے نہیں دیا۔ وہ بس ہچکیوں کے ساتھ روتی رہی، اندھیرے میں اپنی ہی سانسوں کی آواز سنتی رہی۔

آستین نیچے کھینچتے ہوئے اس نے زمین پر پڑا گلاس اٹھایا اور دھیرے دھیرے قدم بڑھاتے ہوئے واش روم کے باہر بیسن تک جا پہنچی۔ ہاتھ کانپ رہے تھے مگر وہ کسی طرح نل کھولنے میں کامیاب ہوگئی۔ ٹھنڈا پانی چھلکتے ہی پہلے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر آستین کے کنارے صاف کرنے کے بعد اسے اوپر چڑھایا اور بازو کو ہلکے ہاتھ سے رگڑ کر صاف کیا۔ خون کے دھارے آہستہ آہستہ دھل کر بیسن کی نالی میں بہہ رہے تھے اور پانی سرخی مائل ہوکر غائب ہو رہا تھا۔

کچھ لمحے تک وہ یونہی بیسن پر جھکی رہی، جیسے خود کو سنبھالنے کے لیے پانی کی ٹھنڈک کو جذب کر رہی ہو۔ ایک گہری سانس کھینچ کر اس نے لمحہ بھر کے لیے آنکھیں بند کر لیں۔ دل کی دھڑکن اب بھی بے قابو تھی مگر ہمت کی ہلکی سی لہر اس کے اندر لوٹ آئی تھی۔

اس نے آستین نیچے کرنے کے بعد کپکپاتے ہاتھ سے گلاس اٹھایا، بیسن پر آخری بار نظر ڈالی جہاں پانی اور خون کا سنگم بہہ کر اندھیرے میں گم ہورہا تھا اور پھر دبے قدموں سے کمرے کی طرف واپس بڑھ گئی۔

°°°°°°°°°°

شنداق کی فوج اندھیر نگری کے قریب ایک وسیع و عریض میدان میں بے ترتیبی کے ساتھ ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔ فضا میں ایک عجیب سا گھٹن بھرا شور تھا… ڈھالوں کی ٹکر، ہتھیاروں کی چرچراہٹ اور سپاہیوں کے گڑگڑاتے نعروں کی آوازیں۔ فوج کے کچھ سپاہی گوشت پوست کے تھے، ان کے بدن انسانی تھے لیکن ان کے چہرے خونخوار بندروں کی مانند تھے، دانت باہر نکلے ہوئے اور آنکھوں میں سرخی کی لپک تھی۔ ان کی گرج دار آوازیں ایسے لگتی تھیں جیسے جنگل کے درندے انسانی زبان میں دہاڑ رہے ہوں۔

باقی فوج کا بڑا حصہ مٹی سے تراشے گئے سپاہیوں پر مشتمل تھا۔ وہ ہر قدم پر زمین ہلا دیتے تھے اور جب ان کی فوجی صفیں حرکت میں آتیں تو یوں محسوس ہوتا جیسے پہاڑ اپنی جڑوں سے اکھڑ کر میدان میں اتر آئے ہوں۔ ان کے بھی چہرے بندر جیسے تھے لیکن مٹی کے ہونے کے باوجود ان کی آنکھوں میں سرخ شعلوں کی جھلک تھی جو ان کی خوفناک زندگی کی گواہی دے رہی تھی۔

میدان کے دوسری جانب، شنداق سے دور فاصلے پر شاہِ سموم کھڑا تھا۔ اس کے دونوں پہلوؤں میں رینا اور زمار گویا اس کے بازوؤں کی طرح موجود تھے۔ شاہِ سموم کے چہرے پر ایک مکروہ، شیطانی مسکراہٹ رقص کر رہی تھی۔ اس کی سنہری آنکھیں یوں دہک رہی تھیں جیسے صحرا کی ریت میں طوفان بھڑک اٹھا ہو۔ اس کے اردگرد کھڑے سپاہی، جو ہوا کے وجود سے بنے تھے، بار بار فضاؤں میں بلند ہوتے، پھر زمین پر یوں اترتے جیسے گردباد کا دھماکہ ہو۔ ان کی موجودگی سے میدان میں سنسناہٹ اور شور بڑھتا جا رہا تھا۔

دونوں افواج کے مابین ایک خاموش مگر خوفناک کشمکش کی فضا قائم تھی۔ سپاہیوں کے قدموں کی دھمک، ہتھیاروں کی جھنکار اور ان کے نعروں کی گونج ایک ہیبت ناک ساز بن چکی تھی۔ ہر سپاہی کے اندر اپنے بادشاہ کے لیے جان دینے کا جوش بھڑک رہا تھا۔ یہ میدان اب خون، ہوا اور خاک کے بے رحم طوفان کا منتظر تھا۔

شنداق نے رینا پر خونخوار نگاہ ڈالی۔

،اس کی آنکھوں میں دہکتے شعلے لپک رہے تھے اور اس کی بھڑکیلی آواز میدان میں گرج کی طرح گونجی
“تم… احمق عورت…! تمہیں اندازہ بھی ہے کہ تم نے کیا کر ڈالا؟”

رینا کے ہونٹ کانپے مگر وہ زبان سے کچھ نہیں بولی۔ شاہِ سموم کی موجودگی میں جواب دینا مناسب نہ تھا، لیکن اس کی آنکھوں میں شعلوں جیسی نفرت بھڑک اٹھی۔ وہ خاموشی سے شنداق کو گھورتی رہی جیسے پلٹ کر اس کے وجود کو جلا ڈالنے کا عزم رکھتی ہو۔

،شاہِ سموم نے مکروہ مسکراہٹ لبوں پر سجا لی۔ اس کی آنکھوں میں ایک شیطانی چمک ابھری اور وہ بولا
“یہ بات تمہیں تب سوچنی چاہیے تھی، شنداق… جب یہ مدد کے لیے تمہارے پاس آئی تھی۔ یہ سب تمہاری اپنی مہربانی کا نتیجہ ہے۔”

،شنداق کا وجود غصے سے لرز اٹھا۔ اس کے بندر جیسے چہرے پر غیظ و غضب کی شکنیں مزید گہری ہو گئیں۔ وہ دھاڑا
“!…صحیح کہا تم نے… مجھے اسی وقت اسے ختم کر دینا چاہیے تھا”

یہ سنتے ہی شاہِ سموم کی مسکان غائب ہو گئی اور اس کے چہرے پر گہرا غصہ ابھر آیا۔

،یکدم اس کا وجود سیاہی میں ڈھل گیا اور اس کی آواز گرج کی مانند فضا میں گونجی
“!…دیکھا… یہی… یہی تمہارا غرور ہے، جو مجھے زہر لگتا ہے”

:وہ دھاڑتا رہا، اس کے ہر لفظ سے ہوا لرز رہی تھی
“!…مجھے قسم ہے اپنی ماں کی… تجھے برباد کر دوں گا… موت کی بھیک مانگنے پر مجبور کر دوں گا”

اس کا غصہ شدت اختیار کرتا گیا، فضا میں ایک خوفناک آندھی بن گئی۔ چند لمحوں کے لیے وہ اپنے بڑھتے جلال کو محسوس کر کے ہچکچایا، پھر خود پر قابو پا کر زمین کی طرف اترنے لگا۔

،اس کے وجود کی سیاہی دھیرے دھیرے ماند پڑ گئی اور وہ زمین پر اترتے ہی نرمی سے مسکراتے ہوئے بولا
“معاف کرنا… یہ غصہ… تمہارے جیسے خردماغ کو ہی زیب دیتا ہے… یہ میرے شایانِ شان نہیں۔”

،چند لمحے خاموش رہ کر اس نے دوبارہ مسکرا کر ہاتھ پھیلایا اور دھیمی مگر پراثر آواز میں کہا
…تم بڑے بھائی ہو… چلو، تمہیں موقع دیتا ہوں… پہلا وار تم کرو، تاکہ تمہیں ہارنے کے بعد افسوس نہ ہو”

“کہ اگر پہلے وار کا موقع ملتا… تو شاید ہار نہ ملتی۔

شاہِ سموم اس کے سامنے ایسے بات کر رہا تھا جیسے شنداق اور اس کی فوج کوئی مٹی کے ننھے کھلونے ہوں، جنہیں وہ جب چاہے ٹھوکر مار کر چکنا چور کر سکتا ہے۔ فضا میں خوف اور ہیبت کا سکوت چھا گیا۔

دوسری جانب شنداق کے چہرے پر غصے کے ساتھ ایک گہری تشویش بھی ابھر آئی تھی۔

شاہِ سموم کی پیشکش… پہلا وار کرنے کا موقع… اسے فریب لگ رہا تھا اور وہ کسی بھی صورت اس کے لفظوں میں آنے والا نہیں تھا۔

،پھر بھی ایک سچائی واضح تھی
بہتر حکمت عملی کے ساتھ کیا گیا پہلا وار ہی سب سے کاری ہوتا ہے اور شروعات میں ہی اس کی شدت آدھی فتح کا اعلان کر دیتی ہے۔ اگر یہ وار اثر دار ثابت ہو جائے تو فتح یقینی ہے اور اگر کمزور ہو تو شکست کے آثار فوراً نمودار ہو جاتے ہیں۔

شنداق کا ذہن منتشر تھا، دل میں غصہ اور فریب کا احساس جنگ کر رہا تھا۔ فیصلہ کرنا مشکل تھا… کیا پہلا وار کرے یا پہلے دفاع پر توجہ دے؟ ہر لمحہ اس کے وجود میں ہلچل پیدا کر رہا تھا اور وہ جانتا تھا کہ اس ایک انتخاب کی قیمت ہار یا جیت کی صورت نکلے گی۔
،آخر اس نے سوچ لیا کہ وار نہیں سیدھا جنگ ہوگی۔ وہ کسی طوفان کی طرح گرجا
“…حملہ کرو”
یہ سنتے ہی اس کی پوری فوج چیختے اور دہاڑتے ہوئے شاہِ سموم کی طرف لپکی۔ شاہِ سموم نے ہاتھ اٹھایا اور اگلے ہی پل ہاتھ کی ہتھیلی بند کرتے ہوئے مکا بنا لیا۔ یہ اس کا اپنی فوج کو حملہ کرنے کا اشارہ تھا۔
دو بڑی طاقتیں ٹکرانے کو تھیں۔ ہوا اور مٹی کا کبھی جوڑ نہیں رہا لیکن ان کا ٹکراؤ بہت بڑے پیمانے پر تباہی لانے والا تھا۔

°°°°°°°°°°

کمرے میں داخل ہوتے ہی آبرو نے اپنا اضطراب چھپانے کی بھرپور کوشش کی۔ دل ایسے دھڑک رہا تھا جیسے پسلیوں کو توڑ کر باہر نکل آئے، مگر چہرے پر اس نے معصوم سی مسکراہٹ سجا رکھی تھی۔ گلاس ہاتھ میں تھامے وہ دھیرے دھیرے قدم بڑھاتی سیدھی زافیر کے قریب جا پہنچی۔

زافیر نے اسے دیکھا تو ہلکا سا مسکرا کر حورا کی طرف متوجہ ہوا۔
،دیکھا تم نے؟” اس کی آواز میں محبت اور اعتماد کی نرم جھلک تھی”
“مجال ہے جو آبرو ایک پل کے لیے بھی اپنی ذمہ داری بھول جائے… کتنی فکر ہے اسے میری۔”

آبرو نے نظریں جھکا کر گلاس آگے بڑھا دیا۔ زافیر نے شکر گزاری کے انداز میں گلاس تھاما اور جیسے ہی وہ لبوں تک لے جانے لگا… کمرے کا دروازہ چرچرا کر کھلا۔

زینب اندر آئی۔ اس کی نظریں یکدم گلاس پر جا جمیں۔ دودھ کا گہرا سرخ رنگ صاف دکھائی دے رہا تھا۔ لمحہ بھر کو اس کے چہرے پر سکتہ طاری ہوا، پھر اس کی آواز کمرے کی خاموشی کو چیر گئی۔

،ایک منٹ” وہ تیزی سے بولی، آواز میں شک اور دہشت کی آمیزش تھی”
“تم نے دودھ میں کیا ملایا ہے؟”

فضا میں ایک دم سناٹا چھا گیا۔ آبرو کی ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہر دوڑ گئی۔ زافیر کے ہاتھ گلاس کے کنارے پر رک گئے۔ اور حورا کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں جیسے وقت ایک پل کے لیے رُک گیا ہو۔

یہ الفاظ جیسے ہی آبرو کے کانوں سے ٹکرائے، اس کے تو گویا پیروں تلے زمین کھسک گئی۔ بدن کانپنے لگا اور پیشانی پر پسینے کے ننھے ننھے قطرے ابھر آئے۔ دل چاہا کہ زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائے۔

زافیر نے زینب کی فکر کو نظر انداز کرتے ہوئے بلا جھجک گلاس لبوں سے لگایا اور ایک گھونٹ حلق سے اتار لیا۔
پہلے ہی لمحے میں ذائقے نے اس کے دل و دماغ کو جھنجھوڑ ڈالا۔

…یہ دودھ… یہ کڑوا میٹھا، عجیب سا، کہیں دور سے جانا پہچانا
ایک ہی پل کو اس کی آنکھوں میں شکوک کی پرچھائیاں ابھریں۔

مگر اگلے لمحے وہ وہم کو جھٹک کر جیسے خود کو بہلانے لگا۔ نرم سی مسکراہٹ لبوں پر ابھری اور اس نے اپنا ہاتھ آبرو کے گال پر رکھ دیا۔

،یہ میری آبرو لائی ہے…” وہ محبت بھرے اعتماد سے بولا”
“اس نے دودھ میں جامِ شیریں ملایا ہے، اپنے بابا کی صحت کے لیے۔”

زینب کی آنکھیں اب بھی مشروب کے رنگ پر جمی ہوئی تھیں۔ اس کے دل میں عجیب سا کھٹکا سا جاگا تھا۔ وہ جھٹکے سے اس کے قریب پہنچی اور اچانک ہی غصے میں اس کا بازو جکڑ لیا۔ ایک سرد لہر آبرو کی ریڑھ کی ہڈی سے گزری۔ پیر جیسے زمین میں دھنس گئے تھے۔ جسم سن، زبان گنگ اور آنکھیں خالی خالی۔ پسینے کی بوندیں پیشانی سے بہہ کر گردن تک اتر رہی تھیں۔

زینب نے اس کے ہاتھ پر جمی نمی کو دیکھا… پانی میں گھلا ہوا وہ سرخ رنگ، جو اب کسی پرچھائی کی طرح چیخ چیخ کر راز کھول رہا تھا۔

،اس نے زور سے آبرو کو اپنی طرف موڑتے ہوئے جھنجھلا کر کہا
“کیا تم پاگل ہو؟”

آبرو کی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں، مگر لب پھر بھی مقفل رہے۔
زینب نے یکدم اس کا بازو جھٹک کر چھوڑ دیا اور اپنا خون آلود ہاتھ سیدھا زافیر کے سامنے کر دیا۔

لمحہ بھر میں کمرے کی فضا بوجھل ہوگئی۔ زینب کا لرزتا ہوا، خون سے لتھڑا ہاتھ… اور دوسری طرف زافیر کے ہاتھ میں وہ سرخ مشروب کا گلاس۔

یہ ایک پل ہی کافی تھا۔
زافیر اور حورا کی آنکھوں میں دہشت اور اضطراب کی لکیریں ابھر آئیں۔ گویا ان دونوں پر ایک ساتھ یہ حقیقت بجلی بن کر گری ہو کہ یہ سرخی کسی شربت کی نہیں… بلکہ ان کی معصوم بیٹی کے خون کی آمیزش ہے۔

زینب کی آواز میں حیرت اور غصے کا ملا جلا طوفان تھا۔
“!کیا آپ کی بیٹی پاگل ہے؟ یہ اپنا خون دودھ میں ملا کر لائی ہے”

کمرے میں ایک پل کو سناٹا چھا گیا۔ پھر جیسے خاموشی کے پردے کو آبرو کے آنسوؤں نے چاک کر دیا۔ آنکھوں سے بے اختیار چھلکتے قطرے گالوں پر بہہ نکلے اور اگلے ہی لمحے وہ ہچکیوں کے ساتھ رونے لگی۔

حورا گھبراہٹ سے لپکی اور اس کا ہاتھ پکڑ کر آستین اوپر کر دی۔ بازو پر بندھا کپڑا خون سے سرخ ہوچکا تھا اور سرخی کی وہ نمی آہستہ آہستہ کپڑے کے ریشوں سے باہر رِس رہی تھی۔ حورا کا لہجہ کانپ رہا تھا، آنکھیں بھر آئی تھیں،
“آبرو…! یہ کیا کیا تم نے؟ کیوں کیا ایسا؟”

لیکن آبرو کے لب سیل دیواروں کی مانند بند تھے۔ صرف رونا، سسکیاں اور ٹوٹتی سانسیں۔

زافیر کرسی پر بیٹھا جیسے پتھر کا مجسمہ بن گیا تھا۔ اس کا جسم اکڑا ہوا، آنکھیں پلک جھپکنے سے بھی معذور۔ گلاس اب اس کے ہاتھ میں کانپ رہا تھا۔ دل کے اندر ایک ایسا وار ہوا تھا کہ سانس لینا بھی دشوار لگنے لگا۔

اس کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی اور پھر وہ بوندیں قید نہ رہ سکیں۔ ایک ایک قطرہ گال پر بہہ کر نیچے گرتا گیا، جیسے ہر قطرہ اس کے وجود کے اندر چھپے زخم کا اعلان کر رہا ہو۔

آبرو روتے روتے پلٹی اور جب اس کی نظر زافیر کے بہتے ہوئے آنسوؤں پر پڑی تو وہ تڑپ کر رہ گئی۔ اس کے ہونٹ کپکپا اٹھے اور اس کے دل پر گویا کسی نے خنجر گھونپ دیا ہو۔
بابا…” وہ ہچکیوں میں ٹوٹی ہوئی آواز سے بس اتنا ہی کہہ سکی۔”

کمرے کا ماحول اب صرف درد اور خاموش چیخوں سے بھرا ہوا تھا۔
آبرو کا دل چیر دینے والا منظر سب کے سامنے تھا۔ اگر اس کے بابا اس کے لیے روتے تو وہ اپنی قسمت پر فخر کرتی، مگر آج اس کی وجہ سے ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ یہ منظر اس کے وجود کو اندر سے کاٹ گیا۔

وہ اچانک لرزتے قدموں کے ساتھ زافیر کے قدموں میں گر پڑی۔ دہاڑیں مار کر اس کے سینے سے لگنے کی بجائے وہ زمین پر جھک گئی۔

،اس کی رونے کی آواز کمرے کی دیواروں سے ٹکرا کر گونجنے لگی
“!…بابا…! مجھے معاف کر دیں… بابا، مجھے معاف کر دیں”
اس کی سسکیاں ایسی تھیں جیسے ہر لفظ کے ساتھ اس کے دل کا ایک ٹکڑا ٹوٹ رہا ہو۔

“!…بابا… میرے پاس کوئی راستہ نہیں تھا…! آپ کو بچانے کا اور کوئی راستہ نہیں تھا”
وہ روئے جارہی تھی، ہاتھ مضبوطی سے اس کے گھٹنوں پر جما رکھے تھے مگر ہر بار اس کی چیخ اور بھی بلند ہو جاتی۔

حورا کی آنکھوں سے بھی سیلاب بہہ نکلا، وہ آگے بڑھ کر آبرو کو تھامنے لگی لیکن اس کے کانپتے لبوں سے کوئی تسلی کے الفاظ نہیں نکل سکے۔ مومنہ خاتون آنکھوں میں گھبراہٹ اور حیرت لیے سب دیکھ رہی تھیں۔ وہ کچھ سمجھ نہیں پا رہی تھیں مگر اتنا جان گئی تھیں کہ آبرو مسلسل اپنا خون زافیر کو پلاتی رہی ہے۔ یہ ان کے لیے ناقابلِ یقین تھا، ایک ایسا راز جو ان کی روح کو ہلا گیا۔

زافیر کے وجود پر ایک عجیب سی بےحسی طاری تھی۔ اس کے ہاتھ، اس کے بازو، اس کا سارا بدن جیسے مفلوج ہو گیا تھا۔ مگر آنکھیں… وہ مسلسل بہہ رہی تھیں۔ آنسو اس کے چہرے پر بہتے ہوئے گردن تک پہنچتے گئے۔
آنکھوں میں ایسا درد، ایسا دکھ کہ گویا وہ لمحہ اس کے لیے قیامت بن گیا ہو۔ دل میں غصے اور غم کا ایک ایسا طوفان ٹکرا رہا تھا جو لفظوں سے بیان نہیں ہوسکتا۔ وہ غصے میں کسی کو چیر پھاڑ دینا چاہتا تھا اور غم میں اپنے ہی وجود کو مٹا دینا چاہتا تھا۔

وہ کرسی پر بیٹھا تھا لیکن ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ اپنی کرسی پر نہیں بلکہ سولی پر لٹکا دیا گیا ہو۔ ایک لمحہ، جو اس کی صدیوں کی طاقت اور صبر سب کو دفن کرتا جا رہا تھا۔

“…بابا… میں مجبور تھی… بابا، معاف کر دیں نا”
آبرو کی سسکیاں کمرے کی فضا میں لرزتی رہیں۔ وہ بلبلاتے ہوئے زمین پر گھٹنے ٹیکے رو رہی تھی، مگر زافیر جیسے پتھر کا مجسمہ بن گیا تھا۔ آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے لیکن ہونٹ خاموش تھے، جیسے زبان کا ساتھ چھوٹ گیا ہو۔

حورا کا دل بھی پل بھر میں الٹ گیا۔ ابھی ابھی وہ آبرو پر غصہ تھی لیکن حقیقت کی ہولناکی اس پر کھلتے ہی اس کا دل کانپ اٹھا۔
یہ ننھی سی لڑکی، جس نے اپنے باپ کی جان بچانے کے لیے اپنی نسوں سے خون بہایا، وہی خون آج اسے مجرم بنا گیا تھا۔
اس کی آنکھوں میں ترس کی نمی اتر آئی

،۔ وہ لرزتے قدموں سے آگے بڑھی اور زافیر کے کندھے کو دونوں ہاتھوں سے جھنجھوڑ کر بولی،
“!زافیر…! زافیر… کچھ تو بولیں نا”

زافیر چونک کر جیسے خواب سے جاگا۔ اس نے دھندلائی آنکھوں سے ایک نظر حورا کی طرف دیکھا، پھر اپنی بیٹی پر نظر ڈالی۔ اس کی آنکھوں میں ایسا غم تھا جیسے زمین پر کسی کا آخری دن ہو۔
،آواز ٹوٹتی، بکھرتی ہوئی نکلی
“…تم نے میرا دل توڑ دیا ہے، آبرو… مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی”

یہ جملے نہیں تھے، تیز دھار چھریاں تھیں جو آبرو کے دل پر برسیں۔ وہ لرز گئی، اس کے جسم سے سکتہ چھوٹ گیا۔ چیخ کے ساتھ رو پڑی اور زمین پر گر کر ہچکیوں میں ڈوب گئی۔

زافیر نے روتی ہوئی بیٹی کی طرف نہیں دیکھا، جیسے وہ اپنے دل کو اور نہیں پگھلنے دینا چاہتا تھا۔ اس نے گہری سانس کے ساتھ گلاس زینب کی طرف بڑھایا
لیکن گلاس ابھی اس کے ہاتھ میں ہی تھا کہ آبرو تڑپ گئی۔
اس نے اپنے نازک ہاتھوں سے بابا کا ہاتھ تھام لیا۔

،آنکھوں میں یتیم پرندے جیسی بے بسی اور لبوں پر لرزتے الفاظ
“!بابا… پلیز، اسے پی لیجیے… ورنہ آپ پھر بیمار ہو جائیں گے”
اس کی آواز میں ایسی فریاد، ایسی موت کی سی دہائی تھی کہ لمحہ بھر کو وقت بھی ساکت ہوگیا۔

زافیر کی آنکھوں سے جیسے شعلے برس رہے تھے۔

،اس نے ایک تیز، کاٹ دینے والی نگاہ آبرو پر ڈالی اور پھر حورا کی طرف دیکھ کر غصے میں دانت پیستے ہوئے بولا
“اسے ہٹا لو… ورنہ میرا ہاتھ اٹھ جائے گا۔”

حورا کے ہاتھ کانپ گئے۔

وہ جھٹ سے آبرو کو پیچھے کھینچنے لگی مگر آبرو ایک زخمی پرندے کی طرح اس کے ہاتھوں میں تڑپ رہی تھی۔

،آنسوؤں میں بھیگی اس کی آواز کمرے کے بوجھل سکوت کو چیر گئی
“…بابا… پلیز اسے پی لیں… ورنہ آپ پھر بیمار ہو جائیں گے… پلیز بابا”

اس کے رونے کی شدت ایسی تھی جیسے ہر لفظ دل کے اندر سے چیخ بن کر نکل رہا ہو۔ وہ بار بار خود کو چھڑانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی اور اس کے لرزتے ہاتھ زافیر کے ہاتھ کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہے تھے۔

اسی کشمکش میں اچانک فرش کے نیچے ہلکی سی کپکپاہٹ اٹھی… ایسی کہ سب کے دل ایک لمحے کو رک گئے۔

“یا اللہ خیر…” زینب اور مومنہ خاتون کے منہ سے بے اختیار نکلا۔

مگر اگلے ہی پل وہ کپکپاہٹ زوردار جھٹکے میں بدل گئی۔ کمرہ جیسے کسی دیو نے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑ دیا ہو۔ دیواروں سے تصویریں ہل کر نیچے گرنے لگیں، پنکھا زور زور سے جھولنے لگا، برتن ایک دوسرے سے ٹکرا کر بجنے لگے۔

ابھی ابھی کا جذباتی منظر لمحوں میں خوفناک افراتفری میں بدل گیا تھا۔ چیخیں، کانپتے وجود اور گرتی ہوئی چیزوں کی آوازیں کمرے میں ہولناک شور کی طرح گونج رہی تھیں۔

،زینب کا شوہر باہر سے ہانپتا ہوا دوڑا اور دروازے پر آ کر چیخا
“!باہر نکلو سب… زلزلہ آرہا ہے”

ایک لمحے کے لیے سب کے چہروں پر جیسے خون ہی جم گیا۔ پھر گھبراہٹ کی لہر سب پر چھا گئی۔ زافیر، جو ابھی تک غصے اور دکھ کے بھنور میں ڈوبا ہوا تھا، ایک دم سنبھل کر کھڑا ہوا۔ سب لوگ جلدی جلدی لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ کمرے سے باہر نکلنے لگے۔

زلزلے کی شدت اس قدر تھی کہ قدم زمین پر جمانا مشکل ہو رہا تھا۔ ہر سانس لرزتے دل کی دھڑکن کے ساتھ باہر نکلنے کی جدوجہد میں اٹک رہی تھی۔ دیواروں سے پلاسٹر جھڑنے لگا، چھت سے گرد کے بادل نیچے گرنے لگے۔

،تینوں خواتین کی زبان سے ایک ساتھ مقدس کلمات پھوٹ پڑے
“…یا اللہ خیر… استغفراللہ… بسم اللہ الرحمن الرحیم”
ان کی آوازیں شور اور لرزتی زمین کے بیچ بھی گونج رہی تھیں۔

وہ سب بمشکل دہلیز پار کر کے گھر سے باہر نکلے۔ باہر کا منظر اور بھی ہولناک تھا… درخت اپنی جڑوں تک لرز رہے تھے، زمین یوں جھول رہی تھی جیسے کسی غیبی ہاتھ نے پوری مٹی کو پکڑ کر بے دردی سے ہلا دیا ہو۔

باہر پہنچتے ہی وہ سب کے سب بے اختیار زمین پر بیٹھ گئے، ایک دوسرے کے قریب، گویا اس ہولناک جھٹکے میں ایک دوسرے کی موجودگی ہی ان کے لیے پناہ تھی۔

زلزلے کی شدت ایسی تھی کہ سانس لینا بھی دشوار لگ رہا تھا۔ زمین کا ہر جھٹکا یوں محسوس ہوتا تھا جیسے مٹی کے اندر کوئی دیو ہولناک غصے سے انگڑائیاں لے رہا ہو۔

اگلے ہی پل ایک کان پھاڑ دینے والی دھڑام کی آواز گونجی۔ ساتھ ہی انسانی چیخوں کا ایسا شور ابھرا کہ روح کانپ اٹھی۔ سب نے مڑ کر دیکھا… پڑوس کا ایک پورا مکان گرد کے طوفان میں زمین بوس ہو گیا تھا۔ مٹی اور اینٹوں کے ڈھیر سے دبے ہوئے لوگوں کی چیخیں کانوں میں بجلی کی طرح گڑنے لگیں۔

ابھی وہ چیخیں تھمی بھی نہیں تھیں کہ گاؤں کے چاروں طرف سے مکان گرنے کی گونج سنائی دینے لگی۔ ہر طرف دھماکوں اور ٹوٹتی اینٹوں کی آوازیں… جیسے زمین نے سب کچھ نگلنے کا فیصلہ کر لیا ہو۔

عورتوں اور بچوں کی دہائیاں، مردوں کی بے بسی بھری چیخیں اور ٹوٹتی دیواروں کے شور نے مل کر گاؤں کو ایک بھیانک قیامت میں بدل دیا تھا۔ گرد و غبار کا بادل ہر سمت چھا گیا، آنکھوں کے سامنے بس دھندلا سا منظر تھا۔

زینب اور مومنہ خاتون کے لبوں پر دعا اور کلمہ مسلسل لرزتے ہوئے نکل رہا تھا جبکہ حورا خوف سے آبرو کو اپنے ساتھ چمٹا چکی تھی۔ زافیر ساکت کھڑا تھا، اس کے کانوں میں گاؤں کے بچوں کی چیخیں ایسے گھل رہی تھیں جیسے ہر آواز اس کے دل کو نوچ رہی ہو۔

°°°°°°°°°°

شاہِ سموم کے سپاہی، ہوا میں لرزتے وجود شنداق کی فوج سے ٹکرا چکے تھے۔
شاہِ سموم کے سپاہی نہتے تھے، ان کے ہاتھوں میں کوئی تلوار نہیں تھی، انہیں اپنے وجود پر ہی یقین تھا کہ وہ بنا تلوار کے بھی بھاری ہیں۔
شنداق کی مٹی سے بنی فوج دھاتی تلواریں اٹھائے ان پر ٹوٹ پڑی تھی۔ وہ مخالفین پر اپنی تلواروں سے ضرب لگا رہے تھے، وہ جس سپاہی کو بھی تلوار سے مارتے اس کا وجود دھوئیں میں تحلیل ہوجاتا لیکن اگلے ہی پل واپس لرزتے وجود میں جڑتا اور شنداق کے سپاہی پر ٹوٹ پڑتے۔
شاہِ سموم کا کوئی سپاہی آگے بڑھتا اور اپنے ہاتھ میں طاقت مجتمع کر کے اسے ٹھوس بناتا اور اگلے ہی پل شنداق کے سپاہی کو ہتھیلی یا مکے سے کاری ضرب لگاتا۔ اتنی شدید ضرب کہ وہ سپاہی اگلے ہی پل مٹی کے ذروں میں بکھر جاتا لیکن بکھرتے ہی واپس اپنا وجود بنا کر دوبارہ ان پر ٹوٹ پڑتا۔
یہ اک عجیب سی جنگ کا منظر تھا، جہاں نہ ہی شنداق کے سپاہی مر رہے تھے اور نہ ہی شاہِ سموم کے سپاہیوں پر کسی وار کا اثر ہو رہا تھا۔ دونوں ہی طرف سے شدید حملے ہورہے تھے لیکن نتیجہ بے اثر تھا۔ بس دل کو تسلی دیئے ہوئے تھے کہ وہ اپنے آقا کے لیے لڑ رہے ہیں۔ سچ یہ تھا کہ شاہِ سموم کی فوج کو مات دینا یا اس کے کسی سپاہی کو مارنا ممکن ہی نہیں تھا۔ یہ تب ہی ممکن تھا جب آگ، پانی اور مٹی تینوں مل کر حملہ کریں۔ ایسی صورتحال میں شاہِ سموم بھی جانتا تھا کہ ہار طے ہوتی اسی لیے وہ اس بار کازمار کو اپنی طرف کر چکا تھا۔

شاہِ سموم کے پہلو میں رینا اور زمار بے چینی سے جنگی منظر دیکھ رہے تھے لیکن شاہِ سُموم جنگ کے میدان سے دوری بنائے اس صورتحال سے محظوظ ہورہا تھا۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ فوج کی لڑائی بے فائدہ ہے جو کوئی فائدہ نہیں دینے والی تھی۔ جیت یا ہار تب ہی ممکن تھی جب شنداق اور وہ آمنے سامنے لڑنے کے لیے کھڑے ہوجائیں اور شاہِ سُموم ابھی صرف اس جنگ کے نظارے سے لطف اندوز ہونا چاہتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ شنداق کبھی بھی اس پر براہِ راست حملہ کرنے کی غلطی نہیں کرے گا۔ اسے یہ بھی پہلے سے اندازہ تھا کہ شنداق اپنے ایلچی، آبیاروس اور کازمار کی طرف مدد حاصل کرنے کے لیے بھیج چکا ہوگا لیکن دل کو اطمینان تھا کہ شنداق کی یہ کوشش اس بار ضائع جائے گی۔ اسے اکیلے ہی اس میدان میں مرنا ہوگا۔
اور حقیقت یہی تھی کہ شنداق براہِ راست حملہ کرنے سے کترا رہا تھا۔ وہ بھی یہی چاہتا تھا کہ اس کی فوج مخالفین کو الجھائے رکھے۔ کم از کم تب تک الجھائے جب تک کازمار اور آبیاروس کی طرف سے مدد کا پیغام نہ مل جائے اور اسے پورا یقین تھا کہ اس بار بھی آبیاروس اور کازمار اپنے اختلاف بھول کر اس کی مدد کو آئیں گے۔

،رینا کافی دیر تک یہ مناظر دیکھتی رہی پھر شاہِ سموم کو مخاطب کرتے ہوئے بولی
“یہ سب کیا ہورہا ہے؟ شنداق کے سپاہی مر کیوں نہیں رہے۔”

،شاہِ سموم نے اس کی بے چینی محسوس کرتے ہوئے مسکرا کر کہا،
“ہماری دونوں افواج تب تک نہیں مِٹ سکتیں جب تک میں یا شنداق مر نہ جائیں۔”

“تو پھر آپ حملہ کر کے اسے مار دیں نا۔ یہ قصہ یہیں ختم کر دیں۔”

شاہِ سُموم نے ناگواری سے اس کی طرف دیکھا، اسے یوں لگا جیسے یہ معمولی انسان اس پر حکم چلانے کی کوشش کر رہی ہے۔

،اس کے چہرے سے مسکان غائب ہوگئی تھی اور گہری سنجیدگی ابھر آئی تھی، وہ قدرے بھاری لہجے میں بولا
“صبر کرو لڑکی… صدیوں بعد یہ نظارہ دیکھنے کو ملا ہے… مجھے کچھ وقت اس نظارے کو جی لینے دو۔”

رینا نے اس کی آنکھوں میں ناگواری محسوس کر لی تھی اور فوراً ہی احساس ہوگیا کہ وہ حد پار کر رہی ہے۔ اس لیے خاموشی سے شرمندہ ہوکر اس نے نظریں واپس جنگی میدان پر لگا لیں۔
زمار بھی اس کے قریب ہی کھڑا تھا لیکن وہ بالکل خاموش تھا، چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا۔ اندھیر نگری میں شدید اذیت میں گزرے وقت نے اسے بدل دیا تھا۔ وہ پہلے جیسا نہیں رہا تھا، اس کے اندر کچھ تو بدلا تھا جو اسے محسوس نہیں ہورہا تھا۔ وہ ایک کھوکھلے انسان کی مانند ہوگیا تھا جسے کوئی منظر اچھا نہیں لگ رہا تھا اور نہ ہی اپنی بہن کی کامیابی کی کوئی خوشی محسوس ہورہی تھی۔ بس ایک خالی انسان جس کے اندرونی سبھی جذبات مردہ ہوچکے تھے یا یوں کہنا مناسب ہے کہ ایک زندہ لاش جو دنیا سے بے پرواہ ہوچکا تھا۔

°°°°°°°°°°

زافیر صحن میں گھٹنوں کے بل بیٹھا ہوا تھا، دونوں ہاتھ زمین پر ٹکے ہوئے۔ کمر کے پیچھے ٹوٹے ملبے اور گرد کا ڈھیر تھا۔ سامنے وہ کھنڈر جو کچھ دیر پہلے ایک گھر تھا۔

زینب اپنی ٹوٹی چھت دیکھ کر آہ و بکا کر رہی تھی۔ وہ چھت جو اس کی امیدوں، خوابوں اور برسوں کی کمائی سے بنی تھی۔ اب وہ سب مٹی کا ڈھیر بن چکی تھی۔ اس کا شوہر لرزتی سانسوں کے ساتھ اسے سہارا دینے کی کوشش کر رہا تھا لیکن اس کی اپنے آنکھوں میں بھی آنسو تیر رہے تھے۔

زلزلے کے بار بار کے جھٹکے ہر دل پر وحشت طاری کر رہے تھے۔ زمین کبھی ایک طرف جھولتی تو کبھی دوسری طرف۔ ہر جھٹکے پر سب کے دل اچھل کر حلق میں آ جاتے۔

زافیر بھی زینب کے ملبے شدہ مکان کو دیکھ رہا تھا۔ دل پر بوجھ سا تھا، جیسے اس نے اپنی محسن کا گھر گنوا دیا ہو۔ وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا… بس ٹوٹے دل کے ساتھ اس ویرانی کو تکتا جا رہا تھا۔

اچانک، اس کے ہاتھ کے نیچے عجیب سا خالی پن محسوس ہوا۔ جیسے زمین سانس لے رہی ہو… اندر کچھ کھوکھلا ہو رہا ہو۔ اس نے چونک کر نظریں جھکا کر اندھیرے میں زمین کو دیکھا۔

… زمین کے رُخسار پر لکیریں کھنچتی جا رہی تھیں۔ پہلے باریک سی، پھر لمبی اور گہری
پہلے ایک دراڑ بنی، پھر اس سے شاخیں نکلنے لگیں… جیسے کسی سوکھے درخت کی جڑیں سطح زمین پر ابھر آئی ہوں۔

اس کے اندر سے سرسراہٹ جیسی آوازیں آنے لگیں۔
،وہ اچانک پوری قوت سے چلایا
“!جلدی کرو… نکلو یہاں سے… زمین کسی بھی لمحے پھٹنے والی ہے”

یہ کہہ کر وہ جھٹ سے اٹھا۔ ایک پل کو آبرو کو اپنے سینے سے لگا کر سہارا دیا اور پھر اسے بازوؤں میں اٹھا لیا۔ دوسرے ہاتھ سے حورا کو تھاما اور دیوانہ وار گاؤں سے باہر کی سمت دوڑ پڑا۔ باقی سب بھی حواس باختہ اس کے پیچھے لپکے۔

زمین کی دراڑیں ہر قدم کے ساتھ گہری اور خطرناک ہوتی جا رہی تھیں۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی بھی لمحے زمین شق ہو کر سب کو نگل لے گی۔ زافیر سب سے تیز بھاگتا ہوا باقیوں سے بہت آگے نکل آیا تھا اور گاؤں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے آگے بڑھ آیا تھا۔

،اچانک آبرو نے کانپتی آواز میں پیچھے دیکھتے ہوئے خوف سے چیخ ماری
“!…آنٹی”

زافیر نے تیزی سے پلٹ کر دیکھا اور اس کی آنکھوں کے سامنے گویا دنیا اجڑ گئی۔

کافی فاصلے پر، گاؤں کے کنارے پر، مومنہ خاتون اور باقی لوگ ابھرتی ہوئی دراڑوں میں گھر گئے تھے۔ زمین ان کے قدموں کے نیچے لرز رہی تھی اور پھر یکایک ایک خوفناک دھماکے کے ساتھ سیاہ دراڑ ان کے بیچ سے پھٹ کر پھیلتی چلی گئی۔
زینب کی چیخ فضا کو چیرتی ہوئی بلند ہوئی، وہ اپنی بیٹی کو سینے سے چمٹائے توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن زمین کے ٹوٹنے کی آواز اتنی دہشتناک تھی کہ دل دہل کر رہ گیا۔

مومنہ خاتون لڑکھڑا کر گر پڑی تھیں۔ گارڈ نے انہیں تھامنے کی کوشش کی مگر خود بھی قدم جما نہیں پایا۔
اگلے منظر نے زافیر سمیت آبرو اور حورا کے وجود پر بھی لرزہ طاری کر دیا تھا۔ خوف کی ایک لہر ان کے وجود میں سرایت کر گئی۔ زلزلے نے زمین کی تہیں چیر کر ایک بڑا شگاف بنا دیا تھا اور آدھے سے زیادہ گاؤں زمین میں دھنس چکا تھا۔ صرف گاؤں ہی نہیں بلکہ اس کے میزبان، گارڈز اور مومنہ خاتون بھی اسی شگاف میں گِر چکے تھے۔ ان کا کوئی نام و نشان بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔

زافیر کے چہرے پر دکھ کی ایک گہری پرچھائی ابھری، جیسے زمین کے ساتھ ہی اس کی اپنی روح کا ایک حصہ بھی دھنس گیا ہو۔ اگلے ہی لمحے اس نے نم آنکھوں کے ساتھ حورا کا ہاتھ مزید مضبوطی سے تھام لیا اور آبرو کو کندھے سے لگائے آگے بڑھنے لگا۔

حورا نے پیچھے پلٹ کر دیکھ لیا تھا۔ اس کے ہونٹ کانپ رہے تھے اور آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

،وہ روتے ہوئے بگڑتے لہجے میں بولی
“ہمیں واپس جانا ہوگا…! انہیں چھوڑ نہیں سکتے۔”

،زافیر نے دکھ اور بےبسی کے بوجھ تلے دبے لہجے میں کہا
“نہیں… ہم ان کی مدد نہیں کر سکتے۔”

یہ کہتے ہوئے اس کی آواز میں کرب صاف جھلک رہا تھا۔ مومنہ خاتون کا تصور ہی اس کے سینے کو چھلنی کر رہا تھا۔ وہ عورت جس نے ہمیشہ اسے بیٹے کی طرح چاہا، آج زمین کی تاریکی نے اسے نگل لیا تھا۔

،حورا نے آنسو بہاتے ہوئے اپنا بازو چھڑانے کی کوشش کی اور فریاد کی
“کوشش تو کر سکتے ہیں، پلیز زافیر واپس چلو… ہم انہیں ایسے نہیں چھوڑ سکتے۔”

مگر زافیر اسے مسلسل آگے کھینچ رہا تھا۔ پیچھے شگاف وحشی درندے کی طرح پھیلتا جارہا تھا۔ مٹی کے بڑے بڑے تودے گِر کر سب کچھ نگل رہے تھے اور دھنسے ہوئے گاؤں کی چیخیں مٹی میں دفن ہو کر مزید خوفناک لگنے لگیں۔

،حورا ہچکیوں کے درمیان ٹوٹے لہجے میں چیخی
!…آپ خود غرض ہیں”

آپ کو کسی کے مرنے جینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا… آزلان نے آپ کے لیے اپنی جان قربان کردی اور آپ اس کی ماں کو بچانے کے لیے بھی واپس نہیں جارہے۔

“آپ آج بھی درندے ہیں… اور سدا درندے ہی رہیں گے۔

یہ الفاظ زافیر کے دل پر ایسے اترے جیسے کسی نے تیز دھار خنجر گھونپ دیا ہو۔ لمحہ بھر کو اس کے قدم رکنے کو ہوئے، دل میں طوفان برپا ہوا… ایک لمحے کو خواہش جاگی کہ پلٹ جائے، اس شگاف میں چھلانگ لگا دے، پھر مرے یا بچے… کوئی پرواہ نہ رہے۔

لیکن یہ وقت جذبات میں بہنے کا نہیں تھا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ دو وجود… حورا اور آبرو… اس کی زندگی کے سب سے قیمتی اثاثے ہیں۔ ان کے بغیر وہ خود کچھ نہیں۔ انہیں گنوانے کا جوکھم وہ کسی حال میں بھی نہیں لے سکتا تھا۔

زافیر نے حورا کی کلائی اس قدر سختی سے جکڑ لی کہ اسے یوں لگا جیسے اگلے ہی لمحے اس کی ہڈی ٹوٹ کر بکھر جائے گی۔ وہ دیوانہ وار قدم اٹھاتا، اسے گھسیٹتا ہوا گاؤں سے دور بھاگ رہا تھا۔ اس کے کندھے سے لگی آبرو صرف دکھ اور بے بسی سے سسک رہی تھی، اس کے ہونٹوں سے کوئی لفظ نہیں نکل رہا تھا، جیسے خوف نے اس کی زبان سلب کر لی ہو۔

حورا نے پہلے تو مزاحمت کی، ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی مگر زافیر کی بے رحمانہ گرفت اور زمین کے لرزتے تھرتھراتے جھٹکوں نے اسے مجبور کر دیا۔ شاید اسے بھی احساس ہوگیا تھا کہ یہ وقت ضد اور سوال کا نہیں، بقا کا ہے۔ اس کے اندر کی آگ مدھم پڑ گئی اور وہ زافیر کے ساتھ تیز قدموں سے بھاگنے لگی۔

زلزلے کے جھٹکے ابھی تک تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ زمین کا ہر ارتعاش موت کا پیغام محسوس ہوتا، جیسے کسی بھی پل یہ شگاف کھول دے اور انہیں نگل جائے۔

،زافیر نے بھاگتے بھاگتے ہانپتی ہوئی آواز میں کہا
“ہمیں گاڑی چاہیے… اگر یہاں سے زندہ نکلنا ہے… اپنے بنگلے تک پہنچنے کا کوئی راستہ ہے تو وہ صرف متوازی دنیا سے ہو کر جاتا ہے۔”

“!یہ زمین اب ہمیں واپس جانے نہیں دے گی

زلزلے کی شدت کے ساتھ ہی زافیر کی گھبراہٹ بھی بڑھ رہی تھی۔ ہر قدم پر وہ یوں محسوس کر رہا تھا جیسے موت سایہ بن کر ان کے بالکل پیچھے دوڑ رہی ہو۔ لمحہ بہ لمحہ زمین کے ٹوٹتے وجود کے ساتھ انجام قریب آتا جا رہا تھا اور کوئی یقین نہیں تھا کہ کب زمین پھٹے گی اور یہ تینوں ہمیشہ کے لیے اس میں دفن ہوجائیں گے۔

°°°°°°°°°°

…جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *