ناول درندہ
قسط نمبر 49
باب پنجم: کاسر العاکم
مصنف: زیاد اصغر زارون
°°°°°°°°°°
کازمار پھرتی کے ساتھ آبیاروس کی طرف جھپٹا۔ اس کے ہاتھ مکے کی صورت میں بند تھے اور وہ سیدھا آبیاروس کے سینے کو چیرنے کے ارادے سے آگے بڑھا۔ مگر آبیاروس نے بجلی کی طرح تیزی دکھاتے ہوئے اپنا دایاں ہاتھ آگے بڑھایا اور کازمار کی کلائی جکڑ لی۔ اسی ہاتھ سے… جس میں بھڑکتے سمندر کا جنون قید تھا۔
ایک خوفناک سڑاند فضا میں پھیل گئی۔ جیسے کسی تعفن زدہ لاش کو جلایا جا رہا ہو۔ ساتھ ہی بجھنے کی بھیانک سی آواز ابھری اور بھاپ کے تیز بادل ان کے وجود کے گرد لپٹنے لگے۔ لمحہ بھر کے توقف کے بعد کازمار نے اپنا سر پوری طاقت سے آبیاروس کی پیشانی پر دے مارا۔ دھڑام کی لرزہ خیز آواز گونجی۔ آبیاروس کی گرفت ٹوٹ گئی اور وہ لڑکھڑاتا ہوا پیچھے کو ہٹ گیا۔
وہ ابھی قدموں کو سنبھال ہی رہا تھا کہ کازمار کے ہاتھ سے نیلی آگ کا طوفان اُمڈا۔ دہکتی لہر سیدھی اس کے سینے سے ٹکرائی اور اسے کئی قدم دور اچھال دیا۔ زمین اس کے وزن سے گونجی، گرد کے بادل اڑ گئے۔
کازمار نے خونخوار جھپٹّا مارا اور گھٹنے کو آبیاروس کے سینے میں گاڑنے کے لیے فضا میں ابھرا۔ مگر عین اسی لمحے آبیاروس نے اپنی بقا کے جنون میں دایاں ہاتھ آگے بڑھایا۔ اس کے ہاتھ سے خوفناک سیلابی لہر پھوٹی، ایسی جیسے کوئی بپھرا دریا قید سے آزاد ہوگیا ہو۔ وہ لہر کازمار کے وجود سے ٹکرائی۔ لمحہ بھر میں وہ کئی فٹ ہوا میں اچھل گیا اور پھر دھڑام سے زمین پر آ گرا۔
کازمار کے وجود سے لپٹی نیلی آگ اس ضرب سے تھرتھرائی، لمحہ بھر کے لیے بجھتی محسوس ہوئی مگر پھر اگلے ہی پل مزید شدت سے دہک اُٹھی۔ وہ دہاڑتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا، اس کی آنکھوں میں بھڑکتی آگ اور زیادہ وحشی ہوچکی تھی اور اگلے ہی لمحے وہ ایک بار پھر آبیاروس کی طرف بڑھا۔
دونوں ہی درندوں کی طرح وحشی انداز میں لپکے۔ کبھی آگ کی دہکتی لپٹیں آبیاروس کی سیلابی لہر سے ٹکرا کر بھاپ کے بادل بن جاتیں، کبھی دونوں کے جسم مکے، لاتوں اور کہنیوں کی ضربوں سے لرز اٹھتے۔ ہر وار میں وحشت کا شور تھا، ہر ٹکر میں ہڈیاں بجتی محسوس ہوتیں۔ وہ لمحہ بہ لمحہ موقع کی تاک میں رہتے اور جیسے ہی کوئی کمزوری نظر آتی، بھاری ضرب لگاتے، مگر طاقت میں دونوں برابر تھے۔ اس خون آشام معرکے میں برتری حاصل کرنا کسی کے لیے آسان نہیں تھا۔
ادھر میدان کے دوسرے گوشے میں موت کا کھیل جاری تھا۔ کازمار کے آتشیں سپاہی دہکتے دہکتے آبیاروس کے سپاہیوں کو زندہ جلا کر بھاپ میں اڑا رہے تھے۔ ہر چیخ فضا کو لرزا رہی تھی، ہر آواز موت کی وحشت کو بڑھا رہی تھی۔ آبیاروس کے سپاہیوں کی تعداد لمحہ بہ لمحہ گھٹتی گئی، یہاں تک کہ وہ صرف تین سو کے قریب رہ گئے۔
پھر یکایک کازمار کے آتشیں لشکر نے کئی سمتوں سے دھاوا بول دیا۔ آگ کی لپٹیں اور فولادی تلواریں ایک ساتھ ٹوٹ پڑیں۔ لمحوں میں آبیاروس کے باقی سپاہی بھی خاک اور خون میں مل گئے۔
اب میدان موت کے تعفن اور جلتے گوشت کی بو سے بھر گیا تھا۔ کازمار کے آتشیں سپاہی وحشت ناک دہاڑیں مارتے ہوئے اپنی تلواریں فضا میں بلند کیے جشن منانے لگے۔ ان کی چیخیں اور قہقہے فتح کے اعلان کی طرح گونج رہے تھے۔
تب ہی آبیاروس کی نظر میدانِ جنگ کی طرف پڑی… اب وہاں اس کا کوئی سپاہی باقی نہیں تھا۔ چہرے پر ناامیدی کا سیاہ پردہ چھا گیا اور لمحہ بھر کے لیے اس کی حرکات سہل سی ہو گئیں۔ کازمار نے اسی لمحے کا فائدہ اٹھایا، دونوں بازو پھیلا کر آگ کی ایک گھمبیر، بھاری لہر نکالی جو فضا کو چیرتی ہوئی آبیاروس کے سینے پر جاگری۔
جھٹکے سے اس کے قدم لڑکھڑائے اور وہ پیٹھ کے بل زمین پر جا گرا، حرارت اور بھاپ نے اس کے سر کو چکرا دیا۔ کازمار نے ایک برق رفتار جست لگا کر اس کے اوپر قدم جما دیا، جیسے فتح کا ٹھوس تمغہ۔ جنگ کے شور میں بھی آبیاروس کی آنکھوں میں شکست کی خاموشی واضح تھی… وہ جسمانی طور پر تو شاید کازمار پر بھاری پڑتا لیکن اپنی فوج کے مٹتے ہی وہ ذہنی طور پر ہار گیا۔
،اس نے کازمار کی دہکتی نگاہوں میں ایک اداسی کے ساتھ دیکھا، پھر دبے ہوئے لہجے میں بولا
“فتح مبارک ہو، بڑے بھائی… مجھے مار دو اور یہ قصّہ ختم کرو۔”
کازمار نے ایک فلک شگاف قہقہے کے ساتھ اپنی برتری کا مظاہرہ کیا۔ اس کی ہنسی میں ایسی سفاکی تھی کہ فضا تک کانپ اٹھی۔
،پھر اس نے آہستہ، مگر طنزیہ لہجے میں کہا
کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں مار کر اپنے لیے مشکل بناؤں؟”
“ہرگز نہیں۔ میں تمہیں تمہاری شرمناک ہار کے ساتھ چھوڑ دوں گا… تاکہ صدیاں گزریں اور تم اسی مایوسی اور ذلت میں گھِر کر روتے رہو۔
وہ الفاظ ابھی زبان پر ہی تھے کہ کازمار نے دائیں پاؤں کا دباؤ اچانک مزید بڑھا دیا۔ اس کے پاؤں سے آگ کی ایسی تیز حرارت نکلی کہ فضا میں تیز بھاپ اور دھواں اٹھنے لگا۔ یہ حرارت آبیاروس کے سینے پر پگھلے لوہے کی مانند دہک رہی تھی۔ اس نے آنکھیں سختی سے بند کیں، دانت پیستے ہوئے درد اور جلتے احساس کو برداشت کیا۔ ہر سانس کے ساتھ اس کی رگوں میں سے پانی بھاپ بن کر نکل رہا تھا، ہر دھڑکن کے ساتھ سینے کی جلد سختی سی جھلس رہی تھی۔
کازمار کا پیر ابھی تک اسی مقام پر قائم تھا… اس نے فتح کی چھاپ کے طور پر آبیاروس کے سینے پر ایک نشان چھوڑ دیا… ایک کالا، جھلسا ہوا نشان جو آبیاروس کے جسم پر امر ہو گیا۔ وہ نشان محض ایذا نہیں رہا، یہ اس کی توہین، اس کی شکست اور کازمار کی عبوری برتری کا ثبوت تھا جو کئی صدیوں تک قائم رہنے والا تھا، جو موت سے بھی زیادہ تذلیل کا باعث تھا۔
،چند لمحے گزرے اور اس کی گرجدار آواز گونجی
“میں کازمار ہوں… آگ کا فرمانروا۔ آگ اور پانی کی سلطنت کا بادشاہ۔”
اس کی متکبر گرج سنتے ہی سبھی سپاہی جوشِ جذبات سے چیخنے اور دھاڑنے لگے۔
،پھر اس نے اپنی فوج کی طرف کھڑے ہو کر حکم دیا، اس کی آواز خاموش فضا میں بھی حکم بردار تھی
“آگے بڑھو۔ ہمارا اگلا نشانہ شنداق کی سلطنت ہے… شاہِ سُموم کے ساتھ مل کر اسے مٹا دیں گے۔”
یہ سن کر سپاہیوں کے حوصلے آسمان کو چھونے لگے۔ وہ یک زبان ہو کر دہاڑنے لگے، نعرے فضا کو چیرتے ہوئے گونجنے لگے۔ ان کے جسموں سے لپکتی آگ اچانک اور زیادہ بھڑک اٹھی، شعلوں کی سرسراہٹ اور لپکنے کی آوازیں جنگی میدان کو جہنم کے منظر میں بدل رہی تھیں۔
اس کی آنکھوں میں فاتحانہ چمک اور اس کے سپاہیوں کے دلوں میں وحشت آمیز جوش ایک ہی لمحے میں مل کر خطرے کی بھاری لہر بن گئے۔
زمین پر پڑے آبیاروس کی سانسیں مدہم اور بے ترتیب تھیں۔ اس کے وجود پر وہ کالا نشان گہرا ہوتا جا رہا تھا۔ اس کی نظریں دھیرے دھیرے کازمار کی جانب اٹھیں… نفرت، تھکاوٹ اور ہار کی خاموش تسلیم کا ملغوبہ منظر ان آنکھوں میں واضح تھا۔
اور اس لمحے، جب آبیاروس بری طرح مات کھا چکا تھا، کازمار اپنے سپاہیوں کو اگلے محاذ کی طرف پیش قدمی کا حکم سنا چکا تھا۔ یہ لمحہ اس امر کا ثبوت تھا کہ ایک بار پھر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلنے والی تھی اور فضا میں پھیلی گھٹن پیغام دے رہی تھی کہ آگ کی بیابان یلغار ابھی تھمے گی نہیں بلکہ اب وہ شنداق کی طرف رواں ہوگی اور جو کچھ اس کی راہ میں آئے گا، وہ جل کر راکھ ہوجائے گا۔
یہ وہ منظر تھا جہاں ایک فاتح بادشاہ اپنی طاقت کا جشن منا رہا تھا اور دوسری طرف شکست خوردہ پانی کا بادشاہ آبیاروس زمین پر بے بسی سے پڑا ہوا تھا۔ اس کے سینے پر جلنے کا کالا نشان ابھی تک دھواں چھوڑ رہا تھا، گویا اس کی ذلت کو دنیا کے سامنے بار بار دہرا رہا ہو۔ وہ زندہ تو تھا لیکن اس کی آنکھوں کی نمی اور خالی پن بتا رہے تھے کہ اس کی روح سے زندگی کی چاہت چھین لی گئی ہے۔ اب وہ صرف سانس لینے والا وجود تھا، ایک ایسا وجود جسے اس کی ہار نے اندر سے توڑ ڈالا تھا۔
سپاہیوں کی دہاڑیں، آگ کی لپٹیں اور آبیاروس کی خاموش شکست… یہ سب مل کر میدان کو ایک ہولناک، وحشی اور گھٹن زدہ تصویر میں ڈھال رہے تھے، جہاں طاقت اور وحشت کا راج تھا اور امید دم توڑ چکی تھی۔
°°°°°°°°°°
شاہِ سموم اور شنداق کی لڑائی اب وحشت کے عروج پر تھی۔ شنداق کا بھاری وجود، اس پر چڑھا دہکتے لوہے کا لباس اور اس کے ہاتھ میں تھامے تلوار کے مہلک وار زمین اور فضا کو چیرتے جا رہے تھے۔ ہر ضرب کے ساتھ چنگاریاں بھڑکتیں اور ہوا میں جلتی دھات کی سڑاند پھیل جاتی۔
دوسری طرف شاہِ سموم کا وجود ایک ہیبت ناک آندھی میں ڈوبا ہوا تھا۔ اس کے بدن سے نکلتی طوفانی ہوا نہ صرف میدان میں موجود دھول اور ملبہ اڑا رہی تھی بلکہ دونوں فوجوں کے سپاہیوں کو اپنے قدم جمانے سے بھی عاجز کر رہی تھی۔ آندھی کے شور اور دھڑکتے دلوں کی دھڑکنیں آپس میں گھل کر ایک ہولناک سِمفَنی بنا رہی تھیں۔
رینا بھی اس آندھی میں بمشکل اپنا توازن برقرار رکھے ہوئے تھی۔ اس کے بازو پر ایک تلوار کا ہلکا سا کٹ چکا تھا، خون کی باریک دھار بہہ نکلی تھی، مگر اس کی آنکھوں میں انتقام کی آگ مزید بھڑک اٹھی تھی۔ وہ زخمی جسم کی پروا کیے بغیر، پاگل پن کی حد تک شنداق کے سپاہیوں کو کاٹتی جا رہی تھی۔
زمار کافی دیر سے یہ سب منظر اپنی آنکھوں میں سمیٹے کھڑا تھا۔ اچانک وہ الٹے قدموں پیچھے ہٹنے لگا، جیسے اس کا وجود خود اس زمین سے بیزار ہو گیا ہو۔ کافی دور جا پہنچنے کے بعد اس نے رخ بدلا اور ایک انجان منزل کی طرف بڑھ گیا۔ اس کے دل میں نہ انتقام کی تپش باقی رہی تھی اور نہ ہی اس خون آشام جنگ میں کوئی دلکشی۔ وہ بس اس شور و غل، چیخوں اور اندھیر نگری کے سائے سے دور جانا چاہتا تھا۔
ایسی جگہ، جہاں لمحہ بھر کا سکون اس کی رگوں میں بہہ جائے۔ جہاں ملکہ دارونتھا کی وہ سفید، چمکتی ہوئی آنکھیں… جو اب تک اس کے دماغ پر نقوش کی طرح ثبت تھیں… اسے مزید نہ ستا سکیں۔ وہ آنکھیں جو اس کے حواس پر بجلی کی طرح گرتی رہتی تھیں۔ زمار کے دل کی سب سے بڑی خواہش اب صرف یہی تھی، سکون… ایسا سکون جو اس کے تھکے ہوئے وجود کو راحت عطا کر سکے۔
°°°°°°°°°°
زید نے کنٹینر ٹرک زافیر کی طرف بھیج دیا تھا۔ اس ٹرک کی چھت اور ٹائروں کے گرد موٹی لوہے کی چادریں ویلڈ کی گئی تھیں تاکہ آگ اس کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔ زید خود تو نہیں آسکا، مگر اس نے ایسا ٹرک بھیجا جو زافیر کی توقعات سے کہیں بہتر اور ان آفات میں بھی سفر کے لیے محفوظ تھا۔
اب زافیر خود اس ٹرک کو ڈرائیو کرتے ہوئے بنگلے سے کچھ فاصلے پر واقع پرانی کوٹھڑی کی طرف لے جا رہا تھا… وہی کوٹھڑی جو ایک اندھیرے، گہرے کنوئیں پر تعمیر کی گئی تھی۔ چند لمحوں کی ڈرائیونگ کے بعد وہ اپنی منزل تک پہنچ گیا۔
بارش اور آسمان سے برستی آگ رک چکی تھی لیکن بادل ابھی تک آسمان پر منڈلا رہے تھے۔
زافیر نے ٹرک ریورس کرتے ہوئے کنٹینر کا پچھلا حصہ بالکل کوٹھڑی کے دروازے سے جوڑ دیا۔ پھر اس نے دو تین بار ہارن بجایا۔ لمحہ بھر بعد کوٹھڑی کا بھاری دروازہ چرچراتا ہوا کھلا اور اس میں سے دو درندے نکلے۔ ان کے پیچھے ندیم نمودار ہوا اور تیزی سے کنٹینر کا دروازہ کھول دیا۔
زافیر بیک ویو مرر سے یہ سارا منظر بغور دیکھ رہا تھا۔ درندے ایک ایک کر کے کنٹینر میں سوار ہو رہے تھے۔
جب آخری درندے بھی کنٹینر میں داخل ہوگئے تو ندیم نے دھیرے سے اس کے بھاری دھاتی دروازے بند کیے اور باہر سے مقفل کر دیا۔ پھر وہ کوٹھری کی طرف بڑھا، وہاں سے خون کی بوتلوں والا کنٹینر اٹھایا اور ٹرک کے اگلے حصے کی طرف بڑھ گیا۔
ندیم نے ٹرک کے قریب پہنچ کر دروازہ کھولا، کنٹینر اندر رکھا اور تیزی سے پائیدان پر قدم رکھ کر اندر جا گھسا۔
چلیں…؟” زافیر نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے مختصر سا سوال کیا۔”
،یہ سنتے ہی ندیم ہنس پڑا، پھر مؤدب مگر پُرجوش لہجے میں بولا،ٓ
“چلیے باس… میں بےتاب ہوں آپ کی دنیا دیکھنے کے لیے۔”
زافیر نے خاموشی سے گیئر بدلا اور ٹرک کو ہلکے جھٹکے کے ساتھ آگے بڑھا دیا۔ ٹرک کے آگے بڑھتے ہی چند لمحات بعد بارش اور آگ کی برسات رک گئی۔ البتہ ٹائروں کے نیچے کچرے اور پتھروں کے ساتھ بارش سے گلی سڑی زمین چیخنے لگی۔ جیسے وہ بھی جانتی ہو کہ یہ سفر انہیں دنیا کے سب سے بڑے خطرے کی طرف لے جا رہا ہے۔
زافیر جانتا تھا کہ جس دنیا کو وہ چھوڑ کر آیا تھا، اب وہ ویسی نہیں رہی۔ لیکن یہ نہیں جانتا تھا کہ وہاں خطرات کس حد تک بڑھ چکے ہوں گے۔ وہ ایک ایسی جنگ میں قدم رکھنے جا رہا تھا جس کے بارے میں اسے کچھ خبر نہیں تھی… ایسی جنگ جس میں اس کا کود جانا ایسا تھا جیسے کوئی خشک تنکا آگ کے دہکتے الاؤ میں گر کر اسے بجھانے کی کوشش کرے۔
اسے متوازی دنیا کی سیاست یا چاروں بادشاہوں کی جنگ سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ اس کی فکر بس ایک تھی… اپنی بیوی اور بیٹی کو محفوظ بنانا، ان کی دنیا کو بچانا۔ اور اس مقصد کے لیے وہ کسی بھی حد تک جانے کو تیار تھا… چاہے اس کے سامنے آگ ہو، اندھیرا ہو یا موت۔
°°°°°°°°°°
زلزلے کے جھٹکے اب پہلے سے کہیں زیادہ شدید ہو چکے تھے۔ زمین ہر لمحہ یوں کانپ رہی تھی جیسے اپنے بوجھ تلے ٹوٹ کر بکھر جانا چاہتی ہو۔ اس لرزش نے کنٹینر ٹرک کی رفتار بڑھانا تقریباً ناممکن بنا دیا تھا، مگر زافیر ہمت کے ساتھ اسے آگے بڑھائے جا رہا تھا۔ اس کا رخ اسی پہاڑی ڈھلوان کی طرف تھا، جہاں سے وہ آزلان کے ساتھ پہلی بار متوازی دنیا میں داخل ہوا تھا۔
لمبا اور کٹھن سفر طے کرنے کے بعد جب وہ وہاں پہنچا تو منظر دیکھ کر اس کا دل بیٹھ گیا۔ زلزلے نے ڈھلوان کو چیر کر بڑے بڑے تودے نیچے کھائی میں گرا دیے تھے۔ اب وہ غیر مرئی دروازہ، جو متوازی دنیا کا راستہ تھا، ڈھلوان سے بہت دور جا چکا تھا۔ اتنا دور کہ چاہ کر بھی ٹرک کو اس راستے پر لے جانا ممکن نہیں رہا تھا۔
زافیر نے مایوسی کے ساتھ ٹرک وہیں سڑک پر روک دیا۔ اس کے چہرے پر گہری سوچ اور الجھن کے آثار نمایاں تھے۔
،ندیم نے اسے غور سے دیکھا اور ہچکچاتے ہوئے پوچھا
“کیا ہوا سر…؟ آپ پریشان لگ رہے ہیں۔”
“یہاں متوازی دنیا میں جانے کا دروازہ تھا… مگر اب اس تک رسائی ممکن نہیں رہی۔”
،پھر اس نے آہستہ سے گیئر بدلا، ٹرک کو دوبارہ آگے بڑھایا اور فیصلہ کن انداز میں بولا
“ہمیں اب دوسرے دروازے تک پہنچنا ہوگا۔”
ندیم نے خاموشی سے اثبات میں سر ہلایا۔ ٹرک زلزلے کے جھٹکوں سے ہچکولے کھاتا ہوا کافی دیر تک سڑک پر لڑکھڑاتا رہا۔ آخرکار وہ پہاڑی سلسلے سے نکل کر ایک نسبتاً میدانی جنگل میں داخل ہوگئے۔ سڑک کی کالی پٹی جنگل کے اندر سانپ کی طرح بل کھا رہی تھی۔ زافیر نے کچھ فاصلے کے بعد ٹرک کو سڑک سے اتارا اور گھنے درختوں کے بیچ راستہ بناتے ہوئے آگے بڑھایا۔ چند ہی منٹوں بعد وہ ایک عجیب و غریب پہاڑی ٹیلے کے سامنے جا رکے۔
یہ ٹیلا بظاہر ایک کھڑی چٹان تھا… لمبائی میں دس میٹر تک پھیلا ہوا اور اونچائی میں پندرہ میٹر سے زیادہ نہیں تھا۔ مگر اس کے وجود میں ایک پراسرار خاموشی بسی ہوئی تھی، جیسے وہ صدیوں سے کسی راز کا محافظ ہو۔
اس نے ٹرک روکا اور گہری نظر سے چٹان کو دیکھنے لگا۔ اس کی آنکھوں میں یادوں کی دھند تیر گئی۔ تین صدیاں پہلے وہ اسی جگہ سے متوازی دنیا میں داخل ہوا تھا مگر اب وقت نے سب کچھ بدل ڈالا تھا۔
کچھ لمحے وہ خاموشی سے جائزہ لیتا رہا، پھر ایک مقام کا انتخاب کر کے ٹرک کو ہلکی رفتار سے آگے بڑھایا اور چٹان سے ٹکرا دیا۔ لوہے کے دھڑکنے کی آواز ابھری… مگر چٹان بالکل ٹھوس ثابت ہوئی۔ اس نے گہری سانس لی، ٹرک کو ریورس کیا اور ایک اور نقطے کی طرف رخ موڑا۔
اس بار جب ٹرک نے چٹان کو چھوا تو منظر ہی بدل گیا۔ پتھریلی دیوار آئینے کی سطح کی طرح لرزنے لگی اور لمحوں میں ٹرک اس کے اندر جذب ہوتا چلا گیا۔ وہ منظر ایسا تھا جیسے کوئی بھاری وجود پانی کی تہہ کو چیرتا ہوا اندر اتر رہا ہو۔
°°°°°°°°°°
متوازی دنیا میں داخل ہوتے ہی زافیر کے چہرے پر گھبراہٹ کی لکیریں ابھر آئیں۔ اس کا شک اب سچ میں بدلتا محسوس ہو رہا تھا۔ آسمان پر سیاہ بادل گہرے سایے کی طرح منڈلا رہے تھے اور فضا میں گرد و غبار اس شدت سے پھیلا ہوا تھا کہ سانس لینا دشوار لگنے لگا تھا۔
یہ منظر غیر معمولی تھا، کیونکہ عام طور پر متوازی دنیا میں نہ بادل بنتے تھے، نہ بارش برستی تھی اور نہ ہی گرد کا وجود ہوتا تھا۔ یہ اجنبی کیفیت صاف اشارہ دے رہی تھی کہ یہاں کسی بڑی گڑبڑ نے جنم لیا ہے۔
متوازی دنیا میں پہنچتے ہی زلزلے کے جھٹکے تو ختم ہو چکے تھے مگر فضا میں ایک انجانا اضطراب باقی تھا، جیسے زمین اور آسمان کسی چھپی ہوئی آفت کا اعلان کر رہے ہوں۔ زافیر نے اس لمحے مزید سوچنے کے بجائے ٹرک کی رفتار بڑھا دی۔ اسے نہ منزل کا پتا تھا اور نہ راستے کا، بس ایک بے چین دل کے ساتھ وہ کچی زمین پر ٹرک دوڑائے جا رہا تھا۔
ندیم کی آنکھوں میں حیرت سمٹ آئی تھی۔ وہ کھڑکی سے باہر جھانک کر ہر درخت، ہر ٹیلے اور زمین کے ہر ذرے کو ایسے دیکھ رہا تھا جیسے کسی خواب کی دنیا کو پہلی بار چھو رہا ہو۔ مگر یہ حیرت اتنی حقیقی تھی کہ لمحہ بھر کو یہ ماننا ہی مشکل تھا کہ وہ واقعی ایک متوازی دنیا میں ہیں۔
دھول کے بادل اڑاتے ہوئے ٹرک خاصا فاصلہ طے کر چکا تھا، مگر اب تک اس ویران دنیا میں کوئی ایسا نہیں ملا جو ان عجیب و غریب حالات کے بارے میں کچھ بتا سکے۔
اچانک ندیم نے زافیر کا بازو ہلکے سے تھپتھپایا اور گھبراہٹ بھری آواز میں بولا،
“!وہ دیکھیں… وہاں… کوئی بندہ آ رہا ہے”
زافیر نے چونک کر بائیں طرف نظریں دوڑائیں۔ گھنے درختوں کے بیچ ایک نوجوان پیدل چلتا ہوا سیدھا ان کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اسے دیکھتے ہی زافیر کی سانس گلے میں اٹک گئی۔ وہ کوئی اجنبی نہیں، بلکہ اس کا اپنا بھائی… زمار تھا۔
زافیر کا دل زور سے دھڑکا۔ وہ سمجھ بیٹھا تھا کہ زمار بھی باقی خاندان کے ساتھ ختم ہو چکا ہوگا۔ لیکن اب، اچانک اس کا یوں سامنے آ جانا نہ صرف حیران کن تھا بلکہ دل کی گہرائیوں میں دبی ہوئی بھائی کی محبت اور فکر کو پھر سے زندہ کر گیا تھا۔
،اس نے فوراً بریک لگائی، اگنیشن بند کیا اور ندیم کی طرف دیکھ کر سخت لہجے میں کہا
“تم یہیں رکو… میں ابھی آیا۔”
یہ کہہ کر وہ تیزی سے نیچے اترا اور زمار کی طرف بڑھنے لگا۔ ہر قدم کے ساتھ اس کے دل میں تجسس اور بےچینی کا طوفان بڑھتا جا رہا تھا۔
زمار اپنی ہی سوچوں میں ڈوبا، گرد آلود زمین پر نظریں جھکائے آہستہ آہستہ چلتا آ رہا تھا۔ اچانک اس نے بے دھیانی میں سر اٹھایا تو اس کی نگاہ سیدھی زافیر پر جا ٹھہری۔ لمحہ بھر کو اس کی آنکھیں پھیل گئیں اور چہرے پر ہولناک گھبراہٹ چھا گئی۔ اس کے ذہن پر ایسا خوف اور دہشت مسلط تھی کہ اب وہ ہر چہرے کو قاتل، ہر سایے کو دشمن سمجھنے لگا تھا۔
…اپنے دشمن بھائی کو سامنے دیکھتے ہی اس کے دماغ میں صرف ایک خیال کوندا
“!یہ مجھے مارنے آ رہا ہے”
یہ سوچ آتے ہی اس کے بدن میں لرزہ دوڑ گیا اور جان بچانے کی سرتوڑ کوشش میں وہ اچانک ایک طرف کو لپکا اور جنگل کی طرف دوڑ پڑا۔
زافیر یہ منظر دیکھ کر دم بخود رہ گیا۔ اس نے سوچا تھا کہ زمار کی نگاہ جیسے ہی اس پر پڑے گی، وہ غصے میں بھڑک اٹھے گا اور فوراً اس پر حملہ آور ہوگا۔ مگر یہ تو خود خوف کے مارے کانپ رہا تھا اور یوں بھاگ رہا تھا جیسے کسی درندے سے اپنی جان بچا رہا ہو۔ زمار کو یوں بھاگتے دیکھ کر اس کے دل میں ایک ساتھ حیرت اور بےچینی نے جنم لیا اور پھر اس نے بھی جھجھکے بغیر اس کے پیچھے دوڑ لگا دی۔
زمار دوڑتے ہوئے بار بار خوف زدہ نظروں سے پیچھے مڑ کر دیکھ رہا تھا۔ اسی ہڑبڑاہٹ میں اس کا پاؤں ایک پتھر سے ٹکرا گیا اور وہ منہ کے بل زمین پر گر پڑا۔ اس نے سنبھلنے کی کوشش کی اور جھٹ سے اٹھ کر پھر سے بھاگنا چاہا، مگر تب تک زافیر اس کے سر پر پہنچ چکا تھا۔ زافیر نے جھپٹ کر اس کی گردن دبوچ لی اور گھٹنا اس کے سینے پر رکھ کر پوری قوت سے دبا دیا۔
،زمار تڑپنے لگا اور اگلے ہی لمحے رونے کی آواز اس کے لبوں سے پھوٹ پڑی
“مجھے جانے دو… مجھے مت مارو… مجھے کچھ مت کہنا… معاف کر دو مجھے۔”
یہ منظر دیکھ کر زافیر گہری حیرت میں ڈوب گیا۔ جس زمار کو وہ جانتا تھا، وہ مغرور، نڈر اور غصے سے بھرا ہوا انسان تھا… ایسا شخص جو کسی کو خاطر میں نہ لاتا۔ لیکن اب اس کے گھٹنے تلے دبا یہ زمار خوف اور بے بسی کا مجسمہ بنا ہوا تھا۔
،زافیر نے گھٹنا ہٹا کر اسے زمین پر ٹکایا، پھر بازو سے سہارا دے کر بٹھایا اور بھنویں سکیڑتے ہوئے بولا،
“یہ تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ اتنا ڈرے ہوئے کیوں ہو؟”
زمار نے اگلے ہی پل اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے اور روتے ہوئے فریاد کی،
“مجھے… مجھے جانے دو، میں تم سے معافی مانگتا ہوں۔ مجھے مت مارو۔”
،زافیر نے اسے کندھوں سے تھام کر جھنجھوڑا، آواز میں بےتابی اور لہجے میں شدت تھی
ہوش میں آؤ، زمار…! میں تمہیں کچھ نہیں کروں گا۔ جو کچھ ہوا وہ ایک حادثہ تھا۔ تم میرے بھائی ہو… میری جان سے بھی بڑھ کر عزیز۔ “
“میں تمہیں نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔
یہ کہہ کر وہ اس کے مزید قریب آیا اور زمار کو زور سے اپنی باہوں میں بھینچ لیا۔ زمار اس کے سینے سے لگ کر بچوں کی طرح سسکیاں بھرنے لگا۔ وقت جیسے لمحہ بھر کے لیے تھم گیا۔ کچھ دیر بعد جب اس کے دل کو ذرا سا سہارا ملا تو وہ آہستگی سے پیچھے ہٹا، آنکھوں میں خوف اب بھی زندہ تھا مگر لہجہ تیز اور گھبرایا ہوا،
“تمہیں یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔ وہ بہت ظالم ہے… وہ تمہیں مرنے بھی نہیں دے گی۔ واپس چلے جاؤ… مجھے بھی ساتھ لے چلو… وہ بہت ظالم ہے۔”
زافیر کو اس کی حالت پر شک سا ہونے لگا۔
اسے لگا شاید پورے خاندان کی موت نے زمار کے حواس چھین لیے ہیں اور وہ ذہنی توازن کھو بیٹھا ہے۔
،اس نے فکر مندی اور الجھن بھرے لہجے میں پوچھا
“یہ بہکی بہکی باتیں کیوں کر رہے ہو؟ ہوا کیا ہے؟ کون ظالم ہے؟ کس کی بات کر رہے ہو؟”
،زمار نے ہڑبڑا کر اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔ آنکھوں میں خوف کی پرچھائیاں لرز رہی تھیں اور لب کپکپاتے ہوئے بولے
“وہ… وہ عورت تمہیں یاد ہے؟ جسے تم سے محبت ہو گئی تھی…”
،زافیر کی پیشانی شکن آلود ہوگئی۔ وہ بے یقینی سے بولا
“کون سی عورت؟ کس کی بات کر رہے ہو؟”
“وہی… جو تمہیں اندھیر نگری کے قریب ملی تھی۔ وہ ملکہ دارونتھا کی بیٹی تھی۔”
یہ سن کر زافیر کی آنکھوں میں لمحہ بھر کے لیے حیرت اور خوف بجلی کی طرح دوڑ گیا۔ دل جیسے زور سے دھڑک اُٹھا۔ مگر اگلے ہی پل اس کے چہرے پر شک کی سیاہ پرچھائیاں اُبھریں۔ اس نے زمار کی آنکھوں میں جھانکا اور سخت لہجے میں پوچھا،
“یہ بات تمہیں کس نے بتائی؟”
اس نے لمحے بھر کے لیے اردگرد خوف سے نگاہ دوڑائی، گویا کسی بھی پل ملکہ دارونتھا اسے دوبارہ اپنی اندھیر نگری کی پستیوں میں دھکیل دے گی۔
،پھر وہ دوبارہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا،
میں اس کی قید میں تھا… اس کی اندھیری نگری میں پھنس گیا تھا۔ “
“وہ جانتی ہے کہ تم نے اس کی بیٹی کو مارا ہے اور شاہِ سُموم نے میری جان کے بدلے اس سے وعدہ کیا ہے کہ وہ تمہیں اس کے پاس پہنچائے گا۔
زافیر کی آنکھیں اپنے آپ سے کھل گئیں اور زبان گنگ سی رہ گئی، شاہِ سُموم کا ذکر سن کر اس کے لیے بولنا مشکل ہو گیا تھا۔
،زمار نے پھر زور دے کر کہا
“واپس حقیقی دنیا میں لوٹ جاؤ… کوشش کرو کہ خود کو مار ڈالو، اس سے پہلے کہ ملکہ دارونتھا تمہیں اپنی اندھیری نگری میں کھینچ لے۔”
،زافیر نے اپنی بے چینی کو دبا کر اصل مسئلے کی طرف رخ موڑا اور تحمل سے پوچھا
“زمار… میرے بھائی… مجھے صرف یہ بتاؤ کہ یہاں چل کیا رہا ہے؟ یہ دنیا اتنی بدل کیوں گئی ہے؟”
،زمار کی آواز بھاری اور لرزتی ہوئی نکلی
یہاں… یہاں جنگ بھڑک چکی ہے۔”
کازمار اور آبیاروس آمنے سامنے ہیں۔ شاہِ سُموم اور شنداق بھی ایک دوسرے سے برسرِپیکار ہیں۔
” …ہر سمت آگ اور تباہی پھیلی ہوئی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ آخرکار شاہِ سُموم ہی جیتے گا… اور پھر وہ تمہاری
،زافیر نے سختی سے اس کی بات کاٹتے ہوئے پوچھا
“لیکن شاہِ سُموم تو قید میں تھا…! اسے کس نے آزاد کیا؟ اور تم اندھیر نگری میں کیسے جا پہنچے؟”
زمار کی سانس بھاری ہو گئی۔ اس کی آنکھوں میں خوف کی چمک لرز اٹھی۔
رینا… رینا نے اسے آزاد کیا۔”
” ہم سب اس کی وادی میں جا رہے تھے تاکہ اسے قید سے نکالیں، لیکن… لیکن میں اندھیر نگری میں جا گِرا۔”
اس کی آواز کپکپا گئی۔
“وہ بہت ظالم ہے… وہ مرنے بھی نہیں دیتی۔”
ملکہ کا نام دہراتے ہی زمار کے چہرے پر دہشت کی گہری پرچھائیاں پھیل گئیں، جیسے اندھیر نگری اب بھی اس کے وجود سے لپٹی ہو۔
“…رینا”
،زافیر کی آواز میں حیرت اور دکھ لرز گیا۔ اس نے زمار کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے غم و غصے سے کہا
“یہ کیا ظلم ڈھایا اس نے؟”
،یہ کہتے ہی وہ جھٹکے سے کھڑا ہوگیا۔ اس کے لہجے میں عزم کی تپش تھی
“شاہِ سُموم کو روکنا ہوگا، ورنہ وہ سب کچھ تباہ کر دے گا۔”
،زمار بھی گھبرا کر اٹھ کھڑا ہوا اور جلدی سے بولا
“…زافیر… میرے بھائی… ایسا نہ کرو…! میں کہتا ہوں واپس چلے جاؤ… مجھے بھی ساتھ لے چلو اپنی دنیا میں… اسی میں ہماری”
،لیکن اس کے الفاظ مکمل ادا ہونے سے پہلے ہی زافیر غصے سے دہاڑ اٹھا
“کون سی دنیا؟ کس دنیا کی بات کرتے ہو تم؟ وہ جسے تم دونوں نے خود برباد کر ڈالا ہے؟ کیا وہ دنیا… جو اب مٹنے کے دہانے پر ہے؟”
،زمار کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ وہ بے یقینی میں بڑبڑایا
“کیا مطلب…؟ کیا تمہاری دنیا بھی…؟”
اس کا جملہ لرزتے ہوئے لبوں پر ادھورا ہی رہ گیا۔
“ہاں… اسی جنگ کی وجہ سے تباہ ہو رہی ہے، بلکہ جلد ہی ہر شے مٹنے والی ہے۔”
زافیر کی آواز کرب سے لرز رہی تھی۔
…میں نہیں جانتا تم دونوں نے یہ بیوقوفی کیوں کی”
لیکن تمہاری اسی بیوقوفی کی وجہ سے حقیقی دنیا میں آسمان سے آگ برس رہی ہے اور زمین زلزلوں سے چٹخ رہی ہے۔
“اگر سموم کو نہ روکا گیا… تو سب کچھ مٹ جائے گا۔ کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔
یہ سنتے ہی زمار کا رنگ فق ہو گیا۔ وہ لاجواب کھڑا رہ گیا۔ الفاظ اس کے لبوں پر آ کر دم توڑ گئے۔ دل ہی دل میں وہ اس لمحے کو کوس رہا تھا، جب وہ رینا کے ساتھ مل کر شاہِ سموم کو آزاد کرنے نکلا تھا۔
انتقام کی آگ نے اسے اندھا کر دیا تھا۔ وہ زافیر سے بدلہ لینا چاہتا تھا، لیکن کبھی اس نے یہ نہیں سوچا تھا کہ اس کی ضد پوری دنیا کو آگ کے دہانے پر لے آئے گی۔
زافیر اچانک قدم بڑھاتا ہوا اس کے قریب آیا۔ اس کی آنکھوں میں بجلیاں کوند رہی تھیں۔
،اس نے زمار کے دونوں کندھے مضبوطی سے تھام لیے اور گرجتی آواز میں کہا
“مجھے بتاؤ… سموم کہاں ملے گا؟”
،زمار گہری سوچ میں ڈوب گیا، پھر دھیمے لہجے میں بولا
“وہاں جانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ وہ تمہیں دیکھتے ہی اندھیر نگری میں پھینک دے گا… تم اس کا مقابلہ نہیں کر پاؤ گے۔”
،زافیر غصے سے پیچھے ہٹا اور تیز لہجے میں گرجا
“پھر تم ہی بتاؤ…! تمہاری اس بیوقوفی کو میں کیسے سدھاروں؟”
زمار کے چہرے پر کرب اور بے بسی صاف جھلک رہی تھی۔ وہ خود بھی نہیں جانتا تھا کہ اس تباہی کو کیسے روکا جائے۔ لیکن انہی سوچوں کی بھٹکتی گہرائی میں اچانک ایک جھماکہ سا ہوا۔
،اس کی آنکھوں میں چمک دوڑ گئی اور وہ بے اختیار بولا
“ایک طریقہ ہے… مجھے نہیں معلوم یہ کامیاب ہوگا یا نہیں… لیکن ہم کوشش کر سکتے ہیں۔”
،زافیر نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے تیزی سے کہا
“بتاؤ…! جو بھی ذہن میں ہے، فوراً بتاؤ۔”
“اگر تم کسی طرح آبیاروس اور کازمار کی جنگ کو روک دو اور انہیں شاہِ سموم کے خلاف اتحاد پر آمادہ کر لو… تو تینوں بادشاہ مل کر اسے قابو میں کر سکتے ہیں۔”
،یہ تجویز غیر معمولی تھی اور زافیر کو بھی فوراً بھا گئی۔ اس نے اطمینان بھری سانس لے کر کہا
“بہت خوب… بتاؤ مجھے، ان کا جنگی میدان کس طرف ہے؟”
زمار نے چند لمحے گرد و نواح پر نگاہ دوڑائی، جیسے سمت کا اندازہ لگا رہا ہو۔
،پھر ایک جانب انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے بولا
“اس سمت میں بڑھتے جاؤ… جلد ہی تم آگ اور پانی کے جنگی میدان تک پہنچ جاؤ گے۔”
،زافیر نے یکدم آگے بڑھ کر اسے اپنے گلے سے لگا لیا۔ پھر اس کی پیشانی پر ہلکا سا بوسہ دیتے ہوئے نرم لہجے میں بولا
شکریہ، میرے بھائی… ہمارے خاندان میں جو کچھ بھی ہوا، یقین کرو، وہ میری خواہش نہیں تھی۔ بس غصے اور جلدبازی نے سب کچھ بگاڑ دیا۔”
” اگر ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا۔
یہ کہہ کر وہ تیزی سے پلٹا، جیسے وقت ضائع کیے بغیر اپنے ہدف کی طرف بڑھنا چاہتا ہو۔
،لیکن چند قدم بعد اچانک ایک خیال اس کے ذہن میں کوندا۔ وہ رکا، پھر پلٹ کر زمار کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
“ویسے… تم کہاں جانے کی تیاری میں تھے؟”
“میں… میں حقیقی دنیا میں جانے والا تھا، لیکن تمہاری بات سن کر لگا کہ شاید اب بہت دیر ہو چکی ہے۔”
زمار کی آواز میں دکھ گھل گیا۔ مگر اگلے ہی لمحے اس کے لہجے میں عزم کی سختی اتر آئی۔
لیکن اب میں واپس رینا کے پاس جاؤں گا اور اسے بتاؤں گا کہ ہماری وجہ سے کیسی تباہی برپا ہوئی ہے۔”
” مجھے امید ہے، وہ سمجھ جائے گی… اور وقت آنے پر ہمارا ساتھ دے گی۔
،زافیر نے الٹے قدموں چلتے ہوئے پُراعتماد لہجے میں کہا
“مجھے تم پر یقین ہے… تم اسے ضرور منا لو گے۔”
یہ کہتے ہی وہ پلٹا اور تیزی سے ٹرک کی طرف دوڑ لگا دی۔ زمار چند لمحے وہیں کھڑا، اسے دور جاتے دیکھتا رہا۔ اس کے دل میں پچھتاوے کی تیز چبھن اٹھی، وہ لمحہ یاد آیا جب وہ انتقام کی آگ میں اندھے ہو کر نکلے تھے۔
لیکن پھر اس نے سر جھٹکا، پلٹا اور اسی سمت قدم بڑھا دیے جہاں سے آیا تھا… مگر اس بار دل میں امید، یقین اور پختہ عزم کے ساتھ۔
°°°°°°°°°°
ٹرک کی رفتار اب کئی گنا بڑھ چکی تھی۔ کچی اور ناہموار زمین پر دوڑتے ہوئے ٹرک اور اس کے پیچھے بندھا کنٹینر مسلسل ہچکولے کھا رہے تھے، دھڑک دھڑک کی آواز کے ساتھ کھڑکھڑاتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔
اب ان کا رخ سیدھا آگ اور پانی کے جنگی میدان کی طرف تھا۔
زافیر کی واحد کوشش یہ تھی کہ کنٹینر میں قید درندوں کو باہر نکالنے کی نوبت نہ آئے۔ کم از کم اس وقت تک نہیں… جب تک اشد مجبوری نہ ہو۔
ندیم کو یہی لگتا رہا کہ زافیر ان درندوں کو اپنی مدد کے لیے متوازی دنیا میں لایا ہے لیکن حقیقت اس کے گمان سے کہیں مختلف تھی۔ وہ منصوبہ، جو زافیر نے ان قیدیوں کو لے کر بنایا تھا… وہ تو پہلے ہی خاک میں مل چکا تھا۔
وہ انہیں صرف اس لیے متوازی دنیا میں لایا تھا تاکہ انہیں حقیقی دنیا سے ہمیشہ کے لیے الگ کیا جا سکے۔ اگر اس نے آبرو سے وعدہ نہیں کیا ہوتا… کہ خون نہیں بہایا جائے گا… تو وہ تہہ خانے میں جا کر سب کو موت کی نیند سلا دیتا۔ مگر اب اس کے پاس ایک ہی حل بچا تھا، درندوں کو متوازی دنیا میں بھیج دینا، تاکہ وہ عام انسانی آبادی کے لیے خطرہ نہ بن سکیں۔
اگر ندیم کو زافیر کے اس خیال کا پتہ چل جاتا تو وہ کبھی بھی اسے یہ سب کرنے نہ دیتا۔ وہ ضرور مزاحمت کرتا۔ ندیم اسی خوش فہمی میں مبتلا تھا کہ اس کے بنائے ہوئے درندے ان کا سب سے بڑا ہتھیار بنیں گے… آئندہ بھی ان کا ساتھ دیں گے اور ان کے مقصد کو پورا کریں گے۔ اس غلط فہمی کی روشنی میں، زافیر کے سخت فیصلے کے سائے اور بھی گہرے دکھائی دیتے تھے۔
°°°°°°°°°°
ٹرک دھول کے بادل اڑاتا ہوا اس مقام پر پہنچا، جہاں ہر طرف آبیاروس اور کازمار کے سپاہیوں کی کٹی پھٹی، جلی اور کوئلے کی طرح سیاہ لاشیں بکھری پڑی تھیں۔ خون، دھواں اور جلی ہوئی مٹی کی بو فضا میں رچی ہوئی تھی۔ جنگ اپنے انجام کو پہنچ چکی تھی… اور اس ویران میدان میں صرف ایک ہی زندہ وجود باقی تھا… آبیاروس۔
پانی کا وہ عظیم بادشاہ، جو ہمیشہ امن کا داعی کہلاتا تھا، اب شکست خوردہ زمین پر چوکڑی مارے بیٹھا تھا۔ اس کا سر جھکا ہوا تھا اور اس کے وجود سے بہنے والا پانی چھوٹی چھوٹی ندیوں کی صورت اختیار کر رہا تھا، جیسے اس کے زخموں کا نوحہ بہا رہا ہو۔
دور سے دیکھنے پر ہی صاف محسوس ہو رہا تھا کہ وہ غم اور غصے کے بوجھ تلے دبا اپنی ہار کا ماتم کر رہا ہے۔
،ٹرک کو کچھ فاصلے پر روک کر زافیر نے ندیم کی طرف دیکھا اور نرمی سے کہا
“جب تک میں نہ کہوں… تب تک ٹرک سے مت اترنا۔ چاہے کچھ بھی ہو جائے۔”
یہ کہہ کر اس نے آہستگی سے دروازہ کھولا اور باہر قدم رکھ دیا۔ اس کی نظریں سیدھی آبیاروس پر جمی تھیں۔ بکھری ہوئی لاشوں اور تنہا بیٹھے آبیاروس کو دیکھتے ہی وہ سمجھ گیا تھا کہ پانی کا یہ عظیم بادشاہ شکست کھا چکا ہے… اور کازمار شاید یہاں سے جا چکا ہے۔
وہ جانتا تھا کہ اس کا اصل مقصد اب پورا ہونا مشکل ہے، مگر وہ یہ بھی سمجھتا تھا کہ ایک بار بات کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
وہ مردہ اجسام کے درمیان سے قدم بڑھاتا ہوا آگے بڑھنے لگا۔ ہر قدم کی چاپ اسے آہستہ آہستہ آبیاروس کے قریب کر رہی تھی… جیسے قسمت خود اسے پانی کے بادشاہ کے سامنے لے جا رہی ہو۔
°°°°°°°°°
آبیاروس کی دیوقامت جسامت کے سامنے زافیر بالکل ایسے لگ رہا تھا جیسے ہاتھی کے سامنے ایک بلی فریاد لے کر جا کھڑی ہوئی ہو۔
وہ زمین پر بیٹھا ہوا تھا، مگر اس کے باوجود زافیر کو اس کے چہرے تک نظریں اٹھا کر دیکھنا پڑ رہا تھا… یوں جیسے کسی بلند و بالا چٹان کے سامنے کھڑا ہو۔
پانی کے بادشاہ کی آنکھیں بند تھیں۔ زافیر کے قریب آنے کے باوجود اس نے پلکیں تک نہ ہلائیں۔ اس کے چوڑے سینے پر پاؤں کا گہرا نشان ابھرا ہوا تھا، جو کازمار کی ضرب کا نتیجہ تھا۔ یہ دیکھ کر زافیر کے دل میں دکھ کی لہر اٹھی اور اس پر ترس بھی آنے لگا۔
وہ چند لمحے یونہی خاموش کھڑا رہا، الفاظ ترتیب دینے کی کوشش کرتا ہوا، مگر سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ بات کہاں سے شروع کرے۔ آخرکار اس نے ہمت باندھی اور اونچی لیکن مؤدب آواز میں بولا،
“بادشاہ آبیاروس… میں زافیر ہوں… حقیقی دنیا سے آیا ہوں… آپ کے پاس ایک فریاد لے کر۔”
آبیاروس چند لمحے خاموش رہا، پھر آہستگی سے پلکیں کھولیں۔ زافیر کا دل ایک لمحے کے لیے دھک سے رہ گیا… اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ پہلے وہ پلکیں بند کیے ان آنسوؤں کو روکنے کی کوشش کر رہا تھا مگر جیسے ہی آنکھیں کھلیں، آنسو اس کی آنکھوں سے چھلک پڑے… ایک ساتھ دو چشموں کی طرح پھوٹ پڑے۔
،کچھ لمحے کے اندر ہی اس نے دوبارہ آنکھیں بند کر لیں اور نرم مگر با رعب لہجے میں کہا
“جانتے ہو سب سے مشکل بات کیا ہے…؟”
،دونوں کے بیچ خاموشی گہری ہوئی۔ کچھ دیر کے توقف کے بعد اس نے خود ہی جواب دیا
،جب تم ہار جاؤ… تمہاری سلطنت بکھر جائے… تم پر ذلت آئے… تم چاہو کہ آنکھ آنسو بہائے”
مگر بہا نہ پاؤ کیونکہ تمہارے آنسو حقیقی دنیا کے سمندروں میں طغیانی مچا دیں گے۔
“یہی المیہ میری قسمت بن گیا ہے… اور اس سب کے ذمہ دار تم ہو۔
،زافیر نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا اور بے ساختہ بولا
“میں ذمہ دار ہوں…؟ میں کچھ سمجھا نہیں… آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں؟”
،اس نے بھاری سانس لے کر کہا
براہِ راست نہیں، لیکن بلواسطہ اس تباہی کا بوجھ تمہارے کاندھوں پر ہی ہے۔”
تم نے… اپنے خاندان کو ختم کیا… اور پھر سکون سے حقیقی دنیا میں جا بسے۔ یہ سوچے بغیر کہ ایک چھوٹا سا فیصلہ پوری دنیا کے مستقبل کو بدل سکتا ہے۔
“تمہاری بہن کے انتقام کی آگ نے… دونوں دنیاؤں کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا، صرف تم سے بدلہ لینے کے لیے۔
زافیر کی نظریں خالی ہو گئیں، وہ اس بات کی گہرائی تک نہیں پہنچ پایا۔ دل ہی دل میں وہ الجھا رہا۔
لیکن حقیقت یہی ہے کہ، چھوٹے چھوٹے فیصلے یا تبدیلیاں، جو ہمیں معمولی اور بے اثر لگتی ہیں، دراصل دنیا کے مستقبل پر گہرے نقوش چھوڑتی ہیں۔ یہ دنیا اور اس میں سانس لینے والے سب انسان ایک زنجیر کی مانند جُڑے ہیں اور ایک کڑی کی کمزوری پوری زنجیر کو ہلا دیتی ہے۔
اس مسئلے کو تاریخ کے چند سیاہ اور المناک صفحات سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔
تقریباً بتیس سو سال قبل، محض ایک عورت، ہیلن، کے اغواء ہونے پر پورا ٹرائے شہر غصے کی آگ میں جل کر راکھ کر دیا گیا۔
اٹھارہویں صدی میں ایک کسان کے کھیت کی پانی کی نالی بند ہوئی اور اس معمولی سے واقعے نے بیلجیم اور ہالینڈ کے درمیان ایسا خونی تصادم چھیڑ دیا جس میں ہزاروں جانیں ضائع ہو گئیں۔
اسی طرح دو ممالک کی فٹ بال ٹیموں کے درمیان ایک ہلکے پھلکے جھگڑے نے چند دنوں میں جنگ کی صورت اختیار کر لی اور محض چار دنوں میں ہزاروں انسان مارے گئے۔
یہاں تک کہ ایک عام سے برطانوی ملاح کا کان کاٹ دینے جیسا واقعہ بھی برطانیہ اور اسپین کے درمیان کئی برسوں پر محیط خونریز جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔
اور اسی طرح، ایک بالٹی چوری ہونے پر، باغ سے آم توڑنے پر، ایک گدھے کے جھگڑے پر، سیاحوں کے ہانولولو کے باشندوں کے کھانے کا مذاق اڑانے پر، چراہ گاہ میں بھینس گھس آنے پر، ایک درخت کی ملکیت کے جھگڑے پر، کسی نوجوان کے دوسرے شخص کے کپڑوں کا مذاق بنانے پر… ایسے تصادم بھڑک اٹھے جن میں سینکڑوں اور ہزاروں لوگ موت کے گھاٹ اتر گئے۔
سب سے حیران کن اور دلچسپ مثال اسپین اور فرانس کے درمیان ہونے والا وہ خونی تصادم ہے، جس میں ہزاروں لوگ تہہِ تیغ کر دیے گئے۔ اور اس خوں ریز جنگ کی وجہ محض اتنی تھی کہ بادشاہ کو چاکلیٹ کون پیش کرے گا۔
یہ سب سننے میں مذاق محسوس ہوتا ہے، لیکن حقیقت یہی ہے کہ ایسے درجنوں واقعات تاریخ کے اوراق میں سیاہ ترین دھبوں کے طور پر ثبت ہیں۔ معمولی واقعات کیسے خونریزی میں بدل جاتے ہیں، یہ انہی مثالوں سے بخوبی عیاں ہوتا ہے۔
ضروری نہیں کہ ہر جنگ کسی بڑی وجہ سے شروع ہو؛ اکثر فتنوں کا آغاز انہی چھوٹی چھوٹی باتوں سے ہوتا ہے، جو پھر جنگل کی آگ کی طرح پھیل کر پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔
،ایک چھوٹی سی فرضی مگر دلچسپ مثال یوں سمجھ لیجیے
ایک شخص مسجد میں نماز پڑھنے گیا۔ جب وہ باہر نکلا تو دیکھا کہ اس کی چپل غائب ہے۔ غصے اور لاچاری میں اس نے سوچا کہ میں بھی کسی اور کی چپل پہن کر نکل جاتا ہوں۔ جیسے ہی وہ چپل پہننے لگا، اس کا اصل مالک آگیا۔ مالک نے اسے چپل چور سمجھ کر پیٹنا شروع کر دیا۔
بات یہاں تک محدود نہ رہی، مار کھانے والے کے دوست اکٹھے ہوگئے اور انہوں نے اصل مالک کو اتنا مارا کہ وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ یوں ایک معمولی سا جھگڑا دو خاندانوں کے درمیان دشمنی میں بدل گیا۔ خون کا بدلہ خون سے لیا جانے لگا، لوگ ایک دوسرے کو مارنے لگے۔
اسی دوران، جھگڑے میں دوسرے شہر کا ایک آدمی بھی مارا گیا… وہ شخص جس کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ یوں یہ فساد ایک چنگاری سے بھڑک کر دو شہروں تک پھیل گیا اور سینکڑوں افراد کی جان لے بیٹھا۔
اگر اس آگ کو بروقت نہ بجھایا جائے تو یہ آہستہ آہستہ دوسرے شہروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ کئی بار ایسے تصادم میں غیر ملکی بھی بلاوجہ مارے جاتے ہیں اور یوں معاملہ بڑھتے بڑھتے دو ملکوں کے درمیان باقاعدہ جنگ میں بدل جاتا ہے۔ اور جب پیچھے مڑ کر وجہ تلاش کی جاتی ہے تو پتا چلتا ہے کہ کہانی کی ابتدا بس اتنی سی تھی کہ کسی شخص کی چپل چوری ہوگئی تھی۔
آبیاروس، زافیر کو اسی نسبت سے مجرم ٹھہرا رہا تھا کہ اس کی ایک بغاوت اور خاندان کے ساتھ جھگڑے نے پوری دنیا کو تباہی کی دہلیز پر دھکیل دیا تھا۔ زافیر دم بخود چند لمحوں کے لیے ماضی کے اوراق پلٹ کر دیکھتا رہا… پھر پہلی کڑی اس کی نظروں کے سامنے آبرو کی صورت ابھری اور دوسری کڑی خود وہ تھا۔ ایک کے بعد ایک کڑی جڑتی گئی اور وہ زنجیر آہستہ آہستہ پوری دنیا کو ایک بھیانک انجام کی طرف کھینچ رہی تھی۔
،اب اس کی آواز میں رقت تھی جب وہ نرمی سے بولا
“میں اس تباہی کو روکنا چاہتا ہوں… اور مجھے اس کے لیے آپ کا ساتھ درکار ہے۔”
،آبیاروس نے مایوسی اور بوجھ لیے کہا
بہت دیر ہو چکی ہے۔”
شاہِ سموم آزاد ہو چکا ہے، کازمار اس کا حامی بن گیا ہے، میری فوج تباہ ہو چکی ہے اور شنداق تنہا ان دونوں کا مقابلہ نہیں کر پائے گا۔
جنگ ختم ہونے تک تمہاری دنیا میں لاکھوں انسان لقمۂ اجل بن چکے ہوں گے۔
…جب شاہِ سموم کی فتح طے ہوجائے گی، وہ تمہاری دنیا میں داخل ہو جائے گا
“اور پھر… پھر جو منظر ہوگا، سوچ کر ہی وجود میں سنسنی دوڑ جاتی …ہے
اس کے الفاظ کے ساتھ ہی فضا چند لمحات کے لیے جیسے ساکت سی ہوگئی۔
،زافیر کے سینے میں اضطراب چھلک اٹھا۔ وہ تڑپ کر تیزی سے بولا
“تو کیا ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر سب کچھ مٹنے کا انتظار کریں؟”
فضا میں خاموشی اور درد کا ملا جلا بوجھ چھا گیا… جیسے آگ کے دہانے پر کھڑا کوئی آدمی اپنی دشمنی اور ندامت کے بیچ پھنس چکا ہو۔
“واپس چلے جاؤ… اپنوں کے پاس جاؤ… زندگی کے جو چند دن باقی ہیں وہ اپنے پیاروں کے ساتھ گزار لو۔ اب کوئی امید نہیں بچی۔”
آبیاروس کے لہجے میں دکھ، اذیت اور مایوسی کا ایسا امتزاج تھا جو دل کو چیرتا چلا گیا۔
“!…نہیں… نہیں…! کبھی نہیں”
زافیر کی آواز میں ضد اور بے بسی گڈمڈ ہو گئیں۔
“!میں ہار نہیں مانوں گا۔ کوئی نہ کوئی راستہ ضرور ہوگا… ہر جوڑ کا ایک توڑ ہوتا ہے… تو پھر اس تباہی کا بھی کوئی نہ کوئی توڑ ضرور ہوگا”
وہ پریشانی اور بے چینی سے آبیاروس کی آنکھوں میں جھانکتا رہا، جیسے اس سے جواب کھینچ لینا چاہتا ہو۔
،چند لمحے خاموشی چھائی رہی۔ اس نے پھر فریاد کی
“آپ ایک عظیم بادشاہ ہیں… آپ کی طاقت لازوال ہے… آپ امید نہیں چھوڑ سکتے۔ کوئی نہ کوئی حل تو ہوگا، کوئی نہ کوئی راستہ تو ضرور نکلے گا۔”
یہ سنتے ہی، آبیاروس کے ہونٹوں پر ایک زخمی سی مسکان ابھری۔ اس کی آنکھوں میں ہارا ہوا سا سکون تیر گیا۔ اسے وہ دن یاد آ گیا جب رینا نے کہا تھا،
آپ ایک عظیم بادشاہ ہیں… آپ شنداق کو ہرا سکتے ہیں۔”
“اور اس نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا تھا، “خوشی ہوئی کہ تم نے مجھے اتنا طاقتور سمجھا… لیکن جذباتی جملے حقیقت نہیں بدل سکتے۔”
آج وہی الفاظ، وہی امید اور ضد، رینا کا بھائی دہرا رہا تھا۔ اور آبیاروس جانتا تھا کہ یہ تاریخ خود کو دہرا رہی ہے۔
زافیر کچھ دیر خاموشی سے جواب کا منتظر رہا، پھر مایوسی سے پلٹنے لگا۔ چند قدم ہی اٹھائے تھے کہ اچانک آبیاروس کی آواز ٹوٹی، وہ الفاظ گویا امید کی آخری کرن تھے۔
،وہ بولا
“ایک طریقہ ہے… بظاہر ناممکن سا، مگر یہی آخری راستہ بچا ہے۔”
،یہ سن کر زافیر فوراً رک گیا، پلٹ کر واپس آیا اور بے تابی سے پوچھا
“بتائیے… کون سا طریقہ ہے؟ یہ تباہی کیسے روکی جائے؟”
آبیاروس نے چند لمحے خاموشی سے توقف کیا، جیسے اپنے جذبات کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہا ہو۔
،پھر اس نے آنکھیں کھولیں، زافیر کی طرف دیکھا اور گہرے مگر پُرعزم لہجے میں کہا
متوازی دنیا کے سارے قوانین اور تانے بانے بگڑ چکے ہیں۔ اس دنیا کو اب بچایا نہیں جا سکتا۔”
البتہ ایک طریقہ موجود ہے… ایسا عمل جس سے متوازی دنیا اور حقیقی دنیا کے درمیان تمام راستے بند کیے جا سکتے ہیں۔
“اس طرح متوازی دنیا کی تباہی کا اثر حقیقی دنیا تک نہیں پہنچے گا اور شاہِ سموم کبھی بھی حقیقی دنیا میں قدم نہیں رکھ پائے گا۔
اس بیان کے ساتھ ہوا میں ایک ٹھنڈا سا جوش اتر آیا۔ الفاظ میں نہ صرف تلخ حقیقت تھی بلکہ امید کی ایک چھوٹی سی کرن بھی جھلملا رہی تھی۔
اتنا کہہ کر وہ خاموش ہو گیا اور زافیر کی آنکھوں میں گہرائی سے جھانکا، جیسے یقین کر رہا ہو کہ یہ معمولی انسان واقعی اس تباہی کو روکنے کے قابل ہے یا نہیں۔
،زافیر نے دھیرے سے کہا
“میں سن رہا ہوں… مجھے جاننا ہے کہ یہ تباہی کیسے رکے گی؟”
آبیاروس نے ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کیں، پھر کہا،
“جانتا ہوں کہ یہ تمہارے بس میں نہیں، لیکن پھر بھی بتا دیتا ہوں۔”
،چند لمحے خاموش رہنے کے بعد، اس نے محتاط انداز میں ہر لفظ ادا کیا
تمہیں چاروں عناصر کی طاقت کے نمونے حاصل کرنے ہوں گے۔”
میری آنکھ سے بہتا ہوا آنسو اور میرے ہاتھ سے نکلتا پانی… جو میں خود تمہیں دوں گا۔
شنداق کے وجود کی مٹی… وہ تمہیں اس کے دربار سے مل جائے گی۔
کازمار کے ہاتھ کی آگ یا اس کے جسم کا کوئی ایک حصہ… جسے حاصل کرنا ناممکن سا لگتا ہے۔
…اور
“شاہِ سُموم کے وجود سے اٹھتا کالا دھواں یا اس کا تاج… یہ دونوں چیزیں بھی تمہاری دسترس سے باہر ہیں۔
اس کے ہر لفظ میں احتیاط اور تلخ حقیقت کی چھاپ تھی، جیسے ہر جملہ زافیر کے وجود میں گہرائی تک بیٹھ رہا ہو اور اسے یہ شعور دلا رہا ہو کہ آگے کا سفر نہایت دشوار اور خطرناک ہوگا۔
زافیر گھبراہٹ اور پریشانی سے چند لمحے اپنی جگہ ساکت سا کھڑا رہا۔ یہ واقعی ایک ناممکن سا طریقہ تھا۔ دو عناصر تو شاید آسانی سے حاصل ہو جائیں، مگر باقی دونوں تو گویا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھے۔
،چند لمحے سوچ بچار کے بعد اس نے ہلکی مگر پرعزم آواز میں پوچھا
“فرض کریں کہ میں کامیاب رہا، تو اس کے بعد ان کا کیا کرنا ہے؟”
،آبیاروس نے گہرائی سے سانس لیا اور بولا
“یہ چاروں عناصر حقیقی دنیا میں لے جاؤ… پھر چاند اور سورج کی روشنی سے انہیں جلا دو۔ ان کے جل کر ختم ہوتے ہی ہم چاروں بادشاہ قدرے کمزور بھی ہو جائیں گے اور دونوں دنیاؤں کے درمیان بنے دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہو جائیں گے۔”
زافیر کے ذہن میں ایک بھاری سوچ نے جنم لیا اور اگلے ہی پل وہ سوچ لفظوں کی شکل میں زبان تک پہنچ آئی،
یہ واقعی ناممکن سا کام ہے۔ اوّل تو چاروں عناصر کو حاصل کرنا ہی کتنا مشکل ہے۔”
“اور اگر میں کامیاب ہو بھی گیا تو پوری دنیا پر چھائے کالے بادلوں تلے سورج کی روشنی کہاں سے لاؤں گا؟
،پھر وہ اچانک لہجہ بدلتے ہوئے بولا
یہ بھی مان لیتے ہیں کہ میں سورج کی روشنی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا لیکن سورج اور چاند کا کب ایک قطار میں آنا ممکن ہوگا؟”
“مہینوں، شاید سالوں بعد…! اور تب تک یہ تباہی اپنے اثرات پھیلا چکی ہوگی۔
فضا میں ایک خاموشی چھا گئی، جو اس کی بے بسی اور چیلنج کی شدت کو اور زیادہ نمایاں کر رہی تھی۔
،آبیاروس کے لہجے میں اچانک طنز اتر آیا۔ اس نے کہا
تمہاری مثال ہزاروں سال پہلے حقیقی دنیا میں گزری ایک قوم، بنی اسرائیل جیسی ہے۔ “
انہیں حکم دیا گیا کہ ایک گائے ذبح کرو، اس کے گوشت کا ٹکڑا مقتول کے سینے پر رکھو اور وہ اپنے قاتل کا نام بتا دے گا۔
لیکن انہوں نے حکم پر عمل کرنے کے بجائے سوالات اٹھانا شروع کر دیے، گائے کیسی ہو؟ عمر کتنی ہو؟
“رنگ کیسا ہو؟ اور ایسے ہی سوال کرتے کرتے اپنی مشکلات کو بڑھاتے چلے گئے۔
زافیر حیرت سے اس کی طرف دیکھتا رہا… ایک ایسے بادشاہ کی طرف جو کبھی متوازی دنیا سے باہر نہیں نکلا، مگر اب حقیقی دنیا کا ایک مشہور قصہ بیان کر رہا تھا۔
،وہ کچھ ادھورا سا بول پڑا
“میں کچھ سمجھا نہیں… آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں؟”
،آبیاروس نے ایک لمحے کے لیے خاموشی اختیار کی، پھر تحمل اور وضاحت سے بولا
“میں نے تم سے کب کہا کہ سورج اور چاند ایک قطار میں ہونے چاہیے؟”
،چند پل خاموش رہنے کے بعد اس نے آگے بڑھ کر وضاحت کی
کئی پہاڑوں کی چوٹیاں بادلوں کو چیر کر روشنی کو چھو لیتی ہیں۔ “
،تم وہاں پہنچو، اور جب دن کے وقت چاند آسمان پر نظر آئے اور سورج بھی دکھائی دے رہا ہو
“تو کسی محدب عدسے کی مدد سے چاروں عناصر کو سورج کی حرارت اور چاند کی روشنی سے جلا دو۔
اس بیان کے ساتھ، زافیر کے ذہن میں ایک عزم کی روشنی جلی اور پیچیدہ منصوبے کی جھلک واضح ہو گئی… خطرناک… مگر ممکن۔
یہ سن کر وہ لمحے بھر کے لیے لاجواب رہ گیا۔ واقعی، وہ ایک چھوٹے مگر اہم پہلو کو نظر انداز کر رہا تھا، حالانکہ یہ مرحلہ دراصل نسبتاً آسان تھا۔
،اچانک آبیاروس کی ایک بار پھر سوالیہ آواز گونجی
“تو بتاؤ، ننھے انسان… کیسے حاصل کرو گے کازمار کے وجود کا ایک حصہ اور شاہِ سُموم کا دھواں یا تاج؟”
زافیر کے چہرے پر سوچ کی پرچھائیاں تیزی سے رقص کر رہی تھیں۔ وہ ہر زاویے سے منصوبے کا جائزہ لے رہا تھا، لیکن کہیں بھی منزل تک پہنچنے کا راستہ نظر نہیں آ رہا تھا۔
،اچانک ایک خیال اس کے ذہن میں آیا اور وہ تیزی سے آبیاروس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا
تاج پانا بھی مشکل ہے”
اسے میں حاصل کرنے کا کوئی حل سوچتا ہوں، البتہ کازمار کا مسئلہ تاج سے بھی زیادہ پیچیدہ ہے، اس کے وجود کا کوئی حصہ کاٹنا ناممکن سا کام ہے۔
“اور یہ کام آپ کے علاوہ کوئی نہیں کر سکتا۔
،آبیاروس نے شکست خوردہ ہنسی کے ساتھ طنزیہ لہجے میں کہا
کازمار پر قابو؟ نہیں… اب میرے بس میں نہیں۔ کیا تم میرے حالات نہیں دیکھ رہے؟”
میری ساری فوج مِٹ چکی ہے، میرا سینہ دیکھو… کازمار کے پیر کا نشان مجھے ذلت میں ڈبو رہا ہے۔
“مجھ سے کوئی امید مت رکھو۔ جو کرنا ہے وہ خود ہی کرو۔ میں نے راستہ دکھا دیا ہے۔ فتح یا شکست تمہارا مقدر رہے گا۔
ہوا میں ایک بھاری خاموشی چھا گئی، جیسے زافیر کے دل میں عزم اور خوف دونوں ایک ساتھ جنم لے رہے ہوں۔
،اچانک زافیر نے موضوع بدل دیا اور تیز لہجے میں بولا
مجھے تو ابھی تک یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ کازمار آخر آپ سے جیت کیسے گیا؟”
پانی دنیا کا سب سے طاقتور عنصر ہے… بھاپ بنے تو ہوا جیسا ہلکا، غصے میں آئے تو سمندر جیسا تھرتھراتا، ابلنے پہ آئے تو آگ جیسا گرم اور برف بن کر مٹی جیسا ٹھوس۔
“چاروں خوبیوں کے باوجود آپ ہار گئے، یہ سمجھ سے بالاتر ہے۔
ایک لمحے کے لیے آبیاروس چونک گیا، جیسے زافیر نے اس کی اصل طاقت کا اندازہ اس کے ذہن میں ٹھونس دیا ہو۔
،لیکن اگلے ہی پل وہ تلخ اور سخت لہجے میں بولا
“کیا تم مجھے بیوقوف سمجھتے ہو؟ تمہیں کیا لگتا ہے مجھے یہ سب پتا نہیں؟”
،زافیر نے اس کی بات کو ٹوکتے ہوئے جواب دیا
بے شک آپ جانتے تھے… لیکن آپ اسی سوچ میں رہے کہ یہ جنگ زیادہ تباہی کا سبب نہ بنے۔ “
… اچھے اور برے لوگوں میں یہی فرق ہوتا ہے
“اچھے لوگ ہمیشہ دوسروں کو بچانے کے چکر میں مارے جاتے ہیں اور برے لوگ اس جذبے سے عاری ہو کر فتح سمیٹ لیتے ہیں۔
ہوا میں ایک خاموش کشمکش چھا گئی، زافیر کی بے باکی اور آبیاروس کی تلخ دانائی ایک ساتھ منظر کو گھیرے ہوئے تھے، جیسے دونوں کے درمیان ایک نامراد کشمکش کی چنگاری جل رہی ہو۔
“تو تم کیا چاہتے ہو کہ میں بھی کازمار کی طرح خود غرض بن جاؤں… سبھی مخلوقات کو پانی کے سمندر میں ڈبو دوں؟”
آبیاروس کے لہجے میں کاٹ دار طنز چھلک رہا تھا۔
زافیر نے جواب دیا،
میں ولن نہیں ہوں اور نہ ہی کوئی ہیرو، لیکن پھر بھی مانتا ہوں کہ کئی بار کروڑوں جانیں بچانے کے لیے کچھ جانوں کی قربانی دینا پڑتی ہے۔”
“کچھ کھوئے بغیر اپنے مقاصد کو پانا ممکن نہیں۔
اتنا کہہ کر وہ خاموش ہو گیا اور آبیاروس کے چہرے کے تاثرات بدلنے لگے۔
،اگلے ہی پل، جیسے اس نے کوئی بھاری فیصلہ کر لیا ہو، اس نے آنکھیں موندیں اور نرم مگر پختہ لہجے میں بولا،
میں پہلے ہی بہت سی جانوں کا قاتل بن چکا ہوں۔ میں اس تباہی میں مزید کوئی کردار ادا نہیں کروں گا۔ مجھ سے کوئی امید مت رکھو۔”
“میں نے تمہیں راستہ دکھا دیا ہے۔ اگر منزل پا سکتے ہو تو پا لو، ورنہ راستے میں ہی کہیں مر جانا۔ مجھے فرق نہیں پڑتا۔
فضا میں ایک گہری خاموشی چھا گئی، زافیر کے دل میں ایک عزم اور خوف کی ملی جلی لہر دوڑ گئی… یہ لمحہ نہایت سنگین اور فیصلہ کن تھا۔
اس نے چند لمحے آبیاروس کی بند آنکھوں کو گھور کر دیکھا، پھر حتمی الفاظ کے لیے لب کھولے۔
وعدے کے مطابق آپ اپنے ہاتھ سے بہتا پانی اور آنکھ کے آنسو دیں گے۔ میں شنداق کے وجود کی مٹی بھی اس کی دربار سے لے آؤں گا۔”
پھر تاج حاصل کرنے کے لیے تگ و دو کروں گا، لیکن کازمار کے وجود کا حصہ یا اس کی بھڑکیلی آگ کو حاصل کرنا میرے بس میں نہیں۔
“یہ کام آپ ہی کر سکتے ہیں۔
اتنا کہہ کر وہ خاموش ہو گیا اور چند لمحے اسی انتظار میں گزر گئے کہ آبیاروس کچھ بولے، مگر وہاں گہری خاموشی چھائی رہی۔
،زافیر نے اپنے دل کی شدت کے ساتھ کہا
میں شنداق کے وجود کی مٹی لے کر، مٹی اور ہوا کے میدانِ جنگ میں آپ کا انتظار کروں گا۔”
اگر آپ نے مدد کی تو میں اس جنگ کو روکنے میں اپنی جان تک لگا دوں گا۔
“اگر آپ اپنی اسی قبر جیسی مایوسی میں دفن رہے تو میں کازمار اور شاہِ سموم سے الجھ کر جان دے دوں گا، مگر آپ کی طرح ہار نہیں مانوں گا۔
اتنا کہتے ہی وہ واپس پلٹ گیا۔ دل میں بار بار یہی خیال ابھرتا رہا کہ ابھی آبیاروس اسے آواز دے کر ساتھ دینے کا وعدہ کرے گا مگر وہاں مستقل خاموشی چھائی رہی۔ ہر لمحہ اس کے دل کو مایوسی کی طرف دھکیل رہا تھا، لیکن ہار ماننا اس کی فطرت میں نہیں تھا۔
فضا میں ایک دبیز سکون چھایا ہوا تھا اور ہر سانس کے ساتھ اس کے عزم کی آگ مزید بھڑک رہی تھی۔
°°°°°°°°°°
زافیر ٹرک کے پاس گیا، خون والی ایک بوتل نکالی اور اسے خالی کر کے واپس اجڑے میدان کی طرف بڑھا۔ آبیاروس کے وجود سے بہنے والے پانی سے بنی ندی میں بوتل اچھی طرح دھو کر وہ اس کے قریب پہنچا۔
“اپنا وعدہ نبھائیں۔”
یہ کہتے ہوئے اس نے ہاتھ بلند کرتے ہوئے بوتل آبیاروس کی طرف بڑھائی۔ اس نے بغیر کچھ کہے بوتل اس کے ہاتھ سے لے لی۔ وہ بوتل اس کے ہاتھ میں ایسے لگ رہی تھی جیسے کسی انسان نے اپنے ہاتھ میں کیپسول پکڑ رکھا ہو۔
سب سے پہلے اس نے اپنے ہاتھ سے پانی کا ننھا سا قطرہ بوتل میں ڈالا، جس سے آدھی بوتل بھر گئی۔ پھر بوتل کو اپنی آنکھ کے قریب لایا اور گذرے لمحات کو ذہن میں تازہ کرتے ہی آنکھ سے موتی جیسا آنسو نکل کر اگلے ہی پل بوتل میں شامل ہوگیا۔
جیسے ہی اس کے ہاتھ اور آنکھ کا پانی آپس میں ملے، بوتل کا مائع یوں چمکنے لگا جیسے سورج کی کرنیں اس میں قید کر دی گئی ہوں۔
اس نے خاموشی سے بوتل زافیر کے حوالے کی اور دوبارہ آنکھیں موند لیں۔
وہ چند قدم پیچھے ہٹ کر الٹے قدموں ٹرک کی طرف رخ کر گیا، دل میں عزم اور ہمت کے ساتھ۔
اب اس کی اگلی منزل شنداق کا اجڑا ہوا دربار تھا… چوٹی میں واقع وہ غار جس کی چھت شنداق نے خود ہی اڑا دی تھی اور اب یہ دربار کھلے آسمان تلے ویرانی کا منظر پیش کر رہا تھا۔
وہ ایک ایسی جنگ میں الجھ چکا تھا جہاں جیت کی کوئی امید نظر نہیں آ رہی تھی۔ اسے امید تھی کہ وہ رینا اور زمار کا استعمال کرتے ہوئے شاہِ سُموم کا تاج چرانے میں کامیاب ہو جائے گا، لیکن مسئلہ یہ تھا کہ تاج چراتے ہی فوراً متوازی دنیا سے نکلنا تھا۔ اس کے لیے ایسے مددگار کی ضرورت تھی جو شاہِ سُموم کو الجھائے رکھے اور زافیر تک پہنچنے نہ دے۔
تاج پا کر وہاں رکنے کا مطلب، شاہِ سُموم کو للکارنے کے مترادف تھا۔ اس کے سامنے تو تینوں بادشاہ بھی بے بس تھے اور زافیر تو پھر بھی محض ایک عام انسان تھا۔ جو ایک تِنکے کی مانند ناتواں تھا۔
البتہ انسان کی سب سے بڑی خوبی امید ہے… وہ کبھی ہار نہیں مانتا۔ یہی امید اسے جینے کی وجہ دیتی ہے اور زافیر کے دل میں بھی اسی امید کی ہلکی سی کِرن زندہ تھی، جو اسے آگے بڑھنے پر مجبور کر رہی تھی۔
°°°°°°°°°°
…جاری ہے
