ناول درندہ

قسط نمبر 48

باب پنجم: کاسر العاکم

مصنف: زیاد اصغر زارون

°°°°°°°°°°

زافیر اور ندیم، تہہ خانے میں کوٹھڑی کے سامنے آ کھڑے ہوئے۔ زلزلے سے تو پہلے ہی تہہ خانے کے در و دیوار ہل رہے تھے، مزید درندوں کی گرج، دہاڑ اور خونخوار چیخیں فضا کو چیر رہی تھیں۔ کبھی کوئی پنجوں سے دروازے کو پیٹتا تو کبھی کسی کی آواز کمرے کی دیواروں سے ٹکرا کر بازگشت بن جاتی۔ ہوا میں ایک سڑاند سی بھری ہوئی تھی۔ جیسے قید اور خون کی بو ایک ساتھ گھل گئی ہو۔

دونوں کچھ لمحوں تک ساکت کھڑے سب منظر دیکھتے اور سنتے رہے۔

،زافیر کی آنکھوں میں بے چینی جھلک رہی تھی۔ پھر آخرکار اس نے الجھن بھرے لہجے میں خاموشی توڑی
“کیا تمہیں پورا یقین ہے… کہ یہ ہمارے لیے خطرہ نہیں ہیں؟”

ندیم نے ہلکا سا اثبات میں سر جھکایا۔

اس کے چہرے پر اعتماد تو تھا مگر آنکھوں میں ہلکی سی ندامت کی پرچھائی بھی باقی تھی۔
“میں آزما کر دیکھ چکا ہوں،”
وہ دھیمے مگر پُرعزم لہجے میں بولا۔
“یہ سب میرے تابع ہیں۔ میرا حکم مانتے ہیں۔ اور صرف میرے ہی نہیں… آپ کے بھی عقیدت مند ہیں۔”

زافیر نے ایک لمحے کو حیرت سے اس کی طرف دیکھا پھر نظریں آہستہ آہستہ قیدیوں پر جما دیں۔

،اس کے لبوں سے الجھن بھری آواز نکلی
مجھے تو یہ سب محض بددماغ وحشی درندے لگتے ہیں… اور تم کہتے ہو یہ وفادار ہیں؟”

“…میرے تجربے میں تو آج تک ایسا نہیں ہوا کہ کوئی درندہ واقعی کسی کا وفادار ٹھہرا ہو

وہ اپنی بات مکمل بھی نہیں کر پایا تھا کہ اچانک الفاظ زبان سے پھسل گئے۔ یادداشت کے پردے پر وہ لمحہ ابھر آیا جب وہ آزلان کے ساتھ متوازی دنیا میں داخل ہوا تھا۔ وہاں اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ کیسے خونخوار درندے اس کی دادی کے اشاروں پر جھک کر اطاعت کر رہے تھے۔ یہ منظر اس کے دل و دماغ میں بجلی کی طرح لپکا… شاید یہ بھی ممکن تھا۔

،یہ سوچ ذہن میں آتے ہی اس نے ندیم کی طرف پلٹ کر دیکھا اور آہستہ مگر سنجیدہ لہجے میں کہا
“کیا تم مجھے ان کی وفاداری کا ثبوت دکھا سکتے ہو؟”

ندیم کے ہونٹوں پر دھیمی مسکراہٹ ابھری۔ اس نے پُراعتماد انداز میں اثبات میں سر ہلایا اور آہستہ آہستہ دو قدم آگے بڑھا۔ پھر اچانک گرج دار آواز میں دھاڑا،
“!…خاموش… چپ کرو”

سبھی درندے ندیم کی گرج سنتے ہی خوف سے سہم گئے۔ گھٹی گھٹی چیخوں کے ساتھ اور سسکاریاں بھرتے ہوئے پیچھے کو کھسکنے لگے۔ ان کی حالت بالکل ویسی تھی جیسے مالک کی ڈانٹ کھا کر کتے کان دبا کر سِمٹ جائیں اور دبے دبے سُر میں عجیب آوازیں نکالنے لگیں۔
،اس نے فاتحانہ نگاہوں سے زافیر کی طرف پلٹتے ہوئے کہا
“کیا یہ کافی نہیں؟”

،زافیر نے چند لمحے درندوں کے سہمے ہوئے چہروں اور لرزتے وجود کو بغور دیکھا، پھر دھیرے مگر قطعیت سے بولا
“یہ تم سے عقیدت نہیں رکھتے… یہ محض تم سے خوفزدہ ہیں۔”
یہ کہتے ہی وہ ایک قدم آگے بڑھا اور محتاط انداز میں اپنا ہاتھ سلاخوں کے اندر بڑھا دیا۔ لمحہ بھر کو کوٹھڑی میں خاموشی چھا گئی۔ پھر ایک درندہ ہچکچاتے ہوئے اٹھا، ڈرتی ہوئی نظریں ندیم پر ڈالیں اور آہستہ آہستہ زافیر کے قریب آیا۔ اس کی آنکھوں میں جھانکا، جیسے وہاں یقین تلاش کر رہا ہو پھر اس کا ہاتھ تھام کر عقیدت کے ساتھ پشت پر بوسہ دیا اور اگلے ہی پل بھیڑیئے کی طرح چنگھاڑنے لگا۔

اس کے بعد دوسرا درندہ اٹھا، پھر تیسرا… اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے ہر قیدی نے وہی عمل دہرایا۔ قید خانہ درندوں کی چنگھاڑتی آوازوں سے گونج اٹھا لیکن ان آوازوں میں وحشت کم اور عقیدت زیادہ جھلک رہی تھی۔
،اس نے پیچھے مڑ کر ندیم کی طرف دیکھا اور آہستگی سے کہا
“یہ واقعی میرے لیے حیران کن ہے۔”

،ندیم کے لبوں پر ایک مطمئن مسکراہٹ پھیل گئی۔ وہ پر اعتماد لہجے میں بولا
“بھلے ہی ان کے دل و دماغ میں میرے لیے عقیدت نہ ہو، لیکن یہ آپ کے عاشق ہیں… آپ کے لیے مر مِٹنے کو تیار ہیں۔”

زافیر وہیں کھڑا کچھ دیر ان مناظر کو تکتا رہا۔ سبھی قیدی ایک ایک کر کے اس کے ہاتھ کی پشت کو بوسہ دے کر پیچھے ہٹتے جا رہے تھے۔ ان کی آنکھوں میں وحشت کے بجائے ایک انجانی تابعداری جھلک رہی تھی۔

وہ واپس ندیم کی طرف پلٹا۔ لبوں پر کچھ الفاظ آنے کو تھے کہ اچانک زمین اس بار شدت سے لرزی۔ ایک شدید جھٹکے نے ذبح خانے کی فضا کو دہلا دیا۔ اس کے الفاظ زبان پر ہی رک گئے۔ وہ لمحہ بھر خاموش رہا پھر موضوع بدلتے ہوئے گہرے لہجے میں بولا،
دنیا تباہی کے کنارے کھڑی ہے۔”

“ابھی انسان اپنی جانیں بچانے کی تگ و دو میں ہیں… لیکن اگر اس ہلاکت خیز طوفان کو نہ روکا گیا تو زمین پر کوئی ذی روح باقی نہیں رہے گا۔

یہ سنتے ہی ندیم کی آنکھوں میں ایک چمک ابھری۔ اسے لگا کہ اگلے ہی لمحے زافیر حکم دے گا کہ دنیا سے مجرموں کو مٹانے نکلنا ہے۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔
زافیر نے جیب سے موبائل نکالا اور چند اہم تبدیلیاں کرنے کے بعد قیدیوں کی کوٹھڑی کے ساتھ نصب پینل کی طرف اشارہ کیا۔ ندیم لمحے بھر میں سمجھ گیا کہ زافیر چاہتا ہے وہ وہاں انگوٹھا رکھے۔ وہ فوراً آگے بڑھا اور اپنا انگوٹھا پینل پر جما دیا۔

تھوڑی دیر تک پینل کے تھمب پرنٹ اسکینر پر سرخ روشنی اوپر سے نیچے سفر کرتی رہی، جیسے ہر رگ و پے کو پرکھ رہی ہو۔ پھر اچانک وہ روشنی بجھ گئی۔ لمحہ بھر کی خاموشی کے بعد ندیم کو اندازہ ہوا کہ اب قیدیوں کی کوٹھڑی کھولنے اور ان درندوں کو آزاد کرنے کا اختیار اسے بھی دے دیا گیا ہے۔
اس کی آنکھوں کی چمک پہلے سے کئی گنا بڑھ گئی۔ وہ خود کو اب زافیر کا صرف پیروکار نہیں بلکہ اس کے منصوبے کا حصہ محسوس کر رہا تھا۔

زافیر نے موبائل دوبارہ جیب میں رکھا اور ندیم کا ہاتھ اپنی انگلیوں کے مضبوط شکنجے میں تھام لیا۔ پھر وہ قدم بدلتے ہوئے ذبح گاہ کی طرف لوٹنے لگا۔ زافیر کی انگلیوں کے حصار میں اپنا ہاتھ محسوس کرتے ہی ندیم کے دل میں ایک عجیب سا سرور بھر گیا۔ لمحہ بھر کو وہ خود کو دنیا کا خوش قسمت ترین انسان سمجھنے لگا۔ جس شخصیت کو وہ عقیدت و محبت سے دیکھتا تھا، آج وہی اسے اپنائیت اور اعتبار کا یقین دلا رہا تھا۔

راہداری میں بارش کی بوندوں اور زلزلے کے ہلکے جھٹکوں کے درمیان چلتے ہوئے زافیر کا لہجہ سنجیدہ ہوگیا۔

،وہ بولا
متوازی دنیا میں کوئی گڑبڑ ہے… اور اسی گڑبڑ کے اثرات ہماری دنیا میں تباہی بن کر برس رہے ہیں۔”

“ہمیں وہاں جانا ہوگا۔ وہاں جا کر ہی ہم جان سکیں گے کہ اصل وجہ کیا ہے۔

ندیم نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں حیرت اور تجسس ایک ساتھ ابھرے تھے۔
کیا واقعی متوازی دنیا حقیقت ہے؟” اس نے دبے لہجے میں سوال کیا، جیسے وہ اپنے ہی لفظوں پر یقین نہ کر پارہا ہو۔”

“ہاں… اور میری اصل بھی وہیں سے ہے۔”
،یہ کہہ کر اس نے لمحہ بھر کے لیے سامنے دیکھا، پھر نظریں ندیم پر جما کر مزید بولا
مسئلہ صرف متوازی دنیا تک محدود نہیں ہے… حقیقی دنیا میں بھی ایک غیر مرئی طاقت داخل ہو چکی ہے۔”

ایسی قوت جو روشنی کو قابو میں کر لیتی ہے۔

یہ وجود اتنا خطرناک ہے کہ ایک پل میں پوری دنیا کو جگمگا بھی سکتا ہے اور اسی پل اندھیروں میں بھی ڈبو سکتا ہے۔

” متوازی دنیا کے مسائل حل کرنے کے بعد ہمیں اس نئے دشمن کا بھی سامنا کرنا ہوگا۔

،ندیم نے چلتے ہوئے پر عزم لہجے میں جواب دیا
“میں آپ کے ساتھ ہوں… چاہے جان کی بازی ہی کیوں نا لگانی پڑے، میں پیچھے نہیں ہٹوں گا۔”

اتنے میں وہ ذبح گاہ تک پہنچ گئے۔ زافیر نے موبائل نکالا اور کچھ بٹن دبائے۔ لمحوں میں ذبح گاہ کا فرش لرزنے لگا اور آہستہ آہستہ لِفٹ کی مانند اوپر اٹھنے لگا۔

،موبائل جیب میں واپس رکھتے ہوئے وہ ندیم کی طرف مڑا اور سنجیدگی سے پوچھا
“اور تم بتاؤ… یہ دن کیسے گزرے؟ کہیں کسی بے گناہ کی جان تو نہیں لی؟”

،ایک لمحے کو ندیم کا دل زور سے دھڑکا، مگر اس نے خود کو سنبھالا اور سنجیدگی سے بولا
میں آپ کی نصیحت ایک پل کے لیے بھی نہیں بھولا۔ جب بھی شکار پر نکلا، ہر بار خود کو یاد دلایا کہ کسی معصوم کی جان نہیں لینی۔ “

“بلکہ میں تو معصوم لوگوں کی جانیں بچانے میں لگا رہا… اور بدلے میں مجرم خود ہی شکار بنتے گئے۔

زافیر نے دھیمی سانس بھری اور افسردہ لہجے میں کہا،
“مجھے تم پر اور تمہارے دل کی پاکیزگی پر پورا یقین ہے۔ تم واقعی بہت اچھے ہو… بس میں نے تمہارے ساتھ زیادتی کی۔ تمہیں آدم خور بنا دیا۔”

،ندیم نے فوراً تیز لہجے میں جواب دیا
!… نہیں… نہیں… ایسا مت کہیں”

آپ نے میری بےکار زندگی کو ایک مقصد دیا ہے۔ مجھے جینے کی وجہ دی، موقع دیا کہ دنیا سے ظلم اور مجرموں کا صفایا کر سکوں۔

“یہ زیادتی نہیں، بلکہ آپ کا احسان ہے مجھ پر۔

زافیر نے ایک نظر اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ وہاں اسے بے پناہ عقیدت اور خلوص جھلکتا نظر آیا۔

،اس کے لبوں پر پھیکی سی مسکراہٹ ابھری اور وہ اداس لہجے میں بولا
“تم یہ کہہ کر خود کو تسلی دے سکتے ہو… لیکن میرے دل کا پچھتاوہ کبھی نہیں مٹ سکتا۔”

ندیم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ اندر ہی اندر اس پر فخر محسوس کر رہا تھا۔ اس کی عقیدت اب پہلے سے کہیں زیادہ گہری ہو رہی تھی۔ اسے لگ رہا تھا کہ زافیر واقعی ایک عظیم انسان ہے، جو اپنی سب سے بڑی نیکی کو بھی نیکی نہیں سمجھتا بلکہ اسے بوجھ تصور کرتا ہے۔ یہ خیال بار بار ذہن میں آتے ہی ندیم کے دل میں اس کے لیے مزید اپنائیت، وفاداری اور محبت کے جذبات موجزن ہونے لگے۔

ذبح گاہ کا فرش آہستہ آہستہ بلند ہوتا ہوا اپنی آخری حد پر پہنچ گیا۔ ندیم ابھی انہی سوچوں میں کھویا ہوا تھا کہ اچانک زافیر کی گہری آواز نے اسے چونکا دیا،
“خیر… نکلنے سے پہلے میں اپنی فیملی کو تہہ خانے میں چھوڑ جاؤں گا۔ وہ یہاں زیادہ محفوظ رہیں گے۔”

،اس کے خاموش ہوتے ہی ندیم فوراً آگے بڑھ کر تیزی سے بولا
“میرے لائق کوئی حکم؟”

،زافیر نے ذبح گاہ میں چاروں طرف ایک نگاہ دوڑائی۔ پھر اس کے لہجے میں عجیب سی نرمی در آئی
،اپنے ساتھیوں کو خوب پیٹ بھر کر گوشت کھلاؤ تاکہ ان کی بھوک مکمل مٹ جائے… پھر جو گوشت بچ جائے”

اسے بھٹی میں جلا دینا۔ ذبح گاہ اور تہہ خانے کی صفائی ایسے کرنا کہ ایک قطرہ خون بھی دکھائی نہ دے۔

“میری فیملی کو ذرہ برابر بھی شک نہیں ہونا چاہیے۔

،ندیم نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے محتاط لہجے میں پوچھا
“جی، میں سمجھ گیا… لیکن خون کی بوتلوں کا کیا کرنا ہے؟”

،زافیر نے ایک لمحہ سوچ کر گہری آواز میں جواب دیا
جب باقی سب کام نمٹ جائیں تو خون کی تمام بوتلیں اپنے ساتھ لے جانا اور پھر اپنے ساتھیوں کو لے کر کنوئیں والی کوٹھری میں چلے جانا۔”

“وہاں میرا انتظار کرنا۔ پھر ہم متوازی دنیا کی طرف اپنا سفر شروع کریں گے۔

،ندیم نے پُرعزم لہجے میں فوراً کہا
“آپ کی فیملی کے یہاں پہنچنے تک سب کچھ صاف ہو چکا ہوگا۔ انہیں ذرا برابر بھی شک نہیں ہوگا۔”

زافیر کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔

وہ اپنائیت سے آگے بڑھا اور ندیم کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

،پھر آہستہ قدموں سے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ دہلیز پر پہنچ کر رُک گیا اور پلٹ کر گہری سنجیدگی کے ساتھ بولا
“ندیم…! تم مجھے بہت عزیز ہو۔ کبھی بھی کوئی ایسا کام مت کرنا… جو مجھے تکلیف پہنچائے۔”

،ندیم نے بھی اسی سنجیدگی کے ساتھ نظریں جھکا کر جواب دیا
“آپ بے فکر رہیں… میں آپ کو کبھی بھی شکایت کا موقع نہیں دوں گا۔”

اگلے ہی لمحے زافیر نے دروازہ کھولا اور باہر نکل گیا۔ پیچھے ندیم اکیلا رہ گیا۔ وہ کچھ دیر خاموش کھڑا سوچوں میں گم رہا، پھر آہستہ آہستہ زافیر کی دی گئی ہدایات پر عمل کرنے میں مصروف ہوگیا۔ اس کے نزدیک اپنے ماضی کے مظالم یا خود ساختہ منصف کے روپ سے کہیں زیادہ زافیر کے احکامات کی اہمیت تھی۔ اس کی ہر سانس، ہر حرکت کا مقصد یہی تھا کہ زافیر اس پر فخر کرے۔

ادھر زافیر… حقیقی دنیا میں آنے کے بعد اب دوسری بار متوازی دنیا کا رخ کرنے جا رہا تھا۔ پچھلی بار وہ آزلان اور دس غنڈوں کے ساتھ گیا تھا۔ بارہ افراد میں سے بمشکل تین زندہ واپس پلٹ سکے تھے۔
لیکن اب کے حالات پہلے سے کہیں زیادہ ہولناک تھے۔ خطرات کئی گنا بڑھ چکے تھے۔ کون زندہ لوٹے گا اور کون وہیں مٹ جائے گا… یہ سوال اندھیروں میں لٹکتا ہوا ایک فیصلہ کن لمحے کی طرح تھا۔ متوازی دنیا اب ایک ایسے جہنم میں بدل چکی تھی جہاں زندگی کا وجود مٹنے کے قریب تھا۔ وہاں صرف موت منڈلا رہی تھی… اور زافیر ابھی تک اس حقیقت سے انجان تھا۔
کہتے ہیں کہ آگاہی زندگی کی امید اور کرن ہے جبکہ بے خبری موت کا دوسرا نام ہے۔
یہی ناواقفیت، یہی ادراکِ فقدان… زافیر کے لیے وہ اندھی راہ تھی جو اسے نامعلوم مصائب اور ناگزیر آزمائشوں کی طرف دھکیل رہی تھی۔

°°°°°°°°°°

رات کا پچھلا پہر تھا اور زافیر ویران ہال میں بے چینی سے بیٹھا تھا۔ باہر فضا میں ایسی خاموشی چھائی تھی کہ اپنے دل کی دھڑکنیں تک سنائی دیتی تھیں۔ بھلے ہی اس کا بنگلہ ایک فولادی قلعے کی مانند مضبوط تھا، مگر بار بار آنے والے زلزلوں کے جھٹکے کسی بھی لمحے اسے گِرا سکتے تھے۔ ابھی تک تو بنگلہ سلامت تھا مگر دیواروں کی ہلکی ہلکی دراڑیں اور چھت سے گرتی گرد و غبار اس کے حوصلے توڑنے کے لیے کافی تھیں۔

اندھیروں میں گھری رات جیسے مزید وزنی ہوچکی تھی۔ ہوا رُک گئی تھی، سانس لینا دشوار ہو رہا تھا اور ہر لمحہ یوں لگتا جیسے زمین اپنے پیٹ میں ایک اور لرزہ چھپا کر بیٹھی ہے۔ حورا اور آبرو اپنے کمروں میں تھیں مگر اس وحشت انگیز کیفیت میں نیند ان پر بھی بالکل حرام ہوچکی تھی۔ جب بھی ان پر نیند طاری ہوتی، اگلے ہی لمحے زلزلے کا کوئی شدید جھٹکا انہیں جاگنے پر مجبور کر دیتا۔

کافی دیر وہ یونہی ساکت بیٹھا رہا۔ پھر گھبراہٹ میں جیب سے موبائل نکالا۔ اسکرین جل اُٹھی مگر سگنل مردہ تھے… بالکل خالی۔ جیسے ساری دنیا کسی اندھی کھائی میں غرق ہوچکی ہو۔ شاید سب نیٹ ورک ٹاور زلزلوں میں زمیں بوس ہو چکے تھے یا برستی آگ میں ناکارہ ہوگئے تھے۔

اس نے ایک گہری سانس کھینچی اور آہستگی سے کھڑا ہوگیا۔ وہ احتیاط سے، دبے قدموں کے ساتھ اپنے کمرے کی سمت بڑھنے لگا۔
وہ دبے قدموں اپنے کمرے میں داخل ہوا۔ ایک لمحے کو رکا اور حورا پر نظر ڈالی… وہ دوسری سمت کروٹ لیے گہری نیند میں ڈوبی ہوئی تھی۔ زافیر نے آہستگی سے ٹیبل کا دراز کھولا۔ لکڑی کی ہلکی سی چرچراہٹ نے اندھیرے کمرے کی خاموشی کو چیر ڈالا۔ دراز کے اندر رکھے عام موبائل فون ایک دوسرے سے ٹکرا کر مدھم سا کھڑکھڑائے۔ انہی کے بیچ وہ مخصوص سیٹلائٹ موبائل رکھا تھا جس پر اس کی نظریں جم گئیں۔

اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ موبائل اٹھایا اور آہستہ آہستہ کمرے سے باہر نکل آیا۔ جیسے ہی دوبارہ ہال میں پہنچا، دیواروں پر پڑی دراڑوں سے ہلکی ہلکی گرد جھڑنے لگی۔ اس نے بےاختیار ایک نظر چھت پر ڈالی اور پھر جلدی سے موبائل کو آن کیا۔

یہ وہی ڈیوائس تھی جو اسے زید نے خاص ہدایت کے ساتھ دی تھی۔ ایک ایسا آلہ جو عام سگنلز کے مرنے کے بعد بھی آسمان میں گردش کرتے سیٹلائٹ سے جڑ کر دنیا کے کسی کونے سے رابطہ بحال کر سکتا تھا۔ یہ موبائل تھامتے ہی زافیر کو یوں لگا جیسے اندھیروں میں کوئی کمزور سا چراغ جلا دیا گیا ہو۔

اس نے بے تابی سے فون بک کھولی، ایک مخصوص نمبر پر انگلی جا کر رکی۔ لمحے بھر کے توقف کے بعد اس نے کال ملا دی۔ اس لمحے کمرے کی خاموشی اور بھی وزنی ہوگئی، جیسے پوری کائنات اپنی سانسیں روک کر اس ایک کال کے جواب کی منتظر ہو۔

تھوڑی دیر موبائل کی بیپ ہال کی سنسان فضا میں گونجتی رہی، پھر اچانک دوسری طرف سے کال اٹھائی گئی۔ اسپیکر سے ایک سنجیدہ اور کرخت آواز ابھری،
“السلام علیکم… جی فرمائیے۔”
،یہ جہلم کینٹ کا عسکری نمبر تھا جس پر اس نے کال ملائی تھی۔ وہ نہایت نرم لہجہ اپناتے ہوئے بولا
“وعلیکم السلام… مجھے محمود بدری سے بات کرنی ہے۔”

،چند لمحے خاموشی چھائی رہی، پھر دوسری طرف سے محتاط لہجہ ابھرا
“کیا میں آپ کا نام جان سکتا ہوں؟”

،زافیر نے ہچکچاہٹ کو دباتے ہوئے فوراً کہا
“میں زافیر ہوں… اور یہ موبائل مجھے زید صاحب نے دیا تھا۔”

یہ سنتے ہی لائن کے اُس پار گہری خاموشی چھا گئی، جیسے سب کچھ لمحے بھر کے لیے منجمد ہوگیا ہو۔
اچانک ایک مانوس آواز اسپیکر سے گونجی… پہچان بھری، مگر تھکن اور پریشانی سے لدی ہوئی۔

،یہ زید تھا، زافیر کا دوست اور اس مشکل وقت میں اس کا واحد سہارا
“کیسے ہو زافیر…؟ محفوظ تو ہو نا؟”

:یہ الفاظ سنتے ہی زافیر کے وجود میں جیسے جان واپس آگئی۔ وہ بے اختیار، تقریباً ٹوٹے لہجے میں بولا
“اوہ… شکر ہے زید صاحب، آپ سے رابطہ ہوگیا۔ مجھے اس وقت آپ کی اشد ضرورت تھی۔”

“خیریت تو ہے نا… بھابھی اور آبرو کیسی ہیں؟”
زید کی تشویش بھری، دبی دبی آواز اسپیکر سے ابھری۔

زافیر نے گہری سانس کھینچ کر جواب دیا، اس کے لہجے میں تھکن اور گھٹن صاف جھلک رہی تھی،
“ہم نے ان آفات کو براہِ راست جھیلا ہے زید صاحب… بہت نقصان اٹھایا ہے ہم نے۔ لیکن ابھی ان باتوں کا یا ماتم کرنے کا وقت نہیں۔ مجھے آپ کی مدد کی ضرورت ہے… پلیز، آپ میرے پاس، میرے بنگلے میں آئیں۔”

،زید کی آواز پھر ابھری، اس بار مزید سنجیدہ اور بوجھل
“باہر آگ برس رہی ہے… آسمان سے جیسے دہکتے شعلے ٹپک رہے ہوں۔ زلزلے کی شدت نے سڑکوں کو چیر کر دراڑوں میں نگل لیا ہے۔ میں وہاں کیسے پہنچوں؟ اپنی جان کی حفاظت کرو۔ جیسے ہی حالات ذرا موافق ہوئے، میں فوراً آجاؤں گا۔”

،زافیر کا ضبط ٹوٹ رہا تھا، اس کی آواز میں اضطراب اور بےچینی شدت اختیار کر گئی
!یہ آفات رکنے والی نہیں ہیں، زید صاحب… یہ مزید بڑھیں گی، سب کچھ کھا جائیں گی”

اگر آپ خود نہیں آسکتے تو کم از کم میرے لیے ایک کنٹینر ٹرک کا بندوبست کر دیں۔

“!…کچھ ایسا جو بند ہو، مضبوط ہو تاکہ برستی آگ میں ہمارے بچنے کا کوئی راستہ نکل سکے

اس کا لہجہ اب ایک سخت، بےتاب مطالبے میں ڈھل چکا تھا۔ ہال کی ویران فضا میں اس کی آواز گونجی تو لمحہ بھر کو لگا جیسے دیواریں بھی اس کی بے چینی کو سمیٹ کر لرز اٹھی ہوں۔
،زید چند لمحات کے لیے خاموش رہا، جیسے سوچ میں ڈوبا ہو۔ پھر اس کی بھاری آواز ابھری
“میں کوشش کرتا ہوں… لیکن صبح چھ بجے سے پہلے ٹرک نہیں پہنچ پائے گا۔”

،زافیر نے آنکھیں موند کر گہری سانس لی، اس کے لہجے میں تھکن اور مجبوری ٹپک رہی تھی
“آپ صبح ہی بھیج دیجیے گا… لیکن بھیجیے گا ضرور۔”

یہ کہہ کر اس نے کال کاٹ دی۔ کمرے میں اچانک ایک خوفناک خاموشی چھا گئی۔ وہ آہستہ سے صوفے سے ٹیک لگاتے ہوئے پیچھے گر سا گیا اور پلکیں بند کر لیں۔ دماغ جیسے بھاری پتھروں کے بوجھ تلے دب گیا ہو۔

اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ حالات کس سمت بڑھ رہے ہیں، سب کچھ قابو سے باہر نکلتا جا رہا تھا۔ باہر زمین تھرتھرا رہی تھی، کبھی کھڑکیوں سے سرسراتی ہوا کے ساتھ جلتی آگ کی بو اندر گھس آتی۔
،بار بار اس کے ذہن میں صرف چار ہی لفظ گردش کر رہے تھے
…بارش… آگ… آندھی… زلزلہ

وہ انہیں ہونٹوں پر دہراتا، جیسے یہ الفاظ اس کے کرب کو بیان کر سکیں۔ لیکن ہر بار دہرانے پر گھبراہٹ اور بے چینی مزید گہری ہو کر دل کو جکڑ لیتی۔ یوں لگتا تھا جیسے یہ الفاظ اب محض آفات نہیں رہے، بلکہ انسانیت کے لیے موت کے چار سائے بن کر اس کے سامنے کھڑے ہوں۔
چند لمحے یونہی گزرے، پھر اچانک اس نے خوف سے جھٹک کر آنکھیں کھولیں۔ ایک سرد لہر اس کے وجود میں دوڑ گئی، سانس بے ترتیب ہو گئی اور ہونٹوں پر سرگوشی سی ابھر آئی۔
“آندھی… مطلب شاہِ سُموم آزاد ہو چکا ہے۔”

پیشانی پر خوف سے ٹھنڈے پسینے کے قطرے چمک اٹھے تھے۔ دماغ میں دھندلکے کی مانند خیالات تیزی سے گھومنے لگے، وہ کچھ حد تک درست سمت پہ کھڑا تھا۔
اسے لگ رہا تھا کہ متوازی دنیا میں تینوں بادشاہ شاہِ سُموم سے الجھے ہوئے ہیں لیکن مکمل صورتحال کا ابھی اسے علم نہیں تھا۔ اس کے لیے ایک ایک لمحہ صدیوں کے برابر ہوتا جارہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ وہ اس جنگ کو روک نہیں سکتا لیکن کوشش کرتے ہوئے مر تو سکتا تھا۔ ہاتھ پر ہاتھ دھرے موت کا انتظار کرنے سے بہتر تھا کہ کوشش میں اپنی جان گنوا دی جائے۔

°°°°°°°°°°


گہرے، سیاہ بادلوں کے پردے کو چیرتی ہوئی روشنی آہستہ آہستہ زمین پر پھیل رہی تھی، جیسے صبح اپنے وجود کا اعلان کر رہی ہو۔ زافیر بھاری لوہے کا تختہ کندھوں پر اُٹھائے آبرو اور حورا کے ساتھ ذبح گاہ کی طرف بڑھ رہا تھا۔ دونوں کے ہاتھوں میں بڑے شاپر تھے جن میں خشک میوہ جات اور کھانے پینے کا سامان بھرا ہوا تھا۔ ذبح گاہ کے قریب پہنچ کر اس نے دروازہ کھولا، دونوں کو اندر بھیجا اور پھر تختہ باہر رکھ کر خود بھی اندر داخل ہوگیا۔

صاف ستھری ذبح گاہ میں ایک عجیب سا سکوت تھا۔ ندیم نے جگہ کو خوب اچھی طرح دھو کر تیار کر رکھا تھا۔

،زافیر نے دروازہ بند کیا اور آگے بڑھتے ہوئے گہری سنجیدگی کے ساتھ حورا کو مخاطب کیا
“یہ تہہ خانہ ایک مضبوط بنکر ہے۔ اسے سب سے بھاری زلزلہ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ تم دونوں یہاں محفوظ رہو گی۔”

یہ کہتے ہوئے اس کی نظریں بے اختیار آبرو پر جا ٹھہریں۔ وہ چپ چاپ کھڑی تھی، سر جھکا ہوا، آنکھوں میں اداسی اور چہرے پر شرمندگی کا بوجھ صاف جھلک رہا تھا۔ اس منظر نے زافیر کے دل میں ایک ایسی چبھن پیدا کی کہ سخت سے سخت حالات کے بیچ بھی ایک لمحے کو اس کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ اسے اپنی ننھی سی بیٹی پر بے حد ترس اور پیار آیا… جیسے یہ معصوم بوجھ اٹھانے کے لیے پیدا ہی نہ ہوئی ہو۔
،وہ آہستگی سے آگے بڑھا اور آبرو کے نازک ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر سنجیدہ لہجے میں بولا
“میں نے تمہیں معاف کیا، لیکن وعدہ کرو کہ دوبارہ ایسی حرکت نہیں کرو گی۔”

آبرو نے آنسوؤں سے لبریز نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا۔ لمحہ بھر کے لیے اس کے ہونٹ کپکپائے اور پھر وہ اچانک باپ سے لپٹ گئی۔

،اس کی مدھم سی آواز نمکین آنسوؤں میں بھیگ گئی
“میں کبھی آپ کا دل نہیں دکھاؤں گی۔”
زافیر نے نرمی سے اس کے سر پر بوسہ دیا اور چند پل تک اسے اپنے قریب تھامے رکھا۔ اس لمحے کے بعد، جیسے اسے یاد آیا کہ وقت بہت تیزی سے سرک رہا ہے، اس نے آبرو کو آہستگی سے خود سے الگ کیا اور جیب سے موبائل نکال لیا۔

چند لمحات گزرے ہی تھے کہ ذبح گاہ کا فرش ہلکی گڑگڑاہٹ کے ساتھ نیچے اترنے لگا۔ دھیرے دھیرے وہ فرش تہہ خانے کی آخری حد تک جا پہنچا۔ زافیر نے ایک نظر پیچھے حورا اور آبرو پر ڈالی، پھر موبائل کی مخصوص ایپ پر چند آئیکن ٹچ کیے اور تہہ خانے کی طرف بڑھ گیا۔

وہاں گہری خاموشی کا راج تھا۔ ندیم پہلے ہی سبھی درندوں کو وہاں سے لے جا چکا تھا اور اب تہہ خانہ سنسان پڑا تھا۔ زافیر کا رخ اس خفیہ حصے کی طرف تھا، جہاں ہتھیاروں کا ذخیرہ موجود تھا۔ شٹر آہستہ آہستہ اوپر اٹھ رہا تھا۔

وہ جھک کر اندر داخل ہوا۔ ایک خالی بیگ اس کے سامنے پڑا تھا۔ اس نے اسے اٹھایا اور ترتیب وار بندوقیں، خنجر اور گرینیڈ اس میں بھرنے لگا۔ جب بیگ اپنے وزن سے بھاری ہوگیا تو اس نے اسے دونوں ہاتھوں سے سنبھالا اور خفیہ خارجی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔

دروازے کے پینل پر اپنا فنگر پرنٹ دیتے ہی ایک ہلکی سی بیپ کے ساتھ راستہ کھل گیا۔ زافیر نے فوراً بیگ دروازے کے پار گلی میں رکھ دیا اور پھر دروازہ بند کرتے ہوئے ایک لمحے کو توقف کیا… جیسے ذہن میں کوئی فیصلہ پختہ کر رہا ہو۔ اگلے ہی پل وہ پلٹ کر دوبارہ ذبح گاہ کی طرف بڑھ گیا۔ جہاں اندھیرا، خاموشی اور آنے والے وقت کی آہٹ اس کا انتظار کر رہی تھی۔

°°°°°°°°°°

رینا خون کی پیاسی شیرنی کی مانند اپنے ہاتھ میں تلوار تھامے شنداق کے سپاہیوں پر بجلی کی طرح ٹوٹ پڑی۔ ہر وار کے ساتھ دھات کے ٹکڑوں کی ٹکر اور مٹی پھٹنے کی گھنی آواز فضا میں گونجتی۔ کچھ سپاہی چیختے ہوئے گرے اور ذروں میں بدلتے ہوئے ہوا میں تحلیل ہوگئے۔ کچھ کے جسم دو حصوں میں تقسیم ہوکر بکھر گئے اور کچھ کی آنکھوں میں ابھی موت کا عکس ابھرا ہی تھا کہ رینا کی تلوار نے انہیں خاموش کر دیا۔

وہ لمحہ لمحہ وحشت کا مجسمہ بن چکی تھی۔ کبھی گول دائرے میں گھومتی، کبھی اچانک جھک کر اپنے شکار کی پنڈلیاں کاٹ ڈالتی اور کبھی قلابازی کھا کر سپاہیوں کے سر تن سے جدا کر دیتی۔
سپاہیوں کی نگاہوں کا مرکز اب صرف وہی تھی۔ جو لمحہ بھر پہلے اپنی صفوں میں بے چینی سے لڑ رہے تھے، اب ان کی آنکھوں میں غیض و غضب کی سرخی تھی۔ وہ بار بار اس پر جھپٹ رہے تھے لیکن وہ بھول گئے تھے کہ رینا ایک انسان تھی۔ انسان خود کو اپنے ہنر سے تراشتا ہے۔ جب انسانی عقل و فہم اور ہنر اپنا رنگ دکھاتا ہے تو بڑی سے بڑی طاقت کو بھی جھکا دیتا ہے۔

اسی دوران شنداق کی نگاہیں جلتی چنگاریوں کی مانند اس پر جم گئیں۔ اسے غصہ اس بات کا نہیں تھا کہ رینا اس کے سپاہیوں کو مار رہی ہے۔ اسے اس بات نے طیش دلایا کہ میدان میں صرف اسی کے سپاہی مر رہے تھے۔ اس کی پیشانی پر تیور ابھرے اور اس نے نیچے زمین کی جانب اپنا بھاری ہاتھ پھیلا دیا۔

اگلے ہی لمحے زمین نے ہولناک انداز میں کراہنا شروع کر دیا۔ مٹی اور گرد کے اندر سے باریک دھاتی ذرات لرزتے ہوئے باہر نکلنے لگے۔ وہ آہستہ آہستہ اس کے ہاتھ کے گرد جمع ہوئے اور پھر بھیانک کِرچ نما آواز کے ساتھ آپس میں جڑنے لگے۔ ذرات پھیلتے گئے، لمبائی اختیار کرتے گئے اور چند ہی سانسوں میں وہ ایک خوفناک، تیز دھار نیزے کی صورت اختیار کر چکے تھے… ایسا نیزہ جو مکمل دھات سے بنا تھا۔

شنداق نے اسے مضبوطی سے تھاما اور اس کی آنکھوں میں اب ایک وحشیانہ اعتماد جھلکنے لگا۔ وہ رینا کے ہر قدم، ہر وار کو نہایت باریک بینی سے دیکھ رہا تھا۔

شاہِ سُموم کی سرخ دہکتی آنکھوں نے شنداق کی حرکت بھانپ لی تھی۔ وہ جان گیا تھا کہ شنداق رینا کو موت کے گھاٹ اتارنے والا ہے۔ اگلے ہی پل وہ زمین سے اوپر اٹھا، اس کا وجود لرزتے دھوئیں کی مانند ہوا میں معلق ہوگیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کی جلد اور لباس سیاہی میں ڈھل گئے۔ آنکھیں بالکل کالے شعلوں کی مانند جل اٹھیں اور پورے جسم سے گھٹا ٹوپ سیاہ دھواں ابلنے لگا۔

دوسری طرف شنداق کے ہاتھ میں نیزہ مکمل ہو چکا تھا۔ اس کی لمبی دھار پر روشنی کی معمولی جھلک بھی خوفناک چمک بن کر پھوٹ رہی تھی۔ اس نے غصے سے دہاڑتے ہوئے نیزہ رینا کی سمت اچھال دیا۔ نیزہ فضا کو چیرتا ہوا آگ کے شعلے کی مانند تیزی سے اس کی طرف بڑھا۔ رینا اس وار سے بے خبر اپنی جنگ جاری رکھے ہوئے تھی۔

لیکن اس سے پہلے کہ نیزہ اس کے بدن کو چھیدتا، اچانک شاہِ سُموم ہوا میں لپک کر درمیان میں آگیا۔ اس کی انگلیوں نے فضا میں ہی اڑتے نیزے کو جکڑ لیا۔ لمحے بھر کو فضا ہولناک دھماکے سے گونجی اور سیاہ دھواں لہروں کی صورت چاروں طرف پھیل گیا۔

شاہِ سُموم کے لبوں پر شیطانی مسکراہٹ ابھری۔ وہ نیزے کو وحشیانہ انداز میں گھماتے ہوئے ایسی آواز نکال رہا تھا جیسے لوہے کو ہڈیوں پر رگڑا جا رہا ہو۔

،اس کے لہجے میں جنون کی لذت اور وحشت بھری سرگوشی گونجی
“شکریہ، میرے بھائی… اس انمول ہتھیار کے لیے۔”
اس کے الفاظ زہر کی طرح ہوا میں پھیل گئے۔

شنداق کے چہرے پر غیض و غضب کی سرخی اور گہری ہوگئی، آنکھوں میں وحشت کی آگ دہکنے لگی۔ اچانک اس نے اپنی ہتھیلی زمین کی طرف پھیلا دی۔ لمحہ بھر کو جیسے زمین چیخ اٹھی ہو۔ ایک زبردست جھٹکے سے پورا میدان لرزنے لگا۔ زلزلے کی شدت اس قدر وحشیانہ تھی کہ رینا، زمار اور شنداق کے سپاہی سبھی زمین پر لڑھک گئے۔ فضا دھول اور باریک پتھروں سے بھر گئی، جیسے پہاڑ کسی وحشی دیو کے قدموں تلے کچلے جا رہے ہوں۔ صرف شاہِ سُموم ہی تھا جو اس قیامت خیز لرزش کے باوجود سینہ تان کر کھڑا رہا، اس کے اردگرد اڑتا دھواں اور بھی دبیز ہوگیا۔

چند لمحات بعد زمین کا کلیجہ چیرتے ہوئے آگ اور پگھلی ہوئی دھات کے لاوے جیسی لکیریں شنداق کے قدموں تلے ابلنے لگیں۔ وہ پگھلی دھات اس کے پیروں کو لپیٹنے لگی اور آہستہ آہستہ اس کے پورے بدن پر چڑھتا گیا۔ جب وہ پگھلی دھات اس کے بازوؤں تک پہنچی تو اس کے ہاتھوں میں جمع ہو کر ایک بھیانک، بھاری اور خون آشام تلوار میں بدل گئی۔ تلوار کی دھار پر سے گرمی کی لپٹیں یوں اٹھ رہی تھیں جیسے وہ خود جہنم کی بھٹی سے تراشی گئی ہو۔

اب شنداق کا پورا وجود دہکتے انگاروں کی مانند سرخ اور بھڑکتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ اس کے بدن سے پھوٹتی تپش نے فضا کو جلا کر رکھ دیا۔ میدان میں گھٹن اس قدر بڑھ گئی تھی کہ ہر سپاہی کے سینے پر بوجھ سا آن بیٹھا تھا۔

شاہِ سُموم فضا میں تیرتے ہوئے بجلی کی طرح شنداق تک جا پہنچا۔ اس کے نیزے کا نشانہ براہِ راست شنداق کے دل کی سمت تھا لیکن عین وقت پر شنداق ایک طرف ہٹ گیا۔ لمحے بھر میں شاہِ سُموم کئی فٹ دور نکل گیا اور پھر فضا میں قوس کھینچتا ہوا گھوما۔ اس کی سیاہ آنکھوں میں سرخی سی اتر آئی تھی۔ وہ ہلکے سے زمین پر اترا تو مٹی کے ذرات اس کے قدموں کے دباؤ سے تھرتھرا اٹھے۔

اس نے حقارت سے اپنے ہاتھ میں تھامے نیزے کو دیکھا، ایک لمحہ جیسے سوچا پھر سرد مسکراہٹ کے ساتھ اسے دور پھینک دیا۔ نیزہ زمین سے ٹکرایا تو ایک دھماکے کے ساتھ ریزہ ریزہ ہو گیا۔ اس کی آواز میں غرور اور دہشت یکجا تھی،
“یہ ہتھیار مجھے کمزور بناتے ہیں۔ مجھے ہتھیاروں پر انحصار کرنا پسند نہیں۔”
یہ کہتے ہی اس نے اپنا ہاتھ ہوا کی سمت پھیلایا۔ اچانک ایک زوردار جھکڑ قہر بن کر ابھرا، زمین کو چیرتا اور پتھروں کو اڑاتا ہوا شنداق کے دیو قامت وجود سے ٹکرایا۔ ایک دھماکے کے ساتھ وہ ہوا میں اچھلتا ہوا کئی گز دور جا پہنچا۔ زمین ہولناک آواز کے ساتھ پھٹ گئی، گرد و غبار نے میدان کو دھول سے ڈھانپ دیا۔

لیکن شنداق گرا نہیں، وہ پوری وحشت کے ساتھ اپنا توازن سنبھالتے ہی جھپٹ کر زمین پر کھڑا ہو گیا۔ اس نے اپنی دہکتی تلوار مٹی میں گاڑ دی تھی۔ تلوار زمین کو چیختی ہوئی کاٹتی گئی، جلتی ہوئی لکیریں پیچھے چھوڑتی ہوئی اور شنداق کے قدم مٹی میں کھنچتے چلے گئے۔

سُموم ایک طرف کو آہستہ آہستہ چلنے لگا۔ اس کی ہر قدم کے ساتھ گرد اڑتی، جیسے سایہ بھی اس سے ڈر محسوس کر رہا ہو۔ پھر وہ مسکرایا، وہ مسکراہٹ جس میں زہر، غرور اور شیطانی لذت جھلکتی تھی۔

،اس کی آواز میں گھٹن تھی اور طنز بجلی کی کڑک کی طرح گونجا
“تم تو میری سوچ سے بھی زیادہ کمزور ہو۔”

شنداق نے اسے زہر آلود نگاہوں سے گھورا۔ اس کی آنکھوں میں ایسا طوفانی غصہ بھڑک رہا تھا کہ جیسے وہ لمحہ بھر میں ہر شے کو جلا ڈالے گا۔ اس نے جھٹکے سے جھکتے ہوئے مٹی سے تلوار کھینچی، گرد کے ذرے ہوا میں بکھر گئے اور اس کی گھمبیر آواز خوفناک انداز میں گونجی،
“!…اور تم… باتیں بہت کرتے ہو، بالکل کسی احمق انسان کی طرح”

یہ الفاظ سموم کے سینے پر نشتر کی طرح چبھے۔ اس کے لبوں پر جمی مسکراہٹ بجھ گئی اور اس کی آنکھوں میں وحشت ناک اندھیرا اتر آیا۔ وہ غصے کے طوفان میں پاگلوں کی طرح جھپٹا۔ اس کے وجود سے ابھرنے والا سیاہ دھواں فضا کو مزید بوجھل بنا رہا تھا، جیسے آسمان بھی اس کے قہر سے لرز رہا ہو۔

شنداق نے ایک لمحے کی بھی تاخیر نہیں کی۔ وہ بھی تلوار تھامے آگے بڑھا، اس کے قدموں کی دھمک میدان کو دہلا رہی تھی۔
دونوں ہی وحشی درندوں کی طرح ٹکرانے کے لیے لپک رہے تھے۔ فضا ان کی طاقتوں کے تصادم کی آہٹ سے کانپ رہی تھی۔

یہ جنگ اب محض ایک لڑائی نہیں رہی تھی… یہ خوف اور خونریزی کی ایسی آندھی بن رہی تھی جو ہر لمحہ مزید بڑھتی جارہی تھی۔ دونوں ہی جانتے تھے کہ ایک دوسرے کو زیر کرنا آسان نہیں ہوگا۔ لیکن شاہِ سُموم کے لیے آسان ہدف کبھی کشش نہیں رکھتا تھا۔ اسے ہمیشہ وہی بھاتا تھا جو ناممکن اور ہولناک ہو۔

°°°°°°°°°°

…جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *