ناول: وارث کون

باب اؤل: دہلیز

قسط نمبر 1

مصنف: زیاد اصغر زارون

°°°°°°°°°°

،غموں کے بوجھ تلے دبی

…درد کے گہرے سمندر میں غرق

وہ ایک وجود نہیں بلکہ مجسم اذیت تھی۔

،اپنی روٹھی ہوئی قسمت پر نوحہ کناں

،اپنوں سے بچھڑی

،ننگے پاؤں بھٹکتی ایک ایسی لاچار لڑکی

،جس کی آنکھوں میں زندگی کی تھکن

اور دل میں موت کی حسرت ڈیرے ڈال چکی تھی۔

آسمان سے سورج آگ برسا رہا تھا اور تارکول کی سیاہ سڑک بھٹی کی طرح تپ رہی تھی۔ اسی دہکتی ہوئی سڑک پر وہ تنِ تنہا، سر جھکائے پیدل چلی جا رہی تھی۔ منڈی بہاؤالدین کی مانوس فضاؤں کو پیچھے چھوڑ کر، وہ ایک انجانی اور تاریک منزل کی جانب گامزن تھی۔ اس کے کانپتے قدموں کو ایک ایسے محافظ کی تلاش تھی جو اس ظالم دنیا میں اسے پناہ دے سکے۔ بے بسی کا یہ عالم تھا کہ مٹھی میں اتنے سِکے بھی نہ تھے جو اسے کسی سواری کے ذریعے منزل تک پہنچا دیتے۔

طویل اور کٹھن مسافت نے جہاں اس کے وجود کو نڈھال کر دیا تھا، وہیں اس کی خستہ حال چپل بھی جواب دے گئی۔ اب ایک پاؤں میں ٹوٹی ہوئی چپل تھی اور دوسرا پیر بالکل برہنہ۔ جیسے ہی اس کا نازک تلوہ تارکول کی جھلساتی ہوئی سطح کو چھوتا، درد کی ایک تیز لہر اس کے پورے وجود میں سنسنی دوڑا دیتی۔ اور اسی جلن کے ساتھ اس کے پرسکون ماضی کی یادیں ذہن کے پردے پر کسی فلم کی طرح چلنے لگتیں۔

وہ یادیں، جب وہ ایک لاڈلی شہزادی کی طرح زندگی کے مزے لوٹ رہی تھی۔ جب وہ فخر سے خود کو اپنے “بابا کی جان” کہلاتی تھی۔ جب اس کے بھائی اسے پیار سے “گڑیا” کہہ کر پکارتے اور اسے پلکوں پر بٹھا کر رکھتے تھے۔ اسے وہ سنہرے دن یاد آنے لگے جب گھر کے آنگن میں اس کی اور اس کی بہنوں کی ہنسی گونجتی تھی، اور سہیلیوں کے ساتھ کی گئی وہ طویل، بے فکر باتیں۔ سکول کی وہ معصوم شرارتیں اور کالج کے وہ حسین دن… سب کچھ ایک سراب بن چکا تھا۔

اور آج؟

آج وہی نازک گڑیا گرد و غبار میں اٹی ہوئی تھی۔ دھول اور پسینے میں بھیگے اس کے میلے کپڑے اس کی بربادی کی گواہی دے رہے تھے اور پیروں میں پڑنے والے چھالوں سے رستا خون اس کی اذیت ناک مسافت کا نوحہ پڑھ رہا تھا۔ شدتِ کرب سے اس کی ویران آنکھوں سے آنسوؤں کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ جاری تھا جو اس کے گرد آلود گالوں کو بھگو رہا تھا۔ یہ اذیت، بے بسی اور دربدری کا ایک ایسا نیا دور تھا جس نے اسے چاروں طرف سے گھیر لیا تھا۔

آخر یہ در بدر ٹھوکریں کھاتی لڑکی کون ہے؟

کس ویرانی سے آ رہی ہے؟

اور اس اندھے سفر میں کہاں جا رہی ہے؟

اس بھری دنیا میں اس کا وارث کون ہے؟

…یہ دلخراش کہانی ہے عائشہ کی

ایک ایسی بدنصیب اور دکھیاری بیٹی کی، جس نے مقدر کی مجبوریوں تلے نہیں، بلکہ اپنی ایک خطا، ایک غلط فیصلے اور کسی کی محبت بھری باتوں کے فریب میں آکر اپنے گھر کی محفوظ دہلیز کیا پار کی… کہ وقت کی بے رحم چکی نے اسے سفاکی سے مسل کر رکھ دیا۔

°°°°°°°°°°

:چار سال قبل

سردیوں کی وہ ایک روایتی اور خنک صبح تھی جب دھوپ کی کرنیں کھڑکی کے پردوں سے چھن کر کمرے میں جھانک رہی تھیں۔ دیوار پر لگی گھڑی صبح کے دس بجا چکی تھی۔ کمرے میں پھیلی نیم گرم سی خاموشی کو بلقیس بیگم کے تیز قدموں کی چاپ نے توڑا۔ وہ تیسری بار عائشہ کو جگانے آئی تھیں۔ چہرے پر خفگی اور ماتھے پر شکنیں لیے، انہوں نے ایک جھٹکے سے عائشہ کے اوپر تنی ہوئی رضائی کھینچی۔

خدا کا خوف کرو عائشہ! باہر دن چڑھ آیا ہے، دس بج چکے ہیں۔”

“اپنی جان پر کچھ رحم کرو اور اب اٹھ جاؤ۔

ان کی آواز میں ماں کی مخصوص جھنجھلاہٹ اور غصہ تھا۔

عائشہ نے سردی کے احساس سے ہلکا سا کسمسا کر آنکھیں میچیں اور بے پروائی سے رضائی کا کونا دوبارہ اپنی طرف کھینچ لیا۔

امی…! مجھ سے اتنی جلدی نہیں اٹھا جاتا۔”

،پورا ہفتہ کالج کی روٹین میں گزرتا ہے

“کم از کم اتوار کے دن تو سکون سے سونے دیا کریں۔

اس کی آواز میں نیند کا گہرا خمار اور بیٹیوں والا لاڈ جھلک رہا تھا۔

“…میں کہہ رہی ہوں سیدھی طرح اٹھ جاؤ، ورنہ”

بلقیس بیگم کی تنبیہ ابھی ادھوری ہی تھی کہ باہر سے کمال احمد کی گرجدار مگر محبت بھری آواز ابھری۔

“بلقیس! تم باز کیوں نہیں آتیں؟ سونے دو میری بچی کو۔”

باپ کی طرفداری پر عائشہ کے لبوں پر ایک شرارتی مسکراہٹ رینگ گئی اور اس نے مزید لاڈ دکھاتے ہوئے اپنا چہرہ مکمل طور پر رضائی میں چھپا لیا۔

یہ دیکھ کر بلقیس بیگم کا پارہ مزید چڑھ گیا۔

“!آپ کے اسی لاڈ پیار نے اسے بگاڑ رکھا ہے۔ اتنا سر پر مت چڑھائیں اسے”

“،کچھ نہیں ہوتا بلقیس”

کمال احمد مسکراتے ہوئے کمرے کی چوکھٹ پار کر کے اندر آ گئے۔

ابھی چھوٹی ہے میری بچی۔”

یہی تو اس کے سکھ اور سکون کی عمر ہے۔

“کل کو بیاہ کر اگلے گھر چلی گئی تو بےچاری نے عمر بھر کام ہی تو کرنے ہیں۔

کمال کی آواز میں بیٹیوں والے باپ کی وہ روایتی درد اور بے پناہ شفقت تھی۔

“آپ جانیں اور آپ کی لاڈلی بیٹی جانے! مجھ سے تو آپ دونوں ہی بھاری ہیں۔”

بلقیس بیگم ہار مانتے ہوئے پاؤں پٹختی اور بڑبڑاتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئیں۔

کمرے میں اب صرف باپ بیٹی رہ گئے تھے۔

،کمال احمد چند لمحے محبت پاش نظروں سے اس طوفان کو دیکھتے رہے جو رضائی میں چھپا تھا، پھر وہ بیٹی کی پائنتی کے پاس بیٹھ گئے اور نہایت نرمی سے پکارا

“!…عائشہ پتر”

“!…جی”

باپ کی شفقت بھری آواز سن کر عائشہ کی ساری نیند اڑ گئی۔ وہ فوراً بوکھلا کر اٹھی اور عجلت میں دوپٹہ سر پر اوڑھ کر مؤدب انداز میں بیٹھ گئی۔

“!…جی ابو”

کمال نے اپنی جواں سال بیٹی کو ایک گہری، طمانیت بھری نگاہ سے دیکھا اور ان کے چہرے پر ایک پرسکون مسکراہٹ پھیل گئی۔

“بیٹا…! تم نے موبائل کا کہا تھا نا؟ وہ میں لے آیا ہوں۔”

عائشہ کی آنکھوں میں جیسے ستارے چمک اٹھے، چہرہ فرطِ مسرت سے کِھل اٹھا۔

“سچی ابو…؟ کہاں ہے میرا موبائل؟”

“ٹھہرو، میں ابھی لے کر آتا ہوں۔”

کا ایک نیا ڈبہ تھا۔(QMobile)کمال احمد اطمینان سے اٹھے اور باہر چلے گئے۔ جب وہ واپس پلٹے تو ان کے ہاتھوں میں کیو موبائل

“میں نے اس میں نئی سم بھی ڈال دی ہے اور پیکج بھی کروا دیا ہے۔”

کمال نے ڈبہ اس کی طرف بڑھایا تو عائشہ نے بے تابی سے اسے اپنے ہاتھوں میں تھام لیا۔ ڈبہ کھلتے ہی اندر رکھا سرخ رنگ کا نیا نویلا موبائل اپنی چمک دکھا رہا تھا۔

“شکریہ ابو…! لو یو سو مچ۔”

وہ جذبات سے مغلوب ہو کر بولی۔ اس کی آواز میں دنیا بھر کی خوشی سمٹ آئی تھی۔

“اچھا چلو، اب سکون سے سو جاؤ میرا بچہ۔ جب نیند پوری ہو جائے، تب اٹھنا۔”

کمال احمد نے جھک کر اپنی بیٹی کے ماتھے پر باپ کی محبت کی مہر ثبت کی اور دھیمے قدموں سے کمرے سے نکل گئے۔

مگر اب نیند کہاں تھی؟ عائشہ کی ساری توجہ اپنے نئے سرخ موبائل پر مرکوز تھی۔ خوشی کے اس طوفان نے اس کی نیند کا سارا خمار اڑا دیا تھا۔ اس کی آنکھوں میں کل کے وہ مناظر گھوم رہے تھے جب وہ اپنی سہیلیوں کے سامنے فخر سے یہ موبائل لہرائے گی اور بتائے گی کہ اس کے ابو اس سے کتنی محبت کرتے ہیں۔ محض ایک بار کہنے کی دیر تھی اور فرمائش پوری ہو گئی۔

یہ وہ دور تھا جب عائشہ کی زندگی خوشیوں اور بے فکری کے سنہرے خول میں قید تھی۔ وہ سیکنڈ ایئر کی طالبہ تھی اور ایک بھرے پرے گھرانے کا حصہ تھی۔ اس کے دو بھائی تھے، فرحان جو بی کام کر رہا تھا، اور سب سے بڑے کامران، جو ایک کالج میں پروفیسر تھے اور شادی کے بعد اپنی الگ دنیا بسا چکے تھے۔ تین بہنوں میں سے بڑی بہن خدیجہ بھی بیاہی جا چکی تھی، جبکہ کومل دسویں اور سب سے چھوٹی ایمان ساتویں جماعت میں تھی۔ اس کے والد کمال احمد ایک کمپنی میں فورمین کے عہدے پر فائز تھے اور بلقیس بیگم نے اپنی پوری زندگی ایک بہترین گھریلو خاتون کے طور پر صرف گھر اور بچوں کی پرورش کے لیے وقف کر دی تھی۔

یہ ایک مکمل، خوشحال اور محبتوں کا گہوارہ خاندان تھا… ایک ایسا مثالی گھرانہ، جس کی حسرت ہر انسان کے دل میں ہوتی ہے۔ ایک ایسی مضبوط پناہ گاہ، جس کے سائے سے نکل کر عائشہ کو اس ہولناک انجام تک پہنچنا تھا جس کا اس وقت کسی نے وہم و گمان بھی نہیں کیا تھا۔

°°°°°°°°°°

نیا سرخ موبائل عائشہ کے پاس آئے اب چھ روز بیت چکے تھے۔ ابتدائی دو تین دن تو وہ اس کے رنگین فیچرز اور نئی نئی سیٹنگز کے سحر میں ایسی گرفتار رہی کہ اسے دن رات کا ہوش نہ رہا، مگر اب وہ جوش رفتہ رفتہ ماند پڑنے لگا تھا۔ اس ننھی سی سکرین پر اب ایسا کچھ بھی نہیں تھا جو اس کی توجہ مسلسل اپنی جانب کھینچ پاتا۔ نہ کوئی ایسی قریبی سہیلی تھی جس سے گھنٹوں ہنسی مذاق ہو سکے اور نہ ہی کوئی ایسا رشتہ دار جسے کال کر کے وہ اپنا دل بہلاتی۔ وہ جدید ٹیکنالوجی کا کھلونا تو اس کے پاس تھا، مگر اس میں زندگی کی وہ گہما گہمی مفقود تھی جس کا اس نے خواب دیکھا تھا۔

آج جب وہ کالج سے لوٹی تو تھکن کے مارے اس کا برا حال تھا۔ کندھے پر لٹکا بوجھل بیگ اس نے لاپرواہی سے صوفے پر پٹخا اور سیدھی باورچی خانے میں چلی گئی، جہاں تازہ پکتی روٹیوں کی اشتہا انگیز خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ بلقیس بیگم چولہے کے سامنے بیٹھی تپتے توے پر روٹیاں سینک رہی تھیں۔ انہوں نے ایک پھولی ہوئی گرم روٹی عائشہ کی پلیٹ میں ڈالی اور دوسری کے لیے پیڑا بناتے ہوئے شفقت سے پوچھا،

“عائشہ پتر! تمہارے سالانہ امتحانات کب سے شروع ہو رہے ہیں؟”

،عائشہ نے روٹی کا ایک بڑا سا نوالہ توڑ کر سالن میں ڈبویا اور منہ میں ٹھونستے ہوئے مبہم سی آواز میں بولی

“بس امی! یہی کوئی اگلے ہفتے سے آغاز ہو جائے گا۔”

نوالہ بڑا ہونے کی وجہ سے اس کے الفاظ آپس میں گڈ مڈ ہو رہے تھے اور وہ بمشکل اپنی بات مکمل کر پائی۔

،بلقیس بیگم نے توے پر روٹی ڈالتے ہوئے ایک گہری سانس لی اور گویا اپنے دل کی بات زبان پر لے آئیں

“چلو اللہ خیر سے پیپر مکمل کروائے۔ ویسے بھی اب تم ماشاء اللہ جوان ہو گئی ہو، میں سوچ رہی تھی کہ اب تمہارے ہاتھ پیلے کر دینے چاہئیں، تمہاری شادی کے حوالے سے بات چلاؤں؟”

،شادی کا نام سنتے ہی عائشہ کا نوالہ حلق میں اٹکتے اٹکتے بچا۔ وہ یکدم تنک کر بولی

!نہ نہ امی! ابھی ایسی کوئی بات نہ کریں۔”

،میں نے ابھی شادی نہیں کرنی

میرا ارادہ بی اے میں داخلہ لینے کا ہے۔

“ابھی تو میں نے پڑھنا ہے

اس کے لہجے میں ایک چھوٹی بچی جیسی ضد اور پڑھائی کا پکا ارادہ جھلک رہا تھا۔

،بلقیس بیگم نے روٹی کی سمت بدلتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا

“…وہ تو ٹھیک ہے بیٹی، مگر رواج بھی تو کوئی چیز”

ابھی بلقیس بیگم کی بات ادھوری ہی تھی کہ اچانک گھر کی خاموشی میں ایک اجنبی مگر تیز آواز گونجی۔ یہ عائشہ کے نئے موبائل کی رنگ ٹون تھی جو اس کے کمرے سے آ رہی تھی۔ باورچی خانے کے پرسکون ماحول میں وہ موسیقی کسی دھماکے سے کم نہیں تھی۔

عائشہ کے ہاتھ وہیں رک گئے۔ اس کے دل کی دھڑکن ایک پل کو تھمی اور پھر تیز ہو گئی۔ وہ نوالہ ادھورا چھوڑ کر اٹھی اور ہاتھوں سے آٹے کے خشک ذرات جھاڑتے ہوئے تقریباً بھاگتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف لپکی۔

،بلقیس بیگم حیرت سے اسے جاتے دیکھتی رہ گئیں اور پیچھے سے آواز لگائی

“ارے عائشہ! روٹی تو کھا لو، کہاں بھاگ رہی ہو؟”

“بس امی! میں ابھی آئی، دیکھوں تو کس کی کال ہے۔”

اس نے مڑ کر دیکھے بغیر جواب دیا اور اپنے کمرے میں داخل ہوگئی۔

°°°°°°°°°°

عائشہ نے دھڑکتے دل کے ساتھ چارجنگ پر لگے موبائل کو اٹھایا۔ سکرین کی دودھیا روشنی میں ایک نامعلوم نمبر جگمگا رہا تھا، جو اس کی پرسکون زندگی میں کسی غیر متوقع ارتعاش کی طرح داخل ہوا تھا۔ چند لمحوں تک وہ بے جان سیل فون اس کے ہاتھ میں بجتا رہا، پھر ایک انجانے تجسس کے تحت اس نے کال وصول کر لی۔

“ہیلو…؟”

اس کے لبوں سے نکلی یہ آواز ایک دھیمے ترنم کی طرح کمرے کی خاموشی میں گھل گئی۔

،دوسری طرف سے ایک نہایت لطیف اور ریشمی آواز ابھری، جس میں ایک عجیب سی کشش اور اپنائیت تھی

“کیسی ہیں آپ؟”

عائشہ کے ماتھے پر حیرت کی شکنیں ابھریں۔

“جی، آپ کون؟”

اس نے لہجے کو تھوڑا سخت بنانے کی کوشش کی، مگر تجسس اب بھی اس کی آواز سے جھانک رہا تھا۔

…میں کوئی نہیں

“،بس ایک ایسی آواز کا پرستار ہوں جس نے ابھی ابھی میرے کانوں میں رس گھولا ہے

دوسری طرف سے آنے والا جواب کسی فلمی مکالمے کی طرح سحر انگیز تھا۔

بات تو دراصل یہ ہے کہ میں نے اپنے ایک دوست کا نمبر ملایا تھا، مگر شاید قدرت کو میرا آپ سے رابطہ کروانا منظور تھا، اس لیے غلطی سے کال آپ کو لگ گئی۔”

“لیکن یقین جانیے، آپ کی آواز سن کر میں اپنے اس دوست کو ہی بھول بیٹھا ہوں۔ اب جی چاہتا ہے کہ بس اسی ترنم کو سنتا رہوں۔

عائشہ کا دل سینے میں ایک زور دار ضرب لگا کر رہ گیا۔ یہ کچی عمر کا وہ نازک مرحلہ تھا جہاں اپنی تعریف، خاص طور پر کسی مرد کی زبان سے سننا، سماعتوں کو بھلا لگتا ہے۔ اس نے ڈراموں میں عشق و محبت کے قصے سنے تھے اور سہیلیوں کی زبانی اس جادوئی احساس کے تذکرے بھی سنے تھے، مگر آج پہلی بار کسی نے اس کے وجود کی ایک جھلک (آواز) کی یوں سرِعام پرستش کی تھی۔ اس کے اندر جذبات کا ایک طوفان اٹھا، مگر اگلے ہی لمحے اسے اپنی تربیت اور گھر کی دہلیز کا خیال آیا۔

،اس نے نقاہت بھرا گلہ صاف کیا اور اپنے لہجے کو مصنوعی سنجیدگی کا لبادہ اڑھاتے ہوئے وارننگ دی

دیکھیں مسٹر! آپ جو کوئی بھی ہیں، میں آپ کی باتوں میں آنے والی نہیں ہوں۔”

“بہتر ہوگا کہ اپنا راستہ لیں اور دوبارہ اس نمبر پر کال مت کریئے گا۔

،ابھی دوسری طرف سے کوئی دفاعی جملہ نہیں آیا تھا کہ باورچی خانے سے بلقیس بیگم کی پاٹ دار آواز گونجی

“عائشہ! کس سے باتیں ہو رہی ہیں؟ اب آ بھی جاؤ، کھانا ٹھنڈا ہو کر بے مزہ ہو رہا ہے۔”

،عائشہ نے بوکھلا کر موبائل کے سپیکر پر ہاتھ رکھا اور بلند آواز میں جواب دیا

“کوئی نہیں امی! وہ کمپنی والوں کی کال تھی، بس ابھی آئی میں۔”

یہ اس کی زندگی کا وہ پہلا جھوٹ تھا جو ایک بے نام تعلق کو چھپانے کے لیے بولا گیا تھا۔

،اس نے دوبارہ موبائل کان سے لگایا اور اپنی بات مکمل کی

“میں نے کہا نا، دوبارہ کال مت کیجیے گا ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔”

یہ کہہ کر اس نے کال منقطع کر دی اور فون وہیں بیڈ پر چھوڑ کر باورچی خانے کی طرف چل دی، مگر اس کے قدم زمین پر تھے اور ذہن اسی اجنبی آواز کے حصار میں۔

،اس کا دل اب بھی غیر معمولی رفتار سے دھڑک رہا تھا۔ ذہن میں سوالات کی ایک قطار تھی

وہ کون ہوگا؟”

!اس کا لہجہ کتنا مہذب تھا

پتا نہیں وہ دکھنے میں کیسا ہوگا؟

“کیا اسے واقعی میری آواز اتنی اچھی لگی؟

یہ تجسس کا وہ زہر تھا جو دھیرے دھیرے عائشہ کے شعور میں پھیل رہا تھا۔

°°°°°°°°°°

رات کے نو بج رہے تھے۔ گھر کے اس مخصوص گوشے میں، جو ان تینوں بہن بھائیوں کا مشترکہ مطالعہ گاہ تھا، خاموشی کا راج تھا۔

انیس سالہ فرحان، پندرہ سالہ کومل اور عائشہ اپنی اپنی کتابوں میں سر دیے علمی دنیا میں گم تھے، جہاں صرف ورق پلٹنے کی آواز یا قلم کی سرسراہٹ سنائی دیتی تھی۔

،اچانک فرحان نے اپنی کتاب سے نظریں ہٹائیں، جیسے ذہن میں کوئی دبا ہوا سوال ابھر آیا ہو۔ اس نے عائشہ کی طرف دیکھتے ہوئے ذرا جھجھک کر پوچھا

“عائشہ… وہ جو تمہاری دوست ہے رفعت، کیا وہ آج کالج نہیں آئی تھی؟”

عائشہ نے اپنی توجہ کتاب سے ہٹا کر بھائی کی طرف دیکھا۔

“نہیں… اس کی دادی کا انتقال ہو گیا ہے۔”

یہ خبر سنتے ہی فرحان کے چہرے پر ایک دم اداسی کی لہر دوڑ گئی، جیسے کسی نے روشن چراغ پر ہاتھ رکھ دیا ہو۔ “اوہو… بہت برا ہوا۔ وہ بے چاری تو بہت دکھی ہو گی۔ اگر تم کہو تو پرسوں اتوار کو ان کی طرف تعزیت کے لیے ہو آئیں؟”

اس کی آواز میں ہمدردی کی حد سے زیادہ آمیزش تھی۔

،عائشہ نے پہلے تو بے پروائی سے “دیکھتے ہیں” کہا

،مگر پھر اسے فرحان کے لہجے کی غیر معمولی تڑپ کا احساس ہوا۔ اس نے چبھتی ہوئی شرارتی نظروں سے بھائی کا جائزہ لیا اور طنزیہ لہجے میں پوچھا

“آئے ہائے! میرے بھائی کو رفعت سے اتنی ہمدردی کب سے ہونے لگی؟”

فرحان نے پکڑے جانے والے چور کی طرح ایک بھدی سی مسکراہٹ بتیسی کی صورت دکھائی اور جلدی سے دوبارہ کتاب میں سر دے دیا، مگر اس کے کانوں کی لوئیں سرخ ہو رہی تھیں۔ پاس بیٹھی کومل،جو کب سے اس گفتگو کا مزہ لے رہی تھی

،چہک کر بولی

“آپی! آپ کو اب تک نہیں پتا؟ بھیا تو آپ کی سہیلی کے پیچھے لٹو ہوئے پڑے ہیں۔”

عائشہ نے کومل کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا، مگر فرحان اب بھی ساکت بیٹھا تھا۔

،عائشہ نے ایک گہرا سانس لیا اور وہ بات کہہ دی جو فرحان کی چھوٹی سی دنیا اجاڑنے کے لیے کافی تھی

“فرحان بھائی! رفعت کی منگنی ہو چکی ہے۔”

یہ الفاظ کسی بھاری پتھر کی طرح فرحان کے دل پر گرے۔ اس کا رنگ پل بھر میں فق ہو گیا، جیسے جسم سے خون نچوڑ لیا گیا ہو۔ اس نے ایک بار دکھ بھری نظروں سے عائشہ کو دیکھا اور پھر خاموشی سے نظریں جھکا لیں۔ اس کی خاموشی میں ایک کرب تھا۔

،عائشہ نے اپنی کتاب بند کی اور بھائی کے قریب ہو کر بڑی ہمدردی اور سنجیدگی سے بولی

بھائی! آپ میرے بہت پیارے اور معصوم بھائی ہیں۔”

میں آپ کو ایک بہن کی حیثیت سے سمجھا رہی ہوں کہ اگر دل میں کوئی ایسے جذبات ہیں، تو انہیں ابھی سے دفن کر دیں۔

وہ ایک لاحاصل ہے اور لاحاصل کی تمنا انسان کو صرف اذیت دیتی ہے۔

“خود کو اس تکلیف میں مت ڈالیں جس کا کوئی مداوا نہ ہو۔

کتنی عجیب بات تھی کہ عائشہ اپنے بھائی کو تو لاحاصل سے بچنے کا مشورہ دے رہی تھی، مگر خود ایک ایسے ہی راستے پر پہلا قدم رکھ چکی تھی۔

فرحان نے کوئی جواب نہیں دیا، وہ بس خاموشی سے اپنی کتاب کے حروف کو تک رہا تھا جو شاید اب اسے دھندلے نظر آ رہے تھے۔

،اس کا موڈ بدلنے کے لیے عائشہ نے دوبارہ شرارت کا سہارا لیا

“اچھا اداس نہ ہوں، اگر کوئی اور سہیلی پسند ہے تو بتائیں، میں آپ کی بات چلا دوں گی۔”

“،نہیں… کوئی ضرورت نہیں”

فرحان نے سر اٹھائے بغیر بھرائے ہوئے لہجے میں جواب دیا۔ اس کی آواز میں تھکن اور شکست کی گونج تھی۔

عائشہ چند لمحے افسردگی سے بھائی کو دیکھتی رہی، پھر ایک لمبی آہ بھر کر اپنی کتاب دوبارہ کھول لی۔ ابھی اس نے پہلا جملہ ہی پڑھا تھا کہ تکیے کے نیچے چھپے موبائل نے میسج کی مخصوص گھنٹی بجائی۔ اس ایک آواز نے عائشہ کے پورے وجود میں سنسنی دوڑا دی۔ اس نے چور نظروں سے کومل اور فرحان کو دیکھا جو اب بھی اپنی اپنی دنیا میں مگن تھے، اور پھر بڑی رازداری سے موبائل نکال کر اسکرین روشن کی۔

وہی نامعلوم نمبر تھا… جس کی کال نے دوپہر کو اس کے سکون میں خلل ڈالا تھا۔

،میسج کی عبارت مختصر مگر پراثر تھی

“کیسی ہیں آپ؟”

عائشہ کی انگلیاں کی پیڈ پر تھرتھرائیں، وہ جواب لکھنا چاہتی تھی، ایک بے نام کشش اسے اس نامعلوم شخص کی طرف کھینچ رہی تھی، مگر بھائی کو ابھی دی گئی نصیحت اسے روک رہی تھی۔ اس نے ایک فیصلہ کن انداز میں موبائل بند کیا اور چارپائی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔

“مجھے بہت نیند آ رہی ہے، میں اب سونے جا رہی ہوں۔”

اس نے عجلت میں اپنی کتابیں سمیٹیں اور موبائل مٹھی میں دبوچے، اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔

°°°°°°°°°°

کمرے میں گہری تاریکی کا راج تھا، مگر عائشہ کی رضائی کے اندر ایک الگ ہی دنیا آباد تھی۔ موبائل اسکرین کی نیلی اور دودھیا روشنی اس کے چہرے کو منور کر رہی تھی، جو اس اندھیری رات میں کسی ممنوعہ روشنی کی طرح دکھائی دے رہی تھی۔ اس نے سب سے پہلے کانپتی انگلیوں سے موبائل کو سائلنٹ پر کیا، جیسے اسے ڈر ہو کہ اس اجنبی کی آواز اس کے گھر کے تقدس میں کوئی شگاف نہ ڈال دے۔

،تجسس سے مغلوب ہو کر اس نے میسج کھولا اور لبوں پر ایک لاڈ بھری مسکراہٹ سجاتے ہوئے ٹائپ کیا

“کیوں تنگ کر رہے ہو مجھے؟”

جواب کا انتظار طویل نہیں تھا۔

:دوسری طرف سے آنے والے الفاظ عائشہ کے دل کی دھڑکنوں میں ارتعاش پیدا کرنے کے لیے کافی تھے

…میں تو خود اپنی زندگی سے تنگ آ چکا تھا”

“آپ کو تنگ کرنے کے بہانے مجھے اپنی زندگی سے دوبارہ لگاؤ ہونے لگا ہے۔

یہ دلفریب اور سحر انگیز انداز عائشہ کے دل کی گہرائیوں میں اترتا چلا گیا۔

،اس نے ایک گہرا سانس لیا اور جواب دیا

“اچھا جی! لیکن یہ کوئی اچھی بات نہیں، کسی کو یوں بلاوجہ پریشان نہیں کرنا چاہیے۔”

“میں تو بس آپ سے دوستی کرنا چاہتا ہوں،” میسج اسکرین پر نمودار ہوا۔

،عائشہ نے ایک بار پھر اپنے جذبات پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی

“مجھے کوئی دوستی نہیں کرنی، دوبارہ میسج مت کرنا۔”

“،آپ کا حکم سر آنکھوں پر! لیکن کم از کم اپنا نام تو بتا دیں”

نقیب نے بڑی مہارت سے بات کو آگے بڑھایا۔

عائشہ کی انگلیاں کی پیڈ پر رکیں۔ اس نے اپنا نام لکھا، پھر اسے مٹایا، جیسے وہ اپنی شناخت کی آخری دیوار گرانے سے ہچکچا رہی ہو۔

،پھر شرارت اور تجسس کے ملے جلے جذبات کے ساتھ پوچھا

“میرا نام جان کر کیا کرو گے؟”

کچھ نہیں… بس اسے اپنے دل کی تختی پر لکھ لوں گا،” جواب آیا تو عائشہ کے چہرے پر حیا اور خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی۔”

وہ بے اختیار ہو کر کروٹ بدلنے لگی، اس کے وجود میں ایک انوکھی گدگداہٹ ہو رہی تھی۔

“،بڑے بدتمیز ہو تم! اب دوبارہ مجھے میسج مت کرنا”

اس نے مصنوعی غصے سے لکھا۔

میں تو کرتا رہوں گا… تب تک باز نہیں آؤں گا جب تک آپ کا دل نہیں جیت لیتا اور ہماری دوستی نہیں ہوجاتی،” نقیب کا اصرار عائشہ کو بھلا لگنے لگا۔”

،عائشہ کے چہرے پر اب ایک عجیب سی سنجیدگی آ گئی تھی۔ اس نے چند لمحے سوچا اور پھر لکھا

“دوستی کوئی مذاق نہیں ہوتی، یہ اتنی آسانی سے نہیں ہوجاتی۔”

“،جب جان پہچان ہوگی، تو دوستی خود ہی راستہ بنا لے گی”

نقیب کا جواب پراعتماد تھا۔

سوچوں گی اس بارے میں، ابھی مجھے بہت نیند آ رہی ہے۔”

“دوبارہ میسج نہ کرنا۔ اگر میرا ارادہ ہوا تو خود رابطہ کروں گی، ورنہ اسے میرا انکار سمجھ لینا۔

:جواب میں ایک شعر آیا جس نے عائشہ کے دل کے تار چھیڑ دیے

تُو وہ بہار جو اپنے چمن میں آوارہ”

میں وہ چمن جو بہاراں کے انتظار میں ہے

“اپنا بہت خیال رکھیے گا، میں آپ کے جواب کا شدت سے منتظر رہوں گا۔

یہ شعر پڑھ کر عائشہ کے چہرے پر جیسے گلاب کِھل اٹھے۔ وہ سترہ سالہ الہڑ لڑکی، جس نے ابھی زندگی کے سرد و گرم کو چکھا بھی نہیں تھا، ایک ایسے جذبے کو اپنے اندر جگہ دے رہی تھی جو اکثر بربادی کا نقطہ آغاز ہوتا ہے۔

،اس نے ایک آخری میسج ٹائپ کیا

“اچھا… سوچنے کے لیے تمہارا نام تو پتا ہونا چاہیے، آخر کس کے بارے میں سوچنا ہے مجھے؟”

“،نام نقیب ہے اور میں پھالیہ سے ہوں”

چند لمحوں بعد مختصر سا تعارف اسکرین پر چمکا۔

،عائشہ نے اپنے دل پر پتھر رکھتے ہوئے، گویا اپنی زندگی کی باگ ڈور اس کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے لکھا

“میرا نام عائشہ ہے اور میں شکر گڑھ سے ہوں۔”

ماشاءاللہ! بہت ہی پیارا نام ہے،” نقیب نے سراہا۔”

بس اب بہت ہو گیا… دوبارہ میسج مت کرنا۔ اللہ حافظ۔” عائشہ نے یہ لکھا اور اگلے ہی لمحے موبائل بند کر دیا۔”

اس نے موبائل کو تکیے کے نیچے چھپایا اور آنکھیں موند لیں۔ مگر اب نیند کہاں تھی؟ وہ اجنبی، وہ نقیب، اس کے دماغ کے پردوں پر نقش ہو چکا تھا۔

پتا نہیں وہ کون ہے؟ دکھنے میں کیسا ہوگا؟ کیا وہ واقعی اتنا ہینڈسم ہوگا جتنا اس کا لہجہ پراثر ہے؟ اس نے خود ہی اپنے آپ کو تسلی دی،

“جو بھی ہو، جیسا بھی ہو، مگر دل کا تو بہت اچھا لگتا ہے۔”

سردیوں کی وہ طویل رات عائشہ کے لیے بے چینی کا پیغام بن گئی تھی۔ اس کے دل میں ابھرنے والے یہ نئے جذبات اسے ایک ایسی منزل کی طرف لے جا رہے تھے جہاں سوائے خسارے اور مٹی ہونے کے کچھ نہیں تھا۔ وہ اس حقیقت سے بالکل بے خبر تھی کہ اس نے جس راہ پر قدم رکھا ہے، وہاں واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔

°°°°°°°°°°

…جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *