ناول: وارث کون
باب اؤل: دہلیز
قسط نمبر 2
مصنف: زیاد اصغر زارون
°°°°°°°°°°
ہفتے کی صبح صبح طلوع ہوئی تو عائشہ معمول کے مطابق اپنی کتابیں سنبھالے کالج کی جانب روانہ ہوگئی، جہاں دن بھر کی مصروفیات نے اسے نقیب کے خیال سے دور رکھا۔ دوپہر کو واپسی ہوئی تو گھر کے بکھرے ہوئے کام کاج اور ماں کی ہدایات نے اسے سانس لینے کی مہلت تک نہیں دی۔ دن بھر کی بھاگ دوڑ میں اس کا وجود تو مصروف رہا، مگر لاشعور کے کسی گوشے میں وہ نامعلوم نمبر ایک سلگتے ہوئے سوال کی طرح موجود تھا۔
جب رات کا سیاہ آنچل پھیلا اور گھر کا تمام شور و غل خاموشی میں بدل گیا، تو عائشہ تھکی ہاری اپنے بستر پر آ لیٹی۔ اس کے جسم کا ایک ایک جوڑ تھکن سے چور تھا، مگر نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ اندھیرے کمرے میں اس کا دل ایک ضدی بچے کی طرح بار بار نقیب کو میسج کرنے کا تقاضا کر رہا تھا، جبکہ اس کا دماغ مسلسل اس انجانے خطرے کے خلاف مزاحمت کی دیوار کھڑی کیے ہوئے تھا۔
وہ ایک عجیب سے تذبذب اور کشمکش کا شکار تھی۔ اس نے کئی بار کانپتے ہاتھوں سے تکیے کے نیچے چھپا موبائل نکالا، اسکرین کی نیلی روشنی اس کے الجھے ہوئے چہرے پر پڑی۔ اس نے میسج ٹائپ کیا، لفظوں کو ترتیب دیا، مگر پھر کسی انجانے خوف یا ضمیر کی ملامت کے تحت انہیں ایک ایک کر کے مٹا دیا۔
“…نہیں عائشہ!” یہ ٹھیک نہیں”
اس نے خود کو ٹوکا۔
کافی دیر تک وہ اسی ذہنی اذیت اور تڑپ کے بھنور میں ہچکولے کھاتی رہی۔ کبھی موبائل ہاتھ میں ہوتا اور کبھی وہ اسے دور پٹخ دیتی۔ آخر کار، عقل نے جذبات پر عارضی فتح حاصل کر لی۔ اس نے ایک لمبی اور تھکی ہوئی آہ بھری، موبائل کو واپس تکیے کی گہرائی میں دھکیلا اور زبردستی آنکھیں موند لیں۔ دن بھر کی جسمانی مشقت نے بالآخر اپنا اثر دکھایا اور اسے علم بھی نہیں ہوا کہ کب وہ نیند کی گہری اور پرسکون وادیوں میں اتر گئی۔
°°°°°°°°°°
اتوار کی پرسکون صبح تھی، جب سورج کی پہلی کرنیں کھڑکی کے پردوں سے چھن کر کمرے میں مدھم سا اجالا پھیلا رہی تھیں۔ عائشہ ابھی نیند کے گہرے اور مخملی غلاف میں لپٹی ہوئی تھی کہ اچانک موبائل کی گھنٹی نے صبح کے سناٹے کا سینہ چاک کر دیا۔ وہ نیم خوابی کے عالم میں تھوڑا کسمسائی، ہاتھ لاشعوری طور پر تکیے کی گہرائی میں گیا جہاں وہ فتنہ شور مچا رہا تھا۔ جیسے ہی اس نے بوجھل پلکیں اٹھا کر سکرین پر نظر ڈالی، اس کا دل جیسے اچھل کر حلق میں آ پھنسا، سکرین پر نقیب کا نمبر کسی روشن ستارے کی طرح جگمگا رہا تھا۔
،ڈر اور گھبراہٹ کے مارے اس نے فوراً کال کاٹی، اس کی انگلیاں تیزی سے کی پیڈ پر چلیں
میں نے منع کیا تھا نہ کہ مجھے کال یا میسج مت کرنا!” اس کے لفظوں میں جھوٹی سختی تھی، مگر اندر تجسس کی لہریں اٹھ رہی تھیں۔”
،دوسری طرف سے جواب آنے میں دیر نہیں لگی
“سوری، لیکن آپ نے کہا تھا کہ رات کو جواب دیں گی… میں ساری رات آپ کے ایک پیغام کا انتظار کرتا رہا۔ یقین مانیں، میں ابھی تک سو نہیں سکا۔”
اب یہ نقیب کی کوئی منجھی ہوئی چال تھی یا اس کی بے تابی کی حقیقت، عائشہ یہ جاننے سے قاصر تھی، مگر اس کے سادہ اور نرم دل میں ایک کسک سی اٹھی۔ اسے شدید ندامت محسوس ہوئی کہ ایک شخص اس کی خاطر پوری رات بستر پر کروٹیں بدلتا رہا اور وہ بے فکری سے نیند کی وادیوں میں کھوئی رہی۔ اس کی یہی ہمدردی اسے نقیب کے بچھائے ہوئے جذباتی جال کے ایک اور خانے میں لے گئی۔
،اس نے ایک گہرا سانس لیا اور ٹائپ کیا
“آخر کیا ملے گا تمہیں مجھ سے دوستی کر کے؟”
میرا اس دنیا میں کوئی سچا دوست نہیں ہے عائشہ… کوئی ایسا نہیں جس سے میں اپنے دل کی ویرانیاں بانٹ سکوں، جسے اپنے دکھ سنا سکوں۔”
” مجھے بس آپ جیسا کوئی بااخلاق اور مخلص انسان چاہیے جو مجھے خاموشی سے سن سکے، جو مجھے سمجھ سکے۔
نقیب کے الفاظ میں ایک ایسی لجاجت اور جادوئی کشش تھی کہ عائشہ کی رہی سہی مزاحمت بھی ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔
“،ٹھیک ہے… مگر یاد رکھنا، یہ صرف دوستی ہوگی۔ اس سے آگے کی کوئی توقع نہ رکھنا”
عائشہ نے دھڑکتے دل کے ساتھ گویا اپنی بربادی کے معاہدے پر دستخط کر دیے۔
“!آپ کا ہر فیصلہ سر آنکھوں پر، پکا وعدہ”
اسکرین پر یہ میسج ابھرا تو عائشہ کے پورے وجود میں جیسے خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی۔
،وہ من ہی من میں سوچنے لگی
“نقیب کتنا سادہ اور کتنا باوضع شخص ہے، میں جو کہتی ہوں فوراً مان جاتا ہے۔”
اسی ایک خیال کے ساتھ میسجز کا ایک ایسا لامتناہی سلسلہ شروع ہوا جس نے وقت کی قید سے اسے آزاد کر دیا۔ نقیب کی دلفریب باتوں میں ایسی مٹھاس اور سحر تھا کہ کب سات سے دس بج گئے، اسے خبر ہی نہ ہوئی۔ وہ بس تکیے سے ٹیک لگائے مسکراتی رہی، میسج پڑھتی اور ان کے سحر میں ڈوب کر جواب دیتی رہی۔ اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے اس کی ویران زندگی میں پہلی بار بہار آئی ہے اور نقیب کی صورت میں اسے خدا کی کوئی خاص نعمت مل گئی ہے جو اسے ہر دکھ سے بچا لے گی۔
°°°°°°°°°°
سوموار کی تپتی دوپہر تھی اور کالج کی کینٹین طلباء کے شور، پلیٹوں کے ٹکرانے کی آوازوں اور سموسوں کی اشتہا انگیز خوشبو سے مہک رہی تھی۔ کینٹین کے ایک گوشے میں عائشہ اپنی عزیز ترین سہیلی رفعت کے ساتھ بیٹھی سموسہ چاٹ کے ساتھ انصاف کرنے میں مصروف تھی۔ دونوں کے درمیان ایک طویل خاموشی تھی، مگر یہ خاموشی بوجھل نہیں تھی۔ رفعت بار بار نظریں اٹھا کر عائشہ کا جائزہ لے رہی تھی۔
عائشہ بظاہر تو چمچ چلا رہی تھی، مگر اس کا ذہن کہیں دور نقیب کے خیالات کی وادیوں میں بھٹک رہا تھا۔ اس کے چہرے پر ایک ایسی انوکھی چمک اور لبوں پر ایک ایسی دبی دبی سی مسکراہٹ تھی جو رفعت کی نظروں سے چھپی نہ رہ سکی۔ یہ وہ خاص رونق تھی جو صرف تب آتی ہے جب دل کے کسی کونے میں نئی نئی محبت کی شمع روشن ہوئی ہو۔
“کیا بات ہے میری جان؟ آج بڑی بدلی بدلی لگ رہی ہو، چہرے کی یہ خوشی کچھ خاص ہی لگ رہی ہے؟”
رفعت نے اسے بغور دیکھتے ہوئے چھیڑا۔
عائشہ یکدم ہڑبڑا گئی، جیسے کسی نے اس کی روح میں جھانک لیا ہو۔
نہ… نہیں تو… بس ایسے ہی، کوئی خاص بات نہیں ہے۔” اس نے بوکھلاہٹ میں نظریں چرا کر چاٹ کی پلیٹ میں دوبارہ پناہ لینے کی کوشش کی۔”
نہ میری جان! میں تجھے سات سال سے جانتی ہوں۔” رفعت نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔”
“کچھ تو ہے جو تُو مجھ سے چھپا رہی ہے۔ تیری آنکھیں سب کچھ بول رہی ہیں۔”
عائشہ نے اپنی گھبراہٹ چھپانے کے لیے ہوشیاری سے پینترا بدلا اور موضوع کو رفعت کی طرف موڑ دیا۔
“اچھا میری بات چھوڑ… یہ بتا، تیرا منگیتر کیسا ہے؟”
سوال ہوتے ہی رفعت کے چہرے پر اداسی کے سائے گہرے ہو گئے۔ اس نے ایک لمبی سرد آہ بھری۔
منگیتر…؟ وہ رشتہ ماضی بن گیا۔ کل ہی پھوپھو نے جواب دے دیا ہے۔”
“کہتی ہیں کہ ان کے صاحبزادے کو یونیورسٹی میں کوئی لڑکی پسند آ گئی ہے اور وہ اپنے لاڈلے کے سامنے بے بس ہیں۔
عائشہ کا دل یہ سن کر ایک پل کے لیے اداس ہوا، مگر اگلے ہی لمحے اسے اپنے بھائی فرحان کا مرجھایا ہوا چہرہ یاد آ گیا۔ اسے اس خبر میں ایک نئی امید کی کرن دکھائی دی۔ اس نے ہمدردی سے رفعت کا ہاتھ تھاما۔
“اوہو… یہ تو بہت برا ہوا۔ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ وہ ایسا کریں گے۔”
“بس یہی دنیا ہے عائشہ! اگر نباہ نہیں کرنا تھا تو اتنے سال منگنی کیوں نبھائی؟”
رفعت کی آواز میں کرب اور غصہ نمایاں تھا۔
“دفع کرو اسے۔”
عائشہ نے اسے حوصلہ دیتے ہوئے مذاق کا سہارا لیا تاکہ اس کا موڈ بدلے۔
وہ اس قابل ہی نہیں تھا کہ تم جیسی ہیر اس کے ساتھ کھڑی ہوتی۔”
“تمہارے لیے تو رشتوں کی لائن لگی ہوئی ہے… بلکہ یوں سمجھو کہ لڑکے زمین پر اوندھے منہ لیٹ کر بھیک مانگ رہے ہیں کہ پلیز رفعت ہم سے شادی کر لو۔
عائشہ کے معصوم سے بنے چہرے اور اس انداز پر رفعت بے اختیار ہنس پڑی۔
پاگل نہ بنو! میں کوئی حور پری نہیں ہوں۔ لیکن ہاں، ابو اب بہت سنجیدہ ہیں۔”
“وہ کہہ رہے ہیں کہ امتحانات کے فوراً بعد میری شادی کر دیں گے تاکہ اپنی بہن کو دکھا سکیں کہ ان کی بیٹی کے لیے رشتوں کا کال نہیں پڑا ہوا۔
عائشہ نے موقع غنیمت جانا اور اپنے بھائی کا مقدمہ پیش کر دیا۔
“کیسے کوئی فدا نہیں ہے؟ میرا بھائی فرحان تو اس لائن میں سب سے آگے ناک رگڑ رہا ہے کہ پلیز رفعت! ایک بار ہاں کر دو۔”
رفعت کو جیسے جھٹکا لگا۔
“جھوٹ مت بولو عائشہ! فرحان تو اتنا سیدھا اور خاموش لڑکا ہے، مجھے تو کبھی ایسا نہیں لگا۔”
“میں سچ کہہ رہی ہوں۔ اس نے مجھ سے اپنے دل کی بات کہی تھی، مگر میں نے ہی اسے یہ کہہ کر روک دیا کہ تمہاری منگنی ہو چکی ہے۔ بیچارے کا تو دل ہی ٹوٹ گیا تھا۔”
رفعت چند لمحے گہری سوچ میں ڈوب گئی۔ پھر اس نے سنجیدگی سے عائشہ کی طرف دیکھا۔
عائشہ! اگر ایسی بات ہے تو دیر نہ کرو۔ تم جانتی ہو ابو کا مزاج۔ امتحان ختم ہوتے ہی وہ کہیں نہ کہیں میرا رشتہ کر دیں گے۔”
“تم گھر بات کرو اور جلدی سے رشتہ بھجوا دو، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔
عائشہ کا دل باغ باغ ہو گیا، اس نے چہک کر رفعت کا ماتھا چوما۔
“ہائے! تم کتنی اچھی ہو میری جان۔”
رفعت ہلکا سا مسکرائی، مگر پھر اسے اپنی ادھوری بات یاد آئی۔
“باتیں نہ بناؤ! اب بتاؤ کہ تم اتنی خوش کیوں تھی؟ میں اب جانے بغیر تمہارا پیچھا نہیں چھوڑنے والی۔”
عائشہ نے اپنا سر پیٹ لیا۔ وہ جس موضوع سے بھاگ رہی تھی، رفعت اسے دوبارہ وہیں لے آئی تھی۔
“مطلب کہ آج میری جان لے کر ہی چھوڑو گی؟”
بالکل!” رفعت نے شرارت سے آنکھ دبائی۔”
“اب بتا بھی دو۔”
،عائشہ نے ایک گہری سانس لی، اس کے چہرے پر حیا اور سنجیدگی کا امتزاج ابھرا۔ اس نے جھک کر دھیمی آواز میں رازدارانہ انداز میں کہنا شروع کیا
“…ایک لڑکا ہے… نقیب نام ہے اس کا… وہ پھالیہ سے ہے”
اور پھر نقیب کی کال، اس کے میسجز اور اس کے دلکش انداز کی پوری داستان بیان کر دی۔ جیسے جیسے عائشہ کی گفتگو آگے بڑھ رہی تھی، رفعت کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوتی گئی اور وہاں فکر کی گہری لکیریں ابھرنے لگیں۔ وہ خاموشی سے سنتی رہی۔
°°°°°°°°°°
عائشہ نے نقیب کے ساتھ اپنے اس بے نام تعلق کی پوری داستان رفعت کے سامنے بچھا دی۔ وہ پہلی اتفاقیہ کال، وہ سحر انگیز میسجز، نقیب کا وہ پُراسرار انداز اور پھر دوستی کے اس نئے باب کا آغاز۔ رفعت خاموش رہی، اس کے چہرے پر فکر کے بادل منڈلانے لگے جیسے وہ دور سے کسی آنے والے طوفان کی دستک سن رہی ہو۔ چند طویل لمحوں کی خاموشی کے بعد اس نے گہری سانس لی اور نہایت سنجیدگی سے عائشہ کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولی،
“عائشہ! یہ زمانہ بہت سفاک ہے اور تم ضرورت سے زیادہ رفتار دکھا رہی ہو۔ کبھی کبھی جذبات کی رو میں اٹھائے گئے تیز قدم گہری کھائی میں گرا دیتے ہیں۔ تھوڑا سنبھل کر چلو۔”
عائشہ نے فوراً دفاعی انداز اختیار کیا، جیسے وہ نقیب کی صورت میں اپنی اس نئی خوشی کو کسی بھی شک و شبہ سے محفوظ رکھنا چاہتی ہو۔
نہیں رفعت! تم غلط سمجھ رہی ہو، ہم صرف اچھے دوست ہیں اور یقین مانو وہ باقی لڑکوں جیسا ہرگز نہیں ہے۔”
“اس کے لہجے میں ٹھہراؤ ہے، وہ بہت نیک سیرت اور سادہ مزاج انسان ہے۔
رفعت کے لبوں پر ایک تلخ اور پھیکی سی مسکراہٹ رینگ گئی۔
لڑکوں کی فطرت ہی یہی ہے عائشہ! وہ صنفِ نازک کے سامنے پارسائی کا لبادہ اوڑھ کر آتے ہیں۔”
ان کے لہجے میں شہد اور انداز میں ایسی معصومیت ہوتی ہے جیسے ان سے زیادہ پاکباز انسان اس زمین پر دوسرا کوئی نہیں۔
“وہ خود کو فرشتہ بنا کر پیش کرتے ہیں، مگر حقیقت میں اس لبادے کے پیچھے ایک درندہ چھپا ہوتا ہے جو صرف موقع کی تلاش میں ہوتا ہے۔
عائشہ کو رفعت کی یہ تلخ حقیقت پسندی زہر لگی۔ اسے نقیب کی کردار کشی برداشت نہ ہوئی۔
نہیں رفعت… میں سچ کہہ رہی ہوں، وہ واقعی بہت اچھا ہے۔”
“اگر تمہیں یقین نہیں آتا تو میں تمہاری اس سے بات کروا دوں گی، تم خود اس کا سحر انگیز لہجہ سنو گی تو قائل ہو جاؤ گی۔
“،چلو دیکھیں گے، مگر میری ایک بات گرہ باندھ لو… جو بھی قدم اٹھاؤ، اس کا انجام سوچ کر اٹھانا”
رفعت نے اسے بڑے بہنوں والے انداز میں سمجھایا۔
،عائشہ نے ہار مانتے ہوئے منت آمیز لہجے میں کہا
“اچھا ٹھیک ہے بابا! بس اب تم کسی سے اس کا ذکر مت کرنا، ورنہ میں کہیں کی نہیں رہوں گی۔”
“میں نہیں بتاؤں گی، مگر تمہیں اب بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔”
،رفعت نے اسے مشورہ دیا
“اپنے موبائل پر پاسورڈ لگا کر رکھو، تمام ایپس کو پرائیویسی لاک میں رکھو۔ تمہارے گھر کا ماحول جتنا سخت ہے، اگر کسی کو خبر ہوئی تو قیامت برپا ہو جائے گی۔”
عائشہ ابھی کچھ اور کہنا چاہتی تھی، نقیب کے حق میں مزید دلیلیں دینا چاہتی تھی، مگر عین اسی وقت کالج کی گھنٹی کی تیز آواز فضا میں گونجی جس نے بریک کے پیریڈ کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔ وہ بوجھل دل کے ساتھ وہاں سے اٹھیں، کینٹین کا بل ادا کیا اور خاموشی سے اپنی کلاس کی جانب بڑھ گئیں۔ رفعت خاموش تھی مگر عائشہ کے ذہن میں اب نقیب کے لفظوں کے ساتھ ساتھ رفعت کے خدشات بھی گردش کر رہے تھے۔
°°°°°°°°°°
وقت کے پر لگے ہوئے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے عائشہ اور نقیب کے اس بے نام تعلق کو تین ماہ بیت گئے۔ بظاہر یہ محض ایک عام سی دوستی تھی، مگر رات کے پچھلے پہر دو دو گھنٹوں پر محیط طویل کالز اور دن بھر میسجز کا کبھی نہ ختم ہونے والا سلسلہ اب عائشہ کی زندگی کا لازمی جزو بن چکا تھا۔ وہ نقیب کے لفظوں کے سحر میں اس قدر گرفتار ہو چکی تھی کہ اسے اپنے گرد و پیش کی خبر ہی نہ تھی۔
اسی دوران عائشہ کی ضد اور بے حد اصرار پر اس کے والدین نے رفعت کا ہاتھ فرحان کے لیے مانگ لیا۔ رفعت کے والدین نے روایت کے مطابق تین دن کی مہلت لی اور پھر بخوشی ہاں کر دی۔ رشتہ کیا طے ہوا، جیسے خوشیوں کے بند کھل گئے۔ امتحانات سے فارغ ہوتے ہی دو ماہ بعد شادی کی تاریخ مقرر کر دی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ وقت آن پہنچا جس کا پورے گھر کو شدت سے انتظار تھا۔
اب شادی میں صرف ایک ہفتہ باقی تھا اور کمال احمد کا گھر کسی میلے کا نقشہ پیش کر رہا تھا۔
عائشہ کی بڑی بہن خدیجہ اپنے بچوں کے شور و غل کے ساتھ ڈیرے ڈال چکی تھی، جبکہ بڑے بھائی کامران بھی اپنی فیملی سمیت گھر کی رونق بڑھانے آ پہنچے تھے۔
سارا دن گھر کے بڑوں کی سرگوشیاں، عورتوں کی لامتناہی شاپنگ کی باتیں، بنارسی کپڑوں کی کھنک اور بچوں کی چھم چھم نے پورے گھر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔
دور پار کے عزیز و اقارب کا تانتا بندھا ہوا تھا، کہیں مہندی کے گیتوں کی ریہرسل ہو رہی تھی تو کہیں کھانے کی فہرست پر بحث ہورہی تھی۔
جہاں پورا خاندان ان لمحات سے محظوظ ہو رہا تھا، وہیں عائشہ کے لیے یہ ہجوم اور شور و غل ایک خوشنما قید بن چکا تھا۔ اسے اپنوں کی چہک اور رشتوں کی رونق میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اس کے لیے ہر گزرتا دن ایک صدی کے بوجھل پن کے برابر تھا۔
اسے اگر کچھ عزیز تھا تو وہ نقیب کی دلفریب باتیں تھیں، اس کا وہ دھیما لہجہ تھا جو اب اسے میسر نہیں تھا۔
گھر کی اس غیر معمولی بھیڑ میں اسے نقیب سے بات کرنے کا موقع بڑی مشکل سے ملتا۔ اب گھنٹوں طویل کالز تو خواب بن چکی تھیں، وہ بس رات کی خاموشی میں، جب سب سو جاتے، بڑی رازداری سے چند میسجز پر اپنا حالِ دل سناتی اور نقیب کے لفظوں سے اپنی روح کی پیاس بجھاتی۔ اسے اس ہنگامے سے گھٹن محسوس ہو رہی تھی۔ وہ بے صبری سے شادی کے ان ہنگاموں کے ختم ہونے کی منتظر تھی تاکہ یہ شور تھمے، پرائیویسی لوٹ آئے اور وہ دوبارہ اپنی اس پُرکشش، مگر خطرناک دنیا میں مکمل طور پر لوٹ سکے جہاں صرف وہ تھی اور نقیب تھا۔
°°°°°°°°°°
فرحان اور رفعت کی شادی میں اب صرف دو دن کی مسافت باقی تھی۔ گھر کے در و دیوار مہندی کی خوشبو اور آنے والے کل کی خوشیوں سے مہک رہے تھے۔
بیٹھک میں ایک سنجیدہ مگر پرسکون مشاورتی نشست جمی ہوئی تھی۔ کمال احمد اپنے دونوں بیٹوں، کامران اور دولہا بننے والے فرحان کے ساتھ بیٹھے شادی کے اخراجات، مہمانوں کی فہرست اور تقریب کے باریک بین انتظامات پر تبادلہ خیال کر رہے تھے۔ ان کے چہروں پر موجود سنجیدگی اس بھاری ذمہ داری کا احساس دلا رہی تھی جو ایک غیرت مند اور سفید پوش خاندان کے سربراہ پر ہوتی ہے۔
ان کی واحد فکر یہی تھی کہ ہر کام وقار اور سلیقے سے انجام پائے، تاکہ خاندان کی عزت میں کوئی حرف نہ آئے اور کسی کو انگلی اٹھانے کا موقع نہ مل سکے۔
ابھی وہ کسی حساب کتاب میں الجھے ہوئے تھے کہ اچانک عائشہ کسی شوخ ہوا کے جھونکے کی طرح وہاں آن پہنچی۔
،اس نے کسی تکلف کے بغیر کامران کا ہاتھ پکڑا اور اصرار بھرے لہجے میں بولی
“چلیں بھیا! اٹھیں اب، دیر ہو رہی ہے۔”
کامران نے الجھن کے عالم میں حساب کی ڈائری سے نظریں ہٹا کر بہن کو دیکھا۔
“کہاں جانا ہے میری گڑیا؟”
“کہاں کا کیا مطلب؟”
عائشہ نے مصنوعی حیرت سے آنکھیں پھیلائیں۔
“آپ کو بھابھی نے بتایا تو تھا کہ رفعت کے گھر جانا ہے، کچھ ضروری سامان پہنچانا ہے۔ اب یہ کب اور کیسے کے سوال کہاں سے آ گئے؟”
اس کی آواز میں وہی بچپن والا لاڈ اور حکم تھا جو اس گھر کی روایت بن چکا تھا۔
،کامران نے دھیمے لہجے میں سمجھانے کی کوشش کی
“وہ تو ٹھیک ہے عائشہ! لیکن اس وقت میں ابو کے ساتھ ایک ضروری کام میں مصروف ہوں۔ ہم ایسا کرتے ہیں کہ شام کو چلے جائیں گے۔”
یہ سننا تھا کہ عائشہ کا چہرہ پل بھر میں مرجھا گیا۔ اس نے جھٹکے سے کامران کا ہاتھ پٹخ دیا۔
“یہ تو کوئی بات نہ ہوئی بھیا! آپ نے بھابھی سے خود وعدہ کیا تھا کہ دوپہر کو چلیں گے۔”
“میں جانتا ہوں میری پیاری بہن! لیکن کچھ انتظامات ایسے ہیں جو ابھی نمٹانا ضروری ہیں۔”
،کامران نے نرمی سے کہا
“مان جاؤ نا، شام کو پکا چلیں گے۔”
عائشہ کے لیے یہ انکار ناقابلِ برداشت تھا۔
“بس ٹھیک ہے، مجھے نہیں جانا اب کہیں بھی! آپ کو جو دل میں آئے کریں، میرا موڈ خراب کر دیا آپ نے۔”
وہ خفگی سے بڑبڑائی اور پاؤں پٹختی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔
کامران نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور بے بسی سے ابو کی طرف دیکھا، جو اپنی نشست پر بیٹھے مسکرا رہے تھے۔ “ابو! وہ ناراض ہو کر چلی گئی اور آپ کو ہنسی آ رہی ہے؟” کامران نے شکوہ کیا۔
“،کچھ نہیں ہوتا، بیٹیوں کے نخرے تو گھر کی رونق ہوتے ہیں۔ میں منا لیتا ہوں اسے”
کمال احمد یہ کہتے ہوئے اپنی جگہ سے کھڑے ہو گئے۔ باپ کے احترام میں دونوں بیٹے بھی فوراً اپنی اپنی جگہوں سے اٹھ کھڑے ہوئے۔
،کمال نے کامران کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
“تم اپنے یہ حساب کتاب اور ضروری کام نمٹا لو، میں انہیں خود لے جاتا ہوں۔”
“!…شکریہ ابو”
کامران نے تشکر آمیز نظروں سے اپنے باپ کو دیکھا۔
کمال احمد اور کامران، دونوں ہی عائشہ کے حصارِ محبت میں قید تھے۔ کمال کے لیے تو وہ اس کے آنگن کی سب سے لاڈلی چڑیا تھی جس کی چھوٹی سی فرمائش بھی اس کے لیے حکم کا درجہ رکھتی تھی۔ اور کامران؟ وہ عائشہ سے سات سال بڑا تھا اور اس نے اپنی اس بہن کو کسی گڑیا کی طرح اپنے ہاتھوں میں پلتے اور جوان ہوتے دیکھا تھا۔ عائشہ، کومل اور ایمان بھلے ہی اس کی بہنیں تھیں، مگر کامران کے دل میں ان کے لیے وہی تڑپ اور شفقت تھی جو ایک باپ کے دل میں اپنی بیٹیوں کے لیے ہوتی ہے۔ اسے عائشہ کی آنکھ میں ایک آنسو بھی گوارا نہیں تھا۔
°°°°°°°°°°
رفعت کے گھر کا وہ گوشہ ایک مخصوص مہک سے بسا ہوا تھا۔ کچی مہندی کی بھینی بھینی خوشبو اور آنے والی زندگی کے اَن گنت سپنوں کی مہک۔ عائشہ اپنے والدین، بھابھی اور بڑی بہن خدیجہ کے ہمراہ یہاں آئی تھی۔ جہاں بڑے دوسرے کمرے میں شادی کے آخری مراحل اور دوسری باتوں میں مصروف تھے، وہیں عائشہ اور رفعت ایک الگ کمرے میں تنہائی کے میسر لمحوں سے محظوظ ہو رہی تھیں۔
رفعت، جو اب محض سہیلی نہیں بلکہ عائشہ کی بھابھی بننے جا رہی تھی، پلنگ پر براجمان تھی اور عائشہ نہایت باریک بینی سے اس کے ہاتھوں پر حنا کے نقش و نگار ابھار رہی تھی۔ کمرے میں ایک پرسکون خاموشی چھائی تھی۔ دونوں کی پوری توجہ ان نازک ڈیزائنوں پر تھی، مگر رفعت کے ذہن میں شرارت کی ایک لہر اٹھی۔
“تمہارا نقیب کیسا ہے؟”
رفعت نے خاموشی کو چاک کرتے ہوئے نہایت دھیمے اور شرارتی لہجے میں پوچھا۔
عائشہ کے لبوں پر بے اختیار ایک دلکش مسکان پھیل گئی، جیسے کسی نے اس کے من پسند ساز کے تار چھیڑ دیے ہوں۔
،اس نے نظریں اٹھائے بغیر محض ایک لفظ میں اپنی کائنات سمیٹ لی
“ٹھیک ہے۔”
“،لڑکا واقعی بہت وضعدار اور نیک سیرت لگتا ہے”
رفعت نے بات آگے بڑھائی۔
کل بتا رہا تھا کہ اس کے پڑوسیوں نے گھر بدلا تو وہ سارا دن ان کا سامان ٹھیک کروانے میں ان کی مدد کرتا رہا۔”
“مجھے سن کر دلی خوشی ہوئی کہ اس میں دوسروں کے لیے احساسِ ہمدردی موجود ہے۔ آج کل کے دور میں ایسے مخلص لوگ کہاں ملتے ہیں۔
“ہاں، وہ واقعی بہت اچھا انسان ہے۔”
عائشہ نے ایک لمحے کو رک کر رفعت کی آنکھوں میں دیکھا، جہاں ستائش کی چمک تھی اور پھر دوبارہ مہندی کی بیلیں تراشنے میں مگن ہوگئی۔
“کیا وہ صرف ایک اچھا دوست ہی ہے؟”
رفعت نے معنی خیزی سے پوچھا، اس کی آواز میں چھیڑ چھاڑ کا عنصر واضح تھا۔
“،ہاں رفعت! صرف دوست”
عائشہ نے اپنی کپکپاہٹ چھپاتے ہوئے جواب دیا، مگر اس کی آواز کی تھرتھراہٹ کچھ اور ہی کہانی سنا رہی تھی۔
“مجھے تو ایسا نہیں لگتا۔”
رفعت نے پیار سے اس کے جھکے ہوئے سر کو دیکھا۔
“تمہاری آنکھوں کی یہ چمک اور لہجے کی یہ نرمی کچھ اور ہی بتاتی ہے۔ اگر تم کہو تو میں نقیب سے اس بارے میں بات کروں؟”
“!ہرگز نہیں”
عائشہ نے فوراً ٹوکا، اس کے لہجے میں انکار کی سختی کے ساتھ حیا کی سرخی بھی شامل تھی۔
“ایسا کرنا اچھا نہیں لگتا۔ اگر اسے کوئی بات کرنی ہے تو وہ خود ہمت کرے۔ ہم لڑکیاں ایسی باتیں کرتے اچھی نہیں لگتیں، آخر شرم و حیا بھی تو کوئی چیز ہے۔”
“بات تو تمہاری درست ہے۔”
رفعت نے گہرا سانس لیا۔
چلو دیکھتے ہیں کہ تقدیر کی ہوائیں کس سمت چلتی ہیں۔”
” اگر اس نے کبھی اپنے جذبات کا اظہار کیا تو مجھے ضرور بتانا، میں فرحان کو اس رشتے کے لیے منانے کی پوری کوشش کروں گی۔
یہ سنتے ہی عائشہ کے چہرے پر خوف کی ایک لہر دوڑ گئی۔
“نہ رفعت، ایسی غلطی کبھی مت کرنا! اگر بھائی فرحان کو ذرا سی بھی بھنک پڑی تو وہ مجھے جان سے مار دیں گے۔ ہمارے گھر میں ان باتوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔”
“تو کیا ساری زندگی یوں موبائل کی سکرین پر ہی انگلیاں چلاتی رہو گی؟”
رفعت نے تشویش سے پوچھا۔
“،اللہ کوئی نہ کوئی بہتر راستہ نکالے گا”
عائشہ کی آواز میں اداسی کا عنصر نمایاں ہو گیا۔
“ابھی تو مجھے یہ بھی نہیں پتا کہ اس کے دل میں میرے لیے وہ جذبات ہیں بھی یا نہیں جو میں محسوس کرتی ہوں۔”
پریشان مت ہو میری جان،” رفعت نے اسے دلاسا دیتے ہوئے نرمی سے کہا۔”
“مجھے پورا یقین ہے کہ وہ تم سے بے پناہ محبت کرتا ہے۔”
“،دیکھتے ہیں، خدا نے میری قسمت میں کیا لکھ رکھا ہے”
عائشہ نے ایک لمبی آہ بھری اور اپنی تمام تر توجہ دوبارہ مہندی کے پیچیدہ ڈیزائن پر مرکوز کر دی۔ کمرے میں دوبارہ وہی پر اسرار اور بوجھل سی خاموشی چھا گئی، جس میں صرف مستقبل کے انجانے اندیشے اور مہندی کی خوشبو رچی بسی تھی۔
°°°°°°°°°°
…جاری ہے
