اندھا اعتبار

میرے شوہر مجھے اکثر کہتے تھے کہ ان کی میٹنگز ہیں اور وہ کئی کئی دن دوسرے شہر رہتے تھے۔ میں نے کبھی ان کی بات پر شک نہیں کیا تھا۔ وہ ہمیشہ بہت اعتماد سے بات کرتے، فون پر بھی مصروف رہتے اور اکثر کہتے کہ کام کا دباؤ بہت زیادہ ہے۔ میں ان کی بات مان کر خاموش ہو جاتی کیونکہ میں سمجھتی تھی کہ وہ ہماری بہتر زندگی کے لیے محنت کر رہے ہیں۔

ہماری شادی کو تین سال ہو چکے تھے اور اس دوران میں نے کبھی ان کے رویے میں کوئی ایسی بات محسوس نہیں کی تھی جو مجھے شک میں ڈالتی۔ وہ گھر آتے تو میرے لیے تحفے لاتے، میری خیریت پوچھتے اور عام شوہروں کی طرح ہی زندگی گزار رہے تھے۔ اسی لیے میرے دل میں کبھی یہ خیال بھی نہیں آیا کہ ان کی زندگی میں کوئی راز بھی ہو سکتا ہے۔

ایک دن وہ کسی دوسرے شہر جانے کی جلدی میں تھے۔ وہ حسبِ معمول جلدی جلدی تیار ہو کر نکل گئے۔ میں نے گھر کے معمول کے کام شروع کر دیے۔ دوپہر کے وقت میں ان کے کپڑے استری کر رہی تھی تاکہ جب وہ واپس آئیں تو سب کچھ صاف ستھرا ہو۔ انہی کپڑوں کی جیب سے اچانک ایک کاغذ نیچے گر گیا۔

میں نے جھک کر اسے اٹھایا تو دیکھا کہ وہ بجلی کا بل تھا۔

پہلے تو میں نے زیادہ توجہ نہیں دی، لیکن جب میری نظر اس پر لکھے نام اور پتے پر پڑی تو میں چونک گئی۔ اس بل پر میرے شوہر کا نام لکھا تھا مگر پتہ کسی اور شہر کے ایک بہت پوش علاقے کا تھا۔

میرے دل میں عجیب سا خدشہ پیدا ہوا۔

میں نے خود کو سمجھانے کی کوشش کی کہ شاید یہ ان کے کسی دفتر کا بل ہو یا شاید کوئی پراپرٹی ہو جس کے بارے میں انہوں نے مجھے ابھی تک نہیں بتایا۔ لیکن دل ماننے کو تیار نہیں تھا۔ جتنا میں سوچتی، اتنا ہی دل میں بے چینی بڑھتی جاتی۔

دو دن تک میں اسی کشمکش میں رہی۔ آخرکار میں نے فیصلہ کیا کہ میں خود اس پتے پر جا کر حقیقت معلوم کروں گی۔

میں نے کسی کو کچھ نہیں بتایا۔ اگلے دن میں بس کے ذریعے اس شہر روانہ ہو گئی۔ سفر کے دوران میرا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ میرے ذہن میں ہزاروں سوال گردش کر رہے تھے۔

“اگر واقعی کوئی راز ہوا تو؟”

“اگر یہ صرف میرا وہم نکلا تو؟”

چند گھنٹوں بعد میں اس شہر پہنچ گئی۔ میں نے ایک ٹیکسی لی اور ڈرائیور کو وہ پتہ بتا دیا۔ تھوڑی دیر بعد ٹیکسی ایک وسیع اور خوبصورت سڑک پر آ کر رک گئی۔

میرے سامنے ایک بہت بڑا اور شاندار بنگلہ کھڑا تھا۔

اس کے بڑے بڑے دروازے، خوبصورت باغیچہ اور مہنگی گاڑی دیکھ کر صاف لگ رہا تھا کہ یہاں کوئی بہت امیر لوگ رہتے ہیں۔

میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔

میں آہستہ آہستہ گیٹ کے اندر گئی اور دروازے کے پاس جا کر ڈور بیل بجا دی۔

چند لمحے بعد دروازہ کھلا۔

جس عورت نے دروازہ کھولا اسے دیکھ کر میرے قدموں تلے زمین کھسک گئی۔

وہ کوئی اور نہیں بلکہ میری اپنی بڑی بہن عائشہ تھی۔

میری آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔

“عائشہ…؟”

وہ بھی مجھے دیکھ کر بالکل ساکت رہ گئی۔ اس کے چہرے پر حیرت اور گھبراہٹ دونوں واضح تھیں۔

تم یہاں کیسے؟” اس نے دھیمی آواز میں پوچھا۔“

میں نے ہاتھ میں پکڑا ہوا بجلی کا بل اس کے سامنے کر دیا۔

“یہ پوچھنے آئی ہوں کہ میرے شوہر کا نام تمہارے گھر کے بل پر کیوں لکھا ہے؟”

میرے سوال پر اس کا چہرہ مزید زرد پڑ گیا۔

اس نے جلدی سے مجھے اندر آنے کو کہا اور دروازہ بند کر دیا۔

ہم دونوں ڈرائنگ روم میں بیٹھ گئے۔ کمرے میں عجیب سی خاموشی چھا گئی تھی۔ کچھ لمحوں بعد عائشہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

“مجھے نہیں معلوم تھا کہ ایک دن تم اس طرح یہاں آ جاؤ گی۔”

مطلب؟” میں نے بے چینی سے پوچھا۔“

:اس نے لرزتی آواز میں کہا

“یہ گھر… تمہارے شوہر کا ہے۔”

میرے دل کی دھڑکن رک سی گئی۔

“لیکن کیوں؟”

عائشہ نے سر جھکا لیا۔

“کیونکہ… وہ میرے شوہر بھی ہیں۔”

مجھے لگا جیسے میرے کانوں نے غلط سنا ہے۔

“کیا؟”

اس نے روتے ہوئے بتایا کہ اس کی شادی میرے شوہر سے پانچ سال پہلے ہوئی تھی۔ شروع میں سب کچھ ٹھیک تھا مگر بعد میں کچھ خاندانی مسائل کی وجہ سے وہ دونوں الگ شہروں میں رہنے لگے۔ میرے شوہر نے خاندان والوں سے بھی یہ بات زیادہ ظاہر نہیں کی اور پھر کچھ عرصے بعد انہوں نے مجھ سے شادی کر لی۔

مجھے یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ انہوں نے دوسری شادی کر لی ہے۔” عائشہ نے کہا۔”

میرے دل میں جیسے طوفان اٹھ رہا تھا۔

میں ابھی اس صدمے سے نکل بھی نہیں پائی تھی کہ اچانک گیٹ کھلنے کی آواز آئی۔

چند لمحوں بعد دروازہ کھلا اور میرے شوہر اندر داخل ہوئے۔

جیسے ہی ان کی نظر ہم دونوں پر پڑی، وہ بالکل ساکت رہ گئے۔ ان کے چہرے کا رنگ ایک دم اڑ گیا۔

کمرے میں مکمل خاموشی چھا گئی۔

میں آہستہ سے کھڑی ہوئی اور ان کے سامنے جا کر رک گئی۔

میری آنکھوں میں آنسو تھے مگر آواز حیرت انگیز طور پر پرسکون تھی۔

“آج سچ بتا دو۔”

وہ خاموش رہے۔

:میں نے دوبارہ کہا

“ہم دونوں میں سے تمہاری اصل بیوی کون ہے… اور کون صرف ایک دھوکہ؟”

وہ کچھ لمحے سر جھکائے کھڑے رہے۔ ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

اس لمحے مجھے سمجھ آ گیا کہ سچ کبھی کبھی اتنا تلخ ہوتا ہے کہ انسان کے تمام یقین ٹوٹ جاتے ہیں۔

میں نے آخری بار ان دونوں کو دیکھا۔

پھر خاموشی سے دروازہ کھولا اور باہر آ گئی۔

اس بنگلے سے نکلتے وقت میرے قدم بھاری تھے مگر دل میں ایک عجیب سا سکون بھی تھا۔

کیونکہ اس دن مجھے ایک بات سمجھ آ گئی تھی کہ اندھا اعتبار کبھی کبھی انسان کو سب سے بڑا دھوکہ دے جاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *