ایران، رجیم چینج اور دجال

زیاد اصغر زارون کے قلم سے

:ایک تفصیلی جائزہ

موجودہ عالمی سیاسی منظر نامے میں مشرقِ وسطیٰ کی اسٹریٹجک تبدیلیاں محض سرحدوں کی تبدیلی یا سیاسی اقتدار کی منتقلی تک محدود نہیں ہیں، بلکہ ان کے پسِ پردہ گہرے یہودی محرکات کار فرمانظر آرہے ہیں۔

خاص طور پر ایران میں رجیم چینج کے حوالے سے امریکہ اور اسرائیل کے عزائم اور اسلامی پیشن گوئیوں میں مذکور دجال کے ظہور کا مقام اصفہان ایک ایسا تکون بناتے ہیں جس کا فہم حاصل کرنا عصرِ حاضر کے سیاسی اور مذہبی محققین کے لیے ناگزیر ہے۔

ایران کا موجودہ اسلامی ڈھانچہ، جو کہ ولایتِ فقیہ کے تصور پر استوار ہے، اپنی فطرت میں دجالی فتنہ گری کے لیے ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے ۔ لہٰذا، پیشن گوئیوں کے مطابق اصفہان سے دجال کے ظہور اور اسے میسر آنے والی ستر ہزار یہودیوں کی حمایت کے لیے ایران کے سیاسی نقشے میں ایسی بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے جو موجودہ نظریاتی رکاوٹوں کو ختم کر سکے ۔

جون 2025 میں ایران اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی 12 روزہ جنگ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بحران نے اس اسٹریٹجک خلا کو واضح کر دیا ہے جس کی طرف مذہبی نصوص اشارہ کرتی ہیں ۔

اسلام میں واضح طور پر دجال کا ظہور فتنہِ عظیم کے طور پر بیان کیا گیا ہے، جس کی شدت اور ہولناکی سے ہر نبی نے اپنی امت کو ڈرایا ہے ۔

،احادیثِ نبویہ کے مطابق
دجال کے ظہور کا ایک مخصوص جغرافیائی مرکز اصفہان ہوگا۔ وہ شہر جو موجودہ ایران کا ایک قدیم اور اسٹریٹجک طور پر سب سے اہم شہر ہے ۔

،صحیح مسلم کی روایت کے مطابق
اصفہان کے یہودیوں میں سے ستر ہزار افراد دجال کی پیروی کریں گے، جنہوں نے سبز چادریں اوڑھ رکھی ہوں گی۔
یہ تفصیل محض ایک عددی نشاندہی نہیں بلکہ ایک گہرے سماجی اور سیاسی ماحول کی عکاسی کرتی ہے جہاں دجال کو ایک منظم اور مسلح حمایت میسر ہوگی۔

اصفہان کی تاریخی جڑوں کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس شہر کا ایک بڑا حصہ قدیم دور میں یہودیہ کہلاتا تھا، جہاں بخت نصر کی جلاوطنی کے بعد یہودیوں نے سکونت اختیار کی تھی کیونکہ یہاں کی مٹی اور پانی یروشلم سے مشابہ تھا۔ یہ تاریخی تسلسل اس مقام کی اسکاٹولوجیکل اہمیت کو مزید مستحکم کرتا ہے۔ اصفہان میں یہودیوں کی یہ قدیم موجودگی اور ان کا دجال کے ساتھ تعلق، اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ آخری زمانے میں اس شہر کی سیاسی حیثیت میں ایک ایسی تبدیلی آئے گی جو وہاں موجود اقلیتوں یا مخصوص طبقات کو دجال کے جھنڈے تلے جمع ہونے کا موقع فراہم کرے گی ۔

،احادیث کے مطابق
دجال کے ظہور سے قبل تین سخت سالوں کی پیشن گوئی کی گئی ہے جن میں خوراک اور پانی کی شدید قلت ہوگی۔ اصفہان کے موجودہ ماحولیاتی حالات، جہاں زایندہ رود خشک ہو چکا ہے اور زیرِ زمین پانی کی سطح تیزی سے گر رہی ہے، ان پیشن گوئیوں کے مادی ظہور کی طرف ایک اہم اشارہ سمجھے جا سکتے ہیں۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ جب کوئی معاشرہ شدید مادی محرومی کا شکار ہوتا ہے، تو وہ دجال جیسے شعبدہ باز کے مادی معجزات کی طرف آسانی سے راغب ہو جاتا ہے۔

ایران میں نظام کی تبدیلی: امریکہ اور اسرائیل کے اسٹریٹجک عزائم


امریکہ اور اسرائیل کی خارجہ پالیسی میں ایران کا موجودہ نظام ایک ایسی دیوار کی مانند ہے جو ان کے مشرقِ وسطیٰ میں گریٹر اسرائیل اور عالمی بالادستی کے خوابوں کے درمیان حائل ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوبارہ آمد اور ان کی ہائی پریشر والی پالیسی نے ایران میں نظام کی تبدیلی کے عمل کو تقویت دی ہے۔ اسرائیل کے لیے ایران محض ایک سیاسی حریف نہیں بلکہ ایک ایسا دشمن ہے جسے وہ اپنی مذہبی کتابوں میں عجمی ریچھ کے طور پر دیکھتے ہیں، جو آخرت کی جنگ یعنی یاجوج ماجوج کے دور میں اسرائیل پر حملہ آور ہوگا۔

جون 2025 کی بارہ روزہ جنگ اس کشمکش کا ایک فیصلہ کن مرحلہ ثابت ہوئی۔
اسرائیل کے رائزنگ لائن آپریشن اور امریکہ کی شمولیت نے ایران کی ایٹمی تنصیبات کو تباہ کر کے ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی دفاعی صلاحیتوں کا پول کھول دیا۔ اس جنگ کے نتیجے میں ایران کے اندر جو سیاسی لرزہ طاری ہوا، اس نے انتظامی اختیارات کی مرکزیت کو کمزور کر دیا، جس کا ثبوت صدر پیزشکیان کی جانب سے گورنروں کو انتظامی اختیارات کی منتقلی ہے۔ یہ مرکزیت کا خاتمہ ہی وہ پہلا قدم ہے جو اصفہان جیسے شہروں کو مرکزی اسلامی حکومت کے کنٹرول سے آزاد کر کے وہاں دجالی قوتوں کے نفوذ کے لیے راستہ ہموار کر سکتا ہے ۔

اس جنگ نے ایران کے مزاحمتی بلاک کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ شام میں بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ اور لبنان میں حزب اللہ کی اسٹریٹجک کمزوری نے ایران کو علاقائی سطح پر تنہا کر دیا ہے ۔ امریکی اور اسرائیلی منصوبہ سازوں کا خیال ہے کہ ایران کے داخلی خلفشار، معاشی پابندیوں اور نسلی اقلیتوں کی تحریکوں کو ہوا دے کر نظام کو اندر سے منہدم کیا جا سکتا ہے ۔ یہ رجیم چینج ہی وہ کڑی ہے جو اصفہان کے یہودیوں کو، جو اس وقت حکومتی کریک ڈاؤن کا شکار ہیں، ایک ایسی قوت بننے کا موقع دے گی جس کا ذکر احادیث میں ہے۔

ولایتِ فقیہ: دجالی خروج کی راہ میں نظریاتی رکاوٹ


ایران کا موجودہ نظام ‘ولایتِ فقیہ’ کے تصور پر قائم ہے، جس کی بنیاد آیت اللہ خمینی نے رکھی تھی ۔ اس نظریے کے مطابق، غیبتِ کبریٰ کے دوران ایک عادل فقیہ امام مہدی کے نائب کے طور پر معاشرے کی مدیریت کرتا ہے تاکہ دینِ الہیٰ کا نفاذ ہو سکے اور دجالی فتنوں کا مقابلہ کیا جا سکے ۔ اس نظریاتی فریم ورک کے اندر دجال کے لیے کوئی جگہ موجود نہیں ہے، کیونکہ یہ ریاست دجال کے سب سے بڑے دشمن ‘امام مہدی’ کے ظہور کی تیاری کا دعویٰ کرتی ہے۔

ایران کی موجودہ قیادت، بالخصوص سپریم لیڈر علی خامنہ ای، دجال کے ظہور کے لیے درکار سماجی انتشار کے خلاف ایک مضبوط بند باندھے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اصفہان سے دجال کا ظہور موجودہ اسلامی حکومت کی موجودگی میں ممکن نظر نہیں آتا، کیونکہ ریاست کا سکیورٹی ڈھانچہ کسی بھی ایسے مابعد الطبیعیاتی دعویدار کو فوراً کچلنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ پیشن گوئیوں کی تکمیل کے لیے اس نظام کا انہدام ناگزیر ہے تاکہ اصفہان میں وہ سیاسی خلا پیدا ہو سکے جہاں دجال اپنی الوہیت کا دعویٰ کر سکے اور اسے ستر ہزار مسلح حامی میسر آ سکیں۔

ایرانی سیاسی نظام میں مہدویت کے مختلف نظریات


ایران کی داخلی سیاست میں مابعد الطبیعیاتی تصورات کو لے کر مختلف گروہ موجود ہیں جن کے درمیان توازن ریاست کے استحکام کو برقرار رکھتا ہے۔

روایتی علماء کا گروہ مانتا ہے کہ امام مہدی کا ظہور اللہ کے حکم سے ہوگا اور فقیہ کا کام محض معاشرے کو اسلام پر قائم رکھنا ہے۔

احمدی نژاد کا گروہ ظہورِ مہدی کو تیز کرنے کے لیے مابعد الطبیعیاتی اور بعض اوقات انتہا پسندانہ اقدامات کا حامی ہے، جس کی وجہ سے انہیں اکثر نظام کے اندر تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

حُجتیہ سوسائٹی: یہ ایک خفیہ لیکن بااثر نظریہ ہے جو مانتا ہے کہ دنیا کو گناہوں اور ظلم سے بھرنا چاہیے تاکہ امام مہدی کے ظہور کے لیے ‘اضطراری حالت’ پیدا ہو سکے۔

اگر ایران میں نظام کی تبدیلی کے نتیجے میں ایک لبرل یا مغرب نواز حکومت قائم ہوتی ہے، تو وہ ان تمام مذہبی رکاوٹوں کو ختم کر دے گی جو اس وقت دجالی خروج کی راہ میں حائل ہیں ۔ اصفہان جو کہ ایران کا صنعتی اور دفاعی قلب ہے، نظام کی تبدیلی کے بعد دجال کی تکنیکی اور عسکری طاقت کا گہوارہ بن سکتا ہے۔

اصفہان میں یہودیوں کی موجودگی کی تاریخ 2,500 سال سے زائد پرانی ہے ۔ سائرس اعظم کے دور سے لے کر ساسانی اور صفوی ادوار تک، اصفہان میں یہودیوں کی بستی یہودیہ یا دارالیہود ہمیشہ سے ایک اہم علمی اور تجارتی مرکز رہی ہے ۔ اسلامی روایات میں دجال کا اس مقام سے ظہور کوئی اتفاق نہیں بلکہ اس کی جڑیں اس قدیم تاریخی تسلسل میں ہیں جہاں یہودیوں نے یروشلم کے متبادل کے طور پر اصفہان کو منتخب کیا تھا۔

موجودہ دور میں اصفہان میں یہودیوں کی تعداد کم ہو کر تقریباً 1,500 رہ گئی ہے، لیکن ان کی مذہبی علامات جیسے سارہ بت آشر کا قبرستان آج بھی یہودیوں کے لیے ایک مقدس زیارت گاہ ہے۔ ایرانی یہودی اس وقت شدید دباؤ میں ہیں اور خود کو صیہونیت سے الگ ثابت کرنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں تاکہ وہ ریاست کی انتقامی کارروائیوں سے بچ سکیں لیکن 2025 کی جنگ کے بعد ایران کے انٹیلی جنس اداروں نے ان پر نگرانی سخت کر دی ہے، جس سے ان کے اندر ایک بیگانگی اور نجات دہندہ (مسیحا) کے لیے تڑپ بڑھی ہے۔

یہودی اسکاٹولوجی میں بھی فارس یعنی ایران کو ایک اہم مقام حاصل ہے۔ وہ سائرس اعظم کو خدا کا مسیحا قرار دیتے ہیں جس نے انہیں بابل کی قید سے نجات دی۔

جدید دور میں بہت سے یہودی حلقے ایران میں نظام کی تبدیلی کو ایک دوسرے سائرس کی آمد سے تعبیر کرتے ہیں، جو انہیں موجودہ تہران کے ظلم سے نجات دلائے گا۔

یہی وہ نفسیاتی ماحول ہے جہاں دجال خود کو مسیحا بنا کر پیش کرے گا اور اصفہان کے یہودیوں کی وفاداری حاصل کرنے میں کامیاب ہوگا ۔

جون 2025 کی جنگ کے بعد ایران ایک بحرانی کیفیت میں داخل ہو چکا ہے ۔ اسٹریٹجک شکست نے نہ صرف ایران کے دفاعی نظام کو بے نقاب کیا بلکہ ریاست کے اندرونی اتحاد کو بھی پارہ پارہ کر دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت اب اسٹریٹجک ہم آہنگی کھو چکی ہے، جس کی وجہ سے وہ مذہبی اقلیتوں اور سیاسی مخالفین پر بے جا تشدد کر رہی ہے۔ اس طرح کا جبر اکثر انقلاب یا مکمل نظام کی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔

اصفہان میں 2025 کے اواخر میں ہونے والے مظاہرے، جو پانی کی قلت اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف تھے، اب نظام کی تبدیلی کے نعروں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل ان مظاہروں کو قریب سے مانیٹر کر رہے ہیں اور صدر ٹرمپ نے واضح انتباہ دیا ہے کہ اگر ایران نے مظاہرین پر تشدد کیا تو اسے سخت ردِعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ صورتحال اصفہان میں ایک ایسے سیاسی خلا کی نشاندہی کر رہی ہے جہاں مرکزی حکومت کی گرفت تیزی سے ختم ہو رہی ہے ۔

دجال کے ظہور کے لیے جس فتنہ اور انارکی کا ذکر احادیث میں ہے، وہ موجودہ ایران کے سماجی اور سیاسی ڈھانچے میں واضح طور پر نظر آ رہا ہے ۔ جب ایک منظم ریاست کا خاتمہ ہوتا ہے تو مابعد الطبیعیاتی قوتیں اور فتنہ گر گروہ تیزی سے خلا کو پر کرتے ہیں۔ اصفہان کا صنعتی ڈھانچہ، جو کبھی ریاست کی طاقت تھا، نظام کی تبدیلی کے بعد دجالی لشکر کے لیے وار مشین کا کام دے سکتا ہے ۔

ایران میں نظام کی تبدیلی کے عزائم محض جیو پولیٹیکل نہیں بلکہ ان کے پیچھے صیہونیت کے گہرے عقائد کارفرما ہیں ۔ اسرائیل کے مذہبی حلقے اور امریکہ میں کرسچن صیہونی گروہ مانتے ہیں کہ یروشلم میں تھرڈ ٹیمپل کی تعمیر کے بغیر مسیح کی واپسی ممکن نہیں ہے۔ ایران، جو کہ القدس کے تحفظ کا سب سے بڑا دعویدار ہے، اس تعمیراتی منصوبے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

اسرائیل میں بن غفیر جیسے انتہا پسند وزراء کی پالیسیاں، جو مسجدِ اقصٰی کی جگہ ہیکل کی تعمیر کے لیے راہ ہموار کر رہی ہیں، ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم کا باعث بنی ہیں ۔ صیہونی عزائم کے مطابق، ایران کے موجودہ نظام کا خاتمہ یاجوج ماجوج کی جنگ میں ان کی فتح کی ضمانت ہوگا ۔ وہ ایران میں ایک ایسا نظام چاہتے ہیں جو اسرائیل کی بالادستی کو تسلیم کرے اور ہیکل کی تعمیر پر خاموشی اختیار کرے ۔ مابعد الطبیعیاتی طور پر، یہ وہی وقت ہوگا جب دجال اصفہان سے نکلے گا تاکہ یہودیوں کو ایک جھوٹی جیت کا احساس دلائے اور انہیں اپنی پیروی پر مائل کرے ۔

کی تربیت مکمل کر لی ہے ۔(Priests)اسرائیلی تنظیم ٹیمپل انسٹی ٹیوٹ نے ہیکل کے لیے برتن، لباس اور یہاں تک کہ کوہنین

ان کے لیے ایران میں نظام کی تبدیلی وہ آخری رکاوٹ ہے جسے عبور کرنا ناگزیر ہے ۔ یہ کشمکش محض زمین کے ٹکڑے کے لیے نہیں بلکہ اس عالمی تخت کے لیے ہے جس پر دجال اصفہان سے نکل کر قابض ہونا چاہے گا ۔

جدید محققین دجال کے معجزات کو عصرِ حاضر کی ٹیکنالوجی کے تناظر میں بھی دیکھتے ہیں۔ دجال کی سواری جو بادلوں کے درمیان تیزی سے سفر کرے گی، جدید جنگی طیاروں یا ڈرون ٹیکنالوجی کی عکاسی ہو سکتی ہے ۔ اصفہان، جو کہ ایران کا ‘ہائٹیک حب’ ہے اور جہاں ڈرون اور میزائل سازی کے بڑے مراکز ہیں، نظام کی تبدیلی کے بعد دجال کے لیے ایک ایسا ‘تکنیکی مرکز’ فراہم کر سکتا ہے جہاں سے وہ پوری دنیا کو کنٹرول کرے گا ۔
دجال کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ ‘پانی اور آگ’ (جنت اور جہنم) اپنے ساتھ لائے گا ۔ موجودہ دور کے ‘کمیونیکیشن نیٹ ورکس’ اور ‘ہولوگرام ٹیکنالوجی’ کے ذریعے ایسے بصری دھوکے پیدا کرنا اب ناممکن نہیں رہا ۔ اصفہان میں موجود سائنسی انفراسٹرکچر کا دجالی قوتوں کے ہاتھ میں آنا اس فتنے کو عالمی سطح پر پھیلانے کا سبب بنے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران میں دلچسپی محض تیل تک محدود نہیں، بلکہ وہ اس ‘تکنیکی طاقت’ پر قبضہ چاہتے ہیں جو مستقبل کے عالمی نقشے میں کلیدی ہوگی ۔

اصفہان میں موجود ‘صنعتی جینیئس’ اور وہاں کی یہودی برادری کی تاریخی جڑیں مل کر ایک ایسا ماحول بناتی ہیں جو دجال کے ‘سائنسی فتنے’ کے لیے آئیڈیل ہے ۔ نظام کی تبدیلی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی افراتفری اس ٹیکنالوجی کو ان ہاتھوں میں دے دے گی جو اسے انسانیت کی گمراہی کے لیے استعمال کریں گے ۔

اسلامی تاریخ میں بہت سی پیشن گوئیاں اپنے وقت پر من و عن پوری ہوئی ہیں۔ دجال کے اصفہان سے ظہور کی پیشن گوئی بھی اسی طرح اٹل ہے ۔ مادی تجزیہ کاروں کے لیے یہ حیرت انگیز ہو سکتا ہے، لیکن اسٹریٹجک حقائق اسی سمت جا رہے ہیں۔ ایران کا موجودہ اسلامی نظام اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود داخلی اور خارجی دباؤ کے سامنے ٹوٹ رہا ہے۔ 2025 کی جنگ نے وہ آخری ضرب لگا دی ہے جس کے بعد نظام کا مکمل انہدام اب صرف وقت کی بات ہے۔

نظام کی تبدیلی کے بعد ایران میں پیدا ہونے والی صورتحال کچھ یوں ہو سکتی ہے:
اصفہان جیسے شہروں پر مرکزی کنٹرول ختم ہو جائے گا، جس سے دجال کے حامیوں کو منظم ہونے کا موقع ملے گا ۔

امریکہ اور اسرائیل کی براہِ راست موجودگی اصفہان کے یہودیوں کو ‘تحفظ’ فراہم کرے گی، جس کے سائے میں وہ دجال کے استقبال کی تیاری کریں گے ۔

ولایتِ فقیہ کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والا نظریاتی خلا لوگ ‘دجالی تصوف’ یا ‘مادی نجات’ سے پر کرنے کی کوشش کریں گے ۔

یہ پیشن گوئی کہ “اصفہان کے یہودی اس کی پیروی کریں گے” اس وقت تک پوری نہیں ہو سکتی جب تک ایران میں ایک ایسی حکومت موجود ہے جو یہودیوں کو جاسوسی کے شبہ میں گرفتار کرتی ہے اور صیہونیت کے خلاف جنگ لڑتی ہے۔

اصفہان میں پانی کا بحران محض ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک ‘اسکاٹولوجیکل سگنل’ ہے ۔ زایندہ رود کا خشک ہونا اور زراعت کی تباہی نے اصفہان کے لوگوں کو نفسیاتی طور پر ایک ایسی حالت میں پہنچا دیا ہے جہاں وہ کسی بھی ‘مسیحا’ کے منتظر ہیں جو انہیں خوراک اور پانی فراہم کر سکے۔

حدیثِ مبارکہ میں مذکور ہے کہ دجال کے پاس ‘روٹیوں کے پہاڑ’ اور ‘پانی کی نہریں’ ہوں گی ۔ اصفہان میں نظام کی تبدیلی کے بعد پیدا ہونے والا قحط دجال کو یہ موقع دے گا کہ وہ اپنی مادی طاقت کے ذریعے لوگوں کا ایمان خرید سکے ۔

یہ تمام عوامل ظاہر کرتے ہیں کہ اصفہان اب بحران’ کے آخری مراحل میں ہے جو دجال کے ظہور کے لیے ضروری ہے ۔ امریکہ اور اسرائیل کے حملے اس بحران کو مزید سنگین بنا رہے ہیں، جس سے پیشن گوئیوں کے پورا ہونے کی رفتار تیز ہو گئی ہے۔

ایران میں رجیم چینج کے حوالے سے اسرائیل اور امریکہ کے عزائم، اور اسلامی پیشن گوئیوں میں مذکور اصفہان سے ظہورِ دجال کا موازنہ کرنے سے مندرجہ ذیل نتائج حاصل ہوتے ہیں:
اول، اصفہان کی مابعد الطبیعیاتی مرکزیت اس کے قدیم یہودی ورثے اور اسٹریٹجک محلِ وقوع کی وجہ سے ہے ۔ حدیثِ نبوی میں اصفہان کے ستر ہزار یہودیوں کی جانب سے دجال کی پیروی کا ذکر اس بات کا متقاضی ہے کہ وہاں ایک ایسا سیاسی اور سماجی ماحول پیدا ہو جہاں یہودی برادری خود کو منظم اور مسلح کر سکے ۔ موجودہ ایرانی نظام کے تحت، جو کہ صیہونیت کا سخت ترین دشمن ہے، یہ منظر نامہ ناممکن ہے ۔

دوم، 2025 کی بارہ روزہ جنگ نے ایران کے اس دفاعی اور نظریاتی حصار کو توڑ دیا ہے جس نے دجالی خروج کے لیے راستہ روک رکھا تھا۔ ایٹمی تنصیبات کی تباہی اور پاسدارانِ انقلاب کی سینیئر قیادت کا خاتمہ ریاست کو ایک ایسے انتظامی بکھراؤ کی طرف لے گیا ہے جو نظام کی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔

سوم، امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیاں، اگرچہ بظاہر سیکولر اور اسٹریٹجک نظر آتی ہیں، لیکن ان کے پیچھے مسیحائی عزائم کارفرما ہیں۔ ایران کے موجودہ نظام کا خاتمہ ان کے لیے تیسرے ہیکل کی تعمیر اور مشرقِ وسطیٰ میں اپنی مذہبی بالادستی قائم کرنے کا واحد راستہ ہے۔

چہارم، اصفہان کے ماحولیاتی اور معاشی حالات ان پیشن گوئیوں کی مادی تصدیق کر رہے ہیں جو دجال کے ظہور سے قبل قحط اور انتشار کی بات کرتی ہیں ۔ جب ایران میں نظام تبدیل ہوگا، تو اصفہان کا صنعتی اور تکنیکی ڈھانچہ دجال کے لیے وہ طاقت فراہم کرے گا جس کے ذریعے وہ پوری دنیا کو اپنے سحر میں مبتلا کرے گا۔

مستقبل کا منظر نامہ یہ بتاتا ہے کہ ایران میں رجیم چینج محض ایک سیاسی واقعہ نہیں ہوگا، بلکہ یہ اس عالمی فتنے کا نقطہِ آغاز ہوگا جس کی خبر چودہ سو سال پہلے صادق و امین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی۔

ایران کی موجودہ اسلامی حکومت کا خاتمہ اس ‘رکاوٹ’ کا دور ہونا ہے جو دجال اور اس کے ستر ہزار اصفہانی پیروکاروں کے درمیان حائل ہے ۔ جوں جوں 2026ء آگے بڑھ رہا ہے۔ اصفہان اور تہران کے سیاسی ایوان کمزور ہورہے ہیں۔ یہ رجیم چینج دنیا کو ایک ایسے دور کی طرف لے جارہا ہے، جہاں دنیا کالے سب سے بڑے معرکے کے لیے میدان سجایا جارہا ہے۔

اسلامی پیشن گوئیوں کا پورا ہونا ایک اٹل حقیقت ہے، اور موجودہ عالمی تبدیلیاں اسی عظیم نقشے کا حصہ ہیں جو دنیا میں پہلے سے مرتب کیا جا چکا ہے۔
اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں وقت آنے پر حق کی پہچان کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں فتنہ دجال سے اپنی پناہ عطا فرمائے آمین

جزاک اللّٰہ خیراً کثیرا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *