ایران کے بہادر عوام کو سلام

بھیڑیے کے ساتھ سمجھوتہ نہ بھیڑوں کو بچا سکتا ہے اور نہ ہی پائیدار امن لا سکتا ہے۔ یہ صرف اگلے کھانے کا وقت طے کرتا ہے۔💔

عمان میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے والی کرنل قذافی کی صاحبزادی، عائشہ قذافی نے ایرانی عوام کے نام ایک دردناک مگر سبق آموز پیغام بھیجا ہے جو پڑھنے کے لائق ہے:

!اے ایران کے ثابت قدم اور آزادی پسند لوگو”

میں آپ سے اس دل کے ساتھ مخاطب ہوں جو تباہی، درد اور دھوکے کے زخموں سے چور ہے۔ میں اس عورت کی آواز ہوں جس نے اپنے ملک کو تباہ ہوتے دیکھا—اور یہ تباہی کسی کھلے دشمن کے ہاتھوں نہیں، بلکہ مغرب کی جھوٹی مسکراہٹوں اور کھوکھلے وعدوں کے جال میں پھنسنے کی وجہ سے آئی۔

میں آپ کو خبردار کرتی ہوں کہ مغربی سامراجیوں کے دھوکہ دہی پر مبنی الفاظ اور نعروں کے جھانسے میں نہ آنا۔ انہوں نے کبھی میرے والد، کرنل قذافی سے کہا تھا: ’اگر تم اپنا ایٹمی اور میزائل پروگرام چھوڑ دو، تو دنیا کے دروازے تمہارے لیے کھل جائیں گے۔‘

میرے والد نے نیک نیتی اور مذاکرات پر بھروسہ کرتے ہوئے رعایتیں دینے کا راستہ چنا۔ لیکن انجام کار، ہم سب نے دیکھا کہ کس طرح نیٹو (NATO) کے بموں نے ہماری سرزمین کو ملبے کے ڈھیر میں بدل دیا۔ لیبیا خون میں نہلا دیا گیا اور وہاں کے عوام غربت، جلاوطنی اور بربادی کی دلدل میں پھنس گئے۔

میرے ایرانی بھائیو اور بہنو! پابندیوں، مخبروں اور معاشی جنگ کے سامنے آپ کی ہمت، غیرت اور استقامت آپ کی قومی وقار اور حقیقی آزادی کی دلیل ہے۔ دشمن کو رعایتیں دینا سوائے تباہی، تقسیم اور مصائب کے کچھ نہیں لاتا۔ بھیڑیے کے ساتھ سودے بازی بھیڑوں کو نہیں بچاتی—یہ صرف شکاری کی اگلی غذا کا دن مقرر کرتی ہے!

تاریخ گواہ ہے کہ جو ڈٹ گئے—چاہے وہ کیوبا، وینزویلا، شمالی کوریا ہو یا فلسطین—وہ دنیا کے ہیروز کے دلوں میں زندہ ہیں اور تاریخ میں باوقار طریقے سے امر ہو گئے۔ اور جنہوں نے ہتھیار ڈال دیے، وہ راکھ بن گئے اور ان کے نام تک مٹا دیے گئے۔

!ایران کے بہادر عوام کو سلام

!ایرانی مزاحمت کو سلام

!عوام کے ساتھ عالمی یکجہتی کو سلام

،محبت اور ہمدردی کے ساتھ

“عائشہ قذافی