تصویر کا بوسہ

ایک وکیل صاحب تھے۔ شہر میں اُن کی بڑی عزت تھی۔ لوگ اُنہیں نہایت نیک اور انصاف پسند انسان سمجھتے تھے۔ ایک دن اُنہوں نے ثواب کی نیت سے ایک بیوہ عورت سے شادی کر لی۔ اُس عورت کا ایک دو سال کا بیٹا بھی تھا۔

،شروع شروع میں وکیل صاحب اُس بچے کو اپنے سگے بیٹے سے بھی زیادہ پیار دیتے تھے۔ وہ اُسے گود میں اٹھاتے، بازار لے جاتے، کھلونے خرید کر دیتے اور ہر ایک سے کہتے

“یہ میرا بیٹا ہے۔”

وہ بچہ بھی اُن سے بے حد محبت کرتا تھا۔ جب بھی وکیل صاحب گھر آتے تو وہ دوڑ کر اُن کے گلے لگ جاتا۔ وکیل بھی مسکرا کر اُسے سینے سے لگا لیتے۔

وقت گزرتا گیا۔

چند سال بعد اللہ نے وکیل صاحب کو اپنا بیٹا بھی دے دیا۔ گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ مگر اسی خوشی کے ساتھ ایک تبدیلی بھی آ گئی۔

آہستہ آہستہ وکیل صاحب کا دل بدلنے لگا۔

جو بچہ پہلے اُن کی آنکھوں کا تارا تھا، اب اُنہیں بوجھ لگنے لگا۔ پہلے وہ اُسے گود میں بٹھاتے تھے، اب اُس سے دور رہنے لگے۔

بیوہ عورت یہ سب دیکھتی مگر خاموش رہتی۔ وہ ڈرتی تھی کہ کہیں اُس کے شوہر ناراض نہ ہو جائیں۔

چند سال اور گزر گئے۔ دونوں بچے اب پانچ چھ سال کے ہو چکے تھے۔

وکیل صاحب نے اپنے سگے بیٹے کو شہر کے مہنگے انگلش میڈیم سکول میں داخل کروا دیا۔ خوبصورت یونیفارم، بیگ، کتابیں اور گاڑی میں سکول جانا۔

…مگر وہ یتیم بچہ

اُسے سکول بھیجنے کے بجائے گھر کے کاموں میں لگا دیا گیا۔ کبھی پانی لانا، کبھی جوتے صاف کرنا، کبھی بازار سے سامان لانا۔

وہ چھوٹا سا بچہ اکثر دروازے کے پیچھے کھڑا اپنے بھائی کو سکول جاتے دیکھتا رہتا تھا۔

:ایک دن اُس نے ہمت کر کے وکیل صاحب سے پوچھا

“ابو جی… کیا میں بھی سکول جا سکتا ہوں؟”

وکیل صاحب کا چہرہ سخت ہو گیا۔

،انہوں نے غصے سے کہا

“تمہارا سکول یہی گھر ہے۔ جاؤ اپنا کام کرو۔”

یہ الفاظ اُس معصوم دل پر تیر کی طرح لگے۔

اس دن کے بعد اُس نے کبھی سکول کا ذکر نہ کیا۔

…مگر اُس کے دل میں ایک چیز ہمیشہ زندہ رہی

وکیل صاحب سے محبت۔

ایک دن اُس نے الماری سے وکیل صاحب کی ایک چھوٹی سی تصویر نکالی اور چپکے سے اپنی جیب میں رکھ لی۔

وہ تصویر اُس کے لئے سب کچھ بن گئی۔

وہ دن میں کئی بار تصویر نکالتا، اُسے دیکھتا اور بوسہ دیتا۔

وہ سمجھتا تھا کہ شاید ایک دن ابو جی پھر اُسے گلے لگا لیں گے۔

لیکن ایسا نہ ہوا۔

ایک رات جب وکیل صاحب نے اُسے معمولی سی بات پر سخت ڈانٹا تو وہ خاموشی سے اپنے کمرے میں گیا۔

…اپنی جیب میں تصویر رکھی

اور آہستہ سے گھر سے نکل گیا۔

اُس رات بارش ہو رہی تھی۔ سڑکیں سنسان تھیں۔

وہ ننھا سا بچہ تنہا شہر کی گلیوں میں چلتا رہا۔

وقت گزرتا گیا۔

وہ کبھی ہوٹل میں برتن دھوتا، کبھی ورکشاپ میں کام کرتا، کبھی مزدوری کرتا۔

مگر ایک چیز کبھی نہ بدلی۔

وہ روز کئی بار وکیل صاحب کی تصویر کو دیکھتا اور بوسہ دیتا۔

:جب کبھی اسے بہت مشکل پیش آتی تو وہ تصویر کو سینے سے لگا کر کہتا

“ابو جی… آپ میرے ساتھ ہیں نا؟”

پندرہ سال گزر گئے۔

وہ بچہ اب ایک جوان بن چکا تھا۔ محنت، ایمانداری اور صبر نے اُسے مضبوط بنا دیا تھا۔

دوسری طرف وکیل صاحب کی زندگی بھی بدل چکی تھی۔

ان کا اپنا بیٹا بگڑ چکا تھا۔ غلط دوستوں میں پڑ گیا تھا، نشے اور فضول خرچی میں ڈوب گیا تھا۔

ایک دن اُس نے بڑی رقم چرا لی اور گھر چھوڑ کر چلا گیا۔

یہ صدمہ وکیل صاحب برداشت نہ کر سکے۔

ان کی صحت خراب رہنے لگی۔

ایک دن عدالت سے واپس آتے ہوئے اچانک انہیں شدید دل کا دورہ پڑا۔ وہ سڑک پر گر گئے۔

لوگ جمع ہو گئے مگر کوئی آگے بڑھنے کو تیار نہ تھا۔

اتنے میں ایک نوجوان تیزی سے آگے آیا۔ اُس نے فوراً وکیل صاحب کو سنبھالا، گاڑی روکی اور انہیں ہسپتال لے گیا۔

ڈاکٹروں نے علاج شروع کر دیا۔

جب وکیل صاحب کو ہوش آیا تو انہوں نے اُس نوجوان کو اپنے پاس بیٹھا دیکھا۔

نوجوان کی آنکھوں میں عجیب سی محبت تھی۔

،وکیل صاحب نے کمزور آواز میں پوچھا

“بیٹا… تم کون ہو؟”

نوجوان مسکرایا مگر اُس کی آنکھیں نم تھیں۔

اس نے آہستہ سے جیب سے ایک پرانی سی تصویر نکالی۔

…وہ تصویر بالکل پرانی اور مڑی ہوئی تھی

مگر وہی تصویر تھی۔

وکیل صاحب کی تصویر۔

:نوجوان نے تصویر کو بوسہ دیا اور بولا

“ابو جی… میں وہی بچہ ہوں جسے آپ نے کبھی اپنے سینے سے لگایا تھا۔”

یہ سن کر وکیل صاحب پر جیسے بجلی گر گئی۔

ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

انہوں نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے اُس نوجوان کو گلے لگا لیا۔

“…بیٹا… مجھے معاف کر دو… میں نے تمہارے ساتھ بہت ظلم کیا”

نوجوان نے فوراً اُن کے ہاتھ پکڑ لئے۔

“نہیں ابو جی… آپ نے مجھے کبھی یتیم نہیں ہونے دیا۔ میں ہمیشہ سمجھتا رہا کہ آپ میرے ساتھ ہیں۔”

یہ سن کر وکیل صاحب زار و قطار رونے لگے۔

…اُس دن انہیں احساس ہوا کہ اصل بیٹا وہ نہیں جو خون کا رشتہ رکھتا ہے

بلکہ وہ ہے جو دل سے رشتہ نبھاتا ہے۔

اور اُس نوجوان نے پندرہ سال تک ایک تصویر سے محبت کر کے یہ رشتہ زندہ رکھا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *