حضرت عمرؓ اور قیصر روم کا ایلچی

!…حضرت عمرؓ اور قیصر روم کا ایلچی

قیصر روم نے اپنا خاص ایلچی حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں بھیجا، وہ ایلچی دور دراز کا سفر طے کرنے کے بعد جب مدینہ منورہ میں پہنچا تولوگوں سے دریافت کرنے لگا کہ مسلمانوں کے خلیفہ حضرت عمرؓ کا محل کہاں ہے؟ لوگوں نے اس کی یہ بات سنی تو ہنس دیے اور کہا، ان کا تو کوئی محل نہیں ہے، اگرچہ ان کے نام کی ہیبت سے بڑے بڑے حکمراں تھر تھرا اٹھتے ہیں، مگر ان کی فقیروں جیسی جھونپڑی ہے، وہ اپنے لیے کوئی محل نہیں رکھتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

روم کے ایلچی نے جب یہ سب کچھ سنا تو بڑا حیران ہوا اور اس کا اشتیاق بڑھ گیا کہ مسلمانوں کے خلیفہ کو دیکھنا چاہیے،اس نے اپنا سامان اور گھوڑے کو بغیر حفاظت کے چھوڑا اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تلاش کرنا شروع کردیا، وہ ہر ایک سے دیوانوں کی طرح حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پتہ پوچھتا پھرتا تھا، آخر ایک بدو عورت نے اس شخص کو اجنبی دیکھ کر بتایا کہ میں نے حضرت عمرؓ کو فلاں کھجور کے درخت کے نیچے دیکھا ہے کہ آپ وہاں پر تنہا سو رہے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چناں چہ وہ ایلچی اس بتائی ہوئی جگہ پر آیا اور دیکھا کہ حضرت عمر فاروقؓ کھجور کے درخت کے نیچے تنہا سو رہے ہیں، ایلچی آپ کو سوتا دیکھ کر دور کھڑا ہوگیا اور اس پر کپکپی طاری ہوگئی۔ اس کے دل میں ایک عجیب خوش کن کیفیت اور حضرت عمر فاروقؓ کی محبت پیدا ہوئی۔ محبت اور ہیبت کی عجیب کیفیت اس کے دل میں موجزن تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایلچی اپنی حالت کو دیکھ کر بڑا حیران ہوا اور سوچنے لگا کہ میں نے بہت سے معرکوں اور جنگوں میں حصہ لیا ہے، بہت بے جگری سے لڑاہوں، بہت سے زخم بھی کھائے ہیں، لیکن دشمنوں سے کبھی بھی خوف نہیں کھایا، میں بہت سے بادشاہوں کے درباروں میں گیا، مگر ان بادشاہوں کی ہیبت مجھ پر طاری نہیں ہوئی اور بادشاہوں کے سامنے ہمیشہ مطمئن رہا ہوں، بے شمار شیروں کا میں نے شکار کیا ہے اور اس شکار کے دوران شیر کا سامنا کرتے ہوئے مجھے کبھی خوف نہیں آیا اور میرے چہرے کی رنگت نہیں اڑی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج جب کہ یہ مسلمانوں کا خلیفہ سویا ہوا ہے، اس کی ہیبت نے میرے حواس گم کردیے ہیں، حالانکہ یہ ہستی بغیر ہتھیاروں کے زمین پر سوئی پڑی ہے اور میری یہ حالت ہے کہ میں سر سے پائوں تک کانپ رہا ہوں، یقیناً یہ کوئی اللہ کا خاص بندہ ہے جس کی ہیبت اللہ نے میرے دل پر طاری کردی ہے۔ ایلچی کافی دیر تک حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جاگنے کا انتظار کرتا رہا، اس کی جرأت نہ ہوئی کہ وہ آگے بڑھ کر فاروق اعظمؓ کو جگادے، آخر ایک گھنٹے کے بعد جناب فاروق اعظمؓ اپنی جگہ سے اٹھے، ایلچی آگے بڑھ کر تعظیم اور سلام کرنے لگا، اس کے بعد گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا۔اس واقعے سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، اسے طمانیت حاصل ہوجاتی ہے، پھر کسی چیز کا خوف نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ مخلوق کے دل میں اس کی ہیبت پیدا کردیتا ہے اور جواللہ تعالیٰ سے نہ ڈرے، اس کا دل کمزور ہوجاتا ہے اور پھر وہ اپنے سائے سے بھی خوف کھاتا ہے۔

واللہ اعلم و رسُول اعلم ۔

(حکایت مثنوی)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *