سرکاری اسکول
گاؤں کے سرکاری اسکول کی عمارت پرانی تھی۔ کچے صحن میں مٹی اڑتی رہتی تھی اور کلاسوں میں لکڑی کی پرانی بینچیں پڑی تھیں۔ اسی اسکول میں اسلم نام کا ایک دبلا پتلا مگر ذہین لڑکا پڑھتا تھا۔ وہ زیادہ بولتا نہیں تھا، مگر اس کی آنکھوں میں خواب بہت تھے۔
ایک دن ریاضی کی کلاس میں استاد صاحب نے سوال پوچھا۔ اسلم سے جواب دیتے ہوئے معمولی سی غلطی ہو گئی۔
استاد صاحب کا مزاج سخت تھا۔ وہ غصے میں آ گئے۔
انہوں نے پوری کلاس کے سامنے اسلم کو ڈانٹنا شروع کر دیا۔
تم جیسے نکمے لڑکے پڑھنے نہیں بلکہ وقت ضائع کرنے آتے ہیں!” استاد نے بلند آواز میں کہا۔”
پھر انہوں نے اسلم کو کھڑا کر کے سب بچوں کے سامنے مذاق اڑایا۔ کچھ بچے ہنسنے لگے۔
اسلم کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، مگر اس نے سر جھکا لیا۔
اس دن اس کا دل ٹوٹ گیا۔
اسکول ختم ہونے کے بعد وہ خاموشی سے گھر آیا اور بستہ ایک کونے میں پھینک دیا۔
،اس کے والد، رشید خان، ایک سخت مزاج آدمی تھے۔ انہوں نے پوچھا
“کیا ہوا؟ آج اتنی جلدی کیسے آ گئے؟”
،اسلم نے دھیرے سے کہا
“اب میں اسکول نہیں جاؤں گا۔”
والد غصے میں آ گئے۔
“کیوں؟”
اسلم نے استاد کی بات بتائی، مگر رشید خان کو لگا کہ یہ صرف بہانہ ہے۔
،انہوں نے سخت لہجے میں کہا
“!پڑھنا ہے تو پڑھو، ورنہ زندگی بھر مزدوری کرو گے”
مگر اسلم چپ رہا۔
اگلے دن بھی وہ اسکول نہیں گیا۔ تیسرے دن بھی نہیں۔
آخرکار رشید خان کو غصہ آ گیا۔ انہوں نے اسلم کو بری طرح مارا اور زبردستی اسکول جانے کو کہا۔
اسلم کے دل میں پہلے ہی زخم تھا، اب اس پر نمک بھی پڑ گیا۔
اس رات وہ دیر تک جاگتا رہا۔
پھر آدھی رات کو وہ خاموشی سے گھر سے نکل گیا۔
وہ بغیر کسی کو جگائے گاؤں سے باہر چلا گیا۔
،صبح جب والد کو معلوم ہوا تو انہوں نے بس اتنا کہا
“اگر اسے جانا تھا تو جانے دو۔ جب بھوک لگے گی تو خود واپس آ جائے گا۔”
مگر اسلم کبھی واپس نہ آیا۔
وقت گزرتا گیا۔
پہلے مہینے، پھر سال… پھر پورے پندرہ سال گزر گئے۔
گاؤں والوں نے آہستہ آہستہ اسلم کو بھلا دیا۔
اسی دوران شہر میں ایک خبر پھیلی۔
شہر میں نئے
صاحب تعینات ہوئے تھے۔ DPO
مگر وہ باقی افسروں جیسے نہیں تھے۔
وہ دفتر کے اندر بیٹھنے کے بجائے روز صبح پولیس اسٹیشن کے صحن میں ایک سادہ سی کرسی لگوا لیتے تھے تاکہ عام شہری آسانی سے آ کر اپنی شکایت سنا سکیں۔
لوگ حیران تھے کہ اتنا بڑا افسر اتنی سادگی سے لوگوں کے مسائل سن رہا ہے۔
ایک دن گاؤں کے وہی ماسٹر صاحب، جنہوں نے کبھی اسلم کو کلاس میں ذلیل کیا تھا، بڑی پریشانی میں پولیس اسٹیشن پہنچے۔
ان کے گھر رات کو چوری ہو گئی تھی۔
وہ شکایت درج کروانے آئے تھے۔
جب وہ صحن میں پہنچے تو وہاں ایک کرسی پر پولیس یونیفارم میں ایک نوجوان افسر بیٹھا تھا۔
اس کے چہرے پر سنجیدگی اور آنکھوں میں عجیب سی گہرائی تھی۔
ماسٹر صاحب نے جیسے ہی اس افسر کو دیکھا، وہ اچانک رک گئے۔
ان کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
وہ چند لمحے تک خاموش کھڑے رہے۔
،پھر دھیرے سے بولے
“…یہ… یہ ممکن نہیں”
سامنے بیٹھا پولیس افسر دراصل اسلم تھا۔
اسلم نے بھی انہیں پہچان لیا۔
مگر اس کے چہرے پر نہ غصہ تھا اور نہ ہی طنز۔
صرف ایک ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔
ماسٹر صاحب کے ہاتھ کانپنے لگے۔
،انہوں نے بمشکل کہا
“تم… اسلم ہو؟”
اسلم نے سر ہلایا۔
“جی ماسٹر صاحب۔”
ماسٹر صاحب کو اپنے پندرہ سال پرانے الفاظ یاد آ گئے۔
انہیں وہ دن یاد آیا جب انہوں نے ایک معصوم بچے کو سب کے سامنے ذلیل کیا تھا۔
ان کی آنکھیں جھک گئیں۔
،وہ دھیرے سے بولے
“بیٹا… میں نے تمہارے ساتھ بہت زیادتی کی تھی۔”
صحن میں موجود سب لوگ حیرت سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔
اسلم کچھ لمحے خاموش رہا۔
،پھر نرم لہجے میں بولا
“ماسٹر صاحب، اگر اُس دن آپ مجھے ڈانٹتے نہیں… تو شاید میں آج یہاں نہ ہوتا۔”
ماسٹر صاحب حیران ہو گئے۔
اسلم نے آہستہ آہستہ اپنی کہانی سنائی۔
گھر چھوڑنے کے بعد وہ شہر آ گیا تھا۔
شروع میں اس نے ہوٹل میں برتن دھوئے، پھر ایک دکان پر کام کیا۔
ایک دن ایک نیک دل پولیس افسر نے اسے دیکھا اور اس کی مدد کی۔
اس افسر نے اسلم کو پڑھنے کا موقع دیا۔
اسلم نے محنت کی… بہت محنت۔
وہ دن رات پڑھتا رہا۔
آخرکار اس نے مقابلے کا امتحان پاس کیا اور پولیس سروس میں شامل ہو گیا۔
اب وہ اسی شہر کا
تھا۔ DPO
یہ سن کر ماسٹر صاحب کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
،انہوں نے کہا
“مجھے معاف کر دو بیٹا۔”
،اسلم مسکرایا اور بولا
“آپ میرے استاد ہیں۔ شاگرد اپنے استاد سے ناراض نہیں رہتا۔”
،پھر اس نے فوراً ایک افسر کو بلایا اور کہا
“ماسٹر صاحب کے گھر کی چوری کا مقدمہ درج کرو اور جلد از جلد چور پکڑو۔”
ماسٹر صاحب کی آنکھوں میں شرمندگی اور فخر دونوں تھے۔
وہ جاتے ہوئے بار بار اسلم کو دیکھتے رہے۔
اس دن پولیس اسٹیشن میں موجود لوگوں نے ایک عجیب منظر دیکھا۔
ایک زمانے کا ذلیل کیا گیا طالب علم… آج ایک باوقار افسر تھا۔
اور وہی استاد… سر جھکائے کھڑا تھا۔
زندگی نے جیسے ایک خاموش سبق دے دیا تھا۔
کسی بچے کی عزت کو کبھی مت توڑو… کیونکہ وقت بدلنے میں دیر نہیں لگتی۔
