شریکِ حیات
ہمارے اپارٹمنٹ کے سامنے ایک کورین کینڈین میاں بیوی کا اپارٹمنٹ ہے، جب وہ نئے نئے شفٹ ہوئے ایک دن اچانک گھر سے لڑائی اور چیزوں کے گرنے کی آواز آنے لگی۔۔ گھر میں بس میں اور میرا بیٹا تھا، تھوڑی دیر بعد بیوی نے گھر کا دروازہ کھول کر زور زور سے بولنا شروع کردیا، تاکہ سب کو معلوم ہوجائے کہ جھگڑا چل رہا ہے، کبھی وہ انگریزی میں آہ و بکا کرتیں تو کبھی کورین میں۔۔ کچھ دیر تو شوہر چپ کرواتا رہا اور لگا کہ بات ختم کرنا چاہ رہا ہے۔۔ پھر اس نے بھڑک کر تھپڑ لگا دیا، اور یوں تماشہ مزید بڑھ گیا۔۔ چیزیں اٹھا کر گھر سے باہر پھینکی جانے لگیں، اور تھوڑی دیر بعد وہ بیوی کو گھر میں اکیلا چھوڑ کر باہر چلا گیا۔۔
ابھی اس سارے ہنگامے سے ذہن الجھا ہوا تھا کہ میرے بیٹے نے پوچھا یہ میاں بیوی لڑ کیسے رہے ہیں؟ کیا میاں بیوی ایسے لڑ سکتے ہیں؟
اور مجھے احساس ہوا کہ اس نے کبھی گھر میں لڑائی تو کیا بحث تک نہیں دیکھی۔۔نہ ہماری طبیعت میں یہ تماشے کا شوق ہے کہ اپنے مسائل سب کو بتائیں۔
کیونکہ اول تو زیادہ تر باتوں میں اختلاف ہوتا نہیں ہے، اور اگر ہوتا ہے تو اس کو بات کر کے سمجھا جاتا ہے،
کبھی کسی نکتے پر میں اور میرے شوہر گھنٹوں بات کر کے ایک دوسرے کے نظریے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں،
اگر سمجھ آجائے تو ہم خوش ہوتے ہیں کہ ایک دوسرے سے کوئی نئی چیز سیکھی، نہ سمجھ سکیں تب بھی ایک دوسرے کی رائے کی عزت کرتے ہیں۔۔ زندگی کو ایک دوسرے کی نظر سے دیکھنے کا بھی اپنا مزہ ہے، بشرطیکہ وہ نظر مثبت ہو!
اور جب گھر میں یہ تعلق مضبوط ہو تو باہر مختلف نظریات رکھنے والے لوگوں سے معاملہ کرنے میں بھی بہت آسانی ہوتی ہے۔۔
میں نے بہت لوگوں کے گھر اور تعلق کو قریب سے دیکھا ہے، یقین کریں بہت سے لوگ شادی شدہ ہیں لیکن بہت کم کے پاس جیون ساتھی ہیں۔۔۔ اور ہم۔۔ کبھی ہم دو مردوں کی طرح بیٹھ کر حساب کتاب کرتے ہیں، کبھی دو عورتوں کی طرح گھر سنبھالتے ہیں، اور زیادہ تر ہم بس دو دوستوں کی طرح ساتھ رہتے ہیں، شاید شادی ایسی ہی ہونی چاہئے، اس میں گھر چلانے یا سنبھالنے کی نفسیاتی برتری سے نکل کر بس ساتھ دینا اور اچھے طریقے سے ساتھ رہنا اہم ہے۔۔
شادی کے وقت سب سے زیادہ ضروری چیز نہ شادی ہال ہے، نہ شادی کا کھانا اور لڑکی کا جہیز۔۔
سب سے ضروری ہے کہ پہلے انسان خود کو جانے اور خود سے یہ سوال کرے کہ اسے زندگی سے کیا چاہئے۔۔ پھر ایسے ساتھی کا انتخاب کرے جو جذباتی طور پر اس سفر میں آپ کا ساتھ دے سکے۔۔
آپ کا اپنے شوہر یا بیوی سے رشتہ زندگی کے سب سے اہم اور اثرانداز تعلق میں سے ایک ہوتا ہے۔
ہر صحت مند رشتہ اُن دو لوگوں سے شروع ہوتا ہے جن کا خود اپنے آپ سے رشتہ بھی صحت مند ہو۔
اور ہر زہریلا رشتہ کم از کم ایک ایسے شخص کا نتیجہ ہوتا ہے جس کا اپنے آپ سے تعلق درست نہیں ہوتا۔
عجیب سی بات ہے کہ اکثر جن لوگوں کو لگتا ہے کہ وہ مصیبت میں ہیں ۔۔ دراصل انہی کی وجہ سے تعلق مصیبت میں ہوتا ہے، لیکن وہ اپنی غلطی سمجھ نہیں پاتے اور ان کا پارٹنر بھی انہیں بتا نہیں پاتا۔۔
ایک اچھا شریکِ حیات آپ کی زندگی میں آنے والی مشکلوں کو آسان بنا دیتا ہے۔
جبکہ ایک برا شریکِ حیات آپ کی زندگی کی اچھی چیزوں کو بھی مشکل کر دیتا ہے۔
لوگ آپ سے کہیں گے کہ کیا آپ کا شریکِ حیات، پارٹنر، آپ کی زندگی کو آسان بنا رہا ہے، یا مشکل؟ لیکن کتنی بار ہم خود سے یہ سوال کرتے ہیں کہ ہم اپنے شوہر یا بیوی کی زندگی میں آسانی اور سکون کا سبب ہیں یا نہیں؟ یہ آسانی اس پر منحصر ہے کہ زندگی میں اس کی ترجیحات کیا ہیں؟
میں ہمیشہ خود سے یہ پوچھتی ہوں کہ میں نے اس تعلق کو کیا دیا ہے؟ اور میں اسے مزید بہتر کیسے بنا سکتی ہوں، تیز دوڑتی ہوئی زندگی میں جہاں ہر شخص دن رات ایک مقابلے میں گزار دیتا ہے، کم از کم ہمارے پاس ایک ایسا شخص تو ہونا چاہئے جس پر ہم دل سے اعتبار کرسکیں، ایک ایسا تعلق جس میں کوئی انا نہ ہو! اور ایک دوسرے سے بڑھ کر اس کی عزت کی جائے، اس کے اہداف کو اپنا مقصد سمجھ کر ساتھ دیا جائے۔۔
لیکن اس سب کے لئے اپنے تحفظات سے نکلنا، اپنے ساتھی کو کھلے دل سے قبول کرنا اور سچائی کے ساتھ رشتہ نبھانے کا عزم ضروری ہے۔۔ جیسا ہم نے ایک دوسرے کے لئے کیا
اللہ سب کو پُرخلوص ساتھی دیں! اور ہمیں بھی سچائی کے ساتھ تعلق نبھانے اور خلوص کی قدر کرنے والا بنائیں۔۔ آمین
