عورت کا کردار
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں عورت کے کردار کو پرکھنے کا معیار اتنا سستا اور گھٹیا ہو چکا ہے کہ اگر کوئی لڑکی ہنس دے، خوش مزاج ہو، یا کسی کے ساتھ نارمل انداز میں بات کر لے تو فوراً اس پر فتوے لگنا شروع ہو جاتے ہیں، جیسے عزت، حیا اور کردار کا پیمانہ صرف اس کے چہرے کے تاثرات سے جڑا ہوا ہو، “ہنسی تو پھنسی” جیسے جملے نہ صرف بے شرمی کی انتہا ہیں بلکہ یہ اس بیمار ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں جس میں عورت کو ایک انسان نہیں بلکہ ایک شے سمجھا جاتا ہے جسے ہر وقت سنجیدہ، دبی ہوئی اور خوفزدہ رہنا چاہیے، ورنہ وہ مشکوک ہے، ذرا سوچو اگر یہی معیار مردوں پر لاگو کر دیا جائے تو کیا کوئی مرد اس پر پورا اتر سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ عورت کے رویے میں نہیں بلکہ دیکھنے والے کی گندی نظر اور بیمار سوچ میں ہے، میں یہاں واضح کر دوں کہ میں جو کہہ رہا ہوں وہ مشاہدہ ہے، دنیا داری میں دیکھا ہے، بازاروں میں لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا ہے، میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ کس طرح دو بہنیں یا سہیلیاں اگر ہنس کر بات کر رہی ہوں تو کچھ لوگ فوراً ان کے کردار پر شک کرنے لگتے ہیں، جیسے ان کے پاس کوئی خفیہ پیمانہ ہو جو صرف عورتوں کے لیے بنا ہو، یہ رویہ نہ صرف عورت کی توہین ہے بلکہ ہمارے معاشرے کی اخلاقی دیوالیہ پن کی کھلی نشانی ہے، ہم نے دین، اخلاق اور عزت کے اصل مفہوم کو چھوڑ کر اپنی مرضی کے اصول بنا لیے ہیں، حالانکہ عزت کا تعلق کردار، نیت اور عمل سے ہوتا ہے، نہ کہ اس بات سے کہ کوئی کتنی ہنسی یا کتنی خاموش رہی، افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسے جملے بولنے والے خود کو بڑا سمجھدار اور دنیا دیکھا ہوا سمجھتے ہیں، جبکہ حقیقت میں وہ اپنی جہالت کا کھلم کھلا مظاہرہ کر رہے ہوتے ہیں، اگر کسی لڑکی کی ہنسی تمہیں اس کے کردار پر شک کرنے پر مجبور کر دیتی ہے تو مسئلہ اس لڑکی میں نہیں تمہاری سوچ میں ہے، تمہاری تربیت میں ہے، اور تمہاری نیت میں ہے، معاشرے کو ٹھیک کرنا ہے تو عورتوں کو نہیں اپنی نظروں اور ذہنوں کو ٹھیک کرو، کیونکہ جب تک سوچ نہیں بدلے گی، ہر ہنستی ہوئی لڑکی تمہیں غلط ہی نظر آئے گی اور ہر خاموش لڑکی تمہیں “اچھی” لگے گی، چاہے حقیقت اس کے بالکل برعکس کیوں نہ ہو، اب وقت ہے کہ اس گھٹیا سوچ کو دفن کیا جائے اور عورت کو ایک مکمل انسان سمجھا جائے، نہ کہ ایک ایسا کردار جسے تم اپنی مرضی کے ترازو میں تولتے رہو۔
