ناول درندہ
قسط نمبر 43
باب پنجم: کاسر العاکم
مصنف: زیاد اصغر زارون
°°°°°°°°°°
زافیر، اس کے تین گارڈ اور بزرگ کے دو بیٹے دہکتے شعلوں میں گھِرے گھر کے اندر پھنسے ہوئے تھے۔ آگ ہر سمت پھیلتی جا رہی تھی اور دم گھونٹنے والی تپش ان کے وجود کو جلا دینے پر تلی ہوئی تھی۔ وقت کم تھا، سانسیں تیز تھیں اور ہر لمحہ موت قریب آتی محسوس ہو رہی تھی۔
شعلے زمین کو چیرتے ہوئے گرتے اور اردگرد کی ہر چیز کو بھسم کر دیتے۔ مگر چند لمحوں بعد وہ برسات مدہم پڑ گئی۔ اس لمحے کو غنیمت جانتے ہوئے سب تیزی سے دوڑتے ہوئے باہر نکلے اور لرزتے دلوں کے ساتھ بزرگ کے گھر کی سمت لپک پڑے۔
ابھی وہ منزل تک پہنچے بھی نہیں تھے کہ اچانک پیروں تلے زمین لرز اٹھی، زلزلے کی سی کیفیت چاروں طرف پھیل گئی۔ آگ اور بارش کی قیامت کے بعد یہ نئی افتاد ان سب کے وجود پر مزید خوف کی پرچھائیاں ڈال رہی تھی۔ لگتا تھا جیسے زمین خود ان کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہو۔
زلزلے کی ہولناک کیفیت کے باوجود وہ اپنی رفتار برقرار رکھنے کی کوشش کرتے رہے مگر اگلے ہی لمحے یوں لگا جیسے زمین اچانک دہل اٹھی ہو۔ ایک زور دار دھماکے کے ساتھ پیروں تلے زمین لرز گئی اور وہ سب بھاگتے بھاگتے ایک دوسرے سے ٹکرا کر زمین پر جا گرے۔
ابھی وہ سنبھل بھی نہیں پائے تھے کہ دو میل کی دوری پر موجود پہاڑ کی چوٹی پھٹ گئی۔ لیکن وہاں سے لاوا نہیں بلکہ پانی اُمڈا، جو کئی فٹ بلند ہو کر آسمان کو چھونے لگا اور پھر گرجتے ہوئے واپس پہاڑ پر آن گرا۔ لمحوں میں وہ پانی چاروں طرف پھیلنے لگا۔ اس منظر نے سب کو ہکا بکا کر دیا۔
پھر یکے بعد دیگرے دو مزید دھماکے ہوئے۔ دور واقع پہاڑوں کی چوٹیاں بھی شگافوں سے پھٹ گئیں اور ہر بار سمندر کی مانند پانی اچھل کر اوپر گیا اور پھر سیلابی ریلے کی صورت میں ڈھلوانوں پر بہہ نکلا۔
زافیر زمین سے اٹھتے ہوئے لڑکھڑایا، مگر جیسے ہی اس کی نظر تین اطراف سے اُبلتی آبشاروں پر پڑی، اس کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ دل دہلانے والا منظر اس کے سامنے تھا۔ اسے لمحے بھر میں سمجھ آ گیا کہ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں… بلکہ غیر متوقع سیلاب ہے جو جلد ہی ان تک پہنچ آئے گا۔ ایسا سیلاب جو پلک جھپکتے میں پورے گاؤں کو اپنے اندر نگل سکتا تھا۔
وہ ہڑبڑا کر سیدھا ہوا اور پوری طاقت سے دوبارہ بزرگ کے گھر کی طرف دوڑ لگا دی، اس امید پر کہ شاید وقت ابھی باقی ہو۔
وہ پوری رفتار سے بھاگ رہا تھا کہ اچانک آسمان سے لپکتے ہوئے دو ننھے شعلے اس کی کمر پر آ گرے۔ لمحے بھر میں اس کی شرٹ جلی اور انگارے وجود کو چھو گئے، آگ کے شعلوں نے گوشت پوست تک کو جلا ڈالا۔ جلن اتنی شدید تھی کہ وہ دانت کچکچا کر رہ گیا، ہونٹ سختی سے بھینچ لیے لیکن ایک لمحے کے لیے بھی اپنی رفتار کو ٹوٹنے نہیں دیا۔
کچھ ہی دیر بعد وہ بزرگ کے گھر کے برآمدے میں پہنچا۔
،سانس پھول رہی تھی، جسم دہک رہا تھا مگر وہ جھک کر اندر جھانکتے ہی گھبراہٹ بھرے انداز میں چلّایا
“!…حورا…! جلدی کرو… ہمیں فوراً نکلنا ہوگا… فوراً نکلو”
،اس کے بعد اس نے لرزتی ہوئی آواز میں بزرگ کی طرف رخ کیا اور تیزی سے بولا
پہاڑ پھٹ گئے ہیں… وہاں سے زبردست پانی کے ریلے نکل رہے ہیں، بڑا سیلابی ریلا گاؤں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ “
“!آپ سب بھی جلدی سے یہاں سے نکلیں، یہ ریلا پورے گاؤں کو پلک جھپکتے میں ڈبو دے گا
بزرگ اور اس کے بیٹوں نے بھی وہ ہولناک مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے۔ وہ سکتے سے نکلے اور گھبرا کر فوراً کھڑے ہوگئے۔
زافیر کی بوکھلاہٹ اور کلمات نے گارڈز کو مزید مضطرب کر دیا۔ دونوں بلا تاخیر گاڑیوں کی طرف دوڑ پڑے۔ ویگو قریب آ کر رکی تو ایک اور منظر نے پریشانی بڑھا دی۔ ڈرائیور سر پر گرے شعلے سے بری طرح جھلس چکا تھا۔ اس نے سر پر کپڑا کس کر لپیٹا ہوا تھا اور تکلیف سے کراہ رہا تھا۔ گاڑی چلانے کی ہمت اس کے بس سے باہر تھی۔
ایک گارڈ تیزی سے لپکا، ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ جھٹکے سے کھولا اور اندر جا بیٹھا، جیسے لمحہ ضائع کرنا موت کو دعوت دینے جیسا ہو۔
حورا، آبرو اور مومنہ خاتون خوف و ہراس میں لپکتی ہوئی برآمدے سے باہر نکلیں۔ ایک گارڈ نے جلدی سے فارچونر کا پچھلا دروازہ کھولا تو وہ تینوں کانپتے وجود کے ساتھ اندر جا بیٹھیں۔ ان کے چہروں پر دہشت اور آنکھوں میں موت کا سایہ صاف جھلک رہا تھا۔ تب تک زافیر بھی جلدی سے فرنٹ سیٹ پر جا بیٹھا تھا۔ اب دونوں گاڑیاں لمحے بھر میں گھر چھوڑنے کو تیار کھڑی تھیں۔
بزرگ کے بیٹے دوبارہ اندر جا چکے تھے… شاید وہ اپنے گھر والوں کو اوپر والی منزل سے نکالنے کی کوشش میں تھے یا شاید آخری امید کے طور پر تیسری منزل کو پناہ گاہ بنانے کے خواب میں گرفتار تھے۔ برآمدے میں بس بزرگ اکیلے کھڑے رہ گئے تھے، ان کی سفید داڑھی بارش کی نمی اور خوف کے پسینے سے بھیگی ہوئی تھی۔
،زافیر نے ایک لمحے کے لیے رُک کر ان پر آخری نگاہ ڈالی۔ اس کی آواز میں جلدی اور گھبراہٹ صاف جھلک رہی تھی
“!…بابا جی… وقت کم ہے…! یہ گھر اب محفوظ نہیں رہا”
لیکن اب جواب سننے کا وقت نہیں تھا۔ اگلے ہی پل دونوں گاڑیاں گڑگڑاتے ہوئے آگے لپک گئیں۔ بارش اور آگ کی بارش اگرچہ تھم چکی تھی لیکن اب پہاڑوں سے پھوٹنے والے سیلابی ریلوں نے ایک نئی قیامت برپا کر دی تھی۔ گرجتے پانی کی گونج پورے وادی کو ہلا رہی تھی، جیسے خود زمین ان کے تعاقب میں دہاڑ رہی ہو۔
°°°°°°°°°°
اب تک کازمار کے ہزاروں سپاہی بہہ کر نیست و نابود ہوچکے تھے لیکن اس کے باوجود ابھی لاکھوں کی فوج ڈٹی کھڑی تھی۔ دوسری جانب آبیاروس کے چالیس ہزار اصل سپاہی صف آرا تھے… محفوظ، تازہ دم اور بےحد پُرعزم۔ ان کی آنکھوں میں وہی وحشی بےتابی جھلک رہی تھی جو صرف اُس گھڑی فوج کے اندر ابلتی ہے جب آخری، کاری اور فیصلہ کن ضرب لگنے کو ہوتی ہے۔
ظلاب کی فوج، وہی پانی جو لمحہ بھر پہلے بھنور کی شکل میں کازمار کے ہزاروں سپاہیوں کو نگل چکا تھا، اب ایک نئی ہیبت میں ڈھل رہا تھا۔ وہ سیلابی ریلا جو پہلی ٹکر میں سینکڑوں کو بہا لے گیا تھا، پلٹ کر پیچھے ہٹا اور تھوڑی ہی دوری پر جمع ہونے لگا۔ لمحہ بہ لمحہ پانی کی لہریں بلند ہو رہی تھیں، جیسے سمندر اپنی پوری طاقت جمع کر رہا ہو تاکہ اگلے وار میں سب کچھ جڑ سے اکھاڑ کر بہا لے جائے۔
،کازمار الٹے قدموں سے صفیں چیرتا ہوا کافی پیچھے نکل گیا۔ یکایک اس کی دہاڑ فضا میں گونجی
“…پھیلاؤ… گھیراؤ… بچاؤ… حملہ”
اس کے الفاظ بجلی کی کڑک کی طرح صفوں میں گرے۔ لمحوں میں ہلچل مچ گئی۔ وہ سپاہی جو دائرہ توڑ کر مسلسل ہاتھوں سے آگ برساتے ہوئے لمبائی کے رخ پر پھیل رہے تھے، اچانک آگ برسانا چھوڑ کر دوڑنے لگے۔ ان کی حرکتوں سے یوں لگ رہا تھا جیسے ایک کمان اپنی پوری قوت سے تن رہی ہو اور وہ اس کے خم کی مانند صفیں بنا رہے ہوں۔
لیکن ان کی ترتیب ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی کہ پانی پلٹ کر ایک بار پھر ہیبت ناک سیلابی لہر کی شکل میں ڈھل گیا۔ گرجتے ہوئے پہاڑ کی مانند وہ ان کی جانب بڑھا۔
کازمار کے سپاہیوں نے گھبراہٹ میں قدم جماتے ہی ہاتھ آگے پھیلائے اور نیلی آتش کی تیز لہریں اچھالیں۔ وہ آگ شعلوں کی صورت سیلاب سے ٹکرائی اور پانی کا معمولی حصہ بھاپ بن کر اڑ گیا، فضا میں اڑتے دھوئیں نے لمحہ بھر کے لیے آنکھوں کے سامنے پردہ سا تان دیا۔ مگر یہ روک تھام کچھ لمحوں سے زیادہ نہ ٹک سکی۔
اچانک دھاڑتے ہوئے پانی کی لہر پہلی صف سے ٹکرائی۔ سینکڑوں سپاہی چیخنے کا موقع بھی نہ پا سکے… وہ لمحے بھر میں کوئلے کی مانند سیاہ ہو کر ٹوٹ پھوٹ گئے اور پانی کے ساتھ بہہ گئے۔
اب پانی قدموں میں بہتے ہوئے واپس پلٹ رہا تھا۔ مگر اس بار آتشیں سپاہیوں نے اس پر مزید آگ نہیں برسائی۔ وہ جانتے تھے حکم کیا ہے۔ کازمار کی دھاڑ ان کے ذہنوں میں گونج رہی تھی، اسی لیے وہ بغیر کسی تذبذب کے اپنی جگہیں بدلتے اور صفوں کو دوبارہ درست کرتے چلے گئے۔
سیلاب پلٹ کر پھر اپنی ہی جگہ مجتمع ہونے لگا۔ لمحہ بہ لمحہ وہ پھیل کر ایک ہیبت ناک لہر کی صورت اختیار کر رہا تھا۔ پانی کی وہ سرکش دیوار اب سانس روکے کھڑی تھی جیسے اگلے ہی پل اپنے شکار پر جھپٹ پڑے گی۔
ادھر کازمار کے سپاہی بھی پوری ترتیب سے اپنی صفیں مکمل کر چکے تھے۔ وہ کمان کے خم کی مانند خمیدہ ہو کر ایستادہ تھے۔ اب وہ کازمار کے چار احکام میں سے پہلا مرحلہ… “پھیلاؤ” سرانجام دے چکے تھے۔
سب نگاہیں اگلے حکم کی تکمیل پر جمی تھیں، “گھیراؤ”۔ مگر یہ مرحلہ تبھی مکمل ہو سکتا تھا جب ظّلاب کا سیلابی ریلا ایک بار پھر دہاڑتا ہوا ان پر ٹوٹ پڑتا۔
فضا میں ایک خوفناک ٹھہراؤ تھا۔ پانی کے ٹھاٹھیں مارتے غیض و غضب سے محسوس ہورہا تھا کہ وہ ہر لمحہ بپھر کر ان کی صفوں پر لپکنے والا ہے۔ یہ وقفہ ایسا تھا جیسے قیامت سے پہلے کی ایک آخری خاموشی ہو۔
°°°°°°°°°
ندیم کی آنکھ ایک جھٹکے سے کھل گئی۔ چند لمحوں کے لیے وہ بری طرح گھبرا اٹھا۔ اس کے پورے وجود میں درد کی شدید لہریں دوڑ رہی تھیں، جیسے جسم کا ہر ذرہ چیخ رہا ہو۔ وہ اب بھی ایک درندے کی ہیئت میں تھا لیکن اس ناقابلِ برداشت جلن اور تکلیف نے اس کے دماغ کے کئی بند دریچے یکا یک روشن کر دیے تھے۔
اس نے اردگرد نظر دوڑائی تو فوراً پہچان گیا… یہ وہی کنواں تھا اور اسے اچھی طرح یاد تھا کہ اب آگے کیا کرنا ہے۔ اپنے زخمی اور نیم مفلوج جسم کو گھسیٹتے ہوئے وہ دیوار کے قریب پہنچا۔ کانپتے ہاتھ نے دیوار میں نصب بایومیٹرک پینل کو تلاش کیا۔ بڑھے ہوئے نوکیلے ناخن کی وجہ سے انگوٹھا رکھنا کٹھن ثابت ہوا مگر وہ اپنی پوری طاقت سمیٹ کر پینل پر انگوٹھا جما دینے میں کامیاب ہوگیا۔
ایک بھاری سی گڑگڑاہٹ سنائی دی۔ اینٹوں سے بنا ہوا دیوار نما دروازہ آہستہ سا پیچھے کو سرکا اور پھر وزنی پتھر کی طرح اوپر کی سمت اٹھنے لگا۔ ایک راہداری اس کے سامنے کھل چکی تھی۔
اس نے لرزتے قدموں کے ساتھ اندر قدم رکھا۔ سامنے ایک لمبی، اندھیری زمین دوز گلی پھیلی ہوئی تھی۔ ٹھنڈک اور نمی کی لپیٹ میں وہ جگہ کسی قبر کی مانند لگ رہی تھی۔ وہ بار بار لڑکھڑاتا اور زمین پر گر پڑتا، پھر دیوار کا سہارا لے کر اٹھ کھڑا ہوتا۔ جلن اور کمزوری نے اس کے جسم کو حد درجہ ناتواں کر دیا تھا۔ اس کی سانسیں بھاری ہو رہی تھیں لیکن اس کے دل میں ایک ہی عزم جل رہا تھا… چاہے کچھ بھی ہو، اسے اس گلی کے آخر تک پہنچنا ہی ہے۔
جب وہ لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ گلی کے آخری سرے پر پہنچا تو وہاں ایک اور بایومیٹرک پینل اس کا منتظر کھڑا تھا۔ کانپتے ہاتھ اور لرزتے جسم کے ساتھ اس نے انگوٹھا ثبت کیا۔ چند لمحوں کی خاموشی کے بعد دروازہ دھیرے سے خودکار انداز میں دیوار کی ایک جانب ہوگیا۔ وہ گرتا پڑتا اندر داخل ہوا تو خود کو ایک وسیع اور نفیس تہہ خانے میں پایا۔
وہی تہہ خانہ جو گندگی سے بھرا ہوا تھا۔ اب یہاں کی صفائی دیکھ کر یوں لگ رہا تھا جیسے کوئی پوش رہائش گاہ ہو، نہ کہ زیرِ زمین قید خانہ۔ قیدی بھی صاف ستھرے، نئے کپڑوں میں ملبوس تھے، وہی کپڑے جو ندیم ہی ان کے لیے لے کر آیا تھا۔
چونکہ وہ دو تین دن سے غائب رہا تھا، اس لیے اب سبھی قیدی بھوک اور پیاس سے نیم مردہ حالت کو پہنچ چکے تھے۔ ان کے چہروں پر بے بسی اور کمزوری کی گہری لکیریں کھنچی ہوئی تھیں۔
جیسے ہی وہ قید خانوں کے قریب سے گزرا تو سب کی نظریں اس پر جم گئیں۔ وہ پہلے ہی بھوک سے نڈھال تھے، مگر جب انہوں نے ندیم کو درندے کے روپ میں دیکھا تو سہم کر پیچھے ہٹ گئے۔ اس کی بڑھی ہوئی بےترتیب داڑھی، جلے ہوئے سر اور کمر کے داغدار بدن نے اسے تقریباً ناقابلِ پہچان بنا دیا تھا۔ کئی قیدی تو گھبراہٹ میں پہچان ہی نہیں پائے، لیکن چند ایک کی نظریں ٹھہر گئیں… وہ جان گئے کہ یہ ندیم ہی ہے۔
وہ ہاتھوں اور پیروں کے بل رینگتے ہوئے آگے بڑھتا رہا۔ قید خانے کی کوٹھری کے قریب پہنچ کر اس نے ایک لمحے کے لیے سر اٹھایا اور قیدیوں کی طرف نگاہ ڈالی۔ پھر اچانک اس کے گلے سے ایک بھاری، دل دہلا دینے والی دہاڑ بلند ہوئی۔
آواز اتنی وحشت ناک تھی کہ پوری فضا ہل کر رہ گئی۔ سبھی سپاہی خوف سے ایک دم دو قدم پیچھے ہٹ گئے۔ چند تو اس قدر دہشت زدہ ہوئے کہ ان کے قدم لڑکھڑا گئے اور وہ زمین پر گر پڑے۔ ان کی آنکھوں میں خوف کی جھلک تھی، جیسے وہ کسی انسان کو نہیں بلکہ خونخوار درندے کو دیکھ رہے ہوں۔
آخری نگاہ قیدیوں پر ڈالنے کے بعد وہ آہستہ قدموں سے پردے کے پیچھے چلا گیا۔ اب وہ ذبح خانے کی بے داغ اور صاف ستھری حدود میں تھا۔ فضا میں جراثیم کش دواؤں کی مدہم بو رچی ہوئی تھی۔ وہ جلن اور درد کی وجہ سے چند لمحوں کے لیے وہیں ٹھنڈے فرش پر لیٹ گیا۔
کچھ لمحے وہ یونہی فرش پر لیٹا اپنی جلن کو سہنے کی کوشش کرتا رہا مگر جلد ہی اسے احساس ہوا کہ یہ کافی نہیں۔ دھیرے دھیرے وہ اٹھا اور لڑکھڑاتے قدموں سے چِلر کی طرف بڑھا۔ فریج کا دروازہ کھولتے ہی اس کی آنکھوں کے سامنے قطار در قطار خون کی بوتلیں جگمگا اٹھیں۔ ایک لمحے کو اس کی نظریں ان پر جم گئیں۔
اس نے لرزتے ہاتھ سے ایک بوتل نکالی اور ہونٹوں سے لگائی۔ اس بار وہ احتیاط سے، گھونٹ گھونٹ کر کے خون حلق میں اتار رہا تھا۔ ہر قطرہ اس کے جلتے وجود کو ٹھنڈک بخشتا اور اس کی رگوں میں زندگی کی مدہم لہر دوڑنے لگتی۔ اسے یاد آیا کہ جب وہ درندے کے روپ میں ڈھلا تھا تو کس طرح بے مثال طاقت نے اسے مزید سفاکیت میں دھکیل دیا تھا۔ لیکن آگ کے شعلوں میں جلنے کے بعد، ہوش سنبھالتے ہی وہ اس وحشی روپ سے نفرت کرنے لگا تھا۔ جو کچھ اس نے تباہ کیا تھا، وہ سب اب اسے کسی ڈراؤنے خواب کی مانند یاد آ رہا تھا۔
وہ اس بار خون یوں پی رہا تھا جیسے دوا ہو… صرف زخم بھرنے کے لیے، نہ کہ درندگی کو پھر سے جگانے کے لیے۔ ایک بوتل ختم کرتے ہی اس نے دوسری نکالی۔ لمحہ بہ لمحہ اس کے جلے ہوئے جسم کے زخم مندمل ہونے لگے، چھالے سمٹنے لگے اور تکلیف ہلکی ہوتی چلی گئی۔
وقت جیسے رُک گیا تھا۔ کئی منٹ یونہی گزر گئے اور جب دوسری بوتل بھی خالی ہوگئی تو اس کے وجود پر سکون سا چھا گیا۔ اب وہ پہلے جیسا ٹوٹا پھوٹا نہیں رہا تھا، بلکہ وہ ایک بار پھر سے سنبھلنے لگا تھا۔
اب وہ آہستگی سے دونوں پیروں پر کھڑا ہوا۔ ریڑھ کی ہڈی میں خم کی وجہ سے سیدھا کھڑا ہونا اس کے لیے ناممکن سا تھا۔ یہ ایک نئی مصیبت تھی، لیکن وہ ہار ماننے والوں میں سے نہیں تھا۔ آگے کو جھک کر ہونٹ بھینچتے ہوئے، اس نے ایک جھٹکے سے کمر کو سیدھا کیا۔ اچانک ایک کڑاکے دار آواز گونجی، جیسے کسی خشک شاخ کو توڑ دیا گیا ہو۔ اس کی ریڑھ کی ہڈی کی دو تین پلیٹیں چٹخ گئیں۔ درد کی شدت ایسی تھی کہ اس کے حلق سے ایک دلدوز چیخ نکلی اور پورا تہہ خانہ اس چیخ سے لرز اُٹھا۔
شدید اذیت کے باوجود وہ اپنے مقصد میں کامیاب رہا۔ کمر کا خم ٹوٹتے ٹوٹتے سیدھا ہوگیا تھا۔ مگر اب پیروں پر قائم رہنا مشکل تھا۔ بمشکل دو قدم آگے بڑھتے ہی اس کے جسم نے جواب دینا شروع کر دیا۔ وہ لڑکھڑاتے ہوئے چِلر تک پہنچا اور خون کی تیسری بوتل نکال کر لبوں سے لگا لی۔ وہ مسلسل پیتا رہا، یہاں تک کہ کمر کا درد آہستہ آہستہ گھل گیا اور ٹوٹی ہڈیاں خود بخود جڑنے لگیں۔
اب وہ درندے کے خوفناک روپ سے بڑی حد تک باہر آ چکا تھا۔ اگلا مرحلہ اُس کی بگڑی ہوئی شکل و صورت کو درست کرنے کا تھا۔ داڑھی الجھ کر نوکیلی خار کی طرح چبھنے لگی تھی اور جلے ہوئے بال اس کے سر کو مزید وحشت ناک بنا رہے تھے۔ اس نے صندوق کی طرف قدم بڑھائے تاکہ قینچی یا استرے سے ان سب کو کاٹ سکے۔
یہ اس کی تبدیلی کا نیا موڑ تھا۔ وہ ابھی ابھی درندگی کے اندھیرے سے نکل رہا تھا، لیکن عجیب بات یہ تھی کہ بے شمار لاشیں گرانے کے باوجود اسے کوئی پچھتاوا نہیں تھا۔ ضمیر کی وہ آواز، جو انسان کو اندر سے کچوکے دیتی ہے، بالکل خاموش تھی۔ دماغ پر صرف گہری خاموشی کا قبضہ تھا… ایسی خاموشی جو اسے سکون دے رہی تھی۔ یہ سکون وہی تھا جو بڑی فتح کے بعد ملتا ہے، جیسے کوئی معرکہ سر کر لیا ہو۔
°°°°°°°°°°
دونوں گاڑیاں سرپٹ دوڑتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھیں۔ ایک جانب آسمان سے برستی بارش اور آگ کی برسات تھی، جو کسی قیامت کا منظر دکھا رہی تھی اور دوسری طرف پیچھے سے لپکتا ہوا سیلاب تھا جو گاؤں کو نگلتا ہوا اب ان کے تعاقب میں بڑھ رہا تھا۔ پانی کے شور میں موت کی للکار گونج رہی تھی۔
زافیر نے گاڑی میں بیٹھتے ہی جل کر راکھ ہونے والی شرٹ بدل تو لی تھی، مگر صرف کپڑا بدلنے سے زخموں کی جلن کم نہیں ہوئی۔ اس کی پشت جیسے آگ میں سلگ رہی تھی مگر اس نے دانت بھینچ کر تکلیف ضبط کر رکھی تھی۔ وہ کھڑکی سے باہر جھانک رہا تھا، نظریں مسلسل اس گاؤں پر جمی تھیں جو لمحہ بہ لمحہ پانی میں ڈوب رہا تھا۔ اچانک ایک بڑی لہر ابھری اور ان کے محسن کا گھر بھی اپنی لپیٹ میں لے کر ملبے میں بدل ڈالا۔ وہ منظر دل دہلا دینے والا تھا۔ اس کی آنکھوں میں لمحہ بھر کے لیے افسوس کے سائے ابھرے مگر اگلے ہی پل اس نے نظریں پھیر لیں اور سامنے سڑک پر گاڑی کے راستے پر جما دی۔
گاڑیوں پر آگ کے شعلے برس کر انہیں لمحہ بھر کے لیے دہکتے کوئلے بنا دیتے اور پھر طوفانی بارش ان شعلوں کو بجھا کر گاڑیوں کو دوبارہ اندھیرے اور خوف کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتی۔ ہر گزرتا لمحہ خوف کے سائے گہرے کر رہا تھا، جیسے موت ان کے قریب آ رہی ہو۔
زافیر کے دل میں ایک طوفان برپا تھا۔ ایسی ہولناک آفات اس نے کبھی اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھی تھیں۔ تاریخ کی پرانی کتابوں میں ضرور ایسے مناظر کا ذکر ملتا تھا، جب ہزاروں سال پہلے زمین نے انسانیت کو لرزا دیا تھا، لیکن آج وہ سب اس کے سامنے زندہ حقیقت بن کر کھڑا تھا۔ دنیا پر کیا بیت رہی ہے، یہ سوچنے کا وقت نہیں تھا۔ اس کی فکر صرف ایک تھی… وہ قیمتی زندگیاں جو اس کے ساتھ جڑی ہوئی تھیں، وہ چہرے جو اس کے ساتھ ان گاڑیوں میں بیٹھے خوف اور امید کے درمیان جھول رہے تھے۔
وہ ابھی چند میٹر ہی آگے بڑھے تھے کہ سامنے تقریباً ایک میل کے فاصلے پر پانی کی ایک عظیم لہر اپنی طرف بڑھتی دکھائی دی۔ گاڑی کے اندر بیٹھے سبھی لوگ خوف سے سہم گئے۔
زافیر نے فوراً سائیڈ ویو مرر میں پیچھے دیکھا، وہاں سے آنے والا زبردست سیلابی ریلا بھی ان کے کافی قریب پہنچ چکا تھا۔ اب وہ دونوں طرف سے موت کے شکنجے میں آ چکے تھے۔ سامنے تباہی کا کوہِ گراں لپک رہا تھا اور پیچھے غضب ناک ریلا۔ میدانی علاقوں کا سیلابی ریلا بھی قیامت ڈھا دیتا ہے، مگر پہاڑی علاقوں سے اترنے والا ریلا لامحدود تباہی کی علامت ہوتا ہے۔ یہاں تو دونوں اطراف سے پانی کا طوفان ان کی طرف بڑھ رہا تھا، جیسے وقت نے انہیں گھیر کر آخری امتحان کے لیے کھڑا کر دیا ہو۔
زافیر نے ایک لمحے کو پلٹ کر پچھلی سیٹ پر نظر ڈالی۔ مومنہ خاتون کے لب لرزتے ہوئے دعائیہ کلمات دہرا رہے تھے۔ حورا کے چہرے پر گھبراہٹ کی لکیریں گہری ہو چکی تھیں اور وہ بھی لرزتی آواز میں مقدس آیات پڑھ رہی تھی۔ آبرو بار بار خوف سے پیچھے مڑ کر دیکھ رہی تھی، جیسے وہ لمحہ بہ لمحہ بڑھتے قہر کو اپنی آنکھوں سے پرکھنا چاہتی ہو۔ تینوں نے سیٹ بیلٹ مضبوطی سے باندھ رکھی تھی۔ زافیر نے مطمئن ہونے کے لیے یہی دیکھنا چاہا تھا کہ سب محفوظ بیٹھے ہیں۔
،پھر اس نے گہری سانس لی، نگاہیں نرم کرتے ہوئے ان سب کی طرف پلٹا اور پُرعزم لہجے میں بولا
“پریشان مت ہونا… میں کسی کو کچھ نہیں ہونے دوں گا۔”
اس کے الفاظ لمحہ بھر کے لیے امید کا چراغ بنے مگر اگلے ہی پل اس نے نظریں دوبارہ سامنے جما لیں۔ پانی کی دیوار قریب آ رہی تھی، پیچھے کا ریلا بھی بے قابو ہو کر لپک رہا تھا۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوتی جا رہی تھی، جیسے سینہ خود کسی آنے والے دھماکے کی گونج سن رہا ہو۔
اچانک پیچھے سے آنے والا قہر انگیز سیلابی ریلا دھاڑتے ہوئے ان کی گاڑیوں سے جا ٹکرایا اور انہیں اپنی بے رحم طاقت کے ساتھ آگے دھکیلنے لگا۔ اگلے ہی پل سامنے سے امڈتی ہوئی پانی کی دیوار بھی ان سے آ ملی۔ لمحہ بھر کو یوں محسوس ہوا جیسے دو بپھرے ہوئے سمندر آپس میں ٹکرا گئے ہوں اور ان کے بیچ یہ گاڑیاں محض تنکے کی طرح اچھالی جا رہی ہوں۔
گاڑیاں پانی میں بار بار الٹتی پلٹتی، کبھی کسی پتھریلی لہریں مارتے دھار سے ٹکراتی، کبھی بگولے کی طرح گھومتی ہوئی، اندھا دھند بہاؤ کے ساتھ آگے بڑھتی جا رہی تھی۔ دوسری گاڑی بھی اسی ہولناک گرفت میں تھی اور لمحہ بہ لمحہ سیلاب کی بے قابو طاقت کے آگے ڈھیر ہوتی جا رہی تھی۔
اب نئی مصیبت یہ تھی کہ گاڑی تیز بہاؤ میں الٹتی ہوئی نہ صرف بے قابو ہوکر آگے بڑھ رہی تھی بلکہ اندر بھی پانی تیزی سے بھرنے لگا تھا۔ ہر قطرہ اس حقیقت کی گواہی دے رہا تھا کہ ان کے پاس وقت نہایت محدود ہے۔ اس سیلابی طوفان میں خود کو سنبھالنا تقریباً ناممکن تھا۔
زافیر کی دل و دماغ پر اک بھاری بوجھ سا بن رہا تھا۔
،اس کے ذہن میں ایک ہی سوچ بار بار کچوکے لگا رہی تھی
…کاش ہم گھر سے نہ نکلے ہوتے
ہم نے قلعہ بنایا تھا حفاظت کے لیے، مگر وقت آنے پر اسی قلعے کو چھوڑ کر موت کے دہانے پر آ کھڑے ہوئے۔
اسے اپنی جان کی فکر نہیں تھی۔ لیکن اس لمحے اس کے دل میں صرف ایک خوف تھا… اپنے خاندان کا۔ کیا وہ اس قہر سے بچ پائیں گے یا نہیں؟ کوئی یقین نہیں تھا۔ گاڑی کے اندر تو موت سایہ فگن ہو چکی تھی اور اگر وہ نکل بھی جاتے تو باہر بپھرا سیلاب انہیں فوراً نگل لیتا۔ یہ جنگ اب زندگی اور موت کی نہیں رہی تھی، بلکہ پانی کے بے رحم طوفان اور انسانی کمزوری کا فیصلہ تھا۔
°°°°°°°°°°
ندیم اب پوری طرح اپنے ہوش و حواس میں تھا مگر جسم یوں ٹوٹ رہا تھا جیسے کئی دنوں سے بخار کی لپیٹ میں ہو۔ وہ چند لمحے کرسی پر ساکت بیٹھا رہا اور اپنے اندر کے درندے کے روپ میں گزرے پچھلے تین دن یاد کرتا رہا۔ اس کی آنکھوں میں ایک سرد چمک اور لبوں پر ایک مسکراتی لکیریں ابھر آئیں۔ اسے وہ منظر بار بار ذہن میں دکھائی دے رہا تھا جب اُس نے پورے گاؤں کو اجاڑ دیا تھا… صرف معصوم بچے چھوڑ کر۔
پھر خیالوں میں وہ دو اور بستیاں ابھریں جو اس کی درندگی کی نذر ہوئیں اور وہاں بھی اس نے صرف چھوٹے بچوں کو زندہ چھوڑ دیا تھا۔
،وہ لمحہ بھر کے لیے خاموش ہوا، پھر ہلکی سی سرگوشی میں خود سے بولا
ندیم، تم نے بالکل درست فیصلہ کیا ہے… اس دنیا میں صرف بچوں کو باقی رہنا چاہیے۔”
یہی وہ پاکیزہ بیج ہیں جو اسے نئے سرے سے آباد کر سکیں گے۔ بالغ مرد اور عورتیں تو گناہ اور جرم کی دلدل میں ڈوب چکے ہیں۔
“ان کا خاتمہ ہی مناسب ہے۔
،یہ الفاظ کہتے ہوئے اس کی مسکراہٹ اور گہری ہوگئی۔ ایک لمحے بعد اُس نے اپنی ہی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پھر خود کو پکارا
“لیکن یار… میں یہ سب اکیلا نہیں کر پاؤں گا۔ یہ مقصد بہت بڑا ہے… اور اس کے لیے مجھے مزید طاقت چاہیے۔”
وہ انہی سوچوں میں الجھا، خود سے باتیں کرتا ہوا کمرے میں بےچینی سے ٹہل رہا تھا۔ قدموں کی دھمک میں ایک وحشت تھی اور چہرے پر وہ سفاکی جھلک رہی تھی جو وقت کے زخموں نے آہستہ آہستہ اس کی روح پر نقش کر دی تھی۔ اس کی حالت دن بدن بگڑتی جا رہی تھی۔ مگر اس کی درندگی کی یہ داستان آج کی پیداوار نہیں تھی، اس کی جڑیں کہیں زیادہ گہری تھیں… آٹھ برس پیچھے تک جاتی ہوئی۔
یہ وہ دن تھے جب وہ محض آٹھویں جماعت کا طالبعلم تھا۔ امتحانات کے دن تھے، کتابیں کھلی تھیں لیکن اس کے گھر میں علم کے بجائے خون کی ہولی کھیلی گئی۔ اس کے سگے بھائی ضمیر نے ایک لمحے کے طیش میں آکر اپنے ہی باپ کو گولی مار کر ابدی خاموشی میں دھکیل دیا۔ یہ منظر ندیم کی آنکھوں میں سدا کے لیے نقش ہوگیا تھا۔
ماں تو پہلے ہی بچپن میں فوت ہو چکی تھی اور اب باپ کی اچانک موت نے اس کی دنیا یکسر اجاڑ دی۔ خاندان کا سہارا اس کا چچا بنا جو مقدمے میں مدعی بھی تھا۔ لیکن عدالتی کاروائیوں، جھوٹی گواہیوں اور چالاک وکیلوں کے کھیل نے سب کچھ پلٹ دیا۔ محض ایک سال کے اندر ضمیر جیل سے رہا ہو گیا۔
رہائی کے بعد ضمیر، ندامت کا لبادہ اوڑھ کر ندیم کے پاس آیا، لیکن اسے وہاں صرف نفرت اور شدید حقارت ملی۔ ندیم کے دل میں اپنے بھائی کے لیے زہر کی وہ جڑیں پیوست ہو چکی تھیں جو کسی بھی رشتے کو دوبارہ پنپنے نہیں دیتیں۔ ضمیر چاہتا تھا کہ ندیم اسے معاف کردے اور اس کا بازو بنے مگر ندیم نے موقع دیکھ کر ایک دن سب کچھ چھوڑ دیا۔ وہ گھر سے بھاگ نکلا، دوسرے شہر جا پہنچا اور ایک ہوٹل میں ویٹر کی نوکری اختیار کر لی۔ ساتھ ہی پرائیویٹ تعلیم بھی جاری رکھی۔
لیکن نفرت کا طوفان اس کے دل و دماغ میں مسلسل دہکتا رہا۔ جب رات کو وہ تھکن کے باوجود بستر پر لیٹتا، آنکھیں بند کرتے ہی ضمیر کا چہرہ اس کے سامنے ابھر آتا۔ وہ ہر رات ایک نیا منظر تراشتا… ایسا منظر جس میں ضمیر اس کا قیدی ہوتا اور وہ خود ایک سنگ دل منصف کی کرسی پر بیٹھا اس کے جرائم کا حساب لیتا۔ وہ اسے اذیت ناک موت دیتا، کبھی کوڑوں سے، کبھی آگ میں جھونک کر، کبھی کھال کھینچ کر، کبھی قید میں سڑنے کے لیے چھوڑ کر، غرض کہ جو اذیت ناک منظر وہ ذہن میں بنا سکتا تھا بناتا رہا۔
یہ تصوراتی مناظر اس کے دل کو عارضی سکون دیتے لیکن ساتھ ہی اس کی روح کو ایک اندھیری سمت دھکیلتے رہے۔ اکثر یہ مناظر خوابوں میں بھی ڈھل جاتے، جہاں وہ خود کو انصاف اور انتقام کا فرشتہ دیکھتا تھا۔
کہتے ہیں کہ خالی دماغ شیطان کی آماجگاہ ہوتا ہے اور یہی ندیم کے ساتھ بھی ہو رہا تھا۔ اس کی زندگی میں کوئی اپنا نہیں تھا… نہ خاندان، نہ دوست، نہ کوئی سہارا۔ وہ دن رات اپنے ہی خیالات کی قید میں رہتا، چھوٹی سے چھوٹی بات کو بھی اتنی بار دہراتا اور کھنگالتا کہ آخرکار وہ الجھ کر الجھن ہی بن جاتی۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ سوچنے کی بجائے اپنے ذہن کو چیر پھاڑ کر ہر خیال کی جڑ تک پہنچنے پر مجبور ہو۔ گویا وہ بال کی کھال کھینچنے کا عادی بن چکا تھا۔
اس کی ایک عادت تھی کہ وہ روزانہ صبح اخبار پڑھتا۔ کاغذ کے ہر صفحے پر بکھری ہوئی ظلم و زیادتی، قتل و غارت اور ناانصافی کی خبریں اس کے دل کو کچوکے لگاتیں۔ ہر بار اسے یوں محسوس ہوتا جیسے دنیا کی زمین خون اور آنسوؤں سے تر ہے مگر اس سب کو روکنے والا کوئی نہیں۔ یہ احساس اس کے دل کو ہلکان کر دیتا۔ وہ کڑھتا، اندر ہی اندر سلگتا اور خود کو کوستا کہ وہ دنیا کا سب سے ناکارہ انسان ہے… ایسا شخص جو نہ اپنے باپ کو بچا سکا اور نہ ہی اس ظلم سے بھری دنیا کو بدلنے کی طاقت رکھتا ہے۔
وقت کے ساتھ وہ ایک متشدد سوچ رکھنے والا شخص بنتا جا رہا تھا۔ وہ خود کو ہمیشہ ایک بےبس منصف کے روپ میں دیکھتا… ایک ایسا منصف جو عدالت لگاتا ہے، انصاف کی تمنا رکھتا ہے لیکن ہاتھ پاؤں بندھے ہیں اور اس کے فیصلے ذہن میں ہی مر جاتے ہیں۔ اس کے اندر انقلاب کی تڑپ تو جلتی تھی لیکن اس شعلے کو بھڑکانے کے لیے وہ ایندھن اور قوت نہیں رکھتا تھا۔
یہی کیفیت اسے اس لمحے تک لے آئی جب وہ زافیر کی قید میں آ گیا۔ جب ندیم کو یہ معلوم ہوا کہ وہ بھی ضمیر کو ختم کرنا چاہتا ہے تو اس کے دل میں دبے شعلے یکدم بھڑک اٹھے۔ اس کے اندر چھپی متشدد شخصیت پوری قوت سے جاگ اٹھی۔ اس نے بےساختہ زافیر سے درخواست کی کہ وہ ضمیر کو نہ صرف مار ڈالے بلکہ ایسی اذیت ناک موت دے جو اس کے وجود کے ایک ایک گناہ کا حساب چکا دے۔
متشدد پسندی وہ زہر ہے جو ایک سادہ اور عام انسان کے اندر درندگی اور سفاکیت بھر دیتا ہے۔ اس کی شرافت محض اسی حد تک برقرار رہتی ہے جب تک وہ اپنے فعل کے لیے ناکام یا بے بس رہے۔ مگر جیسے ہی وہ طاقت یا اختیار تک پہنچتا ہے تو اسی تخیلاتی درندگی کو وہ حقیقت میں ڈھال کر عملی جامہ پہنا دیتا ہے۔
عوامی زبان میں جن افراد کو “سائیکو” یا “سائیکو کلر” کہا جاتا ہے۔ دراصل وہ لوگ ہیں جو اپنے اندر ایک مکمل الگ دنیا بسا لیتے ہیں… ایک ایسی دنیا جہاں سبھی لوگ گناہ گار، فاسد یا قابلِ صفایا سمجھے جاتے ہیں اور ان کی نظر میں صرف خود وہی ہوتے ہیں جو “صفائی” کا فرض انجام دینے کا حق رکھتے ہیں۔ اپنے عمل کو وہ کبھی جرم یا خود غرضی نہیں سمجھتے بلکہ اپنے آپ کو غالباً کسی بلند مقصد کا رہبر سمجھتے ہیں۔ ایک اعلیٰ ظرف ہیرو، جو قوم یا انسانیت کو بچانے کے نام پر اپنے ہاتھ خود گندے کرنے پر تیار ہے۔
نفسیاتی طور پر یہ عمل کئی جزوؤں کا مجموعہ ہوتا ہے۔
ذہنی توڑ پھوڑ، جس میں حقائق کو اپنی من مانی کہانی کے مطابق موڑ لیا جاتا ہے۔
اخلاقی انحراف، جہاں وہ ظلم کو جائز قرار دینے کے لیے نفسیاتی جواز تلاش کرتے ہیں اور اس کی وجہ دوسرے انسانوں کی بے حسی یا غیر انسانیت قرار دیتے ہیں تاکہ خون خرابے کا فیصلہ آسان بن جائے۔
اکثر ایسے افراد میں تنہائی، بچپن کے صدمات، شدید راستہ بندی یا شناختی خلل جیسے پس منظر کارفرما ہوتے ہیں مگر یہ تمام عوامل مل کر کہیں ایک کھلے ہوئے خوفناک درندے کو جنم دیتے ہیں۔
جب یہ ذہن طاقت تک پہنچ جاتا ہے تو اس کی تباہی تیزی سے ظاہری صورت اختیار کرتی ہے۔ منصوبہ بندی، نظم و ضبط کے ساتھ وحشیانہ کارروائیاں، جذبۂ انتقام اور اپنے آپ کو وژنری طور پر جائز ثابت کرنے کی کوشش۔ ایسے لوگ ندامت کا اظہار شاذ و نادر ہی کرتے ہیں۔ ان میں ہمدردی کی کمی، دوسروں کے دکھ کا ادراک نہ ہونا اور اپنے عمل کا اخلاقی وزن محسوس نہ کرنا عام علامات ہیں۔
ادبی یا تجزیاتی زبان میں اس عمل کو یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ متشدد پسندی اندر کے خلل کو بیرونی قیامت میں بدل دیتی ہے۔
ایک وہم جو خود کو حقیقت سمجھ بیٹھتا ہے اور پھر اپنی خودساختہ حقیقت کے لیے ہر حد پار کر دیتا ہے۔ اس وہم کا خاتمہ آسان نہیں ہوتا۔
خلاصہ یہ کہ ندیم جیسی کہانی صرف انفرادی کمزوری کی گواہ نہیں ہوتی بلکہ ایک پیچیدہ نفسیاتی، سماجی اور اخلاقی بحران کی علامت ہوتی ہے۔
ایسے کرداروں کی سمجھ بوجھ ہمیں صرف خوفزدہ نہیں کرتی بلکہ اس بات کی یاد دہانی بھی کراتی ہے کہ معاشرہ کب اور کیسے حفاظتی بند باندھ سکتا ہے… ورنہ خاموش زہر آہستہ آہستہ بہت سے دلوں میں جڑ پکڑ لیتا ہے۔
وہ خود کو ایک ایسے ہیرو کے روپ میں دیکھ رہا تھا جو دنیا سے جرم کو جڑ سے مٹانے کا خواب بنائے بیٹھا تھا۔ لیکن یہ کوئی عام خواب نہیں رہا تھا۔ اب وہ پاگل پن کے ایک نئے دور میں داخل ہوچکا تھا، جہاں وہی خود عدالت تھا، وہی منصف تھا، وہی وکیلِ صفائی اور وہی جلاد کے روپ میں کھڑا تھا۔
ذبح گاہ کی خاموش فضا میں اس کے قدموں کی چاپ گونج رہی تھی۔ وہ آہستہ آہستہ ٹہل رہا تھا، جیسے اپنے ہی خیالوں کے جنگل میں کھو گیا ہو۔ اچانک ایک خیال اس کے ذہن میں بجلی کی مانند کوندا اور اس کے لبوں پر ایک پراسرار مسکان پھیل گئی۔ یہ مسکان محض خوشی کی نہیں تھی بلکہ کسی خطرناک سوچ کے انکشاف کی علامت تھی۔
…اب وہ جان چکا تھا
…دنیا کو اپنے قدموں تلے روندنے کا طریقہ
…وہ جان چکا تھا
…ہر مجرم کو زمین کے نقشے سے کیسے مٹانا ہے
یہ سوچ نہ صرف جنونیت سے لبریز تھی بلکہ سفاکیت کا ایسا بیج تھی جو اس کے ذہن کی تاریک مٹی میں جڑ پکڑ رہا تھا۔
…ہر لمحے کے ساتھ یہ خیال بڑھ رہا تھا، پھیل رہا تھا
°°°°°°°°°°
…جاری ہے
