ناول درندہ

قسط نمبر 38

باب چہارم: بدلاؤ

مصنف: زیاد اصغر زارون

°°°°°°°°°°

:یاددہانی، چند ماہ قبل
زافیر اور ڈاکٹر ایک تنگ پگڈنڈی پر چل رہے تھے۔ آگے زافیر کا دبلا پتلا مگر مضبوط وجود تھا اور پیچھے ڈاکٹر، جس کے کندھے پر بھاری بیگ لٹک رہا تھا۔ اردگرد کی فضا میں خاموشی اور نمی گھلی ہوئی تھی۔ قدموں تلے کچلے جاتے پتوں کی ہلکی سی آواز اور پرندوں کی چہچہاہٹ ماحول میں ترنم سا بنا رہی تھی۔

،ہلکی سی ڈھلوان اترتے ہوئے ڈاکٹر نے زافیر کو مخاطب کیا
“میں نے آج تک تمہارے جیسا نہ کسی کو دیکھا، نہ ہی سنا۔”

،زافیر نے نظریں سامنے رکھتے ہوئے پرسکون لہجے میں کہا
“کیونکہ ہم تمہاری دنیا صدیوں پہلے چھوڑ چکے ہیں… میں متوازی دنیا کا باسی ہوں۔”

ڈاکٹر کے چہرے پر حیرت کی ایک لہر دوڑ گئی۔ وہ پیرالل اسپیس، جسے وہ ہمیشہ ایک سائنسی مفروضہ سمجھتا رہا تھا، اب ایک زندہ وجود کی زبانی حقیقت کے طور پر سن رہا تھا۔ اگر یہ کوئی اور دن ہوتا تو شاید وہ ہنس کر ٹال دیتا مگر آج رات کے خوفناک مناظر دیکھنے کے بعد… ان الفاظ کو جھٹلانا ممکن نہیں تھا۔

،اس نے گہری سانس لی اور پوچھا
“کیا واقعی متوازی دنیا موجود ہے؟”

،زافیر نے آگے بڑھتے ہوئے جواب دیا
“ہاں… لیکن تمہاری دنیا سے بہت مختلف۔ وہاں میرا خاندان امرتا کی زندگی گزارتا تھا… ہم وہ تھے جنہیں کوئی نہیں مار سکتا تھا۔”
،وہ لمحہ بھر چپ ہوا، پھر سپاٹ لہجے میں بولا
“پھر میں نے خود ہی اپنے خاندان کو ختم کر دیا۔”

ڈاکٹر کی آنکھیں بے یقینی سے پھیل گئیں۔
“کیا… تم بھی امر ہو؟”

پتا نہیں… لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کہ انسان ہمیں زخمی تو کر سکتے ہیں مگر مار نہیں سکتے۔”

“ہمیں صرف ہمارا اپنا خون… مطلب کہ ہمارے خاندان کے افراد ہی مار سکتے ہیں۔

یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گیا۔ دونوں اب پگڈنڈی سے نکل کر کچی سڑک پر آ چکے تھے۔

°°°°°°°°°°

ندیم نے ایک لمبی سانس کھینچی… اور بند آنکھیں یکدم کھل گئیں۔ چند لمحوں کی بندش کے بعد اس کا دل دوبارہ دھڑکنے لگا تھا۔ وہ پھیپھڑے، جو لمحہ بھر پہلے بے جان پڑے تھے۔ اب پھر سے سانس لینے لگے۔ مگر اس کا وجود گویا شکستہ مٹی کے برتن کی طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا۔ ہر ہڈی ٹوٹ چکی تھی، ہر رگ زخمی تھی اور جسم کو حرکت دینا کسی اذیت ناک سزا سے کم نہیں تھا۔

اس نے بمشکل گردن اٹھائی اور اوپر نگاہ ڈالی۔ بلند ترین چوٹی اب بھی آسمان کو چیرتی ہوئی ایستادہ تھی… وہی چوٹی، جس کی بلندی سے وہ گرا تھا۔ پھر آہستگی سے نظر موڑ کر قریب ہی بس پر ڈالی جو پتھروں سے ٹکرا کر ملبے کا ڈھیر بن چکی تھی۔ اس کے اندر موجود سبھی انسان موت کی آغوش میں جا سوئے تھے۔ خاموشی اتنی گہری تھی جیسے زندگی کبھی وہاں سے گزری ہی نہ ہو۔

،اسی لمحے ندیم کا لرزتا ہوا وہم، اب اٹل یقین میں بدل گیا۔ اس نے سوچا
“میں وہ چنا ہوا ہوں… جسے موت کے در سے لوٹا دیا گیا ہے۔ مجھے زندہ کیا گیا ہے تاکہ اپنا مقدس فرض پورا کر سکوں۔”

اس نے ٹوٹے ہوئے جسم کو ذرا سی جنبش دی۔ کراہتی ہوئی سانسوں کے ساتھ بڑی مشکل سے کروٹ بدلی۔ خون مسلسل بہہ رہا تھا اور ہر حرکت پر گویا ہزاروں سوئیاں اس کے بدن کو چھید رہی تھیں۔ لبوں سے وحشت ناک کراہیں نکل رہی تھیں۔ پھر ہمت جمع کی اور اپنے وجود کو پیٹ کے بل گھسیٹنے لگا۔

کہنیوں کی ہڈیاں چور چور ہوچکی تھیں مگر وہ انہی پر دباؤ ڈال کر آگے بڑھتا رہا۔ اس کی رفتار حد درجہ سست تھی۔ ہر بار جب وہ زمین پر کھسکتا تو اس کا خون مٹی میں جذب ہو کر سرخی بکھیر دیتا۔ یوں لگتا تھا جیسے اس کا وجود اپنے ہی خون کے نقش چھوڑتا ہوا موت اور زندگی کے بیچ رینگ رہا ہو۔

وہ دس سیکنڈ کی مسافت گویا کئی صدیوں کی اذیت میں طے کرتا ہوا رینگتے رینگتے بس تک جا پہنچا۔ اس کے سامنے ایک لاش پڑی تھی… کچلا ہوا وجود، جس کی ہڈیاں کرچی کرچی ہوچکی تھیں۔ مگر زخموں سے اب بھی ہلکی ہلکی لکیروں کی صورت خون بہہ رہا تھا۔

اس نے خود کو گھسیٹ کر لاش کے قریب کیا۔ اس کی آنکھوں میں ایک وحشی چمک ابھری۔ پھر اس نے لاش کی گردن پر جھک کر دانت گاڑ دیئے۔ ایک جھٹکے کے ساتھ ماس کا ٹکڑا الگ ہوا اور بڑی رگ بھی کٹ گئی۔ لیکن خون فوارے کی طرح نہیں ابھرا، بس چند موٹے قطرے بہہ کر بس کے لوہے پر ٹپکنے لگے۔

ندیم نے ہونٹ زخم پر رکھ دیئے اور ان قطروں کو حلق سے اتارنے لگا۔ ہر قطرہ جیسے اس کی رگوں میں جلتا ہوا ایندھن بن کر دوڑ رہا تھا، اس کے ٹوٹے وجود میں نئی جان بھر رہا تھا۔ لیکن یہ معمولی سا خون اس کی پیاس بجھانے کے لیے کافی نہیں تھا۔

اسی لمحے اس کی نظریں بس کے ایک کونے پر جا ٹکیں جہاں خون جمع ہو کر چھوٹے سے تالاب کی شکل اختیار کر چکا تھا۔ وہ کراہتا ہوا گھسٹتا گھسٹتا وہاں تک پہنچا۔ پھر چہرہ خون پر جھکا دیا اور تیزی سے پینے لگا۔

وہ خونی ذائقہ جسے کوئی اور گندگی سمجھتا، ندیم کے لیے گویا امرت بن گیا۔ جیسے ہی خون اس کے حلق میں اترتا، اس کی رگوں میں ایک خوشنما سرشاری دوڑ جاتی۔ بازوؤں میں ہلکی سی لرزش ابھری، انگلیوں میں جنبش پیدا ہوئی اور ٹوٹے ہوئے وجود میں طاقت کی کرن پھوٹنے لگی۔

اس نے بس کی ٹوٹی کھڑکی سے شیشے کا ایک بڑا اور نوکیلا ٹکڑا اٹھایا۔ اس کی آنکھوں میں وحشت کی سرخی اتر آئی تھی۔ اچانک اس نے ایک لاش کا پیٹ چاک کر ڈالا۔ ایک کریہہ چیرا پیٹ کے اندر گہری لکیروں کی صورت کھل گیا۔ ندیم نے دوسرا ہاتھ اندر گھسایا اور پوری طاقت سے دل کو نوچ کر باہر کھینچ لیا۔

اس کا ہاتھ خون سے تر بتر تھا اور مٹھی میں دھڑکتا نہیں بلکہ خاموش، بے جان دل دبا ہوا تھا۔ اس نے شیشے کا ٹکڑا دوبارہ اٹھایا تاکہ دل چیر کر خون نچوڑ سکے مگر اسی لمحے اس کے ذہن میں ایک شیطانی خیال کوندا،
“اگر خون مجھے طاقت دیتا ہے… تو کچا انسانی ماس نہ جانے کس بلا کی طاقت بخشتا ہوگا؟”

یہ سوچ ابھرتے ہی وہ دل کو ہونٹوں کے قریب لے آیا۔ پھر ایک جھٹکے کے ساتھ اس پر دانت گاڑھ دیے۔ نرم اور کچا ماس اس کے دانتوں کے بیچ چیخ کی مانند چرمرایا اور وہ پورے جوش سے اسے چبانے لگا۔ اس کے ہونٹوں اور ٹھوڑی سے خون کی سرخ دھاریں بہہ کر نیچے ٹپکنے لگیں۔

کچا گوشت نگلنا دشوار تھا، حلق میں ہر نوالے کے ساتھ گھٹن محسوس ہوتی لیکن اس کے اندر کا درندہ باز نہیں آیا۔ وہ بار بار چبا کر گوشت کو حلق میں اتارتا رہا۔ چند ہی لمحوں میں ایک مکمل دل، جو ابھی خون سے لبا لب بھرا ہوا تھا، اس کے وجود کا حصہ بن گیا۔

مگر یہ وحشت یہیں ختم نہیں ہوئی۔ اب اس نے دوسرے شخص کی لاش کی طرف جھپٹ کر دوبارہ پیٹ چاک کیا اور مزید ایک دل نکال کر بے دردی سے چبانے لگا۔ ہر نوالے کے ساتھ اس کے اندر طاقت کی ایک نئی لہر سرایت کرتی جا رہی تھی۔ جیسے وہ انسان سے نکل کر کسی اور ہی مخلوق میں ڈھل رہا ہو۔

اس کا معدہ تیزاب کی بھٹی کی مانند خوراک کو لمحوں میں توانائی میں بدل رہا تھا اور وہ توانائی اس کے وجود میں یوں سرایت کر رہی تھی جیسے بجلی دوڑ رہی ہو۔ ٹوٹی ہڈیوں کے درمیان باریک، سرخ ریشے ابھرنے لگے تھے جو نازک رسیوں کی مانند دونوں سروں کو کھینچتے اور جوڑنے لگے۔ ہر لمحے کے ساتھ ہڈیوں کے ٹکڑوں کا خلا بھر رہا تھا جیسے کسی نے اندر سے لاتعداد دھاگے بُن دیے ہوں۔

اس کا پورا اندرونی نظام اب غیر فطری حد تک تیز ہو چکا تھا۔ ہر زخم کے کنارے سلنے لگے، ہر دراڑ پر نئی جھلی چڑھنے لگی۔ توانائی اس کے گوشت پوست میں ایسے اتر رہی تھی جیسے صحرا کی پیاسی زمین بارش کا پانی چوس لے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ ابھی تک زافیر کی طرح مکمل درندے میں نہیں بدلا تھا۔ اس کی صورت اب بھی انسانی خول میں بند تھی لیکن اندر سے ایک نیا وجود جنم لے رہا تھا۔

طاقت جیسے جیسے لوٹ رہی تھی، اس کی وحشت بڑھتی جا رہی تھی۔ وہ پاگلوں کی طرح ایک لاش کا دل نوچ کر دانتوں سے چبا رہا تھا پھر دوسرے کے کلیجے پر جھپٹا، کسی کا جگر چیر ڈالا، کسی کے خون کو چوسنے لگا۔ کچلی ہوئی بس کی خاموش لاشیں اس کے لیے اب گویا ایک شاہی ضیافت بن چکی تھیں۔ ہر نوالہ، ہر قطرہ خون اسے مزید زندہ، مزید قوی اور مزید خوفناک بنا رہا تھا۔

اس کے وجود میں زندگی ایک بار پھر پوری آب و تاب کے ساتھ لوٹ آئی تھی۔ ٹوٹی ہوئی ہڈیاں جُڑ کر اپنی اصل جگہوں پر جم چکی تھیں، گوشت اور پٹھے دوبارہ بھر گئے تھے اور ہر زخم یوں غائب ہو گیا جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔ مگر وہ رکا نہیں۔ وہ پاگلوں کی طرح لاشوں کے نرم اعضاء نوچ نوچ کر چباتا رہا۔ ہر نوالے کے ساتھ اس کے اندر طاقت کا ایک نیا طوفان جنم لیتا اور وہ طاقت بے قابو ہوکر اسے مزید درندہ بنا رہی تھی۔

اس کے ہاتھوں اور پیروں کے باریک ناخن لمبے ہوتے گئے۔ وہ تیز دھار خنجر کی طرح باہر نکل کر چمکنے لگے۔ اب وہ انہی ناخنوں سے لاشوں کو چیر رہا تھا۔ ہر وار کے ساتھ خون کی سرخی چھینٹے بن کر اس کے چہرے پر پڑتی اور وہ لال لکیروں سے رنگین چہرہ مزید وحشت ناک بنا دیتی۔

لمحہ بہ لمحہ اس کی شکل و صورت مسخ ہوتی جارہی تھی۔ کمر میں خوفناک خم پڑ گیا تھا، جیسے وہ سیدھا کھڑا رہنے کی صلاحیت کھو چکا ہو۔ سر کے بال جھاڑ جھنکار کی طرح بڑھ کر کمر تک پھیل گئے، داڑھی اور مونچھیں بھی بےقابو ہو کر چہرے کو ڈھانپنے لگیں۔ جسم پر بال ایسے اگنے لگے جیسے کوئی گوریلا اپنی اصل شکل میں لوٹ آیا ہو۔ اس کی آنکھوں کی سفیدی مکمل طور پر سرخ ہوگئی تھی، گویا خون ہی اس کی بینائی کا حصہ بن گیا ہو۔

اچانک اس نے ایک ایسی چیخ ماری جو فضا کو چیر کر دور پہاڑوں تک گونج اٹھی۔ یہ چیخ کسی انسان کی نہیں بلکہ وحشی درندے کی آواز تھی۔ وہ اپنی تبدیل شدہ طاقتور جسامت کو دیکھ کر لمحہ بھر کے لیے خود بھی چونک گیا، پھر ایک وحشی مسکراہٹ اس کے لبوں پر دوڑ گئی۔

اگلے ہی پل وہ ہاتھوں اور پیروں کے بل زمین پر جھکا اور ایک لمبی جست لگاتے ہوئے کھائی کی دوسری طرف جا اترا۔ اس کے وجود میں غیر معمولی لچک آگئی تھی۔ اس کے خنجر نما پنجے جڑوں اور مٹی میں دھنس کر اسے بجلی کی سی تیزی سے اوپر کھینچتے گئے۔ کچھ ہی لمحوں میں وہ کھائی سے نکل کر دوسرے پہاڑ کی چوٹی پر جا پہنچا۔

وہاں پہنچتے ہی اس نے ایک اور لرزہ خیز چیخ ماری۔ جنگل اور پہاڑ اس آواز سے دہل گئے۔ پھر وہ چاروں پنجوں کے بل بجلی کی طرح دوڑتا ہوا گھنے جنگل میں غائب ہوگیا۔

اب وہ ندیم نہیں رہا تھا، وہ ایک ایسا درندہ بن چکا تھا جس روپ کی درندگی سے زافیر بھی خوف محسوس کرتا تھا۔ مگر ندیم کے نزدیک یہ روپ ایک عظیم نعمت تھا… ایک انعام، جسے حاصل کر کے وہ اپنے مقصد کو مکمل کرنا چاہتا تھا۔

°°°°°°°°°°

آگ کا فرمانروا کازمار ایک بلند ٹیلے پر فاتحانہ انداز میں کھڑا تھا۔ اس کے سامنے اس کی پوری فوج، لاکھوں کی تعداد میں جمع ہو چکی تھی۔ رینا کہاں ہے، زندہ ہے یا مر گئی… اسے اس کی نہ خبر تھی اور نہ پرواہ۔ اس کے ذہن میں اس وقت صرف ایک ہی بات سما گئی تھی، اپنی فوج کو اکٹھا کر کے ایک فیصلہ کن جنگ کی طرف بڑھنا۔

اب وہ لمحہ آچکا تھا۔ ایک وسیع و عریض میدان میں جتنا دور نگاہ جاتی، بس شعلوں میں لپٹے ہوئے سپاہی دکھائی دیتے تھے۔ ہر سپاہی کے وجود سے بھڑکتی ہوئی آگ کئی کئی فٹ بلند ہو رہی تھی اور زمین خود دہکتے تندور کا منظر پیش کر رہی تھی۔

،کازمار نے اپنی سرخ آنکھوں سے فوج پر ایک متکبرانہ نظر ڈالی اور گرجدار آواز میں بولا
“!وقت آگیا ہے… آبیاروس کو اس کی حد یاد دلانے کا”
اس کی آواز فضا میں کڑکتی بجلی کی طرح گونجی اور اس کے ساتھ ہی سپاہیوں کے جسموں پر لپٹی آگ مزید بھڑک اٹھی۔

،کازمار نے مٹھیاں بھینچیں اور پھر دہاڑا
!آبیاروس نے ہمارے ایک سپاہی کو مارا… لیکن یہ بات ایک سپاہی کی نہیں… یہ ہماری غیرت کا معاملہ ہے”

اور ہم انتقام لیں گے… ایسا انتقام جو تاریخ یاد رکھے گی۔

“!ہم آبیاروس کو بھاپ بنا کر ہواؤں میں اڑا دیں گے

یہ سن کر پوری فوج ایک ساتھ للکار اٹھی۔ ان کی چیخوں اور نعروں کے ساتھ شعلے آسمان تک لپکنے لگے اور پورا میدان جہنم کی طرح دہک اٹھا۔

،کازمار نے بازو بلند کیے اور آخری بار گرجا
قدم بڑھاؤ… آبیاروس کی طرف! یاد رکھو… پانی اور آگ کبھی ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔”

” !اور ہم… ہم آبیاروس کی سلطنت کو جلا کر بھسم کر دیں گے

فوج کے نعروں کے ساتھ زمین لرزنے لگی اور لاکھوں شعلہ زاد سپاہی ایک طوفان کی مانند آبیاروس کی سرزمین کی طرف بڑھنے لگے۔

یہ کہتے ہی کازمار نے اپنا دہکتا ہوا ہاتھ بلند کیا اور سپاہیوں کی طرف پھیلا دیا۔ یکایک اس کی ہتھیلی سے نیلی آگ کے شعلے لپکے اور ہوا کو چیرتے ہوئے پوری فوج تک جا پہنچے۔ لمحوں میں ہر سپاہی کی سنہری آگ پھڑپھڑا کر نیلے شعلوں میں ڈھل گئی۔ یہ وہ نیلی آگ تھی جو کائنات کی سب سے خوفناک اور سب سے بھیانک تصور کی جاتی تھی… ایسی آگ جو سخت ترین پتھر کو بھی پگھلا دے، جو پانی کو بھاپ بنا کر اڑا دے۔ ایسی آگ جسے بجھانا لگ بھگ ناممکن تھا۔ دہکتے شعلے بے رحم بھوک کے ساتھ سب کچھ نگلنے کو بے تاب تھے۔

کازمار آہستگی سے چوٹی سے نیچے اترا۔ اس کے بھاری قدم زمین پر پڑتے تو یوں محسوس ہوتا جیسے دھرتی خود لرز اُٹھی ہو۔ وہ اپنے لشکر کے بیچ سے گزرتا ہوا آگے بڑھا اور اس کی پشت پر لاکھوں سپاہی ایک منظم طوفان کی طرح اس کا تعاقب کر رہے تھے۔ ہر طرف دہکتے وجود، نیلے شعلے اور گرجتی ہوئی للکاریں تھیں۔

…اب سب کا رخ ایک ہی سمت تھا
آبیاروس کی سلطنت کی طرف۔

°°°°°°°°°°

رینا لگ بھگ پچاس فٹ بلندی تک چٹان سر کر چکی تھی۔ اس کی سانسیں تیز تھیں مگر اس کے ہاتھوں میں ایک لمحے کو بھی لرزش نہیں آئی۔ وہ خنجر کو چٹان کے سینے میں پوری شدت سے گاڑ دیتی پھر پیروں تلے بندھے خنجر کو کھینچ کر اوپر نکالتی اور دوبارہ ایک فٹ اوپر مٹی میں پیوست کر دیتی۔ یوں وہ لمحہ بہ لمحہ اوپر بڑھ رہی تھی جیسے اس کا وجود موت کے دہانے پر لٹکا ہو مگر ارادہ فولاد سے بھی سخت ہو۔

اس نے ایک بار پھر اپنا ہاتھ بلند کیا۔ بازو کی ساری طاقت اکٹھا کر کے خنجر کو چٹان کی سختی میں گاڑھ دیا۔ چٹان نے ایک بھاری آواز نکالی جیسے اس کی مضبوطی پر چوٹ لگی ہو۔ رینا نے گہری سانس بھری، پھر ایک پیر کا خنجر نکالا اور ایک فٹ اوپر دھکیل دیا۔ اس کے بعد دوسرے پیر کو بھی کھینچ کر اوپر گاڑ دیا۔

نیچے بے انتہا گہرائی تھی، جہاں ایک غلطی اس کی زندگی کو لمحوں میں ختم کر سکتی تھی۔ مگر رینا کی آنکھوں میں خوف نہیں مگر اگلے ہی لمحے اس کی سوچ بدل گئی۔
اچانک ایک پیر تلے بندھا خنجر چٹان کی سخت مٹی کو چیرتے ہوئے نکل گیا۔ رینا کا پاؤں مڑ گیا اور اس کے لبوں سے گھٹی ہوئی سی کراہ نکل گئی۔ ابھی وہ سنبھل بھی نہیں پائی تھی کہ دوسرے پاؤں کا خنجر بھی پھسل کر چٹان کی گرفت سے آزاد ہوگیا۔ یکدم اس کے دونوں پیر خلا میں لٹک گئے اور اس کا وجود نیچے کو جھکنے لگا۔

اب وہ محض ہاتھوں میں پکڑے خنجروں کے سہارے جھول رہی تھی۔ اس کی انگلیاں پسینے اور دباؤ سے پھسل رہی تھیں۔ لمحہ بھر کی تاخیر بھی جان لیوا ثابت ہوسکتی تھی۔ اس نے پوری طاقت جمع کی مگر ہاتھوں والے خنجر بھی بے وفائی کرتے ہوئے چٹان کی سطح سے نکل گئے۔

اگلے ہی پل اس کا جسم بے قابو ہوکر نیچے کی طرف لڑھک گیا۔ ایک ہولناک دھڑام کی آواز گونجی جب وہ کمر کے بل زمین پر آگری۔ جیسے ہی اس کی ریڑھ کی ہڈی ٹکرائی، ایک خوفناک جھٹکا اس کے پورے وجود میں دوڑ گیا۔ ایسا لگا جیسے کمر کے اندر کوئی چیز ٹوٹ کر بکھر گئی ہو۔ اس کا سانس لمحے بھر کو رک گیا اور پھر اس کے گلے سے ایک رندھی ہوئی کراہ نکلی جو دھیرے دھیرے لمبی ہوتی گئی اور خاموشی میں گم ہوگئی۔

°°°°°°°°°°

زافیر اور حورا، کمرے کی مدھم روشنی میں بیڈ پر خاموش لیٹے تھے۔ فضا میں ایک گہری سکون بھری خاموشی تھی۔ زافیر نے دونوں ہتھیلیوں کا پیالہ بنا کر سر کے نیچے رکھا ہوا تھا اور بس چھت کی سیلنگ کو گھور رہا تھا۔

حورا کروٹ لیے دیر سے اسے دیکھ رہی تھی۔ اس کے چہرے پر سکون اور سوچوں کا ملا جلا عکس تھا۔ روایتی بیویوں کی طرح وہ بھی اپنے شوہر کے وجود میں ایک کشش محسوس کر رہی تھی، اسی لیے بنا کچھ کہے بس اسے دیکھے جارہی تھی۔

زافیر کافی دیر یونہی چپ سادھے اپنی سوچوں میں گم رہا۔ پھر یکدم اس نے ہاتھ سر کے نیچے سے نکال کر سینے پر رکھ لیے اور اب بھی چھت پر نظریں جمائے،

،دھیمی مگر گہری آواز میں بولا
“…حورا”

،حورا نے چونک کر نرمی سے جواب دیا
“…جی”

،زافیر کے لہجے میں جیسے صدیوں کا بوجھ سمٹ آیا تھا۔ وہ دھیرے سے بولا
“کیا تم مجھے جانتی ہو؟”

یہ سوال حورا کے دل کو چھو گیا۔

وہ لمحہ بھر خاموش رہی، اس کی آنکھوں میں سوچ کی گہرائی ابھر آئی۔

،کمرے کی خاموشی اور زیادہ گہری ہوگئی۔ چند لمحے گزرنے کے بعد وہ سنجیدگی اور تحمل سے بولی،
“کیا کچھ ایسا ہے جو آپ مجھ سے کہنا چاہتے ہیں؟”

“تم مجھے نہیں جانتی… اور اپنا بھیانک ماضی یاد کر کے مجھے ہمیشہ یہ خوف ستاتا ہے کہ کہیں تم مجھے چھوڑ ہی نہ دو۔”

یہ الفاظ سنتے ہی حورا چونک اٹھی۔ وہ آہستہ سے سیدھی ہو کر بیٹھی، پھر تھوڑا آگے سرکی اور نرمی سے زافیر کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام لیا۔

، اس کی آواز میں یقین اور اپنائیت جھلک رہی تھی
“کیا آپ جانتے ہیں، عورت کے چار روپ ہوتے ہیں… ماں، بہن، بیوی اور بیٹی۔”

زافیر نے گردن ذرا سا موڑ کر اس کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں پہلی بار تھوڑی سی توجہ اور نرمی ابھری۔

،حورا نے چند لمحوں کی خاموشی کے بعد دوبارہ کہنا شروع کیا
بلاشبہ سبھی رشتے قیمتی ہوتے ہیں… لیکن بیوی کا رشتہ سب سے نازک بھی ہے اور سب سے مضبوط بھی۔”

اگر شوہر محبت کرنے والا ہو تو بیوی اس کی بڑی سے بڑی غلطی کو بھی معمولی خطا سمجھ کر نظر انداز کر دیتی ہے۔

“لیکن شوہر بے مروت ہو تو پھر اس کی چھوٹی سی لغزش بھی پہاڑ جیسا گناہ لگتی ہے… اور عورت اسے دھتکار دیتی ہے۔

،کمرے میں لمحہ بھر کو گہری خاموشی چھا گئی۔ پھر زافیر کے لب ہلکے سے ہلے۔ اس کے لہجے میں اداسی اور بوجھ گھلا ہوا تھا
“میرا ماضی… بہت بھیانک ہے، حورا۔ اتنا بھیانک کہ اگر تم جان جاؤ تو شاید مجھ سے نفرت کرنے لگو گی۔”

،حورا نے اس کے ہاتھ کو مزید مضبوطی سے تھام لیا۔ اس کی آواز میں عاجزی اور اپنائیت گھل گئی
“پلیز، زافیر… اپنی طرف سے اندازے مت لگائیں۔ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ آپ دل کھول کر بتائیں۔”

زافیر کچھ دیر تک خاموش پڑا رہا۔ اس کے لب ہلے تو جیسے اندر کے بوجھ کو لفظوں میں ڈھالنے میں دشواری ہو رہی ہو۔
“…سمجھ نہیں آتا… کہاں سے شروع کروں”

،حورا نے دھڑکتے دل کے ساتھ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا
“تو پھر آغاز سے شروع کریں… اور سب کچھ کہہ ڈالیں، جو بھی کہنا ہے۔”

اسے زافیر کی شخصیت پہلے دن سے ہی پراسرار لگی تھی۔ وہ ہمیشہ سوچتی تھی کہ اس کے وجود میں کوئی راز ہے مگر کبھی ہمت نہ ہوئی کہ اس کی گہرائی تک جا سکے۔ نہ ہی اس نے زافیر کو کبھی تنگ کیا۔ لیکن آج… زافیر خود اپنی خاموشی توڑنے جا رہا تھا۔ یہ سوچ کر وہ بےتاب تھی لیکن دل کی دھڑکنیں اسے ڈرا رہی تھیں کہ جانے وہ کون سا انکشاف کرنے والا ہے۔

،زافیر کی نظریں چھت پر جمی تھیں۔ پھر اس کے لب آہستگی سے ہلے
انسان سمجھتے ہیں کہ انہوں نے سب کچھ دیکھ لیا ہے… حالانکہ وہ ابھی کچھ بھی نہیں جانتے۔”

جو کہانیاں ان کی عقل سے پرے ہوتی ہیں، وہ انہیں فرضی داستانیں سمجھ کر ٹال دیتے ہیں اور خود کو تسلی دیتے ہیں کہ بھلا ایسا کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔

” …لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس جہان میں بہت کچھ ممکن ہے… جو انسانوں کو ہمیشہ ناممکن لگتا ہے۔ جیسا کہ متوازی دنیا

وہ لمحہ بھر کو رکا۔ حورا کی نظریں اس کے چہرے پر جمی تھیں جیسے ہر لفظ کو اپنے دل میں محفوظ کر رہی ہو۔
،زافیر نے گہری سانس لی اور دھیمی آواز میں کہا
“…کئی صدیاں پہلے۔۔۔ میری دادی نے متوازی دنیا میں قدم رکھا۔ اور پھر”

وہ لفظ لفظ بس بولے جارہا تھا۔ اس کے الفاظ اور لہجے میں اتنی گہرائی تھی کہ حورا کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ اس نے کچھ نہیں کہا، بس خاموشی سے سنتی رہی۔
جوں جوں زافیر کے الفاظ آگے بڑھتے گئے، حورا کے چہرے پر حیرانی کی جگہ خوف اور دہشت نے لینا شروع کر دی۔ اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوتی جا رہی تھی۔ وہ جان گئی تھی کہ یہ کہانی عام نہیں… بلکہ ایک ایسے راز کی دستک ہے جو اس کی زندگی کو ہمیشہ کے لیے بدل سکتا ہے۔

زافیر کبھی بولتا، کبھی لمبی خاموشی میں ڈوب جاتا۔ اس کی کہانی اختتام کو پہنچی تو کمرے پر ایسی گہری خاموشی طاری ہوگئی جیسے وقت تھم گیا ہو۔ اتنی گہری کہ سانسوں کی رفتار اور دلوں کی دھڑکنیں تک سنائی دینے لگیں۔

حورا یونہی گم سم بیٹھی رہی۔ ہونٹ کھلے، مگر الفاظ جیسے دم توڑ گئے ہوں۔
وہ…” اس نے کہنا چاہا مگر آواز لرز کر رہ گئی۔”

،کچھ توقف کے بعد پھر لب کھولے
دراصل…” لیکن جملہ ادھورا رہ گیا۔”

،چند لمحے اور بیتے۔ اس نے ایک بار پھر کوشش کی
آپ کی…” مگر باقی الفاظ گلے میں اٹک گئے۔”

آخرکار اس نے ہتھیار ڈال دیے۔ آہستگی سے لیٹی اور دوسری سمت کروٹ لے لی۔

،زافیر کی آواز دھیمی مگر پراثر تھی
“کیا ہوا؟ کچھ بولو گی نہیں؟”

،حورا نے چہرہ اس کی طرف موڑے بغیر، بند آنکھوں کے ساتھ جواب دیا
“ابھی آپ سے خوف محسوس ہو رہا ہے… صبح بات کریں گے۔”

وہ آنکھیں موند کر لیٹ گئی لیکن نیند کا نام و نشان نہیں تھا۔ دماغ میں زافیر کا ادا کیا گیا ایک ایک لفظ گونج رہا تھا۔ وہ اندر ہی اندر اس کے الفاظ پر غور کرنے لگی۔

وہ جانتی تھی کہ میاں بیوی کا رشتہ نازک ہوتا ہے، کچے دھاگے جیسا۔ ایک غیر محتاط لفظ، ایک بے قابو جذباتی لمحہ سب کچھ توڑ سکتا ہے۔ اسی لیے اس نے خاموشی کو اپنا سہارا بنایا۔ یہ سوچ کر کہ صبح کا سکون اسے فیصلہ کرنے میں آسانی دے گا… کہ زافیر کا راز اسے قبول ہے یا نہیں۔

°°°°°°°°°°

رینا کا وجود کسی حد تک سنبھلا تو اس نے دوبارہ اٹھ کر چڑھائی کی طرف قدم بڑھائے۔ مگر جیسے ہی نگاہ اونچائی پر پڑی، دل میں ایک انجانا خوف سرسرانے لگا۔ اس بار وہ سہم گئی تھی۔ لمحہ بھر کے توقف کے بعد اس نے پیروں سے بندھے خنجر کھولے اور جھنجھلا کر نیچے پھینک دیے۔

وہ وہیں کھڑی چند لمحے سوچتی رہی، پھر رخ موڑ کر پگڈنڈی کی طرف بڑھی۔ قریب پہنچی تو قدم رُک گئے۔ نظریں دیر تک اسی راہ پر جمی رہیں۔ وہ جانتی تھی کہ خود تو آسانی سے گزر جائے گی مگر کمر پر بندھا ہوا تاج اس کے لیے مصیبت بن سکتا ہے۔

سوچ کے بھنور میں ڈوبی، اس نے جھک کر رسی کھولی اور تاج کو آزاد کر کے ہاتھوں میں تھام لیا۔ وہیں ساکت کھڑی رہی جیسے اپنے ہی فیصلے کا وزن تول رہی ہو۔ پھر گہری سانس لے کر ہمت باندھی اور آہستہ آہستہ تاج کو اپنے سر پر جما دیا۔

اگلے ہی پل تاج سے تیز، سیاہ دھواں نکلنے لگا۔ دھواں لپک کر اس کے نتھنوں اور کانوں میں گھس گیا۔ یہ سب کچھ اتنی تیزی سے ہوا کہ وہ خود کو سنبھال بھی نہ سکی۔ اس کے گھٹنے جواب دے گئے اور وہ زمین پر دھڑام سے گر پڑی۔

شدید اذیت کے طوفان نے اسے جکڑ لیا۔ اس کے لبوں سے خوفناک چیخ نکلی جو وادی کی خاموشی کو چیرتی چلی گئی۔

شاہِ سموم کے تاج کا زہریلا، طاقت ور دھواں رینا کے وجود میں اترتا جا رہا تھا۔ وہ دھواں اس کی سانسوں سے ہوتے ہوئے رگ و پے میں سرایت کر گیا۔ لمحہ بہ لمحہ اس کے خون کی سرخی بجھتی گئی اور رگوں میں دوڑتا ہوا لہو اب گہری سیاہی میں ڈھلنے لگا۔ اس کی آنکھیں رفتہ رفتہ اندھیری رات کی طرح سیاہ ہو گئیں جیسے روشنی کا کوئی نشان باقی نہ رہا ہو۔

اب باری آئی اس کی جلد کی… جو پہلے خوبصورت گورے رنگ سے دمکتی تھی، آہستہ آہستہ کوئلے کی مانند سیاہ ہونے لگی۔ ہڈیوں کی سفیدی اور دانتوں کی چمک بھی تاریکی میں لپٹ گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کا پورا وجود ایک سیاہ وجود میں ڈھل گیا۔

شدید اذیت کے جھٹکے اس کے بدن میں اُترتے رہے لیکن کچھ ہی دیر بعد کرب کی شدت کم ہونے لگی۔ اس کے وجود پر عجیب سا سکون چھا گیا۔ وہ خود کو ہلکا محسوس کرنے لگی جیسے جسم مٹی اور گوشت کا نہیں بلکہ ہوا کا بنا ہو۔

اب ہر درد، ہر تکلیف غائب ہوچکی تھی۔ اس نے آہستگی سے قدم بڑھائے اور پگڈنڈی کی سمت چل پڑی مگر اب وہ پہلے والی رینا نہیں رہی تھی۔ اس کا ہر قدم اجنبی اور دہشت ناک طاقت سے لبریز تھا۔

چٹان کے ساتھ لگ کر وہ احتیاط سے آگے بڑھنے لگی۔ ہر قدم نہایت آہستگی اور پھونک پھونک کر رکھتی، گویا ذرا سی لغزش بھی اسے اندھیروں کی اتھاہ گہرائیوں میں گرا دے گی۔ تاریکی اتنی گہری اور چٹان اتنی طویل تھی کہ گویا اس کا کوئی اختتام ہی نہیں۔ لیکن وہ رکی نہیں… بس گھسٹتی، سنبھلتی آگے بڑھتی رہی۔ حتیٰ کہ آخر کار دوسری سمت جا پہنچی۔

سامنے کا منظر ایک دم اجنبی اور ہیبت ناک تھا۔ ایک وسیع ہموار میدان اس کے قدموں کے نیچے پھیلا تھا جیسے کسی نے زمین پر خاکی پتھر کا بے عیب فرش بچھا دیا ہو۔ میدان کے اوپر ہوا میں عجیب و غریب سائے لرزاں تھے۔ وہ کالے دھوئیں سے بنے انسانی وجودوں کی مانند گھوم رہے تھے اور ہر ایک کے اندر سے خوف اور دہشت کی لہریں نکل رہی تھیں۔

وہ جوں جوں قدم آگے بڑھاتی، وہ سائے پیچھے ہٹتے جاتے۔ ان کے لرزتے وجود یوں ڈگمگاتے جیسے وہ کسی مہلک آفت کے سامنے بے بس ہوں۔ لمحہ بہ لمحہ یہ احساس گہرا ہوتا جا رہا تھا کہ وہ اب کوئی عام وجود نہیں رہی… گویا موت کی ملکہ بن کر اتری ہو، جس کی دہشت سے شاہِ سموم کی پوری وادی کانپ اٹھی ہو۔

°°°°°°°°°°


“آبرو، جلدی کرو…!” زافیر گاڑی کی ڈگی میں بیگ رکھتے ہوئے بلند آواز میں بولا۔
نئی صبح، نرم دھوپ اور ٹھنڈی ہوا کے ساتھ چاروں ہی گھومنے نکل رہے تھے۔ سابقہ دن مومنہ خاتون نے ساتھ چلنے سے انکار کر دیا تھا لیکن آج صبح حورا نے اسے کسی طرح قائل کر لیا تھا۔
وہ چاہتے تھے کہ زندگی کی پریشانیوں اور مصائب سے ذرا دور، چند لمحے سکون اور خوشی کے گزار سکیں۔

بس آئی، بابا!” آبرو کی شوخ سی آواز اندر سے ابھری۔”

زافیر نے ڈگی بند کی اور پلٹ کر دیکھا تو حورا آہستہ آہستہ قریب آ رہی تھی۔ صبح سے اس نے زافیر سے زیادہ بات نہیں کی تھی۔ بس اتنا یاد دلایا تھا کہ آج وہ سب گھومنے جائیں گے۔

،زافیر نے اسے دیکھا تو چہرے پر پھیکی سی مسکراہٹ سجا دی اور مدھم لہجے میں بولا
“لگتا ہے، تم بھی مجھ سے نفرت کرنے لگی ہو۔”

،حورا اس کے قریب ہوئی، نرمی سے اس کا ہاتھ تھاما اور دھیمے لہجے میں بولی
“…جانتے ہو زافیر”

،پھر اس نے اس کی آنکھوں میں گہری نظر ڈالی اور لمحہ بھر کے توقف کے بعد بولی
ایک اچھی بیوی ہمیشہ اپنے شوہر کا ساتھ دیتی ہے۔ جب سب چھوڑ جائیں تب بھی وہ ڈٹ کر ساتھ کھڑی رہتی ہے۔”

” …خدا کا شکر ہے کہ آپ نے وہ سب کچھ پیچھے چھوڑ دیا… اگر آپ آج بھی وہی ہوتے، آدم خور

اس نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔ لفظ اس کے ہونٹوں پر آ کر رک گئے۔

زافیر خاموش کھڑا رہا، اس کی نگاہیں سوالیہ تھیں اور حورا کی آنکھوں میں عجیب سا یقین اور لرزش ایک ساتھ جھلک رہی تھی۔

،وہ دھیمے لہجے میں دوبارہ بولی
“…میں پھر بھی آپ کا ساتھ نہ چھوڑتی۔ یہ الگ بات ہے کہ آپ کو سدھارنے کی ہر ممکن کوشش ضرور کرتی۔ البتہ اگر آپ پھر بھی باز نہ آتے تو”
یہاں آ کر وہ لمحہ بھر کو خاموش ہوگئی۔

،زافیر نے آنکھیں سکیڑتے ہوئے پوچھا
“تو پھر کیا…؟”

:وہ گہری سانس لے کر بولی
“تو پھر میں بھی آپ جیسی ہی آدم خور بن جاتی۔”

،یہ کہتے ہوئے اس نے زافیر کی آنکھوں میں ڈوبتی ہوئی محبت سے دیکھا اور اپنائیت سے کہا
دراصل مجھے لگتا ہے کہ بیویاں دو طرح کی ہوتی ہیں۔ “

ایک وہ جو اپنے شوہر کو اپنے جیسا بنا لیتی ہیں… اور دوسری وہ جو خود شوہر جیسی بن جاتی ہیں۔ میری پہلی کوشش یہی ہوتی کہ آپ میرے جیسے بن جائیں۔

اور اگر آپ میرے جیسے نہ بنتے… تو میں آپ جیسی بننے کو ترجیح دیتی۔

“مگر ایک بات طے ہے، میں پھر بھی آپ کو کبھی نہ چھوڑتی۔

،زافیر نے مصنوعی الجھن کا تاثر چہرے پر لاتے ہوئے شوخی سے پوچھا
“اپنے جیسا بنا لیتی؟ مطلب… مجھے بھی فراڈی بنا دیتی؟”

،یہ سنتے ہی حورا نے ہنستے ہوئے اس کے سینے پر ہلکا سا مکا مارا اور شوخ لہجے میں بولی
“!آپ تو کبھی سدھریں گے ہی نہیں”

،اتنے میں آبرو پھول کی طرح لہراتی ہوئی قریب آ پہنچی اور شوخ لہجے میں چہک کر بولی
“!واہ واہ… بڑے پیار محبت کے راگ الاپے جا رہے ہیں”

یہ سنتے ہی حورا نے ہلکی سی شرم کے ساتھ مسکرا کر اپنا ہاتھ فوراً پیچھے کھینچ لیا۔

،زافیر نے ماحول کو بدلتے ہوئے سنجیدہ انداز میں کہا
“اچھا، چلو… اب کافی دیر ہو رہی ہے۔”

اس نے گاڑی کا فرنٹ دروازہ کھولا تو حورا اندر جا بیٹھی۔ آبرو پچھلی سیٹ پر بیٹھی اور تھوڑی ہی دیر میں مومنہ خاتون بھی آکر آبرو کے پہلو میں بیٹھ گئیں۔
زافیر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا اور گاڑی اسٹارٹ کر کے گیٹ کی سمت بڑھا دی۔

آہستہ آہستہ گیٹ خودکار انداز میں کھلنے لگا اور گاڑی روشنی میں نہائی سڑک پر نکل گئی۔ ان کے عقب میں ایک ویگو ڈالہ بھی حرکت میں آیا، جس میں مسلح گارڈز تیار بیٹھے تھے۔

…وہ روانہ ہو چکے تھے
…غموں کو پیچھے چھوڑنے کے لیے
…زندگی کے دیے گئے زخموں پر مرہم رکھنے کے لیے
…چند لمحوں کے سکون کی تلاش میں

مگر انہیں خبر نہیں تھی کہ یہ سفر راحت کا نہیں بلکہ قیامت کا پیش خیمہ ہے۔
انہیں اندازہ نہیں تھا کہ آنے والے دن، ان پر کیسی آفت ڈھانے والے ہیں۔

…ایک ایسی آفت… جو پہلے کبھی نہ دیکھی گئی تھی۔ تباہی در تباہی

°°°°°°°°°°

…جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *