ناول درندہ
قسط نمبر 39
باب چہارم: بدلاؤ
مصنف: زیاد اصغر زارون
°°°°°°°°°°
اکثر قارئین کا کہنا ہے کہ وہ ندیم کے کردار کو پڑھنا نہیں چاہتے۔ میری رائے ہے کہ آپ اسے لازمی پڑھیں، بلکہ اس کی نفسیات کو بھی گہرائی سے پرکھیں۔ یہ ایک بہت اہم کردار ہے جس کے ساتھ بہت سے سبق جڑے ہیں۔ نفسیات سے جڑی وہ باتیں جو برے لوگوں کو سمجھنے میں آسانی دیں گی۔
بھلے ہی اس کردار سے نفرت کریں لیکن نفرت میں اس قدر آگے مت جائیں کہ اس کردار کو پڑھیں ہی نا۔
جب بھی ندیم کی منظر نگاری کا وقت آتا ہے تو میں پیراگراف کے اختتام پر ایک سبق، یا نفسیات کا ایک پہلو یا کوئی مخصوص نکات ضرور ظاہر کرتا ہوں جو بہت اہم ہوتے ہیں۔ معاشرے کے ایسے ناسور کو پہچاننے کے لیے۔ اس کردار کو گہرائی میں پڑھیں تاکہ آپ وہ جان پائیں جو میں ٹکڑوں میں دکھانے کی کوشش کر رہا ہوں۔
…اب ناول پڑھیے
°°°°°°°°°°
شام کی سرخی آہستہ آہستہ اندھیرے میں ڈھل رہی تھی۔ آسمان پر منڈلاتے سیاہ بادلوں نے وقت سے پہلے ہی ہر منظر کو تاریکی میں لپیٹ لیا تھا۔ پہاڑوں کے دامن میں بسے گاؤں میں زندگی اپنے دن بھر کے سفر کا اختتام کر رہی تھی۔ کوئی موٹر سائیکل پر تھکا ماندہ واپس آرہا تھا، تو کوئی اپنے مویشی اور بکریاں ہانکتا ہوا گاؤں کی پگڈنڈیوں پر اتر رہا تھا۔ کچھ عورتیں اور مرد سر پر سبز چارے کی گٹھڑیاں سنبھالے واپس لوٹ رہے تھے۔
اکثر گھروں کی چمنیوں سے دھواں اٹھ رہا تھا، جہاں رات کے کھانے کی تیاریاں جاری تھیں۔ گاؤں کی فضا میں دیہات کا وہ روایتی سکون بکھرا ہوا تھا جو دل میں عجب ٹھنڈک اتارتا ہے۔ بچے ہنستے کھیلتے دوڑتے پھر رہے تھے، کہیں مٹی کے چولہوں پر جلتی لکڑیوں کی خوشبو گھل رہی تھی اور کہیں گائے کے گلے میں بندھی گھنٹیوں کی مدھم جھنکار سنائی دے رہی تھی۔
یہ منظر ہر آنکھ کو بھلا لگ رہا تھا، جیسے وقت تھم سا گیا ہو۔ لیکن یہ سکون محض چند لمحوں کا مہمان تھا۔ فضا میں چھائی یہ عارضی خاموشی جلد ہی لرزنے والی تھی۔ کیونکہ کچھ ہی دیر بعد، یہی گاؤں خون میں نہانے والا تھا۔
ندیم اب انسان نہیں رہا تھا بلکہ ایک درندے میں ڈھل چکا تھا۔ وہ پہاڑ کی ایک بلند چوٹی پر کھڑا نیچے گاؤں کو گھور رہا تھا۔ اس کا پورا وجود خون سے تر بتر تھا، کالے بالوں کی لٹیں لہو میں الجھی ہوئی تھیں اور یوں لگ رہا تھا جیسے وہ ناجانے کتنے بدن چیر پھاڑ کر آیا ہو۔ اس کی آنکھوں میں سفاکی اور چہرے پر ایک وحشی مسکراہٹ رقص کر رہی تھی۔
گاؤں کی طرف دیکھتے ہوئے اسے ہر شخص ایک مجرم دکھائی دے رہا تھا، جیسے یہ سب اس دھرتی پر محض ایک بوجھ ہوں۔ چند لمحے وہ اس سادہ اور پر سکون ماحول کو دیکھتا رہا، پھر اچانک ایک ہولناک چیخ اس کے حلق سے پھوٹی۔ ایسی چیخ جس نے خاموش فضاؤں کو لرزا دیا۔
چیخ کے ساتھ ہی وہ بھیانک جست لگا کر چوٹی سے نیچے کودا اور ہاتھوں پیروں کے بل زمین پر اترتے ہی بجلی کی سی تیزی سے گاؤں کی طرف دوڑ پڑا۔ اس کی چاپ ایسی تھی جیسے کوئی وحشی درندہ اپنی شکارگاہ کی طرف لپک رہا ہو۔
یہ چیخ اتنی دہشت ناک تھی کہ گاؤں کا ہر فرد ایک پل کے لیے ساکت رہ گیا۔ عورتوں کے ہاتھوں سے چارے کی گٹھڑیاں گر گئیں، بچے کھیلتے کھیلتے ٹھٹھک گئے، مرد حیران و خوفزدہ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ دل کانپ اٹھے، سانسیں رک گئیں۔ سب کی نظریں چاروں طرف خوف کے سائے تلاش کر رہی تھیں… مگر کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔
ندیم پہاڑ سے اترتے ہی بجلی کی مانند گاؤں میں داخل ہوا اور سب سے پہلے قریب کھڑے ایک شخص پر جھپٹا۔ صرف ایک ہی وار میں اس کے داہنے پنجے نے اس شخص کی آدھی گردن چیر کر رکھ دی۔ گردن پر ہاتھ رکھنے کے باوجود خون فوارے کی طرح اچھل رہا تھا اور اس کی آنکھیں دہشت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں… یوں جیسے موت کو سامنے دیکھ کر بھی یقین نہ آیا ہو۔
یہ لرزہ خیز منظر کئی گاؤں والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ مردوں کے چہروں کا رنگ اڑ گیا اور عورتوں کے حلق سے دہشت ناک چیخیں نکلیں۔ ایک پل میں پورا گاؤں کہرام اور افراتفری میں ڈوب گیا۔ جو خود منظر نہ دیکھ پائے تھے وہ ہڑبڑا کر دوسروں سے پوچھ رہے تھے کہ آخر کیا ہوا ہے۔
ندیم نے ایک اور ہولناک جست لگائی۔ اس بار وہ دوڑتے ہوئے دوسرے شخص تک جا پہنچا۔ صرف ایک پنجے کے وار سے اس کا سینہ چیر ڈالا اور دوسرا ہاتھ پیٹ میں گھسا کر اس کا دل نوچ نکالا۔ پھر سب کے سامنے وہ درندے کی طرح اس دل کو اپنے دانتوں میں جکڑ کر چبانے لگا۔ خون اس کے جبڑوں سے بہہ رہا تھا اور وہ سفاکی سے دل کو جھنجھوڑ رہا تھا۔
وہ لمحہ ایسا تھا جیسے گاؤں کی فضاؤں پر قیامت ٹوٹ پڑی ہو۔ لیکن ندیم کی پیاس ابھی بجھی نہیں تھی… وہ خون میں نہاتا آگے بڑھ رہا تھا۔
سبھی لوگ جان بچانے کے لیے دیوانہ وار گھروں کی طرف بھاگ رہے تھے۔ دروازے دھڑا دھڑ بند ہو رہے تھے، کھڑکیوں کے پٹ زور سے بند کر دیے گئے تھے اور پورے گاؤں میں ایک قیامت خیز افراتفری پھیل گئی تھی۔ عورتیں بچوں کو سینے سے چمٹائے چلا رہی تھیں، مرد اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھے تھے۔ لیکن ندیم کی بھیانک سرخ آنکھیں اب ایک عورت پر جا ٹھہریں جو ایک ننھے بچے کو گود میں لیے، چیختی اور لڑکھڑاتی ہوئی بھاگ رہی تھی۔
ندیم نے ایک ہی جست میں اس کے قریب پہنچ کر اپنے نوکیلے ناخنوں کی ایک ضرب اس کی کمر پر ماری۔ پنجے کی نوکیلی کھال پھاڑ دینے والی ضرب کے ساتھ عورت لڑکھڑاتے ہوئے زمین پر منہ کے بل گری۔ اس کے بازوؤں سے بچہ چھوٹ کر قریب ہی جا گرا اور زمین پر پڑتے ہی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔
عورت نے شدید زخمی حالت میں روتے ہوئے اپنے جسم کو گھسیٹنے کی کوشش کی، وہ بچے کی طرف رینگنے لگی۔ لیکن ندیم کے خون آلود وجود نے اسے گھیر لیا۔ اس نے اپنی خونی ہتھیلی سے عورت کو پلٹ کر اوپر کی طرف کر دیا۔
اس کے بعد پنجے کا پہلا وار عورت کے نسوانی چہرے پر ہوا۔ چار تیز دھار ناخن کان کے قریب سے گھستے ہوئے پورے رخسار کو چیرتے چلے گئے۔ خون اور گوشت کے ریزے ادھر ادھر بکھر گئے۔ اس کی ایک آنکھ کا کنارہ پھٹ گیا اور شدت سے خون بہنے لگا۔ عورت کے حلق سے ایک ایسی دلدوز چیخ نکلی جس کی بازگشت پہاڑوں میں گونجی اور فضا میں ایسی لرزاں وحشت بھر گئی کہ جیسے زمین تھرتھرا اٹھی ہو۔
ندیم نے ایک لمحے کو بھی توقف نہیں کیا۔ اس کا دوسرا وار گردن پر تھا۔ پنجہ گوشت اور ہڈی کو چیرتا ہوا اندر گھس گیا، گردن آدھی کٹ گئی۔ خون کا بہاؤ اس شدت سے پھوٹا کہ ندیم کا چہرہ، بال، اور سینہ سرخ خون میں نہا گئے۔
وہ لمحہ ہیبت ناک تھا۔ ندیم نے اپنے ہونٹوں پر بہتے گرم خون پر زبان پھیری، اس کے وجود میں سرور سا بھر گیا۔ اس کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ ابھری اور اگلے ہی پل اس نے اپنی خونی جبڑوں کو عورت کی گردن پر جما دیا۔ عورت کی نیم مردہ چیخیں ایک خراشیدہ خرخراہٹ میں بدل گئیں۔
…پورا گاؤں خوف کی گرفت میں لرز رہا تھا اور ندیم کی درندگی کا یہ باب ابھی ختم نہیں ہوا تھا
خون کا آخری قطرہ بھی نچوڑ لینے کے بعد ندیم نے سرخ چہرے کے ساتھ اپنا سر اوپر اٹھایا۔ اس کی آنکھیں انگاروں کی طرح دہک رہی تھیں اور اس کے جبڑوں سے خون کے قطرے ٹپک کر زمین پر گر رہے تھے۔ اچانک اس کی خونخوار نظر قریب ہی بیٹھے اس ننھے بچے پر پڑی جو روتے روتے ہچکیوں میں ڈوبا ہوا تھا۔ ندیم آہستہ آہستہ اس کے قریب آیا۔ بچے کے معصوم چہرے پر خوف کی سفیدی چھا چکی تھی۔ آنسو اس کے گالوں پر بہتے جا رہے تھے۔ ندیم نے اپنا خونی پنجہ بچے کو مارنے کے لیے اٹھایا لیکن وہ ایسا نہیں کر پایا۔ پھر نرمی سے اس کے نرم و نازک گال پر اپنا پنجہ رکھا۔ لمحہ بھر کے لیے یوں لگا جیسے اس درندے کے اندر انسانیت کی کوئی بجھی ہوئی چنگاری پھر سے جلنے لگی ہو۔ اس کے چہرے پر ایک پراسرار سکون چھلکا لیکن اگلے ہی لمحے بچے کو نقصان پہنچائے بنا اور بغیر کچھ کہے، اس نے ایک زوردار جست لگائی اور اندھیرے میں غائب ہو گیا۔
اب اس کا رخ گاؤں کے دوسرے لوگوں کی طرف تھا۔ گاؤں میں کہرام مچ چکا تھا۔ کئی مرد اپنی جان بچانے کے لیے گھروں سے بارہ بور بندوقیں اٹھا کر باہر نکل آئے۔ ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے، پسینے سے بھیگے ہوئے ماتھے پر خوف کے قطرے جم چکے تھے۔ لیکن ان کی نگاہوں کے سامنے ندیم کا وجود کسی چھلاوے کی مانند تھا۔ وہ ہوا میں تیرتا، سایوں میں لپٹا، ایک پل یہاں تو دوسرے پل وہاں دکھائی دیتا۔ اگر کوئی دیکھ بھی لیتا تو گولی چلانے کا موقع نصیب نہیں ہوتا اور اگر کسی نے ہمت کر کے گولی چلا بھی دی تو اگلے لمحے وہ خود زمین پر تڑپتا ہوا ملتا، اس کے سینے میں خون کا دہکتا ہوا سوراخ ہوتا۔
یہ ہولناک رات نہ ختم ہونے والی لگ رہی تھی۔ ہر لمحہ کسی نئی چیخ کی گونج سے فضا لرز اٹھتی۔ ندیم گلیوں میں چھپتے چھپاتے، گھروں کے اندر گھس کر، کمروں کی تاریکیوں میں وحشت کے کھیل کھیلتا رہا۔ دروازے توڑے جاتے، کھڑکیاں اکھاڑی جاتیں اور پھر خون کی بو کے ساتھ انسانی چیخیں سنسناتے ہوئے اندھیروں میں تحلیل ہو جاتیں۔
کافی دیر تک یہ عذاب چلتا رہا۔ اور پھر جب خاموشی اتری تو وہ خاموشی موت کی تھی۔ پورا گاؤں خون سے نہا چکا تھا۔ ہر طرف بکھری ہوئی لاشیں، کٹے پھٹے جسم اور چیخوں کے سائے باقی رہ گئے تھے۔ گاؤں میں کوئی مرد یا عورت زندہ نہین بچی۔ صرف معصوم چھوٹے بچے رہ گئے تھے جو اندھیروں میں، ٹھنڈے فرشوں پر، روتے ہوئے اپنے مردہ والدین کی لاشوں سے لپٹے ہوئے تھے۔ ان کی رونے کی آوازیں رات کی گہرائی کو اور بھی زیادہ بھیانک بنا رہی تھیں۔ ان کے ٹوٹتے ہوئے دل، ان کے ہچکیاں بھرتے ننے سینے، یوں لگتے تھے جیسے پوری انسانیت پر ماتم کر رہے ہوں۔
گاؤں کی گلیاں لاشوں کے ڈھیر میں ڈوبی ہوئی تھیں۔ چوراہے خون سے رنگے ہوئے تھے۔ گھروں کے اندر کٹی پھٹی لاشوں کا فرش بچھا تھا۔ خوف کی چادر میں یوں لگ رہا تھا جیسے مرنے والوں کی آوازیں ابھی تک فضا میں معلق ہیں، ہوا کے ہر جھونکے میں لرز رہی ہیں اور خدا سے فریاد کر رہی ہیں،
“اے پروردگار! اس شیطان کو کون روکے گا؟ اس درندے کا خاتمہ کون کرے گا؟ کیا یہ وحشی یونہی لاشوں کے ڈھیر لگاتا رہے گا؟”
“کیا یہ خود کو چنا ہوا سمجھ کر دوسروں کا خون بہاتا رہے گا؟ آخر کون… کون اس کے وجود سے سانس کھینچے گا؟
اندھیری رات اس سوال کے ساتھ زمین پر چھا گئی اور اس سوال کا جواب اب بھی خاموشی کے بوجھ تلے دفن تھا۔
°°°°°°°°°°
اندھیر نگری
زمار ابھی تک مسلسل پستیوں میں گرتا چلا جا رہا تھا۔ اندھیرا اس کے گرد یوں لپٹا تھا جیسے وہ کسی بے رحم قبر میں دفن ہو۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آخر یہاں ہو کیا رہا ہے۔ بس ایک نہ ختم ہونے والی اذیت اس کے وجود کو چیرتی جا رہی تھی۔ اس کے اعصاب ٹوٹنے کے قریب تھے اور جسم بے بسی کی انتہا پر۔
اچانک آسمان پھٹا اور تیزاب کی بارش برسنے لگی۔ ہر بوند جیسے آگ کے شعلے بن کر اس کے وجود کو بھسم کر رہی تھی۔ یہ قطرے جسم کے اوپر نہیں رکتے تھے بلکہ اندر اترتے جاتے، ماس کو جلا کر بہا دیتے۔ زمار کی چیخیں فلک شگاف تھیں، ایسی کہ مردہ پہاڑ بھی لرز اٹھیں۔ لیکن اس کی آواز صرف اسی اندھیر نگری کی قید میں گونج رہی تھی۔ دنیا کے کسی کونے تک نہیں پہنچ رہی تھی۔
تیزاب کی ہر بوند کے ساتھ اس کا ماس گلتا، پگھلتا اور بہتا جا رہا تھا۔ چہرے کی کھال پہلے اتری، پھر بازوؤں کی رگیں پگھل کر مائع کی شکل اختیار کر گئیں۔ یہاں تک کہ دھڑکتا دل بھی تیزاب میں تحلیل ہو گیا اور کھوپڑی کی آنکھیں بھی پگھل کر بہہ نکلیں۔ اب بس ایک عریاں ڈھانچہ بچا تھا لیکن ستم یہ تھا کہ وجود سے جان نکلنے کو تیار ہی نہیں تھی۔
زمار کو پوری طرح محسوس ہو رہا تھا کہ گوشت ختم ہو چکا ہے اور اب تیزاب براہِ راست ہڈیوں پر برس رہا ہے۔ ہر بوند کے ساتھ ہڈیوں میں باریک باریک سوراخ بنتے اور ان سے دھواں اٹھتا۔ کھوپڑی پر گرتا تیزاب چھنکار پیدا کرتا، جیسے کسی گرم لوہے پر پانی ڈال دیا گیا ہو۔
اب اس کی چیخیں انسانی نہیں رہیں۔ وہ کھوکھلے ڈھانچے کی ایسی ہولناک صدائیں بن گئی تھیں جو سننے والے کے کان چیر ڈالیں۔ اس کی آواز کسی بے سری بانسری کی بھونڈی دھن جیسی تھی لیکن اس میں اتنی وحشت تھی کہ دل کے اندر تک کپکپی دوڑا دیتی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے خود جہنم کا بانسری نواز انسانیت کے کان پھاڑنے کے لیے بجا رہا ہو۔
فضا میں پھیلی بارش، تیزاب کی کھٹاس اور جلتے گوشت کی مہلک بدبو نے اندھیر نگری کو شدید گھٹن زدہ کر دیا تھا۔ ہر طرف اذیت کی چیخیں، بدبو، دھواں اور اندھیرا… اور زمار کی روح اس کرب میں قید کہ موت تک اس پر رحم نہیں کھا رہی تھی۔
اچانک تیزابی بارش تھم گئی۔ مگر یہ سکون لمحاتی ثابت ہوا۔ اب زمار کے بدن میں ایک اور عذاب نے جنم لینا شروع کر دیا۔ اس کی جلی ہوئے ہڈیوں سے ماس دوبارہ اگنے لگا۔ جیسے کسی کھیت میں سوکھے تنکے جڑوں سے ابھر رہے ہوں، ویسے ہی اس کے جسم کا ہر ریشہ اپنی جگہ پھوٹ رہا تھا۔ کھال، پٹھے اور رگیں خون کے کیچڑ سے جنم لے رہی تھیں۔ یہ نشوونما قدرت کا معجزہ نہیں بلکہ ایک بھیانک سزا تھی۔
ہر خلیہ اپنی جگہ کھلتا تو اس کے ساتھ زمار کی چیخ کان پھاڑ دیتی۔ وہ مسلسل تڑپ رہا تھا، اس کی آواز اندھیرے میں یوں گونج رہی تھی جیسے ہزاروں لاشیں بیک وقت کراہ رہی ہوں۔ ہر لمحہ، ہر ثانیہ، اس کی چیخیں اور اذیت بڑھتی جارہی تھیں۔
یہ اذیت ناک نشوونما طویل وقت تک جاری رہی۔ آخر کار اس کا وجود پھر سے مکمل ہوگیا لیکن اس کے اعصاب اور روح پر عذاب کی چھاپ باقی رہی۔ گوشت اور ہڈی جڑ گئے مگر درد زہر کی طرح رگوں میں بہتا رہا۔
زمار نے مسلسل گرتے ہوئے ہی اپنی آنکھیں کھولیں تو وہی خوفناک منظر سامنے تھا… دو روشن سفید آنکھیں جو اندھیرے میں کسی قبر کی شمع کی طرح چمک رہی تھیں۔ اس نے روتے ہوئے لرزتی آواز میں کہا،
“میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے؟”
اچانک وہ سفید آنکھیں دہکتے انگاروں میں بدل گئیں۔ ایک لرزہ خیز دہاڑ اندھیرے میں گونجی، ایسی کہ جیسے آتش فشاں اپنی آگ اگلنے والا ہو۔ آواز اتنی بھاری اور غضبناک تھی کہ زمار کے کان پھٹنے کو آگئے۔ اس کے کانوں سے ایک بار پھر خون بہہ نکلا۔
“!…تم… تمہارا خاندان… تم سب… آدم خور… میری بیٹی کھا گئے”
،یہ الفاظ زمار کے وجود پر ہتھوڑے کی طرح گرے۔ وہ مسلسل روتا رہا، اس کی ہچکی بندھ گئی تھی۔ اذیت کے مارے چیخا
“!خدا کے لیے… مجھے ایک جگہ روکو! میں سب کچھ بتاؤں گا… بس چند پل کے لیے ہی سہی… لیکن اس عذاب سے نجات دلاؤ”
اندھیرے کی پستیوں میں وہ بدستور گرتا رہا۔ اس کا وجود کانپ رہا تھا۔ پھر اچانک اس کی رفتار کم ہونے لگی جیسے کوئی ان دیکھی طاقت اسے تھام رہی ہو۔ رفتہ رفتہ وہ سست ہوا اور آخرکار ہلکے سے ایک ٹھنڈی، ہموار زمین پر آن گرا۔
،زمین پر گرتے ہی وہ کراہتا ہوا سنبھلا، دونوں ہاتھ جوڑ کر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔ اندھیرے میں لرزتی آواز کے ساتھ ملکہ کو مخاطب کیا
“مجھ سے جو پوچھنا ہے پوچھ لو… لیکن اپنی آتش فشاں جیسی آواز سے اذیت مت دو۔”
چند لمحوں تک ملکہ دارونتھا کی طرف سے گہری خاموشی چھائی رہی۔ اندھیرا مزید بوجھل ہوگیا جیسے ہر سائے میں کوئی خوفناک راز چھپا ہو۔
،پھر وہ یکدم گرجی، لیکن اس بار اس کی آواز میں پہلی سی کھڑکھڑاہٹ نہیں تھی بلکہ ایک بھیانک بھاری پن تھا
“تمہیں سزا ضرور ملے گی… میری بیٹی کے قاتل ابد تک اذیت میں سڑتے رہیں گے۔”
پیروں تلے زمین ملنے سے زمار کے عذاب میں مبتلا وجود پر لمحاتی سکون اتر چکا تھا۔
،اذیت کچھ ہلکی ہوئی تو وہ ہانپتے ہوئے، التجائیہ انداز میں بولا
“خدا کے لیے… مجھے اس جرم کی سزا مت دو، جس کا مجھے علم ہی نہیں کہ میں نے کیا بھی ہے یا نہیں۔ بتاؤ… تمہاری بیٹی کی عمر کتنی تھی؟”
،اندھیرے میں وہی دہکتی آنکھیں تھرتھرا اٹھیں۔ ایک لرزہ خیز بازگشت گونجی جو زمین کے اندر سے نکلتی ہوئی لگ رہی تھی
“…تینتیس سال”
زمار کے ذہن میں ایک کربناک خیال لپکا۔ وہ جانتا تھا کہ وہ اور اس کا خاندان درجنوں نہیں، سینکڑوں انسان کھا چکے ہیں۔ ممکن ہے کہ انجانے میں اس عورت کی بیٹی بھی ان کا شکار بنی ہو۔ مگر اس وقت وہ اپنے وجود کو مزید عذاب سے بچانے کے لیے وقت خریدنا چاہتا تھا۔
،لہٰذا چالاکی سے اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے بولا
میں… میں لڑکیوں کا گوشت نہیں کھاتا… نہ ان کا خون پیتا ہوں۔ “
“شاید… شاید میرے خاندان میں سے کسی نے ایسا کیا ہو… لیکن میں نے تمہاری بیٹی کو نہیں مارا۔
،یکدم اندھیرا دہل گیا۔ ملکہ کی آواز اب قہر میں ڈوبی چیخ کی مانند ابھری
“تم مکار ہو… تم جھوٹے ہو… میری بیٹی جنگل میں گھومنے گئی تھی… اور تم لوگوں نے اسے پکڑ کر نوچا، پھاڑا، کھا گئے۔”
اس کی آواز ایسی تھی جیسے کسی ماں کی فریاد اور کسی دیوی کا قہر ایک ساتھ مل گئے ہوں۔ اندھیرے میں ایک لرزہ دوڑ گیا، جیسے ہر سائے میں اس معصوم عورت کی چیخیں ابھی تک قید ہوں… چیخیں جو وقت کے پردے چیر کر آج بھی زندہ ہیں۔
یہ سنتے ہی زمار کے چہرے کا رنگ ایک دم اُڑ گیا۔ اس کے دل کی دھڑکن بے قابو ہونے لگی۔ اسے اندازہ ہوچکا تھا کہ ملکہ دارونتھا کس کی بات کر رہی ہے۔ تینتیس سال کی عمر… جنگل میں گھومتی ہوئی… یہ الفاظ زمار کو کئی سال پیچھے، ایک ہولناک یاد کی طرف کھینچ لے گئے۔
وہ دن آنکھوں کے سامنے ابھر آیا جب زافیر اندھیر نگری کے قریب سے ایک جوان عورت کو اپنے ساتھ بنگلے میں لایا تھا۔ وہ عورت جس کی آنکھوں میں زافیر کے لیے بےلوث محبت اور بھروسہ جھلک رہا تھا۔ زافیر نے اپنی فریب زدہ مسکراہٹ سے اسے بہلا پھسلا کر اندر بلایا اور جیسے ہی قدم چوکھٹ کے پار ہوئے، وہ معصوم عورت قصائی خانے کی طرف گھسیٹی جانے لگی۔
،اس کے لبوں سے نکلی التجا آج بھی زمار کے کانوں میں گونج گئی
“میں نے تمہیں اپنا محافظ سمجھا تھا… اور تم مجھے ہی مار رہے ہو؟”
پھر چیخوں کا طوفان بند ہوگیا۔ چھری کے وار نے اس کی زندگی کا چراغ بجھا دیا۔ بعد میں جب اس کا گوشت کھانے کا وقت آیا تو پورا خاندان لالچ سے جھپٹ پڑا۔ مگر زمار کو وہ لمحہ آج بھی یاد تھا کہ اس نے اس عورت کا گوشت نہیں چکھا تھا۔ اس نے اس دن صرف ایک کڑیل جوان کا کلیجہ الگ سے پکا کر کھایا تھا۔
یہ یاد دہانی زمار کے دل کو ایک لمحے کو مطمئن کر گئی۔ کم از کم وہ ملکہ دارونتھا کی بیٹی کے قتل کا براہِ راست ذمہ دار نہیں تھا۔ اصل قاتل تو کوئی اور تھا… وہی جو ان کا دشمن تھا اور اب ملکہ دارونتھا کا بھی خونی دشمن۔
،یکدم زمار نے گھبراہٹ میں تیزی سے کہا
“!…میں نے تمہاری بیٹی کو نہیں مارا… اسے میرے بھائی زافیر نے قتل کیا تھا”
،ملکہ دارونتھا کی دہاڑ فضا کو چیرتی ہوئی گونجی
“!…تم سب قاتل ہو… میری بیٹی کے! تم سب مرو گے”
یہ الفاظ ایسے تھے جیسے آسمان سے بجلی کڑکی ہو۔ اگلے ہی لمحے زمار کو یوں محسوس ہوا کہ جیسے اس کے قدموں تلے کی زمین اچانک غائب ہوگئی ہو۔ وہ پستیوں کی طرف گرتا چلا گیا۔
،خوف کے مارے اس کے حلق سے چیخیں نکلنے لگیں
“!…مجھے جانے دو…! میں خود اسے… خود زافیر کو یہاں لے آؤں گا”
،مگر جواب میں ایک بار پھر ملکہ دارونتھا کی آتش فشاں جیسی آواز گونجی،
“!…وہ خود ہی تمہارے پیچھے آجائے گا”
یہ الفاظ بجلی کی گرج کی مانند زمار کے کانوں سے ٹکرائے۔ اسے یوں لگا جیسے اس کے دماغ کی جھلیاں پھٹ رہی ہوں، جیسے اس کا دماغ پگھل کر کانوں سے بہہ رہا ہو۔ اس کے حلق سے نکلنے والی چیخیں اندھیر نگری کی سیاہی میں لرزہ پیدا کرنے لگیں۔
پھر یکدم آسمان دہل اٹھا اور پتھروں کی بارش شروع ہوگئی۔ چھوٹے بڑے پتھر بادلوں کی کڑک کے ساتھ برسنے لگے۔ وہ پتھر زمار کے وجود کو روندتے، چکنا چور کرتے جارہے تھے۔ گوشت پھٹ کر چیتھڑوں میں بدل رہا تھا، زخم پر زخم لگ رہے تھے، ہڈیاں ریزہ ریزہ ہورہی تھیں۔ ہر ٹکراؤ کے ساتھ اس کی چیخیں بلند اور اذیت ناک ہوتی جارہی تھیں۔
اس پورے منظر کے بیچ وہ دو آنکھیں… ملکہ دارونتھا کی وہ شعلہ بار آنکھیں… ہر لمحہ اس پر جمی رہیں۔ وہ آنکھیں کسی بھوکے درندہ صفت تماشائی کی طرح اس کی اذیت سے محظوظ ہورہی تھیں۔ گویا زمار کی دردناک چیخیں اس کے لیے کسی شیطانی سنگیت کا روپ دھار چکی ہوں… ایک ایسا سنگیت جو اس کی روح کو سرور بخش رہا ہو اور جس کی لَے پر وہ مدہوش ہو رہی ہو۔
°°°°°°°°°°
زافیر اپنی فیملی کے ہمراہ لالہ زار کی سیر کو آیا ہوا تھا۔ وہ تین دن پہلے یہاں پہنچے تھے اور ان دنوں میں انہوں نے وادی کے مختلف مقامات کی خوبصورتی کو قریب سے دیکھا، رنگ برنگے مناظر کی دلکشی کو محسوس کیا اور اپنی زندگی کے حسین لمحات کو یادگار بنایا۔
آج کا دن کچھ اور ہی رنگ لے کر آیا تھا۔ صبح سے ہی آسمان پر کالے بادل چھائے ہوئے تھے۔ وہ بادل ہر گزرتے لمحے کے ساتھ گہرے اور زیادہ بوجھل ہورہے تھے، جیسے کسی پراسرار خاموشی میں چھپا ہوا طوفان کسی بھی پل برس پڑے گا۔ لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ صبح سے اب تک ایک بوند بھی پانی کی زمین پر نہیں گری تھی۔ یوں لگ رہا تھا جیسے فضا سانس روک کر کسی بڑے حادثے کے انتظار میں ہو۔
مومنہ خاتون کی طبیعت ناساز تھی، اس لیے وہ آج ہوٹل ہی میں آرام کر رہی تھیں۔ باقی تینوں اس وقت ایک ڈھلوان نما پہاڑ کی سبز ڈھلتی گھاس پر لیٹے ہوئے تھے۔ وہ گھاس اتنی نرم اور گھنی تھی کہ دیکھنے والے کو یوں لگتا جیسے قدرت نے خاص طور پر انسانی دلوں کو راحت دینے کے لیے سبز مخملی قالین بچھا دیے ہوں۔ ٹھنڈی ہوا میں گھاس کی مہک اور پہاڑوں کی خاموشی مل کر ایک ایسا منظر بنا رہی تھی جو سکون کے ساتھ ساتھ انجانے اندیشے کی ہلکی سی پرچھائی بھی اپنے اندر لیے ہوئے تھا۔
زافیر اور حورا کے درمیان آبرو لیٹی ہوئی تھی اور تینوں ہی نیلگوں آسمان پر تیرتے بادلوں کو خاموشی سے دیکھ رہے تھے۔
ہوا میں ٹھنڈک اور گھاس کی ہلکی سی نمی رچی ہوئی تھی، جیسے کائنات لمحہ بھر کے لیے سکون کا سانس لے رہی ہو۔
کئی پل یونہی لیٹے رہنے کے بعد آبرو نے اپنے بابا کو پکارا،
“…بابا”
،زافیر نے نرم سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا
“…ہاں”
،آبرو نے ٹھہرے ہوئے انداز میں کہا، جیسے وہ اس منظر کی گہرائی میں ڈوب جانا چاہتی ہو
“…یہ دنیا کتنی خوبصورت ہے نا بابا”
،زافیر نے اپنی بیٹی کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے دھیرے سے کہا
“ہاں، لیکن میری دنیا تو تم ہو۔”
،یہ سن کر آبرو کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی۔ پھر وہ شرارت میں مصنوعی ناراضگی سے بولی
“پتہ نہیں آپ ہر بار مجھے کیوں بیچ میں لے آتے ہیں۔”
اس پر حورا بھی ہنس دی۔
،وہ آہستگی سے کروٹ بدل کر کہنی گھاس پر ٹکا کر ہاتھ پر سر رکھتے ہوئے اپنی بیٹی کو محبت بھری نظر سے دیکھنے لگی اور بولی
“کیونکہ انہیں تمہارے سوا کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا۔”
،آبرو نے منہ پھلا کر معصوم ضد کے انداز میں کہا
“…وہی تو، ماما… انہیں یہ سب دیکھنا چاہیے نا… یہ تو”
لیکن اس کا جملہ ابھی مکمل بھی نہیں ہوا تھا کہ یکدم آسمان پر تیرتے سیاہ بادلوں میں ایک خوفناک کڑاکا گونجا۔ آواز اتنی بھاری تھی جیسے آسمان پھٹ گیا ہو۔
آبرو کا سارا وجود سہم گیا۔ وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھی، گھٹنوں کے بل رینگتے ہوئے بابا کے پاس پہنچی اور کانپتے ہاتھوں سے زافیر کا سینہ زور سے پکڑ کر اپنا سر اس سے لگا دیا۔ خوف سے اس نے آنکھیں سختی سے میچ لیں اور کانپتی آواز میں بولی،
“بابا… یہ دھماکہ… مجھے ڈر لگ رہا ہے۔”
سچ یہ تھا کہ بادلوں کی اس گرج نے حورا کو بھی ہلا دیا تھا۔ اس کے دل کی دھڑکن ایک پل کو تیز ہوگئی اور وہ بےاختیار زافیر کے قریب کھسک آئی۔
زافیر نے خود کو مضبوط ظاہر کرنے کے لیے ہلکی سی مسکراہٹ سجائی، آبرو کے سر پر ہاتھ پھیرا اور نرم لہجے میں بولا،
“کچھ نہیں ہوتا بیٹے… بادل تو گرجتے ہی ہیں۔”
مگر اگلے ہی لمحے آسمان پر ایک اور دھماکے جیسی کڑک گونجی۔ اس بار آواز اتنی خوفناک تھی کہ خود زافیر کا دل بھی کانپ اٹھا۔ اس کے چہرے پر لمحہ بھر کو چھائی گھبراہٹ اس بات کی غمازی کر رہی تھی کہ یہ عام گرج نہیں تھی۔ شاید واقعی کوئی طوفانی بارش آنے کو تھی۔
،حورا نے جلدی سے کہا، اس کی آواز میں واضح کپکپاہٹ تھی
“چلیں… ہمیں فوراً ہوٹل واپس چلنا چاہیے۔”
زافیر نے گہری سانس لی، آبرو کو اپنے سینے سے آہستہ سے الگ کیا اور مضبوطی سے اس کا ہاتھ تھام کر کھڑا ہوگیا۔
تینوں نے تیزی سے گاڑی کی سمت قدم بڑھائے۔
ابھی وہ گاڑی میں بیٹھ ہی رہے تھے کہ آسمان پر پھر سے ایسی دھماکہ خیز گرج ابھری جیسے بادلوں کے بیچ برف کے بڑے بڑے پہاڑ ٹوٹ کر گر پڑے ہوں۔ آواز اتنی دہلا دینے والی تھی کہ اردگرد کے سبز پہاڑ بھی جیسے لرز اٹھے۔
یہ یقینی اشارہ تھا کہ کسی بھی لمحے موسلا دھار طوفانی بارش شروع ہوسکتی ہے اور وہ جانتے تھے کہ اس علاقے میں بارش کے بعد سڑکیں کیچڑ میں ڈوب جاتی ہیں، سفر خطرناک ہو جاتا ہے۔
تینوں جلدی سے گاڑی میں بیٹھ گئے۔ زافیر نے انجن اسٹارٹ کیا اور گاڑی کو مدھم رفتار میں ہوٹل کی سمت بڑھا دیا۔ گاڑی کی کھڑکیوں سے وہ گھنے سیاہ بادلوں کو دیکھ سکتے تھے جو مسلسل گہرے اور دبیز ہوتے جا رہے تھے جیسے آسمان کسی بڑے قہر کے لیے تیار ہو۔
°°°°°°°°°°
رینا چلتے چلتے بالآخر شاہِ سُموم کے عظیم و شاندار محل تک پہنچ گئی۔ محل کا منظر ہیبت ناک بھی تھا اور دلکش بھی۔ یہ محل زمین سے تقریباً دس فٹ کی بلندی پر فضا میں معلق تھا، جیسے فضا میں کسی دیو قامت قوت نے اسے تھام رکھا ہو۔ نیچے سے اوپر جانے کے لیے بڑے بڑے پتھروں کے تراشے ہوئے پائیدان تھے، جو ایک گھماؤ دار سیڑھی کی مانند محل کی طرف اٹھتے جاتے تھے۔
شاہِ سُموم کو پہلے ہی اطلاع مل چکی تھی کہ ایک انجان لڑکی آرہی ہے… اور یہ بھی کہ اس کے سر پر شاہِ سموم کا تاج جگمگا رہا ہے جس کی خبر نے سلطنت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس خبر نے شاہِ سُموم کو حیرانی اور تجسس میں ڈال دیا تھا۔ وہ اپنے شان دار محل کے دروازے سے باہر آچکا تھا اور اب محل کے باہر کھڑا رینا کے انتظار میں تھا۔
اس کی آنکھوں میں تجسس اور غرور کی ملی جلی چمک تھی اور رینا کے قریب پہنچنے کے لمحے فضا میں ایک غیر مرئی بوجھ سا پھیل گیا تھا… جیسے وقت بھی اپنے قدم روک کر اس ملاقات کا منتظر ہو۔
رینا کے سر پر سجے تاج پر نظر پڑتے ہی اس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی تھی، ایسی مسکراہٹ جیسے صدیوں کی ویرانی کے بعد اچانک اسے خوشی اور زندگی کے لمحات نصیب ہوئے ہوں۔
وہ باقی تینوں بادشاہوں کی طرح بھیانک اور دیو قامت نہیں تھا، وہ تو بالکل مختلف تھا۔ ایک خوبرو نوجوان، جس کے نین نقش اتنے نکھرے اور پرکشش تھے کہ لمحہ بھر کو یوں لگتا تھا جیسے وہ کوئی جاذبِ نظر انسان ہو۔ لیکن جیسے ہی نگاہ اس کی آنکھوں پر جا ٹھہرتی، حقیقت کا زہر پورے وجود میں اُتر جاتا۔ اس کی وہ گہری سنہری آنکھیں، جن میں ایک غیر فانی چمک دفن تھی… ایسی چمک جو دل میں انجانی آگ بھڑکا دے۔ جب وہ مسکراتا تو موتیوں جیسے سفید دانت جھلملاتے، مگر اس جھلمل میں بھی ان دیکھا رعب اور دبدبہ سا محسوس ہوتا تھا۔
اس کے اردگرد لا متناہی کالے سائے فضا میں رینگ رہے تھے۔ وہ کبھی رینا کے قریب آتے، اس کے گرد چکر کاٹتے، پھر یہ سائے لوٹ کر شاہِ سموم کے قدموں میں جا کر سمٹ جاتے جیسے وہ اس کے غلام ہوں، اس کے حکم پر کسی بھی پل جھپٹنے کے لیے تیار۔
رینا چند لمحے ساکت کھڑی، اسے حیرت اور بے یقینی سے گھورتی رہی۔ اس کے ذہن میں شاہِ سموم کی جو شبیہہ تھی وہ تو باقی بادشاہوں جیسا دیو ہیکل، وحشت ناک اور بدصورت وجود ہونا چاہیے تھا۔ لیکن یہ… یہ تو کسی اور ہی جہان کا کھیل تھا۔ یہ دلکش چہرہ، یہ طلسمی مسکراہٹ اور یہ قاتل آنکھیں… سب کچھ اس کی توقع کے برعکس تھا۔
،ایک سرد لہر رینا کی ریڑھ کی ہڈی تک اتر گئی۔ جیسے اس کے دل نے دھڑک کر سرگوشی کی ہو
“یہ خوبصورتی، یہ مسکراہٹ… محض جال ہے۔ اصل وحشت ابھی پردے کے پیچھے چھپی ہے۔”
،چند لمحوں کی خاموشی کے بعد رینا نے ہمت جُٹائی اور اس شخص کو مخاطب کیا،ٓ
“میں شاہِ سموم سے ملنے آئی ہوں۔”
،اس کی بات سن کر شاہِ سموم کے لبوں کی مسکان اور بھی گہری ہوگئی۔ وہ دھیمی مگر گہری آواز میں بولا
“میں ہی شاہِ سموم ہوں۔”
اور پھر یکدم اس کی آواز گرجدار ہو گئی جیسے کسی طوفان نے صدیوں کا درد ایک پل میں اگل دیا ہو۔
“اور میں ہی بہتی ہوا کا شاہ ہوں۔”
اس کے الفاظ میں ایسی گرج تھی کہ رینا کا وجود تک لرز اٹھا۔ جیسے اس کی روح پر کسی نے کرب کی پرچھائیاں انڈیل دی ہوں۔ اس کی گرج کے ساتھ ہی اردگرد کے سائے پاگلوں کی طرح چیخنے لگے… ایسی دل دہلا دینے والی چیخیں جیسے لاکھوں مظلوم روحیں ایک ساتھ نوحہ کر رہی ہوں۔ فضا میں ایک ایسی وحشت پھیل گئی جس نے رینا کی سانسیں روک ڈالیں۔
یہ سب کچھ اس کی توقعات کے یکسر برعکس تھا۔ وہ جس شاہِ سموم سے ملنے آئی تھی، وہ تو اس کے ذہن میں ایک دیو قامت، خوفناک صورت والا وجود ہونا چاہیے تھا، مگر یہ شخص… یہ تو خوبصورت چہرہ لیے ایک انسان ہی لگ رہا تھا۔ اور پھر بھی اس کی مسکراہٹ اور اس کے الفاظ میں ایک ایسا بھید چھپا تھا جو رینا کے دل کو کاٹتا جا رہا تھا۔
،پھر اچانک شاہِ سموم کے لبوں پر ایک نرم مگر پراسرار مسکان ابھری۔ وہ دھیرے دھیرے بولا
“میرے سامنے گھٹنے ٹیکو… میرا وعدہ ہے کہ تمہارا سفر رائیگاں نہیں جائے گا۔ تمہاری قربانی رائیگاں نہیں ہوگی۔ تمہارا بھائی بھی واپس آئے گا… تمہیں تمہارا انتقام بھی ملے گا… اور تمہاری ہر امید پوری ہوگی۔”
رینا کے دل میں ایک سرد لہر دوڑ گئی۔ یہ الفاظ کسی پیش گوئی جیسے تھے۔ لمحہ بھر کو اسے ایسا محسوس ہوا جیسے شاہِ سموم اس کے دماغ میں گردش کرتی سبھی سوچیں، سبھی راز، سبھی امیدیں پڑھ رہا ہو۔
،رینا نے فوراً ایک گھٹنا زمین پر ٹیک دیا، عاجزی سے سر جھکایا اور تیزی سے بولی،
“میں آپ کے لیے ایک تحفہ لائی ہوں… آپ کا تاج لائی ہوں۔”
یہ کہتے ہوئے اس کے ہاتھ تاج کی طرف بڑھے، مگر شاہِ سموم نے نرم مگر رعب دار اشارے سے اسے روک دیا۔
،اس کی آنکھوں میں ایک انوکھی چمک تھی جب وہ دھیمی، بھاری آواز میں بولا
“رک جاؤ… اب یہ تاج تمہارے ہی سر کی زینت بنے گا۔ مجھے جو چاہیے… وہ یہیں سے لے لوں گا۔”
اس کے قدموں کی آہٹ سنسان میدان میں واضح سنائی دے رہی تھی۔ وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا قریب آیا اور پھر اپنے لمبے، بارعب ہاتھ کو بڑھا کر رینا کے سر پر رکھ دیا۔ اس کا ہاتھ اس طرح پھیلا کہ تاج اور رینا کا سر دونوں اس کی گرفت کے سائے تلے آگئے۔
اچانک رینا کے جسم میں ایک ارتعاش دوڑ گیا۔ اس کے کانوں اور نتھنوں سے دھواں نکلنے لگا… کالا، گہرا اور گھنا دھواں، مگر اس بار یہ اذیت ناک نہیں تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کے وجود سے کوئی بوجھ اتر رہا ہو۔ دھواں اوپر اٹھتا گیا، فضا میں لپٹتا، بل کھاتا اور کسی عظیم بھنور کی شکل اختیار کرتا گیا۔
رینا کی آنکھیں اور وجود جو پہلے سیاہی سے بھرا تھا۔ آہستہ آہستہ اپنی اصل حالت میں واپس آنے لگا۔ اس کے چہرے پر بوجھل سایے چھٹنے لگے اور اس کا وجود جیسے ہلکا ہوتا جا رہا تھا۔ دھواں تاج سے بھی اٹھ رہا تھا اور اس کے جسم سے بھی، دونوں کو ایک ہی عمل نے جکڑ رکھا تھا۔
یہ منظر جادوئی بھی تھا اور خوفناک بھی۔ رفتہ رفتہ رینا اور تاج دونوں کا دھواں پوری طرح خارج ہوگیا اور وہ دھواں اوپر فضا میں جمع ہو کر ایک عظیم بھنور کی مانند گھومنے لگا۔
پھر وہ سیاہ دھواں آہستہ آہستہ وادی میں اترا اور لمحوں میں ہر سمت پھیل گیا۔ وادی کی ہوا بوجھل اور دم گھونٹ دینے والی ہو گئی۔ جو بھی سایہ اس دھوئیں کی لپیٹ میں آتا، وہ لرزتے، تڑپتے وجود میں ڈھلنے لگتا۔ یہ وجود انسانوں جیسے تھے مگر ان کے جسم دھندلے اور ہلکی سی ہوا کے جھونکے سے کپکپاتے رہتے، گویا وہ گوشت پوست نہیں بلکہ محض کسی دھند کے بنے ہوئے ہوں۔
ان کے چہروں پر خالی آنکھیں جلتی راکھ کی طرح دہک رہی تھیں اور وہ سب اپنی لرزتی سانسوں کے ساتھ رینا کو گھور رہے تھے۔ ان کی آنکھوں میں خوشی اور چمک لوٹ آئی تھی لیکن ان کی خاموشی زیادہ خوفناک منظر بنا رہی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے پورا غم، وحشت اور قید کا بوجھ آنکھوں کے راستے بہا دینا چاہتے ہوں۔
جب کالا دھواں اپنے وحشی پن کے ساتھ وادی کے ایک ایک کونے کو نگل گیا، جب سپاہیوں کی رگوں میں صدیوں پرانی طاقت لوٹ آئی اور ان کی آنکھوں میں خون ابلنے لگا… تب وہی دھواں ایک ہولناک طوفان کی مانند الٹنے لگا۔ یہ واپسی سکون اور نرمی نہیں تھی بلکہ شاہِ سموم کی انمول طاقت کا قافلہ تھا جو گرداب بناتا ہوا اس کی سمت لپکا۔
دھواں اس کے بدن میں یوں سمایا جیسے سیاہ سانپ اپنے زہر کو شکار کی رگوں میں انڈیل رہے ہوں۔ اس کا گورا بدن اب سیاہ ہورہا تھا، پورا وجود سیاہی میں ڈھلتا جارہا تھا۔ ہر سانس کے ساتھ زمین کانپتی، پہاڑ لرزتے اور ہوا بھاری ہوتی جاتی۔ آسمان کی وسعتوں پر ایک سرخ رنگ چھا گیا جیسے فلک خود بھی اس لمحے کی وحشت کو اپنے پردے میں چھپانا چاہتا ہو۔
پھر… اچانک شاہِ سُموم نے سر جھٹکا۔ اس کے بال لمبے ہوکر کندھوں تک پہنچ آئے تھے اور ہوا میں یوں لہرا رہے تھے جیسے ان میں بھی جان بھر گئی ہو۔ اس کا وجود زمین سے اوپر اٹھنے لگا، جیسے زمین کے قوانین اس کی طاقت کے سامنے بے بس ہوگئے ہوں۔ اس کی آنکھیں دہکتے الاؤ کی مانند جلنے لگیں اور ان میں وہ وحشت اتر آئی جو صدیوں کی قید اور انتقام کے پیاسے ہی محسوس کر سکتے ہیں۔
رینا نے اس منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اس کے دل پر یوں بوجھ اترا جیسے سینے پر پہاڑ رکھ دیا گیا ہو۔ وہ لمحہ تھا کہ لگتا تھا اس کے پاؤں زمین میں دھنس جائیں گے، خوف کے ساتھ ساتھ اس کے آنکھوں میں خوشی کی لہر بھی نمودار ہورہی تھی۔ وہ معمولی انسان جس نے اپنی چالاکی سے تینوں بادشاہوں کو پہلے مرحلے میں مات دے دی تھی۔ وہ ایک فاتح کی طرح اسے دیکھ رہی تھی۔
شاہِ سُموم اب محض ایک بادشاہ نہیں تھا… وہ انتقام کی زندہ تصویر بن چکا تھا۔
ایک انتقامی بادشاہ، جسے صدیوں کے غصے اور پیاس نے اور زیادہ خطرناک کر دیا تھا۔
اس کے سامنے سینکڑوں میل طویل دیوار نما چٹان کھڑی تھی، جو آسمان سے جا ملتی تھی۔ لیکن اس کی نگاہ پڑتے ہی وہ چٹان یوں لرزنے لگی جیسے زمین کو کسی دیو نے اپنی مٹھی میں دبا کر کچلنے کی کوشش کی ہو۔ چٹان کی ہر نکر سے دھول کے بادل اٹھنے لگے تھے۔
اور وہ لمحہ آ پہنچا جب شاہِ سُموم نے اپنے بازو پھیلائے اور عظیم طاقت کی ساری سیاہی اپنے وجود میں سمیٹ لی، اب اس کا جسم دوبارہ پہلی حالت میں آچکا تھا، جلد کی سیاہی جسم کے اندر جذب ہوچکی تھی لیکن اس کے وجود سے اب ایسی وحشت برس رہی تھی کہ لگتا تھا پوری کائنات اس کے قدموں میں جھکنے پر مجبور ہے۔
یہ وہی شاہ تھا جس نے قسم کھائی تھی کہ آزادی ملتے ہی تینوں بادشاہوں کی ہڈیوں سے اپنا تخت تراشے گا… اور آج وہ آزاد تھا۔ آزاد، انتقام کا پیاسا اور اتنا طاقتور کہ دنیا کو ایک لمحے میں راکھ میں بدل دے۔
°°°°°°°°°°
…جاری ہے
