ناول درندہ
قسط نمبر 47
باب پنجم: کاسر العاکم
مصنف: زیاد اصغر زارون
°°°°°°°°°°
آبرو اور حورا ہال میں پہنچ چکی تھیں۔ وہ ایک صوفے پر ایک دوسرے کے قریب بیٹھی تھیں۔ آبرو اپنا سر جھکائے، کسی مجرم کی طرح شرمندگی محسوس کر رہی تھی جبکہ حورا مسلسل زافیر کی طرف نظریں جمائے بیٹھی تھی۔
زافیر دوسرے صوفے کی ٹیک سے سر ٹکائے، آنکھیں موندے لیٹا ہوا تھا۔ اس کی پیشانی پر انگلیاں ہلکی سی مساج کر رہی تھیں اور وہ گہری سوچ میں کھویا ہوا تھا۔ بنگلے میں مسلسل زلزلے کے جھٹکے محسوس ہو رہے تھے اور ہر شے لرز رہی تھی مگر اس کے باوجود اس کے چہرے پر اطمینان چھایا ہوا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ چاہے زلزلہ جتنی بھی شدت اختیار کر لے، وہ اور اس کی فیملی اپنے بنگلے میں محفوظ ہیں، یہاں انہیں کسی قسم کا خطرہ نہیں۔
،کافی دیر تک ہال میں خاموشی چھائی رہی۔ حورا نے اس سکوت کو توڑتے ہوئے ہلکے لہجے میں پوچھا
“زافیر…! کیا آپ ابھی تک آبرو سے ناراض ہیں؟”
،زافیر اچانک ایک جھٹکے سے بیٹھ گیا، اس کی آنکھوں میں غصے کی چمک تھی۔ وہ حورا کی طرف دیکھتے ہوئے سخت لہجے میں بولا
“اسے بعد میں دیکھ لوں گا۔ پہلے تم بتاؤ، تم کیا چیز ہو؟”
حورا حیرت زدہ ہو کر اس کی طرف دیکھنے لگی، نا سمجھی سے پوچھا،
“کیا مطلب؟ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟”
،زافیر کے لہجے میں تناؤ تھا، مگر وہ الفاظ احتیاط سے چنتا رہا
تمہارا، شگاف میں گرنا ایک حادثہ تھا، لیکن روشنی کے ہالے پر سوار ہو کر زندہ باہر نکلنا… یہ کوئی عام بات نہیں۔”
“تمہیں تو وہیں گر کر مر جانا چاہیے تھا۔
،حورا نے دکھ اور حیرت کے ملے جلے جذبات کے ساتھ اس کی طرف دیکھا اور روہانسے انداز میں بولی
“کیا آپ کو اس بات کا دکھ ہے کہ میں زندہ کیوں بچ گئی؟”
یہ سن کر زافیر کو فوراً احساس ہوا کہ اس نے الفاظ کا غلط چناؤ کر لیا ہے۔
،وہ اپنے لہجے میں تھوڑی نرمی لاتے ہوئے وضاحت کرنے لگا
“نہیں… میرا مطلب یہ نہیں ہے۔ میں کہہ رہا ہوں کہ تمہارے اندر کوئی بڑی طاقت موجود ہے جو تم مجھ سے چھپا رہی ہو۔”
“ایسی طاقت جس نے تمہیں موت کے منہ سے نکال لیا۔
،حورا نے سسکیوں کے بیچ ٹوٹے ہوئے لہجے میں کہا
” مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی، آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم یہ روشنی کہاں سے آئی، مجھے کس نے بچایا اور کیوں بچایا؟”
اس کے چہرے پر گہرا خوف اور الجھن نمایاں تھی۔
زافیر کے چہرے پر غصے کی لہر دوڑ گئی، اس نے اپنی مٹھیوں کو بھینچ لیا۔
“اگر یہ نامعلوم طاقت تمہارے ساتھ نہیں جڑی تو آنٹی مومنہ کو اس نے کیوں نہیں بچایا؟ صرف تمہیں ہی کیوں بچایا؟”
اس کی آواز میں تلخی اور غصے کی گونج تھی۔
زافیر کے سوال پر حورا کا دل دہل گیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے جو اب گالوں پر بہہ رہے تھے۔
“مجھے نہیں پتا… اس نے مجھے کیوں بچایا… اگر آپ کو میرے زندہ بچنے پر دکھ ہو رہا ہے تو مجھے خود ہی مار دیں۔”
وہ یہ کہتے ہوئے اپنے قدموں کو زور سے پٹختی ہوئی ہال سے نکل کر کمرے کی طرف چلی گئی
،زافیر نے اسے جاتے ہوئے دیکھا اور اس کی کمر پر زور سے چلایا
“یہی تو آتا ہے تمہیں… جب کوئی جواب نہ بن پائے تو روتے ہوئے کمرے میں دبک جاتی ہو۔”
اس کی آواز میں بے بسی اور غصے کا امتزاج تھا۔
،آبرو، جو کافی دیر سے سر جھکائے خاموشی سے بیٹھی تھی، آخر کار اس نے سسکیوں کے بیچ ٹوٹے ہوئے لہجے میں کہا
“ماما کو مت ڈانٹیں نا بابا۔”
اس کی آواز میں گہری معصومیت اور خوف تھا۔
اس کی زبان سے یہ الفاظ سنتے ہی زافیر کا غصہ مزید بھڑک اٹھا۔
،وہ بجلی کی سی تیزی سے صوفے سے اٹھا اور غضبناک آنکھوں سے اسے گھورتے ہوئے، انگلی دکھا کر دھاڑا
“بکواس بند کرو تم! تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھ سے بات کرنے کی؟ مر گیا تمہارا بابا۔”
یہ کہتے ہی وہ آبرو کو روتے ہوئے چھوڑ کر غصے میں تیزی سے کمرے کی طرف بڑھا۔ اسے ہر حال میں اپنے سوالوں کا جواب چاہیے تھا اور وہ جواب حورا کے پاس ہی تھا۔
وہ سیدھا کمرے میں داخل ہوا، جہاں حورا تکیے میں منہ چھپائے سسکیاں لے رہی تھی۔ اس کی کمر مسلسل کانپ رہی تھی اور اس کے آنسو تکیے کو بھگو رہے تھے۔
زافیر کچھ دیر خاموشی سے کھڑا رہا، اس کی آنکھوں میں شدید جذبات کا طوفان تھا۔ پھر اس نے اپنے غصے پر قابو پاتے ہوئے نرمی سے کہا، “مجھے اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ تمہارے اندر کوئی بڑی طاقت چھپی ہے۔ میں صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ تم نے آنٹی مومنہ کو کیوں نہیں بچایا؟”
اس کی آواز میں گہرا دکھ تھا۔
رونے کی وجہ سے حورا کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں۔ اس نے سسکیاں لیتے ہوئے تکیے سے چہرہ ہٹایا اور غصے میں زافیر کی طرف دیکھا۔
“!مجھے نہیں معلوم یہ روشنی کہاں سے آئی اور نہ یہ کہ مجھے کس نے بچایا۔ خدا کی قسم، مجھے کچھ نہیں معلوم”
وہ چیختے ہوئے بولی اور پھر دوبارہ تکیے میں منہ چھپا کر رونے لگی۔
زافیر کچھ دیر اسے بے بسی سے دیکھتا رہا۔ اس کے چہرے پر تھکاوٹ اور بے چینی تھی۔ پھر وہ آہستہ سے آگے بڑھا اور بستر کے کنارے پر بیٹھ گیا۔ چند لمحے خاموشی کے بعد اس نے حورا کو پکارا،
“ٹھیک ہے، میں تمہاری بات مان لیتا ہوں۔ اب میری بات سنو۔”
لیکن حورا نے کوئی جواب نہیں دیا، وہ وہیں سسکتی رہی۔
زافیر نے آہستہ سے اس کے قریب ہو کر اسے بازو سے پکڑ کر کھینچا اور بستر پر بٹھایا۔ اس نے حورا کا چہرہ اپنی ہتھیلیوں میں لے کر اس کے بہتے ہوئے آنسو پونچھے۔ مگر حورا چپ نہیں ہو رہی تھی، وہ مسلسل سسک رہی تھی۔
“…میری بات سنو”
،اس نے نرمی سے کہا
“مجھے جانا ہوگا۔ مجھے واپس متوازی دنیا میں جانا پڑے گا۔”
یہ الفاظ سن کر حورا اچانک ٹھٹک گئی۔
،اس کا رونا جیسے کہیں رک گیا۔ حیرت اور خوف نے اس کے چہرے کو گھیر لیا۔ اس نے زافیر کی ہتھیلیاں اپنے چہرے سے ہٹاتے ہوئے کہا
“کیا آپ کو نظر نہیں آ رہا کہ باہر کتنا خطرہ ہے؟ باہر آگ برس رہی ہے اور خدا جانے کب زمین پھٹ جائے؟”
اس کی آواز میں گہری بے چینی تھی۔
“تمہاری بات درست ہے۔”
،زافیر نے تحمل سے جواب دیا
“لیکن مجھے یہ جاننا ہے کہ یہ آفات کیوں آئی ہیں؟ یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟”
حورا نے حیرت سے ایک نظر اسے دیکھا اور بولی،
“کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہ ساری آفات متوازی دنیا کی وجہ سے آئی ہیں؟”
اس کے لہجے میں خوف کے ساتھ ساتھ ایک نیا سوال تھا۔
،زافیر نے پرسکون مگر پُرامید لہجے میں وضاحت کی
دراصل، جب وہاں (متوازی دنیا) میں کچھ برا ہوتا ہے تو اس کے اثرات حقیقی دنیا پر بھی پڑتے ہیں۔”
اب یہ جو آفات آئی ہیں… بارش، آگ کا برسنا، تیز آندھی اور زلزلے… ان چاروں کا ایک ساتھ آنا معمولی بات نہیں ہے۔
“یقینی طور پر متوازی دنیا میں کچھ ایسا ہو رہا ہے جو اس دنیا کو تباہی کی طرف لے جا رہا ہے۔
اس کی بات میں ایک عجیب سی گہرائی تھی۔
،حورا کا دل خوف سے دھڑک رہا تھا۔ اس نے ڈرتے ہوئے پوچھا
“تو کیا آپ اکیلے وہاں جائیں گے؟”
اس کے چہرے پر بے چینی کے سائے گہرے ہو گئے تھے۔
،زافیر نے اس کی گھبراہٹ کو محسوس کرتے ہوئے نرمی سے جواب دیا
نہیں، میں اکیلا نہیں جاؤں گا۔ میرے کچھ قیدی ہیں جو کئی مہینوں سے میری قید میں ہیں۔ میرا ایک وفادار دوست ان کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔”
“میں ان سب کو ساتھ لے کر جاؤں گا۔
،حورا کے لہجے میں ابھی تک خوف غالب تھا، اس نے سہمے ہوئے انداز میں پوچھا
“لیکن… باہر تو آگ برس رہی ہے۔ آپ وہاں تک کیسے پہنچیں گے؟”
اس کی آواز میں بے بسی اور مایوسی صاف جھلک رہی تھی۔
،زافیر نے پرسکون آواز میں بتایا
“وہ یہیں ہیں… ہمارے تہہ خانے میں۔”
،یہ کہتے ہوئے اس نے حورا کا ہاتھ تھاما اور ایک پل کے توقف کے بعد بولا
“آبرو کو بتا دینا کہ مجھے مجبوری میں ذبح خانے جانا پڑ رہا ہے اور یہ بھی کہ میں اپنا وعدہ نہیں بھولا۔”
اس کی آواز میں گہرا عزم تھا۔
وہ بستر سے اٹھا اور دروازے کی طرف بڑھنے لگا لیکن پھر اچانک کچھ سوچ کر رک گیا۔ وہ واپس مڑا، دراز کھولا اور اس میں رکھے سات سمارٹ موبائلوں میں سے ایک اٹھا لیا۔
میں تم دونوں کو محفوظ دیکھنا چاہتا ہوں۔”
“اور اگر اس کے لیے مجھے دونوں دنیاؤں کو بھی جلانا پڑا تو میں جلا دوں گا، لیکن تم دونوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچنے دوں گا۔
اس کے لہجے میں ایک فیصلہ کن طاقت تھی۔
یہ کہتے ہی وہ حورا کو سوچوں میں گم چھوڑ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔ باہر بارش اور آگ کی برسات اپنے عروج پر تھی اور زلزلے کے جھٹکے بھی پہلے کی طرح شدید محسوس ہو رہے تھے۔ مگر زافیر کے قدم نہیں رکے۔ وہ ایک نئے عزم اور مقصد کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا۔
°°°°°°°°°°
زافیر نے سٹور روم کے اندھیرے کونے سے ایک بھاری لوہے کا تختہ اٹھایا اور سر پر جما کر برآمدے سے گزرتا ہوا باہر نکلا۔ بارش کے موٹے، بے رحم قطرے تختے پر ہتھوڑوں کی طرح برس رہے تھے۔ ساتھ ہی آسمان سے برستے ننھے آگ کے شعلے تختے سے ٹکرا کر بجھ تو جاتے، مگر ان کی حدت لوہے کو گرما رہی تھی۔ تختہ زہریلی تپش سے کانپ رہا تھا، جیسے ابھی پگھل کر زافیر کے وجود میں سرایت کر جائے گا۔
وہ قدم تیز کرتے ہوئے، بارش اور آگ کی جھڑی میں دوڑتا ہوا دوسری چاردیواری میں پہنچا پھر ذبح خانے کے دروازے تک جا پہنچا۔ وہاں رُکتے ہی اس نے کانپتے ہاتھوں سے جیب سے موبائل نکالا۔ پھر مخصوص ایپ کھول کر پورے انہماک کے ساتھ اس پر نظریں گاڑ دیں۔ ایک ہاتھ اب بھی تختے کے نیچے جما تھا، جیسے وہ اپنے اوپر گرتے شعلوں اور بوجھ کو آخری ہمت سے سہہ رہا ہو۔
اچانک ایپ کی اسکرین پر ایک اشارہ نمودار ہوا۔ ذبح گاہ کا فرش اوپر آ رہا تھا۔ لمحہ بھر کے لیے زافیر کی آنکھوں میں ایک چمک لپکی، جیسے اندھیرے میں بجلی کوند گئی ہو۔ فرش آخری حد تک پہنچ آیا تو اس نے وہیں سے ایپ کے ذریعے ذبح گاہ کا دروازہ کھولا۔ اگلے ہی لمحے اس نے بھاری تختہ ایک طرف رکھ دیا۔
وہ تیز قدموں سے آگے بڑھا، دروازہ پوری قوت سے دھکیلا اور اندر داخل ہو گیا۔ ذبح گاہ کا منظر تقریباً ویسا ہی تھا جیسا وہ چھوڑ کر گیا تھا۔ بس اب دیواروں پر خون کے چند نئے چھینٹے جمے دکھائی دے رہے تھے… وہ چھینٹے جو جیسے وقت کے ساتھ پتھر بن گئے ہوں۔ لگتا تھا ندیم نے انہیں صاف کرنے کی انتھک کوشش کی تھی مگر خون اپنی ضد پر قائم رہا۔ سیاہ لکیروں کی طرح دیواروں سے چمٹا ہوا۔
اسٹیل کی ٹھنڈی میز پر ندیم چوکڑی مار کر بیٹھا ہوا تھا۔ اس کا وجود یوں لگا جیسے کئی دنوں کی تھکن اور بے خوابی نے اس سے جان نچوڑ لی ہو لیکن اس کے باوجود وہ دروازہ کھلنے کے انتظار میں ہو۔
جیسے ہی زافیر نے دروازہ دھکیلا اور اندر قدم رکھا۔ ندیم کے بدن میں بجلی دوڑ گئی۔ وہ جھٹکے سے اٹھا اور تیز قدموں سے زافیر کی طرف بڑھ آیا۔
چند لمحوں بعد دونوں آمنے سامنے تھے۔ فضا بوجھل اور خاموش، صرف بارش کی ٹپ ٹپ دروازے کے باہر سنائی دے رہی تھی۔
اس کے بے تاب چہرے کو دیکھ کر زافیر کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔ ندیم کے چہرے پر گہری سنجیدگی اور ایک ڈرا دینے والی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ اس کی آنکھوں میں ایسا لگتا تھا جیسے ہزاروں طوفان قید ہوں مگر وہ انہیں ضبط کی زنجیروں میں جکڑ کر کھڑا ہے۔ گویا وہ لمحہ ذبح گاہ کی دیواروں پر جمی ہوئی لکیروں سے بھی زیادہ بوجھل اور خونی تھا۔
قریب پہنچتے ہی ندیم نے ایک جھٹکے سے زافیر کو اپنی بانہوں میں بھر لیا۔ اس کی گرفت میں ایسی شدت تھی جیسے برسوں کا گمشدہ بچہ اچانک اپنے باپ سے جا ملا ہو اور اب دوبارہ بچھڑنے کا تصور بھی اس کے لیے موت سے کم نہ ہو۔ اس کی سانسیں تیز اور بے ربط تھیں جیسے سینے میں قید کوئی طوفان باہر نکلنے کو مچل رہا ہو۔
زافیر نے مسکراہٹ برقرار رکھتے ہوئے، ندیم کو اپنے بازوؤں میں سمیٹ لیا۔ اس کے لہجے میں نرمی اور حیرت یکجا تھی۔
“…کیا ہوگیا ندیم؟ یوں لگ رہا ہے جیسے میرے بغیر ٹوٹ پھوٹ گئے ہو تم”
،ندیم کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔ اس نے کپکپاتے ہونٹوں سے الفاظ ادا کیے، جن میں ندامت اور خوف دونوں لرز رہے تھے
“مجھے معاف کر دیجیے سر… میں نے سب کچھ برباد کر دیا۔ مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئی ہے۔”
یہ کہتے ہی وہ دھڑام سے زمین پر بیٹھ گیا اور زافیر کے قدموں سے لپٹ گیا۔ اس کی حالت ایسی تھی جیسے کوئی مجرم اپنی آخری پناہ مانگ رہا ہو۔ اس کے وجود سے نکلتی بے بسی اور شکستگی نے ذبح گاہ کی بوجھل فضا کو اور بھی گھمبیر بنا دیا۔
یہ منظر اتنا غیر متوقع اور بھاری تھا کہ لمحہ بھر کو زافیر کے لب بھی ساکت ہوگئے۔ اس نے ہچکچاتے ہوئے دو قدم پیچھے ہٹ کر ندیم کو بازوؤں سے تھاما اور زبردستی کھڑا کیا۔ اب اس کے اپنے چہرے پر بھی مسکراہٹ کے بجائے گہری سنجیدگی اور تشویش چھا گئی تھی۔ فضا میں جیسے خاموشی مزید دبیز ہو گئی ہو۔
“بتاؤ ندیم… آخر ہوا کیا ہے؟”
زافیر کی آواز میں غصے کی بجائے فکر اور بے چینی کی پرچھائیاں زیادہ نمایاں تھیں۔
،ندیم نے نظریں جھکائے ہی دبے لہجے میں کہا
میں نے تمام قیدیوں کو آپ کا وفادار بنا دیا ہے۔ جیسے میں آپ کا عقیدت مند ہوں، ویسے ہی اب وہ بھی آپ کی اطاعت کے لیے تیار ہیں۔”
“لیکن… لیکن جلد بازی میں مجھ سے ایک بہت بڑی گڑبڑ ہوگئی ہے۔”
اس کے الفاظ کانپ رہے تھے، جیسے ہر حرف اس کے گلے میں اٹک رہا ہو۔ آنکھوں میں شرمندگی کی دھند اتر آئی تھی اور چہرہ کسی مجرم کی طرح پسینے میں ڈوبا ہوا تھا۔
زافیر نے آگے بڑھ کر دونوں ہاتھوں سے اس کے کندھے مضبوطی سے تھام لیے۔ اس کی گرفت میں ایک غیر مرئی دباؤ تھا، جیسے وہ ندیم کی روح تک کو جھنجھوڑ دینا چاہتا ہو۔ وہ دھیمی مگر بھاری آواز میں بولا،
“میری آنکھوں میں دیکھو، ندیم… اور کھل کر بتاؤ کہ ہوا کیا ہے؟”
ندیم نے جھجکتے ہوئے نظریں اٹھائیں۔ ایک پل کے لیے اس نے زافیر کی آنکھوں میں جھانکا مگر وہاں چھپی ہوئی گہری سختی اور جلال نے اس کی ہمت توڑ دی۔ دل میں زافیر کے لیے عقیدت اور احترام کا طوفان برپا تھا، وہ زیادہ دیر آنکھیں ملا نہیں سکا۔ فوراً ہی نظریں نیچے گرا لیں۔
،اس کی آواز لڑکھڑا رہی تھی، جیسے ہر لفظ اس کے گلے میں اٹک رہا ہو
آپ نے مجھے خونی بھائی بنایا تھا… تو میں نے سوچا کہ یہ قیدی بھی آپ کے عقیدت مند ہو چکے ہیں، تو کیوں نا انہیں بھی بھائی بنا لوں۔”
“لیکن… لیکن مجھ سے بہت بڑی گڑبڑ ہوگئی ہے۔
زافیر کے چہرے پر لمحہ بھر کو سرخی دوڑ گئی۔ اس کی آنکھوں میں چنگاریاں لپک رہی تھیں، جیسے ابھی شعلے پھوٹ پڑیں گے۔ مگر اگلے ہی لمحے اس نے اپنے جذبات پر قابو پایا۔ خاموشی سے جیب سے موبائل نکالا اور سرد لہجے میں اسکرین پر انگلیاں دوڑانے لگا۔
جونہی اس نے چند آئیکن چھوئے، ٹھنڈا فرش ہولے ہولے لرزنے لگا۔ پھر جیسے زمین خود پیچھے ہٹ رہی ہو، سارا فرش دھیرے دھیرے نیچے اترنے لگا۔ خون کی سڑاند اور لوہے کے رگڑنے کی آواز نے فضا کو مزید گھٹن زدہ بنا دیا۔ ندیم نے بے اختیار اپنی سانس روکی، جیسے اب کسی نئی اور ہولناک حقیقت کا در کھلنے والا ہو۔
زافیر کا ضبط آخرکار ٹوٹ گیا۔
“!تمہیں کہا تھا کہ کوئی بیوقوفی مت کرنا… پھر بھی تم نے وہی حرکت کر ڈالی۔ آخر کس قدر احمق انسان ہو تم”
اس کی گرجدار آواز سنتے ہی ندیم کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ اس نے اپنے محسن کو دکھ دیا تھا اور یہ احساس اس کے وجود کو اندر سے نوچ رہا تھا۔
اب ذبح گاہ کا فرش تہہ خانے کی آدھی دیوار تک نیچے اتر چکا تھا۔ وہاں سے ابھرنے والی آوازیں صاف سنائی دینے لگیں… درندوں کی دھاڑیں اور ایسی دل دہلا دینے والی چیخیں جو انسان کی ہڈیوں تک کو لرزا دیں۔
ندیم نے گھبراہٹ میں فوراً ہاتھ جوڑ دیے، اس کی آواز لرز رہی تھی،
“پلیز… مجھے معاف کر دیں…! مجھے نہیں پتا تھا کہ ایسا ہوجائے گا۔”
لیکن زافیر کا غصہ پہلے ہی عروج کو چھو رہا تھا۔ اچانک ایک زوردار تمانچہ ندیم کے رخسار پر پڑا۔ کمرے میں ایک کرخت سی آواز گونجی۔
“اوہ بیوقوف انسان…! تو نے ان کے ساتھ کیا کر ڈالا ہے؟”
زافیر کی گرجدار آواز غصے اور بے بسی سے لرز رہی تھی۔
،ندیم اپنے جلتے ہوئے رخسار کو سہلاتے ہوئے، آنکھوں میں آنسو اور لبوں پر لرزتی بے بسی لیے بولا
“مَیں نے… میں نے تو وہی کیا، جو آپ نے میرے ساتھ کیا تھا۔ بس… بس اتنا مزید کہ… انہیں اپنا خون بھی پلا دیا تاکہ یہ ہم سے بہتر بن سکیں۔”
وہ بمشکل ہی یہ الفاظ ادا کر پایا تھا کہ زافیر نے الٹے ہاتھ سے دوسرا تمانچہ جڑ دیا۔ ندیم کا سر ایک طرف کو جھٹکا کھا گیا۔
،وہ دانت پیستے ہوئے بولا،
“ندیم…! احمق انسان…! تم نے انہیں درندہ بنا دیا ہے… تم اتنے بے وقوف کیسے ہوسکتے ہو؟”
زافیر کی آواز میں زلزلے کی سی لرزش تھی۔
اب اس کے اندر ایک عجیب کشمکش چل رہی تھی۔ وہ کبھی اپنے ماتھے پر ہاتھ مارنے لگتا، کبھی مٹھی بھینچ کر ندیم کے سر پر وار کرنے کو جی چاہتا۔ یہ وہی قیدی تھے جنہیں اس نے ایک بڑی حکمتِ عملی کے تحت اپنے ساتھ شامل کرنا تھا تاکہ انہیں متوازی دنیا میں لے جا کر حالات کا جائزہ لے سکے۔ لیکن ندیم کی ناسمجھی نے سب کچھ برباد کر دیا تھا۔ وہ ساری محنت، وہ سارا منصوبہ جس پر عمل کرنے کا سوچ رہا تھا… لمحوں میں ریزہ ریزہ ہوگیا۔
کمرے میں اب ایک غیر مرئی بوجھ سا پھیل گیا تھا، جیسے فضا خود زافیر کے غصے اور بے بسی کا وزن برداشت نہ کر پا رہی ہو۔
°°°°°°°°°°
آبیاروس کی مادی فوج محض چالیس ہزار سپاہیوں پر مشتمل تھی۔ جبکہ آگ کے فرمانروا کازمار کی فوج ابھی بھی لاکھوں پر پھیلی ہوئی تھی۔ تعداد کا یہ فرق ہیبت انگیز تھا۔ اگرچہ آبیاروس کے سپاہی نہایت ماہر جنگجو تھے اور پانی کی طاقت ان کے ہر وار کو کازمار کے آتشیں سپاہیوں پر بھاری بناتی تھی لیکن ان کی قلیل تعداد انہیں آہستہ آہستہ شکست کے دہانے تک دھکیل رہی تھی۔
جنگ کا انجام اب ایک دھندلی مگر خوفناک تصویر کی طرح سامنے جھلک رہا تھا… اور اس کا مطلب تھا کہ اگر سپاہی ہار گئے تو آبیاروس خود بھی ہار جائے گا۔
اب تک کازمار کے ایک لاکھ سے زیادہ سپاہی زمین پر ڈھیر ہو چکے تھے۔ ان کی جلی ہوئی لاشوں سے اٹھتی بدبو اور دھواں آسمان تک پہنچ رہا تھا۔ دوسری طرف آبیاروس کے سپاہیوں کی صفیں تیزی سے خالی ہو رہی تھیں۔ اب ان کی تعداد گھٹ کر محض بیس ہزار رہ گئی تھی… یعنی آدھی فوج موت کی نذر ہوچکی تھی۔
کازمار کے سپاہی اب بھی لاکھوں کی تعداد میں خونخوار جانوروں کی طرح میدان میں دہاڑ رہے تھے۔ اس کے چہرے پر فاتحانہ مسکان یوں رقص کر رہی تھی جیسے پوری دنیا اس کی مٹھی میں آچکی ہو۔
اس کے برعکس آبیاروس کے چہرے پر گہری تشویش کے سائے چھائے ہوئے تھے۔ جیسے وہ جانتا ہو کہ یہ لمحہ اس کے اقتدار اور وجود کا آخری امتحان ہے۔
اچانک آبیاروس نے قدم بڑھایا۔ اس کی آنکھوں میں سمندر کا طوفان دہک رہا تھا۔ اس نے بازو اٹھایا اور ہاتھ سے پانی کی ایک دیوہیکل لہر نکالتے ہوئے، اس شدت سے آگے اچھالی کہ پوری فضا لرز اٹھی۔ وہ لہر چیختی ہوئی غضبناک اژدھے کی مانند کازمار کے سپاہیوں پر جا پڑی۔
اگلے ہی پل میدانِ جنگ ایک قبرستان میں بدلنے لگا۔ ہزاروں آتشیں سپاہی لمحوں میں بجھ گئے۔ ان کے وجود سے نکلتی چنگاریاں ہوا میں بکھرتی رہیں۔ وہ راکھ اور کوئلے کی صورت زمین پر گرتے ہی بکھر گئے۔ مرنے والوں کے حلق سے نکلی آخری چیخیں اور جلے گوشت کی سڑاند فضا کو اتنا بوجھل کر رہی تھیں کہ سانس لینا عذاب لگنے لگا۔
یہ منظر دیکھتے ہی کازمار کی چہرے کی مسکان لمحہ بھر میں کٹ گئی۔ وہ خون کی طرح سخت ہوتا ہوا گھبرا کر آگے بڑھا، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے نیلی آگ کا ایک بھاری، گھومتا ہوا گولہ نِکالا… وہ گولہ یوں تیز رفتاری سے آگے بڑھا آگے بڑھا جیسے آسمان سے بجلی کوند پڑی ہو اور سیدھا آبیاروس کے سینے سے جا ٹکرایا۔ ضرب اس قدر وحشیانہ تھی کہ آبیاروس کا جسم ہوا میں اٹک سا گیا، چند فِٹ اوپر اٹھا اور پھر بے سدھ ہو کر زمین پر کافی دور جا گِرا۔
کازمار نے گھوڑے کی سی تیزی سے قدم تیز کیے، سنّاٹے کو چیرتے ہوئے دوڑا اور میدان کے بیچوں بیچ ایک زور دار چھلانگ لگا دی اور میدانِ جنگ کے اوپر فضا میں بلند ہوتے ہوئے کئی فٹ دور آبیاروس کے قریب جا پہنچا ان دونوں دیو مالائی بادشاہوں کے بیچ میں اب صرف چند لمحات باقی تھے… وہ لمحے جن میں دنیا کا توازن پھٹنے یا ٹکڑوں میں بکھر جانے کا فیصلہ ہوجاتا ہے۔
کازمار اور آبیاروس ایک دوسرے کے سامنے رُک گئے… دونوں کے وجود سے ایسی طاقت پھوٹ رہی تھی کہ فضا میں بوجھل پن بنتا جارہا تھا
پھر دونوں نے ایک ساتھ قدم بڑھایا اور حملہ کرنے کو آگے بڑھے۔ جو ٹکراؤ ہونے جا رہا تھا، وہ محض دو بادشاہوں کی جنگ نہیں… یہ سنگین تباہی کی بازگشت تھی۔
°°°°°°°°°°
شاہِ سُموم اور شنداق کی فوجیں ایک وحشی طوفان کی طرح آپس میں ٹکرا چکی تھیں۔ دونوں طرف کے سپاہی ایک دوسرے پر بے رحمی سے ایک دوسرے پر وار کر رہے تھے لیکن یہ کوئی عام جنگ نہیں تھی… ہر وار کے بعد دھوئیں اور مٹی میں بکھرتے ہوئے جسم دوبارہ اپنی ہی راکھ سے اُبھرتے، نئے جنون کے ساتھ لڑنے کو آگے بڑھ جاتے۔
شنداق کے سپاہیوں کے لیے یہ جنگ نہ ختم ہونے والی اذیت بن گئی تھی۔ وہ تھکنے لگے، دل میں صرف یہی آرزو رہ گئی کہ دشمن جلد از جلد ختم ہوجائے تاکہ وہ ایک بار پھر موت کی نیند سو سکیں۔ لیکن دوسری جانب شاہِ سُموم کے سپاہی اور زیادہ درندوں کی طرح جوش میں آ رہے تھے۔ ان کی آنکھوں میں وحشت اور انتقام کی سرخی بھڑک اٹھی تھی۔ وہ اس جنگ کو جلد ختم نہیں کرنا چاہتے تھے… وہ اسے طول دینا چاہتے تھے، تاکہ صدیوں کی قید کا زہر اپنے دشمنوں کو بار بار ذبح کر کے اتاریں۔
یوں لگتا تھا جیسے یہ میدانِ جنگ محض شکست اور فتح کا میدان نہیں بلکہ صدیوں کے غصے اور وحشت کا وہ جہنم ہے جس سے نکلنے کا کوئی راستہ باقی نہیں تھا۔
دوسری طرف رینا مسلسل جنگ کے شور و غل اور خوں ریزی سے تنگ پڑ چکی تھی۔ اس کی آنکھوں میں اب بھی ایک ضد بھڑک رہی تھی۔ اس کے برعکس زمار کا حال کسی شکستہ سایے جیسا تھا۔ اندھیر نگری سے واپسی کے بعد اس پر ایسا خوف مسلط ہو چکا تھا کہ معمولی سا پتّا ہلنے پر بھی اس کا وجود کانپ اٹھتا۔ ذرا سی آہٹ سنائی دیتی تو اس کے دل کی دھڑکن حلق میں اٹک جاتی جیسے ابھی ملکہ دارونتھا اندھیروں کو چیرتی ہوئی پھر سامنے آ جائے گی۔
وہ خوف اس کے وجود پر ایسا مسلط تھا کہ جنگ کی ہولناکی اور انتقام کی چیخیں سب اس کے لیے بے معنی ہو چکی تھیں۔ اس کے دل میں صرف ایک ہی خواہش زندہ بچی تھی… کسی طرح اس متوازی دنیا سے دور بھاگ نکلے، اتنی دور کہ ملکہ دارونتھا کا نام بھی اس کے کانوں تک نہ پہنچ سکے۔
وہ اسی گھٹن، خوف اور بے بسی کی جکڑ میں دبا ہوا تھا کہ اچانک رینا کی آواز کڑکتی بجلی کی طرح اس کے کانوں سے ٹکرائی۔
،وہ شاہِ سُموم کی طرف دیکھ کر بلند لہجے میں بول رہی تھی
“مجھے بھی اس جنگ میں شامل ہونا ہے۔”
شاہِ سُموم نے رینا کی طرف گھور کر دیکھا۔
،آنکھوں میں وہی خاموشی اور مقامِ اختیار کی گہری سنجیدگی تھی… پھر آہستگی سے دوبارہ میدانِ جنگ کی طرف نظریں اٹھائیں اور بولا
“نہیں… تم میری ملکہ ہو۔ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ میں تمہیں مرنے کے لیے میدانِ جنگ میں نہیں بھیج سکتا۔”
شاہِ سُموم کے اس اعلان نے جیسے جنگ کے شور کے بیچ ایک لمبا وقفہ کھینچ دیا۔ اس خوفناک پس منظر میں اس ایک جملے نے رینا کے رخسار پر اچانک سرخی بھر دی… ایسا رنگ جو حیرت، شرمندگی اور ایک الگ سی مسرت سے بھرا تھا۔ اس کے لیے یہ کلام انتقام سے بھی بڑا تحفہ تھا۔ ایک عظیم اعزاز جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔
بغیر دیر کیے وہ فوراً گھٹنوں کے بل جھک گئی، آنکھوں میں نم اور آواز میں عاجزی کے ساتھ بولی،
“میں آپ کی ادنیٰ سی غلام ہوں۔ اگر آپ یہ عظیم شرف مجھے بخشیں تو یہ میری خوش نصیبی ہوگی۔”
شاہِ سموم نے ایک لمحے کو اسے محبت بھری نگاہوں سے دیکھا مگر کچھ کہے بغیر دوبارہ اپنی نظریں جنگی میدان پر جما دیں۔
،رینا نے خاموشی کے چند پل سہنے کے بعد دھیرے سے کہا
میں جانتی ہوں کہ آپ کی موجودگی میں کوئی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔”
“میری آپ سے گزارش ہے کہ مجھے ایک موقع دیں… تاکہ میں اپنا آپ ثابت کر سکوں۔
،شاہِ سموم نے دوبارہ نگاہ اٹھائی اور اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے نرمی سے بولا
“ٹھیک ہے… اٹھو… اپنا خنجر نکالو اور میرے قریب آؤ۔”
رینا بجلی کی سی تیزی کے ساتھ کھڑی ہوئی، میان سے خنجر نکالا اور اس کے قریب جا کھڑی ہوئی۔
سموم نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا، آنکھیں بند کیں تو اگلے ہی لمحے رینا کے خنجر سے سیاہ دھواں لپٹنے لگا۔ دھواں آہستہ آہستہ خنجر کی ہیئت کو بدل رہا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ خنجر ایک لمبی، خوف انگیز تلوار میں ڈھل گیا۔ تلوار کی دھار سیاہ تھی اور اس کے گرد لپٹتا دھواں یوں معلوم ہوتا تھا جیسے وہ خود اس تلوار کی روح ہو، جو ہر سانس کے ساتھ زندہ اور بے قرار ہے۔
“جاؤ… اور اپنا کمال دکھاؤ۔”
سموم نے نہایت پُرسکون مگر خوفناک لہجے میں کہتے ہوئے رینا کا ہاتھ چھوڑ دیا۔
رینا نے شکر گزاری میں گردن جھکائی اور اگلے ہی پل پلٹ کر جنگی میدان کی طرف لپکی۔ جیسے ہی وہ وہاں پہنچی، اس کی تلوار کی چیخ فضا میں گونجی اور وہ وحشیانہ انداز میں شنداق کے ایک سپاہی پر جھپٹی۔ سپاہی نے بوکھلاہٹ میں اپنی تلوار کو ڈھال بنانا چاہا مگر رینا کا وار اتنا زہریلا اور بھیانک تھا کہ سپاہی کی تلوار پلک جھپکتے ہی چکنا چور ہوگئی۔ دھاتی ذرات یوں فضا میں بکھرے جیسے کسی دھاتی کارخانے سے دہکتا ہوا لوہا اچانک ٹوٹ کر ہوا میں بکھر جائے۔
سپاہی کچھ سمجھ پاتا اس سے پہلے ہی رینا نے چیختے ہوئے حملہ کیا۔ تلوار کی سیاہ دھار اس کے سر پر گری اور اگلے ہی لمحے اس کا آدھا سر اُڑ کر زمین پر گرنے سے پہلے ہی دھڑ سمیت باریک ذروں میں تحلیل ہو گیا۔ یوں لگا جیسے وہ وجود کبھی تھا ہی نہیں۔
رینا کی آنکھوں میں خونی چمک اور تلوار کی دھار سے اٹھتے دھوئیں نے منظر کو اور زیادہ وحشتناک بنا دیا۔ اس نے فوراً دوسرے سپاہی کی طرف پلٹ کر اس کی تلوار کو کاٹ ڈالا اور وحشیانہ جھٹکے سے اس کی گردن اُڑا دی۔ گردن کٹتے ہی خون کے بجائے دھول کا طوفان بنا اور لمحوں میں اس کا جسم بھی غائب ہوگیا۔
شنداق کے سپاہی ہمیشہ ہی بکھرنے کے بعد اپنا وجود بنا لیتے تھے۔ رینا نے مڑ کر پہلے سپاہی کو دوبارہ مارنے کے لیے قدم بڑھایا، مگر یہ دیکھ کر اس کی آنکھیں خوشی سی پھیل گئیں… سپاہی کا وجود ہمیشہ کے لیے مِٹ چکا تھا۔ وہ واقعی ابد کے اندھیروں میں گم ہو چکا تھا۔
رینا کے چہرے پر خوف اور خوشی کی ملی جلی کیفیت ابھری۔ اس نے لرزتی مسکراہٹ کے ساتھ شاہِ سموم کی طرف دیکھا۔
شاہ کے لبوں پر ایک پراسرار، شیطانی مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس کے انداز سے یوں لگ رہا تھا جیسے وہ پہلے ہی جانتا تھا کہ رینا کی تلوار شنداق کے سپاہیوں کو ابدی موت کے گھاٹ اتارنے کی طاقت رکھتی ہے۔
°°°°°°°°°°
…جاری ہے
