ناول: وارث کون
باب دوم: شکستہ تقدس
قسط نمبر 10
مصنف: زیاد اصغر زارون
°°°°°°°°°°
بمبلی گاؤں کے نمبردار کا ڈیرہ اس وقت کسی عدالت کا منظر پیش کر رہا تھا، جہاں انصاف اور ظلم کے درمیان ایک باریک سی لکیر کھچی تھی۔
نمبردار اپنی مخصوص رعب دار شخصیت کے ساتھ چارپائی پر براجمان تھا، جبکہ اس کے سامنے نقیب کسی پٹے ہوئے مجرم کی طرح سر جھکائے زمین کی دھول کرید رہا تھا۔ دوسری جانب عائشہ، جو اب غم اور جسمانی اذیت کا ایک زندہ ڈھیر بن چکی تھی، دوسری چارپائی کے کنارے پر بیٹھی سسک رہی تھی۔ اس کا چہرہ سوجھا ہوا تھا، آنکھوں کے گرد نیلے نشانات اس وحشیانہ تشدد کی داستان سنا رہے تھے جو اس کے سائبان نے اس پر ڈھایا تھا۔
عائشہ نے اپنی لرزتی ہوئی آواز میں، سسکیوں اور آہوں کے درمیان، اپنی بربادی کی پوری کہانی نمبردار کے سامنے ڈھیر کر دی تھی۔ اس نے بتایا کہ کیسے وہ ایک سراب کے پیچھے بھاگی، کیسے اس نے اپنے باپ کی پگڑی اچھالی اور بدلے میں اسے کیا ملا… صرف مٹی، بدبو، نشہ اور مار پیٹ۔
نمبردار حقے کے کش لگاتے ہوئے گہری سوچوں میں غرق تھا۔ حقے کی گڑ گڑ کی آواز ڈیرے کی بوجھل خاموشی میں کسی ماتمی صدا کی طرح گونج رہی تھی۔ وہ ایک غیرت مند انسان تھا، جس کے سامنے ایک ایسی بچی بیٹھی تھی جس نے محبت کے نام پر اپنے پورے خاندان سے بغاوت کی تھی، مگر جس شخص کے لیے اس نے اپنی دنیا کو آگ لگائی، وہی آج اسے پیروں تلے روند رہا تھا۔
،کافی دیر کی خاموشی کے بعد نمبردار نے حقے کی نلکی ایک طرف رکھی اور بوجھل لہجے میں گویا ہوا
،میری بچی! میں تمہیں ملامت کر کے تمہاری اذیت میں مزید اضافہ نہیں کرنا چاہتا، لیکن یہ تلخ حقیقت ہے کہ تم آج جس آگ میں جل رہی ہو”
،یہ تمہارے اپنے جذبات کی نذر ہونے والے شکستہ تقدس کی سزا ہے۔ تم نے ایک پل کے جوش میں آ کر نہ صرف اپنے والدین کے مان کو خاک میں ملایا
“بلکہ اپنی زندگی کا سودا بھی ایک ایسے شخص سے کر لیا جو خود انسانیت کے نام پر دھبہ ہے۔
عائشہ کے بہتے آنسوؤں میں شدت آ گئی۔ اسے محسوس ہو رہا تھا جیسے نمبردار کے الفاظ اس کے زخموں پر نمک پاشی کر رہے ہوں، مگر وہ سچ تھے۔
نمبردار کی نگاہیں اچانک دہکتے ہوئے انگاروں کی طرح نقیب کی طرف مڑیں۔ نقیب، جو اب تک خاموشی کا لبادہ اوڑھے بیٹھا تھا، چوہدری کے جلال سے سہم گیا۔
اور تُو… بے شرم انسان!” نمبردار گرج اٹھا۔”
میرا جی چاہتا ہے کہ تجھے ابھی اسی وقت اپنے کتوں کے آگے پھینک دوں۔”
یہ معصوم لڑکی تیرے بھروسے پر اپنا گھر بار، اپنی عزت، اپنا سب کچھ داؤ پر لگا کر آئی اور تُو اسے ہی ذلیل کر رہا ہے؟
“تجھے ایک لمحے کے لیے بھی اس کی بے بسی پر حیا نہیں آئی؟
نقیب نے سر مزید جھکا لیا۔ یہ شرمندگی نہیں تھی، بلکہ نمبردار کے رعب اور لاٹھی کا ڈر تھا جس نے اسے ساکت کر رکھا تھا۔
،نمبردار نے ایک ایسا جملہ کہا جس نے عائشہ کے پیروں تلے سے زمین نکال دی
…میں نے تیرے بھائیوں سے لڑ کر تجھے زمین میں حصہ دلایا، میں نے ان سے کہہ کر یہ دو کمرے بنوا کر دیے”
“!اور تُو اس لڑکی کو مکان کی تعمیر کا جھوٹ بول کر اس کا سارا زیور بھی ہڑپ کر گیا؟ تُو کتنا گرا ہوا انسان ہے نقیبیا
یہ سنتے ہی عائشہ کا دل سینے میں جیسے رک گیا۔ اس نے دھندلی آنکھوں سے نقیب کی طرف دیکھا۔ اس پر اب یہ ہولناک حقیقت واضح ہوئی کہ وہ مکان جس کے لیے اس نے اپنا آخری اثاثہ بھی بیچ دیا تھا، وہ تو اسے پہلے ہی وراثت میں مل چکا تھا۔ نقیب نے شروعات سے ہی اس کے ساتھ مکر کا ایک ایسا جال بنا تھا جس کا ہر دھاگا جھوٹ سے بنا تھا۔ وہ شخص جس کی خاطر اس نے اپنے بھائیوں کو ٹھکرایا، وہ دراصل ایک ادنیٰ درجے کا فراڈیا تھا جو اسے نوچ نوچ کر کھانے کا ارادہ رکھتا تھا۔
سن لے نقیب!” نمبردار نے حتمی لہجے میں کہا۔”
کل صبح سے تو کوئی ڈھنگ کا کام ڈھونڈے گا اور نوکری کرے گا۔”
“اگر دوبارہ مجھے خبر ملی کہ تو نے اس بچی پر ہاتھ اٹھایا ہے، تو خدا کی قسم تیرے ٹکڑے ٹکڑے کر کے گاؤں کی حدود سے باہر پھینک دوں گا۔
،پھر نمبردار نے شفقت سے عائشہ کی طرف دیکھا اور دوبارہ نقیب سے مخاطب ہوا
یہ مت سمجھنا کہ اس کے پیچھے کوئی نہیں۔ یہ آج سے میری بیٹیوں جیسی ہے اور میں اس کی خبر لیتا رہوں گا۔”
” اگر تو نے اسے دوبارہ کوئی دکھ پہنچایا، تو تیری خیر نہیں۔ سمجھ آئی میری بات؟
جی چوہدری صاحب… معاف کر دیں، دوبارہ ایسا نہیں ہوگا۔” نقیب نے لجاجت سے کہا، مگر اس کی آنکھوں میں چھپی نفرت ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔”
“اچھا ٹھیک ہے، اب تم لوگ جاؤ،” نمبردار نے الوداعیہ اشارہ کیا۔ نقیب خاموشی سے اٹھ گیا، مگر اس کے اعصاب تنے ہوئے تھے۔
“نمبردار نے عائشہ کو تسلی دیتے ہوئے کہا، “پتر! پریشان نہ ہونا۔ میں تمہارے باپ کی جگہ ہوں۔ اگر یہ ذرا بھی تنگ کرے، تو فوراً میرے پاس چلی آنا، میں اسے سیدھا کر دوں گا۔
عائشہ نے بوجھل دل کے ساتھ شکریہ ادا کیا اور وہ دونوں ڈیرے کی حدود سے باہر نکل آئے۔
،ڈیرے کی دیواروں سے دور ہوتے ہی، نقیب کے چہرے سے وہ مصنوعی شرافت کا نقاب اتر گیا۔ اس نے ایک حقارت آمیز نظر عائشہ پر ڈالی اور طنز بھرے لہجے میں پھنکارا
“پڑ گئی ٹھنڈ تیرے کلیجے میں؟ مجھے پورے گاؤں کے سامنے ذلیل کروا کر تم نے سمجھا کہ تم جیت گئیں؟ مگر یاد رکھنا عائشہ… وقت آنے پر میں اس ذلت کا ضرور حساب لوں گا۔”
عائشہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ خاموشی سے چلتی رہی، مگر اس کے اندر کی دنیا اجڑ چکی تھی۔ اسے اب شدت سے احساس ہو رہا تھا کہ نمبردار کی پناہ گاہ وقتی تھی، جبکہ نقیب کے ساتھ اس کا رشتہ ایک ابدی قید بن چکا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ اب تک کی زندگی تو صرف ایک ٹریلر تھی، اب اس پر مشکلات کے وہ پہاڑ ٹوٹنے والے تھے جن کا تصور بھی اس نے کبھی نہیں کیا تھا۔
وہ اس کچے مکان کی طرف بڑھ رہی تھی جو اب اس کے لیے گھر نہیں، بلکہ اس کے ارمانوں کا وہ مقتل تھا جہاں اسے ہر روز ذبح ہونا تھا۔ اس کے پاس اب نہ زیور تھا، نہ پیسہ، نہ والدین کا سہارا اور نہ ہی نقیب کی وہ جھوٹی محبت جس کے سہارے وہ یہاں تک آئی تھی۔ وہ زندگی کے اس مقام پر تھی جہاں موت، زندگی سے کہیں زیادہ پرکشش لگتی تھی۔
°°°°°°°°°°
اگلی صبح جب سورج کی پہلی کرن نے بمبلی گاؤں کے کچے در و دیوار کو چھوا، تو نقیب کے اندر کا مکار انسان وقتی طور پر نمبردار کے خوف تلے دب چکا تھا۔ وہ خاموشی سے اٹھا اور کام کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ منزل وہی تھی جہاں سے اس نے اپنی اوقات بدلی تھی… وہ خوشی میرج ہال پر ڈش واشر کی نوکری پر لوٹ آیا تھا۔ برتنوں کی کھڑکھڑاہٹ اور صابن کی جھاگ میں وہ اپنی اس جعلی بادشاہت کو دفن کر رہا تھا جو اس نے عائشہ کے سونے پر کھڑی کی تھی۔
،دوسری طرف، عائشہ نے وہ جرأت دکھائی جو ایک ہاری ہوئی عورت اپنی بقا کے لیے دکھاتی ہے۔ اس نے اپنے پاس چھپائی ہوئی تمام رقم، جو اس کی زندگی کی آخری پونجی تھی
،نکالی اور نقیب کو دینے کے بجائے براہِ راست نمبردار کے قدموں میں ڈھیر کر دی۔ اس کی آواز میں ایک عجیب سا ٹھہراؤ تھا
“چوہدری صاحب! یہ پیسے رکھ لیں اور اس اینٹوں کے ڈھیر کو بس اتنا بنا دیں کہ میں یہاں پردے کے ساتھ سر چھپا سکوں۔”
اگلے ہی دن گھر کے کچے صحن میں مستریوں کی صدا گونجنے لگی۔
کمروں کے فرش پختہ کیے گئے، دیواروں پر پلستر چڑھایا گیا اور ایک معمولی سا واش روم تعمیر کیا گیا۔
نقیب کا رویہ اب بالکل بدل چکا تھا۔ اس نے عائشہ سے گفتگو کرنا بالکل چھوڑ دیا تھا، جیسے خاموشی بھی اس کے لیے ایک سزا بن گئی ہو۔ وہ صبح سویرے نکلتا اور رات گئے جب لوٹتا تو اس کے وجود سے پسینے اور جھوٹ کی بو کے ساتھ ساتھ اب ایک تیسری چیز بھی شامل ہو چکی تھی… چرس کا کڑوا دھواں۔
اب اسے چھپنے کی ضرورت نہیں تھی، نہ ہی کسی صندوق کی چابی چوری ہونے کا ڈر تھا۔ وہ عائشہ کے سامنے سرِعام چرس بھرتا، کش لگاتا اور دھوئیں کے بادل فضا میں اچھالتے ہوئے مدہوشی کی وادیوں میں گم ہو جاتا۔
نقیب کی نشے کی لت اور اس کے مسلسل مکر و فریب نے ان کے نکاح کے شکستہ تقدس کو اس طرح پامال کر دیا تھا کہ اب محبت کا لفظ بھی عائشہ کے کانوں میں کسی غلیظ گالی کی طرح پڑتا تھا۔ اسے وہ دن یاد آتا جب وہ گھر سے بھاگی تھی، جب اسے لگتا تھا کہ نقیب کے ساتھ پوری دنیا کی خوشیاں سمٹ آئیں گی۔
آج عائشہ اسی پختہ فرش پر بیٹھ کر دیواروں کو تکتی، تو اسے احساس ہوتا کہ یہ پلستر دراصل اس کے زخموں کو چھپانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ وہ اس دن کو جی بھر کر کوستی جب اس نے نادانی میں اپنے والدین کی پگڑی اچھالی تھی، مگر اب یہ سب بے سود تھا۔
وہ اب ایک قید خانے کی اسیر تھی جہاں اسے عمر بھر نقیب کی مار، اس کی بدبو اور اس کے نشے کے ساتھ جینا تھا۔ یہ اس کی نادانیوں کا وہ کفارہ تھا جو اسے اب تاحیات اپنی ہر سانس کے ساتھ ادا کرنا تھا۔
°°°°°°°°°°
اس شکستہ رشتے کی ڈور کو کھینچتے ہوئے مزید چار ماہ بیت گئے تھے۔ ان چار مہینوں میں وقت تو گزرا، مگر عائشہ کے دل پر لگے زخموں پر کوئی مرہم نہ سج سکا۔ وہ گھر، جسے اس نے اپنی زندگی کی آخری پونجی دے کر تعمیر کروایا تھا، اب اس کے لیے کسی قبرستان کی خاموشی سے کم نہیں تھا۔
صبح کا وقت تھا، سورج کی پہلی کرنیں کچی منڈیروں سے جھانک رہی تھیں۔ عائشہ حسبِ معمول چولہے کے پاس بیٹھی ناشتہ تیار کر رہی تھی۔ دوسری طرف نقیب، جس کی زندگی کا مرکز اب صرف نشے کا خمار تھا، بیڈ پر اوندھے منہ پڑا گہری اور بوجھل نیند کی آغوش میں تھا۔ اس کی سانسوں سے اب بھی گزشتہ رات کی چرس کی کڑواہٹ جھلک رہی تھی۔
اچانک، گاؤں کی سمت سے فضا میں ایک دردناک چیخ بلند ہوئی۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے رونے پیٹنے اور آہ و بکا کی آوازیں لہروں کی طرح عائشہ کے کچے صحن تک پہنچنے لگیں۔ عائشہ کے ہاتھ رک گئے، اس کے سینے میں دل زور سے دھکنے لگا۔ دیہات کی زندگی میں ایسی اجتماعی سسکیاں کسی بڑے حادثے کا پیش خیمہ ہوتی تھیں۔ وہ بے چینی سے اٹھی، ہاتھ دھوئے اور کمرے کی طرف بھاگی۔
نقیب اب بھی اسی حال میں پڑا تھا۔ عائشہ نے قریب جا کر اس کے کندھے کو آہستہ سے جھنجھوڑا۔
“نقیب! نقیب اٹھو… نقیب۔”
نقیب نے نیم بے ہوشی میں ایک کراہ بھری اور آنکھیں کھولے بغیر ہی بڑبڑایا، “ہاں… کیا ہے؟ کیا مصیبت ہے صبح صبح؟”
“نقیب، اٹھو تو سہی! گاؤں کی طرف سے بہت شور آ رہا ہے۔ لوگ دھاڑیں مار مار کر رو رہے ہیں۔ لگتا ہے کوئی فوت ہو گیا ہے۔” عائشہ کی آواز میں ایک انجانا ڈر اور لرزہ تھا۔
نقیب نے بڑی مشکل سے ایک آنکھ کھولی، اس کے چہرے پر بیزاری اور غصے کے ملے جلے تاثرات تھے۔ “کوئی مر گیا ہے تو میں کیا کروں؟ میرا کیا لینا دینا ان سے؟ سونے دو مجھے، سر میں درد ہو رہا ہے۔”
اس نے کمبل دوبارہ اپنے سر پر کھینچ لیا، جیسے اسے انسانی زندگیوں کے ختم ہونے سے زیادہ اپنی نیند کی فکر ہو۔
عائشہ کا جی چاہا کہ وہ چیخ اٹھے، اس بے حس انسان کو جھنجھوڑ کر پوچھے کہ کیا اس کے سینے میں دل کی جگہ پتھر دھڑکتا ہے؟ مگر اس نے ضبط کیا اور منت آمیز لہجے میں بولی،
“خدا کا خوف کرو نقیب! ہم بھی اسی بستی کا حصہ ہیں۔ جا کر پتہ تو کرو کہ کیا ہوا ہے، کسی غریب کا سہارا ٹوٹا ہوگا یا کوئی حادثہ ہوا ہوگا۔ ایسے بے حسی سے مت لیٹو۔”
نقیب ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھ گیا۔ اس کی آنکھیں نشے اور کچی نیند کی وجہ سے خون کی طرح سرخ تھیں۔ “ایک تو تمہارے یہ ڈرامے ختم نہیں ہوتے! صبح صبح شروع ہو جاتی ہو وعظ سنانے۔ سکون سے سونے بھی نہیں دیتی۔”
وہ بڑبڑاتا ہوا بیڈ سے نیچے اترا، پیروں میں پرانی چپلیں اڑسیں اور غصے سے پیر پٹختا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔ عائشہ وہیں کھڑی اسے دور جاتے دیکھتی رہی۔
°°°°°°°°°°
بمبلی گاؤں کی فضاؤں میں بین اور آہوں کا شور تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا، مگر جب نقیب کمرے میں داخل ہوا تو اس کے چہرے پر ماتم نہیں، بلکہ ایک شیطانی فتح کا جشن رقص کر رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں وہ مخصوص چمک تھی جو ایک شکاری کی آنکھوں میں تب آتی ہے جب اسے معلوم ہو کہ اب اس کے اور شکار کے درمیان کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی۔
عائشہ، جو اب تک اس اجنبی بستی میں نمبردار کے سائے کو اپنا سائبان سمجھتی تھی، نقیب کو مسکراتا دیکھ کر ٹھٹھک گئی۔ نقیب کا یہ غیر معمولی جوش کسی ہولناک خبر کا پیش خیمہ معلوم ہو رہا تھا۔
“مبارک ہو عائشہ! تیرا وہ یار مر گیا،” نقیب نے زہریلے لہجے میں قہقہہ لگایا۔
عائشہ کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ “کیا بکواس کر رہے ہو؟ ہوش میں تو ہو؟”
،ہاں، بالکل ہوش میں ہوں،” نقیب نے نفرت سے تھوکا”
“!وہی جو تمہارا بہت ہمدرد بنتا تھا، وہ نمبردار… آج اس کا قصہ تمام ہو گیا ہے۔ اب جاؤ اور لگاؤ میری شکایتیں اس سے”
عائشہ کا دل سینے میں جیسے ڈوب گیا۔ اسے محسوس ہوا جیسے وہ آج صحیح معنوں میں یتیم ہو گئی ہو۔ نمبردار محض ایک چوہدری نہیں تھا، وہ عائشہ کی عصمت اور نقیب کی وحشت کے درمیان کھڑی آخری دیوار تھا۔ وہ دیوار آج گر چکی تھی اور اب عائشہ اس درندے کے سامنے بالکل نہتی تھی۔
“عائشہ نے سسکتے ہوئے فوتگی والے گھر جانے کی کوشش کی، مگر نقیب نے اسے ایک ہی دھکے میں فرش پر پٹخ دیا۔ “اب تم کہیں نہیں جاؤ گی! اب یہاں صرف میرا حکم چلے گا۔
نقیب نے اسے بالوں سے پکڑا اور گھسیٹتے ہوئے کرسی تک لایا۔ عائشہ کی چیخیں کمرے کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس آ رہی تھیں، باہر فوتگی کے شور میں اس کی فریاد دب چکی تھی۔ نقیب نے بے دردی سے اس کا دوپٹہ نوچا اور اسے کرسی کے ساتھ جکڑنے لگا۔ جب بھی عائشہ نے مزاحمت کی، نقیب کے بھاری ہاتھ اس کے چہرے پر کسی ہتھوڑے کی طرح پڑے۔
اس نے عائشہ کے منہ میں کپڑا ٹھونس کر اسے مکمل خاموش کر دیا اور پھر صحن سے کلہاڑی اٹھا کر باہر نکلا۔ تھوڑی دیر بعد وہ توت کے درخت کی لچکدار اور باریک شاخیں لے کر لوٹا۔ اس نے کمرے کا دروازہ اندر سے بند کیا، یہ دروازہ اب ایک ایسی جیل کا تھا جہاں کوئی قانون نہیں، صرف نقیب کی ہوس اور انتقام تھا۔
“تُو میرا پیسہ مجھ سے چھینے گی؟”
پہلی چھری جب لہراتی ہوئی عائشہ کے نازک بازو سے ٹکرائی، تو اسے یوں لگا جیسے اس کا گوشت ادھڑ گیا ہو۔ وہ کرسی پر بندھی تڑپی، مچلی، مگر آواز حلق میں ہی دم توڑ گئی۔
“!نمبردار سے میری شکایت لگاتی تھی؟ اب لگا کر دکھا”
وار پر وار ہو رہے تھے۔ توت کی وہ لچکدار شاخ جب عائشہ کے سوجے ہوئے چہرے پر لگی، تو ایک ہی لمحے میں اس کا ماس پھٹ گیا اور خون کی سرخ لکیریں اس کے گورے رنگ پر وحشت کی تحریر لکھنے لگیں۔ نقیب چار ماہ کا دبا ہوا غصہ اس معصوم بدن پر نکال رہا تھا۔ وہ اسے اتنا مارتا رہا کہ شاخیں ٹوٹ گئیں، مگر اس کا دل نہ بھرا۔
عائشہ کی آنکھوں سے آنسو نہیں، بلکہ اس کی زندگی کا خون بہہ رہا تھا۔ وہ اپنی اس تقدیر پر رو رہی تھی جس کا انتخاب اس نے خود کیا تھا۔ وہ ان بھائیوں کو پکار رہی تھی جن کی پگڑی اس نے خود اچھالی تھی۔ آج اسے کوئی بچانے والا نہیں تھا، کیونکہ اس نے خود ہی اپنے بچاؤ کے سارے راستے بند کر لیے تھے۔
جب نقیب کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور اس کے بازو تھک گئے، تو وہ ہانپتا ہوا بیڈ کے کنارے بیٹھ گیا۔ کمرے میں اب صرف عائشہ کی دبی دبی سسکیاں اور نقیب کے ہانپنے کی آواز تھی۔ جوں جوں غصے کا خمار اتر رہا تھا، نقیب کو اس ادھ موئی لڑکی کو دیکھ کر ایک عجیب سی وحشت محسوس ہونے لگی۔ اس کے اندر کا انسان، جو نشے کی تہوں تلے کہیں دب چکا تھا، شاید آخری بار کراہا۔
نقیب کی اپنی آنکھوں میں بھی نمی اتر آئی، مگر یہ ندامت سے زیادہ اپنی بے بسی کا رونا تھا۔
میں ایسا نہیں چاہتا تھا عائشہ… تم نے خود مجھے مجبور کیا،” اس نے ایک کمزور سی صفائی دی، مگر عائشہ کی پتھرائی ہوئی آنکھوں میں اب اس کے لیے کوئی جواب نہیں تھا۔”
نقیب اٹھا، اس نے عائشہ کو اسی حال میں بندھا ہوا چھوڑا، کمرے کو باہر سے تالہ لگایا اور اپنی پرانی موٹر سائیکل اسٹارٹ کر کے کہیں دور نکل گیا۔ وہ بھاگ رہا تھا، عائشہ سے نہیں، بلکہ اس گناہ کے احساس سے جو اب اسے تاحیات ڈسنے والا تھا۔
°°°°°°°°°°
نقیب کے لیے نمبردار کی موت کوئی صدمہ نہیں بلکہ ایک آزادی کا پیغام تھی۔ اس کے دل میں نہ تو اس بزرگ کے لیے کوئی احترام باقی تھا اور نہ ہی اس کی میت پر چار آنسو بہانے کی فرصت۔ اس کے لیے جنازے کی صفوں میں کھڑے ہونے سے کہیں زیادہ اہم وہ برتن تھے جن کی غلاظت صاف کر کے اسے دو وقت کی روٹی اور نشے کا سامان میسر آنا تھا۔
وہ بمبلی گاؤں کی سسکیوں کو پیچھے چھوڑ کر واپس خوشی میرج ہال کے اسی تاریک اور پسینے سے شرابور کونے میں آ کھڑا ہوا، جہاں صابن کی جھاگ اور جھوٹے سالن کی بو کا راج تھا۔
نقیب نے آتے ہی آستینیں چڑھائیں اور گزشتہ رات کے بچے ہوئے ڈھیروں گندے برتنوں سے نبرد آزما ہو گیا۔ اس کے ہاتھ مشینی انداز میں چل رہے تھے، مگر ذہن میں اب بھی وہ تھپڑ اور وحشیانہ چیخیں گونج رہی تھیں جو وہ عائشہ کے جسم پر چھوڑ کر آیا تھا۔ جب بھی کام سے ذرا فرصت ملتی یا نشے کی طلب رگوں میں بوجھ بننے لگتی، وہ دبے قدموں ہال کی چھت پر چلا جاتا۔ وہاں تنہائی میں چرس بھرنا، اسے سلگانا اور گہرے کش لے کر اس دھوئیں میں اپنی رہی سہی انسانیت کو اڑا دینا اب اس کا کل وقتی مشغلہ تھا۔
شام ڈھلے جب ہال کے باہر ڈھول کی تھاپ سنائی دی اور روشنیوں کے جھرمٹ میں بارات پہنچی، تو نقیب کے اندر کا نشئی بیدار ہو گیا۔ جیسے ہی دولہے کے رشتہ داروں نے نوٹ فضا میں اچھالے، نقیب اپنی عمر اور اپنی سفید پوشی کا بھرم بھول کر بچوں کی طرح پیسے لوٹنے کے لیے ہجوم میں کود پڑا۔
وہ شہنائی بجانے والوں کی غلیظ گالیاں سنتا، مگر اس کی نظریں صرف مٹی میں گرتے ہوئے ان نوٹوں پر ہوتیں جن سے اس کی اگلی پُڑی کا انتظام ہونا تھا۔
ایک بار ہجوم سے نکالا جاتا تو دوسری طرف سے پھر گھس جاتا۔ اسے نہ اپنی عزتِ نفس کی پرواہ تھی اور نہ ہی اس بات کی کہ کوئی اسے پہچان لے گا۔
بارات ہال کے اندر داخل ہوئی تو وہ دوبارہ ویٹروں کے ساتھ کام میں جت گیا۔ کھانا کھلانے کے دوران اس کی نظریں مہمانوں کی پلیٹوں سے زیادہ ان دیگوں پر تھیں جن میں بچا ہوا گوشت اور نان پڑے تھے۔ اس نے بڑی عیاری سے، مختلف کونوں میں تھوڑا تھوڑا کھانا چھپایا۔
پلاسٹک کی تھیلیوں میں سالن اور بوٹیاں بھر کر فریزر کے پیچھے رکھ دیں۔
کام ختم ہونے کے بعد فنکشن کے بھاری برتن دھوئے اور فراغت ملتے ہی اپنا چھپایا ہوا مالِ غنیمت اٹھا کر گھر کی طرف روانہ ہوا۔
وہ اسی شکستہ موٹر سائیکل پر سوار اپنے اس قید خانے کی طرف بڑھ رہا تھا جہاں عائشہ اب بھی بھوکی، پیاسی اور زخموں سے چور، بندھی ہوئی حالت میں اس کی منتظر تھی۔
°°°°°°°°°°
جب نقیب اپنی شکستہ بائیک پر سوار کچی پگڈنڈی سے ہوتا ہوا گھر لوٹا، تو بمبلی گاؤں کی فضاؤں پر رات کا سیاہ لبادہ مکمل طور پر تن چکا تھا۔ دور کہیں سے گیدڑوں کے چیخنے کی آوازیں خاموشی کو مزید پراسرار اور خوفناک بنا رہی تھیں۔ نقیب نے بائیک دوسرے کمرے میں کھڑی کی، انجن کی آواز بند ہوتے ہی گھر میں وہی قبرستان جیسی خاموشی چھا گئی۔
اس نے اپنی جیب سے چابی نکالی، تالے میں گھمائی اور دروازہ کھول کر بیڈ روم میں داخل ہوا۔
کمرے کے اندر کا منظر کسی ذبح خانے سے کم نہیں تھا۔ عائشہ، جو گزشتہ کئی گھنٹوں سے کرسی کے ساتھ جکڑی ہوئی تھی، رو رو کر نڈھال ہو چکی تھی۔ اس کی آنکھیں سوج کر سرخ ہو گئی تھیں اور چہرے پر توت کی چھڑیوں کے نشانات اب نیلے پڑ چکے تھے۔ وہ تھکن اور نقاہت کے اس مقام پر تھی جہاں انسان کا جسم تو زندہ ہوتا ہے مگر روح مر جاتی ہے۔ نیند اور بیہوشی کے درمیان کہیں معلق، وہ کرسی سے بندھے بندھے ہی سو گئی تھی، مگر دروازے کی آہٹ سنتے ہی اس کا پورا وجود لرز اٹھا۔ اس نے بوجھل پلکیں اٹھا کر دروازے کی طرف دیکھا، جہاں اس کا محسن اور اس کا جلاد، ایک ہی روپ میں کھڑا تھا۔
نقیب نے ایک سرسری نظر عائشہ پر ڈالی، مگر اس کی وہ نظریں جن میں کبھی محبت کے جھوٹے خواب سجتے تھے، اب عائشہ کے چہرے پر لکھے دکھ کو وہ جھیل نہیں پایا۔ اس نے فوراً نظریں چرا لیں اور کھانے کے شاپر میز پر پٹخ دیے۔
کیا ہوش ٹھکانے آیا؟” نقیب نے سرد لہجے میں پوچھا، گویا وہ کسی انسان سے نہیں بلکہ کسی بے جان شے سے مخاطب ہو۔”
عائشہ نے اذیت سے اپنی آنکھیں پھیر لیں۔ اس کے پاس اب بولنے کی سکت تھی نہ لڑنے کی ہمت۔ نقیب آہستگی سے اس کی طرف بڑھا، اس کے دانتوں میں دبا ہوا وہ دوپٹہ کھولا جو اس کی چیخوں کا گلا گھونٹ رہا تھا، اور پھر ایک ایک کر کے وہ سبھی گرہیں کھول دیں جنہوں نے عائشہ کے وجود کو قید کر رکھا تھا۔ نقیب کو توقع تھی کہ آزاد ہوتے ہی عائشہ دھاڑیں مار کر روئے گی، اس پر چھپٹے گی یا شاید اسے بددعائیں دے گی، مگر عائشہ ساکت بیٹھی رہی۔ اس کی یہ خاموشی نقیب کے لیے اس کے شور سے زیادہ ہولناک تھی۔
“کیا بات ہے؟ لگتا ہے تمہاری عقل کچھ زیادہ ہی ٹھکانے آ گئی ہے،” نقیب نے پلیٹ میں ٹھنڈا سالن انڈیلتے ہوئے طنز کیا۔
تب عائشہ نے اپنی گردن موڑی۔ اس کی آنکھوں میں وہ کرب تھا جو شاید الفاظ میں بیان نہ ہو سکے۔ اس نے نہایت بھرائی ہوئی اور لرزتی آواز میں نقیب کو پکارا،
“!…نقیب”
نقیب کے ہاتھ رک گئے۔ اس نے پلٹ کر عائشہ کو دیکھا۔ عائشہ نے اپنے کانپتے ہوئے ہاتھ جوڑ دیے۔ اس کی انا، اس کا غرور، اس کا وہ مان جس کے سہارے وہ گھر سے بھاگی تھی، سب کچھ مٹی میں مل چکا تھا۔
نقیب… خدا کے لیے مجھے یوں رسوا مت کرو۔ اس بھری دنیا میں، اس انجانی بستی میں تمہارے سوا میرا کوئی نہیں۔”
“میں نے اپنی دہلیز چھوڑی، اپنے باپ کا مان توڑا، اپنے بھائیوں کی محبت کو ٹھکرایا… صرف تمہارے لیے۔ اب مجھ پر یہ ستم نہ ڈھاؤ
اس کے آنسو دوبارہ اس کے سوجھے ہوئے گالوں پر بہنے لگے۔
“تم جیسا کہو گے میں ویسے ہی کروں گی، بس مجھے اس طرح زندہ درگور مت کرو۔ میں پہلے ہی مری ہوئی ہوں نقیب، مجھے مزید مت مارو۔”
عائشہ کے الفاظ میں اس قدر اذیت اور بے بسی گھلی ہوئی تھی کہ ایک لمحے کے لیے نقیب کے اندر سویا ہوا انسان کراہ اٹھا۔ اسے محسوس ہوا جیسے عائشہ کے جڑے ہوئے ہاتھ اس کے ضمیر پر دستک دے رہے ہوں۔ اس نے خالی شاپر ایک طرف رکھا اور دھیمے قدموں سے اس کے پاس آ کر زمین پر بیٹھ گیا۔
،عائشہ… تم بہت پیاری ہو،” نقیب نے اس کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے اپنے ظلم کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی”
“میرا دل نہیں کرتا کہ تمہیں ماروں، مگر تم نے پچھلے چار ماہ مجھے بہت ذلیل کیا۔ نمبردار کی آڑ میں تم نے مجھے اپنی نظروں میں گرا دیا۔ میں بس پھٹ پڑا تھا۔”
عائشہ نے سسکتے ہوئے اس کے ہاتھ پکڑ لیے، وہ ہاتھ جنہوں نے کچھ دیر پہلے اسے لہولہان کیا تھا۔
“مجھے معاف کر دو نقیب۔ میں تمہارے بنا بالکل تنہا ہوں۔ اگر تم بھی مجھے ٹھکرا دو گے تو میں کہاں جاؤں گی؟ تم جیسے چاہو گے میں ویسے ہی رہوں گی، بس مجھ پر رحم کرو۔”
نقیب کا دل پسیج گیا۔ شاید یہ وقتی پچھتاوا تھا یا پھر اس کا وہی پرانا مکر، مگر اس لمحے اس کی آواز میں نرمی آ گئی۔
“،میں اب نہیں ماروں گا۔ مجھے معاف کر دو، دوبارہ ایسا نہیں ہوگا”
نقیب نے معافی مانگنے کے لیے ہاتھ اٹھائے تو عائشہ نے فوراً انہیں تھام لیا، جیسے وہ اب بھی اس کے تحفظ کی آخری امید ہو۔
“اچھا اب اٹھو، دیکھو میں تمہارے لیے کتنا اچھا کھانا لایا ہوں۔ اسے گرم کرو، پھر ہم مل کر کھائیں گے۔”
نقیب نے محبت کا ناٹک کرتے ہوئے اس کے سوجھے ہوئے گال کو چھونا چاہا، مگر جیسے ہی اس کی پوریں عائشہ کے زخم سے ٹکرائیں، عائشہ کے حلق سے ایک دلدوز چیخ نکل گئی۔ اس کا پورا وجود درد کی لہر سے کانپ اٹھا۔
نقیب کو اس لمحے دلی طور پر احساس ہوا کہ اس نے غصے کے جنون میں درندگی کی تمام حدود پار کر دی ہیں۔
،میں… میں تمہارے لیے ابھی کہیں سے مرہم لے کر آتا ہوں،” نقیب نے بوکھلا کر کہا”
تب تک تم کھانا گرم کر لو۔” وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکلا، اپنی بائیک اسٹارٹ کی اور اندھیری پگڈنڈی پر بائیک دوڑاتا ہوا دور نکل گیا۔”
پیچھے کمرے میں عائشہ اکیلی رہ گئی۔ وہ تماشہ جو محبت کے نام پر شروع ہوا تھا، اب لہو لہان ہو کر ایک ایسی نہج پر پہنچ چکا تھا جہاں معافی اور زخم دونوں اپنی اپنی جگہ بے معنی ہو چکے تھے۔ عائشہ نے بوجھل قدموں سے کچن کی طرف قدم بڑھائے، مگر اس کا دل جانتا تھا کہ جسم کے زخم تو مرہم سے بھر جائیں گے، لیکن روح پر لگے ہوئے یہ گھاؤ شاید اب قبر تک اس کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے۔
°°°°°°°°°°
نئے دن کا سورج جب بمبلی گاؤں کے کچے گھروں پر اپنی سنہری روشنی بکھیر رہا تھا، تو نقیب کے وجود میں ایک عجیب سی بے چینی کروٹیں لے رہی تھی۔ رات کی دی ہوئی تسلی اور مرہم دراصل عائشہ کے لیے نہیں، بلکہ نقیب کے اپنے ضمیر کو سلا دینے کی ایک ناکام کوشش تھی۔ وہ ناشتے کے فوراً بعد، بنا کسی خاص مقصد کے، میرج ہال کی طرف نکل کھڑا ہوا۔ اس کی جیب اس وقت اس کے ضمیر کی طرح بالکل تہی دامن تھی اور رگوں میں دوڑتا ہوا نشے کا خمار اب دھیرے دھیرے ٹوٹ رہا تھا۔
نقیب جب خوشی میرج ہال پہنچا، تو وہاں کی خاموشی اسے کاٹنے کو دوڑ رہی تھی۔ آج ہال میں کوئی فنکشن نہیں تھا، جس کا مطلب تھا کہ نہ برتنوں کا ڈھیر ہوگا اور نہ ہی اسے دھلوائی کے نام پر چند سکے مل پائیں گے۔ نشے کی وہ آخری گولی، جو اس نے بچا کر رکھی تھی، دوپہر ڈھلنے سے پہلے ہی اس کے لہو کی نذر ہو چکی تھی۔ اب جیسے جیسے سورج ڈھل رہا تھا، اس کے وجود میں لگی آگ تیز ہوتی جا رہی تھی۔
چار بجے تک نقیب کی حالت غیر ہونے لگی۔ اس کے جسم میں کپکپی سی دوڑنے لگی اور ماتھے پر پسینے کی باریک بوندیں نمودار ہوئیں۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب ایک نشئی کے لیے دنیا کی ہر قدر، ہر رشتہ اور ہر خوف ہیچ ہو جاتا ہے۔ اس کی نظریں مینیجر کے آفس کے بند دروازے پر جمی تھیں، جہاں سے اسے اپنی نجات کی آخری امید نظر آ رہی تھی۔
مینیجر ابھی ابھی ایک پارٹی کی بکنگ سے فارغ ہوا تھا اور اپنی ڈائری میں حساب کتاب لکھ رہا تھا کہ نقیب نے دستک دی اور دروازہ ذرا سا کھول کر اندر جھانکا۔
“سر! کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟” نقیب کی آواز میں وہ مخصوص لجاجت تھی جو ضرورت کے وقت اس کے لہجے میں شہد کی طرح گھل جاتی تھی۔
مینیجر نے سر اٹھا کر ایک نظر اس کے زرد چہرے اور سرخ ہوتی آنکھوں پر ڈالی اور پھر بے نیازی سے اپنی ڈائری کی طرف متوجہ ہو گیا۔ “ہاں آؤ، کہو کیا کہنا ہے؟”
نقیب آفس میں داخل ہوا اور اپنے دونوں ہاتھ کمر کے پیچھے باندھ کر نہایت تابعداری سے کھڑا ہو گیا۔
اب بولو گے بھی؟ کیا کام ہے؟” مینیجر نے خشک لہجے میں پوچھا، اس کا قلم ڈائری پر مشینی انداز میں چل رہا تھا۔”
“سر! وہ کچھ ایڈوانس چاہیے تھا۔ گھر کی حالت آپ کے سامنے ہے… اگلی مزدوریوں میں سے کاٹ لیجیے گا۔”
مینیجر کا قلم رک گیا۔ اس نے نظریں اٹھائیں اور نقیب کو یوں دیکھا جیسے اس کی روح تک کو اسکین کر رہا ہو۔ اس کے چہرے پر حقارت کی ایک لہر دوڑ گئی۔
“کیوں؟ نشے کے لیے پیسے ختم ہو گئے ہیں کیا؟”
،نقیب نے فوراً مکر کا لبادہ اوڑھا
“…نہیں سر! ایسا نہیں ہے۔ وہ دراصل گھر میں راشن بالکل ختم ہے، عائشہ پریشان ہو رہی تھی۔ بس اسی لیے”
مینیجر نے ایک طنزیہ قہقہہ لگایا۔
“پیسے نہیں ہیں میرے پاس نقیب۔ جاکر اپنا کام کرو اور یہ ڈرامے کسی اور کے سامنے کرنا۔”
سر! پلیز… مجھے بہت ضرورت ہے،” نقیب نے آخری کوشش کی۔”
کیا تمہیں پیار کی زبان سمجھ نہیں آتی؟” مینیجر تڑخ کر بولا، اس کی آواز میں اب غصہ غالب تھا۔”
“جاؤ نکلو یہاں سے، ورنہ جو تھوڑا بہت کام ملتا ہے، اس سے بھی ہاتھ دھو بیٹھو گے۔”
نقیب بوجھل قدموں اور تپتے ہوئے ذہن کے ساتھ آفس سے باہر نکلا۔ اسے یوں لگا جیسے اس کے سر پر کسی نے وزنی ہتھوڑا مارا ہو۔ نشے کی طلب اب اس کے اعصاب پر ہتھوڑے برسا رہی تھی۔ وہ دیوانہ وار ہال کے تمام ویٹرز کے پاس گیا۔ اس نے ان کے سامنے ہاتھ جوڑے، منتیں کیں، یہاں تک کہ ان کی جھوٹی تعریفیں بھی کیں، مگر میرج ہال کا ہر ملازم اس کی لتںسے واقف تھا۔
یار نقیب! تمہیں پیسے دینا ایسے ہی ہے جیسے کنویں میں ڈالنا۔ ہمیں معاف ہی رکھو،” ایک ویٹر نے اسے صاف جواب دیا۔”
تھک ہار کر وہ پارکنگ میں کھڑی اپنی پرانی بائیک کو دیکھنے لگا۔ اس کے اندر ایک عجیب سی وحشت جنم لے رہی تھی۔ جب شرافت اور لجاجت کام نہ آئی، تو اس کے اندر کا وہ نشئی بیدار ہو گیا جو کچھ بھی کر گزرنے پر تلا ہوا تھا۔ اس نے ایک غصے بھری نظر ہال کی عمارت پر ڈالی، اپنی بائیک کو ایک زوردار کک ماری اور انجن کے کریہہ شور کے ساتھ دھول اڑاتا ہوا چرس کے ڈیلر کے خفیہ ٹھکانے کی طرف نکل گیا۔
°°°°°°°°°°
نقیب کے وجود میں لگی آگ اب اس کے اعصاب کو جھلسا رہی تھی۔ نشے کی طلب جب رگوں میں زہر بن کر دوڑتی ہے تو انسان کی غیرت، انا اور ہوش و حواس سب دھوئیں کی نذر ہو جاتے ہیں۔ اس نے اپنی شکستہ بائیک ایک بدبودار باڑے کے باہر کھڑی کی، جہاں گوبر کی بو اور جانوروں کی غلاظت نے فضا کو بوجھل کر رکھا تھا۔ وہ تیزی سے اندر داخل ہوا، جہاں اس کا ڈیلر، جو بظاہر ایک چرواہا تھا مگر حقیقت میں موت کا سوداگر تھا۔ بڑے اطمینان سے ایک بھینس کو نہلا رہا تھا۔ پانی کی بوچھاڑ بھینس کی کالی چمڑی پر پڑ کر ایک مخصوص آواز پیدا کر رہی تھی۔
نقیب کو اپنے قریب دیکھ کر ڈیلر نے پانی کا پائپ ایک طرف کیا اور حقارت سے ایک بھرپور ہنکارا بھرا۔ اس کی نظریں نقیب کے زرد چہرے اور خشک ہونٹوں پر جمی تھیں۔
“ہاں وئی نقیبیا! لگتا ہے رگوں کا پانی خشک ہو گیا ہے، چرس مُک گئی ہے کیا؟” ڈیلر نے طنزیہ لہجے میں پوچھا۔
نقیب نے اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری، اس کی آواز میں وہ مخصوص لجاجت تھی جو صرف ایک ہارے ہوئے نشئی کے حصے میں آتی ہے۔
“ہاں استاد! بس ایک دو پڑیاں چاہیے تھیں، طبیعت نڈھال ہو رہی ہے۔ پیسے ابھی نہیں ہیں، کل پکا دے دوں گا۔”
ڈیلر کے چہرے پر ایک خونخوار مسکراہٹ ابھری۔ اس نے بھینس کی پیٹھ پر ہاتھ مارتے ہوئے اسے گھورا۔
“کیا تیرا باپ یہاں مال مفت میں چھوڑ کر جاتا ہے؟ یہاں سودا نقد ہوتا ہے، پیسے ہیں تو بات کر، ورنہ یہاں سے دفع ہو جا، میرا وقت ضائع مت کر۔”
“استاد! خدا کی قسم، کل میرج ہال سے دیہاڑی ملتے ہی پہلے تمہارے پیسے دوں گا۔”
“پیسے نہیں تو مال نہیں!” ڈیلر نے دو ٹوک جواب دیا اور دوبارہ بھینس کو نہلانے میں مصروف ہو گیا۔ “جا، پہلے پیسے لے کر آ، پھر اپنی شکل دکھانا۔”
نقیب وہیں ساکت کھڑا رہا۔ طلب کی شدت اسے پاگل کر رہی تھی۔ اسے لگ رہا تھا کہ اگر ابھی اسے وہ سکون نہ ملا تو اس کا جسم ریزہ ریزہ ہو جائے گا۔ اس نے ایک آخری پینترا بدلا۔
“استاد! ایک کام کرو… تم مال کے بدلے میری یہ بائیک رکھ لو۔ کل پیسے لا کر اپنی بائیک لے لوں گا۔”
ڈیلر نے ایک قہقہہ لگایا، جو نقیب کے کانوں میں سیسے کی طرح اترا۔
اوئے پوڈری! کیا مجھے احمق سمجھ رکھا ہے؟ خدا جانے یہ بائیک تو نے کہاں سے چوری کی ہو اور میں خوامخواہ پولیس کے ہتھے چڑھ جاؤں؟”
“جا، اپنی یہ کباڑ کسی اور کو دکھا، میرے باڑے میں گند مت ڈال۔
نہیں استاد! میری اپنی ہے، میں چور نہیں ہوں،” نقیب نے تلملا کر کہا۔”
کدھر ہیں کاغذات؟ دکھا ذرا فائل،” ڈیلر نے لالچی مگر مشکوک نظروں سے اسے پرکھا۔”
نقیب کی زبان گنگ ہو گئی۔
“کاغذات تو… وہ تو میرے پاس نہیں ہیں استاد۔”
،ڈیلر کا صبر جواب دے گیا۔ اس نے ایک وزنی پتھر کی طرف اشارہ کیا اور پھنکارتے ہوئے بولا
“جا پھر! جا کر اپنی ماں کو بیچ۔ اب بھاگ یہاں سے، ورنہ یہ پتھر مار کر تیرا سر وہیں پھوڑ دوں گا جہاں سے یہ نشے کے خیال آتے ہیں۔”
ذلت کا یہ آخری گھونٹ نقیب کے حلق میں پھنس گیا۔ وہ بے بسی اور غصے کی تصویر بنا باڑے سے باہر نکلا۔ بائیک پر بیٹھ کر چند لمحے ساکت رہا۔ اس کے ذہن میں ڈیلر کے وہ غلیظ الفاظ “جا کر اپنی ماں کو بیچ” کسی ہتھوڑے کی طرح بج رہے تھے۔
نشے کی طلب نے اس کے اندر کے رہے سہے انسان کو بھی ذبح کر دیا تھا۔ اس نے بائیک کا رخ موڑا اور پوری رفتار سے پگڈنڈی پر بائیک دوڑانے لگا۔ اس کی منزل اب اس کا گھر تھا، اس امید کے ساتھ کہ شاید کوئی شے مل جائے، جسے بیچ کر نشے کا انتظام ہو سکے۔
°°°°°°°°°°
صحن میں دھوپ پھیلی ہوئی تھی، مگر عائشہ کے دل پر اداسی کے گہرے سائے منڈلا رہے تھے۔ اس نے گیلے کپڑوں سے بھری بالٹی تھام رکھی تھی اور ایک ایک کر کے انہیں نچوڑ کر تار پر پھیلا رہی تھی۔ اسی اثنا میں نقیب کی پرانی بائیک کا کریہہ شور سناٹا چیرتا ہوا صحن میں داخل ہوا۔
نقیب کی بائیک کے رکتے ہی عائشہ کے ہاتھ رک گئے، ایک انجانا خوف اس کے پوروں میں سرایت کر گیا۔ اس نے بالٹی ایک طرف رکھی اور بوجھل قدموں سے اس کی طرف بڑھی۔
“نقیب! کیا بات ہے؟ آج آپ جلدی لوٹ آئے؟” اس کے لہجے میں فکر اور لرزہ نمایاں تھا۔
میرا دماغ نہ خراب کر!” نقیب نے کسی بپھرے ہوئے درندے کی طرح پھنکارا اور اسے نظر انداز کرتا ہوا کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ عائشہ وہیں ساکت کھڑی رہ گئی۔”
کمرے کے اندر نقیب کی حالت کسی پاگل کتے کی طرح ہو رہی تھی جسے نشے کی طلب نے اندھا کر دیا ہو۔ اس نے سب سے پہلے اپنا وہی پرانا صندوق ٹٹولا، مگر وہاں سوائے خالی پن کے کچھ نہیں تھا۔ غصے کی لہر اس کے اعصاب پر سوار ہوئی اور اس نے الماری کا رخ کیا۔ وہ دیوانہ وار کپڑے، برتن اور عائشہ کا بچا کھچا سامان باہر پھینکنے لگا۔ کمرے میں چیزوں کے گرنے اور ٹوٹنے کی آوازیں عائشہ کے دل پر ہتھوڑوں کی طرح لگ رہی تھیں۔ وہ باہر کھڑی کانپ رہی تھی، مگر جب توڑ پھوڑ کی آوازیں حد سے بڑھیں تو وہ اندر داخل ہوئی۔
آپ… آپ کیا ڈھونڈ رہے ہیں نقیب؟” اس نے سہمے ہوئے لہجے میں پوچھا۔”
نقیب کی نظریں وحشیانہ تھیں، اچانک اس کے حافظے میں وہ دو ہزار روپے چمکے جو اس نے پرسوں عائشہ کو دیے تھے۔
،وہ ایک جھٹکے سے مڑا اور عائشہ کے قریب آ کر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر غرایا
“وہ دو ہزار روپے کہاں ہیں جو میں نے تمہیں دیے تھے؟”
“…عائشہ نے سہم کر جواب دیا، “نقیب! وہ تو خرچ ہو گئے… گھر کا راشن اور ضروریات
“کیا تیرا دماغ چل گیا ہے؟” نقیب کی آواز غصے سے پھٹ پڑی۔ “تین دن میں دو ہزار اڑا دیے؟ کیا پیسے درختوں پر لگتے ہیں جو یوں شاہ خرچیاں کر رہیں ہے؟”
“بس وہی تو تھے نقیب… اب مہنگائی کے اس دور میں وہ کتنے دن نکالتے؟” عائشہ نے دھیمی آواز میں سچ بولنا چاہا، مگر نقیب کو سچ نہیں، اپنا نشہ چاہیے تھا۔
زبان لڑاتی ہے مجھ سے؟” نقیب نے پوری قوت سے عائشہ کو دھکا دیا۔ عائشہ پشت کے بل فرش پر گری، اس کا سر زمین سے ٹکرایا اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔”
وہ ابھی سنبھلنے کی کوشش ہی کر رہی تھی کہ نقیب اس کے سر پر کسی آسیب کی طرح منڈلانے لگا۔ اس کی آنکھیں نشے کی طلب اور غصے سے خون کی طرح سرخ تھیں۔
“!ناجانے وہ کون سا منحوس پل تھا جب میں تجھے تیرے گھر سے بھگا لایا تھا”
نقیب نے اپنی تمام تر ناکامیوں کا ملبہ عائشہ پر ڈالتے ہوئے ایک بھرپور ٹھوکر اس کے پیٹ میں ماری۔ عائشہ کے حلق سے ایک دردناک چیخ نکلی اور وہ کرب سے دوہری ہو گئی۔
نقیب! میں نے کیا کر دیا؟ خدا کے لیے رحم کرو!” وہ روتے ہوئے التجا کر رہی تھی، مگر نقیب کے اندر کا انسان مر چکا تھا۔”
تو نے ہی سب برباد کیا ہے! جب سے تو میری زندگی میں آئی ہے، میری جیب خالی ہو گئی، میرا سکون لٹ گیا!” وہ کسی پاگل کی طرح گرج رہا تھا۔
اس نے جھک کر عائشہ کی گردن اپنے آہنی ہاتھوں میں دبوچ لی۔ اس کے ہاتھوں کی گرفت اتنی سخت تھی کہ عائشہ کا سانس اٹک گیا
اگر تو مر جائے تو شاید میری زندگی کے یہ منحوس بادل چھٹ جائیں!” نقیب نے اپنی پوری طاقت عائشہ کی گردن پر صرف کر دی۔”
عائشہ کے ہاتھ پاؤں تڑپنے لگے، وہ مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی، اس کے ناخن نقیب کے ہاتھوں کو نوچنے کی کوشش کر رہے تھے مگر بے سود۔ اس کا سانس رک رہا تھا، سینے میں گھٹن بڑھتی جا رہی تھی اور آنکھیں خوف اور آکسیجن کی کمی سے ابلنے لگی تھیں۔ اس کے گالوں کی رنگت گلابی سے گہری نیلی ہوتی جا رہی تھی۔ موت کا سایہ کمرے میں پھیل چکا تھا اور عائشہ کو محسوس ہو رہا تھا کہ اب اس کی روح کا اس قید خانے سے پرواز کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
نقیب کے چہرے پر موجود درندگی بتا رہی تھی کہ آج وہ عائشہ کا قصہ تمام کر کے ہی دم لے گا۔ عائشہ کی آنکھیں آہستہ آہستہ بند ہورہی تھیں اور کچی دیواروں کے درمیان ایک معصوم زندگی کا چراغ گل ہونے کو تھا۔
°°°°°°°°°°
…جاری ہے
