ناول: وارث کون
باب سوم: کٹی پتنگ
قسط نمبر 13
مصنف: زیاد اصغر زارون
°°°°°°°°°°
سلطان میرج ہال کے وسیع و عریض ہال میں پھیلی گزشتہ رات کی گہما گہمی اب ایک خاموش ملبے کی صورت اختیار کر چکی تھی۔ کرسیوں کی ترتیب، فرش کی صفائی اور بچا کھچا سامان سمیٹتے سمیٹتے دن ڈھل گیا اور شام کے پانچ بج گئے۔ کام کی تھکن عامر کے اعصاب پر سوار تھی، مگر آج ذہنوں میں ایک الگ ہی سکون تھا، گھر واپسی کا سکون۔
ہال میں اب صرف وہی تین ویٹر باقی تھے جن کے کندھوں پر اس پورے سیٹ اپ کا بوجھ تھا۔ پھالیہ کا مقامی ویٹر تو اپنے گھر کی راہ لے چکا تھا، مگر اصل جوڑی عامر اور شیری کی تھی۔ یہ محض ساتھی ملازم نہیں تھے، بلکہ ایک ہی گاؤں سے بچپن کے لنگوٹیا یار تھے۔
وہ ہمیشہ اکٹھے ہی کام پر جایا کرتے تھے۔ جہاں زندگی کے دیگر معاملات میں وہ ایک دوسرے کے دستِ راست تھے، وہیں چرس کے دھوئیں نے ان کے درمیان ایک ایسا غیر مرئی رشتہ قائم کر رکھا تھا جو عام لوگوں کی سمجھ سے باہر تھا۔ وہ ایک دوسرے کے جائز و ناجائز، ہر کام میں برابر کے شریک تھے۔
کئی دنوں کی مسلسل مشقت اور میرج ہال کی مشینی زندگی کے بعد، آج انہیں اپنے گھروں کی یاد ستا رہی تھی۔ انہوں نے باری باری نہا کر اپنے میلے کپڑے بدلے اور ضرورت کا ایک ایک جوڑا پلاسٹک کے شاپروں میں ٹھونسا۔ یہ ان کی کل کائنات تھی جو وہ اپنے ساتھ لے کر جا رہے تھے۔
عامر نے اپنی بائیک کو زوردار کِک ماری، شیری نے پھرتی سے پیچھے نشست سنبھالی اور بائیک کا رخ پھالیہ شہر کی طرف مڑ گیا۔
شام کی ٹھنڈی ہوا ان کے چہروں سے ٹکرا رہی تھی، جو پچھلے کئی دنوں کی تھکن کو دھو رہی تھی۔ عامر بائیک چلا رہا تھا اور شیری شاید اپنے ذہن میں گھر پہنچ کر پہلا دم لگانے کے منصوبے بُن رہا تھا۔
°°°°°°°°°°
رات کی سیاہی نے ہر شے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ عامر اور شیری کی شکستہ بائیک، جو محض لوہے کا ایک ڈھیر معلوم ہوتی تھی، سڑک پر غرا رہی تھی۔ اس بائیک کی ہیڈ لائٹ خراب ہوکر بس اک شو پیس بن چکی تھی، آگے کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔ موبائل کی ہلکی روشنی سے ہی وہ راستے کی نشاندہی کر رہے تھے جو سوائے ہلکی چمک کے کچھ بھی نہیں تھی اور اندھیرے میں بے بسی سے ان کا منہ چڑا رہی تھی۔ وہ دونوں اپنی ہی دنیا میں مگن، خوش گپیوں اور مذاق کے موڈ میں میرپور روڈ پر سفر کر رہے تھے۔ شکریلہ بازار کے رنگین سائے پیچھے چھوٹ چکے تھے اور سامنے وہ لِنک روڈ آنے والا تھا جو انہیں ان کی منزل کی طرف لے جاتا۔
عامر بائیک کے ہینڈل پر گرفت مضبوط کیے ہوئے تھا، مگر اس کا ذہن پچھلی رات کے ان لرزہ خیز مناظر میں اٹکا ہوا تھا جو اس نے نقیب کے گھر دیکھے تھے۔
،اس نے شیری کی طرف گردن موڑ کر خاموشی کو توڑا
“یا۔۔۔ یار شیری! نقیب جیسا ظالم بندہ میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا۔”
شیری نے حیرت سے عامر کو دیکھا۔ “اچھا؟ مجھے تو وہ بہت ہی سادہ اور درویش صفت انسان لگتا ہے۔”
نہیں یار! یہ سب ڈھونگ ہے۔” عامر نے تلخی سے کہا۔”
پتا ہے نا میں را… رات کو اس کے گھر تھا، اس خبیث نے اپنی بیوی پر جو… جو تشدد کیا، اسے دیکھ کر میرا کلیجہ منہ کو آگیا۔ “
“…وہ اپنی بیوی کو جس بے رحمی سے مارتا ہے، وہ کو… کوئی انسان نہیں کر سکتا۔ مجھے تو اس معصوم پر بڑا ترس
،عامر کا جملہ ابھی ادھورا ہی تھا کہ شیری کے حلق سے ایک ہولناک چیخ نکلی جس نے سڑک کے سناٹے کو چاک کر دیا
“!اوئے! آگے دیکھ۔۔۔ پولیس”
پنڈ عزیز اسٹاپ پر پولیس نے ناکہ لگا رکھا تھا اور سڑک پر رکاوٹیں کھڑی تھیں۔ اندھیرے میں بغیر لائٹ کے آنے والی اس آسیب زدہ بائیک کو دیکھ کر ایک سپاہی نے انہیں رکنے کا اشارہ کیا اور بائیک کے سامنے آگیا۔ عامر کی توجہ باتوں میں تھی، اس نے سنبھلنے کی کوشش تو کی مگر بائیک کی رفتار اور اندھیرے نے اسے مہلت ہی نہ دی۔ بائیک پوری قوت سے سپاہی سے جا ٹکرائی۔
اگلے ہی پل، بائیک ایک طرف گری اور سپاہی سڑک کے سخت تارکول پر جا ڈھیر ہوا۔ عامر اور شیری بھی سڑک پر گِھسٹتے چلے گئے، مگر اس سے پہلے کہ وہ اپنی چوٹیں سنبھال پاتے، باقی تین سپاہی کسی عقاب کی طرح ان پر جھپٹ پڑے۔
اوئے کھوتے دیا پترا…! اندھا ہو گیا ہے؟ نظر نہیں آتا؟” ایک سپاہی نے غصے سے عامر کا گریبان دبوچا اور ایک زوردار مکا اس کے گال پر رسید کیا۔”
جس سپاہی کو چوٹ لگی تھی، وہ بمشکل اپنے کپڑے جھاڑتا ہوا اٹھا، اس کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا۔
ان حرام خوروں کو ابھی چوکی لے چلو! ان کا دماغ ٹھکانے لگاتے ہیں۔” وہ غصے سے گرج اٹھا۔”
شیری اور عامر کے چہروں پر موت جیسی زردی چھا گئی۔ معاملہ صرف ایک سپاہی کو ٹکر مارنے کا نہیں تھا۔ اصل مصیبت تو ان کے لباس میں چھپی تھی۔ تلاشی کے دوران ایک سپاہی کا ہاتھ عامر کے نیفے تک پہنچا جہاں ایک زنگ آلود، غیر قانونی پستول چھپا ہوا تھا۔
اوئے! یہ کیا ہے؟” سپاہی نے جھٹکے سے پستول نکالا اور باقی ساتھیوں کو دکھایا۔”
اسی دوران دوسری جانب تلاشی لیتے ہوئے شیری کی جیب سے چرس کی پڑیاں بھی برآمد ہو گئیں۔ اب صورتحال یہ تھی کہ وہ محض ایک ٹریفک حادثے کے مجرم نہیں تھے، بلکہ غیر قانونی اسلحہ اور منشیات کے کیس میں بری طرح جکڑے جا چکے تھے۔ سپاہیوں نے انہیں تضحیک کے ساتھ ٹھوکریں مارنا اور تھپڑ رسید کرنا شروع کر دیا اور گھسیٹتے ہوئے قریبی پولیس چوکی کی طرف لے جانے لگے۔
گھر پہنچنے کا خواب اب جیل کی سلاخوں میں بدل چکا تھا۔ وہ پگڈنڈی جو انہیں سکون کی طرف لے جانے والی تھی، اب ایک ایسی دلدل بن چکی تھی جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا تھا۔
°°°°°°°°°°
پولیس چوکی کی وہ رات عامر اور شیری کے لیے کسی بھیانک ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھی۔ وہاں ان کی تواضع کا وہ سلسلہ شروع ہوا جس نے ان کے جسم و جان کو ادھ موا کر دیا۔ تھانے کی سرد دیواریں اور تشدد کی بوچھاڑ ان کے لیے ایک ایسی اذیت بن گئی جس کا انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ بالخصوص وہ سپاہی، جس پر ان کی بائیک چڑھی تھی، غصے اور انتقام کی آگ میں جل رہا تھا۔ وہ ہر تھوڑی دیر بعد لنگڑاتا ہوا آتا اور چمڑے کا بھاری لِتر اٹھا کر ان کے جسموں کے نیلے نشانات پر نئی ضربیں لگاتا۔ وہ پوری رات کراہتے، معافیاں مانگتے اور تشدد سہتے گزری، مگر رحم کی کوئی صورت نظر نہ آئی۔
جب سورج کی پہلی کرن نے پولیس چوکی کی عمارت کو چھوا، تو انہیں مرکزی تھانہ منتقل کر دیا گیا۔ وہاں عامر کی شناخت نے ایک نیا موڑ اختیار کیا۔ جب تفصیلات درج کی جا رہی تھیں، تو ایک سپاہی عامر کا نام، ولدیت اور پتہ سن کر ٹھٹھک گیا۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ علاقے کے بااثر چوہدری اور بلا مقابلہ کونسلر منتخب ہونے والے شخص کا بیٹا اس حال میں سامنے کھڑا ہے۔ تھانے کا عملہ چوہدری صاحب کے رعب و دبدبے سے واقف تھا اور وہ سپاہی، جو ان کا ہمدرد تھا، اس نے فوراً موقع پا کر عامر کے باپ کو کال کر دی تاکہ اس سے پہلے کہ پانی سر سے گزر جائے، کوئی تدبیر کی جا سکے۔
عامر کے والد کو جیسے ہی خبر ملی، وہ اپنی تمام تر سیاسی ساکھ اور اثر و رسوخ لے کر تھانے پہنچے، مگر قانون کی بساط پر مہرے پہلے ہی بچھائے جا چکے تھے۔ عامر اور شیری کے خلاف ایف آئی آر کاٹی جا چکی تھی اور اس میں لگی دفعات… غیر قانونی اسلحہ، منشیات اور پولیس اہلکار پر حملہ، اتنی سنگین اور مضبوط تھیں کہ کسی بھی قسم کی سفارش یا لین دین بے کار ثابت ہوا۔
چوہدری صاحب نے جتنی دوڑ دھوپ ممکن تھی کی، مگر کاغذی کارروائی نے عامر کے گرد گھیرا تنگ کر دیا تھا۔ ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اب معاملہ پولیس کے ہاتھ سے نکل کر عدالت کی دہلیز تک پہنچ چکا تھا۔
کیس میں کسی پیچیدگی کی گنجائش نہیں تھی، اسی لیے دوسرے ہی دن قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے دونوں کو گجرات جیل منتقل کر دیا گیا۔ وہ عامر، جو محض ایک دن پہلے عائشہ کے سامنے ایک نجات دہندہ بن کر کھڑا تھا، جس نے اسے سسکتی زندگی سے نکال کر اپنے گھر میں پناہ دینے کا وعدہ کیا تھا، وہ اب خود آہنی سلاخوں کے پیچھے قید ہو چکا تھا۔
کتنی عجیب بات تھی کہ جو شخص کسی دوسرے کی زنجیریں توڑنے کی امید دلا کر آیا تھا، وقت نے اسے خود ایسی زنجیروں میں جکڑ دیا جن کی چابی اب اس کے پاس نہیں تھی۔ عامر کی وہ خودداری اور بے باکی اب جیل کی کال کوٹھڑی میں دم توڑ رہی تھی اور اس کے ذہن میں بار بار عائشہ کا وہ زرد چہرہ آ رہا ہوگا جسے اس نے ایک ایسے درندے کے رحم و کرم پر چھوڑا تھا جو اب عامر کی غیر موجودگی میں مزید وحشی ہونے والا تھا۔
°°°°°°°°°°
سلطان میرج ہال کی فضاؤں میں اب وہ مخصوص گونج باقی نہیں رہی تھی جو عامر کی ہکلاتی ہوئی آواز اور اس کے چرس کے دھوئیں سے بندھی ہوئی تھی۔ دو دن کی چھٹی اب پانچویں دن میں داخل ہو چکی تھی، مگر میرج ہال کے صدر دروازے سے نہ عامر داخل ہوا اور نہ ہی شیری کا کوئی سراغ ملا۔ ان کے موبائل فونز کی مسلسل خاموشی ایک بے چینی میں بدل چکی تھی۔ ایسی بے چینی جس نے ہال کے مالکان سے زیادہ نقیب کے اعصاب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔
میرج ہال کے مالکان کے لیے عامر ایک ضرورت تھا، مگر ناگزیر نہیں۔ پانچ سال کی رفاقت کے باوجود وہ عامر کے بارے میں صرف اتنا جانتے تھے کہ وہ سرائے عالمگیر کا رہائشی ہے، مگر اس کا گھر کہاں ہے، یہ ان کے علم میں نہیں تھا۔ جب پانچویں دن سورج ڈھلا اور عامر کی واپسی کی امید دم توڑ گئی، تو انہوں نے کاروباری اصولوں کے تحت دو نئے ویٹرز کا بندوبست کر لیا۔
نقیب کے لیے یہ صورتحال کسی قیامت سے کم نہیں تھی۔ اس کے لیے عامر صرف ایک ہیڈ ویٹر نہیں تھا، بلکہ وہ اس کی بقا کا ضامن، اس کے نشے کا ہمدرد اور اس کی پہچان کا سہارا تھا۔ عامر کی غیر موجودگی میں نقیب کو میرج ہال کے کام اجنبی لگنے لگے تھے۔ اس کا دل برتنوں کی دھلائی میں لگتا تھا اور نہ ہی کسی اور کام میں۔ اس کے ذہن میں وسوسوں کا ایک ہولناک سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔
پتہ نہیں وہ کہاں ہوں گے؟ زندہ بھی ہیں یا…؟” وہ اس سے آگے سوچنے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا، کیونکہ عامر کی موت یا دائمی دوری کا تصور ہی اسے لرزا دیتا تھا۔”
اپنی اس ذہنی الجھن اور استاد کے بچھڑنے کے دکھ کو غلط کرنے کے لیے نقیب نے اب چرس کے دھوئیں میں پناہ لینا شروع کر دی تھی۔ وہ اب پہلے سے کہیں زیادہ نشہ کرنے لگا تھا۔ اگر اسے یہ امید نہ ہوتی کہ عامر شاید کل لوٹ آئے گا، تو وہ ایک لمحہ بھی اس ہال میں نہ ٹھہرتا۔ وہ بس انگلیوں پر دن گن رہا تھا، ہر آہٹ پر چونک اٹھتا کہ شاید عامر آگیا ہو، مگر ہر گزرتا لمحہ اسے مایوسی کی گہری کھائی میں دھکیل رہا تھا۔
دوسری طرف عائشہ، جو اپنے گھر کے قفس میں مقید تھی، اس تک بھی عامر کے لاپتہ ہونے کی خبر پہنچ چکی تھی۔ اسے اچھی طرح یاد تھا کہ اس سرد اور بارش سے بھری رات میں عامر نے اسے اپنے گاؤں کا پتہ بتایا تھا۔ اس کے پاس وہ کلید تھی جو نقیب کی پریشانی ختم کر سکتی تھی، مگر وہ بول نہیں سکتی تھی۔
وہ جانتی تھی کہ نقیب کا شک کتنا گہرا اور زہریلا ہے۔ اگر اس نے عامر کے گاؤں کا نام لیا، تو نقیب فوراً اسے شک کی نگاہ سے دیکھے گا۔ وہ اس پر عامر کے ساتھ کسی خفیہ تعلق کی تہمت لگا دے گا، جو اس کے لیے تشدد کا ایک نیا اور بدترین جواز بن جائے گا۔
وہ چاہ کر بھی نقیب کی مدد نہیں کر پا رہی تھی، کیونکہ اس کی سچائی اسے مزید ذلت کی طرف لے جا سکتی تھی۔ وہ بس خاموش تماشائی بنی نقیب کی بے چینی دیکھ رہی تھی، جو اسے نشے کی اس گہرائی میں لے جا رہی تھی جہاں سے واپسی کا راستہ شاید ہمیشہ کے لیے بند ہونے والا تھا۔
°°°°°°°°°°
سورج ڈھل رہا تھا اور فضا میں مویشیوں کے باڑوں سے اٹھتی ہوئی ایک مخصوص بساند اور تازے کترے ہوئے چارے کی خوشبو رچی بسی تھی۔ نقیب، جس کے اعصاب عامر کی گمشدگی اور کام کے دباؤ سے بری طرح جھلس رہے تھے، ایک بار پھر اسی موت کے سوداگر کے ڈیرے پر آ موجود تھا۔ ڈیلر اس وقت اپنی مشین سے چارہ کترنے میں مصروف تھا۔ مشین کی کٹیلی اور یکسو آواز خاموش فضا میں کسی ہتھوڑے کی طرح بج رہی تھی۔ نقیب نے کسی سے بات کرنا گوارا نہیں کیا اور صحن میں بچھی میلی سی چارپائی پر ڈھے گیا۔
چارہ کترنے والی مشین جب خاموش ہوئی، تو ڈیلر نے ماتھے سے پسینہ پونچھا اور خراماں خراماں چلتا ہوا نقیب کے پاس آ بیٹھا۔ اس نے ایک بھرپور اور زوردار چپت نقیب کی کمر پر ماری، جس میں اپنائیت سے زیادہ ایک شکاری کی فاتحانہ مسکراہٹ چھپی تھی۔
ہاں نقیبیا! بڑی جلدی یاد آ گئی ڈیرے کی؟ کیسے آنا ہوا؟” ڈیلر نے طنزیہ ہنکارا بھرتے ہوئے پوچھا۔”
استاد! بس ایک پڑی چاہیے،” نقیب نے بے قراری سے کہا۔ اس کی آنکھوں کی وحشت بتا رہی تھی کہ وہ کسی بڑے طوفان کی زد میں ہے۔”
“چھوٹی یا بڑی؟” ڈیلر نے اس کی ضرورت کو بھانپتے ہوئے سوال کیا۔
استاد! حالات بہت خراب ہیں، دماغ پھٹ رہا ہے۔ چھوٹی سے اب کام نہیں چلنے والا، بڑے والی چاہیے۔” نقیب نے اپنی ذہنی کوفت کو چھپانے کی ناکام کوشش کی۔”
“ڈیلر نے اپنی عیار نظریں نقیب کے چہرے پر گاڑھ دیں اور بڑی ہوشیاری سے پوچھا، “پیسے تو ہیں نا پاس؟ یہاں ادھار کی گنجائش ختم ہو چکی ہے۔
نقیب نے جواب دینے کے بجائے جیب میں ہاتھ ڈالا اور ہزار ہزار کے پانچ کڑک نوٹ نکال کر اس کے سامنے لہرا دیے۔ ڈیلر کی آنکھوں میں لٹیرے جیسی چمک ابھری اور اس نے جھپٹ کر وہ نوٹ نقیب کے ہاتھ سے چھین لیے۔
مارکیٹ میں بالکل نیا مال آیا ہے۔” ڈیلر نے آواز دھیمی کرتے ہوئے کہا۔”
“ابھی میں نے خود تو نہیں آزمایا، لیکن میرے ڈیلر کا دعویٰ ہے کہ یہ بندے کو جنت کی سیر کرا دیتا ہے۔ تو ذرا ٹھہر، میں لے کر آتا ہوں۔”
وہ ڈیرے کے اندرونی حصے میں غائب ہو گیا اور نقیب وہیں بیٹھا اپنی انگلیوں کے پوٹے مسلتا رہا۔ تھوڑی دیر بعد جب ڈیلر واپس لوٹا، تو اس کے ہاتھ میں ہیروئن کا ایک پیکٹ تھا۔ نقیب نے جیسے ہی اسے دیکھا، اس کے ہاتھ بے اختیار آگے بڑھے، مگر ڈیلر نے پیکٹ پیچھے کھینچ لیا۔
حوصلے سے نقیب! یہ بہت تیز اور کڑک مال ہے۔ اسے سنبھالنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔” ڈیلر نے ایک آخری وارننگ دی۔”
“!چھوڑو استاد”
نقیب نے تکبر اور جوش سے جواب دیا۔ “اس سے زیادہ کڑک مال آزمائے ہیں۔ یہ میرے لیے کچھ بھی نہیں۔” اس نے جھپٹ کر وہ پیکٹ تھاما اور اسے اپنی جیب کی گہرائیوں میں چھپا لیا۔
اپنا مطلوبہ مال حاصل کرتے ہی نقیب کے رویے میں اچانک تبدیلی آگئی۔ اب اسے نہ ڈیلر کی باتوں میں دلچسپی تھی اور نہ ہی وہاں رکنے کا کوئی ارادہ۔ اس نے ہاتھ ملانا بھی ضروری نہ سمجھا اور کسی سائے کی طرح تیزی سے ڈیرے سے باہر نکل گیا۔
اس کے ذہن میں اس وقت نہ عامر کی یاد تھی، نہ میرج ہال کی فکر اور نہ ہی گھر میں پڑی اس ادھ موئی عائشہ کا خیال۔ اس کے سامنے بس وہ کڑک مال تھا جو اسے تھوڑی دیر کے لیے اس تلخ حقیقت سے دور لے جا سکتا تھا جہاں وہ ایک ہارا ہوا انسان تھا۔ وہ تیز قدموں سے اپنے اس گھر کی طرف بڑھ رہا تھا جہاں اب زندگی نہیں، بلکہ صرف سسکیاں اور نشے کا زہریلا دھواں بستا تھا۔ اسے بس جلدی تھی کہ اس سفید زہر کو اپنی رگوں میں اتار لے اور اپنے منتشر دماغ کو مکمل مدہوشی کے سپرد کر دے۔
°°°°°°°°°°
شام کے سائے جب دیواروں سے لپٹنے لگے تو نقیب ایسی وحشت لیے گھر میں داخل ہوا جو عائشہ کے لیے نئی نہیں تھی، مگر اس بار اس وحشت کا رنگ سفید تھا۔ اس نے آتے ہی بیڈ پر وہ مہلک پڑیا رکھی، جیسے کوئی شکاری اپنا قیمتی شکار سجاتا ہے۔ اسٹیل کی ایک پلیٹ پر ہیروئن کی سفید لکیریں ترتیب میں سجانے لگا۔
نقیب نے ایک چھوٹی سی نلکی سنبھالی اور جھک کر اس سفید زہر کو اپنے وجود میں اتارنے لگا۔ وہ برسوں سے نشے کی اس دلدل میں دھنسا ہوا تھا کہ اب عام نشہ اس کے اعصاب پر دستک دینے سے بھی قاصر تھا۔ اسے اپنے خون میں طوفان بپا کرنے کے لیے اب اسی کڑک مال کی ضرورت تھی جو اسے انسانیت کی حدود سے پار لے جائے۔ عائشہ کمرے کے ایک کونے میں سِمٹی، اپنی لرزتی ہوئی سانسوں کو قابو میں کیے یہ سب دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں اب آنسو نہیں، بلکہ ایک ایسی پتھرائی ہوئی بے بسی تھی جو لفظوں میں بیان نہیں کی جا سکتی تھی۔
شام سے رات بیت گئی، مگر نقیب کے لیے وقت جیسے تھم گیا تھا۔ وہ ہر گھنٹے بعد ایک نئی لکیر بناتا، اسے اپنے لہو کا حصہ بناتا اور پھر ایک گہری، کریہہ مدہوشی میں ڈوب کر بیڈ پر ڈھیر ہو جاتا۔ کمرے میں پھیلی ہوئی وہ مخصوص بو عائشہ کا دم گھونٹ رہی تھی۔ جب نشے کا اثر ذرا سا کم ہوتا اور نقیب کی بند آنکھیں دوبارہ دنیا کو دیکھنے کے قابل ہوتیں، تو وہ پھر سے اسی چکر کو دہراتا۔
رات کا ایک بج چکا تھا۔ ہر طرف ایک ہولناک خاموشی تھی، صرف نقیب کے ہانپنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ جب نقیب نے لرزتے ہاتھوں سے ایک بار پھر پلیٹ کی طرف ہاتھ بڑھایا، تو پچھلے کئی گھنٹوں سے سینے میں دبا عائشہ کا ضبط اچانک لاوے کی طرح پھٹ پڑا۔
نقیب! خدا کا خوف کرو…” عائشہ کی آواز نقاہت اور کرب سے لرز رہی تھی۔”
“شام سے آدھی رات ہو گئی ہے، تم اسی کام میں لگے ہوئے ہو۔ بس کر دو اب، کیوں اپنی جان کے دشمن بنے ہوئے ہو۔”
نقیب، جو اس وقت کسی دوسری ہی دنیا کا مسافر تھا، نے سرخ اور وحشی نظروں سے عائشہ کو گھورا۔ اس کے چہرے پر موجود زردی اور ہونٹوں کی سیاہی اس کی درندگی کو مزید بھیانک بنا رہی تھی۔
کیا تیرے باپ کی پی رہا ہوں میں؟” وہ کسی زخمی درندے کی طرح غرایا۔”
“اپنا منہ بند رکھ اور اپنے کام سے کام رکھ، ورنہ تیری یہ آواز ہمیشہ کے لیے دبا دوں گا۔”
عائشہ کا چہرہ فق پڑ گیا۔ وہ اپنا سا منہ لے کر رہ گئی۔
نقیب نے عائشہ کی بات کو ہوا میں اڑایا اور دوبارہ نلکی کی مدد سے وہ سفید زہر اپنے سینے میں اتار لیا۔ اگلے ہی پل وہ پیچھے کی طرف گرا اور دوبارہ اسی گہری، خطرناک مدہوشی میں گم ہو گیا۔
عائشہ ساکت بیٹھی، پتھرائی ہوئی نظروں سے نقیب کو دیکھ رہی تھی جو اب ہوش و خرد کی سرحدوں سے پار کسی تاریک وادی کا مسافر بن چکا تھا۔ جب اسے یقین ہو گیا کہ نقیب نشے کی دبیز تہوں میں دب چکا ہے، تو وہ کسی سائے کی طرح نہایت نرمی سے اٹھی اور چارجنگ پر لگے اس کے موبائل کو اٹھا لیا۔
اس کی انگلیاں لرز رہی تھیں، مگر ارادہ پختہ تھا۔ وہ نقیب کی زندگی میں مداخلت کی عادی نہیں تھی، مگر عامر… وہ اجنبی جس نے اسے پناہ گاہ کی امید دلائی تھی۔ اس کے لاپتہ ہونے کی خبر عائشہ کے دل میں ایک انوکھے اضطراب کی طرح بیٹھی ہوئی تھی۔ وہ دیکھنا چاہتی تھی کہ کیا عامر کا کوئی سراغ ملا؟ وٹس ایپ کے پیغامات کی فہرست میں نیچے جاتے ہی اسے عامر کا نام نظر آیا۔ اس کا آف لائن اسٹیٹس کئی دنوں کی خاموشی کا نوحہ سنا رہا تھا۔ عائشہ نے جلدی سے اس کا نمبر نکالا اور اسے من ہی من میں دہرانے لگی۔ یہ محض ہندسے نہیں تھے، بلکہ اس کے لیے زندگی کی کٹھن راہوں میں آخری جائے پناہ کی کلید تھے۔
وہ ابھی نمبر ذہن نشین کر ہی رہی تھی کہ نقیب کے کسمسانے کی آواز نے اس کے خون کو منجمد کر دیا۔ وہ بجلی کی سی تیزی سے موبائل میز پر رکھ کر واپس بیڈ کے کونے پر سمٹ گئی۔ نقیب، جس کی آنکھیں اب کسی وحشی درندے کی مانند سرخ تھیں، نیم مدہوشی میں اٹھ بیٹھا۔
وہ ڈیلر… حرام خور کہہ رہا تھا کڑک مال ہے… مگر یہ تو کوئی مزہ ہی نہیں دے رہا۔” وہ نشیلے لہجے میں غلیظ گالیاں بکتے ہوئے بڑبڑایا۔”
اس نے دیوانگی کے عالم میں سرہانے کے نیچے سے سفید سفوف کی پڑیا نکالی اور اسٹیل کی پلیٹ پر ہیروئن کی ایک ایسی مقدار انڈیل دی جو اس کی سابقہ خوراک سے کئی گنا تھی۔
،عائشہ کا سینہ خوف سے دھک دھک کرنے لگا۔ اتنی زیادہ مقدار موت کا کھلا بلاوا تھی۔ اس سے رہا نہ گیا اور وہ تڑپ کر بولی
“نقیب! خدا کے لیے رک جاؤ، یہ کیا کر رہے ہو؟ کیا اپنی جان لے کر ہی دم لو گے؟”
اس نے پلیٹ جھپٹنا چاہی، مگر نقیب نے ایک ہی جھٹکے سے عائشہ کو پیچھے دھکیلا، وہ توازن برقرار نہ رکھ سکی اور فرش پر جا گری۔
“،پیچھے ہٹ بدبخت! مجھے تیری یہ جھوٹی ہمدردی نہیں چاہیے۔ اپنے کام سے کام رکھ”
نقیب نے دھاڑتے ہوئے ہیروئن کی ایک لمبی اور موٹی لکیر بنائی۔ عائشہ فرش پر پڑی بے بسی سے اس منظر کو دیکھ رہی تھی۔ نقیب نے اس بار کسی نلکی کا انتظار بھی نہیں کیا، پلیٹ ناک کے قریب لایا اور ایک ہی زوردار کش میں وہ ساری ہیروئن اپنے وجود میں اتار لی۔
اگلا لمحہ کسی بھیانک ڈراؤنے خواب کی مانند تھا۔ ہیروئن کی اس ہولناک مقدار نے اس کے نظامِ تنفس اور اعصاب پر ایسا کاری وار کیا کہ نقیب کا پورا جسم لکڑی کی طرح اکڑ گیا۔ ابھی دو سیکنڈ بھی نہ گزرے تھے کہ اس کی ناک سے خون کا فوارہ چھوٹا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس کی آنکھوں کے گوشوں سے بھی لہو رسنے لگا۔ وہ بیڈ پر گرا اور کسی بے آب مچھلی کی طرح تڑپنے لگا۔ اس کا تڑپنا ایسا تھا جیسے روح جسم کے قید خانے کو توڑ کر نکلنا چاہتی ہو۔
“!نقیب! نقیب”
عائشہ کی چیخیں کمرے کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس آنے لگیں۔ وہ دیوانہ وار فرش سے اٹھی، بیڈ پر چڑھ کر اسے جھنجھوڑنے لگی، مگر نقیب کے چہرے پر خون کی سرخی پھیلتی جا رہی تھی جیسے موت نے اپنا پہلا دستخط کر دیا ہو۔ اس کی حالت دیکھ کر عائشہ کے ہوش اڑ گئے۔ اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ بازی ہاتھ سے نکل چکی ہے اور اب صرف معجزہ ہی اسے بچا سکتا ہے۔
وہ وحشت کے عالم میں کمرے سے باہر بھاگی۔ سامنے پھیلے ہوئے تاریک کھیت اور خاموش پگڈنڈیاں اس کا استقبال کر رہی تھیں۔ وہ ننگے پاؤں، بالوں کی پرواہ کیے بغیر، دیوانہ وار گاؤں کی طرف دوڑنے لگی۔ اندھیری رات میں اس کے دوڑنے کی آواز اور ہانپتا ہوا سانس فضا میں ایک عجیب ہیبت پیدا کر رہا تھا۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ وہ کس سے مدد مانگے گی یا گاؤں والے ایک بھاگی ہوئی لڑکی کی پکار پر کان دھریں گے یا نہیں، مگر اس وقت اس کے سامنے نقیب کا لہو لہان چہرہ تھا اور وہ اسے اس حال میں تنہا چھوڑنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔
°°°°°°°°°°
عائشہ کسی جنون کی کیفیت میں گاؤں کے قریب ترین گھر کے گیٹ پر تابڑ توڑ ضربیں لگا رہی تھی۔ اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ گیٹ توڑ کر اندر چلی جاتی۔ رات کے اس پہر، اس طرح گیٹ بجنے کی آواز نے گھر کے مکینوں کو تذبذب اور غصے میں مبتلا کر دیا۔
کون ہے؟ گیٹ توڑنا ہے کیا؟” اندر سے ایک بھاری، غصے میں ڈوبی ہوئی مردانہ آواز آئی جس نے ماحول کی وحشت کو مزید گہرا کر دیا۔”
“!بھائی صاحب! اللہ کے لیے مدد کریں۔۔۔ نقیب کو کچھ ہو گیا ہے، خدا کا واسطہ میری مدد کریں”
عائشہ کی آواز میں وہ درد اور ہذیانی کیفیت تھی جو پتھر دل انسان کو بھی موم کر دے۔
،اندر موجود شخص نے جب یہ فریاد سنی، تو اس کے غصے کی جگہ تشویش نے لے لی۔ اس نے گیٹ کھولنے سے پہلے ہی اپنے بیٹوں کو پکارا
“راشد! سہیل! جلدی باہر نکلو۔”
جیسے ہی گیٹ کھلا، ایک بڑی عمر کا تجربہ کار چہرہ سامنے آیا۔ یہ وہی بزرگ تھے جنہوں نے ایک بار نقیب کے بے پناہ تشدد سے عائشہ کی جان بچائی تھی۔ مگر نمبردار کی موت کے بعد گاؤں کے حالات ایسے بدلے کہ انہوں نے پھر کبھی اس اجاڑ گھر کی خبر نہیں لی تھی۔ آج عائشہ کو اس حال میں اپنی دہلیز پر دیکھ کر انہیں شدید حیرانی ہوئی تھی۔
کیا ہوا پتر؟ اب کیا کر دیا اس نے؟” بزرگ نے ہمدردی سے پوچھا۔”
،عائشہ کی سسکیاں بندھ چکی تھیں
“!پتہ نہیں۔۔۔ اس کی ناک اور آنکھوں سے لہو بہہ رہا ہے، وہ تڑپ رہا ہے۔ اللہ کا واسطہ ہے میرے ساتھ چلیں”
،بزرگ صورتحال کی سنگینی کو بھانپ گئے تھے۔ انہوں نے لمحہ ضائع کیے بغیر اپنے بیٹوں کو حکم جاری کیے
“سہیل! تو بھاگ کر کرم داد کو لے کر آ، اسے کہہ گاڑی لے کر آئے، نقیب کی حالت بہت نازک ہے۔ اور راشد! تو میرے ساتھ آ۔”
اگلے ہی لمحے وہ بزرگ، ان کا بیٹا راشد اور عائشہ ان تاریک اور ویران کھیتوں کی طرف دوڑ رہے تھے جو نقیب کے گھر کی طرف جاتے تھے۔ رات کا سناٹا ان کے ہانپنے کی آوازوں سے لرز رہا تھا۔ کچی پگڈنڈیوں پر پڑنے والے ان کے قدم مٹی اڑا رہے تھے، مگر عائشہ کو یوں لگ رہا تھا جیسے اس کے پاؤں میں منوں بوجھ بندھ گیا ہو۔
“اس کے ذہن میں ایک ہی ہولناک خیال گردش کر رہا تھا، “اگر اسے کچھ ہو گیا تو میرا کیا ہوگا؟
کتنی عجیب بات تھی کہ جس شخص نے اسے جیتے جی مار دیا تھا، وہی اس کا آخری سہارا بھی تھا۔ یہ سوچ ہی اسے اندر سے ریزہ ریزہ کرنے کے لیے کافی تھی کہ اس مقتل نما گھر میں، جہاں صرف ظلم بستا تھا، اگر نقیب کی سانسیں رک گئیں تو وہ اس بے رحم دنیا میں مکمل طور پر لاوارث ہو جائے گی۔ وہ ٹھوکریں کھاتی، گرتی سنبھلتی اس درندے کو بچانے کے لیے بھاگ رہی تھی، جس نے اسے کبھی انسان نہیں سمجھا تھا، مگر یہی اس کی تقدیر کا سب سے بڑا المیہ تھا۔
°°°°°°°°°°
عائشہ جب ان دو افراد کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئی، تو وہاں کی فضا کسی قبرستان کی سی سرد اور بوجھل تھی۔ بیڈ پر نقیب کا وجود کسی شکستہ لکڑی کی طرح آڑا ترچھا پڑا تھا۔ اس کا چہرہ ہیروئن کی سفیدی اور ناک سے بہتے ہوئے ترو تازہ لہو کے ملاپ سے ایک ہولناک منظر پیش کر رہا تھا۔ سفید چادر پر بکھرے ہوئے خون کے دھبے اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ زندگی نے کیسی جدوجہد کی تھی۔ وہیں پلیٹ اوندھی پڑی تھی اور ہیروئن کی باقی ماندہ پڑیا کسی لاوارث لاش کی طرح ایک کونے میں پڑی تھی۔
،وہ معزز بزرگ تیزی سے آگے بڑھے اور نقیب کے کندھے جھنجھوڑنے لگے،
“!نقیب… اوئے نقیب! ہوش کر پتر، نقیب”
مگر وہاں سے کسی جواب کی امید رکھنا فضول تھا۔ بزرگ کا بیٹا راشد، جس کے چہرے پر سنجیدگی اور کچھ کر گزرنے کی تڑپ تھی، آگے بڑھا۔ اس نے نقیب کی ٹھنڈی ہوتی کلائی اپنی انگلیوں میں لی، پھر قمیض کے اندر ہاتھ لے جا کر اس دل کو ٹٹولا جو اب دھڑکنا بھول چکا تھا۔ اس نے اپنی ہتھیلی نقیب کی ناک کے سامنے رکھی، مگر وہاں سانس کی کوئی تپش نہیں تھی، صرف ایک ابدی خاموشی تھی۔
عائشہ کمرے کی چوکھٹ پر دوزانو بیٹھی، اپنے آنسوؤں سے مٹی بھگو رہی تھی۔ اس کا دماغ اسے مسلسل خطرے کی گھنٹی سنا رہا تھا، مگر وہ نادان دل اب بھی کسی معجزے کا منتظر تھا۔ اسی اثنا میں کرم داد دوڑتا ہوا آیا۔
،دہلیز پر پڑی عائشہ پر اس نے ایک حقارت آمیز نظر ڈالی، جیسے اس تمام بربادی کا ذمہ دار اسے سمجھ رہا ہو اور کمرے میں داخل ہوتے ہی غصے سے گرج اٹھا
“یہ کھوتے دا پتر پتا نہیں کب انسان بنے گا۔”
،راشد نے اسے ایک افسردہ نگاہ سے دیکھا اور وہ خبر سنا دی جو عائشہ کی دنیا اجاڑنے کے لیے کافی تھی
“نقیب مر چکا ہے۔”
،کرم داد کے حلق میں الفاظ پھنس گئے۔ اس کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے بے یقینی اور نمی ابھری، مگر پھر اس نے خود کو سنبھال لیا اور نحیف آواز میں پڑھا
ان للہ وانا الیہ راجعون”۔”
نقیب کی موت کی تصدیق ہوتے ہی عائشہ کے ضبط کے تمام بندھن ٹوٹ گئے۔ وہ دہاڑیں مار مار کر رونے لگی، اپنے سر میں تھپڑ مارنے لگی۔ یہ رونا صرف نقیب کے لیے نہیں تھا، بلکہ یہ اس کی اپنی بے بسی کا ماتم تھا۔
نقیب ظالم تھا، درندہ تھا، مگر وہ اس معاشرے میں عائشہ کا اکلوتا وارث اور سہارا بھی تھا۔
وہ بھائی جو پہلے ہی نقیب اور اس کی بیوی سے نفرت کرتے تھے، اب اس کے ساتھ کیا سلوک کریں گے؟ یہ سوچ کر ہی اس کا وجود کانپ رہا تھا۔
وہ رشتہ جو اسے ایک نام دیتا تھا، اب مٹ چکا تھا۔
،عائشہ کے ذہن میں ایک ہی سوال ہتھوڑے برسا رہا تھا
“اب کون ہے میرا وارث؟”
وہ اس ویرانے میں اب واقعی اکیلی رہ گئی تھی، جہاں نہ پیچھے مڑنے کا راستہ تھا اور نہ ہی سامنے کوئی پناہ گاہ۔ اس کی چیخیں آسمان کے پردے چاک کر رہی تھیں، مگر اسے دلاسا دینے والا کوئی نہیں تھا۔
نقیب کی موت نے عائشہ کی زندگی کا موجودہ باب بند کر دیا تھا، اور زندگی کا اگلا باب ناجانے اس کے لیے کیسی اذیتیں لانے والا تھا۔
°°°°°°°°°°
…جاری ہے
