ناول: وارث کون

باب سوم: کٹی پتنگ

قسط نمبر 14

مصنف: زیاد اصغر زارون

°°°°°°°°°°

نقیب کی لاش بیڈ پر بے حس و حرکت پڑی تھی، جس کا چہرہ خون اور نشے کی سفیدی کے بھیانک ملاپ سے کسی عبرت ناک تصویر کا منظر پیش کر رہا تھا۔ عائشہ، جس کی دنیا چند لمحوں میں اجڑ چکی تھی، بیڈ کے ایک گوشے میں سر جھکائے بیٹھی تھی۔ اس کے رونے کی آواز میں اب وہ شدت نہیں تھی، بلکہ ایک ایسی ہچکی تھی جو تھکن اور آنے والے حالات کے خوف سے بندھ گئی تھی۔
کمرے کے باہر، کرم داد اپنے موبائل کی سکرین پر انگلیاں چلاتا ہوا کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔ اس کے چہرے پر غم سے زیادہ ایک عجیب سی بیزاری تھی، جیسے کوئی ناپسندیدہ بوجھ اس کے کندھوں پر آن پڑا ہو۔

،اس نے ایک نمبر ملایا اور کال اٹھائے جانے پر نہایت سپاٹ مگر فیصلہ کن لہجے میں بولا
“رحم داد! کہاں ہو تم؟”

،دوسری طرف سے آنے والے جواب پر اس نے ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے اطلاع دی
“نقیب فوت ہو گیا ہے۔ اپنی مصروفیات چھوڑو اور فوراً شہر پہنچو۔ وہاں سے کفن اور تدفین کا دیگر ضروری سامان لے آؤ۔”

،رحم داد نے شاید موت کی وجہ پوچھی، جس پر کرم داد نے تلخی سے جواب دیا
وہی ہونا تھا جو طے تھا۔ نشے کی زیادتی سے مرا ہے۔ خود تو جان چھڑا گیا، مگر جیتے جی بھی ذلیل کرتا رہا اور جاتے جاتے بھی ہمیں بڑی مصیبت اور جگ ہنسائی میں ڈال گیا۔”

“خیر، جو ہونا تھا وہ تو ہو گیا۔ اب تم وقت ضائع کیے بغیر سامان لے کر پہنچو۔

کرم داد نے کال منقطع کی اور ایک لمبا سانس بھر کر موبائل دوبارہ کان سے لگا لیا۔ اب وہ باری باری اپنی بہنوں، قریبی عزیزوں اور گاؤں کے معززین کو اطلاع دے رہا تھا۔ ہر کال پر اس کا لہجہ مصلحت آمیز حد تک غمگین ہو جاتا، مگر آنکھیں اب بھی بالکل خشک اور حساب کتاب میں مصروف تھیں۔

،جب وہ ان تمام ظاہری ذمہ داریوں سے فارغ ہوا، تو اس کی نظر پاس ہی کھڑے راشد پر پڑی۔ کرم داد نے آواز دھیمی کی اور راشد کے قریب آ کر سرگوشی کے انداز میں بولا
راشد! نقیب کی میت کی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ تم جانتے ہو نشے کی حالت میں موت کتنی بدصورت ہوتی ہے۔ میرے ساتھ اندر چلو، اس کے یہ خون آلود کپڑے بدلنے ہیں۔”

“لوگوں کے پہنچنے سے پہلے ہمیں اسے تھوڑا سنوارنا ہوگا، ورنہ لوگ باتیں کریں گے کہ چوہدریوں کا بھائی کس حال میں مرا۔
راشد نے خاموشی سے اثبات میں سر ہلایا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ ہمدردی نہیں، بلکہ خاندانی ساکھ کو بچانے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔ دونوں دبے قدموں کمرے میں داخل ہوئے تاکہ دنیا کی نظر پڑنے سے پہلے اس گناہ آلود موت پر مصلحت کی چادر ڈال سکیں۔

°°°°°°°°°°


یہ محض ایک کہانی نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کے چہرے پر پڑی اس دھول کی عکاسی ہے جو اپنوں کے خون میں چھپے سفید زہر کو نمایاں کرتی ہے۔ یہ ایک ایسا سفاک المیہ ہے جس کی جڑیں لالچ اور منافقت کی زمین میں بہت گہری ہیں۔

نقیب کے بھائیوں کے سینوں میں اس کے لیے کبھی محبت کا کوئی گوشہ آباد نہیں رہا تھا۔ ان کی نفرت کا جواز تو نقیب کی نشے میں دھت رہنے کی عادت تھی، مگر اس نفرت کے پیچھے ایک گہرا حسد اور حرص چھپی تھی۔ انہوں نے نقیب کی زندگی میں ہی اس کے حصے کی وراثتی زمین پر غاصبانہ قبضہ جما رکھا تھا اور اسے ایک بوجھ سمجھ کر اپنی زندگیوں سے نکال پھینکا تھا۔
مگر جوں ہی نقیب کی سانسوں کی ڈور ٹوٹی، ان بہن بھائیوں میں ایثار اور محبت کا ایک عجیب مقابلہ چِھڑ گیا۔ کوئی کفن لانے پر بضد تھا تو کسی کی ضد تھی کہ پہلے دن کا کھانا اس کے پلے سے جائے گا۔ یہ تڑپ کسی پچھتاوے یا گناہوں کے ازالے کے لیے نہیں تھی، بلکہ یہ گاؤں والوں کی نظروں میں اپنی جھوٹی ساکھ بچانے کی ایک بھونڈی کوشش تھی۔ انہیں اپنے بھائی کے مرنے کا غم نہیں تھا، انہیں ڈر تھا کہ اگر جنازے پر روپیہ نہ بہایا تو معاشرے میں ان کی ناک کٹ جائے گی۔

اس دکھاوے کی سخاوت کے پیچھے ایک انتہائی مکروہ سوچ بھی کارفرما تھی۔ سبھی بہن بھائی جانتے تھے کہ جو جنازے کے اخراجات میں جتنا زیادہ حصہ ڈالے گا، کل کو نقیب کی بچی کھچی زمین پر اس کا دعویٰ اتنا ہی مضبوط ہوگا۔
یہ منظر کچھ ایسا تھا جیسے فضا میں منڈلاتی ہوئی مردار خور چیلیں کسی نحیف وجود کے گرنے کا انتظار کر رہی ہوں۔ جب تک وہ وجود متحرک رہا، سب دور کھڑی تماشہ دیکھتی رہیں، مگر جیسے ہی وہ ساکت ہوا اور موت نے اسے چھوا، سبھی چیلیں ایک ساتھ اس کے مردہ جسم پر ٹوٹ پڑیں اور ایک دوسرے کو چیخ چیخ کر بتانے لگیں کہ اس گوشت پر سب سے زیادہ حق ان کا ہے۔ نقیب کے بہن بھائی بھی اسی مردار خوری میں مصروف تھے جہاں ہر رشتہ حرص کی بھینٹ چڑھ رہا تھا۔

دوسری جانب عائشہ تھی، جو ان سب تماشوں کے بیچ ایک زندہ لاش بن کر رہ گئی تھی۔ اس کے وجود میں دکھوں کا ایک سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ ایک طرف اس ظالم شوہر کی موت کا صدمہ تھا جس سے اس کی شناخت جڑی تھی، تو دوسری طرف اپنوں سے دوری کا وہ زخم جو کبھی بھرنے والا نہث تھا۔

نقیب کے بہن بھائیوں کی للچائی ہوئی نظریں اسے کسی اندھے کنویں کی گہرائیوں میں دھکیل رہی تھیں۔ وہ خاموش ضرور تھی، مگر اس کا شعور بیدار تھا۔ وہ بخوبی جانتی تھی کہ تعزیت کرنے والوں کو کھلایا گیا ایک ایک نوالہ اور چاول کا ایک ایک دانہ دراصل ایک قرض ہے، جس کی قیمت جلد ہی اس سے وصول کی جائے گی۔ وہ کھانا جو نقیب کے بھائیوں کی جھوٹی شان بڑھا رہا تھا، دراصل عائشہ کے مستقبل کا سودا تھا۔
وہ جانتی تھی کہ یہ لوگ اس سے وہ تاوان مانگیں گے جو اس کے بس سے باہر ہوگا۔ اس آنے والی اذیت اور بھائیوں کی مصلحت آمیز ہمدردی کے بارے میں سوچ کر ہی عائشہ کے وجود میں ایک ایسی جھرجھری دوڑ جاتی تھی جو اسے جیتے جی موت کے احساس سے دوچار کر دیتی تھی۔

°°°°°°°°°°

نقیب کی وفات کو آج ساتواں دن تھا اور اس کے ساتھ ہی تعزیت کے لیے آنے والے لوگوں کی آمدورفت بھی رک گئی۔ وہ گھر، جو کبھی نقیب کے ظلم اور عائشہ کی سسکیوں سے لرزتا تھا، اب ایک ایسی ہولناک خاموشی کی گرفت میں تھا جو تنہائی کے زہر میں بجھی ہوئی تھی۔ دیواریں اب خاموش نہیں تھیں، بلکہ وہ کاٹ کھانے کو دوڑتی تھیں اور عائشہ کو اپنی ہی دھڑکنیں شور محسوس ہوتی تھیں۔

عائشہ نے سر پر کالا اسکارف لپیٹ رکھا تھا، جو اس کی اداسی اور سوگ کا لبادہ بن چکا تھا۔ وہ صحن میں لکڑی کے چولہے کے پاس بیٹھی اپنے لیے روٹی سینک رہی تھی کہ اچانک پگڈنڈی پر اسے نقیب کے دونوں بھائی اور ان کی بیویاں اپنی طرف آتی دکھائی دیں۔ انہیں دیکھ کر عائشہ کے ہاتھ رک گئے۔ اس نے کچی پکی روٹی ہی چولہے سے اتار لی اور لرزتے ہاتھوں کو دوپٹے سے پونچھتی ہوئی کھڑی ہوگئی۔
آئیے بھائی جان!” اس نے دبی آواز میں انہیں اندر آنے کا اشارہ کیا۔”

کرم داد اور رحم داد نے اسے ایک ایسی پرکھتی اور سرد نگاہ سے دیکھا جیسے وہ کوئی انسان نہیں بلکہ اس زمین کا ایک بوجھ ہو جسے جلد ہی اتارنا مقصود ہو۔ وہ خاموشی سے کمرے میں چلے گئے اور عائشہ کے دل میں ایک خوفناک دھڑکا پیدا ہوا۔ اس نے زیرِ لب “اللہ خیر” کہا اور اپنی ہمت مجتمع کر کے ان کے پیچھے کمرے میں داخل ہوگئی۔

کمرے میں فضا کسی عدالت جیسی بوجھل تھی۔ کرم داد نے رحم داد کی طرف دیکھا اور پھر براہِ راست عائشہ پر وار کیا۔
“،بیٹا! بات یہ ہے کہ ہمارا بھائی رخصت ہو گیا اور اس کے پیچھے کوئی اولاد بھی نہیں جو تمہارا یہاں ٹھہرنے کا جواز بنے۔ تم ابھی جوان ہو، تمہاری پوری زندگی تمہارے سامنے ہے”

“کرم داد نے مصلحت کی چادر میں لپٹا ہوا زہر اگلنا شروع کیا۔ “اب تمہارے لیے یہ مناسب نہیں کہ اس گھر میں اکیلی رہو۔ بہتر یہی ہے کہ تم اپنے والدین کے گھر واپس چلی جاؤ۔

عائشہ کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔

والدین کا گھر؟ بھائی جان! آپ جانتے ہیں کہ میں نقیب کے لیے سب کچھ پیچھے چھوڑ آئی تھی۔ میں نے تو واپسی کے تمام پل خود اپنے ہاتھوں سے جلا دیے تھے۔”

“میں اب وہاں کس منہ سے جاؤں گی؟ میں یہیں نقیب کی یادوں کے سہارے زندگی کٹ لوں گی۔

،رحم داد کے لبوں پر ایک زہریلی مسکراہٹ آئی

“تو بی بی! اس میں ہمارا کیا قصور ہے؟ اپنی مرضی سے بھگوڑی بنی تھی نا، اب بھگتو۔”

،کرم داد نے اسے ٹوکا، مگر اس کے اپنے الفاظ بھی کسی خنجر سے کم نہیں تھے
“دیکھو عائشہ! ہم تمہیں یہاں نہیں رکھ سکتے۔ پرسوں تک اپنے جانے کا بندوبست کر لو۔”

،عائشہ کی آنکھوں میں آنسوؤں کا سمندر امڈ آیا۔ وہ بھاگ کر کرم داد کے پیروں میں بیٹھ گئی

“بھائی! خدا کے لیے ایسا مت کریں۔ میں کہاں جاؤں گی؟ میں مر جاؤں گی۔ ابھی تو میری عدت بھی پوری نہیں ہوئی، مجھے کم از کم عدت تو اسی چھت تلے پوری کر لینے دیں۔”

،کرم داد نے اپنی بیوی سے نظروں ہی نظروں میں مشورہ کیا اور پھر ٹھوس لہجے میں اپنا آخری فیصلہ سنایا
“ٹھیک ہے، اپنی عدت یہاں پوری کر لو، لیکن جیسے ہی یہ مدت ختم ہوگی، تمہیں یہ کٹیا خالی کرنی ہوگی۔”

وہ چاروں کسی فاتح کی طرح کمرے سے باہر نکل گئے اور پیچھے رہ گئی وہ بے بس و لاچار عائشہ جس کے سر سے اب اس چھت کا سایہ بھی چھن چکا تھا جس نے اسے برسوں تشدد تو دیا تھا مگر ایک شناخت بھی دی تھی۔ وہ اب اس معاشرے میں صحیح معنوں میں لاوارث ہو چکی تھی۔ ایک ایسی عورت جس کے پاس نہ جینے کا کوئی سہارا تھا اور نہ ہی سر چھپانے کی کوئی جگہ۔ اسے لگ رہا تھا کہ نقیب کی موت نے اسے قید سے آزاد نہیں کیا، بلکہ اسے ایک ایسی کھلی بستی میں پھینک دیا ہے جہاں ہر طرف درندے اس کی بے بسی کا تماشہ دیکھنے کے لیے تیار کھڑے ہیں۔

°°°°°°°°°°

عدت کی ان طویل اور صبر آزما ساعتوں میں عائشہ کی زندگی ایک ایسے چراغ کی مانند تھی جس کا تیل تیزی سے ختم ہو رہا تھا۔ نقیب کی وفات پر جو خواتین تعزیت کے لیے آتی تھیں، وہ ہمدردی اور ترس کے نام پر کچھ پیسے عائشہ کے ہاتھ میں تھما جاتیں۔ عائشہ کے لیے یہ رقم کوئی خیرات نہیں، بلکہ اس کی بقا کا واحد ذریعہ تھی۔ وہ ان پیسوں کو نہایت کفایت شعاری سے خرچ کرتی رہی، ایک ایک نوالے کو گن کر کھاتی، مگر وقت کی بے رحم گردِش کے ساتھ وہ حقیر سی جمع پونجی بھی ریت کی طرح ہاتھوں سے پھسل رہی تھی۔

عائشہ کے دن خوف اور راتیں اضطراب میں گزر رہی تھیں۔ ایک طرف پیٹ کی آگ تھی جو بجھنے کا نام نہیں لیتی تھی اور دوسری طرف نقیب کے بھائیوں کی دی ہوئی وہ ہولناک وارننگ تھی جو کسی زہریلے ناگ کی طرح اس کے گرد گھیرا تنگ کر رہی تھی۔ اسے احساس تھا کہ یہ دیواریں، جنہوں نے برسوں اس کے آنسوؤں اور سسکیوں کو جذب کیا تھا، اب اس کے لیے اجنبی ہونے والی ہیں۔ جوں جوں عدت کے دن اختتام کی طرف بڑھ رہے تھے، اس کی بے چینی ایک ایسی وحشت میں بدل رہی تھی جو انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔

دوسری جانب نقیب کے بھائیوں کا حال یہ تھا کہ وہ کسی شکاری کی طرح اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ ان کی نظریں عائشہ کے دکھ پر نہیں، بلکہ اس مکان اور زمین کے ٹکڑے پر جمی تھیں جو نقیب کے مرنے کے بعد ان کے نزدیک اب ان کی جاگیر تھا۔
ان کے لیے اس بات کی کوئی اہمیت نہیں تھی کہ عدت کے بعد عائشہ کہاں جائے گی۔ وہ کسی طوائف خانے کی بھینٹ چڑھے، سڑکوں پر بھیک مانگے یا بھوک سے دم توڑ دے۔ ان کے نزدیک عائشہ ایک ایسا کانٹا تھی جسے وراثت کے راستے سے نکال پھینکنا ہی ان کا واحد مقصد تھا۔

وقت کسی کے لیے نہیں رکتا، اور نہ ہی دکھوں کی شدت اسے دھیما کر پاتی ہے۔ دن مہینوں میں ڈھلے اور آخرکار عدت کے وہ تین ماہ، جو عائشہ کے لیے ایک عارضی ڈھال تھے، اپنے اختتام کو پہنچ گئے۔ آج آخری دن تھا اور اس کے بعد اسے وہاں سے جانا تھا، کہاں جانا تھا، یہ اسے بھی پتا نہیں تھا۔ اب عائشہ اس معاشرے کے سامنے بالکل تنہا اور لاچار کھڑی تھی۔ اس کے پاس نہ اب کوئی شرعی عذر باقی تھا اور نہ ہی کوئی انسانی سہارا۔ وہ اس دہلیز پر کھڑی تھی جس کے پار صرف اندھیرا اور درندوں کی بستی تھی۔

°°°°°°°°°°

ابھی سپیدہ سحر نے پوری طرح آنکھ بھی نہ کھولی تھی اور عائشہ نیند کی وادیوں میں گم تھی کہ اچانک ایک کریہہ اور بھدے شور نے اس کے اعصاب کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یہ ٹریکٹر کے انجن کا وہ لرزہ خیز ارتعاش تھا جو کسی ہولناک افتاد کا پتہ دے رہا تھا۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھی، لرزتے ہاتھوں سے سر پر چادر اوڑھی اور بدحواسی کے عالم میں باہر نکلی تو سامنے کا منظر دیکھ کر اس کے قدم منوں بوجھل ہو گئے۔
صحن کے بالکل وسط میں، کمرے کی دہلیز سے جوڑ کر ایک ٹرالی ریورس کی جا رہی تھی۔ ٹریکٹر کا دھواں فضا میں زہر گھول رہا تھا۔ ڈرائیور کسی جلاد کی سی پھرتی سے نیچے اترا، جبکہ سامنے کرم داد اور رحم داد اپنی بیویوں کے ہمراہ ایک فاتحانہ مگر سفاکانہ تیور لیے کھڑے تھے۔

“عائشہ بے یقینی کے عالم میں آگے بڑھی، اس کا سانس پھول رہا تھا۔ “بھائی صاحب! یہ سب کیا ہے؟ یہ ٹریکٹر یہاں کیوں لائے ہیں؟

“کرم داد نے ایک سرد اور مصلحت آمیز نگاہ اس پر ڈالی اور بے حسی سے بولا، “کل تمہیں یہاں سے نکلنا ہے، اسی لیے ہم اپنے بھائی کا سارا سامان سمیٹنے آئے ہیں۔

یہ سنتے ہی عائشہ کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ اس نے تو بڑی مشکل سے ایک خاتون کے ذریعے فرنیچر کا سودا طے کر رکھا تھا تاکہ کچھ رقم ہاتھ آ جائے اور در بدر کی ٹھوکریں کھاتے وقت کچھ سہارا میسر ہو، مگر یہاں تو نقیب کے بھائی اسے جیتے جی کفن سے بھی محروم کرنے پر تلے تھے۔

“!بھائی! یہ نقیب کا نہیں، میرا ذاتی سامان ہے۔ میں اسے لے جانے نہیں دوں گی”

کیوں بی بی! کیا یہ سب جہیز میں لائی تھی؟” رحم داد کے لہجے میں زہر ہی زہر تھا۔”

میں جب آئی تھی، تو میرے پاس میرا زیور اور نقدی تھی، یہ سب اسی سے خریدا گیا ہے۔ یہ میرا حق ہے!” عائشہ تنک کر بولی۔”

:کرم داد کی گرج دار آواز نے اسے خاموش کرانے کی کوشش کی

“کیسا زیور اور کیسی نقدی؟ بھگوڑی عورتیں صرف تن پر ایک جوڑا لے کر آتی ہیں۔ تمہارا حق صرف اتنا ہے جتنا تمہارے وجود پر موجود ہے، اس کے علاوہ یہاں تمہارے لیے کچھ نہیں۔”
“!جیسے ہی رحم داد نے کمرے کی طرف قدم بڑھائے، عائشہ ایک آخری کوشش کے طور پر دروازے پر بازو پھیلا کر ڈھال بن گئی۔ “خبردار! کوئی آگے نہ بڑھے

مقتدر اور طاقتور رحم داد کے سامنے اس نحیف و نزار جان کی کیا بساط تھی؟

اس نے وحشت کے عالم میں عائشہ کو بازو سے دبوچا اور ایک ہی جھٹکے سے پرے صحن کی مٹی پر دے مارا۔

“ہم نے سوچا تھا تمہیں عزت سے رخصت کریں گے، مگر شاید تمہیں ذلت ہی راس ہے۔”

عائشہ تڑپ کر اٹھی اور دوبارہ کمرے کی طرف لپکی، مگر اس سے پہلے کہ وہ اندر داخل ہوتی، رحم داد کے الٹے ہاتھ کا ایک بھرپور تھپڑ اس کے گال پر رسید ہوا۔ ضرب اتنی شدید تھی کہ عائشہ کے کانوں میں سائیں سائیں ہونے لگی اور گال پر سرخ لکیریں ابھر آئیں۔ وہ دھڑام سے زمین پر گری اور سسکیوں کے درمیان انہیں بددعائیں دینے لگی۔

“کرم داد نے غصے سے بھری نظر اس پر ڈالی اور اپنی بیوی کی طرف دیکھ کر گرجا، “نکالو اسے یہاں سے! منہ کیا دیکھ رہی ہو؟

دونوں کی بیویاں کسی شکاری کی طرح آگے بڑھیں اور عائشہ کو بازوؤں سے پکڑ کر زمین پر گھسیٹتے ہوئے گھر کی حدود سے باہر لے جانے لگیں۔ وہ مزاحمت کر رہی تھی، چیخ رہی تھی، مگر ان درندوں کے دلوں میں رحم کی کوئی رمق باقی نہیں تھی۔ انہیں نہ خدا کا خوف تھا اور نہ ہی اس بات کا پاس کہ ان کے اپنے گھروں میں بھی بیٹیاں جوان ہو رہی ہیں۔

عائشہ کو گھر سے دور کھیت کی ایک ویران پگڈنڈی پر لاوارث چھوڑ دیا گیا۔ اس نے اب مزاحمت چھوڑ دی تھی۔ اس کے آنسو خشک ہو چکے تھے اور وہ محض بے بسی سے اپنی بربادی کا تماشہ دیکھ رہی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ فریاد انسانوں سے کی جاتی ہے اور آنسو انسانیت کو تڑپاتے ہیں۔ ان حیوانوں کے سامنے گڑگڑانا فضول تھا۔
نقیب کے بھائیوں نے تو ظلم کی انتہا کر دی۔ عائشہ کے جوتے اور اضافی کپڑے تک نہ چھوڑے، سب کچھ ہی اپنی ملکیت اور مالِ غنیمت سمجھ کر سمیٹ لیا۔
کھیتوں میں کام کرتے لوگ اور تھوڑی دور گاؤں کی چھتوں پر کھڑے تماشائی یہ سب دیکھ رہے تھے، مگر ہمارے معاشرے میں ظلم کے خلاف بولنے والے اب شاید ختم ہوچکے ہیں۔ سب نے اپنے ضمیر کی آواز کو بے بسی کے لبادے میں چھپا لیا تھا۔
جب ٹرالی سامان سے لد گئی، تو انہوں نے دونوں کمروں پر بھاری تالے لٹکا دیے۔ یہ اس بات کا واضع اعلان تھا کہ اب عائشہ کے لیے اس گھر کی دہلیز پار کرنا ممنوع ہے۔
کرم داد اور رحم داد نے ایک آخری حقارت آمیز نظر اس لاچار وجود پر ڈالی اور گرد اڑاتے ہوئے وہاں سے رخصت ہو گئے، عائشہ کو ایک ایسی ویرانی میں چھوڑ کر جس کا اب کوئی وارث نہیں تھا۔

°°°°°°°°°°

سورج کی شدت جب کم ہوئی اور سائے طویل ہونے لگے، تو عائشہ کی اُمید کا سورج بھی ہمیشہ کے لیے ڈوب گیا۔ وہ سارا دن گھر کی دہلیز پر اس ساکت پتھر کی طرح پڑی رہی جس پر زمانے کی ٹھوکریں بھی اب اثر نہیں کرتی تھیں۔ دوپہر کے وقت جب نقیب کے بھائیوں نے اس کے گھر کا ایک ایک تنکا ٹرالی میں لاد لیا اور اسے ایک خالی کھنڈر کی مانند چھوڑ کر چلے گئے، تو وہ کسی ہاری ہوئی شہزادی کی طرح کچے صحن پر آن بیٹھی۔
دوپہر سے شام ہو گئی، آسمان کے رنگ سنہری سے اودے اور پھر سیاہ پڑے، مگر عائشہ کی نظریں گاؤں کی پگڈنڈی پر جمی رہیں۔ اسے لگ رہا تھا کہ شاید اس بستی کی غیرت ابھی مری نہیں ہے، شاید کوئی بزرگ آگے بڑھے گا، کوئی نقیب کے بھائیوں کے گریبان پر ہاتھ ڈالے گا اور پوچھے گا کہ “ایک بیوہ کا سر ڈھانپنے والی چھت چھینتے ہوئے تمہیں رب کا خوف نہ آیا؟”
مگر جوں جوں وقت گزرتا گیا، یہ اُمید ایک سراب ثابت ہوئی۔ وہ غلط دنیا میں غلط لوگوں سے انسانیت کی بھیک مانگ رہی تھی، جہاں ضمیر مر چکے تھے اور مصلحتوں نے زبانوں پر تالے لگا دیے تھے۔

جب اندھیرا مکمل طور پر اس کے وجود کو نگل گیا، تو عائشہ نے صحن کی ننگی زمین پر ہی بستر جما لیا۔ اس کے پاس اب نہ کوئی چادر تھی، نہ تکیہ۔ اس نے مٹی کو بچھونا بنایا اور اپنی ہی تھکی ہاری، لرزتی ہوئی کلائی کو سرہانے کے طور پر استعمال کیا۔ آسمان پر ستارے شاید اس کی بے بسی پر نوحہ کناں تھے، مگر وہ ساکت پڑی بس خدا سے محوِ گفتگو تھی۔
خاموشی ایسی کہ اس کے آنسوؤں کے گرنے کی چاپ بھی سنائی دے رہی تھی۔

،اس نے لرزتے ہوئے اپنے آنسو پونچھے اور دل کی گہرائیوں سے اپنے خالق کو پکارا
یا اللہ! میں بے بس ہو گئی ہوں، مگر میں تجھ سے خفا نہیں ہوں۔ تُو تو میرا کریم رب ہے، میں تو خود اپنے آپ سے غصہ ہوں۔”

“…آج میں جس ذلت کی خاک چھان رہی ہوں، اس کی ذمہ دار میں خود ہوں۔ میں یہ کبھی نہیں کہوں گی کہ میری غلطی اس سزا سے چھوٹی تھی
،اس کی ہچکی بندھ گئی۔ اس نے گرد آلود اسکارف سے آنکھیں ملیں اور دوبارہ گویا ہوئی
“…کیونکہ میں نے خود کو ایک ظالم کے سپرد کر دیا تھا۔ میں نادان تھی جو اپنے خیر خواہوں کو پہچان نہ سکی۔ میں نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنی پناہ گاہ جلا دی۔ پر اب”
عائشہ کی آواز دم توڑنے لگی، جیسے روح جسم کا ساتھ چھوڑ رہی ہو۔
پر میں تھک گئی ہوں یا رب! مجھ میں مزید ٹھوکریں سہنے کی سکت نہیں رہی۔ مجھے سمیٹ لے نا مولا! مجھے اپنی پناہ میں لے لے۔”

اگر تُو بھی نہیں سنے گا تو میں کس کے در پر جاؤں گی؟

” اس پوری کائنات میں تیرے سوا میرا کوئی نہیں ہے۔ بس مجھے اپنی رحمت کی چادر میں ڈھانپ لے، میں ان درندوں کی بستی میں مزید نہیں رہنا چاہتی۔

وہ زار و قطار روتی رہی، یہاں تک کہ اس کی ہچکیاں اس کے وجود کو لرزانے لگیں۔ وہ ساری رات اسی طرح بکھری ہوئی، ٹوٹے ہوئے خوابوں اور ادھورے لفظوں کے ساتھ خدا سے باتیں کرتی رہی۔ اس سیاہ اندھیری رات میں، جب پوری دنیا خوابِ خرگوش کے مزے لے رہی تھی، عائشہ کی فریادیں عرش کا طواف کر رہی تھیں۔
پھر اچانک، اس کے وجود پر ایک انوکھی سی سکون بھری نیند طاری ہونے لگی۔ شاید اس کے رب نے اس کی تھکن دیکھ لی تھی۔ اسے پتہ ہی نہ چلا کہ کب اس کی بوجھل آنکھیں موند گئیں اور وہ اس کچی زمین پر ہی سو گئی۔ خدا نے اس پر نیند کا غلبہ اس طرح طاری کیا جیسے ایک ماں اپنی روتی ہوئی بچی کو تھپک کر سلا دیتی ہے۔ وہ سو گئی اور اس کے سوتے ہوئے چہرے پر پھیلی زردی اب ایک مقدس سکون میں بدل چکی تھی، جیسے وہ ان درندوں سے دور کسی محفوظ جہاں میں پہنچ گئی ہو۔

°°°°°°°°°°

عائشہ اس کچی مٹی کی آغوش میں اب بھی محوِ خواب تھی، جب فجر کی پہلی اذان کی صدا فضا میں بلند ہوئی۔ پرندوں کی چہچہاہٹ اور مؤذن کی پکار نے جب اسے نیند کی وادیوں سے واپس بلایا، تو اس کے ماتھے پر پسینہ نہیں، بلکہ ایک عجیب و غریب اطمینان رقص کر رہا تھا۔ یہ وہ سکون تھا جو مادی سہاروں کے چھن جانے کے بعد صرف رب کی جانب سے عطا ہوتا ہے۔

،اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے خدا نے خود اسے تھپک کر کہا ہو
“جا اے میری بندی! میں تجھ سے راضی ہوں، تیرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا، اب تیرے آنسوؤں کا حساب میں دوں گا۔”

وہ دھیمے سے اٹھی، جیسے کسی مقدس عبادت کے لیے تیار ہو رہی ہو۔ ٹھنڈے پانی سے وضو کیا تو اس کی رگوں میں ایک تازی دم لہر دوڑ گئی۔ جائے نماز میسر نہیں تھی، مگر وہ کچی زمین اب اس کے لیے مقدس مقام بن چکی تھی۔ وہ وہیں خاک پر سرِ بسجود ہو گئی۔ اس کے سجدے اتنے طویل تھے کہ زمین اس کی سسکیوں سے لرزنے لگی۔
سلام پھیرنے کے بعد اس نے اپنے خالی ہاتھ پھیلا دیے۔ الفاظ نہیں تھے، بس آنکھوں سے بہتا پانی تھا جو رب کی بارگاہ میں اپنی داستان سنا رہا تھا۔
جوں جوں مشرق سے پو پھوٹ رہی تھی اور آسمان نے سیاہ چادر اتار کر اجالا اوڑھا، عائشہ کے دل میں چھپا خوف بھی مٹتا چلا گیا۔

سورج کی پہلی کرن نے مقفل مکان کے تالوں کو چھوا تو عائشہ اٹھ کھڑی ہوئی۔

اس نے ایک بار پھر اپنے خاک آلود کپڑے جھاڑے، چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے اور اس دہلیز کی طرف دیکھا جس نے اسے برسوں لہو لہان کیا تھا۔

،اس کی آواز میں ایک عزم اور لرزش تھی جب اس نے اپنے وجود کو اللہ کے سپرد کیا
“اے میرے رب! اب تیری عائشہ تیرے حوالے۔۔۔ بس میری عزت اور عصمت کی حفاظت کرنا۔”
اتنا کہہ کر اس نے اس مکان کی طرف سے پیٹھ موڑ لی۔ وہ مقفل دروازہ، وہ ویران آنگن اور وہ سسکتی دیواریں اب اس کے لیے قصہِ پارینہ بن چکی تھیں۔ اس نے خاموشی سے کھیتوں کی پگڈنڈی پر قدم رکھ دیا۔

عائشہ کی مثال اس وقت ایک کٹی پتنگ جیسی تھی، جس کی تقدیر کا فیصلہ اب ہواؤں کے رحم و کرم پر تھا۔
جب تک وہ گھر میں رہی، اس کے سر پر تحفظ کا سائبان تھا، وہ آسمان کی بلندیوں پر اڑ رہی تھی۔
اس نے اپنی نادانی میں اس ڈور کو طوق سمجھا اور اسے جھٹکے سے توڑ دیا۔
ڈور ٹوٹتے ہی وہ کٹی پتنگ کسی آوارہ کے ہتھے چڑھ گئی۔ نقیب نے اسے مسلا، اس کے رنگ چھینے اور آخر میں اسے بے یار و مددگار چھوڑ کر خود عدم کی راہ لی۔
اب وہ بے سمت، بے منزل اور لاوارث کٹی پتنگ زمانے کی تند و تیز ہواؤں کے سامنے کھڑی تھی۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ اگلا موڑ اسے کس کھائی میں گرائے گا یا کس شاخ پر پناہ دے گا۔ اس کے سامنے صرف پھیلی ہوئی کچی پگڈنڈیاں تھیں اور پیچھے ایک دھواں بنتی زندگی۔ مگر اس کے قدموں میں ایک ٹھہراؤ تھا، کیونکہ اب اس کی ڈور کسی انسان کے نہیں، بلکہ خدا کے ہاتھ میں تھی۔

°°°°°°°°°°

عائشہ کے قدموں میں تھکن تھی، مگر روح میں ایک عجیب سا ارتعاش تھا۔ وہ بمبلی گاؤں کی حدود سے نکل چکی تھی، جہاں اس کی زندگی کے کئی سال ظلم کی نذر ہوئے تھے۔ ایک طرف زمانے کی بے رحم درندگی کا ہولناک خوف اسے گھیر رہا تھا، تو دوسری طرف لاوارث ہونے کی وہ تیکھی اذیت تھی جو انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ کل صبح سے اس کے پیٹ میں اناج کا ایک دانہ تک نہیں گیا تھا۔ بھوک اس کی انتڑیوں میں آگ لگا رہی تھی، مگر خدا پر توکل کی دولت اس کی ہمت بندھائے ہوئے تھی۔

کچی پگڈنڈی ختم ہوئی تو سامنے سیاہ تارکول کی چوڑی سڑک پھیلی ہوئی تھی، جو کسی اژدھے کی مانند لامتناہی معلوم ہوتی تھی۔ عائشہ نے ایک لمبا سانس لیا اور اپنے نڈھال قدم آگے بڑھا دیے۔ اس کے پاس نہ کوئی رختِ سفر تھا اور نہ ہی کوئی سہارا، بس ایک موہوم سی امید تھی کہ اس کائنات کے کسی کونے میں شاید اسے سنبھالنے والا کوئی موجود ہو۔
اس کے ذہن میں عامر کا عکس ابھرا۔ وہ شخص جو ایک طوفانی رات میں کسی فرشتے کی طرح اس کی زندگی میں آیا تھا اور اس مقتل نما گھر کی دہلیز پر ہمدردی کا ایک دیا جلا گیا تھا۔ مگر عائشہ کا دل وسوسوں سے بھی خالی نہیں تھا۔ وہ سوچتی۔
کیا وہ واقعی مختلف ہے؟ وہ بھی تو نقیب کا ہی دوست تھا۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ بھی ظلم کا کوئی نیا باب لکھنے والا ہو؟”

“کیا میری عزت وہاں محفوظ رہے گی یا وہ بھی درندہ ثابت ہوگا؟

مگر ان تمام خدشات کے باوجود، اس کے پاس واپسی کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ اسے ہر حال میں آگے بڑھنا تھا، کیونکہ پیچھے صرف موت اور ذلت کے سائے تھے۔

اس کا رخ پھالیہ شہر کی طرف تھا، وہ شہر جو اس کے لیے ایک انجان دنیا کا دروازہ تھا۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ سرائے عالمگیر کس سمت میں ہے، وہاں تک پہنچنے کے لیے کتنے کوس کا فاصلہ طے کرنا ہے یا کون سی گاڑی اسے منزل تک لے جائے گی۔ اس کی جیب خالی تھی، کرائے کے لیے ایک ٹکا تک میسر نہیں تھا، مگر اس کے سینے میں ایک اٹل یقین دھڑک رہا تھا۔ اسے یقین تھا کہ اگر اس دنیا میں درندے بستے ہیں، تو کہیں نہ کہیں اللہ والے بھی موجود ہوں گے۔ کوئی تو ایسا ہوگا جو اسے بے لوث ہو کر، محض خدا کی رضا کے لیے منزل تک پہنچا دے گا۔

اس نے تہیہ کر لیا تھا کہ اگر کسی نے لفٹ نہ بھی دی، تو وہ اپنے ان چھالوں بھرے پیروں سے ہی سرائے عالمگیر تک کا فاصلہ ناپ لے گی۔ اسے یقین تھا کہ شام ڈھلنے سے پہلے وہ پہنچ جائے گی۔ اسے علم نہیں تھا کہ اس کی زندگی کی کتاب میں ابھی کتنی ٹھوکریں لکھی ہیں، یا اسے کتنے مزید امتحانوں سے گزرنا ہے۔
وہ بس چل رہی تھی اور چلے جا رہی تھی۔ سڑک کے کنارے کھڑے درخت اسے خاموش تماشائیوں کی طرح دیکھ رہے تھے، اور وہ اپنی چادر میں خود کو سمیٹے، نظریں جھکائے، ایک نامعلوم مستقبل کی طرف رواں دواں تھی۔

°°°°°°°°°°

…جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *