ناول: وارث کون

باب سوم: کٹی پتنگ

قسط نمبر 15

مصنف: زیاد اصغر زارون

°°°°°°°°°°

پھالیہ کے لاری اڈے پر سورج کی گرمی اب پیر جمانے لگی تھی اور نو بجے کی چہل پہل اپنے عروج پر تھی۔ عائشہ، جو برسوں ایک بند کمرے کی قید اور تشدد کے سائے میں رہی تھی، آج اس ہجوم کے بیچ خود کو بالکل نہتا اور اجنبی محسوس کر رہی تھی۔ جب وہ گھر سے بھاگی تھی، تب نقیب کی صورت میں ایک محافظ کا دھوکہ ساتھ تھا، مگر آج تو وہ اپنے سائے سے بھی ڈر رہی تھی۔ نہ پاس زادِ سفر تھا اور نہ ہی منزل کا کوئی واضع نقشہ۔

عائشہ تھکن اور بھوک سے نڈھال، قدم گھسیٹتی ہوئی ایک ویگن کے پاس پہنچی۔

،گرد و غبار اور ڈیزل کے دھوئیں میں بسی اس فضا میں اس نے ہمت مجتمع کی اور دبی آواز میں پوچھا
“بھائی! سرائے عالمگیر جانا ہے۔”
کنڈکٹر نے اسے سر سے پاؤں تک ایک کٹیلی اور پرکھتی نظر سے دیکھا۔ اس کی نظروں میں عورت کے لیے احترام سے زیادہ ایک پیشہ ورانہ بے حسی تھی۔ “بی بی! سرائے عالمگیر کی براہِ راست گاڑی تو دوپہر کے بعد ملے گی۔ ابھی جانا ہے تو منڈی بہاؤ الدین کی گاڑی میں بیٹھو، وہاں سے آگے ہر آدھے گھنٹے بعد سرائے عالمگیر کی سواری مل جائے گی۔” اس نے بے نیازی سے ایک طرف اشارہ کیا اور آواز بلند کر کے دوبارہ سواریاں گھیرنے لگ گیا۔

عائشہ منڈی بہاؤ الدین کے لیے کھڑی ایک ویگن کی طرف بڑھی۔ کنڈکٹر نے دور سے ایک تنہا عورت کو آتے دیکھا تو لپک کر پاس آیا، “آئیں باجی! منڈی جانا ہے نا؟ بیٹھیں بیٹھیں، ابھی گاڑی نکلنے والی ہے۔” اس نے بڑے تپاک سے عائشہ کو ایک نشست پر بٹھا دیا۔

گاڑی میں مسافر بھرتے جا رہے تھے اور عائشہ کا دل کسی بجتے ہوئے نقارے کی طرح اس کے سینے سے ٹکرا رہا تھا۔ اسے اس لمحے کا خوف تھا جب کرایہ مانگا جائے گا۔ جب گاڑی بھر گئی اور نکلنے کا وقت قریب آیا، تو کنڈکٹر نے نوٹوں کی گڈی ہاتھ میں سنبھالی اور کرایہ اکٹھا کرنا شروع کیا۔
“ہاں جی باجی! کرایہ دیں،” وہ عائشہ کے سامنے آ کر رک گیا۔
“عائشہ نے نظریں جھکا لیں، اس کے ہونٹ کپکپا رہے تھے۔ “وہ۔۔۔ بھائی! میرے پاس کرایہ نہیں ہے۔

یہ سنتے ہی کنڈکٹر کے ماتھے پر بل پڑ گئے اور اس کا باجی والا لہجہ چشم زدن میں زہریلے ناگ کی پھنکار میں بدل گیا۔ “اگر کرایہ نہیں تھا تو شاہزادی بن کر گاڑی میں بیٹھی کیوں تھی؟ چلو نیچے اترو۔” اس نے غصے سے چلاتے ہوئے کہا۔

بھائی! خدا کے لیے ایسا نہ کریں، مجھے منزل تک پہنچا دیں…” عائشہ کے لہجے میں آنسوؤں کی نمی گھل گئی۔”

“!اترتی ہو یا دھکے مار کر نکالوں؟ پتہ نہیں کہاں کہاں سے آ جاتے ہیں بھکاری کہیں کے”

کنڈکٹر کا زہر خند لہجہ عائشہ کے گرد بنے اس بھرم کو چاک کر گیا جو وہ انسانیت کے بارے میں لے کر نکلی تھی۔

گاڑی میں بیٹھے مسافروں میں سے کسی نے اس تذلیل پر آواز نہ اٹھائی۔ کچھ کی آنکھوں میں ترس تھا، کچھ کے چہروں پر بیزاری، مگر خاموشی سب کا مقدر تھی۔ عائشہ جب لرزتے قدموں سے ویگن سے نیچے اتر رہی تھی، تو پاس ہی کھڑی ایک دوسری ویگن کا ڈرائیور وہاں پہنچ گیا۔
“اوئے! کیا ہوا؟ کیوں غریب پر چلا رہے ہو؟” اس نے کنڈکٹر کو ٹوکا۔

دیکھو یار! کرایہ پلے نہیں ہے اور ویگن میں آ کر بیٹھ گئی،” کنڈکٹر نے حقارت سے تھوکا۔”

تھوڑی شرم کرو! کبھی کبھار کوئی مسافر ایسا بھی ہوتا ہے جس کی جیب خالی ہوتی ہے۔”

اگر کبھی کسی کو فی سبیل اللہ منزل پر پہنچا دو گے تو تمہارا رزق کم نہیں ہو جائے گا،” ہمدرد ڈرائیور نے سختی سے جواب دیا۔

“کنڈکٹر نے غصے سے گاڑی کا گیٹ بند کیا اور بڑبڑایا، “بڑا ہمدرد بنتا ہے تو خود لے جا اپنی گاڑی میں، میرا دماغ نہ چاٹ۔

ڈرائیور نے عائشہ کی طرف دیکھا، اس کی آنکھوں میں وہ شفقت تھی جو کسی باپ یا بھائی کی ہوتی ہے۔ “آپ پریشان نہ ہوں باجی! آپ میری گاڑی میں بیٹھیں۔ اگلا نمبر میرا ہے، میں آپ کو بخیریت پہنچا دوں گا۔” اس نے نہایت نرمی سے عائشہ کو اپنی گاڑی کی ایک محفوظ نشست پر بٹھایا۔

“عائشہ نے نم آنکھوں سے شکریہ ادا کیا، “جزاک اللہ بھائی! اللہ آپ کو خوش رکھے۔

ڈرائیور نے اسے ایک گہری نظر سے دیکھا، شاید اس نے عائشہ کے زرد چہرے اور خشک ہونٹوں سے اس کی نقاہت کو بھانپ لیا تھا۔ “باجی! آپ نے صبح سے کچھ کھایا بھی ہے یا نہیں؟” عائشہ نے جواب میں صرف نفی میں سر ہلا دیا، اس کا گلا رندھ چکا تھا۔

وہ ڈرائیور کچھ کہے بغیر تھوڑی دیر کے لیے غائب ہوا اور جب لوٹا تو اس کے ہاتھ میں بسکٹ کا ایک پیکٹ اور جوس کا ڈبہ تھا۔ اس نے وہ چیزیں عائشہ کے ہاتھ میں تھمائیں، جیسے کوئی بھائی اپنی بہن کا خیال رکھتا ہے۔ عائشہ کے کانپتے ہاتھوں نے وہ کھانا تھاما تو اسے لگا جیسے اللہ نے اس کی خاموش دعا سن لی ہو۔
شکریہ بھائی!” اس نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔”
“کوئی بات نہیں بہن! اللہ آپ کی منزل آسان کرے۔”

ڈرائیور نے مسکرا کر کہا اور مسافروں کو آوازیں لگانے لگا۔ عائشہ کے لیے اب وہ سڑک اتنی ڈراؤنی نہیں تھی۔ اسے احساس ہو گیا تھا کہ جہاں نقیب اور اس کے بھائیوں جیسے درندے بستے ہیں، وہاں اب بھی اللہ کے وہ بندے موجود ہیں جن کے دلوں میں انسانیت کا نور باقی ہے۔

°°°°°°°°°°

پھالیہ سے منڈی بہاؤالدین تک کا وہ سفر عائشہ کے لیے محض ایک مسافت نہیں بلکہ ماضی سے جڑی زنجیروں کے ٹوٹنے کا عمل تھا۔ ویگن کی کھڑکی سے باہر تیزی سے پیچھے چھٹتے ہوئے درخت اور بستیاں اسے یاد دلا رہے تھے کہ وہ اب اس شہر سے بہت دور جا رہی ہے جہاں اس کی جوانی کے بہترین سال ایک درندے کے قدموں تلے کچلے گئے تھے۔ مگر یہ آزادی کتنی مہنگی ثابت ہونے والی تھی، اس کا اندازہ اسے منڈی بہاؤالدین کے بس اڈے پر اترتے ہی ہو گیا۔

ویگن سے اتر کر عائشہ نے اس خدا ترس ڈرائیور کا دل سے شکریہ ادا کیا جس نے اسے بھوک میں کھانا اور سفر میں سہارا دیا تھا۔ اڈے کے شور و غل اور دھول مٹی میں کھڑے ہو کر اس نے ایک بار سوچا کہ کاش وہ اس نیک انسان کو اپنی اگلی منزل کی مجبوری بھی بتا دے، شاید وہ کرائے کا بندوبست کر دیتا۔ مگر اس کی خودداری اور حیا نے لب سی دیے۔ پھالیہ کے اڈے پر ہونے والی تذلیل اس کے ذہن میں نقش تھی۔ وہ دوبارہ کسی کے سامنے بھکاری کہلانا نہیں چاہتی تھی۔

،وہ ہمت کر کے اس حصے کی طرف بڑھی جہاں سے سرائے عالمگیر کی بسیں روانہ ہوتی تھیں۔ ایک بس کے قریب پہنچتے ہی کنڈکٹر نے اسے پیشہ ورانہ تیزی سے گھیرا
“جی باجی! کہاں جانا ہے؟”

“عائشہ نے نظریں جھکا کر نہایت دھیمے لہجے میں اپنی حقیقت بیان کی، “بھائی! سرائے عالمگیر جانا ہے، لیکن میرے پاس کرایہ نہیں ہے۔
،کنڈکٹر کے ماتھے پر فوراً ناگواری کے بل پڑ گئے۔ اس نے ایک لمحے کو عائشہ کو دیکھا اور پھر جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے بولا
،میں لے تو جاتا باجی، لیکن بس میں اب تل دھرنے کی جگہ نہیں ہے۔” یہ کہہ کر وہ مڑا اور بس سے چند قدم دور کھڑا ہو کر بلند آواز میں پکارنے لگا”
“…سرائے عالمگیر… سرائے عالمگیر”

عائشہ ساکت رہ گئی۔ اس منافقت نے اس کے دل پر ایسا زخم لگایا کہ اسے لگا جیسے سارا اڈہ اس کی بے بسی کا تماشہ دیکھ رہا ہے۔
وہ ایک بس سے دوسری اور دوسری سے تیسری بس تک بھٹکتی رہی۔ وہ ہر ڈرائیور اور کنڈکٹر کے سامنے اپنا دامن پھیلاتی، اپنی مجبوری کا واسطہ دیتی، مگر انسانیت جیسے اس تپتی دوپہر میں کہیں جھلس کر مر چکی تھی۔

“پہلا جواب: “بی بی! یہ سرکاری بس نہیں ہے، ہمیں مالکان کو حساب دینا ہوتا ہے۔

“دوسرا جواب: “میرا نمبر تو ابھی دو گھنٹے بعد آئے گا، تم کسی اور سے پوچھ لو۔

ایک گھنٹہ گزر گیا، سورج سوا نیزے پر آ چکا تھا اور زمین تندور کی طرح دہک رہی تھی۔ عائشہ کے تلوے جل رہے تھے اور کل سے کچھ نہ کھانے کی وجہ سے نقاہت اسے بار بار گرنے پر مجبور کر رہی تھی۔ جب اسے یقین ہو گیا کہ یہاں کوئی اللہ کا بندہ اس کی پکار نہیں سنے گا، تو اس نے ایک آخری فیصلہ کیا۔
ایک راہگیر سے سرائے عالمگیر کی طرف جانے والی سڑک کا پتہ پوچھا اور اپنی چادر کو سر پر مضبوطی سے لپیٹ کر پیدل ہی چل پڑی۔
وہ جانتی تھی کہ یہ سفر کتنا کٹھن ہے، مگر اس نے سوچ لیا تھا کہ ان بے حس لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بہتر ہے کہ وہ اس تپتی سڑک پر چلتے ہوئے دم توڑ دے۔ ہر قدم اس کے لیے ایک نئی آزمائش تھا، بھوک کی شدت اور پیاس کی تڑپ نے اس کے اعصاب کو شل کر دیا تھا، مگر دل میں ایک ہی دھن تھی، “سرائے عالمگیر پہنچنا ہے۔”

وہ نہیں جانتی تھی کہ اس کی تقدیر اسے کہاں لے جائے گی یا عامر اسے سہارا گا بھی یا نہیں، مگر اب اس کے پاس پیچھے مڑنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ وہ بس چل رہی تھی اور اس تپتی سڑک پر اس کے اکیلے قدموں کی چاپ جیسے معاشرے کی بے حسی کو چیلنج کر رہی تھی۔

°°°°°°°°°°

غموں کے پہاڑ تلے دبی اور کرب کے بے کراں سمندر میں غرق… عائشہ اس وقت ایک ہڈی گوشت کا وجود نہیں، بلکہ مجسم اذیت بن چکی تھی۔ وہ اپنی ہی روٹھی ہوئی تقدیر کا نوحہ تھی، اپنوں کے لمس سے محروم اور پرائے دیس میں ننگے پاؤں بھٹکتی ایک ایسی لاچار لڑکی، جس کی ویران آنکھوں میں زندگی کی اکتاہٹ اور تھکن صاف پڑھی جا سکتی تھی، جبکہ دل میں اب صرف موت کی حسرت نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔

​آسمان سے سورج کسی غضبناک آتش فشاں کی طرح آگ کے گولے برسا رہا تھا اور نیچے تارکول کی سیاہ سڑک کسی دہکتی ہوئی بھٹی کی مانند تپ رہی تھی۔ اسی جھلساتی ہوئی سڑک پر وہ نحیف و نزار لڑکی، سر جھکائے، قدم گھسیٹتی تنِ تنہا چلی جا رہی تھی۔ منڈی بہاؤالدین کی رونق اور آوازیں بہت پیچھے رہ گئی تھیں اور اب سامنے صرف ایک انجانی، تاریک اور کٹھن منزل کا دھندلکا تھا۔ اس کے کانپتے ہوئے قدم کسی ایسے محافظ کے متلاشی تھے جو اس ظالم اور بے حس دنیا میں اسے پناہ کا ایک گوشہ دے سکے۔ بے بسی کا عالم یہ تھا کہ کرائے کے چند روپے نہ ہونے کی وجہ سے، وہ میلوں پیدل چلنے پر مجبور تھی۔ شاید انسانیت واقعی دم توڑ چکی تھی کہ کسی ایک مسافر کو بھی اس بے حال مسافر پر ترس نہیں آیا۔

​طویل مسافت اور تپتی دھوپ نے جہاں اس کے اعصاب کو ادھ موا کر دیا تھا، وہیں اس کی پرانی اور خستہ حال چپل نے بھی ساتھ چھوڑ دیا۔ اب اس کا ایک پاؤں ٹوٹی ہوئی چپل کے بوجھ تلے تھا اور دوسرا پیر بالکل برہنہ۔

جیسے ہی اس کا نازک تلوہ تارکول کی جھلساتی ہوئی سطح کو چھوتا، درد اور جلن کی ایک لہر بجلی بن کر اس کے پورے وجود کو جھنجھوڑ دیتی۔ مگر قدرت کا عجیب نظام ہے۔ یہی جسمانی تکلیف اس کے ذہن میں ماضی کے دریچے وا کر رہی تھی۔ جب پاؤں جلتا، تو ذہن ان ٹھنڈی یادوں کی طرف بھاگتا جہاں وہ کسی لاڈلی شہزادی کی طرح زندگی کے ناز نخرے اٹھاتی تھی۔

​اسے وہ سنہرے دن یاد آنے لگے جب وہ فخر سے خود کو “اپنے بابا کی جان” کہتی تھی۔ جب اس کے بھائی اسے پیار سے “گڑیا” پکارتے اور اس کی خواہش کو حکم کا درجہ دیتے ہوئے اسے پلکوں پر بٹھا کر رکھتے تھے۔ اسے گھر کے وہ در و دیوار یاد آئے جہاں اس کی اور اس کی بہنوں کی کھلکھلاتی ہنسی گونجتی تھی۔ سہیلیوں کے ساتھ کی گئی وہ بے فکر باتیں، سکول کی معصوم شرارتیں اور کالج کے وہ رنگین دن… وہ دن اب کسی بیتے ہوئے حسین خواب کی طرح لگ رہے تھے جو سحر ہونے پر بکھر چکے تھے۔

​اور آج کا سچ کتنا کریہہ اور بھیانک تھا۔
آج وہی نازک گڑیا گرد و غبار میں اٹی ہوئی تھی۔ پسینے اور مٹی سے لتھڑے اس کے میلے کپڑے اس کی بربادی کا اشتہار بن چکے تھے۔ پیروں میں پڑنے والے چھالوں سے رستا ہوا خون اس کی اذیت ناک مسافت کا نوحہ پڑھ رہا تھا۔ شدتِ کرب سے اس کی ویران آنکھوں سے آنسوؤں کا ایک ایسا تسلسل جاری تھا جو اس کے گرد آلود گالوں پر لکیریں بنا رہا تھا۔ یہ صرف سفر کی تھکن نہیں تھی، بلکہ یہ تذلیل اور در بدری کا وہ ہولناک موڑ تھا جس نے اسے ایک زندہ لاش میں بدل دیا تھا۔
​وہ ہر قدم کے ساتھ اپنی منزل سے قریب ہو رہی تھی یا موت سے؟ اسے علم نہیں تھا، مگر وہ بس چل رہی تھی کیونکہ ٹھہر جانے کا مطلب شکست تھا اور وہ ابھی ہارنا نہیں چاہتی تھی۔

°°°°°°°°°°

عائشہ اذیت کے ایک ایسے گرداب میں گھری ہوئی تھی جہاں جسمانی تھکن اور ذہنی کرب نے مل کر اسے زندگی سے مایوس کر دیا تھا۔ سورج کی جھلسا دینے والی تپش اور تپتی سڑک کے بیچوں بیچ وہ کسی ہارے ہوئے سپاہی کی طرح قدم گھسیٹ رہی تھی۔ اسے اب کسی گاڑی کے رکنے کی امید تھی نہ ہی اس میں کسی سے لفٹ مانگنے کی ہمت باقی رہی تھی۔ اس نے اپنا معاملہ اپنے کریم رب کے سپرد کر دیا تھا اور بس اسی توکل کے سہارے چل رہی تھی۔

کچھ ہی دیر میں پیچھے سے آتی ہوئی ایک تیز رفتار بس کی گونج فضا میں ابھری۔ بس کے اندر کنڈکٹر پیشہ ورانہ مہارت سے مسافروں سے کرایہ اکٹھا کرنے میں مصروف تھا، جبکہ ڈرائیور کی پوری توجہ سڑک پر مرکوز تھی۔ اچانک ڈرائیور کی نظر دور سڑک کنارے لنگڑاتی ہوئی ایک تنہا عورت پر پڑی جس کا وجود گرد و غبار میں اٹا ہوا تھا۔ اس نے ایک لمحے کے لیے اپنی یادداشت پر زور دیا، بس کی رفتار دھیمی کی اور کنڈکٹر کو آواز دی،
“اسلم! ذرا ادھر تو آ۔”

جی استاد!” اسلم نے ہاتھ میں پکڑے نوٹوں کو سنبھالتے ہوئے ڈرائیونگ سیٹ کے قریب جا کر پوچھا۔”

دیکھ تو ذرا… یہ وہی لڑکی ہے ناں جو اڈے پر سرائے عالمگیر کا پوچھ رہی تھی؟ وہی جس کے پاس کرایہ نہیں تھا؟” ڈرائیور نے سامنے کی طرف اشارہ کیا۔”

“اسلم نے آنکھوں پر ہاتھ کا چھجہ بنا کر غور سے دیکھا، عائشہ کے میلے کپڑوں اور خستہ حال حالت نے اسے فوراً پہچاننے میں مدد دی۔ “ہاں استاد! لگ تو وہی رہی ہے۔ وہی بدقسمت ہے۔

“ڈرائیور کے دل میں انسانیت کی ایک ٹیس سی ابھری۔ “کیا کہتے ہو اسلم؟ لے چلیں اسے بھی؟ بیچاری اس تپتی دھوپ میں مر جائے گی۔

“اسلم کے لہجے میں بھی نرمی آ گئی، “لے چلتے ہیں استاد! مجھے بھی اسے دیکھ کر برا لگ رہا ہے۔

چل ٹھیک ہے، بٹھا لے اسے،” ڈرائیور نے شفقت سے کہا اور بس کو آہستہ آہستہ عائشہ کے بالکل قریب لا کر روک دیا۔”
،دروازہ کھلا اور اسلم نے باہر جھانک کر بلند آواز میں کہا
“باجی! اندر آ جائیں، بس میں سوار ہو جائیں۔”

“عائشہ نے حسرت اور بے یقینی سے اسلم کو دیکھا، اسے اب بھی اپنی سماعت پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ اس نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا، “بھائی! میرے پاس کرایہ نہیں ہے۔

“،کوئی گل نہیں باجی! آپ بس اوپر آ جائیں، کوئی کرایہ نہیں مانگے گا آپ سے”

اسلم نے جب نہایت نرم اور ہمدردانہ لہجے میں یہ کہا، تو عائشہ کی آنکھوں سے شکر گزاری کے آنسو چھلک پڑے۔ اس نے زیرِ لب اپنے رب کا شکر ادا کیا اور تھکے ہارے قدموں سے بس میں سوار ہو گئی۔

بس کے اندر داخل ہوتے ہی اسے درجنوں اجنبی نظروں نے گھیر لیا۔ اس کے پسینے میں بھیگے میلے کپڑے، بکھرے بال اور حالتِ زار مسافروں کے لیے ایک تماشہ بن گئے تھے۔ کچھ نظروں میں ترس اور ہمدردی کی جھلک تھی، مگر اکثر لوگ اسے ایسی حقارت سے دیکھ رہے تھے جیسے وہ کوئی پیشہ ور بھکارن ہو جو مفت کی سواری کا فائدہ اٹھا رہی ہو۔ عائشہ کو یہ نظریں اپنے وجود میں چھبتی ہوئی محسوس ہوئیں، اس نے شرم اور ندامت سے سر جھکا لیا اور ایک خالی نشست پر سمٹ کر بیٹھ گئی۔
بس اب سرائے عالمگیر کی طرف رواں دواں تھی اور عائشہ کا دل اب بھی دھڑک رہا تھا۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ ابھی کتنا سفر باقی ہے یا منزل پر پہنچ کر کیا ہوگا، مگر اس کے سینے میں اب ایک موہوم سی امید روشن ہو چکی تھی کہ جس رب نے اس تپتے صحرا میں بس کا سبب پیدا کر دیا ہے، وہ اسے عامر کے گھر کی دہلیز تک بھی پہنچا دے گا۔

°°°°°°°°°°

عائشہ سرائے عالمگیر نہر کے پل پر پہنچ آئی تھی۔ جی ٹی روڈ پر دوڑتے بھاری بھرکم ٹرکوں کی گھن گرج، بسوں کے پریشر ہارن اور مسافروں کا بے ہنگم ہجوم اس کے ٹوٹے ہوئے اعصاب پر ہتھوڑوں کی طرح لگ رہا تھا۔

،وہ تھکن اور نقاہت سے چور تھی، مگر آنکھوں میں ایک آخری اُمید کی چمک لیے ہر آتی جاتی گاڑی کے قریب جاتی اور لرزتی آواز میں ایک ہی سوال دہراتی

“بھائی! منڈی جٹاں والی گاڑی کہاں سے ملے گی؟”
مگر افسوس! اس مادی دنیا کی تیز رفتاری میں کسی کے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ وہ اس خاک آلود لڑکی کی بات سنتا۔ کوئی لاعلمی کا اظہار کر کے آگے بڑھ جاتا تو کوئی اس کی حالتِ زار دیکھ کر نظریں پھیر لیتا۔ اسے لگ رہا تھا کہ اس بڑے شہر کے ہجوم میں وہ ایک بار پھر تنہا رہ گئی ہے۔

اسی بھیڑ میں سڑک کنارے بنے ایک بوسیدہ تھڑے پر ایک معمر خاتون اپنے جوان بیٹے کے ساتھ بیٹھی بس کا انتظار کر رہی تھیں۔ وہ کافی دیر سے عائشہ کی بے چینی اور اس کی نامکمل پکار کو دیکھ رہی تھیں۔ جب عائشہ کی بے بسی حد سے گزرنے لگی تو ان بزرگ خاتون کے اندر کی ماں تڑپ اٹھی۔ وہ سہارا لے کر اٹھیں اور دھیمے قدموں عائشہ کے قریب آ گئیں۔

بیٹا! کہاں جانا ہے تمہیں؟ اتنی پریشان کیوں ہو؟” ان کے لہجے میں وہ مٹھاس تھی جس کی عائشہ کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت تھی۔”

جی۔۔۔ اماں جی! منڈی جٹاں جانا ہے۔” عائشہ نے بے قراری سے جواب دیا۔”

“آؤ میرے پاس بیٹھو، میرپور والی بس آنے ہی والی ہے۔”

خاتون نے شفقت سے اس کا ہاتھ تھاما اور اسے تھڑے پر لا بٹھایا۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو اشارہ کیا، جو سمجھدار تھا اور خاموشی سے تھوڑے فاصلے پر جا کھڑا ہوا تاکہ عائشہ خود کو غیر محفوظ محسوس نہ کرے۔

“منڈی کس کے گھر جانا ہے بیٹا؟” خاتون نے گہری اور پرکھتی نظروں سے پوچھا۔

عائشہ نے چونک کر دیکھا، “کیا آپ کو اس گاؤں کا پتہ ہے؟”

،خاتون کے ہونٹوں پر ایک ملائم سی مسکراہٹ رقص کرنے لگی
“ہاں، کیوں نہیں، وہ میرا میکہ ہے۔ میری بچپن کی تمام یادیں اسی گاؤں سے جڑی ہیں۔ تم بتاؤ وہاں کس کے ہاں جانا ہے؟”

“عائشہ کی آنکھوں میں جیسے زندگی لوٹ آئی، “عامر کے گھر۔۔۔ کیا وہاں تک کوئی گاڑی جائے گی؟

“خاتون کے ماتھے پر سوچ کی لکیریں ابھریں، “عامر کون؟ کس کا بیٹا ہے؟

وہ۔۔۔ وہ میرے میاں کے ساتھ میرج ہال پر کام کرتا تھا۔ مجھے بس اتنا ہی پتہ ہے کہ اس کا گھر وہاں ہے۔” عائشہ نے جب یہ بتایا تو خاتون کے چہرے پر تشویش اور شک کے سائے لہرائے۔”

“بیٹا! تم اپنے شوہر کے بغیر اس طرح تن تنہا ایک اجنبی کے گھر کیوں جا رہی ہو؟”

،خاتون کا سوال کسی تیکھے نشتر کی طرح عائشہ کے دل میں اترا۔ حلق آنسوؤں کے گولے سے بھر گیا، آواز لرزنے لگی
اماں! میرے شوہر تین ماہ پہلے فوت ہو گئے… سسرال والوں نے میرا سب کچھ چھین کر مجھے گھر سے نکال دیا۔”

“عامر ایک نیک اور خدا ترس انسان تھا، میرے شوہر کا کافی قریبی دوست تھا۔ میں اسی آخری سہارے کے پیچھے نکلی ہوں کہ شاید وہ اپنے مرحوم دوست کی بیوہ کی مدد کر دے۔

،خاتون کا دل عائشہ کا کرب سن کر پاش پاش ہو گیا۔ انہوں نے نہایت پیار سے اس کے گرد آلود سر پر ہاتھ پھیرا اور پوچھا
“تو تم اپنے والدین کے پاس کیوں نہیں گئیں؟”

،عائشہ نے نظریں جھکا لیں، اس کی خاموشی میں ہزاروں نوحے دفن تھے

“میرا اس دنیا میں اب کوئی نہیں ہے۔ میں جیتے جی لاوارث ہو چکی ہوں۔ اس اُمید کے سوا میرے پاس اب کوئی راستہ نہیں کہ عامر مجھے کوئی پناہ دے دے۔”

اللہ تمہیں استقامت دے اور تمہاری منزل آسان فرمائے۔” خاتون نے دکھی دل سے دعا دی۔ تبھی جی ٹی روڈ کے شور کو چیرتی ہوئی ایک بس ان کے قریب آ کر رکی۔”

چلو میری بچی! بس آ گئی ہے۔” خاتون نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے اٹھایا۔”

،عائشہ ایک لمحے کے لیے ٹھٹھک گئی، شرمندگی اور ندامت اس کے چہرے پر عیاں تھی
“اماں… میرے پاس… میرے پاس کرایہ نہیں ہے۔”

خاتون نے ایک ممتا بھری مسکراہٹ کے ساتھ اس کا زرد گال چھوا اور نرمی سے بولیں،
“تو کیا ہوا میری جان؟ اللہ نے مجھے دیا ہے ناں، میں ہوں ناں تمہارے ساتھ۔”

انہوں نے عائشہ کا ہاتھ اپنی گرفت میں لیا اور اسے بس کے زینے کی طرف لے گئیں۔ وہ کٹی پتنگ جو ہواؤں کے رحم و کرم پر تھی، آج ایک بار پھر کسی ہمدرد ڈور سے بندھ چکی تھی۔ بس میرپور کی طرف روانہ ہو رہی تھی اور عائشہ کا دل دھڑک رہا تھا کہ پتہ نہیں اس انجانی بستی میں اس کا استقبال کیسا ہوگا۔

°°°°°°°°°°

بس کی کھڑکی سے باہر بھاگتے مناظر کے ساتھ ساتھ عائشہ کے ذہن میں یادوں کا ایک طوفان بھی محوِ رقص تھا۔ وہ بزرگ خاتون ممتا بھری دلچسپی سے اس کی زندگی کے دریچے وا کرنا چاہتی تھیں، مگر عائشہ ہر سوال پر ایک خاموش دیوار بن جاتی۔ وہ کیسے بتاتی کہ اس کی موجودہ رسوائی اور تذلیل میں کسی دشمن کا نہیں، بلکہ اس کی اپنی نادان حماقت کا ہاتھ ہے جس نے اسے گھر کی دہلیز سے نکال کر ایک درندے کے قدموں میں لا پھینکا تھا؟ وہ اپنے زخموں کی نمائش نہیں کرنا چاہتی تھی، کیونکہ اسے معلوم تھا کہ کچھ داغ اتنے گہرے ہوتے ہیں کہ ہمدردی کے لفظ بھی انہیں دھو نہیں پاتے۔

بس جب دس پلیاں کے شور زدہ اسٹاپ کے قریب پہنچی، تو خاتون نے اپنے پرس کی گہرائیوں سے پانچ سو کا ایک نوٹ نکالا اور نہایت شفقت سے عائشہ کی مٹھی میں دبا دیا۔

،ان کے لہجے میں کسی منجھے ہوئے محافظ کی فہم و فراست تھی جب انہوں نے ہدایت دی
بیٹی! شکریلہ سے ٹھیک چار بجے ایک اکلوتی گاڑی منڈی جٹاں کی طرف نکلتی ہے۔ اس کے رکنے کی جگہ کسی سے پوچھ لینا اور وہیں بیٹھ کر انتظار کرنا۔”

“وہ گاڑی تمہیں تمہاری منزل تک پہنچا دے گی۔

عائشہ کا گلا رندھ گیا، آنکھوں میں نمی کی ایک دبیز تہہ جم گئی۔
“اماں! اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی، آپ نے پہلے ہی مجھ پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔”

اس نے نوٹ واپس کرنا چاہا، مگر خاتون کی گرفت مضبوط تھی۔ عائشہ کو ایک مدت بعد کسی اجنبی عورت کے چھونے میں اپنی ماں کی خوشبو اور وہی پرانی تپش محسوس ہوئی تھی جو برسوں پہلے اس کا نصیب تھی۔

کوئی بات نہیں میری بچی! شام کا وقت سر پر ہے، تمہیں آگے کرایہ کے لیے ان پیسوں کی ضرورت ہوگی۔” انہوں نے کسی بحث کی گنجائش نہیں چھوڑی۔”

کیا آپ جا رہی ہیں؟” عائشہ نے ایسے پوچھا جیسے کوئی بچہ اپنی آخری پناہ گاہ کو چھنتے دیکھ رہا ہو۔”

“ہاں میرا اسٹاپ آ گیا ہے۔” خاتون نے مسکرا کر اس کے اداس چہرے کو دیکھا۔ “ان شاء اللہ اگر کبھی منڈی جٹاں کی طرف چکر لگا اور تم وہاں ہوئی، تو میں تمہیں ملنے ضرور آؤں گی۔”

کنڈکٹر کی کرخت آواز نے اسٹاپ کا اعلان کیا تو گاڑی ایک جھٹکے سے رک گئی۔ ان خاتون نے آگے بڑھ کر عائشہ کی پیشانی پر ایک گرم جوش بوسہ ثبت کیا۔ یہ محض ایک بوسہ نہیں تھا، بلکہ ایک دعا تھی جو عائشہ کے بکھرے ہوئے وجود کو سمیٹنے کے لیے کافی تھی۔ وہ الوداع کہہ کر بس سے اتر گئیں اور ان کے جاتے ہی عائشہ کو یوں لگا جیسے اس تپتی دوپہر میں سر پر تنی ہوئی چھتری اچانک ہٹ گئی ہو۔

بس دوبارہ روانہ ہوئی تو عائشہ ایک بار پھر اجنبیوں کے اس جنگل میں تنہا رہ گئی۔ ہاتھ میں دبا ہوا پانچ سو کا نوٹ اسے اس بات کا احساس دلا رہا تھا کہ انسانیت اب بھی کہیں نہ کہیں سانس لے رہی ہے۔ وہ کھڑکی سے باہر اس خاتون کو دھندلا ہوتے ہوئے دیکھتی رہی، جب تک کہ موڑ نے انہیں نظروں سے اوجھل نہیں کر دیا۔

اب اس کے سامنے شکریلہ کا راستہ تھا اور وہ چار بجے والی اکلوتی گاڑی جو شاید اسے اس کی آخری امید، عامر کے گھر تک پہنچانے والی تھی۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ اس مسافت کے اختتام پر اسے ٹھنڈی چھاؤں ملے گی یا نئی آزمائش، مگر اس وقت اس کے دل میں ان خاتون کی دی ہوئی ہمت ایک شمع کی طرح روشن تھی۔

°°°°°°°°°°

شکریلہ کا چوراہا گرد و غبار اور شور و غل کی ایک ایسی آماجگاہ تھا جہاں زندگی اپنی پوری رفتار سے رواں تھی۔ عائشہ جب یہاں پہنچی تو اس کے قدموں میں اب اتنی سکت بھی نہیں تھی کہ وہ سیدھی کھڑی رہ پاتی۔ اس نے راہگیروں سے لرزتی آواز میں منڈی جانے والی ویگن کا پوچھا اور جب اسے رکنے کا مقام معلوم ہوا تو اسے لگا جیسے اسے منزل مل گئی ہو۔
مٹھی میں دبا ہوا وہ پانچ سو کا نوٹ اب اس کے لیے زندگی کی علامت بن چکا تھا۔ جیسے ہی جیب میں پیسوں کا احساس ہوا، بھوک اور نقاہت نے اس کے اعصاب پر آخری وار کر دیا۔ سر چکرانے لگا، رنگت سفید پڑ گئی اور اسے محسوس ہوا کہ اگر ابھی اس نے کچھ نہ کھایا تو وہ اسی سڑک پر ڈھیر ہو جائے گی۔

عائشہ لڑکھڑاتے قدموں سے ایک قریبی بیکری کی طرف بڑھی۔ تازہ روٹیوں اور کیک کی خوشبو نے اس کے معدے میں ایک تڑپ سی پیدا کر دی۔

،اس نے کاؤنٹر پر کھڑے دکاندار سے دھیمی آواز میں پوچھا
“بھائی صاحب! یہاں سے منڈی جٹاں کتنا دور ہے؟ اور وہاں تک کا کرایہ کتنا ہوگا؟”

،دکاندار نے ایک سرسری نگاہ اس کی خستہ حالی پر ڈالی اور نرمی سے جواب دیا
“زیادہ دور نہیں ہے، بس آدھ پون گھنٹے کا راستہ ہے۔ کرایہ بھی زیادہ سے زیادہ پچاس یا سو روپے لگے گا۔”

یہ سنتے ہی عائشہ کے وجود میں جیسے زندگی کی ایک لہر دوڑ گئی۔

،اسے لگا جیسے اس کے سر سے ایک بہت بڑا بوجھ اتر گیا ہو۔ اس نے لرزتے ہاتھوں سے وہ نوٹ کاؤنٹر کی طرف بڑھایا
“اچھا… مجھے ایک جوس اور نمکو کا پیکٹ دے دیں۔”

دکاندار نے خاموشی سے سامان نکالا اور بقایا رقم اسے تھما دی۔ عائشہ، جو کبھی دسترخوان پر ناز و نخرے دکھاتی تھی، آج اس قدر نڈھال تھی کہ اسے کسی سائے یا بیٹھنے کی جگہ کی تلاش کا بھی ہوش نہ رہا۔ اس نے وہیں گلی میں چلتے ہوئے کپکپاتے ہاتھوں سے نمکو کا پیکٹ پھاڑا اور اس کے دانے منہ میں ڈالنے لگی۔
وہ نمکو اس کے تالو سے لگی تو اسے لگا جیسے اسے دنیا کی سب سے لذیذ نعمت مل گئی ہو۔ جوس کے پہلے گھونٹ نے اس کے خشک حلق میں زندگی کی تپش بھر دی اور ڈوبتی ہوئی ہمت کو سہارا دیا۔

وہ چلتی جا رہی تھی اور کھاتی جا رہی تھی۔ اس لمحے اسے اس بات کی پرواہ نہیں تھی کہ سڑک پر لوگ اسے کس نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ اس کے لیے اس وقت صرف دو چیزیں اہم تھیں، اپنے جسم کی ٹوٹتی ہوئی ہمت کو سنبھالنا اور اس آخری ویگن تک پہنچنا جو اس کی منزل کی طرف جانے والی آخری امید تھی۔

وہ اب اس مخصوص مقام پر کھڑی تھی جہاں وہ ویگن آنے والی تھی۔ شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے اور دھندلکا پھیل رہا تھا۔ عائشہ کا دل اب ایک نئے انجانے خوف سے دھڑکنے لگا تھا۔
“یہ سفر تو ختم ہونے والا ہے، مگر اس کے بعد کیا ہوگا؟ کیا عامر کا گھر مل جائے گا؟ کیا وہ مجھے پہچان کر پناہ دے گا؟ یا ایک نئی ٹھوکر میرا مقدر بنے گی؟”

وہ انھی سوالوں کے گرداب میں گھری ہوئی تھی، مگر اب اس کی نظریں سڑک کے موڑ پر جمی تھیں، جہاں سے آنے والی ویگن اسے اپنے تاریک مستقبل میں اُمید کی ایک چھوٹی سی کرن معلوم ہو رہی تھی۔

°°°°°°°°°°

آخرکار، چار بجے والی اس ویگن نے مسافتوں کی دھول سمیٹتے ہوئے عائشہ کو اس بستی کی دہلیز پر لا کھڑا کیا، جو اس کے خیال میں اس وسیع و عریض دنیا میں اس کا واحد اور آخری سہارا تھا۔ سڑک سے ذرا ہٹ کر، ایک چھوٹی سی پہاڑی پر بنے اس گاؤں کی ہیبت عائشہ کے دل میں ایک انوکھا ارتعاش پیدا کر رہی تھی۔ وہ جیسے جیسے گاؤں کی طرف قدم بڑھا رہی تھی، اس کا نحیف وجود کسی منوں وزنی بوجھ تلے دبا محسوس ہو رہا تھا۔

آسمان پر غروب ہوتے سورج نے اپنی نارنجی اور سرخ رنگت بکھیر دی تھی۔ یہ سرخی جہاں خوبصورت تھی، وہیں عائشہ کے دل میں ایک انجانا خوف بھی پیدا کر رہی تھی۔ وہ ہر قدم پر اپنے رب کو پکار رہی تھی، مگر انسانی فطرت کے تحت وسوسے کسی زہریلے ناگ کی طرح اس کے شعور کو ڈس رہے تھے۔
،اس کے منتشر ذہن میں سوالات کا ایک ریگستان آباد تھا

خدا جانے عامر زندہ بھی ہوگا یا نہیں؟ وہ جو ایک طوفان کی طرح آیا اور غائب ہو گیا، کہیں کسی بڑی مصیبت کا شکار تو نہیں ہو گیا؟

اگر وہ زندہ بھی ہوا، تو اتنے دن غائب رہنے کے بعد وہ کس حال میں ہوگا؟ کیا وہ اب بھی وہی ہمدرد انسان ہوگا یا حالات کی چکی نے اسے بدل دیا ہوگا؟

کیا وہ واقعی ایک فرشتہ صفت انسان ہے یا اس نے بھی نقیب کی طرح مجھے سہارے کے سبز باغ دکھا کر للچایا تھا؟ کیا ایک جال سے نکل کر میں دوسرے شکاری کے جال میں تو نہیں پھنسنے جا رہی؟

ان تلخ سوالوں نے عائشہ کے قدموں کی زنجیر بننے کی کوشش کی، مگر اس کے پاس اب پیچھے مڑنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ اس کے سامنے جو گاؤں تھا، وہ اس کی بقا کا آخری مینار تھا۔ اگر یہاں سے بھی اسے دھتکار دیا جاتا، تو اس بے حس دنیا کے پاس عائشہ کے لیے صرف ذلت اور رسوائی کے سوا کچھ نہیں تھا۔

وہ ہانپ رہی تھی، اس کا سانس اکھڑ رہا تھا، مگر وہ ناچاہتے ہوئے بھی آگے بڑھ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں تھے، بلکہ ایک ایسی پتھرائی ہوئی خاموشی تھی جو صرف اس وقت آتی ہے جب انسان اپنی زندگی کا آخری جوا کھیلنے جا رہا ہو۔

“اے میرے رب! میری لاج رکھ لینا۔ تیرے سوا اب کوئی نہیں جس کا مجھے سہارا ہو۔”

وہ زیرِ لب بڑبڑائی اور گاؤں کی پہلی گلی میں داخل ہو گئی۔ شام کا جھٹپٹا پھیل رہا تھا اور اس دھندلکے میں عائشہ اپنی تقدیر کا نیا عنوان تلاش کر رہی تھی۔

°°°°°°°°°°

…جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *