ناول: وارث کون
باب چہارم: تشنہ دیدار
قسط نمبر 17
مصنف: زیاد اصغر زارون
°°°°°°°°°°
عائشہ اور عامر کی رفاقت کو چھ ماہ بیت چکے تھے۔ یہ چھ ماہ عائشہ کی زندگی کے اس طویل اور تپتے ہوئے صحرا میں کسی نخلستان کی مانند تھے جہاں اسے برسوں بعد سکھ کا پہلا سانس لینا نصیب ہوا تھا۔ اسے اس مختصر عرصے میں یہ ادراک ہو چکا تھا کہ انسان کو حالات کی تنگی یا غربت کی لکیریں اتنا کرچی کرچی نہیں کرتیں، جتنا لہجوں کی بے قدری، روح کی تنہائی اور بے بسی کی زنجیریں اسے اذیت کے جہنم میں دھکیل دیتی ہیں۔
عامر کے پاس بھلے ہی کوئی بڑی جائیداد یا ڈھیروں دولت نہیں تھی کہ وہ عائشہ کی ہر مادی خواہش پوری کر پاتا، مگر اس کے پاس ایک ایسا سائبانِ وفا تھا جس نے عائشہ کے تمام پرانے زخموں پر مرہم رکھ دیا تھا۔ وہ اسے وہ سب کچھ دے رہا تھا جس کے لیے وہ تڑپتی رہی تھی۔ پیٹ بھر کر کھانا، سر پر محفوظ چھت اور سب سے بڑھ کر وہ سکون جو کسی بھی قیمت پر خریدا نہیں جا سکتا۔ وہ عائشہ کے ماضی کے ہر اس تاریک گوشے سے واقف تھا جہاں یادوں کے سائے اسے ڈس سکتے تھے۔ اسے معلوم تھا کہ اگر عائشہ کو ایک لمحے کے لیے بھی اس کی اپنی سوچوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا، تو ماضی کے بھوت اسے دوبارہ رلانے میں دیر نہیں کریں گے۔
اسی خوف نے عامر کو ایک عجیب مگر والہانہ عمل پر مجبور کر دیا تھا۔ وہ جب صبح کام کے لیے گھر سے نکلتا، تو صرف اتنی ہی دیر عائشہ سے دور ہوتا جب تک وہ اپنی بائیک چلا کر سروس اسٹیشن تک نہ پہنچ جاتا۔ جیسے ہی وہ کام کی جگہ پہنچتا، اپنے میلے کچیلے پہننے پہننے سے پہلے ہی وہ کانوں میں ایئر بڈز لگاتا اور عائشہ کا نمبر ڈائل کر لیتا۔
پھر سارا دن وہ سروس اسٹیشن کی تند و تیز پانی کی بوچھاڑ، صابن کی جھاگ اور انجنوں کے شور کے بیچ کام کرتا رہتا، مگر فون کا رابطہ منقطع نہ ہوتا۔ ایک منٹ بھی ایسا نہیں گزرتا تھا جب عامر کی آواز یا اس کی سانسوں کی آہٹ عائشہ کے پاس موجود نہ ہو۔ وہ دونوں گھنٹوں خاموش رہ کر اپنے اپنے کام میں مصروف رہتے، مگر یہ فون کال ایک ایسی ڈور تھی جس نے عائشہ کو تنہائی میں اترنے سے بچا رکھا تھا۔
یہ عامر کی زندگی کا وہ پہلا موڑ تھا جب اس نے اپنی تمام دنیاوی وابستگیاں، دوستوں کی محفلیں، قہقہے اور مشغلے ایک طرف رکھ دیے تھے۔ وہ شخص جو کبھی یاروں کا یار تھا، اب ایک ایسی گوشہ نشینی اختیار کر چکا تھا جہاں اس کا مرکز و محور صرف عائشہ کی مسکراہٹ کی حفاظت تھی۔ اس کے لیے اب دنیا کا کوئی رشتہ، کوئی ضرورت اتنی اہم نہیں رہی تھی جتنی یہ فکر کہ اس کی شریکِ حیات کو ایک پل کے لیے بھی یہ احساس نہ ہو کہ وہ اس دنیا میں تنہا ہے۔ اس نے اپنی ذات کو عائشہ کی خوشی میں کچھ اس طرح مدغم کر دیا تھا کہ اب اس کی اپنی کوئی پہچان باقی نہیں رہی تھی۔
°°°°°°°°°°
آسمان کے مشرقی افق پر سفیدی کی ہلکی سی لکیر نمودار ہو رہی تھی، مگر فضا میں ابھی تک رات کا دھندلکا ہلکا سا تھا۔ ابھی مکمل روشنی نہیں ہوئی تھی، صرف پرندوں کی ہلکی چہچہاہٹ خاموشی کو توڑنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ کمرے کے اندر سکوت کا راج تھا، جہاں عامر اپنی چارپائی پر گہری نیند میں ڈوبا ہوا تھا۔ یہ وہ نیند تھی جو برسوں کی تھکن اور سکون کے چند لمحوں کا حاصل تھی، مگر عائشہ کے کانپتے ہاتھوں نے جب اسے ہلکے سے جھنجھوڑا، تو وہ خوابوں کی وادی سے اچانک حقیقت کی سنگلاخ زمین پر آن گرا۔
عامر…!” عائشہ کی آواز میں نقاہت اور کرب کی ایک لہر تھی۔”
عامر کسی سپرنگ کی طرح ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ اس کی آنکھوں میں وحشت تھی اور سانسیں بے ترتیب۔ یہ ردِعمل اس کا فطری خاصہ بن چکا تھا۔ پولیس سے چھپتے اور قانون کی نظروں سے بھاگتے ہوئے اس نے جو طویل عرصہ گزارا تھا، اس نے اس کی نیندوں سے سکون چھین لیا تھا۔ وہ کبھی گہری نیند نہیں سو پاتا تھا، کیونکہ اس کے لاشعور میں ہمیشہ کسی تعاقب کا خوف پہرہ دیتا رہتا تھا۔
ہاں… کیا ہے؟ کیا ہوا؟” اس نے بدحواسی میں عائشہ کے چہرے کی طرف دیکھا، جہاں پسینے کی ننھی بوندیں چمک رہی تھیں۔”
وہ… مجھے درد ہو رہا ہے۔” عائشہ کے لہجے میں چھپی تکلیف اب واضح تھی۔”
کہاں؟” عامر نے فوراً لحاف ایک طرف کھسکایا، چارپائی کے کنارے پر آ بیٹھا اور اندھیرے میں ٹٹول کر اپنی چپل پہنی۔ اس کی توجہ اب مکمل طور پر عائشہ پر مرکوز تھی۔”
عائشہ نے اپنے پیٹ کے نچلے بائیں حصے کو دونوں ہاتھوں سے سختی سے دبا رکھا تھا، جیسے وہ اس اٹھتے ہوئے طوفان کو وہیں روک لینا چاہتی ہو۔ جب عامر کی نظر اس کے ہاتھوں کی پوزیشن پر پڑی، تو اس کے ذہن کے نہاں خانے میں ایک پرانی فلم سی چل گئی۔ اسے وہ دن یاد آگیا جب اس نے پہلی بار عائشہ کو نقیب کے بدبودار گھر میں دیکھا تھا۔ اس دن بھی وہ اسی مقام پر ہاتھ رکھے ہوئے تھی۔ وہ درد، وہ مقام اور عائشہ کی وہی بے بسی… سب کچھ ساکت ہو گیا۔
کیا یہ پہلے بھی ہوتا رہتا ہے؟” عامر نے دبی آواز میں پوچھا، اس کے لہجے میں تشویش کی لہر ابھری۔
ہاں کبھی کبھار… لیکن آج رات بہت زیادہ رہا، برداشت سے باہر ہو رہا ہے۔” عائشہ نے جب یہ انکشاف کیا، تو عامر کے چہرے کے نقوش میں سختی آ گئی۔”
“رات سے درد ہو رہا ہے اور تم مجھے اب بتا رہی ہو؟ کیسی بے وقوف عورت ہو تم!”
عامر کا لہجہ تلخ تھا، مگر اس تلخی کے پیچھے وہ فکر چھپی تھی جو وہ عائشہ کو تکلیف میں دیکھ کر محسوس کر رہا تھا۔ اسے اس کی خاموشی پر غصہ آ رہا تھا کہ اس نے تنہا یہ کرب کیوں سہا۔
،وہ تیزی سے اٹھا، میز پر پڑی بائیک کی چابی اٹھائی
“میں منہ ہاتھ دھو لوں، تب تک تم جلدی سے کپڑے بدلو۔ میں تمہیں ڈاکٹر کے پاس لے کر جا رہا ہوں۔”
اتنا کہہ کر وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا، جبکہ عائشہ وہیں بیٹھی اس کی اس کٹیلی محبت کو دیکھ رہی تھی جو اسے اب دنیا کے ہر دکھ سے بچانے کے لیے ڈھال بن چکی تھی۔
°°°°°°°°°°
ادویات کی مخصوص، کڑوی اور روح کو بے چین کر دینے والی بو کے درمیان، وہ دونوں ایک تنگ اور بے ترتیب سے کلینک نما میڈیکل سٹور میں موجود تھے۔ کمرے میں لگی سفید ٹیوب لائٹ کی بے حس روشنی دیواروں پر لگے پرانے طبی چارٹس پر پڑ رہی تھی۔ ڈاکٹر نے نہایت خاموشی اور پیشہ ورانہ مہارت سے عائشہ کا بلڈ پریشر چیک کیا اور پھر اس کی نحیف کلائی میں سوئی پیوست کر کے گلوکوز کی ڈرِپ چڑھا دی۔ اس کے ساتھ ہی ایک طاقتور پین کِلر انجکشن کا اضافہ کیا گیا، تاکہ رات بھر سے جاری اس لرزہ خیز درد کے طوفان کو تھمنے کا راستہ مل سکے۔
عامر، جو دیوار سے ٹیک لگائے مسلسل عائشہ کے چہرے کو تک رہا تھا، تذبذب اور خوف کی گرفت میں تھا۔
،اس نے ایک گہری سانس لی اور اپنے لہجے کی لڑکھڑاہٹ پر قابو پانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے ہکلاتے ہوئے پوچھا
“ڈاکٹر صاحب! اسے۔۔۔ اسے کیا مسئلہ ہے؟ یہ درد اتنا شدید کیوں تھا؟”
،ڈاکٹر نے میز پر پڑی دواؤں کی طرف ہاتھ بڑھایا اور نہایت اطمینان سے جواب دیا
پریشانی کی کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ دراصل شدید گرمی اور کام کاج کی وجہ سے ان کے جسم میں پانی کی کمی ہو گئی تھی۔”
“اسی ڈی ہائیڈریشن کی وجہ سے گردوں پر دباؤ بڑھا اور یہ شدید ٹیسیں اٹھنے لگیں۔ یہ ڈرِپ ختم ہونے تک انشاء اللہ درد بالکل غائب ہو جائے گا۔
،اس کے بعد ڈاکٹر نے ادویات کے چند پتے اٹھائے اور ایک نیلے مارکر سے ان پر لکیریں کھینچتے ہوئے ہدایات دینے لگا
“ان کا خاص خیال رکھیں۔ انہیں زیادہ سے زیادہ پانی پلائیں اور یہ دوائیں باقاعدگی سے ایک ہفتہ تک دینی ہیں۔ اگر احتیاط کی گئی تو یہ دوبارہ نہیں ہوگا۔”
بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب!” عامر نے ایک طویل اور پرسکون سانس بھری، جیسے اس کے اپنے سینے سے بھی کوئی بوجھ ہٹ گیا ہو۔”
اس نے اپنی نظریں موڑ کر عائشہ کی طرف دیکھا۔ وہ لڑکی، جو چند گھنٹے پہلے تک مچھلی کی طرح درد سے تڑپ رہی تھی اور جس کی سسکیاں عامر کے دل کو چیر رہی تھیں، اب پین کِلر کے اثر اور ڈرِپ کی راحت ملتے ہی ایک گہری اور پرسکون نیند کی آغوش میں جا چکی تھی۔ اس کے زرد گالوں پر اب سکون کی ایک ہلکی سی لہر تھی اور بند آنکھیں یہ گواہی دے رہی تھیں کہ اسے ایک طویل عرصے بعد ایسی نیند نصیب ہوئی ہے جہاں نہ کوئی تعاقب تھا اور نہ ہی کوئی جسمانی کرب۔ عامر اسے دیکھتا رہا اور اس کے دل میں ایک ہی دعا تھی کہ کاش عائشہ کی زندگی کی تمام تلخیاں اسی طرح مٹ جائیں۔
°°°°°°°°°°
رات کے آخری پہر کی خاموشی ہر شے کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے تھی، مگر کمرے کے اندر سردی کی لہریں عامر کے اعصاب کو جھنجھوڑ رہی تھیں۔ اسے شدت سے چائے کی طلب محسوس ہو رہی تھی۔ وہ دبے قدموں اپنی چارپائی سے اٹھا تاکہ برابر میں گہری نیند سوئی عائشہ کے خوابوں میں ذرا برابر بھی مخل نہ ہو۔ اس نے ایک نگاہِ محبت اپنی شریکِ حیات پر ڈالی، چادر اوڑھی اور نہایت احتیاط سے کنڈی کھول کر صحن میں نکل آیا۔
باہر کی یخ بستہ ہوا نے ایک ہی جھٹکے میں اسے جھرجھری لینے پر مجبور کر دیا۔ باورچی خانے کی دہلیز پار کرتے ہی اس نے پہلا سگریٹ سلگایا اور ایک لمبا کش کھینچ کر اپنے اندر کے اضطراب کو مٹانے کی کوشش کی۔
باورچی خانے کی مدھم روشنی میں عامر کے ہاتھ مشینی انداز میں حرکت کر رہے تھے۔ اس نے ریفریجریٹر سے دودھ نکالا، ساس پین میں ڈالا اور چولہے کی نیلی لو پر چڑھا دیا۔ جیسے ہی دودھ گرم ہونے لگا، عامر نے نے ایک سگریٹ نکالا، اسے مہارت سے مسل کر اس کا سارا تمباکو اپنی ہتھیلی پر ڈھیر کر لیا۔ پھر ماچس کی ڈبیا سے چرس کی زہریلی گولی نکالی جو برسوں سے اس کی اعصابی کمزوری کا سہارا بنی ہوئی تھی۔ ماچس کی تیلی پر لگی وہ گولی جب لائٹر کی آگ سے پگھل کر تمباکو میں شامل ہوئی، تو باورچی خانے کی فضا ایک مخصوص، بھاری بو سے بھر گئی۔
عامر اس عمل میں اس قدر محو تھا کہ اسے اپنی پشت پر موجود کسی وجود کا احساس تک نہ ہوا۔ وہ تندہی سے اس زہر کو مکس کر رہا تھا، مگر جیسے ہی اسے محسوس ہوا کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے، اس کے ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہر دوڑ گئی۔ پلٹ کر دیکھا تو عائشہ دروازے پر کھڑی تھی… سنجیدہ، ساکت اور اداس۔
مجھے بتا دیتے، میں خود چائے بنا دیتی۔” عائشہ نے نہایت نرمی سے خاموشی کو توڑا اور چولہے کی طرف بڑھی۔”
عامر کا رنگ اڑ چکا تھا۔ اس کے ہاتھ لرزنے لگے اور زبان پر وہی پرانی ہکلاہٹ لوٹ آئی جو شدید ذہنی دباؤ میں اس کا مقدر بن جاتی تھی۔
نن… نہیں… مم… مجھے لگا تم سو ر… ر… رہی ہو۔” اس نے عجلت میں تمباکو اور ماچس کی ڈبیا چھپانے کی کوشش کی۔”
عائشہ نے خاموشی سے پتی اور چینی دودھ میں شامل کی، مگر اس کی نظریں عامر کے چہرے پر جمی تھیں۔
مجھے لگا تھا کہ آپ یہ سب چھوڑ چکے ہیں۔” اس نے سپاٹ مگر گہرے لہجے میں کہا۔”
نن… نہیں… میں کوشش کر رہا ہوں۔” عامر نے ایک کمزور سا جھوٹ بولا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اس نے کبھی سنجیدگی سے اس لت سے پیچھا چھڑانے کا سوچا تک نہیں تھا۔”
،عائشہ نے چائے کی پونی چلاتے ہوئے ایسی بات کہہ دی جس نے عامر کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا
“شاید عام حالات ہوتے تو میں بھی عام بیویوں کی طرح آپ سے یہ سب چھوڑنے کا مطالبہ کرتی، لیکن میری پوزیشن اتنی مضبوط نہیں کہ کوئی مطالبہ کر سکوں۔”
یہ الفاظ عامر کے سینے میں کسی خنجر کی طرح اترے۔
“کیوں؟ کیا ہوا تمہاری پوزیشن کو؟ تم ایسا کیوں سوچتی ہو عائشہ؟ میرے دل میں جو مقام تمہارا ہے، وہ کسی کا نہیں! تمہارے لیے تو میں جان بھی دے دوں۔”
“اگر واقعی آپ مجھے چاہتے ہیں، تو یہ زہر چھوڑ دیں،” عائشہ نے پہلی بار براہِ راست اس کی کمزوری پر وار کیا۔
عامر نے ایک لمبی، حسرت بھری سانس لی۔
“کاش چھوڑ پاتا عائشہ! یہ اتنا آسان نہیں ہے۔”
“چلیں ٹھیک ہے، کوئی مسئلہ نہیں،” عائشہ نے جس بے نیازی سے یہ کہا، وہ عامر کے لیے کسی تازیانے سے کم نہیں تھا۔ “مجھے اپنی حدود یاد ہیں، اسی لیے خاموش ہو گئی۔”
عائشہ کے ان الفاظ نے عامر کو ایموشنل بلیک میلنگ کے ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کیا جہاں اسے اپنی مردانگی اور محبت میں سے ایک کا انتخاب کرنا تھا۔
،وہ کچھ لمحے گہری سوچ میں ڈوبا رہا، پھر اس نے عائشہ کی آنکھوں میں جھانک کر پوچھا
“کیا واقعی تم چاہتی ہو کہ میں یہ چھوڑ دوں؟”
ہاں! کوئی بیوی یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ اس کا شوہر نشہ کرے۔” عائشہ کی آنکھوں میں اُمید کی ایک رمق جاگی۔”
،عامر نے ایک آخری سمجھوتہ کرنا چاہا
“اگر میں چرس پینا چھوڑ دوں… تو کیا سادہ سگریٹ کی چھوٹ مل جائے گی؟”
عائشہ نے اسے مسکرا کر دیکھا اور اثبات میں سر ہلا دیا، اس کی مسکراہٹ نے جواب دے دیا تھا۔ عامر نے فوراً ماچس کی وہ ڈبیا، جس میں اس کی برسوں کی لت قید تھی، عائشہ کے حوالے کر دی۔
“میرا وعدہ ہے عائشہ! آج کے بعد اس زہر کو کبھی منہ نہیں لگاؤں گا۔”
عامر کے لہجے میں اب ایک نیا عزم اور پختگی تھی۔ عائشہ کے چہرے پر پھیلی وہ مسرت اور دل میں ابھرنے والے شکر گزاری کے جذبات عامر کے لیے کسی بھی نشے سے زیادہ تسکین بخش تھے۔ اسے یقین ہو گیا تھا کہ اسے ایک ایسا جیون ساتھی مل گیا ہے جو اسے اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جانے کی طاقت رکھتا ہے۔
°°°°°°°°°°
سوموار کی وہ رات خاموشی اور سحر انگیزی کا ایک عجیب امتزاج تھی۔ صحن میں بچھی دو چارپائیاں جیسے کائنات کے اس وسیع و عریض نقشے کے نیچے دو چھوٹے سے جزیرے تھے۔ آسمان پر ستاروں کی کہکشاں بچھی تھی، جو اپنی ابدی چمک سے انسانی دکھوں کا مذاق اڑاتی محسوس ہوتی تھی۔ فضا میں رات کی خنکی تھی، مگر عائشہ اور عامر کے درمیان ہونے والی گفتگو تپتے ہوئے کوئلوں کی طرح گرم اور تکلیف دہ تھی۔
آسمان پر چمکتے ان گنت ستاروں کو تکتے ہوئے عامر کی آنکھوں میں ماضی کی دھند چھانے لگی۔ اس نے ایک گہرا سانس لیا، جو کسی دبے ہوئے طوفان کی آہٹ معلوم ہوتا تھا۔
،اس نے نہایت دھیمے، مگر بوجھل لہجے میں عائشہ کو پکارا
“جانتی ہو عائشہ! میں ایک بہت برا انسان ہوں۔ میں نے اپنی پوری زندگی میں شاید ہی کوئی ایسا کام کیا ہو جسے نیکی کا نام دیا جا سکے۔”
اتنا کہہ کر اس نے کروٹ لی اور عائشہ کے چہرے کی طرف رخ کر لیا، جہاں ستاروں کی مدھم روشنی رقص کر رہی تھی۔
،میں نے ہر وہ گناہ کیا جو ایک انسان کو شیطان کے قریب کر دیتا ہے۔ میں نے نشے کی دھول اڑائی، چوریاں کیں، ڈکیتیاں کیں… میرے ضمیر پر کبھی بوجھ نہیں پڑا”
“یہاں تک کہ جب میں نے غصے کے جنون میں ایک شخص پر گولیاں چلائیں اور جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچ گیا، تب بھی مجھے پچھتاوا نہیں ہوا تھا۔
،عائشہ نے بھی کروٹ بدلی، اس کی نظریں عامر کی آنکھوں میں موجود اس کرب کو پڑھنے لگی تھیں جو اب لفظوں کی صورت باہر آ رہا تھا۔ عامر کی آواز میں اب ایک لرزش تھی
میری وہ گولی محض ایک دشمن کو نہیں لگی تھی عائشہ، وہ میرے اپنے خاندان کے نصیب میں لگی تھی۔ میری اس حماقت کا خمیازہ میرے بےگناہ چچا کو بھگتنا پڑا۔”
“میرے ایک برے فعل کے بدلے انہیں بےدردی سے قتل کر دیا گیا۔
عامر کی آنکھوں سے ایک آنسو پھسل کر تکیے میں جذب ہو گیا۔
میں وہ سب بدلنا چاہتا ہوں، مگر وقت کی لکیریں مٹتی نہیں ہیں۔ میں اب سکون سے سو نہیں پاتا۔”
ہر لمحہ، ہر گھڑی بس یہی ایک پچھتاوا مجھے اندر سے دیمک کی طرح چاٹتا ہے کہ ان کی موت کا ذمہ دار میں ہوں۔ میری وجہ سے ان کے بچے یتیم ہو گئے، ان کا گھر اجڑ گیا۔
“تم نہیں جانتی عائشہ، یہ کیسی اذیت ہے کہ آپ خود زندہ ہوں اور آپ کا محسن آپ کے گناہوں کی بھینٹ چڑھ جائے۔
اس نے اپنی کھردری ہتھیلی سے آنسو صاف کیے، مگر درد کی لہریں اب بھی اس کے چہرے پر عیاں تھیں۔
عائشہ خاموش رہی۔ وہ خود بھی اندر سے کسی ٹوٹے ہوئے آئینے کی طرح کرچی کرچی تھی۔ اس کے پاس عامر کے اس پہاڑ جیسے دکھ کو سہارا دینے کے لیے الفاظ نہیں تھے، بس ایک ہمدردانہ خاموشی تھی جو تادیر ان کے درمیان حائل رہی۔
،پھر، عائشہ کے لرزتے ہوئے ہونٹوں سے وہ جملہ نکلا جس نے فضا کی سنگینی کو دگنا کر دیا
“عامر! میں مرنا نہیں چاہتی۔”
یہ الفاظ عامر کے دل پر کسی بھاری ہتھوڑے کی طرح لگے۔ “تم… تم ایسا کیوں کہہ رہی ہو؟” اس نے بدحواسی میں پوچھا۔
جب نقیب مجھ پر تشدد کرتا تھا، جب وہ میری روح کو تذلیل کے کانٹوں سے زخمی کرتا تھا، تو میں مصلے پر بیٹھ کر اللہ سے صرف موت مانگتی تھی۔”
“…مجھے لگتا تھا کہ یہ دنیا میرے لیے جیل ہے اور قبر ہی وہ واحد جگہ ہے جہاں مجھے پناہ مل سکتی ہے۔ مگر اب
،عائشہ نے سسکتے ہوئے اپنے آنسو پونجھے
اب میں جینا چاہتی ہوں۔ میں تمہارے اس لمس، تمہاری اس محبت کے سائے میں بوڑھی ہونا چاہتی ہوں۔”
“میں چاہتی ہوں کہ ہمارے آنگن میں چھوٹے چھوٹے بچے ہوں، ہماری اپنی ایک دنیا ہو۔
“ہمارے بچے ضرور ہوں گے عائشہ! ہم ایک بھرپور زندگی گزاریں گے، ہم اکٹھے سفید بالوں تک کا سفر طے کریں گے۔”
عامر نے اسے حوصلہ دینے کے لیے اس کے چہرے کو چھوا، مگر عائشہ نے نفی میں سر ہلا دیا۔
نہیں عامر…! مجھے اب ایسا نہیں لگتا۔ پچھلے ایک سال سے میرے پیٹ میں یہ درد ایک ناگ بن کر بیٹھا ہے۔”
“مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میرا جسم اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ جیسے مٹی کا کوئی برتن ہو جو اندر سے تڑک گیا ہو۔ مجھے نہیں لگتا کہ میرے پاس اب زیادہ وقت باقی ہے۔
عامر نے فوراً اس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا، جیسے وہ اسے موت کے چنگل سے چھین لینا چاہتا ہو۔
“ایسا ہرگز مت کہو! تمہیں کچھ نہیں ہوگا۔ ڈاکٹر نے کہا تھا کہ یہ صرف پانی کی کمی اور معمولی تکلیف ہے۔ تم خواہ مخواہ پریشان ہو رہی ہو، سب ٹھیک ہو جائے گا۔”
،عائشہ لمحہ بھر کو خاموش ہوئی، پھر ایک تھکے ہوئے اور شکستہ لہجے میں بولی
عامر! یہ قدرت کا کیسا انصاف ہے؟ جب میں موت کی تمنا کرتی رہی، تب وہ مجھے نہ ملی۔”
“اب جب میں جینا چاہتی ہوں، جب مجھے جینے کی ایک ٹھوس وجہ مل گئی ہے، تو شاید میرا وقت پورا ہو چکا ہے۔
عامر نے اس کا ہاتھ مزید مضبوطی سے جکڑ لیا۔ اس کی آنکھوں میں ایک وحشیانہ عزم ابھرا۔
“نہیں۔۔۔ بس خاموش ہو جاؤ! میں جمعہ والے دن تمہیں بڑے ڈاکٹر کے پاس لے جاؤں گا۔ میں تمہارا مکمل چیک اپ کرواؤں گا، بہترین علاج کرواؤں گا۔ میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا۔”
عامر فرطِ جذبات سے مغلوب تھا، وہ نہیں جانتا تھا کہ عائشہ کے اندرونی اعضاء کس قدر خاموشی سے اسے موت کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ مگر اس ستاروں بھری رات میں، اس نے ایک عہد کر لیا تھا کہ وہ اپنی عائشہ کو بچانے کے لیے موت سے بھی لڑ جائے گا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ اس کی زندگی کا وہ امتحان ہے جہاں صرف ارادے نہیں بلکہ تقدیر جیتتی ہے۔
°°°°°°°°°°
جمعہ کی وہ صبح امید اور اندیشوں کے ایک عجیب سے ملغوبے کے ساتھ طلوع ہوئی تھی۔ عامر، جس نے ساری رات عائشہ کی کراہیں سن کر بے چینی میں گزاری تھی، اسے لے کر شہر کے بڑے ہسپتال پہنچ چکا تھا۔ ہسپتال کی فضا میں پھیلی فینائل اور ادویات کی مخصوص بو، وہیل چیئرز کی گڑگڑاہٹ اور مریضوں کی سسکیاں عائشہ کے اعصاب پر ایک بوجھ بن رہی تھیں۔
ہسپتال کے شور و غل میں گھنٹوں کی مسافت اور انتظار کے بعد، وہ لمحہ آ ہی گیا جب عائشہ کے تمام ٹیسٹ مکمل ہو چکے تھے۔ خون کے نمونے، گردوں کا الٹراساؤنڈ اور دیگر پیچیدہ معائنے عامر کے ہاتھ میں ایک فائل کی صورت موجود تھے۔ وہ دونوں ڈاکٹر کے کیبن میں داخل ہوئے، جہاں ایک پرسکون ماحول تھا، مگر عائشہ کے دل کی دھڑکنیں اس سکون کو چیلنج کر رہی تھیں۔
ڈاکٹر نے نہایت عجلت مگر مہارت کے ساتھ ایک ایک کر کے تمام رپورٹس پر نظر ڈالی۔ کاغذات پلٹنے کی آواز اس خاموش کمرے میں عامر کو ہتھوڑوں کی طرح لگ رہی تھی۔
،ڈاکٹر نے چشمہ درست کیا اور عامر کی طرف دیکھ کر اطمینان بخش لہجے میں بولا
” کے ذرات نظر آ رہے ہیں۔(Pus)گھبرانے کی کوئی خاص بات نہیں ہے۔ رپورٹس کے مطابق گردے میں تھوڑی سوزش ہے اور اسی انفیکشن کی وجہ سے خون میں پس”
،ڈاکٹر نے ایک نسخہ لکھتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی
میں یہ چند اینٹی بائیوٹک اور درد کش دوائیں لکھ رہا ہوں۔ انہیں پابندی سے استعمال کریں اور زیادہ سے زیادہ پانی پیئیں۔”
“ایک ہفتے بعد دوبارہ آ کر معائنہ کروائیں، ان شاء اللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔
اس نے وہ کاغذ ایک ایسی بے نیازی سے عامر کی طرف بڑھایا جیسے یہ محض ایک معمولی نزلہ زکام کا نسخہ ہو۔
بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب!” عامر نے ایک طویل اور گہرا سانس لیا، جیسے اس کے کندھوں سے بڑا بوجھ ہٹ گیا ہو۔ اس نے فائل تھامی اور عائشہ کا ہاتھ پکڑ کر کیبن سے باہر نکل آیا۔”
،ہسپتال کی راہداری میں چلتے ہوئے عامر کے چہرے پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ تھی، وہ عائشہ کو تسلی دیتے ہوئے بولا
دیکھا! میں نے کہا تھا نا کہ تم خواہ مخواہ ڈر رہی ہو؟ بس معمولی سا مسئلہ ہے، تھوڑی سی سوزش ہی تو ہے، اب دیکھ لو ڈاکٹر نے بھی کہہ دیا کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔”
“اب بس یہ دوائیں کھاؤ پھر تم بالکل ٹھیک ہوجاؤ گی۔
عائشہ خاموش رہی۔ اس کے لبوں پر ایک پھیکی سی مسکراہٹ تو آئی، مگر وہ عامر کی اس خوش فہمی میں شریک نہ ہو سکی۔ عامر تو ڈاکٹر کی ان سطحی رپورٹوں اور الفاظ پر تکیہ کر رہا تھا، مگر عائشہ کا اپنا وجود اسے کچھ اور ہی سنا رہا تھا۔
ڈاکٹر نے تو صرف سوزش دیکھی تھی، مگر عائشہ کو اپنے اندر کسی عمارت کے ڈھیر ہونے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ اس کے جسم کا ریشہ ریشہ کسی قدیم ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ اس کے وجود میں ایک ایسا خاموش طوفان مچل رہا تھا جسے کوئی بھی مشین یا خون کا ٹیسٹ پکڑنے سے قاصر تھا۔ وہ جانتی تھی کہ یہ درد معمولی نہیں ہے۔
°°°°°°°°°°
وقت ریت کی طرح ہاتھوں سے پھسل رہا تھا اور دو ماہ کا طویل عرصہ بیت چکا تھا، مگر عائشہ کی زندگی میں سکون کے دن اب خواب ہوتے جا رہے تھے۔ ان ساٹھ دنوں میں دواؤں کا ایک لامتناہی سلسلہ تھا جو اس کے وجود کا حصہ بن چکا تھا۔ جب تک خون میں ادویات کا زہر رقص کرتا، درد کی لہریں کسی دبے ہوئے طوفان کی طرح تھمی رہتیں، مگر جیسے ہی دوا کا اثر زائل ہوتا، وہ تیکھا اور بے رحم درد کسی ناگ کی طرح دوبارہ پھنکارتا ہوا اس کے جسم کی پور پور میں سرایت کر جاتا۔
عائشہ اب وہ لڑکی نہیں رہی تھی جس کی آنکھوں میں عامر کے ساتھ جینے کی تمنا نے رنگ بھرے تھے۔ وہ اب ایک خاموش تصویر بن چکی تھی جس کے لبوں سے ہنسی کی تتلیاں اڑ چکی تھیں۔ وہ سارا دن گھر کے کسی گوشے میں یا چارپائی پر ساکت پڑی رہتی، اس کی نظریں چھت کے شہتیروں میں یا دیواروں کے دھندلکوں میں کہیں کھوئی رہتیں۔ بولنا تو جیسے وہ بھول ہی گئی تھی، اگر کبھی عامر کچھ پوچھتا تو بس ایک پھیکی سی مسکراہٹ یا سر کی جنبش سے جواب دے دیتی۔ اس کی خاموشی میں ایک ایسا گہرا دکھ تھا جسے الفاظ کا لبادہ پہنانا ممکن نہیں تھا۔
بیماری نے عائشہ کے حسن اور شباب کو کسی دیمک کی طرح چاٹ لیا تھا۔ اس کے وہ گلابی گال، جو کبھی حیا سے دمک اٹھتے تھے، اب پچک کر ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکے تھے۔ رنگت میں زردی اس قدر غالب آ چکی تھی جیسے کسی نے چہرے پر ہلدی مل دی ہو۔ اس کی ویران اور گہری آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اب نمایاں ہو کر اس کے اندرونی خلفشار اور راتوں کی بے خوابی کا نوحہ پڑھ رہے تھے۔ وہ دن بدن پگھلتی ہوئی موم بتی کی طرح کمزور ہوتی جا رہی تھی، یہاں تک کہ اس کے نحیف قدموں کا بوجھ اٹھانا بھی اس کے لیے محال ہو چکا تھا۔
عامر، جو اپنی شریکِ حیات کو ہر دکھ سے بچانے کا عہد کر چکا تھا، عائشہ کی اس بدلتی حالت کو دیکھ کر اندر سے کرچی کرچی ہو رہا تھا۔ وہ ہر روز اسے امید دلاتا، اسے ہنسانے کی کوشش کرتا، مگر عائشہ کے چہرے کی ویرانی اسے خاموش کر دیتی۔ وہ اس کے علاج کے لیے ہر وہ جتن کر رہا تھا جو اس کے بس میں تھا۔ سروس اسٹیشن کی وہ تھکا دینے والی دیہاڑی اب اس کے لیے ناکافی ثابت ہو رہی تھی۔ مہنگی دوائیں، ٹیسٹ اور بار بار ڈاکٹر کے چکر اس کی قلیل جمع پونجی کو نگل چکے تھے۔
اس کے پاس اتنے وسائل نہیں تھے کہ وہ عائشہ کو کسی بڑے شہر کے جدید ہسپتال یا کسی نامور سپیشلسٹ کے پاس لے جا پاتا۔ وہ بے بسی کی اس دیوار سے ٹکرا رہا تھا جہاں ایک طرف اس کی والہانہ محبت تھی اور دوسری طرف معاشرے کی وہ سنگدلی جو غریب کے لیے علاج کے دروازے بند رکھتی ہے۔ وہ راتوں کو جاگ کر عائشہ کی خدمت کرتا، اس کو اپنائیت کا احساس کرواتا اور خدا سے گڑگڑا کر اس کی زندگی کی بھیک مانگتا، مگر حالات کی سنگینی میں کوئی خاص فرق نہیں پڑ رہا تھا۔
عائشہ کا وجود اب ایک ایسی عمارت کی طرح تھا جس کی بنیادیں کھوکھلی ہو چکی ہوں اور عامر اس عمارت کو گرنے سے بچانے کے لیے اپنی جان تک لڑا رہا تھا، مگر تقدیر کے فیصلے شاید کچھ اور ہی تھے۔
°°°°°°°°°°
دوپہر کی تمازت اپنے جوبن پر تھی اور سورج کی تپتی شعاعیں صحن کے فرش پر ناچ رہی تھیں۔ عائشہ، جس کا وجود نقاہت کی وجہ سے پہلے ہی بوجھل تھا، مشینی انداز میں جھاڑو لگا رہی تھی۔ اس کے کانوں میں لگے ایئر بڈز اسے عامر کی آواز سے جوڑے ہوئے تھے۔
،جھاڑو کی سرسراہٹ اور عامر کی دھیمی آواز کے بیچ عائشہ نے ایک لمبا سانس لیا اور بھرائی ہوئی آواز میں پوچھا
عامر! کب تک آؤ گے تم؟” اس کے لہجے میں ایک عجیب سی بیزاری اور بے چینی تھی، جیسے وہ اس طویل دوپہر کے سائے سے گھبرا رہی ہو۔”
عامر نے دوسری طرف سے شاید واپسی کے وقت کا بتایا، جس پر اس نے ایک بے جان سا “اچھا” کہا۔ وہ اپنی بات جاری رکھنا چاہتی تھی، مگر اچانک اسے اپنے حلق میں ایک کڑواہٹ اور معدے میں ابال سا محسوس ہوا۔ اس کا سر چکرانے لگا اور دنیا گھومتی ہوئی محسوس ہوئی۔ وہ جھاڑو وہیں چھوڑ کر تیزی سے صحن کے کونے میں درخت کی کیاری کی طرف لپکی۔
وہ ابھی کیاری کے پاس بیٹھی ہی تھی کہ اسے زوردار متلی ہوئی اور وہ بے تحاشہ الٹیاں کرنے لگی۔ عامر، جو فون کے دوسرے سرے پر تھا، اس کی تکلیف دہ آوازیں سن کر تڑپ اٹھا۔
“اس کی بے تاب آواز ایئر بڈز میں گونج رہی تھی، “عائشہ! کیا ہوا؟ بولو تو صحیح! عائشہ، تم ٹھیک تو ہو نا؟
مگر عائشہ جواب دینے کی سکت کھو چکی تھی۔ اگلے ہی لمحے جب اسے دوبارہ قے ہوئی، تو زمین پر گرنے والے مادے کا رنگ دیکھ کر اس کی روح تک لرز گئی۔ وہ زرد رنگت نہیں تھی، بلکہ سرخ، تازہ خون کے چھینٹے تھے جو مٹی پر کسی بھیانک داستان کی طرح بکھر گئے تھے۔ خون دیکھ کر عائشہ کے حواس جواب دے گئے۔ اسے اپنی موت اپنے سامنے رقص کرتی محسوس ہونے لگی۔
اس کی آنکھوں میں آنسوؤں کا سیلاب اُمڈ آیا۔ اس نے لرزتے ہاتھوں سے اپنے دوپٹے کے پلو سے منہ پونچھا، مگر وہ سفید کپڑا بھی اب سرخی سے داغدار ہو چکا تھا۔
،اس نے اپنی تمام تر ہمت مجتمع کی اور روتے ہوئے، سسکتی آواز میں پکارا
“…عامر! پلیز… پلیز فوراً گھر آ جاؤ۔ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے عامر! میں مر جاؤں گی”
اس کے لہجے میں وہ خوف اور بے بسی تھی جو صرف اس وقت آتی ہے جب انسان خود کو بالکل نہتا محسوس کرے۔ عامر کی آواز میں اب ایک وحشیانہ اضطراب تھا، وہ اسے تسلی دینے کی کوشش کر رہا تھا مگر خود اس کی آواز پھٹ رہی تھی۔
“ہاں… پلیز ابھی آؤ… جلدی آنا، میں بالکل ٹھیک نہیں ہوں۔”
عائشہ نے ہچکیوں کے درمیان آخری جملہ کہا اور اسی لمحے دوسری طرف سے کال منقطع ہو گئی۔ صحن میں دوبارہ وہی تپتی ہوئی خاموشی چھا گئی، مگر اب اس خاموشی میں عائشہ کے دل کی دھڑکنیں اور مٹی پر بکھرا وہ لہو ایک خاموش نوحہ پڑھ رہے تھے۔ اسے یقین تھا کہ عامر اب ہوا کی رفتار سے اس کی طرف لپک رہا ہوگا، مگر اس کا اپنا وجود اسے دھوکہ دینے لگا تھا۔
°°°°°°°°°°
ایک بار پھر، ہسپتال کی وہی مخصوص اور بوجھل بو عامر اور عائشہ کا استقبال کر رہی تھی۔ اس بار وہ ایک نئے ڈاکٹر کے سامنے بیٹھے تھے، جس کے چہرے کی پیشہ ورانہ بے نیازی عامر کے اندرونی اضطراب سے بالکل مطابقت نہیں رکھتی تھی۔ ڈاکٹر نے عائشہ کی پرانی رپورٹس کو کسی بے جان کاغذ کی طرح الٹ پلٹ کر دیکھا، اس کی موجودہ نحیف حالت کا جائزہ لیا اور پھر روایتی مشینی انداز میں نسخہ لکھنا شروع کر دیا۔
ڈاکٹر نے چشمہ درست کیا اور ایک ایسی مسکراہٹ کے ساتھ عامر کی طرف دیکھا جو مریض کو تسلی دینے کے لیے مخصوص ہوتی ہے۔
ہو گئے ہیں۔(Ulcers) پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں، دراصل مسلسل بےقاعدگی اور شاید ذہنی دباؤ کی وجہ سے معدے میں زخم”
اسی وجہ سے قے میں خون کی آمیزش ہوئی تھی۔
“میں یہ چند دوائیں لکھ رہا ہوں، بس تیز مصالحے اور تلی ہوئی چیزوں سے مکمل پرہیز کریں، ان شاء اللہ ایک ہفتے میں سب ٹھیک ہو جائے گا۔
ڈاکٹر نے وہ نسخہ عامر کی طرف بڑھا دیا، مگر عامر کا ہاتھ اسے پکڑنے کے لیے ساکت رہا۔ وہ گہری سوچوں کے کسی ایسے گرداب میں پھنسا تھا جہاں ڈاکٹر کے یہ حوصلہ افزا الفاظ اسے کھوکھلے محسوس ہو رہے تھے۔ عائشہ کی حالت کئی ہفتوں سے گرتی جا رہی تھی۔ وہ بجھتی ہوئی شمع کی طرح پگھل رہی تھی، اور ڈاکٹر اسے محض معدے کا زخم قرار دے رہا تھا۔ عامر کا دل چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ کچھ بہت بڑا غلط ہو رہا ہے، کوئی ایسا زہر ہے جو عائشہ کے وجود کو اندر سے چاٹ رہا ہے۔
،عامر نے اپنی لرزتی ہوئی آواز کو قابو میں کیا اور ڈاکٹر کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا
ڈاکٹر صاحب! میں اس کا مکمل چیک اپ کروانا چاہتا ہوں۔ “
“ہر وہ ٹیسٹ جو طبی سائنس میں ممکن ہے، تاکہ اگر کوئی چھپا ہوا مرض اس کے اندر پل رہا ہے، تو اس کا بروقت پتہ چل سکے۔
ڈاکٹر نے عامر کی آنکھوں میں موجود اس وحشیانہ ہمدردی کو محسوس کیا اور لہجہ بدل لیا۔
“دیکھیے، طبی طور پر تو اس کی ضرورت نہیں لگتی، لیکن اگر آپ کی تسلی اسی میں ہے، تو پھر آپ میرپور چلے جائیں۔ وہاں ان کا فل باڈی چیک اپ کروا لیں۔”
اس نے نسخہ واپس لیا اور ایک الگ صفحے پر ٹیسٹوں کی ایک طویل فہرست لکھنی شروع کر دی۔
عامر کے اعصاب پر ایک بار پھر وہ منظر سوار ہو گیا جب وہ پہلی بار نقیب کے گھر گیا تھا۔ اسے عائشہ کا وہ پیٹ تھامنا یاد آرہا تھا، وہ تڑپ، وہ بے بسی۔ اس کے سینے میں نقیب کے خلاف غصے کی ایک لہر دوڑی۔ اگر اس شخص نے وقت پر علاج کروایا ہوتا، اگر اس نے عائشہ کو انسان سمجھا ہوتا، تو شاید آج نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔
ڈاکٹر صاحب! ان ٹیسٹوں پر کتنا خرچہ آئے گا؟” عامر نے یہ سوال ایسے پوچھا جیسے وہ اپنی قسمت کا فیصلہ سن رہا ہو۔”
“ڈاکٹر نے نہایت پرسکون لہجے میں جواب دیا، “زیادہ نہیں… یہی کوئی پندرہ سے بیس ہزار کے لگ بھگ۔
ڈاکٹر کے لیے یہ رقم محض چند نوٹ تھی، مگر عامر کے لیے، جو پندرہ سو کی دیہاڑی پر اپنے گھر کا پہیہ چلا رہا تھا، یہ رقم ایک بلند و بالا پہاڑ کی مانند تھی۔ پندرہ ہزار! اسے یاد آیا کہ اس نے کتنی راتیں جاگ کر، کتنا پسینہ بہا کر اپنے خوابوں کو سینچا تھا، مگر آج اس کی محبت ایک ترازو میں تلی جا رہی تھی جس کے دوسرے پلڑے میں اس کی مفلسی بیٹھی مسکرا رہی تھی۔
وہ ڈاکٹر کا شکریہ ادا کر کے اٹھ تو گیا، مگر اس کے اندر جیسے کوئی عمارت دھڑام سے گر گئی تھی۔ عائشہ کا ہاتھ تھامے جب وہ کلینک سے باہر نکلا، تو اس کا ذہن کسی کمپیوٹر کی طرح حساب کتاب میں مصروف ہو گیا تھا۔ وہ پندرہ ہزار کہاں سے لائے گا؟ کس کا در کھٹکھٹائے گا؟ کیا وہ ایک بار پھر اسی تاریک دنیا کا رخ کرے گا جسے وہ عائشہ کی خاطر چھوڑ چکا تھا؟
رات کے سائے گہرے ہو رہے تھے اور عامر کے سامنے اب دو ہی راستے تھے۔ یا تو اپنی غربت کے آگے گھٹنے ٹیک دے یا پھر اپنی عائشہ کی زندگی خریدنے کے لیے ایک بار پھر کسی خطرناک مہم پر نکل کھڑا ہو۔ اس کے قدم بھاری تھے، مگر اس کی آنکھوں میں وہ وحشی جانور دوبارہ انگڑائی لے رہا تھا جو اپنے پیار کی خاطر پوری دنیا سے لڑ جانے کی سکت رکھتا تھا۔
°°°°°°°°°°
…جاری ہے
