ناول: وارث کون

باب چہارم: تشنہ دیدار

قسط نمبر 18

مصنف: زیاد اصغر زارون

°°°°°°°°°°

اگلی صبح جب سپیدہِ سحر نے مضافات کو اپنی لپیٹ میں لیا، تو عامر کے اعصاب پر رات بھر کی پریشانی اور بے خوابی کے سائے گہرے تھے۔ وہ بوجھل قدموں کے ساتھ سروس اسٹیشن پہنچا۔ جیسے ہی باس کی نظر اس پر پڑی جو پہلے ہی ویک اینڈ کے دباؤ کی وجہ سے کسی بپھرے ہوئے بیل کی طرح ادھر ادھر حکم صادر کر رہا تھا۔
“اوئے عامر! جلدی کر، کپڑے بدل اور فوراً اڈے کی صفائی شروع کر۔ آج چھٹی کا دن ہے، گاڑیوں کا تانتا بندھا رہے گا، ایک پل کی فرصت نہیں ملے گی۔”

باس نے اسے دیکھتے ہی مشینی انداز میں ہدایات کی بوچھاڑ کر دی۔

،عامر کے چہرے پر تھکن اور کرب کی ایسی پرچھائیاں تھیں جنہیں نظر انداز کرنا مشکل تھا، مگر وہ ہمت مجتمع کر کے بولا

“باس! آج میں کام نہیں کر پاؤں گا۔ گھر میں بہت زیادہ پریشانی ہے، مجھے بس ابھی واپس نکلنا ہے۔”

،باس کے لہجے میں کام کی سختی تو تھی، مگر تھوڑی سی انسانی ہمدردی بھی جاگ اٹھی

“خیریت تو ہے نا؟”

“باس! میری بیوی بہت سخت بیمار ہے، اسے بڑے ہسپتال لے کر جانا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ میرے پاس ایک ٹکا نہیں، مجھے کچھ پیسوں کی اشد ضرورت تھی۔”

عامر نے جب پیسوں کا ذکر کیا، تو باس کے چہرے کے تاثرات پل بھر میں بدل گئے۔ ہمدردی کا وہ ننھا سا دیا بجھ گیا اور اس کی جگہ روایتی بیزاری اور کنجوسی نے لے لی۔
“یار عامر! تم تو جانتے ہو حالات کیسے ہیں، میرے پاس تو اس وقت بالکل پیسے نہیں ہیں۔”

باس نے فوراً وہ آزمودہ بہانہ تراشا جو اکثر غریب کی ضرورت کے وقت امیروں کی زبان پر آ جاتا ہے۔

“عامر کی آنکھوں میں التجا اتر آئی، “باس! میں اپنی آنے والی دیہاڑیوں میں سے کٹوا لوں گا، بس انکار مت کیجیے گا۔ میں بہت مجبور ہوں۔

اس کی آواز میں وہ لرزش تھی جو صرف اس وقت آتی ہے جب انسان کی آخری امید بھی ٹوٹنے کے قریب ہو۔

“باس نے ایک لمبا اور بیزار کن سانس لیا، جیب میں ہاتھ ڈال کر کچھ ٹٹولا اور پوچھا، “اچھا بتاؤ، کتنے پیسے چاہیے؟

“اس کا مکمل باڈی چیک اپ کروانا ہے ڈاکٹر نے کہا ہے کہ پندرہ سے بیس ہزار روپے لگ جائیں گے۔”

عامر نے اپنی ضرورت بتائی تو باس کے چہرے کی رہی سہی رونق بھی غائب ہو گئی۔ اس نے جیب میں ہاتھ ایسے چلایا جیسے وہ وہاں سے رقم نہیں بلکہ اپنی جان نکال رہا ہو۔ بڑی احتیاط سے ایک ہزار کا نوٹ باہر کھینچا۔

“،دیکھو بھائی! میرے پاس تو بس یہی ایک ہزار ہے، یہ تم رکھ لو”

باس نے جب وہ اکلوتا نوٹ عامر کی طرف بڑھایا، تو عامر کے حلق میں کڑواہٹ سی بھر گئی۔ وہ بیس ہزار کی امید لے کر آیا تھا اور اسے ایک ہزار تھما دیا گیا۔ اس کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی جس میں دکھ بھی تھا اور اپنی مفلسی پر غصہ بھی۔ اس نے لرزتے ہاتھوں سے وہ نوٹ لیا، ایک رسمی اور بے جان سا شکریہ ادا کیا اور اپنی بائیک اسٹارٹ کر کے وہاں سے نکل گیا۔
،اس کا باس اسے دور تک جاتے ہوئے دیکھتا رہا، پھر اپنے لب بھینچ کر حقارت سے بڑبڑایا
“سالہ! نشئی کہیں کا۔ چرس ختم ہوئی تو اب بیوی کی بیماری کا بہانہ بنا کر پیسے اینٹھنے آیا تھا۔”

اتنا کہہ کر وہ کسی ہمدردی کے بغیر واپس مڑا اور درخت کے گھنے سائے تلے بچھی اپنی چارپائی پر جا بیٹھا، جیسے اس نے کسی کی زندگی نہیں بلکہ کسی مچھر کو اپنے راستے سے ہٹایا ہو۔ عامر کی دیانت اور اس کی تڑپ اس کے نزدیک محض ایک نشئی کا ڈرامہ تھی، جبکہ دوسری طرف عامر اس ایک ہزار کے نوٹ کو مٹھی میں دبائے اس ادھیڑ بن میں تھا کہ باقی کے انیس ہزار کہاں سے لائے گا؟

°°°°°°°°°°

شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے اور سورج ڈھلنے کے ساتھ ساتھ عامر کی امیدیں بھی دم توڑ رہی تھیں۔ صبح سے اب تک اس نے ہر جگہ خاک چھانی تھی، ہر اس شخص کی دہلیز پر دستک دی تھی جس سے کبھی کوئی مراسم رہے تھے، مگر اسے کیا معلوم تھا کہ ماضی کے گناہ اتنے سنگدل ہوتے ہیں کہ وہ انسان کے حال کا راستہ روک کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس کا ماضی ایک ایسے سیاہ سائے کی طرح اس کے ساتھ تھا جس نے اس کی ہر پکار کو بے اثر کر دیا تھا۔ لوگوں کی نظروں میں وہ اب بھی وہی نشئی عامر تھا جس کے ہاتھ میں پیسے دینے کا مطلب اسے موت کے قریب کرنا تھا۔ کوئی اس کی مفلسی پر ترس کھانے کو تیار تھا نہ اس کی مجبوری پر یقین کرنے کو۔ اسے اپنی زندگی میں کبھی اتنی بے بسی محسوس نہیں ہوئی تھی جتنی آج اس دس ہزار روپے کی خاطر ہو رہی تھی جو دن بھر کی ذلت کے بعد اس کے پاس جمع ہو پائے تھے۔

جب شام کی سیاہی ہر طرف پھیل گئی تو عامر ٹوٹے دل اور تھکے ہوئے وجود کے ساتھ اپنی پھوپھو کے گھر پہنچا۔ یہ اس کی آخری پناہ گاہ تھی، ایک ایسی دہلیز جہاں سے اسے خالی ہاتھ لوٹنے کا خوف سب سے زیادہ ستا رہا تھا۔ پھوپھو نے اسے چائے کا کپ تھمایا اور روایتی انداز میں ادھر ادھر کی باتیں شروع کر دیں۔
عامر کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ بات کیسے شروع کرے۔ اسے ڈر تھا کہ اگر یہاں سے بھی انکار ملا، تو اس کے پاس خون کے رشتوں کا رہا سہا بھرم بھی ٹوٹ جائے گا۔
،پھوپھو، جو گاہے بگاہے اس کے چہرے پر پھیلے ہوئے کرب اور پریشانی کے آثار کو پرکھ رہی تھیں، آخر کار ضبط نہ کر سکیں اور پوچھ ہی لیا
“عامر! خیر تو ہے نا؟ چہرہ اترا ہوا ہے، پریشان لگ رہے ہو۔”

“عامر نے ایک گہرا اور ٹھنڈا سانس لیا، “پھوپھو! عائشہ پچھلے دو مہینوں سے بہت بیمار ہے۔ اب تو بہت زیادہ کمزور ہو گئی ہے۔

“،تو بیٹا! اس کا علاج کرواؤ، کسی اچھے ڈاکٹر کو دکھاؤ”

انہوں نے مشورہ تو دیا، مگر عامر کی روح اس مشورے کی تلخی سے جھلس گئی۔

کیسے کرواؤں پھوپھو؟ صبح سے پیسے مانگ رہا ہوں۔ ہر ایک سے بھیک مانگی ہے، مگر میری بات پر یقین کرنے کے بجائے، سب میرے ماضی کو دیکھ رہے ہیں۔”

“کوئی ایک روپیہ دینے کو تیار نہیں۔

،عامر کی آواز بھرائی ہوئی تھی

کمرے میں ایک بوجھل خاموشی چھا گئی۔ عامر چند لمحے اس امید پر ساکت رہا کہ شاید پھوپھو خود ہی مدد کا ہاتھ بڑھائیں گی، مگر جب وہاں سے بھی کوئی صدا نہ آئی تو اسے اپنی انا کی آخری دیوار بھی گرانی پڑی۔
“…مجھے اس کے مکمل چیک اپ کے لیے بیس ہزار کی ضرورت ہے، دس ہزار میں نے جیسے تیسے اکٹھے کر لیے ہیں، بس دس ہزار کی کمی ہے۔ اگر آپ دے دیں تو”

“پیسے؟ بیٹا! میرے پاس اتنی رقم کہاں سے آئی؟”

،پھوپھو کا صاف جواب عامر کے سینے میں تپتے ہوئے کوئلے کی طرح لگا۔ اس کا خون کھولنے لگا، مگر اس نے ضبط کے گھونٹ بھرتے ہوئے کہا

“پھوپھو! میں واپس کر دوں گا، بس وقتی طور پر دے دیں، میں زیادہ دن اپنے پاس نہیں رکھوں گا۔”

عامر کی گڑگڑاہٹ نے شاید ان کے دل پر کچھ اثر کیا۔ وہ خاموشی سے اٹھیں اور اندرونی کمرے میں چلی گئیں۔ کچھ دیر بعد جب وہ واپس لوٹیں، تو ان کے ہاتھ میں پانچ ہزار کا ایک نوٹ تھا۔
“یہ لو! یہ میں نے اپنے گھر کے اخراجات کے لیے رکھے تھے۔ یہ تم رکھ لو، لیکن عامر… خدا کا واسطہ ہے، اب اسے نشے پر مت اڑا دینا۔”

یہ وہ جملہ تھا جس نے عامر کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا۔ صبح سے اب تک وہ یہی طعنہ لوگوں کی آنکھوں میں پڑھتا آیا تھا، مگر اب کی بار یہ طعنہ اس کے اپنے خون نے زبان سے دیا تھا۔
“گھر میں عائشہ دم توڑ رہی ہے اور آپ کو اب بھی یہی لگتا ہے کہ مجھے اپنے نشے کی پڑی ہے؟”

عامر کی آواز میں ایک وحشیانہ درد تھا۔
“میں اب وہ نہیں رہا پھوپھو! میں نشہ چھوڑ چکا ہوں، مجھے صرف اپنی بیوی کی زندگی بچانی ہے۔”
،اس نے غصے اور دکھ کی ملی جلی کیفیت میں ان کے ہاتھ سے نوٹ جھپٹ لیا

“آپ فکر نہ کریں، میں آپ کے یہ پیسے جلد لوٹا دوں گا۔”

،پھوپھو نے اس کے غصے کو یکسر نظرانداز کر دیا۔ انہوں نے نرمی سے کہا
“میرا وہ مطلب نہیں تھا پتر! تم بس عائشہ کا علاج کرواؤ، یہ پیسے واپس دینے کی ضرورت نہیں۔”

عامر بنا کچھ کہے باہر نکلنے لگا، مگر دہلیز پر پہنچ کر اس کے قدم رک گئے۔ اس نے مڑ کر ایک بار پھر اپنی پھوپھو کی طرف دیکھا، اس کی آنکھیں اب آنسوؤں سے نم تھیں اور آواز لرز رہی تھی۔
“میری بدتمیزی کا برا نہ منائیے گا پھوپھو! میں بہت پریشان ہوں، بس اسی لیے سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا کہہ رہا ہوں۔”
اتنا کہتے ہی وہ تیزی سے باہر کی اندھیری گلی میں غائب ہو گیا، پیچھے مڑ کر دیکھنے کی اس میں ہمت نہیں تھی۔ اسے اب ان پندرہ ہزار روپے کے ساتھ گھر پہنچنا تھا جہاں عائشہ اس کی واپسی کی منتظر تھی، مگر اس کے ذہن میں اب بھی وہی سوال گردش کر رہا تھا کہ باقی کے پانچ ہزار وہ کس در سے لائے گا؟

°°°°°°°°°°

اگلے دن کی صبح میرپور کے افق پر ایک نئی امید اور ان گنت اندیشوں کے ساتھ طلوع ہوئی۔ عامر، عائشہ کا نحیف ہاتھ تھامے چغتائی لیب کی دہلیز پر کھڑا تھا۔ وہ جگہ جہاں مشینوں کی گونج اور رپورٹوں کے ہندسے انسان کی زندگی اور موت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ عائشہ کے لیے وہ دن کسی کٹھن امتحان سے کم نہیں تھا۔ خون کے نمونے، یورین ٹیسٹ، الٹراساؤنڈ کی ٹھنڈی جیل اور ایکسرے کی شعاعیں۔ ایک ایک کر کے تمام ٹیسٹ مکمل ہوئے اور وقت جیسے تھم سا گیا۔

سہ پہر کے تین بج رہے تھے جب لیب کے استقبالیہ سے عامر کا نام پکارا گیا۔ اس نے لرزتے ہاتھوں سے وہ بڑا سفید لفافہ تھاما جس میں عائشہ کے وجود کی تمام تر حقیقتیں کاغذ کے سیاہ حروف میں قید تھیں۔ عامر کا دل اس وقت کسی ڈوبتے ہوئے جہاز کی طرح دھڑک رہا تھا۔

،اس نے وہیں کاؤنٹر پر کھڑے کھڑے، سامنے بیٹھی خاتون کی آنکھوں میں جھانک کر پوچھا
“کیا رپورٹس ٹھیک آئی ہیں؟ کوئی خطرے والی بات تو نہیں؟”

،کاؤنٹر پر بیٹھی خاتون نے پیشہ ورانہ ہمدردی سے جواب دیا
“معاف کیجیے گا سر! ہم ٹیکنیشن ہیں، ان رپورٹس کی تشریح کرنا ہمارا کام نہیں۔ آپ یہ فائل کسی مستند ڈاکٹر کو دکھائیں، وہی آپ کو درست صورتحال بتائیں گے۔”

خاتون کا یہ رسمی جواب عامر کے لیے کسی ٹھنڈے پانی کے چھینٹے سے کم نہیں تھا۔ اسے لگا جیسے سچ اس سے ایک قدم اور دور ہو گیا ہے۔ وہ فائل بغل میں دبا کر، عائشہ کو سہارا دیتے ہوئے لیب کے ٹھنڈے ماحول سے باہر آگیا۔

باہر نکل کر جب عامر نے اپنی جیب ٹٹولی، تو نوٹوں کی جگہ محض بارہ سو روپے کے کچلے ہوئے نوٹ اس کے ہاتھ آئے۔ بیس ہزار کی رقم ٹیسٹوں کی نذر ہو چکی تھی اور اب اس کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں تھے کہ وہ کسی نجی ہسپتال کی مہنگی فیس ادا کر سکے۔ مگر عائشہ کی بگڑتی حالت اسے رکنے کی اجازت نہیں دے رہی تھی۔
،اس نے ایک لمبی سانس لی، آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی اور دل ہی دل میں اپنے رب سے کلام کیا
“مالک! میں نے اپنا سب کچھ اس کی زندگی پر لگا دیا، اب لاج تیرے ہاتھ میں ہے۔”
وہ بوجھل قدموں کے ساتھ میرپور کے سرکاری ہسپتال کی طرف بڑھنے لگا۔ ہسپتال کا وہ شور، مریضوں کا ہجوم اور لائنوں کا عذاب اس کے سامنے تھا، مگر اس کے سینے میں موجود توکل اسے مسلسل آگے بڑھنے پر اکسا رہا تھا۔

°°°°°°°°°°

سرکاری ہسپتال کے اس ٹھنڈے اور بیزار کن کمرے میں وقت جیسے تھم سا گیا تھا۔ ڈاکٹر کی خاموشی عامر کے اعصاب پر ہتھوڑے برسا رہی تھی۔ ڈاکٹر جس باریک بینی سے ایک ایک رپورٹ کا معائنہ کر رہا تھا، اس کے ماتھے پر ابھرنے والی سلوٹیں عامر کو کسی آنے والے طوفان کا پتہ دے رہی تھیں۔ عائشہ، جو اب محض ایک سایہ بن کر رہ گئی تھی، نظریں جھکائے یوں بیٹھی تھی جیسے اسے اپنی قسمت کا فیصلہ پہلے ہی معلوم ہو۔

،کافی دیر تک کاغذات کی الٹ پلٹ کے بعد ڈاکٹر نے چشمہ میز پر رکھا اور عامر کی آنکھوں میں جھانک کر گویا ہوا
،کروانا ہوگا(MRI)انہیں فوری طور پر ہسپتال میں ایڈمٹ کرنا پڑے گا۔ یہ ظاہری رپورٹس مکمل تصویر پیش نہیں کر رہیں۔ ہمیں ان کا فل باڈی ایم آر آئی”

“تبھی حقیقت واضح ہو پائے گی کہ یہ اندرونی ٹوٹ پھوٹ کس حد تک پہنچی ہے۔

عامر نے تڑپ کر عائشہ کی طرف دیکھا۔ وہ خاموش تھی، اس کی خاموشی میں ایک ایسا کرب تھا جو چیخوں سے زیادہ دردناک تھا۔

،عامر نے تھوک نگلا اور لرزتی آواز میں وہ سوال پوچھا جو ایک غریب انسان کی زندگی کا سب سے بڑا المیہ ہوتا ہے
“ڈاکٹر صاحب! اس سب پر خرچہ کتنا آئے گا؟”

،ڈاکٹر نے ایک سرد آہ بھری

“دیکھو میاں! اگر سرکاری ہسپتال سے کرواتے ہو تو چھ سات ہزار میں ہو جائے گا، لیکن یہاں مریضوں کا رش ہے۔ تمہارا نمبر کم از کم سات یا دس دن بعد آئے گا۔”
،ڈاکٹر تھوڑی دیر رکا، عامر کے چہرے پر پھیلتی زردی کو بھانپتے ہوئے مشورہ دیا

“لیکن ان کی حالت نازک ہے، بہتر یہی ہے کہ تم پرائیویٹ لیب سے ایم آر آئی کروا لو۔ وقت بچ جائے گا، جو اس وقت سب سے قیمتی ہے۔”

ک… کتنا خرچہ آئے گا؟” عامر نے یہ سوال ایسے پوچھا جیسے وہ اپنی سزائے موت کا حکم سن رہا ہو۔”

“یہی کوئی چالیس سے پچاس ہزار روپے۔” ڈاکٹر نے سپاٹ لہجے میں کہا، “لیکن مجھے نہیں لگتا کہ یہ رقم تمہاری بیوی کی جان سے زیادہ قیمتی ہے۔”

ڈاکٹر کے یہ الفاظ عامر کے لیے کسی ایٹم بم کے دھماکے سے کم نہیں تھے۔ چالیس پچاس ہزار! وہ شخص جس کی جیب میں اس وقت کل جمع پونجی محض بارہ سو روپے تھی۔ عامر کو محسوس ہوا جیسے زمین اس کے پیروں تلے سے نکل گئی ہو۔ اس کے ہاتھ کانپنے لگے، پنڈلیوں میں شدید لرزش اٹھی اور دماغ سن ہو گیا۔ وہ ماضی کا وحشی عامر، جو پستول کی نوک پر دنیا جھکانے کا دعویٰ کرتا تھا، آج پچاس ہزار روپے کے سامنے ایک لاچار بچے کی طرح ڈھیر ہو چکا تھا۔

میں… میں پیسوں کا بندوبست کر لوں گا۔” عامر نے ایک بجھے ہوئے دیے کی مانند کہا۔ اس کے لہجے میں عزم نہیں، بلکہ ایسی بے بسی تھی جو پتھروں کو بھی رلا دے۔”

،ڈاکٹر نے عائشہ کی فائل پر ایڈمٹ کی مہر لگائی اور ہدایات جاری کیں
“پہلے ایڈمٹ فارم بنوا کر انہیں جنرل ہال میں چھوڑ آئیں، پھر میرے پاس واپس آئیں، میں کچھ ضروری ادویات لکھ دوں گا جو آپ کو باہر سے لانی ہوں گی۔”

عامر نے بوجھل ہاتھوں سے وہ فائل تھامی جو اب اسے وزنی پہاڑ لگ رہی تھی۔ وہ عائشہ کا نحیف ہاتھ پکڑ کر کیبن سے باہر نکلا۔ ہسپتال کی راہداریوں میں لوگوں کا ہجوم تھا، مگر عامر کو لگ رہا تھا کہ وہ ایک ایسے اندھے کنویں میں گر رہا ہے جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں۔ وہ سیدھا ایڈمیشن کاؤنٹر کی طرف بڑھ گیا۔

°°°°°°°°°°

عائشہ کو جنرل ہال کے شور و غل اور سفید بستروں کے درمیان چھوڑ کر عامر دوبارہ ڈاکٹر کے کیبن میں داخل ہوا۔ ڈاکٹر اپنی میز پر کچھ کاغذات درست کر رہا تھا، مگر جیسے ہی عامر نے کرسی سنبھالی، ڈاکٹر نے چشمہ اتار کر میز پر رکھا اور تھوڑا آگے کی طرف جھک کر بیٹھ گیا۔ اس کی سنجیدہ نظریں عامر کے چہرے پر جمی تھیں، جیسے وہ کسی بہت بڑے طوفان کی خبر دینے والا ہو۔
“محترم! میں نے آپ کو یہاں اس لیے بلایا ہے کہ ہم مریضہ کے سامنے حقائق بیان نہیں کر سکتے تھے۔”

ڈاکٹر نے دبی مگر پختہ آواز میں بات کا آغاز کیا۔

“آپ کی بیوی کی حالت اس وقت نہایت نازک ہے۔ ان کے اندرونی اعضاء اب ایک ایسے مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں سے واپسی کا راستہ مشکل ہوتا جا رہا ہے۔”

،ڈاکٹر نے پیشہ ورانہ انداز میں تفصیل بتائی

ان کے معدے اور آنتوں میں شدید نوعیت کی سوزش ہے، جس کی وجہ سے وہ کچھ ہضم نہیں کر پا رہیں۔ لیکن اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات ان کے گردوں کی ہے۔”

طویل عرصے تک انفیکشن رہنے کی وجہ سے اب وہاں پانی جمع ہونا شروع ہو گیا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ جگر نے کام کرنا تقریباً چھوڑ دیا ہے اور وہ نیا خون بنانے کی صلاحیت کھو چکا ہے۔

“میں نے مریضہ کو یہ سب اس لیے نہیں بتایا کیونکہ خوف اکثر مرض سے پہلے ہی مریض کو مار دیتا ہے۔

ڈاکٹر کا ایک ایک لفظ عامر کے کانوں میں پگھلے ہوئے سیسے کی طرح اتر رہا تھا۔ اسے محسوس ہوا جیسے کمرے کی دیواریں اسے دبانے لگی ہیں۔

“پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے محترم! اب ہمارے پاس ضائع کرنے کے لیے ایک لمحہ بھی نہیں ہے۔”

ڈاکٹر نے اسے حقیقت کے سنگلاخ دھارے پر لا کھڑا کیا۔
مزید تاخیر کا مطلب ان کی زندگی کا چراغ گل ہونا ہے۔”

آپ کا پہلا کام انہیں ذہنی طور پر خوش رکھنا ہے تاکہ ان کی قوتِ مدافعت جواب نہ دے اور دوسرا اہم ترین کام یہ ہے کہ کل ہی ان کا ایم آر آئی کروایا جائے۔

“بغیر ایم آر آئی کے ہم اندھیرے میں تیر چلا رہے ہیں۔

،عامر نے بوجھل حلق سے تھوک نگلا، اس کی آواز جیسے کہیں کھو گئی تھی۔ اس نے ہمت مجتمع کر کے ایک سوال کیا، وہ سوال جو اس کی زندگی کی آخری امید تھا
“ڈاکٹر صاحب! وہ۔۔۔ وہ ٹھیک تو ہو جائے گی نا؟”

،ڈاکٹر کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے ہمدردی ابھری، اس نے تسلی دیتے ہوئے کہا
ان شاء اللہ! ہماری کوشش میں کوئی کمی نہیں رہے گی۔ ہم اپنی پوری ڈیوٹی نبھائیں گے، مگر آپ کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔”

“زندگی اور موت کا فیصلہ تو اوپر والا کرتا ہے، ہم صرف اسباب پیدا کر سکتے ہیں۔ آپ بس ہمت نہ ہاریں اور خدا پر بھروسہ رکھیں۔”

تو میں اب کیا کروں؟” عامر نے پوچھا، اس کا ذہن اب بالکل سن ہو چکا تھا۔”

جیسا کہ میں نے کہا، کل صبح ان کا ایم آر آئی ہونا چاہیے،” ڈاکٹر نے حتمی لہجے میں کہا۔”
“رپورٹ لائیں تاکہ ہم باقاعدہ علاج اور شاید سرجری کی طرف بڑھ سکیں۔”

عامر ساکت و صامت اپنی جگہ سے اٹھا۔ اس نے ڈاکٹر کا شکریہ ادا کیا اور باہر نکل آیا، مگر اس کے قدم زمین پر نہیں بلکہ کسی خلا میں پڑ رہے تھے۔ ڈاکٹر نے کل کی ڈیڈ لائن دے دی تھی، مگر اسے کیا معلوم تھا کہ عامر کی جیب میں موجود بارہ سو روپے اس کل کو خریدنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ پچاس ہزار کا پہاڑ اس کے سامنے تھا اور وہ ایک نہتا مسافر، جسے اب یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ اپنی کائنات کو بچانے کے لیے اب کس کا خون بیچے یا کس کی دہلیز پر اپنی انا کا جنازہ نکالے۔

°°°°°°°°°°

ڈاکٹر کے کمرے سے باہر نکلتے ہی اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس کے پیروں تلے زمین مسلسل سرک رہی ہو۔ پچاس ہزار کی رقم اس کے لیے کسی پہاڑ سے کم نہیں تھی۔ اس نے لرزتے ہاتھوں سے جیب سے موبائل نکالا اور اپنے والد کے نمبر پر کال ملا لی۔

عامر کے والد نے کئی سال قبل دوسری شادی کر لی تھی اور اب وہ اپنی سابقہ فیملی سے ایک فاصلہ برقرار رکھتے تھے۔ مگر عامر اب بھی ان سے رابطے میں رہتا تھا۔ اسے امید تھی کہ شاید اس آخری اور کٹھن گھڑی میں باپ کی شفقت جاگ اٹھے۔
کال اٹھائی گئی تو دوسری طرف سے وہی جانی پہچانی، مگر سپاٹ اور رسمی آواز سنائی دی۔ عامر نے گھبراہٹ میں سلام دعا کے فوراً بعد اپنی اصل بات چھیڑ دی،
“ابو! میں میرپور ہسپتال میں ہوں۔”

کیوں؟ خیریت تو ہے نا؟” اس کے والد کی آواز میں کوئی خاص لرزش نہیں تھی، بس ایک واجبی سی سنجیدگی تھی۔”

“وہ۔۔۔ عائشہ کافی زیادہ بیمار ہو گئی ہے۔ میں اسے یہاں لے کر آیا ہوں، اس کے کچھ بہت ضروری ٹیسٹ ہونے ہیں۔”

عامر کا لہجہ بھرایا ہوا تھا، وہ اپنی آواز میں چھپی سسکیاں چھپانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔

،اوہو۔۔۔! اللہ اسے صحت دے، بہت برا ہوا،” باپ نے دعائیہ کلمات کہے”

عامر نے اپنی انا کے بچے کھچے ٹکڑے سمیٹے اور ڈرتے ڈرتے وہ سوال کیا جس پر عائشہ کی زندگی کی ڈور ٹکی تھی،
“ابو! اس کے کافی سارے ٹیسٹ کروانے ہیں۔ ڈاکٹر کہہ رہے ہیں کہ پچاس ہزار روپے کا بندوبست کرنا ہوگا۔ کیا… کیا آپ مجھے کچھ پیسے دے سکتے ہیں؟”

،کال کے دوسرے سرے پر ایک لمحے کی خاموشی چھائی، جو عامر کے لیے صدیوں پر محیط ہو گئی۔ پھر وہی جواب آیا جس کی اسے امید تھی
پیسے؟ میرے پاس اتنی بڑی رقم کہاں سے آئی؟ میں تو خود پچھلے تین دن سے بیمار پڑا ہوں اور سچی بات تو یہ ہے کہ اپنی دوا کے لیے بھی جیب میں ایک پیسہ نہیں۔ “

“تم کسی اور سے مانگ لو۔

اتنا کہتے ہی کال منقطع ہونے کی آواز عامر کے کانوں سے ٹکرائی اور وہ بس اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔ اس کے ہاتھ میں پکڑا موبائل اب اسے پتھر کا ایک بے جان ٹکڑا لگ رہا تھا۔

°°°°°°°°°°

باپ کے صاف انکار نے عامر کے گرد موجود امید کی آخری دیوار بھی گرا دی تھی۔ ہسپتال کی اس سرد راہداری میں، جہاں ہر طرف بیماری اور بے بسی کا نوحہ بکھرا ہوا تھا، عامر خود کو ایک ایسے بنجر جزیرے پر کھڑا محسوس کر رہا تھا جہاں دور دور تک کوئی سائبان نہیں تھا۔ اس نے تھرتھراتے ہاتھوں سے ایک بار پھر اپنا موبائل نکالا اور انگلینڈ میں مقیم اپنے پھوپھو زاد بھائی کا نمبر ڈائل کیا۔ یہ اس کی آخری پناہ گاہ تھی، ایک ایسی دہلیز جہاں سے اسے کچھ ملنے کی توقع تھی۔
،فون کی ہر گھنٹی عامر کے دل کی دھڑکنوں کو تیز کر رہی تھی۔ جب دوسری طرف سے کال اٹھائی گئی، تو ایک مانوس اور خوشگوار آواز گونجی
“کیسے ہو عامر بھائی؟”

اس لمحے عامر کے سینے میں ضبط کا بندھن ٹوٹنے کے قریب تھا۔ اس کا جی چاہا کہ وہ تمام تر مردانہ وقار اور انا کو بالائے طاق رکھ کر وہیں ہسپتال کے فرش پر بیٹھ جائے اور اتنی بلند آواز میں دھاڑیں مار کر روئے کہ فضا چیر کر رہ جائے۔ وہ بتانا چاہتا تھا کہ وہ ٹھیک نہیں ہے، وہ ٹوٹ چکا ہے، وہ ہارا ہوا جواری ہے جس کی سب سے قیمتی متاع داؤ پر لگی ہے۔ مگر وہ مرد تھا اور اس معاشرے میں مرد کے لیے رونا اپنے وجود کی نفی کے برابر سمجھا جاتا ہے۔

،اس نے ایک گہرا سانس لیا، اپنے حلق میں پھنستے ہوئے آنسوؤں کو زبردستی نگلا اور آواز کو سپاٹ رکھنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے بولا
“یار! تیری بھابھی بہت زیادہ بیمار ہے۔ میں میرپور ہسپتال میں ہوں، اسے ایڈمٹ کروا لیا ہے۔ مجھے… مجھے کچھ پیسوں کی ضرورت تھی۔”

“عامر کے لہجے کی لرزش اور اس کی پکار ابھی ہوا میں معلق ہی تھی کہ دوسری طرف سے ہلکی سی ہنسی سنائی دیا: “کیا واقعی بھابھی بیمار ہے یا پھر چرس ختم ہوگئی ہے؟

یہ الفاظ عامر کی روح میں کسی زہریلے خنجر کی طرح پیوست ہو گئے۔ یہ محض ایک سوال نہیں تھا، بلکہ عامر کے ماضی کا وہ بدنما داغ تھا جو اس کے حال کو مسلسل دھتکار رہا تھا۔ کزن کے اس جملے میں اگرچہ شرارت تھی، مگر اس کے پیچھے وہ تلخ حقیقت چھپی تھی جو عامر نے خود تخلیق کی تھی۔ شادی سے پہلے، وہ جب بھی نشے کی طلب میں بے چین ہوتا، تو اسی طرح جھوٹے بہانوں اور بیماری کے لبادے میں دوسروں سے پیسے اینٹھا کرتا تھا۔ آج جب وہ زندگی کی سب سے بڑی سچائی کے ساتھ کھڑا تھا، تو اس کا اپنا جھوٹا ماضی اس کے سامنے رکاوٹ بن کر کھڑا ہوگیا تھا۔

یہ قدرت کا کیسا ہولناک انصاف تھا کہ آج اس کی سچی پکار بھی لوگوں کے کانوں میں نشے کی فریاد بن کر گونج رہی تھی۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ عامر اس وقت کس قدر اذیت ناک دور سے گزر رہا تھا۔ اس کے اندر کا انسان تڑپ رہا تھا، مگر باہر کی دنیا اسے اب بھی وہی چرسی عامر دیکھ رہی تھی جو دھوکہ دینے میں ماہر تھا۔

عامر کے اعصاب پر ایک لمحے کے لیے وحشت سوار ہوئی، مگر عائشہ کا وہ زرد چہرہ اس کے ذہن میں لہرایا تو اس نے دوبارہ ضبط کی چادر اوڑھ لی۔

،اس نے بھرائی ہوئی آواز میں، جس میں اب التجائیہ انداز غالب تھا، کہا
خدا کا واسطہ ہے یار! مذاق مت کر۔ وہ سچ میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی ہے۔ ڈاکٹر نے پچاس ہزار روپے مانگے ہیں۔”

“میں تیرے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں، میری مدد کر دے۔ میں ایک ایک پائی واپس کر دوں گا۔

دوسری طرف خاموشی چھا گئی۔ کزن شاید عامر کے لہجے کی اس غیر معمولی سنجیدگی کو بھانپنے کی کوشش کر رہا تھا، مگر وہ بھی گناہگار بننے سے ڈرتا تھا۔ اسے خوف تھا کہ کہیں یہ پیسے دوبارہ کسی سگریٹ کے دھوئیں میں نہ اڑ جائیں۔
اچھا… میں کچھ کرتا ہوں۔” کزن نے مختصر جواب دیا اور کال منقطع کر دی۔”

اس نے وقت صرف اس لیے مانگا تھا تاکہ وہ پاکستان میں موجود دیگر رشتہ داروں سے عائشہ کی حالت کے بارے میں تصدیق کر سکے۔ یہ عامر کی زندگی کا وہ المیہ تھا جہاں اس کا خاندان اسے محض ایک معمولی پیٹ درد یا گردوں کی تکلیف کا بہانہ سمجھ رہا تھا، جبکہ عائشہ کا وجود اندر سے ایک مٹی کے بوسیدہ گھروندے کی طرح ڈھیر ہو رہا تھا۔

عامر نے فون جیب میں ڈالا اور خالی نظروں سے ہسپتال کی چھت کو تکنے لگا۔ اسے احساس ہو رہا تھا کہ انسان کے گناہ اسے کبھی تنہا نہیں چھوڑتے۔ وہ بدل چکا تھا، مگر دنیا کے پاس اب بھی وہی پرانا ترازو تھا جس میں وہ عامر کے ہر سچ کو اس کے ماضی کے جھوٹ سے تول رہے تھے۔

°°°°°°°°°°

انتظار کی وہ گھڑی جو کسی طویل صدی کی مانند محسوس ہو رہی تھی، بالآخر ایک نوٹیفکیشن کی آواز کے ساتھ ختم ہوئی۔ تقریباً ایک گھنٹہ گزرنے کے بعد عامر کے موبائل کی سکرین روشن ہوئی اور اس کے کزن کا واٹس ایپ پر ایک وائس میسج موصول ہوا۔
اس بوجھل فضا میں کزن کی آواز کسی مسیحا کی پکار لگی،
“عامر! کوئی اکاؤنٹ نمبر بھیجو، میں رقم ٹرانسفر کرتا ہوں۔ فی الحال میں دس ہزار روپے بھیج رہا ہوں۔”

،عامر کے حلق میں تشکر کے آنسو پھنس گئے۔ اس نے لرزتی ہوئی آواز میں جوابی وائس نوٹ بھیجا
“یار! بہت شکریہ… میں تمہارا یہ احسان زندگی بھر نہیں بھولوں گا۔ جیسے ہی عائشہ کی طبیعت سنبھلی، میں پیسے واپس کر دوں گا۔”

،دوسری طرف سے فوری جواب آیا
“نہیں! واپسی کی بات مت کرو۔ یہ تمہارے لیے نہیں، بھابھی کے لیے ہیں۔ تم بس ان کے علاج اور ان کی دیکھ بھال پر توجہ دو۔”

یہ کلمات عامر کے ٹوٹتے ہوئے حوصلے کے لیے کسی مضبوط سہارے سے کم نہیں تھے۔ اس نے فوراً اکاؤنٹ نمبر بھیجا اور کچھ ہی دیر میں رقم ملنے کا میسج آ گیا۔ اگرچہ پچاس ہزار کے مقابلے میں دس ہزار کی رقم حقیر تھی، مگر “ڈوبتے کو تنکے کا سہارا” کے مصداق، پہلی ہی کال پر اس بندوبست نے عامر کے دل میں امید کے دیے روشن کر دیے۔ اسے یقین ہونے لگا کہ اگر اللہ نے ایک راستے سے مدد بھیجی ہے، تو وہ باقی پیسوں کا انتظام بھی کر دے گا۔

رقم موصول ہوتے ہی عامر نے ہسپتال کی راہداریوں میں دوڑ لگا دی۔ وہ ہانپتا ہوا میڈیکل سٹور پہنچا تاکہ وہ ضروری ادویات اور انجکشن خرید سکے جو ہسپتال کے سرکاری سٹور میں میسر نہیں تھے۔ عامر کا خیال تھا کہ ہزار پندرہ سو روپے میں یہ دوا مل جائے گی، لیکن جب فارماسسٹ نے کمپیوٹر پر بل بنایا تو عامر کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔

آٹھ ہزار ایک سو پچاس روپے…” فارماسسٹ کی سپاٹ آواز عامر کے کانوں میں کسی دھماکے کی طرح گونجی۔”

وہ پیسے جو ابھی چند لمحے پہلے اس کی جیب میں ایک بڑی امید بن کر آئے تھے، ادویات کی پہلی ہی خریداری میں ریت کی طرح پھسل گئے۔ نوٹوں سے بھری جیب ایک بار پھر خالی ہوئی تو عامر پر وہی پرانی وحشت طاری ہونے لگی۔ اسے احساس ہوا کہ بیماری کے اس سمندر میں دس ہزار کی حیثیت محض ایک بوند جیسی تھی۔

اب اسے یقین ہو چکا تھا کہ پرائیویٹ ایم آر آئی کے چالیس پچاس ہزار روپے جمع کرنا اس کے بس سے باہر ہے۔ بے بسی کی انتہا پر پہنچ کر اس نے وہی فیصلہ کیا جو ایک مجبور انسان کرتا ہے۔ اس نے بمشکل کہیں سے چھ ہزار روپے کا بندوبست کیا اور سرکاری لیب کی جانب رخ کر لیا۔ وہاں کی طویل لسٹ میں ایم آر آئی کی تاریخ اور وقت لکھوا لیا۔ ہسپتال کے اس بے حس ماحول میں، جہاں زندگی وقت کی محتاج تھی، عامر اب صرف اللہ کے حضور سجدہ ریز تھا، اس کے لبوں پر ایک ہی دعا تھی کہ

“اے مالک! اس طویل انتظار کے دوران میری عائشہ کی سانسوں کی ڈور ٹوٹنے نہ دینا۔۔۔ وہ سلامت رہے، بس وہ سلامت رہے۔”

°°°°°°°°°°

ہسپتال کا وہ بیڈ جہاں عائشہ ساکت لیٹی تھی، اب محض ایک بستر نہیں بلکہ ایک ایسی بساط لگ رہی تھی جہاں زندگی اور موت اپنا آخری جوا کھیل رہے تھے۔ عامر ایک بوسیدہ اسٹول پر بیٹھا اس کا نحیف ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں دبائے ہوئے تھا۔ اس کی نظریں عائشہ کے زرد چہرے پر جمی تھیں، مگر اس کا ذہن پچاس ہزار کے اس ہندسے کے گرد گھوم رہا تھا جو اس کے لیے کسی ناقابلِ تسخیر پہاڑ جیسا بن چکا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اب کون سا دروازہ باقی ہے جہاں دستک دی جا سکے؟

،عائشہ، جو کافی دیر سے عامر کے چہرے پر ابھرتی اور ڈوبتی پریشانی کی لہروں کو پڑھ رہی تھی، دھیرے سے گویا ہوئی
“عامر! کیا پریشان ہو؟”

،عامر نے ایک جھرجھری لی اور فوراً اپنے چہرے پر ایک مصنوعی مسکان سجا لی
“نہیں تو… میں تو بس یہ سوچ رہا تھا کہ جب تم بالکل ٹھیک ہو کر گھر چلو گی اور خدا ہمیں بیٹا دے گا، تو ہم اس کا نام کیا رکھیں گے؟”

عامر کو لگا تھا کہ مستقبل کا یہ سہانا خواب عائشہ کے مرجھائے ہوئے چہرے پر رونق لے آئے گا، مگر عائشہ کی سنجیدگی میں ذرہ برابر فرق نہیں آیا۔

،اس نے عامر کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا
“نہیں عامر… آپ یہ نہیں سوچ رہے تھے۔ بات کچھ اور ہے، مجھے سچ بتائیے کیا بوجھ ہے آپ کے دل پر؟”

،عامر نے شرمندگی سے نظریں چرا لیں۔ اس کی چوری پکڑی جا چکی تھی۔ اس نے ایک لمبی سانس لی اور بھرائی ہوئی آواز میں سچ اگل دیا
“ڈاکٹر نے ایک مہنگا ٹیسٹ لکھا ہے عائشہ، مگر پچاس ہزار کا بندوبست کہیں سے ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔”

،کمرے میں ایک بوجھل خاموشی چھا گئی۔ عائشہ نے عامر کے ہاتھ پر اپنی گرفت تھوڑی مضبوط کی اور نہایت مٹھاس بھرے لہجے میں بولی
عامر! آپ نے میرے لیے جو کچھ کیا ہے، اس کا احسان میں مر کر بھی نہیں چکا سکتی۔”

میں نے تو خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ نقیب جیسے انسان کے بعد آپ جیسا مخلص اور نیک دل انسان میری تقدیر میں لکھا ہوگا۔

“میں تو جینے کی اُمید چھوڑ چکی تھی، مگر آپ نے مجھے سہارا دیا۔ آپ اپنی ہمت سے بڑھ کر میرے لیے لڑ رہے ہیں۔ مجھے آپ سے کوئی شکوہ نہیں، میں آپ سے بہت راضی ہوں۔
عائشہ کے یہ الفاظ عامر کے لیے کسی وصیت جیسے وزنی تھے۔ اسے یوں لگا جیسے عائشہ اسے الوداعی کلمات کہہ رہی ہو۔

“نہیں عائشہ! ابھی تو میں نے کچھ نہیں کیا۔ میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا۔ میں پچاس ہزار کیا، تمہاری خاطر اپنی جان بھی داؤ پر لگا دوں گا۔”

“عائشہ نے ایک تھکی ہوئی مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا، “کیسے کریں گے عامر؟ کہاں سے آئیں گے اتنے پیسے؟
اس سوال نے عامر کے گرد خاموشی کی ایک آہنی دیوار کھڑی کر دی۔ وہ ہر در کھٹکھٹا چکا تھا، ہر رشتہ آزما چکا تھا۔ عائشہ اس کی بے بسی بھانپ گئی اور اسے ڈر لگا کہ کہیں عامر اس جنون میں کوئی الٹا سیدھا قدم نہ اٹھا لے۔
“عامر! آپ پریشان نہ ہوں، ہم کل صبح گھر چلے جائیں گے۔ مجھے اب یہاں نہیں رہنا۔”

“…عامر کے ذہن میں اچانک ایک نام بجلی کی طرح کوندا۔ “میرا ایک کزن ہے، چچا کا بیٹا… اگر اس سے بات کروں تو شاید کچھ راستہ نکل آئے… لیکن

لیکن کیا؟” عائشہ نے اس کے لہجے میں موجود ہچکچاہٹ کو محسوس کیا۔”

“…تمہیں تو پتہ ہے عائشہ، ہماری ان کی فیملی سے ناراضگی چل رہی ہے۔ مرنا جینا ختم ہو چکا ہے، بات چیت بند ہے۔ ڈر لگتا ہے کہ اگر اس نے بھی انکار کر دیا تو”

پھر رہنے دیں عامر! اس سے بات نہ کریں۔ میں نہیں چاہتی کہ آپ کسی کے سامنے شرمندہ ہوں۔” عائشہ نے اسے روکنا چاہا۔”
،مگر عامر کی نظروں میں ایک پرانا منظر لہرا گیا۔ اس نے پرعزم لہجے میں کہا
نہیں عائشہ! وہ ایسا نہیں کرے گا۔ مجھے وہ دن یاد ہے جب میں نے خود کو آگ لگا لی تھی۔”

میرا پورا وجود جل چکا تھا، میں چار دن تک گھر میں لاچار پڑا رہا، مگر میرے اپنے خاندان نے بھی مجھے مرنے کے لیے چھوڑ دیا تھا۔ کسی نے میرا ہاتھ نہیں تھاما۔

،یہی وہ کزن تھا، جو تمام خاندانی مخالفتوں اور پابندیوں کو پیروں تلے روندتے ہوئے میرے پاس آیا، مجھے ہسپتال لے گیا اور جب تک میں بھلا چنگا نہیں ہو گیا

“اس نے میرا ساتھ نہیں چھوڑا۔ وہ اس وقت محض ایک طالب علم تھا، مگر وہ ڈٹا رہا۔

،عائشہ نے حیرت اور تجسس سے پوچھا
“اگر وہ ایسا ہے تو پھر اس کے لیے خاندانی جھگڑے کوئی معنی نہیں رکھتے ہوں گے۔ آپ کے چچا کے دو بیٹے ہیں نا، یہ بڑا ہے یا چھوٹا؟”

بڑا تو جاب لیس ہے، وہ گھر ہی ہوتا ہے۔ میں چھوٹے کی بات کر رہا ہوں۔” عامر نے وضاحت کی۔”

اچھا… میں نے اسے کبھی نہیں دیکھا، نہ ہی اس کا نام پتا ہے۔” عائشہ نے مسکرا کر کہا۔”

“اس کا نام زیاد ہے اور وہ گھر بہت کم آتا ہے۔ وہ اپنے کاموں میں اس قدر مصروف رہتا ہے کہ کبھی کبھار آئے بھی تو رات کے اندھیرے میں پہنچتا ہے اور پو پھٹنے ہی نکل جاتا ہے۔ وہ ایک عجیب ہی دنیا کا مسافر ہے۔” عامر نے اپنے کزن کا نقشہ کھینچا۔

عائشہ نے خاموشی سے سر ہلا دیا۔ اسے اب ایک نادیدہ اُمید محسوس ہونے لگی تھی۔ شاید اسے یقین ہو گیا تھا کہ جو شخص موت کے منہ سے عامر کو نکال کر لا سکتا ہے، وہ اس کٹھن گھڑی میں بھی ان کا ہاتھ نہیں چھوڑے گا۔

°°°°°°°°°°

…جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *