ناول: وارث کون

باب چہارم: تشنہ دیدار

Second Last Episode

قسط نمبر 19

مصنف: زیاد اصغر زارون

°°°°°°°°°°

صبح کے آٹھ بج رہے تھے۔ نیند کی وادیوں میں گم میرے موبائل کی سکرین روشن ہوئی اور اس پر عامر کا نام چمکا۔ خاندانی رنجشوں کی وہ تلخ یادیں، جن کا مرکز و محور شاید میں خود تھا، ایک لمحے میں ذہن میں لہرائیں۔ میں نے بیزاری سے موبائل اٹھایا، اسے سائلنٹ کیا اور تکیے کے نیچے دبا کر دوبارہ سونے کی کوشش کی۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ فون کی وہ لرزش دراصل کسی کی ٹوٹتی ہوئی سانسوں کی دستک تھی۔
ساڑھے نو بجے جب بیدار ہوا، تو معمول کے مطابق یونیفارم پہنا، آئینے میں خود کو سنوارا اور اپنے کاموں کی طرف نکل پڑا۔ زندگی اپنی پوری رعنائیوں کے ساتھ رواں تھی، مگر میرے جیب میں پڑا وہ خاموش موبائل ایک طوفان چھپائے بیٹھا تھا۔

دوپہر کے بارہ بجے کا وقت تھا۔ میں میرج ہال کی چہل پہل میں اپنے سٹاف کے کاموں کا جائزہ لینے میں مصروف تھا۔ اچانک خیال آیا تو جیب سے موبائل نکالا۔ سکرین پر نظر پڑی تو خون منجمد ہو گیا۔ عامر کی دس سے زائد مسڈ کالز میری بے حسی کا منہ چڑا رہی تھیں۔ خاندانی ناراضگی کا وہ بوجھ اتنا بھاری تھا کہ میں نے واپس کال کرنا مناسب نہیں سمجھا اور موبائل دوبارہ جیب میں ڈال دیا۔
ابھی ایک منٹ بھی نہیں گزرا تھا کہ موبائل پھر سے تھرتھرانے لگا۔ وہی نام، وہی پکار۔ چند لمحوں کی کشمکش کے بعد میں نے کال اٹھا لی۔
السلام علیکم! جی عامر بھائی! کیسے ہیں آپ؟” میں نے لہجے کو مصنوعی اپنائیت دیتے ہوئے پوچھا۔”

وعلیکم السلام۔۔۔ تم کیسے ہو؟” دوسری طرف سے آنے والی آواز بوجھل، تھکی ہوئی اور شکستہ تھی۔”

“میں تو ٹھیک ہوں، آپ بتائیں۔۔۔ کیسی چل رہی ہے لائف؟”

میرا یہ مخصوص سوال جیسے اس کی خاموشی کے زخم پر نمک چھڑک گیا ہو۔ چند پل کے لیے دوسری طرف موت جیسا سکوت چھا گیا، جیسے وہ اپنی بکھری ہوئی ہمت کو سمیٹ رہا ہو۔

یار زیاد! مجھے کچھ پیسوں کی اشد ضرورت تھی۔” عامر کی آواز میں وہ لرزش تھی جسے اس وقت میں نے نشے کی طلب سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔”

،میرا دل بیزاری سے بھر گیا۔ “مجھے کال اٹھانی ہی نہیں چاہیے تھی۔ مجھے معلوم تھا یہ پھر پیسوں کے لیے فون کرے گا۔” میں نے من میں سوچا اور وجہ جانے بغیر ہی بہانہ کر دیا
“سوری یار! میرے پاس تو ابھی بالکل پیسے نہیں ہیں۔”

“،یار! خدا کا واسطہ ہے، انکار مت کر۔ تیری بھابھی کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہے، کہیں سے بندوبست کر دے”

وہ لجاجت سے بولا، مگر عامر کا داغدار ماضی میری ہمدردی پر غالب آگیا۔

“یقیناً نشے کے لیے ہی جھوٹ بول رہا ہوگا۔”

،اس بدگمانی نے میرے دل کو پتھر کر دیا اور میں نے دوسری بار بھی صاف انکار کر دیا

“نہیں یار۔۔۔ سچی بات ہے، ابھی تو میری اپنی شادی کا قرضہ نہیں اترا، میں خود بڑا مجبور ہوں۔”

،لیکن اگلا لمحہ میرے لیے کسی پہاڑ کے گرنے جیسا تھا۔ عامر، وہ شخص جو کبھی اپنی مردانگی کے قصے سناتا تھا، فون پر بچوں کی طرح رو پڑا
“!زیاد! انکار مت کر یار۔۔۔ میں بہت پریشان ہوں۔ اللہ کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں، تیری بھابھی سچ میں بیمار ہے، میں کسی چرس ورس کے لیے پیسے نہیں مانگ رہا”

میرا دل دھک سے رہ گیا۔ وہ اچھا تھا یا برا، جیسا بھی تھا، وہ میرے تایا کا بیٹا تھا، میرا بھائی اور میرا خون تھا۔ اس کا وہ رونا میری روح کو چیر گیا۔ ایک گہری ندامت نے میرے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

،میں نے لہجہ بدلا اور کہا
“اچھا یار! تو پریشان نہ ہو۔ میں کچھ کرتا ہوں۔ ویسے کتنے پیسوں کی ضرورت ہے؟”

“،ٹیسٹ کے لیے تو پچاس ہزار چاہئیں، لیکن تم سے جتنا ہو سکتا ہے، بھیج دو”

اس کی آواز میں اب تھوڑی سی ڈھارس تھی۔

“پچاس ہزار تو نہیں ہیں پاس… خیر میں کرتا ہوں کچھ۔ تم اکاؤنٹ نمبر بھیج دو،”

میں نے بہانے بازی سے کام لیا، حالانکہ میں جانتا تھا کہ سچ اس سے کہیں زیادہ تلخ ہے۔
میں نے کال کاٹی اور اپنا ایزی پیسہ اکاؤنٹ کھولا۔ موبائل کی بیپ بجی، واٹس ایپ پر اکاؤنٹ نمبر آ چکا تھا۔ میں نے چند لمحے سوچا اور پھر اسے محض دس ہزار روپے بھیج دیے۔ میں نے اسے رسید بھیج دی۔ میری ایک بری عادت ہے کہ میں وٹس ایپ پر اکثر اوقات میسجز نہیں دیکھ پاتا، ایسے ہی پیسے ملنے کے بعد اس نے مجھے کوئی وائس میسج کیا، شاید وہ شکریہ ادا کر رہا ہوگا لیکن میں نے اس کا وہ وائس نہیں سنا۔ کبھی نہیں سنا۔

آج بھی جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں، تو روح کانپ اٹھتی ہے۔ بھابھی عائشہ نے اس وقت کیا سوچا ہوگا؟ انہوں نے شاید اپنے اس دیور کو ایک مسیحا سمجھا ہوگا، ایک ایسی اُمید جس کا نام عامر نے انہیں دیا تھا۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ یہاں زیاد بھی کچھ خاص مدد نہیں کر پائے گا۔
کاش! میں اس وقت حالات کی سنگینی سمجھ پاتا۔ کاش میں عامر کی اس بے بسی کے پیچھے چھپے سچ کو پہچان لیتا۔ مجھے سچ میں اندازہ نہیں تھا کہ عامر کی بیوی کس قدر اذیت میں ہے۔ میں نے تو انہیں کبھی دیکھا تک نہیں تھا، بس گھر میں سرسری سا تذکرہ سنا تھا۔ اگر مجھے ذرہ برابر بھی علم ہوتا کہ وہ زندگی کی آخری دہلیز پر ہیں، تو میں اپنے اکاؤنٹ میں ایک پائی بھی نہ چھوڑتا، چاہے مجھے مزید رقم بھیجنے کے لیے ادھار لینا پڑتا، میں بھیج دیتا۔
مگر تب میں کچھ نہیں کر پایا۔ وہ دس ہزار روپے اس سمندر میں ایک بوند کی مانند تھے جس میں عائشہ غرق ہو رہی تھی۔ یہ پچھتاوہ، یہ ادھوری مدد اور وہ نامکمل اعتبار… یہ کسک شاید اب میری زندگی کا ابدی حصہ بن چکی ہے۔

°°°°°°°°°°

میں نے اپنے بڑے بھائی کا نمبر ملایا۔

،فون کے دوسرے سرے پر بھائی کی آواز سنتے ہی میں نے روایتی خیریت دریافت کرنے کے فوراً بعد وہ سوال داغ دیا جو میرے ذہن میں کانٹے کی طرح چبھ رہا تھا
“بھائی! یہ عامر کی بیوی کو آخر ہوا کیا ہے؟ وہ بہت پریشان لگ رہا تھا۔”

بھائی کے لہجے میں ایک بے نیازی تھی، جو شاید اسی اعتبار کے قحط کا نتیجہ تھی جس کا عامر برسوں سے شکار تھا۔
“پتہ نہیں یار… بیمار ہے شاید۔ اس نے مجھے بھی کال کی تھی، پیسے مانگ رہا تھا، مگر سچی بات تو یہ ہے کہ میرے پاس اس وقت گنجائش ہی نہیں تھی کہ اسے کچھ بھیج پاتا۔”

میں نے ایک لمحے کے لیے سوچا کہ اسے دس ہزار بھیجنے کی حقیقت بتا دوں، مگر پھر مصلحت آڑے آگئی۔ میں ان سے کچھ چھپاتا تو نہیں تھا، مگر اس وقت مجھے لگا کہ اگر میں نے بڑی رقم بتائی تو شاید وہ اسے میری نادانی سمجھیں یا غصہ کریں کہ ایک نشئی پر اتنے پیسے کیوں لٹا دیے۔
اچھا… مجھے بھی اس کی کال آئی تھی، مجھ سے بھی مدد مانگ رہا تھا۔” میں نے بات کو گول مول کرنے کی کوشش کی۔”

ہاں، میں نے ہی اسے کہا تھا کہ زیاد سے پوچھ لو، شاید اس کے پاس کوئی انتظام ہو۔ تو پھر؟ تم نے اسے کچھ بھیجا یا نہیں؟” بھائی نے پوچھا۔”

،میں نے پورا سچ نہیں بتایا
ہاں! پانچ ہزار روپے بھیجے ہیں۔” میں نے جان بوجھ کر رقم آدھی بتائی تاکہ بھائی کے سامنے میرا محتاط امیج برقرار رہے۔”

چلو اچھا کیا،” بھائی کے لہجے میں اب ہمدردی کی ایک لہر ابھری۔”
“اگر وہ دوبارہ کال کرے تو کچھ اور بھیج دینا۔ بیچارہ بہت زیادہ پریشان لگ رہا تھا۔”

بھائی کی اس بات نے میرے کندھوں سے بوجھ اتار دیا۔ ان کی اجازت میرے لیے ایک ایسا اخلاقی لائسنس بن گئی تھی جس کے بعد میں اب عامر کی مدد کے لیے آزاد تھا، مگر افسوس کہ اس لائسنس کا استعمال کرنے کی نوبت ہی نہیں آئی۔

کال کٹتے ہی میں نے موبائل جیب میں ڈالا اور واپس میرج ہال کے ہنگاموں میں گم ہو گیا۔ وہ پندرہ منٹ کی ذہنی کوفت، وہ عامر کا رونا اور وہ دس ہزار کی رسید… سب کچھ جیسے ایک دم سے کسی دھندلے خواب میں بدل گیا۔ آفس میں چلتے اے سی کی ٹھنڈک، ویٹروں کی بھاگ دوڑ اور میری ذمہ داریوں نے عامر کے اس بوجھل وائس میسج کو میرے ذہن کے کسی اندھیرے کونے میں دھکیل دیا جسے میں نے ابھی تک سنا بھی نہیں تھا۔
نہ مجھے عامر یاد رہا، نہ اس کی نحیف ہوتی ہوئی بیوی عائشہ، اور نہ ہی وہ ہسپتال جہاں زندگی اور موت کے درمیان ایک پچاس ہزار کی خلیج حائل تھی۔ میری اپنی زندگی کے جھمیلے اتنے پرکشش اور مصروف تھے کہ کسی دوسرے کی صدا وہاں تک پہنچ ہی نہ سکی۔

°°°°°°°°°°

عامر کے پاس اب کوئی راستہ بچا ہی نہیں تھا۔ وہ ہر اس دہلیز پر دستک دے چکا تھا جہاں سے اسے تھوڑی سی بھی امید تھی، مگر قدرت نے اسے ہر طرف سے خالی ہاتھ لوٹا دیا تھا۔ وہ انسان، جس نے کبھی وحشی پن کی تمام حدود پار کر دی تھیں، جب سنبھلنا چاہا تو زمانے نے اسے ٹھوکروں پر رکھ لیا۔ مصلحتوں اور ماضی کے داغوں نے اس نہج تک پہنچا دیا تھا جہاں سے آگے صرف موت تھی یا دوبارہ وہی اندھیرا راستہ۔ دو راتیں عائشہ کے سرہانے گزارنے کے بعد، اس نے اسے اپنی والدہ کے رحم و کرم پر چھوڑا اور خود اس تپتی ہوئی رات کے سناٹے میں نکل پڑا، اپنے ضمیر کو دفن کرنے کے لیے۔

رات کے نو بج رہے تھے جب عامر کی بائیک کا بھدا شور فضا میں گونجا۔ وہ سیدھا اپنے ماضی کے ان ساتھیوں کے ٹھکانے پر پہنچا جن سے اس نے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔ وہ ایک کچی بستی کا گوشہ تھا جہاں دھوئیں اور گناہوں کی بو فضا میں ہمہ وقت رقص کرتی تھی۔ بائیک رکتے ہی وہاں موجود چاروں افراد چوکنا ہو گئے، پستولوں کے گھوڑے چڑھے، مگر جیسے ہی اندھیرے میں عامر کے سانس لینے کی وہ مخصوص آواز سنائی دی، جو کسی بپھرے ہوئے اژدھے کی پھنکار جیسی تھی، ان کے چہروں پر اطمینان اور جوش کی لہر دوڑ گئی۔
“اوہ ہو… دیکھو تو سہی کون آیا ہے! چوہدری عامر محمود… ہمارا یار واپس لوٹ آیا ہے۔”

ان میں سے ایک، جس کی آواز میں تمسخر اور خوشی ملی جلی تھی، زور سے چلایا۔
عامر، جس کے قدموں کی چاپ اب بوجھل نہیں بلکہ شکاری جیسی تھی، ان کے قریب پہنچا۔

“کیسے ہو تم سب؟ مجھے تو لگا تھا اب تک پولیس نے تمہاری ہڈیوں کا سرمہ بنا دیا ہوگا۔”

“ہاں، لگ گئے تھے پولیس کے ہتھے، مگر کچھ دن پہلے ہی ضمانت پر رہا ہوئے ہیں۔ تو بتا… شرافت کی مکھن ملائی جیسی زندگی کیسی گزر رہی ہے؟”

ایک نے سگریٹ کا دھواں ہوا میں اچھالتے ہوئے طنز کیا۔

شرافت؟” عامر نے سرد آہ بھری اور اپنی ویران نظریں آسمان کی طرف اٹھائیں، جہاں ستارے اسے تذلیل سے تکتے محسوس ہو رہے تھے۔”

شاید ہم جیسوں کی قسمت میں یہ لفظ لکھا ہی نہیں گیا۔ یہ زمانہ، یہ اپنے، یہ رشتہ دار… کوئی نہیں چاہتا کہ ہم توبہ کر کے جی سکیں۔”

“انہوں نے مجھے مجبور کر دیا ہے کہ میں دوبارہ وہ بن جاؤں جو میں نہیں چاہتا تھا۔

اس کے لہجے میں موجود کرب اتنا گہرا تھا کہ ان پیشہ ور مجرموں کو بھی لمحہ بھر کے لیے خاموش ہونا پڑا۔
“کیا ہوا یار؟ سب ٹھیک تو ہے نا؟”

مجھے پیسوں کی ضرورت ہے۔” عامر کی آنکھوں میں وہ وحشیانہ چمک لوٹ آئی تھی جو برسوں پہلے اس کی پہچان تھی۔”

“کتنے پیسے؟”

“میری بیوی بسترِ مرگ پر ہے اور مجھے اس کے علاج کے لیے کم از کم ایک سے دو لاکھ روپے چاہئیں۔” عامر نے صاف گوئی سے اپنا مدعا بیان کیا۔

“ہممم… عامر میاں! اتنے پیسے راہگیروں کی جیبیں کترنے سے نہیں ملیں گے۔ اس کے لیے کسی بڑے شکار پر ہاتھ ڈالنا پڑے گا، کسی گھر میں ڈاکہ ڈالنا ہوگا۔”

“مجھے کوئی مسئلہ نہیں۔” عامر نے دوٹوک لہجے میں کہا۔ “جو کرنا ہے، آج رات ہی کرنا ہے۔”

ان چاروں نے ایک دوسرے کی طرف معنی خیز نظروں سے دیکھا۔ عامر کی واپسی ان کے لیے کسی غیبی مدد سے کم نہیں تھی۔

“ایک گھر ہماری نظر میں ہے، مال بھی اچھا ہے اور خطرہ بھی کم۔ اگر تم ساتھ ہو، تو کام پکا سمجھو۔”

ٹھیک ہے… پھر تیار رہو۔ ہم رات بارہ بجے کے بعد نکلیں گے،” ان کے سرغنہ نے حامی بھر لی۔”

وہ چاروں جانتے تھے کہ عامر ان کے گروہ کا سب سے قیمتی مہرہ کیوں تھا۔ وہ محض ایک ڈکیت نہیں تھا، وہ ایک فنی ماہر تھا۔ اس کی انگلیاں تالے توڑتی نہیں تھیں، بلکہ ان سے باتیں کرتی تھیں۔ پیچیدہ سے پیچیدہ تالا بھی عامر کے ہاتھوں میں موجود باریک تاروں کے سامنے چند سیکنڈ سے زیادہ نہیں ٹکتا تھا۔ اس کا شاطر دماغ اور اس کے ہاتھ خود ایک ایسی “ماسٹر کی” تھے جو ہر بند دروازے کو کھولنا جانتے تھے۔
عامر اس وقت ایک ایسے دہانے پر کھڑا تھا جہاں ایک طرف اس کی تڑپتی ہوئی بیوی تھی اور دوسری طرف جرم کی وہ دلدل جس میں وہ دوبارہ اترنے جا رہا تھا۔ اسے پچاس ہزار کے لیے رولانے والے اپنوں نے اسے دو لاکھ کے ڈاکے کا راستہ دکھا دیا تھا۔

°°°°°°°°°°

آسمان پر چھائے بوجھل بادلوں نے چاند کی مدھم روشنی کو بھی قید کر رکھا تھا۔ بستی کے گلی کوچے موت جیسی خاموشی میں ڈوبے ہوئے تھے، جہاں صرف کتوں کے بھونکنے کی آواز کبھی کبھار سناٹے کا سینہ چاک کرتی۔ اسی تاریکی سے پانچ سائے نمودار ہوئے۔ چہروں پر ڈھانپے گئے سیاہ کپڑوں نے ان کی شناخت چھپا دی تھی، مگر ان کی آنکھوں میں چمکتی وحشت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی۔

​وہ ایک ڈبل سٹوری مکان کے سامنے رکے۔ ایک لمحے کے لیے سب ساکت ہوئے، جیسے اپنی سانسوں کی ترتیب درست کر رہے ہوں۔ پھر، ایک دوسرے کو سہارا دیتے ہوئے، وہ نہایت پھرتی سے دیوار پھلانگ کر صحن کی خاموشی میں اتر گئے۔ تین سائے دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑے ہو گئے، جن کے ہاتھوں میں کلاشنکوف کی نالیں کسی زہریلے ناگ کے پھن کی طرح تنی ہوئی تھیں۔ عامر اور اس کا ایک دوسرا ساتھی، جن کے ہاتھوں میں پستول تھے، بنا چاپ کیے چلتے ہوئے مرکزی دروازے تک پہنچے۔

​عامر نے اپنی جیب سے باریک فولادی تاریں نکالیں۔ اس کی انگلیاں تالوں کے اندرونی پیچ و خم سے ایسے واقف تھیں جیسے کوئی ماہرِ موسیقی، ساز کے تاروں سے ہوتا ہے۔ اس نے مرکزی دروازے کے لاک میں تار ڈالی، مگر اسے گھمانے کی کوشش کی تو ایک جھرجھری سی لی۔ “اندر سے چٹخنی چڑھی ہوئی ہے۔” اس نے سرگوشی کی۔ وہ دوسرے بیرونی دروازے کی طرف بڑھا، وہاں بھی یہی صورتحال تھی۔
​انسانوں کی بستی میں جب خوف بسیرا کر لے، تو کنڈیاں اور چٹخنیاں مضبوط کر دی جاتی ہیں۔ عامر کی پیشانی پر پسینہ چمکنے لگا۔ ناکامی کا خوف اسے عائشہ کے اس زرد چہرے کی یاد دلا رہا تھا جو ہسپتال کے سفید بستر پر زندگی موت کی کشمکش میں تھی۔

​اچانک اس کی نظر ایک بیرونی واش روم کے دروازے پر پڑی۔ یہ وہ دروازہ تھا جو دو طرفہ کھلتا تھا، ایک رخ صحن کی طرف اور دوسرا گھر کے اندرونی حصے میں۔ عامر نے وہاں اپنی مہارت آزمائی۔ تاروں کی ہلکی سی چھیڑ خانی اور ڈور لاک کے اندرونی لیور کے ساتھ ایک مخصوص چھیڑ چھاڑ کے بعد، ایک نہایت مدھم سی ٹک کی آواز ابھری۔ تالا ہار مان چکا تھا۔
​دروازہ کھلتے ہی باقی چاروں کے چہروں پر وہ ہوس اور لالچ رقص کرنے لگی جو صرف درندوں کے نصیب میں ہوتی ہے۔ وہ پانچوں، سائے کی طرح دبے قدموں، گھر کے پرسکون ماحول میں داخل ہو گئے، جہاں گھر کے مکیں میٹھی نیند کے خواب دیکھ رہے تھے۔

​عامر نے سب کو اشارہ کیا کہ وہ گھر کے مختلف حصوں میں پھیل جائیں۔ وہ خود ایک بڑے کمرے کی طرف بڑھا جس کا دروازہ نیم وا تھا۔ اندر داخل ہوتے ہی اسے انسانی سانسوں کی باقاعدہ آوازیں سنائی دیں۔ بیڈ پر ایک ادھیڑ عمر خاتون گہری نیند سوئی ہوئی تھیں، جبکہ ان کے گرد تین جوان لڑکیاں چادریں اوڑھے اپنی معصومیت سمیت سکون میں تھیں۔

​عامر نے پستول تانا اور ایک ہلکا سا گلا کھنکارا۔ یہ آواز اس سناٹے میں کسی گولی کے دھماکے سے کم نہیں تھی۔ خاتون ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھیں۔ سامنے ایک نقاب پوش، پستول تانے ہولناک سایہ دیکھ کر ان کے حلق سے ایک گھٹی ہوئی چیخ نکلنے لگی۔

خاموش! اگر ایک لفظ بھی نکلا، تو آپ کی ان بیٹیوں کے بھیجے اڑا دوں گا۔” عامر کی آواز میں وہ سرد مہری تھی جو کسی کا بھی خون منجمد کر دے۔”

​خاتون کا پورا وجود بید کے پتے کی طرح لرزنے لگا۔ ان کی ایک بیٹی، جو شاید اس شور سے جاگ گئی تھی، اپنی ماں کی حالت دیکھ کر پتھر کی ہو گئی۔ عامر نے اسے بھی اشارہ کیا کہ وہ خاموش رہے۔ “اپنی باقی بہنوں کو بھی جگاؤ، اور خبردار اگر کسی نے شور مچانے کی کوشش کی۔”
​لرزتے ہاتھوں سے ماں نے اپنی کلیوں جیسی بیٹیوں کو جگایا۔ وہ تینوں لڑکیاں جب بیدار ہوئیں، تو ان کے سامنے ان کی کل کائنات… ان کی عزت اور زندگی… خطرے میں تھی۔

خدا کا واسطہ ہے بیٹا! ہمیں کچھ مت کہنا۔ تمہیں جو چاہیے لے جاؤ، بس میری بچیوں پر رحم کھاؤ۔” خاتون کے ہاتھ دعا اور التجا کے لیے اٹھ گئے، آنکھیں آنسوؤں سے چھلک پڑیں۔”

،​عامر کے سینے میں ایک لمحے کے لیے تکلیف کی ایک ٹیس اٹھی، مگر اس نے اپنے لہجے کو سخت رکھا
“ہمیں تم سے یا تمہاری بیٹیوں سے کوئی لینا دینا نہیں۔ ہمیں صرف دولت چاہیے۔ بتاؤ سونا اور پیسہ کہاں چھپایا ہے؟”

​خاتون کی نظروں میں اس وقت صرف اپنی بیٹیوں کا وقار تھا، مال و دولت تو محض مٹی کے ڈھیر تھے۔

“وہ… سٹور کے اندر میرا ایک پرانا صندوق ہے، سب کچھ اسی میں ہے۔ خدا کے لیے بس یہاں سے نکل جاؤ۔”

​تبھی وہاں باقی چاروں ساتھی بھی آن پہنچے۔ ان کے ہاتھوں میں موجود ہتھیار اور ان کے چہروں پر پھیلی وہ وحشیانہ چمک بتا رہی تھی کہ ان کے ارادے صرف مال تک محدود نہیں۔ وہ چاروں، ان تینوں جوان لڑکیوں کو ایسی نظروں سے دیکھ رہے تھے جیسے بھوکے بھیڑیے تازہ شکار کو دیکھتے ہیں۔

​عامر نے ایک لمحے کے لیے اپنے گردوپیش کا جائزہ لیا۔ اس کے اندر کا وہ انسان، جو عائشہ کی پاکیزہ محبت سے سیراب ہوا تھا، اچانک تلملا اٹھا۔
“گھر میں اور کون ہے؟” عامر نے اپنے ایک ساتھی سے پوچھا۔

​”کوئی نہیں یار! پورا گھر چھان مارا ہے، صرف یہ چار عورتیں ہی ہیں۔” اس نے یہ کہہ کر ان لڑکیوں کی طرف ایک مکروہ اشارہ کیا، “آج تو قسمت کھل گئی ہے۔”

​خاتون کی بڑی بیٹی خوف کے مارے اپنی ماں کے وجود کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرنے لگی۔ عامر کو محسوس ہوا جیسے اس کے کانوں میں سیسہ انڈیل دیا گیا ہو۔ اسے وہ پچاس ہزار یاد آئے جن کے لیے وہ یہ گناہ کر رہا تھا، مگر ان پچاس ہزار کی قیمت اسے بہت بڑی لگنے لگی۔

​”کیا اس گھر میں کوئی مرد نہیں ہے؟” اس نے دوبارہ خاتون سے پوچھا۔

​”نہیں… ہم چاروں تنہا ہیں۔ ان کا باپ دو سال پہلے فوت ہو چکا ہے۔”

خاتون نے لرزتی آواز میں انکشاف کیا، اسے اس بات سے ترس نہیں آیا کہ وہ یتیم بچیاں تھیں، خوف ان کے اکیلے ہونے سے آیا، جس نے پاؤں تلے سے زمین نکال دی۔

​عامر کا چہرہ سپید پڑ گیا، جیسے کسی نے اس کی رگوں سے سارا خون نچوڑ لیا ہو۔ اس کے ذہن میں اپنی بہنیں، اپنی ماں اور اپنی عائشہ کا عکس لہرایا۔ وہ ایک پل کے لیے بھول گیا کہ وہ یہاں کیوں آیا ہے۔
“،​ہم اس گھر میں ڈکیتی نہیں کریں گے”

عامر نے اپنے پستول کو نیچا کرتے ہوئے دوٹوک لہجے میں کہا۔

​اس کے ساتھی ششدر رہ گئے۔
“کیا بکواس کر رہے ہو؟ تالے تم نے توڑے، اندر ہم آگئے اور اب جب ہاتھ رنگنے کا وقت آیا ہے تو شرافت یاد آگئی؟”

“ایک ساتھی نے غصے سے قدم آگے بڑھایا، “پیسہ تو لیں گے ہی، مگر اب ان کلیوں کو بھی مسلیں گے۔

​اگلے ہی پل، عامر کی پستول کی نال اس کے اپنے ہی ساتھی کے ماتھے پر تھی۔ اس کی آنکھیں خون آلود ہو چکی تھیں اور لہجے میں وہ مخصوص اژدھے جیسی پھنکار لوٹ آئی تھی جس سے اس کا گروہ لرزتا تھا۔

میں نے کہا… ہم یہاں کچھ نہیں کریں گے۔ پیچھے ہٹو!” عامر کے دانتوں تلے پسنے والی آواز نے سب کو سکتے میں ڈال دیا۔”

پاگل ہو گئے ہو عامر؟ یہ کوئی تمہاری بہنیں نہیں ہیں۔” ایک ڈکیت نے رائفل سیدھی کرنی چاہی۔”

،اگر اس گھر میں کوئی مرد ہوتا، تو میں ان کی تجوریاں کیا، ان کے دل بھی نکال لیتا۔ مگر یہاں صرف عورتیں ہیں۔” عامر کی آواز میں اب ایک عجیب سی گرج تھی”
اگر ہم یہاں سے ایک روپیہ بھی لے کر گئے یا ان کے ساتھ کوئی بدتمیزی کی، تو کل صبح جب شور بپا ہوگا تو یہ معاشرہ ان کا جینا حرام کر دے گا۔”

“لوگ یہ نہیں کہیں گے کہ ڈاکو مال لے گئے، وہ انہیں بھی داغدار سمجھیں گے، پیسے کے لیے میں دوسروں کی عزت کا سوداگر نہیں بن سکتا۔

​اس نے اپنے پستول کا گھوڑا چڑھا دیا۔
“اب یا تو تم یہاں سے خاموشی سے نکلو گے، یا پھر میں خود بھی مروں گا اور تم چاروں کو بھی ساتھ لے کر جہنم جاؤں گا۔”
​وہ چاروں سہم گئے۔ وہ جانتے تھے کہ عامر اس وقت ایک ایسی جذباتی انتہا پر ہے جہاں اسے اپنی جان کی پرواہ نہیں۔ وہ عامر کی اس وحشی فطرت سے واقف تھے جو بھلائی کے لیے بھی اتنی ہی خطرناک ہو سکتی تھی جتنی برائی کے لیے۔

اچھا ٹھیک ہے، چلتے ہیں۔ مگر یاد رکھنا عامر محمود! آج کے بعد تم ہمارے کسی کام میں شریک نہیں ہو گے۔” ایک نے غصے سے تھوکتے ہوئے کہا۔”

“​جو مرضی آئے کر لینا، بس اب دفع ہو جاؤ یہاں سے۔”

عامر نے غصے سے اشارہ کیا۔ وہ چاروں پیر پٹختے ہوئے، ناکام و نامراد صحن کی طرف نکل گئے۔

​کمرے میں اب صرف عامر اور وہ سہمی ہوئی خواتین تھیں۔ عامر نے ایک نظر ان تینوں لڑکیوں پر ڈالی، جن کی آنکھوں میں اب موت کا خوف نہیں بلکہ ایک حیرت اور عقیدت تھی۔

،اس نے خاتون کی طرف دیکھ کر نقاب کے پیچھے سے مدھم آواز میں کہا
اماں! ہم جا رہے ہیں۔ ہم نے آپ کا ایک روپیہ بھی نہیں لیا۔ مگر میری ایک بات پلو سے باندھ لیں۔۔۔ صبح کسی کے سامنے اس واقعے کا تذکرہ مت کیجیے گا اور نہ ہی شور مچائیے گا۔”

یہ معاشرہ بہت گندہ ہے، لوگ کبھی یقین نہیں کریں گے کہ چار نقاب پوش ڈاکو گھر میں گھسے اور آپ کی بیٹیوں کی عزت محفوظ رہی۔

“اگر میں نے ان کی لاج رکھی ہے، تو آپ بھی ان کا مان رکھیے گا۔

،​خاتون کے آنسو اب شکر گزاری کے سیلاب میں بدل چکے تھے۔ انہوں نے لرزتے لبوں سے دعا دی
“جیتے رہو پتر… جیتے رہو۔ اللہ تیری ہر مشکل آسان کرے۔ میں ہمیشہ تمہارے لیے دعا کرتی رہوں گی۔”
​عامر کے حلق میں آنسوؤں کا گولا پھنس گیا۔ وہ تیزی سے مڑا اور باہر نکل گیا۔ جب وہ دوبارہ اس دیوار کو پھلانگ کر گلی میں آیا، تو اس کی آنکھیں بھیگ چکی تھیں۔ اس کے پاس اب بھی وہ پچاس ہزار نہیں تھے، وہ اب بھی عائشہ کے لیے ایک خالی ہاتھ شوہر تھا، مگر اس رات اس نے ایک ایسی دولت کما لی تھی جو اسے پچاس ہزار سال کی عبادت سے بھی شاید نصیب نہ ہوتی۔

°°°°°°°°°°

رات کی سیاہی اب اس ویرانے میں مزید بوجھل ہو چکی تھی، جہاں انسانی بستیوں کا نام و نشان تک نہیں تھا۔ ہوا کی سرسراہٹ میں چھپی وحشت اس وقت ایک خوفناک موڑ میں بدل گئی جب ان پانچ سایوں کے درمیان کا بندھن تڑک کر ٹوٹ گیا۔
اچانک، ایک ڈکیت نے پیچھے سے جھپٹ کر عامر کے دونوں بازو کسی شکنجے کی مانند جکڑ لیے۔ اس سے پہلے کہ عامر سنبھل پاتا، دوسرے نے پوری قوت سے ایک گھونسا اس کے پیٹ کے نچلے حصے میں جڑ دیا۔
درد کی ایک لہر عامر کے پورے وجود میں دوڑ گئی، سانس حلق میں اٹک کر رہ گئی اور اگلے ہی پل اس کے نیفے میں اڑسا وہ پستول چھین لیا گیا جو کچھ دیر پہلے تک ان کی طاقت کا نشان تھا۔

“سُور کے بچے! تو نے بنا بنایا کھیل بگاڑ دیا۔”

ایک ڈکیت غصے سے اس پر دہاڑا، اس کی آنکھوں میں لٹ جانے والے مال کا دکھ اور ادھوری ہوس کی آگ رقص کر رہی تھی۔

“!لاکھوں روپے تو ہاتھ سے گئے ہی، ساتھ وہ شباب بھی چھن گیا جس کے لیے ہم ترستے رہے۔ تو نے ہماری محنت برباد کر دی”

اس سے پہلے کہ عامر کے لبوں سے کوئی حرف نکلتا، ان چاروں نے اسے زمین پر پٹخ دیا اور پھر شروع ہوا وہ وحشیانہ رقص جس میں جوتے کی ٹھوکریں اور نفرت کے گھونسے عامر کے نحیف جسم پر برسنے لگے۔

عامر مار کھا رہا تھا، مگر ایک عجیب اور لرزہ خیز خاموشی کے ساتھ۔ اس کے جسم پر بوٹوں کی ضربیں لگ رہی تھیں، پسلیاں چٹخ رہی تھیں، مگر اس کے لب سلے ہوئے تھے۔ وہ اپنی زبان دانتوں تلے اس قدر سختی سے دبائے ہوئے تھا کہ خون رسنے لگا، مگر اس نے ایک سسکاری تک فضا کے سپرد نہ کی۔ اس کے لیے اپنی تکلیف کا اظہار ان بزدلوں کے سامنے کرنا اپنی توہین کے برابر تھا۔

مجھے عامر کی وہ پرانی بات یاد آتی ہے، جو اس نے برسوں پہلے کہی تھی، جب وہ ایک بار اسی طرح لہولہان ہو کر لوٹا تھا۔

،میں نے حسبِ عادت اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ جہاں جاتے ہو پِٹ کر آتے ہو

،کیا اتنا شوق ہے مار کھانے کا، تو اس نے جواباً کہا تھا
زیاد! بہادر وہ نہیں ہوتا جو دوسروں کو لہولہان کر کے خود کو فاتح سمجھے۔”

اصل بہادری تو یہ ہے کہ تم پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹیں، ضربیں لگیں، مگر تمہاری زبان سے ایک آہ تک نہ نکلے۔

“مارنا آسان ہے، مگر مار ہمت س کھانا وہ جوہر ہے جو صرف مردِ حر کے پاس ہوتا ہے۔
آج عامر اپنی ہی اسی مثل کی زندہ تصویر بن چکا تھا۔ اس کے لب بھینچے ہوئے تھے اور اس کی خاموشی ان چاروں کی درندگی پر ایک زوردار طمانچہ تھی۔

جب وہ چاروں درندے اسے مارتے مارتے نڈھال ہو گئے اور ان کے سانس پھولنے لگے، تو ان کا سرغنہ عامر پر جھکا۔

،اس نے عامر کے الجھے ہوئے بالوں سے اسے دبوچا اور اس کے خون آلود چہرے کا رخ اپنی طرف موڑ کر زہریلے لہجے میں بولا
میرا وعدہ ہے تجھ سے… اب ہم جہاں بھی واردات کریں گے، وہاں تیرا نشان چھوڑ کر آئیں گے۔ اگر کبھی قانون کے ہتھے چڑھے، تو تجھے اپنا سب سے بڑا حصہ دار بتائیں گے۔”

“تجھے ایسی دلدل میں گھسیٹیں گے جہاں سے یہ تیری شرافت تیرا منہ چڑائے گی، اور تو اپنی زندگی کے ہر اس دن پر لعنت بھیجے گا جو تو نے نیک بن کر گزارا ہوگا۔
اس نے پوری حقارت سے عامر کے زخمی چہرے پر تھوکا، اور پھر وہ چاروں گرد اڑاتے ہوئے نامعلوم سمت کی طرف نکل گئے۔

کافی دیر تک عامر اس ٹھنڈی مٹی پر پڑا رہا۔ اس کے جسم کا ریشہ ریشہ ٹوٹ رہا تھا، منہ سے خون آمیز جھاگ نکل رہی تھی اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ مگر پھر، اس کے لاشعور میں ایک چہرہ لہرایا، عائشہ کا چہرہ۔

اس کے پاس پہنچنے کی تڑپ نے اس کے مردہ جسم میں ایک نئی بجلی بھر دی۔ اس نے زمین پر ہاتھ ٹیکے، کراہتے ہوئے، قدموں کو گھسیٹتے ہوئے وہ ایک بار پھر کھڑا ہوا۔ اس کا جسم جھک چکا تھا، مگر اس کی روح اب بھی تنی ہوئی تھی۔ وہ بوجھل قدموں کے ساتھ ایک طرف چل پڑا، اس امید کے ساتھ کہ شاید اب بھی کہیں سے کوئی معجزہ اسے پچاس ہزار دلوا دے۔

°°°°°°°°°°

عامر اس وقت زندگی کے ایک ایسے دوراہے پر کھڑا تھا جہاں اس کے لیے تمام راستے مسدود ہو چکے تھے۔ اس نے شرافت چنی اور مدد کی بھیک مانگی، تو زمانے نے اس کے داغدار ماضی کا حوالہ دے کر ہاتھ جھٹک دیا اور جب اسی معاشرے کی سنگدلی سے تنگ آکر اس نے دوبارہ جرم کی تاریک دنیا میں قدم رکھنا چاہا، تو وہاں اس کی غیرت نے اسے ناکام کر دیا۔ وہ اب نہ مکمل طور پر شریف رہا تھا اور نہ ہی مجرم… وہ محض ایک بے بس شوہر تھا جس کی کل کائنات ایک ہسپتال کے بیڈ پر سمٹی ہوئی تھی۔

جب عامر لہولہان حالت میں عائشہ کے سامنے پہنچا، تو اس کے پاس سچ کہنے کی ہمت تھی نہ سکت۔ اس نے اپنے ٹوٹے ہوئے وجود اور نیلے پڑے ہوئے زخموں کو حادثے کا لبادہ پہنا دیا۔ اس کے لہجے میں ایسی عجیب اور پتھر جیسی پختگی تھی کہ عائشہ کو، شک کے باوجود، اس کی بات پر یقین کرنا ہی پڑا۔ مگر عامر جانتا تھا کہ وہ اندر سے کرچی کرچی ہو چکا ہے۔
عائشہ کا وہ معصوم اعتبار عامر کے سینے میں کسی خنجر کی طرح پیوست ہو رہا تھا، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ وہ اپنی جان پر کھیل کر بھی اس کے علاج کے لیے رقم کا بندوبست نہیں کر پایا تھا۔ اب ان کے پاس سوائے سرکاری ہسپتال کی اس طویل لسٹ میں اپنی باری کے انتظار کے، اور کوئی چارہ نہیں تھا۔

دن گزر ہی جاتے ہیں… چاہے وہ مخمل کے بستر پر گزریں یا ہسپتال کے ٹھنڈے فرش پر۔ وقت ایک ایسا بے رحم منصف ہے جو کسی کے دکھ کے لیے اپنی رفتار کم نہیں کرتا۔
کتنی گہری حقیقت ہے کہ جو روزہ رکھتا ہے، اس کے لیے بھی سورج ڈھلتا ہے اور جو نہیں رکھتا، مغرب اس کے لیے بھی ہو ہی جاتی ہے۔ فرق صرف اس کرب کا ہے جو بھوک اور پیاس کی صورت میں روح جھیلتی ہے۔ عامر کے لیے یہ ایک ہفتہ کسی طویل روزے جیسا تھا، مگر اس روزے کی افطاری اُمید سے نہیں بلکہ سراسر خوف سے جڑی تھی۔ وہ لوگ جو سکون کی بستیوں میں تھے، ان کے دن قہقہوں میں گزر گئے، مگر عامر کے لیے ہر سیکنڈ ایک ہتھوڑا تھا جو اس کے اعصاب پر بج رہا تھا۔ وہ ایک ایسی آزمائش کی زد میں تھا جہاں اس کا ہر سانس ایک سوال تھا اور ہر خاموشی ایک دہائی۔

بالآخر، انتظار کی وہ بوجھل گھڑی آ پہنچی۔ ایک ہفتے کے طویل صبر کے بعد عائشہ کے ایم آر آئی کی تاریخ آ گئی۔
صبح دس بجے، ہسپتال کی وہ مخصوص، سپید اور سرد لیب جہاں ایم آر آئی کی مشین اپنی دہشت کے ساتھ موجود تھی۔ عائشہ کو جب اس مشین کے اندر منتقل کیا گیا، تو عامر باہر کھڑا دیوار سے ٹیک لگائے ایک ایک لمحہ گن رہا تھا۔ وہ مشین عائشہ کے جسم کا معائنہ نہیں کر رہی تھی، بلکہ عامر کے صبر کا امتحان لے رہی تھی۔

شام چار بجے، سہ پہر کے ڈھلتے سائے عامر کے دل میں خوف کی پرچھائیاں گہری کر رہے تھے۔ جب اسے وہ سفید لفافہ تھمایا گیا جس میں ایم آر آئی کی فلمیں اور تفصیلی رپورٹ موجود تھی، تو وہ بوجھل قدموں کے ساتھ ڈاکٹر کے کمرے کی طرف بڑھا۔ وہ تمام رپورٹس، جن پر ان کے پورے ہفتے کی دعاوں اور آنسوؤں کا نچوڑ تھا، اب ڈاکٹر کے سامنے میز پر دھری تھیں۔ ڈاکٹر نے نہایت سنجیدگی سے فائل کھولی اور رپورٹوں کے پیچیدہ ہندسوں اور لکیروں کا مطالعہ کرنے لگا۔

°°°°°°°°°°

ڈاکٹر کے اس چھوٹے سے کیبن میں، جہاں زندگی اور موت کے فیصلے چند کاغذوں پر لکھی لکیروں کی صورت میں موجود تھے، عامر سانس روکے بیٹھا تھا۔ اس کے سامنے پڑی وہ سفید فائل ایک دہکتا ہوا انگارہ تھی، جسے وہ چھونے سے ڈر رہا تھا۔

،اس کا دل کسی زخمی پرندے کی طرح پسلیوں سے ٹکرا رہا تھا، مگر ایک موہوم سی، ضدی اُمید اب بھی اس کے اندر سرگوشی کر رہی تھی
“…کچھ نہیں ہوگا عامر، دیکھنا سب ٹھیک ہو جائے گا۔ عائشہ مسکرائے گی، ہم گھر جائیں گے، یہ سب ایک ڈراونا خواب ثابت ہوگا”

ڈاکٹر نے عینک اتار کر میز پر رکھی اور ایک گہرا، پیشہ ورانہ سانس لیا۔ اس کی آنکھوں میں وہ مخصوص سپاٹ پن تھا جو اکثر برائی کی خبر سنانے والوں کا خاصہ ہوتا ہے۔

،اس نے فائل عامر کی طرف بڑھائی اور نہایت دھیمے مگر اٹل لہجے میں بولا
،عامر صاحب! اگر میں طبی اصطلاحات اور رپورٹس کی باریکیوں میں پڑوں گا تو شاید آپ کی الجھن بڑھے گی

“اس لیے میں آپ کو بہت سادہ اور تلخ لفظوں میں سچ بتا دیتا ہوں۔

،ڈاکٹر ایک لمحے کو رکا، اس نے عامر کی آنکھوں میں جھانکا، جہاں زندگی کی بھیک مانگتی ہوئی التجائیں لرز رہی تھیں، اور پھر اگلے ہی لمحے اس کی سماعتوں پر ایک ایٹم بم گرا دیا
“آپ کی بیوی اب صرف چند دنوں کی مہمان ہے۔ جتنا ہو سکے، ان کی خدمت کر لیں۔”

عامر کو یوں لگا جیسے کسی نے چلتی ہوئی زندگی کی فلم کو ایک دم روک دیا ہو۔ کمرے کی دیواریں اس کی طرف سمٹنے لگیں اور آکسیجن ختم ہونے لگی۔ اس کی زبان جیسے تالو سے چپک گئی تھی۔
“یہ… یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ڈاکٹر صاحب؟ ایسا نہیں ہو سکتا… آپ… آپ ایک بار پھر رپورٹس دیکھیں، شاید کسی اور کی فائل ہو؟ شاید کوئی غلطی…؟”

اس کے لفظ ٹوٹ رہے تھے اور آنکھوں کے بند ٹوٹ چکے تھے۔ گرم پانی کے دو قطرے اس کے رخساروں پر لرزتے ہوئے نیچے گرے، جیسے اس کے ارمانوں کا جنازہ نکل رہا ہو۔

میں رپورٹس کا تین بار باریک بینی سے مطالعہ کر چکا ہوں سر،” ڈاکٹر نے تابوت میں آخری کیل ٹھونکتے ہوئے کہا۔”

“آپ کی وائف کے گردے مکمل طور پر ناکارہ ہو چکے ہیں۔ معدے نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے اور جگر اب نیا خون بنانے کی صلاحیت کھو چکا ہے۔”

لیکن یہ سب ہوا کیسے؟ وہ تو ابھی جوان ہے، اسے تو کوئی بڑی بیماری بھی نہیں تھی، پھر یہ سب اچانک…؟” عامر نے آستین سے آنسو پونچھتے ہوئے بھری ہوئی آواز میں پوچھا۔”
،ڈاکٹر نے ایک لمبی آہ بھری
ہوئے ہیں۔(Damage)ان کے تمام اندرونی اعضاء بری طرح متاثر”

پیٹ کے اندر جگہ جگہ پرانے زخموں کے نشانات ہیں اور شدید سوزش ہے۔ کوئی پرانا ایکسیڈنٹ، کوئی لمبی بیماری… یا شاید شدید جسمانی تشدد۔

میں اصل وجہ تو نہیں جانتا، لیکن ان کا اندرونی نظام مکمل طور پر مسمار ہو چکا ہے۔

اگر کسی ایک عضو کا مسئلہ ہوتا تو ہم سرجری یا علاج کا سوچتے، مگر یہاں تو پوری عمارت ہی گر چکی ہے۔

“طبی سائنس میں اب ہمارے پاس ایسا کوئی معجزہ نہیں جو انہیں بچا سکے۔
عامر کے ذہن میں بجلی کی طرح نقیب کا چہرہ کوندا۔ وہ تشدد، وہ لاتیں، وہ پیٹ پر پڑنے والی ضربیں… وہ سب اب ایک خونی حساب بن کر عائشہ کے وجود سے وصول کی جا رہی تھیں۔ عامر کو لگا جیسے اس کے سر پر آسمان ٹوٹ پڑا ہو۔ وہ رونا چاہتا تھا، چیخنا چاہتا تھا، مگر اس کے گلے میں کانٹے اگ آئے تھے۔

“میں… میں اسے کسی بڑے سپیشلسٹ کے پاس لے جاؤں گا۔ لاہور، کراچی… کہیں بھی… میں اسے مرنے نہیں دوں گا۔”

عامر ہذیانی انداز میں بول رہا تھا، جیسے اپنی بے بسی سے لڑنے کی ناکام کوشش کر رہا ہو۔

“،دیکھیں جناب! میں آپ کے جذبات کی قدر کرتا ہوں”

،ڈاکٹر نے فائل سامنے کی اور کچھ درد کش ادویات لکھتے ہوئے کہا
مگر اب انہیں ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال گھسیٹنا صرف ان کی تکلیف میں اضافہ کرے گا۔ بہتر یہی ہے کہ آپ انہیں گھر لے جائیں۔”

“اس وقت انہیں کسی مشین یا دوا سے زیادہ آپ کے پیار، آپ کی توجہ اور خلوص کی ضرورت ہے۔
،ڈاکٹر نے نسخہ عامر کی طرف بڑھاتے ہوئے آخری ہدایات دیں
یہ کچھ ادویات اور انجکشن ہیں جو انہیں تین وقت دینے ہیں۔ اگر درد کی شدت برداشت سے باہر ہونے لگے تو چوبیس گھنٹے میں ایک بار یہ انجکشن لگوا دیجیے گا۔”

“ہم صرف اتنا کر سکتے ہیں کہ ان کے آخری ایام کو تکلیف سے پاک بنا سکیں، باقی اب آپ پر ہے کہ آپ ان کی زندگی کے یہ آخری دن کتنے خوشگوار بناتے ہیں۔

عامر نے کانپتے ہاتھوں سے وہ فائل تھامی جو اب اسے منوں وزنی لگ رہی تھی۔ جب وہ کرسی سے اٹھا تو اسے محسوس ہوا جیسے زمین اس کے پیروں کے نیچے سے سرک رہی ہے۔ کمرے کا ہر منظر دھندلا گیا تھا۔ وہ لرزتے قدموں سے باہر نکلا، مگر اس کے اندر جیسے سب کچھ راکھ ہو چکا تھا۔
وہ عائشہ کی طرف جا رہا تھا… اس عائشہ کی طرف جس کی زندگی اب ریت کی گھڑی کی طرح پل پل کر کے اس کے ہاتھوں سے پھسل رہی تھی۔ وہ مرد جو ایک اژدھے کی طرح پھنکارتا تھا، جو دنیا سے لڑ جانا جانتا تھا، آج ایک سفید کاغذ کے ٹکڑے سے ہار گیا تھا۔

…آہ عامر! تیری وہ بے بسی جسے دیکھ کر فرشتے بھی رو دیں
……تیری وہ لاچاری جو ہسپتال کی راہداریوں میں بکھری ہوئی تھی
…تیرا وہ تنہا رہ جانا، جہاں تیرے اپنے خون نے تجھے اکیلا چھوڑ دیا اور تو اپنی محبت کی زندگی خریدنے کے لیے اپنا ضمیر تک داؤ پر لگا بیٹھا، مگر پھر بھی خالی ہاتھ رہا
عامر اس وقت ایک زندہ لاش تھا، جو عائشہ کو ایک جھوٹی مسکراہٹ دینے کے لیے اپنے اندر کے سمندر کو پی جانے کی کوشش کر رہا تھا۔

°°°°°°°°°°

…جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *