ناول: وارث کون

باب اؤل: دہلیز

قسط نمبر 4

مصنف: زیاد اصغر زارون

°°°°°°°°°°

رات کی سیاہی اب پارک کے باہر اس چھوٹے سے ہوٹل کے گرد و نواح میں پھیل رہی تھی۔ ہوٹل کی پیلی روشنیاں سڑک پر پڑنے والے اندھیرے سے نبرد آزما تھیں، مگر فرحان کے اندر کا اندھیرا ان روشنیوں سے کہیں زیادہ گہرا تھا۔ وہ کافی دیر سے ایک لکڑی کی پرانی کرسی پر بیٹھا تھا، جس کی چرچراہٹ اس کے اعصاب پر ہتھوڑے برسا رہی تھی۔ چائے کا کپ کب کا خالی ہو کر اپنی رنگت کھو چکا تھا، مگر فرحان کی پیاس اب کسی چائے سے بجھنے والی نہیں تھی۔

وہ شخص جس نے کبھی تمباکو کی بو کو بھی ناپسند کیا تھا، آج زندگی کی تلخیوں سے بچنے کے لیے ایک سگریٹ کا سہارا لیے ہوئے تھا۔ سگریٹ کے پیکٹ سے ایک سلگتا ہوا سفید دھواں اس کے گرد ہالہ بنائے ہوئے تھا، جو شاید اس کے بکھرے ہوئے خیالات کی ہی عکاسی کر رہا تھا۔ وہ غیر مشق شدہ انداز میں کش لیتا، دھواں پھیپھڑوں میں اتارتا اور پھر ایک لمبی آہ کے ساتھ اسے فضا میں بکھیر دیتا۔ اس کا دوسرا ہاتھ بے چینی سے موبائل کی سکرین پر فیس بک کی پوسٹس کو سکرول کر رہا تھا، مگر اسے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ اس کی نظریں صرف اسکرین کے اوپری حصے پر جمی تھیں، جہاں وقت بے رحمی سے گزر رہا تھا۔

ایک گھنٹہ… ایک طویل، اذیت ناک گھنٹہ گزر چکا تھا۔ فرحان کا صبر جواب دے رہا تھا۔ اس کے دماغ میں طرح طرح کے وسوسے سر اٹھا رہے تھے۔ کبھی اسے لگتا کہ نقیب کوئی پہنچا ہوا جال ساز ہوگا، اور کبھی اسے اپنی بہن کی معصومیت پر رونا آتا۔ جب برداشت کی حد ختم ہوئی، تو اس نے تہیہ کیا کہ وہ خود کال کرے گا۔ ابھی اس کی انگلی ڈائل کے بٹن تک پہنچی ہی تھی کہ اچانک موبائل وائبریٹ ہوا اور اسکرین پر اس کے گجرات والے دوست کا نام چمکنے لگا۔

فرحان نے ایک جھٹکے سے کال اٹھائی۔ اس نے اردگرد کے شور کو نظر انداز کرتے ہوئے اسپیکر کی آواز مدھم کی اور موبائل کو کان سے اس طرح بھینچ لیا جیسے وہ اس کال کو بس اک راز رکھنا چاہتا ہو۔

کچھ پتا چلا؟” اس نے بمشکل اپنے لہجے پر قابو پاتے ہوئے پوچھا، مگر اس کی آواز میں چھپی لرزش اس کے کرب کا پتا دے رہی تھی۔”

دوسری طرف سے دوست کا لہجہ سنجیدہ تھا۔ جیسے جیسے وہ نقیب کے بارے میں تفصیلات بیان کر رہا تھا، فرحان کے چہرے کا رنگ پیلا پڑنے لگا۔ اس نے سگریٹ کی لمبی راکھ کو میز پر پڑے راکھ دان میں جھاڑا، مگر اس کا ہاتھ تھرتھرا رہا تھا۔
ٹھیک ہے… میں سن رہا ہوں۔” فرحان نے دبی ہوئی آواز میں کہا۔”

جیسے جیسے انکشافات کا سلسلہ آگے بڑھا، فرحان کی آنکھوں میں لالی اتر آئی اور ماتھے پر پسینے کے ننھے قطرے نمودار ہوئے۔ اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے کوئی اس کے سینے “پر بھاری پتھر رکھ رہا ہو۔ ہر وہ جملہ جو اس کا دوست کہہ رہا تھا، فرحان کے لیے کسی تازیانے سے کم نہیں تھا۔ اس نے ایک بار پھر اپنی موجودگی کا احساس دلایا، “اچھا… پھر؟

اس کے دوست نے وہ تمام باتیں بتائیں جو اس نے بمبلی گاؤں کے لوگوں سے معلوم کی تھیں۔ فرحان کے چہرے پر کبھی غصے کی لہر دوڑتی اور کبھی شدید دکھ کی۔

،کافی دیر تک خاموشی سے سننے کے بعد، اس نے ایک آخری سوال کیا، جس میں امید کی ایک آخری کرن چھپی تھی
“کیا تمہیں پورا یقین ہے کہ یہ وہی نقیب ہے؟”

دوسری طرف سے تصدیق کر دی گئی۔ وہ سچ تھا، تلخ اور زہریلا سچ۔

فرحان نے ایک لمبی اور بوجھل سانس لی۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہیں دھاڑیں مار کر روئے یا پھر ہر چیز تہس نہس کر دے۔ مگر وہ ایک بھائی تھا، اسے اپنا بھرم قائم رکھنا تھا۔
صحیح… چلو ٹھیک ہے، بہت شکریہ یار،” اس نے مصنوعی مضبوطی سے کہا۔”

،دوست نے جب تجسس میں وجہ پوچھی تو فرحان نے فوراً جھوٹ کا سہارا لیا
نہیں یار… کوئی ایسی خاص بات نہیں ہے۔ بس میرے ایک جاننے والے کے ساتھ اس لڑکے کا کوئی لین دین کا معاملہ تھا، تو اس نے مجھ سے معلومات لینے کو کہا تھا۔”

“میں نے سوچا تجھ سے بہتر کون بتا سکتا ہے۔ بہت شکریہ تیرا۔
یہ جھوٹ اس کے حلق میں کانٹے کی طرح چبھا، مگر اس نے اپنے خاندان کی عزت کی خاطر اسے نگل لیا۔

چلو ٹھیک ہے، اپنا خیال رکھنا،” دوست نے کہا اور کال کٹ گئی۔”

فرحان نے موبائل میز پر رکھ دیا اور سگریٹ کا آخری کش لے کر اسے پاؤں تلے مسل دیا۔ اس کے چہرے پر اب تشویش، کرب اور شدید غصے کے ملے جلے تاثرات تھے۔
اس نے ہوٹل کا بل ادا کیا اور بائیک کی طرف بڑھا، مگر اب اس کے قدموں میں وہ بے چینی نہیں بلکہ ایک جلال تھا۔

°°°°°°°°°°

رات کی تاریکی نے ہر شے کو ڈھانپ لیا تھا اور فضا میں ایک پراسرار سی سنگینی گھلتی محسوس ہو رہی تھی۔ جب فرحان گھر لوٹا، تو اس کے وجود سے پھوٹتی بے چینی دیواروں سے ٹکرا رہی تھی۔ اس کا چہرہ جو کبھی شگفتگی کا استعارہ تھا، اب تشویش اور تلاطم خیز خاموشی کا آئینہ دار تھا۔ وہ کسی سے نظریں ملائے بغیر، سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا اور بیڈ پر یوں ڈھیر ہو گیا جیسے کوئی بہت بڑا بوجھ اسے اندر سے توڑ چکا ہو۔

کچھ دیر بعد رفعت، جس کا اپنا دل کسی انجانے خوف سے دھڑک رہا تھا، کھانے کی ٹرے لیے کمرے میں داخل ہوئی۔

“آتے ہی آپ لیٹ گئے؟ روٹی لائی ہوں، ہاتھ منہ دھو کر دو نوالے کھا لیں۔”
اس نے میز پر برتن رکھتے ہوئے لہجے کو جتنا ہو سکے نرم رکھا۔

مجھے بھوک نہیں ہے، اسے لے جاؤ یہاں سے،” فرحان نے آنکھیں موندے، سپاٹ لہجے میں جواب دیا۔”

ایسے کیسے بھوک نہیں ہے؟ دوپہر کو بھی آپ نے ڈھنگ سے کچھ نہیں کھایا۔ اٹھیں شاباش، ضد نہ کریں۔” رفعت نے ایک بیوی کے انداز میں لاڈ سے دباؤ ڈالنا چاہا۔”

،مگر اس وقت فرحان کا ضبط جواب دے چکا تھا۔ وہ کسی آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑا
“میں نے کہا نا مجھے بھوک نہیں ہے! سمجھ نہیں آتی تمہیں؟”
اس کی آواز اتنی بلند اور کرخت تھی کہ کمرے کی خاموشی لرز اٹھی۔ برآمدے میں بیٹھی بلقیس بیگم اس اچانک چیخ و پکار پر تڑپ اٹھیں اور گھبرائی ہوئی قدموں سے کمرے میں آ پہنچیں۔

“،خیر تو ہے فرحان؟ کیوں بچی پر برس رہے ہو؟ ابھی تو گھر آۓ ہو”
انہوں نے حیرت اور فکر کے ملے جلے جذبات سے پوچھا۔

فرحان نے فوراً اپنی آواز دھیمی کر لی، مگر اس کی آنکھوں کی سرخی سب کچھ بیان کر رہی تھی۔
“کچھ نہیں امی… بس ویسے ہی طبیعت بوجھل ہے، سر میں شدید درد ہے۔”

:بلقیس بیگم نے صورتحال کا جائزہ لیا اور رفعت سے مخاطب ہوئیں
تم یہ کھانا لے جاؤ، جب بھوک لگی خود ہی مانگ لے گا۔” بلقیس بیگم کے نکلتے ہی رفعت بھی باہر چلی گئی، مگر اس کا ذہن وہیں اٹکا رہا۔”

چند لمحوں بعد جب اسے اطمینان ہو گیا کہ ساس باورچی خانے میں مصروف ہو گئی ہیں، وہ دبے قدموں واپس آئی اور کمرے کا دروازہ اندر سے مقفل کر دیا۔
،وہ بیڈ پر فرحان کے قریب چوکڑی مار کر بیٹھ گئی اور خاموشی سے اس کے تنے ہوئے چہرے کو جانچتی رہی۔ آخر کار، ہمت مجتمع کر کے اس نے سرگوشی کی
“فرحان… اب تو بتا دیں، کیا بات ہے؟ آپ کی یہ حالت مجھے مار ڈالے گی۔”

فرحان نے ایک گہری، کرب ناک سانس لی، تکیے سے ٹیک لگا کر سیدھا ہوا اور رفعت کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا،

“میں نے پتا لگوا لیا ہے رفعت… اس نقیب کے بارے میں سب پتا چل گیا ہے۔”

“رفعت کے سینے میں جیسے سانس رک گئی۔ اس نے بے تابی سے پوچھا، “کیا پتا چلا؟

فرحان کا لہجہ اب حقارت اور غصے سے زہریلا ہو رہا تھا، “نقیب… جسے تمہاری سہیلی اپنی زندگی کا مخلص ساتھی سمجھ بیٹھی ہے، وہ دراصل گٹر کی پیداوار ہے۔ دو بھائی، ایک بہن، سب کے سب اپنے گھروں کے ہوئے، مگر یہ مردود آٹھویں فیل ہو کر آوارگی کی نذر ہو گیا۔ دو بار لڑائی جھگڑے اور غنڈہ گردی کے کیس میں جیل کی ہوا کھا چکا ہے۔ نشہ اس کی رگوں میں بستا ہے رفعت! چرس تو وہ دن رات پیتا ہی ہے، اب تو ہیروئن کی لت بھی اسے لگ چکی ہے۔ کام کا پوچھتی ہو؟

” ایک میرج ہال میں لوگوں کے جھوٹے برتن دھوتا ہے، ڈش واشر ہے وہ! جو چند روپے ملتے ہیں، وہ اپنے نشے کے پوروں میں اڑا دیتا ہے۔
:فرحان کا سانس پھولنے لگا تھا، اس نے نفرت سے مٹھیاں بھنچ لیں
“نہ کردار، نہ خاندان! جس کی ماں اپنے کسی آشنا کے ساتھ گھر سے بھاگ گئی ہو، اس سے تم شرافت کی توقع رکھتی ہو؟ وہ ایک نمبر کا لفنگا، بدکردار اور آوارہ نشئی ہے۔”

“تم ہی بتاؤ رفعت، کیا میں اپنی پھول جیسی بہن، اپنے خاندان کی عزت، اس لوفر بدمعاش کی جھولی میں ڈال دوں؟
رفعت ساکت رہ گئی۔ اس کے پیروں تلے سے جیسے زمین نکل گئی۔ وہ عائشہ کی حماقت اور نقیب کی اس ہولناک حقیقت کے درمیان گھری ہوئی تھی، اس کے پاس فرحان کی کسی بات کا کوئی جواب نہیں تھا۔
،فرحان نے چند لمحے اپنی بھڑکتی ہوئی سوچوں کو لگام دی اور پھر دو ٹوک لہجے میں حکم دیا
“ابھی کے ابھی جاؤ، عائشہ کو اس درندے کی اصل حقیقت بتاؤ۔ اسے کہو کہ یہ تماشہ ختم کرے ورنہ کل میں خود ابو سے بات کروں گا اور اس کی شادی کہیں اور طے کروا دوں گا۔”

،رفعت کے ہاتھ پیر ٹھنڈے پڑ گئے، وہ گھبرا کر بولی
“نہیں فرحان، پلیز! ابھی اتنی جلدی مت کریں۔ وہ صدمے سے پاگل ہو جائے گی۔ مجھے تھوڑا وقت دیں، میں اسے طریقے سے سمجھاؤں گی۔”

،وقت؟ اور کتنا وقت چاہیے؟ تاکہ وہ کوئی اور بڑی غلطی کر بیٹھے؟” فرحان کا جلال عروج پر تھا”

“مجھ سے اب کسی رعایت کی امید مت رکھنا۔ کل ہی اس سے وہ منحوس موبائل چھین لو، سارے رابطے ختم کرو۔”

موبائل چھیننے سے شک پیدا ہوگا فرحان، سب سوال کریں گے۔ پلیز، ایسا مت کریں،” رفعت نے منت سماجت کی۔”

مگر فرحان پر اس وقت غیرت کا بھوت سوار تھا۔ رفعت کی ہر سفارش اس کے غصے میں پٹرول کا کام کر رہی تھی۔ وہ بنا کچھ کہے، جھٹکے سے بیڈ سے اٹھا۔
اب آپ کہاں جا رہے ہیں؟” رفعت نے دہل کر پوچھا۔”

اس فتنے کی جڑ اکھاڑنے! اس سے موبائل لینے جا رہا ہوں۔” فرحان نے درشتی سے جواب دیا اور کمرے کا لاک کھول کر باہر نکل گیا۔”

رفعت بدحواس ہو کر اس کے پیچھے بھاگی، اسے روکنا چاہا، مگر تب تک فرحان عائشہ کے کمرے کا دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہو چکا تھا، جہاں عائشہ شاید اسی لمحے نقیب کے کسی نئے جھوٹ پر مسکرا رہی تھی۔

°°°°°°°°°°

شام کی تاریکی کمرے کے گوشوں میں دبک رہی تھی، مگر عائشہ ان سب سے بے نیاز اپنی چارپائی پر بیٹھی موبائل کی اسکرین سے نکلتی نیلی روشنی میں گم تھی۔ اس کے چہرے پر وہی مدھم سی مسکراہٹ تھی جو پچھلے کئی ماہ سے اس کا خاصہ بن چکی تھی۔ اسے خبر نہیں تھی کہ جس سحر میں وہ مبتلا ہے، اس کی حقیقت ایک زہریلے ناگ کی طرح اس کے گھر کی دہلیز پار کر چکی ہے۔

اچانک کمرے کا دروازہ ایک زوردار دھماکے سے کھلا۔ عائشہ نے ہڑبڑا کر سر اٹھایا، سامنے فرحان کھڑا تھا۔ اس کا چہرہ غصے سے تمتما رہا تھا اور ماتھے کی رگیں تناؤ سے ابھری ہوئی تھیں۔ عائشہ کا دل زور سے دھڑکا، اس نے بجلی کی سی تیزی سے موبائل تکیے کے پیچھے چھپایا اور کانپتے ہاتھوں سے دوپٹہ سر پر درست کرنے لگی۔
جی بھائی… خیر… خیریت؟” اس کی آواز حلق میں پھنس کر رہ گئی۔”

فرحان نے کوئی جواب نہیں دیا، بس اپنا لرزتا ہوا ہاتھ آگے بڑھایا۔
اپنا موبائل میرے حوالے کرو،” اس کے لہجے میں ایسی برفانی سردی تھی جس نے عائشہ کے خون کو منجمد کر دیا۔”

تب تک رفعت بھی ہانپتی ہوئی پیچھے آن پہنچی تھی۔ عائشہ نے جب بھابھی کے زرد چہرے اور آنکھوں میں موجود پچھتاوے کو دیکھا، تو اسے سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ اس کا راز اب راز نہیں رہا۔
کیا ہوا بھائی؟ آپ ایسے کیوں…” عائشہ نے تھوک نگلتے ہوئے بات مکمل کرنی چاہی۔”

میں نے کہا، موبائل دو!” فرحان کی آواز اب کی بار تھوڑی بلند ہوئی، مگر اس میں چھپا جلال کمرے کی دیواروں کو ہلا گیا۔”

“…سوری بھائی! میں نہیں دے سکتی۔ میری بہت سی پرسنل چیزیں ہیں اس میں… آپ ایسے اچانک”
عائشہ نے آخری حربہ آزمایا، مگر فرحان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔

موبائل دو!” وہ یکدم کسی زخمی شیر کی طرح گرجا۔ اس کی آنکھوں میں غصے اور دکھ کی ایسی سرخی اتر آئی تھی کہ عائشہ کو اپنا انجام سامنے نظر آنے لگا۔”

“…رفعت نے ہمت کر کے فرحان کا بازو تھامنا چاہا، “پلیز فرحان! ٹھنڈے دماغ سے
وہ اتنا ہی کہہ پائی تھی کہ فرحان نے ایک جھٹکے سے اسے پیچھے دھکیلا۔ رفعت توازن برقرار نہ رکھ سکی اور کمر کے بل فرش پر جا گری۔ عین اسی لمحے بلقیس بیگم بھی بدحواس ہو کر کمرے میں داخل ہوئیں۔ عائشہ نے موقع غنیمت جانا اور موبائل کو مضبوطی سے تھام لیا۔

“یہ کیا بدتمیزی ہے فرحان؟ پاگل ہو گئے ہو کیا؟” بلقیس بیگم روتی ہوئی رفعت کو اٹھاتے ہوئے چلائیں، مگر فرحان اس وقت کسی کا لحاظ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔

فرحان آگے بڑھا اور عائشہ کے ہاتھوں سے وہ فتنہ چھیننے کی کوشش کرنے لگا۔ عائشہ دھاڑیں مار کر رونے لگی، اس کی انگلیاں موبائل پر کسی جان لیوا گرفت کی طرح جمی ہوئی تھیں۔
“پلیز بھائی… خدا کے لیے ایسا مت کریں… فرحان بھائی اللہ کا واسطہ آپ کو!”

وہ لجاجت سے فریاد کر رہی تھی، مگر فرحان کے لیے اب وہ بہن نہیں، بلکہ خاندان کی پامال ہوتی ہوئی غیرت کا استعارہ تھی۔

“بلقیس بیگم نے فرحان کو پیچھے کھینچنا چاہا، “چھوڑو اسے! کیا کر دیا اس نے؟ کیوں تماشہ بنا رکھا ہے؟
مگر فرحان پر اس وقت جنون سوار تھا۔ اس نے اپنی ماں کے بوڑھے ہاتھوں کا لحاظ کیے بغیر انہیں ایک طرف ہٹایا اور اپنا دایاں ہاتھ فضا میں بلند کیا۔ اگلے ہی لمحے ایک زوردار تڑاخ کی آواز پورے کمرے میں گونجی۔ فرحان کا بھاری ہاتھ عائشہ کے نازک گال پر پوری قوت سے اترا تھا۔ عائشہ کا سر ایک طرف جھک گیا اور اس کی گرفت موبائل پر ڈھیلی پڑ گئی۔
ساکت خاموشی کے بعد عائشہ کے حلق سے ایک ایسی چیخ نکلی جس نے بلقیس بیگم کا کلیجہ چیر دیا۔ وہ چارپائی پر گر کر زور زور سے رونے لگی، مگر فرحان کے اندر کا بھائی مر چکا تھا۔

“!موبائل کا پاسورڈ بتاؤ”
فرحان نے موبائل قبضے میں لیتے ہوئے حکم دیا۔ عائشہ کی ہچکیاں بندھ گئی تھیں، مگر اس کے لب سلے ہوئے تھے۔

فرحان! آخر ہوا کیا ہے؟ بولو تو سہی!” بلقیس بیگم نے رونا شروع کر دیا تھا۔”
،فرحان کا ضبط ٹوٹ گیا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے
اپنی اس لاڈلی سے پوچھیں امی! جس نے ہماری عزت کو مٹی میں رول دیا۔ اس بے غیرت کا ایک نشئی، لُچے اور بدکردار لڑکے سے چکر چل رہا ہے۔”

“!اس نے ہمیں کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا

یہ الفاظ کسی ایٹمی دھماکے کی طرح بلقیس بیگم کے کانوں میں گونجے۔ انہوں نے بے یقینی سے عائشہ کو دیکھا، جو سر جھکائے رو رہی تھی۔ بلقیس بیگم نے رفعت کی طرف دیکھا، جس کی خاموشی اور جھکا ہوا سر سچائی کی گواہی دے رہا تھا۔
کیا یہ سچ کہہ رہا ہے؟” بلقیس بیگم کی آواز کانپ رہی تھی۔ عائشہ کی مسلسل خاموشی اس کے گناہ کا اعتراف تھی۔”

یکدم بلقیس بیگم کا دکھ غصے کے لاوے میں بدل گیا۔ “اوئے تو مر کیوں نہ گئی یہ سب کرنے سے پہلے! کاش میں نے تجھے پیدا ہوتے ہی مار دیا ہوتا!” وہ دیوانہ وار عائشہ پر جھپٹیں اور اس کے سر، گالوں اور کمر پر تھپڑوں اور مکوں کی بارش کر دی۔
حرام خور! تو نے ہمیں جیتے جی مار دیا۔ ہائے! میں یہ دن دیکھنے سے پہلے اندھی کیوں نہ ہوگئی!” وہ عائشہ کو مارتے مارتے خود نڈھال ہو کر چارپائی کے پاس فرش پر ڈھیر ہوگئیں۔”

ان کا رونا اب ایک نوحہ بن چکا تھا۔ وہ اپنے ہی سر میں تھپڑ مارنے لگ گئی تھیں۔
،فرحان چند لمحے اس بکھرے ہوئے منظر کو دیکھتا رہا۔ اس نے اپنی ماں کو سہارا دے کر اٹھایا
“حوصلہ رکھیں امی۔ ابو کو آ لینے دیں، پھر اس کا مستقل بندوبست کرتے ہیں۔ اٹھیں آپ یہاں سے۔”

وہ بلقیس بیگم کو زبردستی کھینچتے ہوئے کمرے سے باہر لے گیا۔ جاتے جاتے اس نے مڑ کر عائشہ پر ایک ایسی نگاہ ڈالی جس میں نفرت اور کراہت بھری تھی۔

“اگر تم اس کمرے سے باہر نکلی، تو خدا کی قسم میں تمہیں گولی مار دوں گا۔”

اپنے شوہر اور ساس کے نکلنے کے بعد رفعت نے ایک آخری، نم آلود اور دکھ بھری نگاہ اپنی سہیلی پر ڈالی اور وہ بھی خاموشی سے باہر نکل گئی۔ دروازہ ایک بوجھل آواز کے ساتھ بند ہوا اور باہر سے کنڈی چڑھنے کی آواز آئی۔ عائشہ اب اس اندھیرے کمرے میں تنہا تھی۔ اپنے ٹوٹے ہوئے خوابوں، اپنی پامال شدہ عزت اور نقیب کے اس عشق کے ساتھ، جس نے اسے اپنوں کی نظر میں جیتے جی لاش بنا دیا تھا۔

°°°°°°°°°°

بیٹھک کی فضا کسی قبرستان جیسی خاموشی میں لپٹی ہوئی تھی۔ کمرے کی دیواروں پر لگی تصویریں بھی جیسے آج اس خاندان کی رسوائی پر نوحہ کناں تھیں۔ کمال احمد، ان کے دونوں بیٹے فرحان اور کامران، اور بلقیس بیگم یوں بیٹھے تھے جیسے کسی میت کا سوگ منا رہے ہوں۔ ان سب سے چند قدم کے فاصلے پر عائشہ صوفے پر سِمٹی ہوئی، کسی سنگین مجرم کی طرح سر جھکائے بیٹھی تھی۔ اس کا سر جھکا ہوا تھا اور آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ وہ آج اپنی ہی نظروں میں اتنی گر چکی تھی کہ اسے اپنے وجود کا بوجھ بھی اٹھانا محال لگ رہا تھا۔

بلقیس بیگم کو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا، وہ پتھر کا بت بنی بیٹی کو تک رہی تھیں۔ کمال احمد کے چہرے پر دکھ، کرب اور پامال ہوتی ہوئی غیرت کے سائے رقص کر رہے تھے۔ ان کا وہ فخر، وہ مان جو وہ ہمیشہ اپنی بیٹی پر کرتے تھے، آج کرچی کرچی ہو کر ان کے سامنے بکھرا پڑا تھا۔
،کمال احمد کی بوڑھی آنکھوں میں آنسو تلملانے لگے۔ انہوں نے لرزتے ہوئے لہجے میں عائشہ کو مخاطب کیا
عائشہ! میں نے تمہارے لیے کیا نہیں کیا؟ جو تم نے مانگا، میں نے اپنی اوقات سے بڑھ کر تمہاری جھولی میں ڈالا۔”

تم نے پڑھنے کی خواہش کی، میں نے زمانے کی پرواہ کیے بغیر تمہیں کالج کی دہلیز تک پہنچایا۔

” میری اولاد میں تم سب سے بڑھ کر لاڈلی تھی، تم میرا غرور تھی… اور تم نے؟
ان کے گالوں پر گرم آنسو پھسل کر ان کی سفید داڑھی میں جذب ہونے لگے۔ گلہ رندھ گیا اور آواز میں ایک ایسی شکستگی آئی جس نے کمرے کی خاموشی کو مزید بوجھل کر دیا۔

“تم نے میری عزت کو خاک میں ملا دیا۔ آخر کیوں عائشہ؟ کیا کمی رہ گئی تھی میرے پیار میں؟”

،کامران، جو کافی دیر سے اس لرزہ خیز صورتحال کو خاموشی سے پرکھ رہا تھا، اب بول اٹھا۔ اس نے ایک منجھے ہوئے سفارت کار کی طرح اس پیچیدہ معاملے کو سنبھالنے کی کوشش کی
ابو! جو کچھ ہونا تھا، وہ ہو گیا۔ اسے نادان عمر کی خطا سمجھیں یا وقت کا فریب، حقیقت اب بدل نہیں سکتی۔”

اب ہم جتنا اس پر ماتم کریں گے، رسوائی اتنی ہی ہمارے گھر کی دیواروں سے باہر نکلے گی۔ ابھی کچھ نہیں بگڑا، یہ بات اسی کمرے میں دفن ہو جانی چاہیے۔

“ہمیں اس معاملے کو یہیں ختم کر کے مستقبل کا سوچنا چاہیے۔
،فرحان، جس کا غصہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا تھا، زہریلے لہجے میں بولا
“کرنا کیا ہے؟ بس اس کی شادی کریں اور اپنی جان چھڑوائیں۔ پتا نہیں یہ پارسائی کے لبادے میں اور کیا کیا گل کھلاتی رہی ہوگی۔”

یہ طنز عائشہ کے دل پر نشتر کی طرح لگا۔ اس نے پہلی بار اذیت سے بھری نگاہیں اٹھا کر اپنے اس بھائی کو دیکھا جس کے لیے وہ کبھی ڈھال بنی تھی، مگر فرحان کی آنکھوں میں اب صرف نفرت تھی۔ عائشہ نے تڑپ کر دوبارہ نظریں جھکا لیں۔

،کامران نے فرحان کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور ابو کی طرف مڑا
“فرحان ٹھیک کہہ رہا ہے ابو! بھلائی اسی میں ہے کہ اسے جلد از جلد رخصت کر دیا جائے۔ کوئی مناسب رشتہ دیکھیں اور اس بوجھ کو اپنے سر سے اتاریں۔”
کمال احمد نے ایک بوجھل ٹھوڑی کے ساتھ اثبات میں سر ہلایا۔

تم صحیح کہہ رہے ہو۔ میرا ایک پرانا دوست ہے، وہ کچھ عرصہ پہلے اپنے بیٹے کے لیے عائشہ کا ہاتھ مانگ رہا تھا۔”

“میں نے تب اسے ٹال دیا تھا، مگر کل صبح میں خود اس سے بات کروں گا۔

لڑکا کیا کرتا ہے؟” کامران نے احتیاطاً پوچھا۔”

نیوی میں ہے، ماشاء اللہ اچھا لڑکا ہے،” کمال احمد نے عائشہ پر ایک سرد نگاہ ڈالتے ہوئے کہا۔”

“اگر یہ اب بھی انسان کی بچی بنی رہی اور اپنی اصلاح کر لی، تو وہ اسے کسی دکھ میں نہیں رکھے گا۔”

،کامران نے حتمی لہجے میں ہدایت دی
،ٹھیک ہے۔ اب اس موضوع پر کوئی شور نہیں ہوگا۔ میری فیملی کو بھی اس بارے میں کچھ پتا نہیں چلے گا۔” پھر فرحان کی طرف مڑ کر سختی سے کہا”

“تم بھی رفعت کو سمجھا دو، یہ راز گھر سے باہر نکلا تو فساد ہو جائے گا۔”

جی بھائی،” فرحان نے مختصر جواب دیا۔”

اس پوری گفتگو کے دوران بلقیس بیگم خاموش تماشائی بنی رہیں۔ ان کی ممتا بیٹی کی اس حالت پر لہو کے آنسو رو رہی تھی، مگر گھر کے مردوں کے جلال کے سامنے زبان کھولنے کی ہمت نہیں تھی۔

،وہ بس اندر ہی اندر کڑھ رہی تھیں اور ان کے دل سے صرف ایک ہی دعا بلند ہو رہی تھی

“یا اللہ! میری نادان بچی پر رحم کا معاملہ فرما۔ اس کے لیے آسانیاں پیدا کر، اسے معاف کر دے… اس کی زندگی کو مزید اذیت ناک مت بنانا۔”
بیٹھک میں خاموشی دوبارہ لوٹ آئی تھی، مگر یہ خاموشی کسی آنے والے طوفان کا پیش خیمہ معلوم ہوتی تھی۔

°°°°°°°°°°

عائشہ کے گناہ کا شور تھمے ایک ہفتہ بیت چکا تھا، مگر گھر کی فضاؤں میں پھیلا وہ سناٹا اب بھی کسی نوحے کی طرح بوجھل تھا۔ وہ گھر، جہاں کبھی عائشہ کی کھلکھلاتی ہنسی در و دیوار کو زندگی بخشتی تھی، اب وہی گھر ایسی حویلی کا نقشہ پیش کر رہا تھا جس کے مکینوں پر کوئی ناگہانی آفت ٹوٹ پڑی ہو۔
عائشہ اب مکمل طور پر اپنے کمرے میں قید ہو چکی تھی۔ اب یہ محض چار دیواری نہیں تھی، بلکہ اس کے لیے حبسِ بے جا کا وہ زندان تھا جس کی چابیاں اس کے اپنے باپ کے پاس تھیں۔ اس کا موبائل، جو نقیب کی خیالی دنیا کا واحد رستہ تھا، اب ضبط ہو کر فرحان کی الماری کے کسی اندھیرے کونے میں پڑا تھا۔ رفعت، جو اس کے اس جرم میں انجانے میں رازدار رہی تھی، اب اپنی ہی عزت بچانے کے لیے نقیب کو ہر محاذ پر بلاک کر چکی تھی۔ اسے ڈر تھا کہ نقیب کسی بھی نامعلوم نمبر سے رابطہ کر کے اس کے بسے بسائے گھر میں آگ لگا سکتا ہے، اسی لیے وہ زیادہ وقت اپنا موبائل بند ہی رکھتی، جیسے وہ دنیا کے ہر رابطے سے کٹ جانا چاہتی ہو۔

کمال احمد، جن کی کمر اس صدمے سے دوہری ہو چکی تھی، اب ایک خوفزدہ محافظ بن چکے تھے۔ انہوں نے اپنی چارپائی برآمدے میں، عین عائشہ کے کمرے کے سامنے بچھا لی تھی۔ وہ باپ جو کبھی بیٹی کی ایک آہ پر تڑپ اٹھتا تھا، اب اسے بے اعتباری کی نگاہ سے دیکھ رہا تھا۔ ان کے دل میں یہ وسوسہ کسی زہریلے ناگ کی طرح کنڈلی مارے بیٹھا تھا کہ کہیں عائشہ دوبارہ کوئی غلط قدم نہ اٹھا لے، کہیں وہ اندھیری رات کی کوکھ میں گھر سے بھاگنے کی کوشش نہ کرے۔ ان کی بوڑھی آنکھیں سونا بھول چکی تھیں، وہ صرف عائشہ کے کمرے کے بند کواڑوں کو تکتے رہتے، جیسے وہاں کوئی مجرم قید ہو۔

کمرے کے اندر عائشہ کا حال اس قیدی جیسا تھا جسے زندہ ہی قبر میں اتار دیا گیا ہو۔ وہ اندھیرے میں لپٹی، تکیے میں منہ دیے سسکیاں لیتی رہتی، مگر ان سسکیوں کا مداوا کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ وہ گھر کا ہر فرد، جو کبھی اس کے ایک قہقہے پر صدقے واری جاتا تھا، اب اس کے سائے سے بھی کتراتا تھا۔ اس کے ساتھ کلام کرنا تو دور، کوئی اسے پانی کا گلاس تھمانے کو بھی تیار نہیں تھا۔
سب سے زیادہ دکھ اسے اپنی چھوٹی بہنوں، کومل اور ایمان کے رویے سے تھا۔ وہ بہنیں جو سائے کی طرح اس کے گرد منڈلاتی تھیں، اب اسے کسی وبائی مرض کے مریض کی طرح دیکھتی تھیں اور اس کے کمرے کے پاس سے گزرتے ہوئے اپنی نظریں چرا لیتی تھیں۔ عائشہ کو یوں محسوس ہوتا جیسے اس کے ماتھے پر رسوائی کا کوئی ایسا نشان ثبت کر دیا گیا ہے جسے دھونا اب اس کے بس میں نہیں۔
بھرے گھر میں اس کی یہ تنہائی زندہ درگور ہونے کی بدترین شکل تھی۔ وہ زندہ تو تھی، مگر اس کے لیے اس گھر کی محبت، مان اور رتبہ سب کچھ مر چکا تھا۔ وہ بس اس گھٹن زدہ ماحول میں اپنی سانسوں کا بوجھ ڈھو رہی تھی۔

°°°°°°°°°°

رات کے پچھلے پہر کی خاموشی ہولناک تھی، عائشہ اپنے کمرے کی تاریکی میں لپٹی چارپائی پر اوندھے منہ پڑی سسک رہی تھی۔ یہ سسکیاں اب اس کے وجود کا حصہ بن چکی تھیں۔ ایک طویل ہفتہ بیت گیا تھا، سات دن، ایک سو اڑسٹھ گھنٹے اور ہزاروں لمحے، مگر نقیب کی آواز کا ایک قطرہ بھی اس کی سماعتوں کی بنجر زمین تک نہیں پہنچا تھا۔ اس کی باتیں، اس کے وہ جھوٹے سچے وعدے اور اس کا وہ دلفریب لہجہ عائشہ کے ذہن کے پردوں پر کسی پرانی فلم کی طرح بار بار چل رہے تھے۔

کمرے کی ہوا اسے زہریلی محسوس ہونے لگی تھی۔ چار دیواری اسے بھینچتی ہوئی لگ رہی تھی، جیسے وہ اسے زندہ نگل لینا چاہتی ہوں۔ اس کا دل بے ترتیبی سے دھڑک رہا تھا، گھٹن اس قدر بڑھی کہ اسے لگا اگر وہ ابھی اس بند کمرے سے باہر نہ نکلی تو اس کا دم نکل جائے گا۔ اس نے نہایت نحیف سی ہمت اکٹھی کی اور چارپائی سے اٹھی۔ پیروں میں چپل پہنی تو اس کی معمولی سی رگڑ بھی اسے کسی دھماکے جیسی محسوس ہوئی۔ وہ قدم قدم سنبھلتی ہوئی دروازے تک پہنچی۔
دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھتے ہی اس کے پورے وجود میں خوف کی ایک سرد لہر دوڑ گئی۔ وہی گھر، جو کبھی اس کے لیے دنیا کا سب سے محفوظ قلعہ تھا، جہاں وہ ایک شہزادی کی طرح بے خوف گھومتی تھی، آج اسے اس مقتل جیسا لگ رہا تھا جہاں اسے اپنی ہی سانسوں کا حساب دینا تھا۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں کوئی جاگ نہ رہا ہو، کہیں کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ وہ رات کی سیاہی میں گھر سے بھاگنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ سوچ کر ہی اس کا ماتھا پسینے سے بھیگ گیا۔

اس نے چند لمحے آنکھیں بند کر کے اپنی دھڑکنوں کو قابو کرنے کی کوشش کی، پھر کانپتے ہاتھوں سے دروازے کی کنڈی کھولی۔ دروازہ ایک دھیمی سی چرچراہٹ کے ساتھ کھلا جو اس خاموش رات میں عائشہ کے کانوں میں صورِ اسرافیل بن کر گونجی۔ وہ ہال میں آ گئی۔
ہال میں گہرا اندھیرا تھا، صرف روشن دان سے آتی چاند کی مدھم سی روشنی فرش پر عجیب و غریب سائے بنا رہی تھی۔ گھر کے تمام مکین خوابِ خرگوش کے مزے لے رہے تھے۔ سامنے والے کمرے میں اس کی ماں اور دونوں چھوٹی بہنیں سکون کے ساتھ سو رہی تھیں، جبکہ فرحان اور رفعت اپنے کمرے میں مقفل تھے۔ سب سے زیادہ ڈر اسے اپنے باپ سے لگ رہا تھا، جو برآمدے میں ایک پہریدار کی طرح اپنی چارپائی بچھائے سو رہے تھے۔ عائشہ کو یوں لگا جیسے وہ کسی بارودی سرنگ پر چل رہی ہو۔

اچانک اس کی نظر کونے میں پڑے اس میز پر پڑی جہاں اس کے ابو کا موبائل چارجنگ پر لگا تھا۔ موبائل کی ایک چھوٹی سی ایل ای ڈی لائٹ اندھیرے میں کسی ستارے کی طرح ٹمٹما رہی تھی۔ وہ روشنی عائشہ کے لیے کسی زندگی کی علامت بن گئی۔ وہ چور نگاہوں سے کبھی برآمدے کے دروازے اور کبھی فرحان کے کمرے کی طرف دیکھتی، دبے قدموں میز کی طرف بڑھی۔ اس کے قدم زمین پر نہیں، بلکہ اس کی اپنی عزت اور خاندان کے مان پر پڑ رہے تھے، مگر نقیب کی تڑپ نے اسے اندھا کر دیا تھا۔
اس نے کانپتے ہاتھوں سے چارجر کی پن نکالی اور موبائل ہاتھ میں لیا۔ موبائل کی ٹھنڈی سطح اس کے تپتے ہوئے ہاتھوں کو ایک عجیب سا لمس دے رہی تھی۔ اس نے جیسے ہی پاور بٹن دبایا، اسکرین کے اجالے نے اس کے زرد چہرے کو منور کر دیا۔ اس نے لرزتے ہوئے پوروں سے وہ پاسورڈ ڈالا جو اسے پہلے سے معلوم تھا۔ اسکرین کا لاک کھلتے ہی جیسے اس کی کائنات بدل گئی۔

ایک ہفتے کی ویرانی کے بعد، اس کے مرجھائے ہوئے چہرے پر ایک عارضی اور خطرناک رونق لوٹ آئی۔ اس کی آنکھوں میں امید کی ایک ایسی چمک جاگی جو صرف تباہی کے دہانے پر کھڑے انسان کو نصیب ہوتی ہے۔ اس نے موبائل مضبوطی سے اپنی مٹھی میں دبوچا اور اسی طرح دبے قدموں، سانسوں کو سینے میں مقید کیے، واپس اپنے کمرے کی پناہ گاہ کی طرف لپکی۔ دروازہ بند کر کے کنڈی چڑھائی تو اسے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ کوئی بہت بڑی جنگ جیت کر آئی ہو۔

°°°°°°°°°°

عائشہ نے باریک کمبل کو اپنے گرد اس طرح لپیٹ لیا جیسے وہ اس کپڑے کے حصار میں اپنی لرزتی ہوئی روح کو پناہ دے رہی ہو۔ کمرے کی گھٹن زدہ تاریکی میں نقیب کا نمبر ڈائل کرتے ہوئے اس کے پور پور سے خوف جھلک رہا تھا، مگر تڑپ اس خوف پر غالب تھی۔ تھوڑی دیر تک گھنٹی جاتی رہی، وہ ایک ایک سیکنڈ گنتی رہی، اور پھر جیسے ہی دوسری طرف سے رابطہ ہوا، اس کے دل کی دھڑکن تھم سی گئی۔

“…ہیلو”

نقیب کی وہ جانی پہچانی آواز جب موبائل کے اسپیکر سے کسی سحر کی طرح ابھری، تو عائشہ کو یوں محسوس ہوا جیسے اس کے وجود پر جمی دکھ اور تھکن کی تمام پرتیں ایک لمحے میں جھڑ گئی ہوں۔ وہ آواز اس کے لیے اس بنجر زمین پر بارش کے پہلے قطرے جیسی تھی جہاں وہ ایک ہفتے سے پیاسی کھڑی تھی۔

کیسے ہو نقیب؟” عائشہ نے نہایت دھیمی سرگوشی میں پوچھا، مگر یہ مختصر سا سوال مکمل ہوتے ہی اس کا ضبط جواب دے گیا۔”

اس کی آواز بھرّا گئی اور ایک گرم آنسو اس کے گال سے پھسل کر تکیے کی ٹھنڈک میں جذب ہو گیا۔

دوسری طرف ایک بوجھل سی خاموشی چھا گئی، جیسے نقیب اس کی سسکیوں کی گونج کو محسوس کر رہا ہو۔ پھر اس کا دھیما اور ہمدردانہ لہجہ سماعتوں سے ٹکرایا،

“تم ٹھیک تو ہو نا عائشہ؟”

“نہیں…” وہ اپنے رونے کو دبانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے بولی، “نقیب! تم نہیں جانتے… مجھ پر کیسی قیامت گزری ہے۔ پچھلا ایک ہفتہ میرے لیے کسی ہولناک خواب سے کم نہیں تھا۔”

“خود کو سنبھالو میری جان! مجھے حالات کا تھوڑا بہت اندازہ ہے،” نقیب کی آواز میں ایک عجیب سا ٹھہراؤ تھا، “تمہارے بھائی کی کال آئی تھی مجھے۔”

یہ سنتے ہی عائشہ کے چہرے پر پریشانی کی لہر دوڑ گئی اور وہ خوفزدہ ہو کر چارپائی پر تھوڑا سیدھی ہوئی۔ “کیا کہا انہوں نے؟ نقیب! انہوں نے تمہارے ساتھ کوئی بدتمیزی تو نہیں کی؟” اسے اس وقت اپنی عزت سے زیادہ نقیب کی سلامتی کی فکر لاحق تھی۔

“نہیں، تم فکر نہ کرو،” دوسری طرف سے ایک سرد آہ بھری گئی، “بس وہی روایتی طریقہ… ماں بہن کی غلیظ گالیاں دیں اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔”

“مجھے تو بس دکھ اس بات کا ہے کہ میری وجہ سے تمہیں تکلیف جھیلنی پڑی۔”

،مجھے معاف کر دو نقیب، میری ایک غلطی کی وجہ سے تمہیں یہ سب کچھ سننا پڑا،” عائشہ اب باقاعدہ رو رہی تھی”

“آئی ایم سوری میری جان! میں نہیں چاہتی تھی کہ میری وجہ سے تمہاری تذلیل ہو۔”

،کوئی بات نہیں عائشہ، محبت میں یہ سب سہنا پڑتا ہے۔” نقیب نے اسے دلاسا دیا

مگر مجھے یہ تو بتاؤ کہ وہاں ہوا کیا تھا؟”

انہیں میرے بارے میں کیسے پتا چلا؟ کیا انہوں نے تم پر ہاتھ اٹھایا؟” اس کے لہجے میں تشویش اور تجسس کا امتزاج ت

عائشہ اب جیسے بند ٹوٹنے کے منتظر دریا کی طرح بہہ نکلی۔ وہ سسکیاں لیتی ہوئی اسے ایک ایک لمحے کی تفصیل بتانے لگی۔ فرحان بھائی کا غصہ، ان کا وہ زوردار تمانچہ جس کی گونج اب بھی اسے اپنے کانوں میں سنائی دیتی تھی، ماں کی وہ جلی کٹی باتیں اور گھر والوں کی وہ نفرت بھری خاموشی، وہ سب کچھ نقیب کے سامنے بچھا رہی تھی۔ اس کے آنسو لگاتار بہہ رہے تھے، یہاں تک کہ اس کا تکیہ جگہ جگہ سے نم ہو چکا تھا۔
اس وقت عائشہ کے شعور پر صرف نقیب کا جنون سوار تھا۔ اسے نہ تو اپنی رسوائی کا ملال تھا، نہ گھر کی پامال ہوتی ہوئی عزت کا پچھتاوا۔ اسے رفعت کی وہ تمام باتیں بھی بھول چکی تھیں جو نقیب کے مشکوک کردار اور اس کی نشے کی لت کے بارے میں تھیں۔ اس کے لیے نقیب اب وہ مظلوم ہیرو تھا جسے یہ ظالم دنیا اس سے چھیننا چاہتی تھی۔ وہ اس خطرناک موڑ پر کھڑی تھی جہاں انسان کو اپنے دشمنوں کی ہر بات جھوٹ اور اپنے چاہنے والے کے ہر لفظ میں سچائی نظر آنے لگتی ہے۔ وہ نقیب کی محبت کے اندھے کنویں میں اتنی گہری اتر چکی تھی کہ اب وہاں سے واپسی کا راستہ صرف اس کی بربادی سے ہو کر گزرتا تھا۔

°°°°°°°°°°

…جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *