ناول: وارث کون
باب اؤل: دہلیز
قسط نمبر 5
مصنف: زیاد اصغر زارون
°°°°°°°°°°
عائشہ نے جب سسکتے ہوئے اپنی بربادی کی پوری روداد سنائی، تو دوسری طرف ایک طویل اور اعصاب شکن خاموشی چھا گئی۔ فون کے اسپیکر سے صرف ایک ہلکی سی آواز سنائی دے رہی تھی، جیسے کوئی گہرا سانس لے رہا ہو۔ عائشہ کی سانسیں نقیب کے جواب کے لیے تڑپ رہی تھیں، مگر وہ خاموشی اس کی بے چینی کو مزید بڑھا رہی تھی۔
تم… تم بول کیوں نہیں رہے نقیب؟” عائشہ نے نہایت نحیف سرگوشی میں پوچھا، جیسے اسے ڈر ہو کہ اس کی آواز دیواروں سے ٹکرا کر کسی کو بیدار نہ کر دے۔”
میں بس… اس ساری صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔” نقیب کی آواز ابھری، جس میں ایک عجیب سا ٹھہراؤ اور دکھ کا لبادہ تھا۔”
کیا سمجھنے کی کوشش؟” عائشہ نے تڑپ کر پوچھا۔”
نقیب نے ایک گہری سانس لی، گویا وہ سچائی کا بوجھ اٹھا رہا ہو۔
“عائشہ! پہلے مجھے یہ بتاؤ… کیا تمہیں اپنی بھابھی باتوں پر یقین ہے؟ کیا تم واقعی اپنے نقیب کو آوارہ، بدچلن اور نشئی سمجھنے لگی ہو جو تمہاری بھابھی نے بیان کیا؟”
عائشہ نے بغیر کسی تاخیر کے جواب دیا،
“نہیں نقیب! ہرگز نہیں۔ مجھے اپنی سانسوں سے زیادہ تم پر اعتبار ہے۔ میں جانتی ہوں کہ فرحان بھائی کو کسی نے غلط معلومات دی ہیں یا وہ خود جھوٹ بول کر مجھے ڈرا رہے ہیں۔”
“،تمہارا بھائی جھوٹا نہیں ہے عائشہ”
“نقیب نے دھیمے لہجے میں بم پھوڑا، “تمہاری بھابھی رفعت اصل چالباز ہے۔ یہ سارا ڈرامہ اسی عورت کا رچایا ہوا ہے تاکہ وہ اپنا بدلہ لے سکے۔
“عائشہ کے پیروں تلے سے جیسے زمین نکل گئی۔ “کیا مطلب؟ رفعت… وہ ایسا کیوں کرے گی؟
،نقیب نے چند لمحے خاموشی اختیار کی، جیسے وہ کوئی بہت بڑا راز فاش کرنے سے کترا رہا ہو۔ پھر وہ نہایت مکارانہ معصومیت سے بولا
جب ہماری دوستی ہوئی اور تم نے نادانی میں میرا نمبر اسے دیا… تب اس عورت نے مجھ پر ڈورے ڈالنے شروع کیے۔”
اس نے مجھ پر اپنا جال پھینکا، مگر میں نے اسے سختی سے جھڑک دیا کہ میں ایک وفاشعار انسان ہوں اور عائشہ کے سوا میری زندگی میں کسی کی جگہ نہیں۔
میں نے یہ بات تمہیں اس لیے نہیں بتائی تھی کہ میں تمہارا گھر بگاڑنا نہیں چاہتا تھا… مگر ابھی دو ہفتے پہلے…” نقیب رک گیا۔
دو ہفتے پہلے کیا ہوا نقیب؟” عائشہ کا تجسس اور غصہ عروج پر تھا۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ عورت جسے وہ اپنی بہترین سہیلی سمجھتی تھی، وہ آستین کی سانپ نکلے گی۔”
اس کی چھوٹی بہن ہے نا، رفیعہ… وہ مجھے مجبور کر رہی تھی کہ میں تمہیں چھوڑ دوں اور اس کے ساتھ تعلق بنا لوں۔”
رفعت چاہتی ہے کہ میں اس کی بہن سے شادی کروں۔ میری اس بات پر رفعت سے سخت جھڑپ ہوئی اور میں نے غصے میں اس کی کال کاٹ دی۔ میں پھر بھی خاموش رہا کہ میں فسادی نہیں ہوں۔” نقیب کا انداز کسی مظلوم ولی جیسا تھا۔
عائشہ کے ذہن میں دھماکے ہونے لگے۔ اسے لگا جیسے اس کی پوری دنیا ایک جھوٹ پر مبنی تھی۔ وہ رفعت جسے وہ اپنے گھر لائی، اپنی بھابھی بنایا، وہی اب اس کی پیٹھ میں چھرا گھونپ رہی تھی۔
تمہیں… تمہیں مجھے بتانا چاہیے تھا۔ اس نیچ عورت نے میری زندگی جہنم بنا دی!” عائشہ سسکتے ہوئے بولی۔”
،اب میں اپنی بات کروں تو…” نقیب کی آواز میں جیسے آنسو گھل گئے”
عائشہ! تم اندازہ نہیں کر سکتیں کہ مجھے کتنی اذیت پہنچی جب تمہارے بھائی نے میری مری ہوئی ماں کے کردار پر کیچڑ اچھالا۔”
“رفعت نے اپنا انتقام لینے کے لیے میرے والدین کی قبروں تک کو نہیں بخشا، ان کے بارے میں اتنا غلیظ جھوٹ بولا۔ یہ کیسا ظلم ہے؟
نقیب کے رونے کی آواز اسپیکر سے واضح سنائی دے رہی تھی۔
“عائشہ نے غصے سے دانت پیستے ہوئے کہا، “تم فکر مت کرو نقیب، اسے تو اب میں دیکھ لوں گی۔ میں اسے اس کے کیے کی سزا دوں گی۔
“نہیں عائشہ، ایسی غلطی مت کرنا،” نقیب نے فوراً پینترا بدلا، “تمہاری پوزیشن پہلے ہی بہت کمزور ہے۔ تم نے ذرا سی بھی حرکت کی تو وہ تمہیں مار دیں گے۔”
تو پھر میں کیا کروں؟” عائشہ نے بے بسی سے روتے ہوئے پوچھا۔”
،نقیب نے ایک سرد آہ بھری
،میں کیا کہہ سکتا ہوں… میں تمہاری جگہ ہوتا تو ایک لمحہ بھی اس گھر میں نہ رکتا جہاں اتنے منافق لوگ رہتے ہیں”
“مگر میں تمہیں ایسا مشورہ کبھی نہیں دوں گا کہ تم میری خاطر گھر چھوڑو۔
کیوں؟ کیا تم مجھے بزدل سمجھتے ہو؟” عائشہ تنک کر بولی۔”
ایسا نہیں ہے میری جان۔ میں نہیں چاہتا کہ کل کو تم پچھتاؤ۔ تم بس وہی کرو جو تمہارے گھر والے کہتے ہیں۔ میرا کیا ہے… میں تمہاری یادوں کے سہارے زندگی گزار لوں گا۔”
اور اگر صبر نہ آیا… تو خودکشی کر لوں گا۔” نقیب کے آخری الفاظ نے عائشہ کے ہوش اڑا دیے۔
بکواس نہ کرو نقیب! خبردار جو دوبارہ ایسی بات کی!” عائشہ چیخ اٹھی۔”
تو اور کیا کروں؟ میں نے یہ ہفتہ کیسے گزارا ہے، یہ میرا خدا جانتا ہے۔ بار بار جی چاہتا تھا کہ پنکھے سے لٹک جاؤں۔”
میں تمہارے بنا جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتا، مگر میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ تم گھر کی دہلیز پار کر کے رسوا ہو۔” نقیب کی بھرائی ہوئی آواز عائشہ کے دل پر نشتر چلا رہی تھی۔
،وہ چند لمحے خاموش رہی، پھر ایک ہولناک فیصلہ اس کے لہجے سے جھلکا
“مجھے لے جاؤ نقیب… مجھے اس جہنم میں نہیں رہنا۔ یہ لوگ محبت کے دشمن ہیں۔ پلیز مجھے یہاں سے نکال لو، میں تمہارے بغیر مر جاؤں گی۔”
نقیب کی چاہت اور منزل اب قریب تھی، مگر وہ اب بھی ایک بااخلاق شخص کا ناٹک کر رہا تھا۔
“عائشہ! جذبات میں آ کر فیصلہ مت کرو۔ گھر سے بھاگنا کوئی کھیل نہیں ہے۔ کل کو تم مجھے الزام دو گی کہ میں نے تمہارا گھر چھڑوایا۔”
کوئی الزام نہیں دوں گی! اگر تم نہ آئے تو میں زہر کھا لوں گی!” عائشہ کے اصرار نے نقیب کو مجبور کر دیا۔”
“اچھا ٹھیک ہے… ٹھیک ہے، روؤ مت۔” نقیب نے لہجے میں نرمی گھولتے ہوئے پوچھا، “مجھے یہ بتاؤ کہ اب گھر والوں کا تمہارے ساتھ کیسا برتاؤ ہے؟”
،عائشہ نے تفصیل بتائی کہ کیسے اسے ایک اچھوت کی طرح رکھا جا رہا ہے۔ نقیب نے گلا کھنکار کر اپنی اصلی پلاننگ کا آغاز کیا
“دیکھو عائشہ! ابھی تمہیں وہاں سے نکالنا ناممکن ہے۔ میں ٹھیک ایک مہینے بعد تمہیں لینے آؤں گا، مگر تب تک تمہیں اداکاری کرنی ہوگی۔ تمہیں ان کا اعتماد بحال کرنا ہوگا۔”
“اداکاری؟ کیسی اداکاری؟”
“سب سے پہلے اپنے ابو، امی اور بھائیوں سے معافی مانگو۔”
“عائشہ تڑپ اٹھی، “معافی؟ کس بات کی؟ کیا محبت کرنا گناہ ہے؟ میں نے کیا غلط کِیا؟
،میں جانتا ہوں تم حق پر ہو، مگر یہ ناٹک ضروری ہے۔” نقیب نے سمجھایا”
“رفعت کو یہ احساس مت ہونے دینا کہ تمہیں سچائی کا علم ہے۔ اور اگر وہ تمہارے رشتے کی بات کریں، تو فوراً ہاں کر دینا۔”
“!تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے نقیب؟ میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی”
،پوری بات سنو عائشہ!” نقیب نے مصنوعی غصے سے اسے خاموش کرایا”
ہاں اس لیے کرنی ہے تاکہ وہ تم پر پابندیاں ختم کر دیں۔ جب سب نارمل ہو جائے، تو میں تم تک نیند کی گولیاں پہنچا دوں گا۔”
“جس رات ہمیں نکلنا ہوگا، تم وہ گولیاں سب کو کھلا دینا تاکہ ہمیں دور نکلنے کا وقت مل سکے۔
“عائشہ کی آنکھوں میں چمک آ گئی، “یہ… یہ بہت زبردست آئیڈیا ہے۔
اب تم سکون سے سو جاؤ میری جان۔ بس اس دن کا انتظار کرو جب میں اپنی شہزادی کو ہمیشہ کے لیے اپنا بنا لوں گا۔” نقیب نے محبت بھرے لہجے میں کہا۔”
آئی لو یو نقیب… لو یو سو مچ!” عائشہ نے جذبات سے مغلوب ہو کر کہا۔”
“لو یو ٹو میری جان… میں تمہاری خاطر پوری دنیا کو آگ لگا دوں گا، مگر تم پر آنچ نہیں آنے دوں گا۔”
عائشہ نے کانپتے ہاتھوں سے کال منقطع کی، موبائل اپنی قمیض میں چھپایا اور اسی طرح دبے قدموں ہال کی طرف بڑھی تاکہ اپنے باپ کا وہ موبائل واپس رکھ سکے جس نے اسے نئی زندگی کی امید دی تھی۔
°°°°°°°°°°
کمال احمد چارپائی پر اس طرح ساکت بیٹھے تھے جیسے پتھر کی کوئی مورت ہو۔ ان کا سپاٹ چہرہ ان کے اندرونی کرب کی کہانی سنا رہا تھا اور آنکھوں میں ٹھہرے ہوئے آنسو کسی پگھلے ہوئے سیسے کی طرح ان کی پلکوں سے لپٹے ہوئے تھے۔
عائشہ ان کے قدموں میں ڈھیر تھی، اس کے ہاتھ اپنے باپ کے گھٹنوں پر جمے ہوئے تھے اور وہ کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح اپنی زندگی کی سب سے بڑی معافی مانگ رہی تھی۔
“پلیز بابا! مجھے معاف کر دیں… خدا کا واسطہ ہے آپ کو، میری اس نادانی کو بخش دیں”
عائشہ کی آواز ہچکیوں میں گم ہو رہی تھی۔ وہ بار بار ہاتھ جوڑتی، کبھی ان کے پیروں کو چھوتی۔ اس کی آہ و زاری میں ایک ایسی تڑپ تھی جو کسی بھی پتھر دل کو پگھلا سکتی تھی، مگر کمال کے لبوں پر خاموشی کی مہر لگی ہوئی تھی۔
کچھ فاصلے پر بلقیس بیگم، رفعت اور فرحان ایک قطار میں کھڑے یہ دل دوز منظر دیکھ رہے تھے۔ بلقیس بیگم کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگی ہوئی تھی، مگر گھر کے اس کڑے نظم و ضبط اور شوہر کے جلال کے سامنے ان کی زبان گنگ تھی۔ وہ چاہ کر بھی اپنی ممتا کو بیٹی کی وکالت کے لیے استعمال نہیں کر پا رہی تھیں۔ فرحان کے چہرے پر اب بھی غصے کے آثار تھے، جبکہ رفعت خاموشی سے عائشہ کی اس ندامت کو جانچ رہی تھی۔
چند طویل اور بوجھل لمحوں کے بعد، کمال نے بوجھل پلکیں اٹھائیں اور اپنی اس لاڈلی بیٹی کی طرف دیکھا جو ان کا غرور تھی۔
،ان کی آواز کسی ٹوٹتے ہوئے شیشے کی طرح کرچی کرچی تھی
“عائشہ! تم نے مجھے بہت اذیت دی… مجھے تم سے ایسی امید ہرگز نہیں تھی۔”
یہ محض الفاظ نہیں تھے، بلکہ ایک باپ کے ٹوٹے ہوئے مان کا نوحہ تھے۔ عائشہ کو ایسا محسوس ہوا جیسے زمین کی تہیں کھل رہی ہیں اور وہ اس میں سما جانا چاہتی ہے۔
،اس نے نقیب کے سمجھائے ہوئے ناٹک کو مزید اثر انگیز بناتے ہوئے اپنے ہاتھ جوڑے اور فریاد کی
“صرف ایک بار بابا! خدا کے لیے صرف ایک بار مجھے اپنی پناہ میں لے لیں۔ میں دوبارہ کبھی آپ کے سر کو جھکنے نہیں دوں گی، میں مر جاؤں گی مگر آپ کو دکھ نہیں پہنچاؤں گی۔”
کمال احمد کا پدری لہجہ پگھل گیا۔ انہوں نے لرزتے ہاتھوں سے عائشہ کے دونوں گال اپنی ہتھیلیوں میں لیے اور نہایت شفقت سے اس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔
“میں نے تمہیں معاف کیا عائشہ… مگر یاد رکھنا، اب دوبارہ ایسا کوئی قدم مت اٹھانا جس سے میرے سفید بالوں کی لاج داؤ پر لگ جائے۔”
،کبھی نہیں بابا… ایسا ہرگز نہیں ہوگا،” عائشہ نے جلدی سے اپنے آنسو پونچھے”
،کمال نے نظریں اٹھا کر خاندان کے باقی افراد کی طرف دیکھا۔ ان کا لہجہ اب حتمی تھا
نادان بچی تھی، بہک گئی تھی، مگر اب اس نے توبہ کر لی ہے۔ جو ہو گیا، وہ ایک برا خواب تھا جسے اب یہیں دفن کر دینا چاہیے۔”
“آج کے بعد کوئی بھی عائشہ کو طعنہ نہیں دے گا، اور نہ ہی اس موضوع پر کوئی بات ہوگی۔
سب نے خاموشی سے سر ہلا دیے۔ اس ایک معافی نے ایک ہفتے سے گھر پر چھائی ہوئی اس منحوس خاموشی اور گھٹن کو یکسر ختم کر دیا تھا۔ عائشہ کے دل میں جہاں اپنے باپ کی شفقت دیکھ کر ایک کسک اٹھی، وہیں اسے نقیب کی دور اندیشی پر رشک بھی آیا۔ اسے امید ہو چلی تھی کہ اب جلد ہی اس پر لگی پابندیاں ہٹ جائیں گی اور وہ نقیب کے اس بڑے منصوبے کو عملی جامہ پہنا سکے گی جس کی شروعات اس معافی سے ہوئی تھی۔
°°°°°°°°°°
عائشہ کی معافی نے گھر کی فضاؤں میں چھائی ہوئی سنگینی کو جادوئی انداز میں بدل دیا تھا۔ کمال صاحب کے دل پر رکھا ہوا بوجھ جیسے اتر گیا تھا اور انہوں نے عائشہ کا رشتہ اپنے جگری دوست کے بیٹے سے پکا کر دیا تھا۔
وقت کا پہیہ تیزی سے گھوم رہا تھا اور ایک ماہ کا عرصہ یوں بیت گیا جیسے کوئی خواب ہو۔ گھر میں اب خاموشی کی جگہ شادی کے گیتوں اور ہنسی مذاق نے لے لی تھی۔ فرحان اور کامران کا رویہ بھی اب بدل چکا تھا۔ انہیں یقین ہو گیا تھا کہ ان کی بہن نادانی کی گرد جھاڑ کر اب زندگی کی حقیقتوں کو سمجھ چکی ہے۔ عائشہ کو اس کا موبائل بھی واپس مل گیا تھا، کیونکہ اب اس پر شک کرنا سب کو اپنی توہین محسوس ہو رہا تھا۔
گھر کا نقشہ اب کسی میلے جیسا تھا۔ زرق برق کپڑے، بنارسی دوپٹے اور سنہری زیورات کی خریداری کے لیے خواتین کی ٹولیاں روزانہ بازاروں کا رخ کر رہی تھیں۔ بلقیس بیگم کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ وہ اپنی لاڈلی بیٹی کو دنیا کی ہر نعمت سے نوازنا چاہتی تھیں۔ عائشہ بھی اس پورے ہنگامے میں سب سے بڑھ کر حصہ لے رہی تھی۔ وہ اپنی شادی کے جوڑوں کا انتخاب خود کرتی، مہندی کے ڈیزائنوں پر بحث کرتی اور گھر والوں کے ساتھ مل کر مستقبل کے سپنے بنتی دکھائی دیتی۔
گھر کا ہر فرد، باپ کی شفقت سے لے کر بھائیوں کے مان تک، سب اس دھوکے میں مبتلا تھے کہ عائشہ بدل گئی ہے۔ وہ جب مسکرا کر اپنے ابو کو چائے کا کپ تھماتی یا اپنی چھوٹی بہنوں کے ساتھ ہنستی، تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ مسکراہٹ دراصل ایک ہولناک نقاب ہے۔
درحقیقت، عائشہ نقیب کے بچھائے ہوئے جال کی آخری منزل پر کھڑی تھی۔ وہ شادی کی خریداری نہیں کر رہی تھی، بلکہ اپنے فرار کے اسباب اکٹھے کر رہی تھی۔ وہ ان زرق برق جوڑوں کو نہیں دیکھ رہی تھی، بلکہ اس اندھیری رات کے انتظار میں تھی جب اسے اس دہلیز کو پار کرنا تھا جس کی لاج کے لیے اس کے باپ نے اپنی پوری زندگی وقف کر دی تھی۔
پورا خاندان اس غلط فہمی میں مبتلا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کو ایک معتبر گھرانے میں رخصت کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، جبکہ عائشہ اس قیامت کی منصوبہ بندی مکمل کر چکی تھی جو آنے والی رات برپا ہونے والی تھی۔ وہ مضبوط دہلیز، جو برسوں کی عزت اور غیرت سے تعمیر ہوئی تھی، اب عائشہ کے ایک غلط قدم سے پامال ہونے کے قریب تھی۔
°°°°°°°°°°
نئے دن کا سورج امیدوں کے بجائے عائشہ کے لیے ایک خوفناک منصوبے کی نوید لے کر طلوع ہوا۔ صبح کے دس بج رہے تھے جب گھر کی تمام خواتین، شادی کی خریداری کے لیے بازار جانے کے لیے تیار ہوئیں۔ عائشہ آج غیر معمولی طور پر پرجوش دکھائی دے رہی تھی۔ اس نے باقاعدہ ضد کی تھی کہ وہ اپنی زندگی کے سب سے اہم جوڑے یعنی اپنے عروسی لہنگے کا انتخاب خود کرے گی اور اسے آج ہی فائنل کر کے گھر لائے گی۔
لبرٹی پلازہ کی رنگینیوں اور ہجوم میں گھری ہوئی یہ فیملی اس وقت ایک جوتوں کی دکان میں موجود تھی۔
چاروں طرف چمڑے کی مہک، نئی چپلوں کی چمک اور گاہکوں کا شور تھا۔
،بلقیس بیگم ایک ایک چیز کو پرکھ رہی تھیں
یہ دیکھو عائشہ؟ یہ رنگ ایمان کے پیروں پر کیسا لگے گا؟” بلقیس بیگم نے ایک زرق برق چپل اٹھاتے ہوئے بڑی چاہت سے پوچھا۔”
جی… ہاں امی، بہت خوبصورت ہے۔” عائشہ نے جواب تو دیا، مگر اس کے لہجے کی تھرتھراہٹ اور آنکھوں کی بوکھلاہٹ صاف بتا رہی تھی کہ اس کا ذہن کہیں اور تھا۔”
اس کا دل سینے میں کسی قیدی پرندے کی طرح تڑپ رہا تھا کیونکہ نقیب اسی پلازے میں کہیں موجود تھا اور وہ لمحہ قریب تھا جب وہ پہلی بار اس انسان کو دیکھنے والی تھی جس کے لیے اس نے اپنے خاندان کی عزت داؤ پر لگا دی تھی۔
تبھی عائشہ کے موبائل نے بیپ کی اور اس کا دل ایک پل کے لیے جیسے تھم گیا۔ اس نے لرزتے ہاتھوں سے میسج کھولا،
“اپنے بائیں جانب موبائل والی دکان کی طرف دیکھو۔”
عائشہ کی نظریں کسی مقناطیس کی طرح بائیں جانب اٹھیں۔ وہاں شیشے کے کاؤنٹرز کے پاس ایک نوجوان کھڑا تھا۔ عائشہ نے اسے دیکھا، اور دیکھتی ہی رہ گئی۔ ایک پل کے لیے اسے لگا جیسے اس کی بصارت اسے دھوکا دے رہی ہے۔ وہ نقیب، جسے وہ اب تک ایڈیٹڈ ویڈیوز اور فلٹر زدہ تصاویر میں دیکھتی آئی تھی، وہ نقیب جو ان تصویروں میں کسی فلمی ہیرو کی طرح گورا چٹا اور وجیہہ لگتا تھا… سامنے کھڑی حقیقت اس سے کوسوں دور تھی۔
سامنے کھڑا شخص سانولی رنگت، واجبی سی صورت اور اوسط سے بھی کم درجے کی شخصیت کا مالک تھا۔ وہ تمام جادو، وہ تمام سحر جو اسکرین کی نیلی روشنی نے تخلیق کیا تھا، لبرٹی پلازہ کی سفید روشنیوں میں دم توڑ گیا۔ عائشہ کا دل ایک پل کو دھک سے رہ گیا، جیسے کسی نے بلندی سے اسے ٹھنڈے فرش پر پٹخ دیا ہو۔ مگر، اس نے فوراً ہی اپنے ڈوبتے ہوئے اعتماد کو سہارا دیا۔
“فلٹر تو سب ہی لگاتے ہیں… میں خود بھی تو لگاتی ہوں۔”
اس نے من ہی من میں خود کو تسلی دی، حالانکہ اس کا ضمیر چیخ رہا تھا کہ فلٹر کے باوجود وہ نقیب سے کہیں زیادہ بہتر تھی، جبکہ نقیب کی اصل صورت تو اس کے تصورات کا جنازہ نکال رہی تھی۔
،وہ ابھی اس ذہنی صدمے سے سنبھل بھی نہیں پائی تھی کہ دوسرا میسج اسکرین پر لہرایا
“میں نے نیند کی گولیاں واش روم کے باہر پڑے گملے میں چھپا دی ہیں۔ یاد رکھنا، رات ٹھیک ایک بجے میں تمہارے گھر کے باہر انتظار کروں گا۔”
عائشہ نے نظریں اٹھا کر دوبارہ اس سمت دیکھا جہاں نقیب کھڑا تھا، مگر وہ اب وہاں سے جا رہا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہجوم میں کہیں گم ہو گیا۔ اس کے جاتے ہی عائشہ کے اندر کی تڑپ نے دوبارہ سر اٹھایا۔ اسے اب صورت سے نہیں، بلکہ اس فرار سے مطلب تھا جس کا وعدہ نقیب نے کیا تھا۔
،وہ اپنی امی کی طرف مڑی، پھر دوکاندار کو مخاطب کیا، اس کے لہجے میں مصنوعی بے چینی تھی
“بھائی صاحب! واش روم کس طرف ہے؟”
دکاندار نے مشاق انداز میں اشارہ کیا:
“بائیں جانب جا کر دائیں ہاتھ مڑ جائیے گا، سامنے ہی لیڈیز واش روم ہے۔”
“عائشہ نے بلقیس بیگم کی طرف دیکھا، جن کی آنکھوں میں اب بھی اپنی بیٹی کے لیے صرف اور صرف پیار تھا۔ “امی، میں ذرا ہو آؤں؟
کومل کو بھی ساتھ لے جاؤ، اکیلی مت جاؤ،” بلقیس بیگم نے ممتا کے تحت ہدایت دی۔”
عائشہ اور کومل دونوں بہنیں اس کوریڈور کی طرف بڑھ گئیں، جہاں نیند کی گولیاں اس کا انتظار کر رہی تھیں۔
°°°°°°°°°°
واش روم کی راہداری میں پھیلا ہوا وہ مخصوص سناٹا عائشہ کے اعصاب پر ہتھوڑے برسا رہا تھا۔ وہ جب واش روم کی طرف جا رہی تھی، تو اس کی عقابی نظروں نے گملے کی مٹی اور پتوں کے درمیان چھپا ہوا وہ منحوس گولیوں کا پتہ دیکھ لیا تھا، مگر کومل اس کے ارادے کے سامنے ایک آہنی دیوار بن گئی تھی۔ وہ اس وقت تو کچھ نہ کر سکی، مگر اس کا ذہن اب صرف اس مشن کی تکمیل کے لیے سازشیں بن رہا تھا۔
کومل باہر انتظار کر رہی تھی جبکہ عائشہ واش روم کے اندر کھڑی اپنی ہی تپتی ہوئی پیشانی پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مار رہی تھی۔ چند لمحوں بعد وہ جب باہر نکلی، تو اس کے ہاتھ پانی سے تر تھے اور اس کا چہرہ کسی مجرم کی طرح زرد ہو رہا تھا۔ اس نے کمال ہوشیاری سے اپنی اداکاری کا آخری مہرہ چلایا۔
اس نے اپنے ہینڈ بیگ کی زپ کھولی اور کپکپاتے پوروں سے سو روپے کا ایک نوٹ نکال کر کومل کی طرف بڑھایا۔ “کومل! یہ پکڑو اور سامنے والی دکان سے ٹشو کا ڈبہ لے آؤ، دیکھو ہاتھ کتنے گیلے ہیں اور مجھے ویسے بھی ٹشو کی ضرورت ہے۔” اس نے لہجے کو جتنا ممکن ہو سکا، سپاٹ رکھنے کی کوشش کی۔
کومل، جو اپنی بہن کے بدلتے ہوئے رنگوں اور اس کے اندرونی طوفان سے بالکل بے خبر تھی، خاموشی سے پیسے پکڑ کر راہداری کے موڑ پر واقع دکان کی طرف بڑھ گئی۔ جیسے ہی کومل کی پشت عائشہ کی نظروں سے اوجھل ہوئی، عائشہ کے وجود میں جیسے بجلی دوڑ گئی۔
وقت اب ریت کی طرح اس کی مٹھی سے پھسل رہا تھا۔ اس نے ایک وحشت زدہ نگاہ دائیں بائیں ڈالی۔ پلازے میں لوگ اپنی اپنی خریداری میں مگن تھے، مگر عائشہ کو یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ہر دیوار میں نصب کیمرہ اور ہر گزرتا ہوا انسان اسے ہی دیکھ رہا ہے۔ اس نے بغیر ایک لمحہ ضائع کیے گملے کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ اس کی انگلیاں پلاسٹک کے پتے سے ٹکرا گئیں۔
ایک جھٹکے سے اس نے وہ پتہ اٹھایا اور پلک جھپکتے میں اسے اپنے بیگ کی سب سے نچلی تہوں میں چھپا دیا۔ اس وقت اس کے دل کی دھڑکن اس قدر شدید تھی کہ اسے لگ رہا تھا جیسے اس کا دل پسلیاں توڑ کر باہر نکل آئے گا اور اس کے دھڑکنے کی آواز پورے پلازے میں سنائی دے گی۔ خوف اور گھبراہٹ کی ایک سرد لہر اس کی ریڑھ کی ہڈی میں اتر گئی۔ اس نے ایک بار پھر چور نظروں سے چاروں طرف دیکھا، جب یقین ہوگیا کہ کسی نے نہیں دیکھا، تو وہیں دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑی ہوگئی، سانسوں کو ترتیب دینے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے، جبکہ بیگ میں پڑی وہ گولیاں اس کے ضمیر کو مسلسل کچوکے لگا رہی تھیں۔ اب اسے صرف کومل کا انتظار تھا۔
°°°°°°°°°°
رات کے نو بج رہے تھے اور کمال احمد کا گھر روشنیوں اور قہقہوں سے معمور تھا۔ مرکزی ہال میں خاندان کے تمام افراد یوں بیٹھے تھے جیسے کسی میلے کا سماں ہو۔ ایک ہفتے بعد عائشہ کی شادی تھی، اسی لیے گفتگو کا محور صرف نکاح کی تقریب، مہمانوں کی فہرست اور دن بھر کی گئی شاپنگ تھی۔ کسی کو علم نہیں تھا کہ جس شادی کی وہ خوشیاں منا رہے تھے، اس کی مرکزی کردار اپنے ہی ہاتھوں اپنے خاندان کی خوشیوں کا گلا گھونٹنے کی تیاری کر رہی تھی۔
کچن میں چائے کی پتی ابل رہی تھی اور اس کے ساتھ ہی عائشہ کے ذہن میں سازشوں کا ایک لاوا پک رہا تھا۔ ایمان، جو اپنی بڑی بہن سے بے پناہ محبت کرتی تھی، بلاوجہ ہی پاس بیٹھی خوش گپیوں میں مصروف تھی۔ عائشہ کا دل سینے میں دھک دھک کر رہا تھا، اسے ایمان کی موجودگی ایک بوجھ محسوس ہو رہی تھی۔
“چائے کا دھیان رکھنا، میں ذرا دیکھ کر آئی کہ امی نے میرا دوپٹہ کہاں رکھا ہے۔”
عائشہ نے نہایت سپاٹ لہجے میں کہا اور تیزی سے اپنے کمرے کی طرف لپکی۔ کمرے کے اندھیرے میں اس نے اپنا بیگ کھولا اور وہ منحوس پتہ نکالا۔ اس کے ہاتھ کپکپا رہے تھے جب اس نے ایک ایک کر کے دسوں گولیاں نکالیں اور اپنی مٹھی میں دبوچ لیں۔
،واپس کچن میں آکر وہ دوبارہ چولہے کے پاس بیٹھ گئی۔ ایمان ابھی وہیں موجود تھی۔ عائشہ نے اسے ہٹانے کے لیے ایک پینترا بدلا
“ایمان! جاؤ، میرے کمرے سے میرا مگ اٹھا لاؤ، میں اسی میں چائے پیوں گی۔”
یہ کیا بات ہوئی آپی؟ آپ ابھی تو وہاں سے آئی ہیں، خود ہی لے آتیں۔” ایمان نے لاڈ اور خفگی کے ملے جلے انداز میں منہ بسورا۔”
جاتی ہو یا میں امی کو آواز دوں؟” عائشہ نے مصنوعی غصہ دکھایا تو ایمان پیر پٹختی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی۔”
جیسے ہی ایمان نے رخ موڑا، عائشہ نے ایک وحشیانہ عجلت کے ساتھ اپنی مٹھی کھولی اور وہ دسوں گولیاں کھولتی ہوئی چائے میں ڈال دیں۔
،اب ایمان کو دور رکھنے کا مقصد پورا ہو چکا تھا، اس لیے عائشہ نے اسے آواز دے کر واپس بلا لیا
“اچھا رہنے دو! میں اسی کپ میں پی لوں گی، تم بیٹھو۔”
ایمان بڑبڑاتی ہوئی دوبارہ بیٹھ گئی، مگر عائشہ اب اپنی کیمیا گری میں مصروف تھی۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں گولیوں کی کڑواہٹ یا بو کسی کو شک میں نہ ڈال دے۔ اس نے جان بوجھ کر چائے میں چینی کی مقدار دگنی کی، الائچی اور بادیانِ خطائی کے پھول بھی ڈال دیے۔ کچن کی فضا الائچی کی تیز اور دلفریب خوشبو سے مہک اٹھی۔ ایک ایسی خوشبو جو اس زہر کو چھپانے کے لیے کافی تھی جو چند گھنٹوں بعد اس گھر کے ہر فرد کو بے ہوشی کی موت سلانے والا تھا۔
چائے جب پوری طرح جوش کھا کر تیار ہو گئی، تو عائشہ نے نہایت تحمل سے اسے پونی سے چھانا اور ٹرے میں سجا کر ہال کی طرف قدم بڑھادیے۔
ہال میں داخل ہوتے ہی اس نے دیکھا کہ فرحان کسی بات پر ہنس رہا تھا، ابو آرام دہ کرسی پر بیٹھے مستقبل کے منصوبے بنا رہے تھے اور امی کومل کو کسی جوڑے کی کڑھائی دکھا رہی تھیں۔ عائشہ نے ایک ایک کر کے چائے کے کپ سب کے سامنے رکھے۔
وہ خاندان، جو صدیوں پر محیط روایات اور اعتبار کی بنیاد پر قائم تھا، آج اسی اعتبار کے ہاتھوں لٹ رہا تھا۔ ہر گھونٹ کے ساتھ وہ اپنے ہوش و حواس سے دور اور عائشہ کی اس آزادی کے قریب ہو رہے تھے جس کا انجام صرف ذلت تھا۔
°°°°°°°°°°
رات کا ایک بج رہا تھا اور فضا میں سنگین خاموشی طاری تھی۔ گھر کے در و دیوار، جو کبھی قہقہوں سے مہکتے تھے، آج سکوتِ مرگ کی تصویر بنے ہوئے تھے۔ عائشہ کی دی ہوئی نیند کی گولیوں کا اثر اتنا گہرا تھا کہ پورا خاندان ہوش و خواس سے بیگانہ، مردہ نما نیند کی آغوش میں تھا۔ یہ نیند نہیں، بلکہ وہ بے ہوشی تھی جس میں اگر انہیں جھنجھوڑا بھی جاتا، تو وہ محض ایک بے جان کسمساہٹ کے سوا کچھ نہ کر پاتے۔
عائشہ اپنے کمرے میں کپکپاتے وجود کے ساتھ اپنا بیگ تیار کر رہی تھی۔ اس کے ہاتھ تیزی سے کپڑے بیگ میں ٹھونس رہے تھے، مگر اس کی نظریں بار بار دروازے کی طرف اٹھ جاتیں۔ وہ اب اس مقام پر تھی جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ اچانک ایک شیطانی خیال نے اس کے ذہن میں سر اٹھایا۔ وہ دبے قدموں اپنی امی، بلقیس بیگم کی چارپائی کے پاس جا کھڑی ہوئی۔ وہ کالی ڈوری، جس میں پیٹی کی چابیاں لٹک رہی تھیں، بلقیس بیگم کے گلے کا دائمی زیور تھی۔ گویا یہ ان کے پورے گھر کے وقار کی کنجی تھی۔
عائشہ نے چھری کی تیز دھار سے اس ڈوری کو کاٹا، تو اسے یوں لگا جیسے اس نے اپنی ماں سے وابستہ ممتا کا آخری رشتہ بھی کاٹ دیا ہو۔ چابیاں مٹھی میں دبوچے وہ سٹور روم میں داخل ہوئی۔ پرانی لوہے کی پیٹی کھلنے کی آواز اس کے کانوں میں صورِ اسرافیل بن کر گونجی۔ اندھیرے میں ٹٹولتے ہوئے اسے دو پوٹلیاں ملیں۔ ایک اس کی ماں کا عمر بھر کا اثاثہ اور دوسری پوٹلی میں اس کی بھابھی رفعت کا زیور تھا۔ اس نے ان پوٹلیوں کو کسی بے رحم لٹیرے کی طرح بیگ میں ڈالا۔ لالچ اور خوف کے اس ملے جلے جذبے نے اسے اندھا کر دیا تھا۔ اس نے وہاں پڑے نقدی کے شاپر کو بھی نہ بخشا اور پھر برآمدے کی طرف بڑھی۔
وہاں اس کا باپ، کمال احمد، ایک ڈھیر کی صورت چارپائی پر پڑا تھا۔ وہی باپ جس کے ایک اشارے پر وہ اپنی جان لٹانے کا دعویٰ کرتی تھی۔ عائشہ نے تھرتھراتے ہاتھوں سے ان کی جیبوں کو ٹٹولا، وہاں سے ملنے والے چند نوٹ بھی اس نے سمیٹ لیے۔ اس وقت اسے اپنے باپ کی سفید داڑھی کا وقار نظر آ رہا تھا اور نہ ہی ان کی شفقت، اس کے شعور پر صرف نقیب کے پیار کا بھوت سوار تھا۔
کمرے میں واپس آتے ہی اس نے نقیب کو کال ملائی۔ نقیب کی آواز اسپیکر سے ابھری تو عائشہ کی گھبراہٹ میں مزید اضافہ ہو گیا۔
کہاں ہو تم؟” اس نے بمشکل سرگوشی کی۔”
میں تمہارے گھر سے تھوڑی دور، نادرا آفس کے پاس کھڑا ہوں،” نقیب نے جواب دیا۔”
میں نے تم سے کہا تھا کہ گھر کے بالکل پاس رہنا!” عائشہ نے خفگی اور ڈر کے مارے اسے ٹوکا۔”
یہاں سب گھروں کے گیٹ نیلے ہیں، مجھے سمجھ ہی نہیں آ رہی کہ تمہارا گھر کون سا ہے۔” نقیب کی آواز میں ایک عجیب سی بیگانگی تھی۔”
اچھا، تم ہماری گلی کی طرف بڑھو۔ میں نکل رہی ہوں۔” عائشہ نے کال منقطع کر دی۔”
پھر جلدی سے اپنے کپڑوں پر گاؤن پہنا، برقعے سے اپنے اس چہرے کو چھپایا جو اب شرمندگی کے بوجھ سے تپ رہا تھا اور بیگ اٹھا کر دہلیز کی طرف بڑھ گئی۔
جب وہ گیٹ کے پاس پہنچی، تو اس کے قدم بوجھل ہو گئے۔ اس نے مڑ کر آخری بار اپنے اس گھر کو دیکھا جہاں اس کا بچپن گزرا تھا، جہاں اسے شہزادیوں کی طرح پالا گیا تھا۔
،اس کے لب لرزے اور ایک مدھم سی صدا نکلی
مجھے معاف کر دیجیے گا ابو! میں ایسا نہیں چاہتی تھی… میں آپ کی عزت کی دشمن نہیں بننا چاہتی تھی، مگر آپ نے میری محبت کو تسلیم نہیں کیا۔”
“کوئی دوسرا راستہ ہی نہیں چھوڑا۔ میں مجبور ہوں ابو… ہو سکے تو اپنی اس گناہگار بیٹی کو معاف کر دیجیے گا۔
اس نے گیٹ کے چھوٹے پٹ کی کنڈی بنا کسی آواز کے کھولی۔ وہ لمحہ جیسے صدیوں پر محیط ہو گیا۔ وہ نظریں جھکائے گھر کی دہلیز کو دیکھ رہی تھی۔
وہ دہلیز جو اب تک اس کی پناہ گاہ تھی، جو اس کے تحفظ کی علامت تھی۔
اس دہلیز کے اس پار اب صرف ذلت اور رسوائی کا لامتناہی صحرا تھا۔
آج وہ اس دہلیز کو پار نہیں کر رہی تھی، بلکہ اپنے خاندان کے مان اور باپ کی پگڑی کو روند کر باہر نکل رہی تھی۔
مستقبل کیسا ہوگا؟ اسے خبر نہیں تھی، مگر اسے اندھا یقین تھا کہ نقیب اس کی دنیا بدل دے گا۔ یہی تو اس کا آخری فیصلہ تھا۔ ایک طرف وہ خون کے رشتے تھے جنہوں نے اسے زندگی دی، اور دوسری طرف وہ اجنبی شخص جسے وہ محض ڈیڑھ سال سے ایک اسکرین کے ذریعے جانتی تھی۔ اس نے ہمت مجتمع کی اور دوسرا قدم دہلیز کے پار رکھ دیا۔
جیسے ہی اس کا قدم باہر کی مٹی سے ٹکرایا، اسے محسوس ہوا جیسے زندگی کا ایک حسین باب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا ہو۔ اسے امید تھی کہ اب اسے نقیب کی سچی چاہت اور خوشیوں کا گہوارہ ملے گا۔ تھوڑے ہی فاصلے پر اندھیرے میں نقیب کا ہیولا اس کی طرف بڑھ رہا تھا۔ عائشہ ڈری ہوئی بھی تھی اور دکھی بھی، مگر نقیب کو پا لینے کی موہوم خوشی ان سب پر غالب تھی۔
وہ اپنی اس بغاوت سے سکون کی توقع کر رہی تھی، مگر وہ نادان یہ نہیں جانتی تھی کہ والدین کی عزت کی راکھ پر جو محل تعمیر کیے جاتے ہیں، وہ کبھی سکھ نہیں دیتے۔ جس رشتے کی بنیاد ہی اپنوں کے آنسوؤں اور رسوائی پر رکھی جائے، اس کا مقدر صرف اور صرف اذیت ہوتی ہے۔
°°°°°°°°°°
…جاری ہے
