اردو ادب اور مصنّفین
زیاد اصغر زارون کے قلم سے
(مکمل پڑھے بنا رائے دینے سے پرہیز کیجیے، یہ مصنفین کا ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ تنقید کرنا آپ کا حق ہے۔)
اردو ادب میں نئے لکھاریوں کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ صرف ادب میں اپنی جگہ بنانا ہی نہیں بلکہ اس راہ میں ایک اور بڑا مسئلہ یہ ہے کہ انہیں سینیئر رائٹرز کی طرف سے مناسب حوصلہ افزائی اور رہنمائی نہیں ملتی۔ یہ اکثر شکایت کی جاتی ہے کہ سینئرز اردو ادب کے نوآموز قلمکاروں کی تحریروں کو نظر انداز کرتے ہیں، انہیں ان کے مسائل کے ساتھ تنہا چھوڑ دیتے ہیں اور ان کی اصلاح کی ذمہ داری نہیں اٹھاتے۔
یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ اگر سینیئر مصنفین اپنے تجربے کی روشنی میں نئے لکھاریوں کی رہنمائی کریں تو کئی ادبی ستارے ابھر سکتے ہیں۔
کئی نئے خیالات سامنے آ سکتے ہیں اور اردو ادب میں ایک نئی روح پھونکی جا سکتی ہے لیکن یہاں ایک اور حقیقت بھی ہے جو اکثر نظر انداز کر دی جاتی ہے۔
نئے لکھاریوں میں خود اعتمادی اور خود پسندی کی ایسی شدت آ چکی ہے کہ وہ اصلاح کو اپنی توہین سمجھنے لگے ہیں۔
کچھ عرصہ پہلے میں نے ایک نوآموز خاتون رائٹر کے ناول کی ایک قسط پر کیے گئے تبصرے پڑھنا شروع کیے۔ ایک خاتون قاری جو خود بھی ایک مصنفہ تھیں۔ انہوں نے نرمی اور شائستگی سے اس رائٹر کی توجہ تحریر کی کمزوریوں پر دلائی۔ انہوں نے لکھا:
“اگر آپ چند پہلوؤں پر کام کریں تو آپ کی تحریر میں مزید نکھار آ سکتا ہے۔ آپ کے الفاظ میں جذبات ہیں لیکن کہیں کہیں بیان میں روانی کی کمی محسوس ہوتی ہے۔”
یہ ایک سنہری موقع تھا کہ وہ نوزائیدہ رائٹر اپنی تحریری صلاحیتوں کو بہتر بناتی، ایک تجربہ کار مصنفہ کی رائے سے فائدہ اٹھاتی لیکن نئی رائٹر کا ردِعمل اس کے برعکس تھا۔
:اس لکھاری نے اپنی اصلاح کرنے کے بجائے الٹا اس خاتون پر برہمی کا اظہار کیا اور جواب دیا
“!میری تحریر کو پسند کرنے والے پاگل نہیں ہیں جو میری تعریفیں کرتے نہیں تھکتے۔ اگر آپ کو پسند نہیں تو مت پڑھیں”
یہ رویہ اس بات کا عکاس ہے کہ نئے لکھاری صرف تعریفیں سننا چاہتے ہیں اور جیسے ہی کوئی ان کے کام پر تنقید کرتا ہے تو وہ فوراً اسے اپنی انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔
یہ جان لینا بہت ضروری ہے کہ ادب ایک مسلسل سیکھنے کا عمل ہے، یہ کوئی جنگ نہیں جہاں جیتنے یا ہارنے کی فکر ہو۔ ایک کامیاب مصنف ہمیشہ اپنی تحریر میں بہتری کی گنجائش رکھتا ہے، وہ تنقید کو بطور تحفہ قبول کرتا ہے اور اسے اپنی ترقی کا زینہ بناتا ہے۔
سینیئرز کو چاہیے کہ وہ نئے لکھاریوں کو مکمل نظر انداز نہ کریں بلکہ جہاں ممکن ہو انہیں رہنمائی فراہم کریں۔ اسی طرح نئے لکھاریوں کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ تنقید ہمیشہ مخالفت نہیں ہوتی بلکہ بہتری کا ایک موقع ہوتی ہے۔
سینیئر مصنفین سے درخواست ہے کہ اگر آپ کے پاس وقت ہے تو نئے لکھاریوں کے لیے کچھ لمحے نکالیں۔ آپ کا ایک مفید تبصرہ، ایک تعمیری مشورہ کسی کے ادبی سفر کو نکھار سکتا ہے۔ اگر آپ صرف نظر انداز کریں گے تو کئی باصلاحیت قلمکار گمنامی میں کھو جائیں گے۔
نئے لکھاریوں سے بھی خصوصی درخواست ہے کہ اپنے اندر برداشت پیدا کریں۔ اگر کوئی آپ کی تحریر پر تنقید کرے تو اسے رد کرنے سے پہلے سوچیں کہ آیا واقعی اس میں کوئی بہتری کی گنجائش ہے؟
ہمیشہ تعریف سننے کی عادت آپ کو کامیاب نہیں کرے گی بلکہ وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو اپنی کمزوریوں کو تسلیم کر کے انہیں بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
اردو ادب کو آگے بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ سینیئر اور نئے لکھاری ایک دوسرے کے تجربے اور تخلیقی صلاحیتوں سے سیکھیں۔ ادب کسی ایک فرد کی ملکیت نہیں بلکہ یہ ایک قیمتی سرمایہ ہے جسے نسل در نسل پروان چڑھانے کی ضرورت ہے۔ اور یہ تبھی ممکن ہوگا جب ہم انا کے بجائے اصلاح کو اپنا شعار بنائیں۔
میری دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں مفید علم حاصل کرنے اور خود کو نکھارنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
