ناول درندہ
قسط نمبر 13
باب دوّم: انتقام
مصنف: زیاد اصغر زارون
°°°°°°°°°°
تاریک رات کے سناٹے میں زافیر تنہا اور پیدل ہی ایک نامعلوم منزل کی جانب چلے جا رہا تھا۔ اس کے جسم پر سیاہ لباس تھا اور چہرہ بھی کالے کپڑے میں لپٹا ہوا تھا۔ گاڑی کا استعمال دشمنوں کو متوجہ کرنے کے مترادف ہوتا، اس لیے اس نے خاموشی سے پیدل نکلنے کو ترجیح دی تھی۔
اب وہ پہاڑی کے پیچھے سے گھومتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔ ہر قدم اسے اپنے بنگلے سے دور لے جا رہا تھا مگر منزل ابھی بہت دور تھی۔ کچھ فاصلے پر پہنچ کر اُس نے جیب سے موبائل نکالا، فلیش آن کی اور روشنی میں آگے بڑھنے لگا۔
،بھوک اس کے جسم و جان پر سوار تھی اور دماغ پر ایک نشہ سا چھایا ہوا تھا… جیسے جسم کے اندر کوئی خالی خلا ہو جسے صرف تازہ انسانی گوشت اور خون سے ہی بھرا جا سکے۔ اس کے ذہن میں صرف ایک خیال بار بار ابھر رہا تھا
کسی انسان کو قابو کرو… اور اُس گوشت کا ذائقہ چکھو جس کی تمنا تمہیں اندر ہی اندر جلا رہی ہے۔ لیکن اس سے بھی پہلے ایک ضروری کام تھا جو نمٹانا ضروری تھا۔
وہ جانتا تھا کہ جانا کہاں ہے لیکن راستہ لمبا، کٹھن اور تھکا دینے والا تھا۔ پیدل وہاں تک پہنچنا مشکل تھا۔
راستہ طے کرتے ہوئے وہ ایک قریبی گاؤں کے کنارے پہنچ گیا۔ گاؤں سے ہٹ کر ایک چھوٹا سا، تنہا اور اندھیرے میں ڈوبا ہوا گھر نظر آیا۔ ایک سادہ سا مکان، جس کے گرد خار دار جھاڑیوں کی باڑ لگی تھی۔ ایک کچا سا صحن، جس کے بیچوں بیچ کنکریٹ بلاک سے بنا ایک کمرا تھا، جس پر پلستر تک نہیں تھا۔ دروازہ نیلا اور لوہے کا تھا۔ قریب ہی ایک چھوٹا سا غسل خانہ تھا، جس کی چھت پر لوہے کی چادر اور لکڑیاں دھری تھیں۔
گھر کے ساتھ ہی باہر، کھلے آسمان تلے، ایک پرانا چولہا بنایا گیا تھا جس کے اردگرد کوئی دیوار تک نہیں تھی۔ چولہے کے قریب ایک بوسیدہ موٹر سائیکل کھڑی تھی جو بمشکل ہی چلنے کی حالت میں لگ رہی تھی۔
زافیر نے محتاط انداز میں راستے کی طرف سے ایک جھاڑی ہٹائی اور صحن میں داخل ہو گیا۔ اس کی نظریں مسلسل اردگرد کا جائزہ لے رہی تھیں۔ وہ آہستہ آہستہ بائیک کے قریب پہنچا، پٹرول چیک کیا اور پھر نیچے بیٹھ کر تاریں جوڑنے لگا تاکہ بغیر چابی بائیک کو چلنے کے قابل بنایا جا سکے۔
!…اسی لمحے، ایک تیز آواز گونجی… ٹھک
نیلا دروازہ دھڑام سے کھلا اور اندھیرے سے ایک انسانی ہیولہ باہر نکلا۔
“!…پیچھے ہٹو… بائیک سے دور ہٹ جاؤ”
گرجدار مگر نسوانی آواز فضا میں گونجی۔
زافیر آہستگی سے سیدھا کھڑا ہوا اور موبائل کی فلیش لائٹ دروازے کی جانب کر دی۔ وہاں ایک نوجوان لڑکی کھڑی تھی، ہاتھ میں بارہ بور بندوق، جو سیدھی اس کی جانب ہی نشانہ لیے ہوئے تھی۔
“!لائٹ نیچے کرو… ورنہ تمہارے چیتھڑے اُڑا دوں گی”
اس کے انداز میں کوئی لرزش نہیں تھی، صرف غضب اور خبردار کرنے والی خود اعتمادی تھی۔
زافیر کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔ اُسے لطف آنے لگا تھا۔ ایک کمزور سی نظر آنے والی لڑکی اسے جان سے مارنے کی دھمکی دے رہی تھی، وہ لڑکی جو لاعلم تھی کہ جس شخص کے سامنے کھڑی ہے، وہ ایک درندہ ہے… ایک آدم خور، جس کے اندر پیاس ہے… خون کی پیاس۔
،زافیر نے فوراً فلیش نیچے کر دی اور نرمی سے بولا
“میں صرف بائیک لینے آیا تھا۔”
،اس کی ڈھٹائی پر لڑکی ٹھٹک گئی، پھر پھنکارتے ہوئے بولی
“کیا تمہارے باپ نے چھوڑی تھی یہاں؟”
زافیر نے زندگی میں بے شمار لڑکیاں دیکھی تھیں مگر وہ محض شکار تھیں… بےبس، ڈری ہوئی یا بھاگتی ہوئی۔ مگر یہ لڑکی… اس کی آنکھوں میں خوف کے بجائے چنگاریاں تھیں۔
“نہیں، مجھے ضرورت تھی… اس لیے لے جانا چاہا۔”
،وہ دو قدم آگے بڑھی، آنکھوں میں سختی، لہجے میں غصہ
“کتنے ڈھیٹ ہو تم…! اب نکلو یہاں سے۔”
“غصہ نہ کرو، میں قیمت دے دوں گا۔”
“!…میرے ساتھ کھیل مت کھیلو…! چلے جاؤ، ورنہ گولی مار دوں گی”
،زافیر نے پھر نرمی سے کہا
“سچ کہہ رہا ہوں، چوری کا ارادہ نہیں تھا۔ قیمت ادا کرنے کو تیار ہوں۔”
لڑکی کا رویہ قدرے نرم ہوا، بندوق اب بھی سیدھی اس کی طرف تھی مگر آواز میں تلخی کچھ کم ہو گئی۔
“اچھا… تو بتاؤ، کتنے میں لوگے؟”
“مجھے قیمت کا اندازہ نہیں… تم ہی بتا دو۔”
،وہ چند لمحے سوچتی رہی پھر بولی
“ستر ہزار میں دوں گی۔”
،زافیر نے بائیک کو ایک نظر دیکھا، پھر اسے… اور حیرت سے پوچھا
“ستر ہزار…؟ کیا یہ چلتی بھی ہے؟”
،لڑکی تپ گئی، بندوق سنبھالتے ہوئے غصے سے آگے بڑھی
“!…میرے ساتھ لفظوں کے کھیل مت کھیلو…! لینی ہے تو لو، ورنہ دفع ہو جاؤ”
“،اچھا… اچھا…” زافیر نے ہاتھ جیب تک بڑھایا، تو لڑکی چیخی
“!خبردار! کوئی ہوشیاری کی تو گولی مار دوں گی”
،زافیر نے خاموشی سے جیب سے نوٹ نکال لیے۔ پانچ پانچ ہزار کے چودہ نوٹ گنے اور آگے بڑھانے لگا تو وہ پھر چیخ پڑی
“!…پیسے بائیک پر رکھو… اور پیچھے ہٹ جاؤ”
زافیر نے نرمی سے نوٹ سیٹ پر رکھے اور ایک قدم پیچھے ہو گیا۔ لڑکی مسلسل اس پر نظریں جمائے، آہستگی سے آگے بڑھی، پیسے اٹھائے اور الٹے قدموں واپس پلٹ گئی۔
“یہیں رکو… چابی لاتی ہوں۔”
وہ کمرے میں داخل ہوئی، دروازہ بند کیا۔ روشنی جل گئی۔ کچھ دیر بعد وہ پھر بندوق تانے باہر آئی، بائیک تک گئی، چابی سیٹ پر رکھی اور دوبارہ واپس پلٹ گئی۔
“!…مل گئی نا بائیک؟ اب دفع ہو جاؤ”
زافیر آہستگی سے بائیک کے پاس گیا، چابی اٹھائی، بیٹھا، انجن اسٹارٹ کیا اور طنزیہ انداز میں پوچھا
“کیا تمہیں نرمی سے بات کرنا نہیں آتا؟”
“نرمی کرو تو لڑکوں کو عشق کا بخار چڑھ جاتا ہے۔”
،زافیر نے اندھیرے میں اس کے چہرے کو دیکھنے کی کوشش کی
“ویسے، کیا تم پڑھی لکھی ہو؟”
،اب جاتے ہو یا گولی کھاؤ گے؟” وہ چِڑ کر بولی”
زافیر نے خاموشی سے بائیک موڑی اور بنا لائٹ آن کیے وہاں سے نکل گیا۔
،لڑکی زیرِ لب مسکراتے ہوئے بڑبڑائی
“!…میں ہی تیز ہوں یا وہ گدھا تھا، جو پندرہ ہزار کی بائیک ستر میں لے گیا۔ خیر… مجھے کیا”
وہ دروازہ بند کرتے ہوئے اندر چلی گئی، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
°°°°°°°°°°
زافیر بار بار بائیک کی ہیڈ لائٹ جلانے کی کوشش کر رہا تھا مگر وہ مردہ مشین کی طرح بےحس تھی۔ اگر لائٹ چلنے کے قابل ہوتی تو کب کی جل چکی ہوتی۔ وہ بیزاری سے آگے بڑھا اور تھوڑی دور جا کر موبائل کی فلیش آن کر لی۔ بائیک کو دھیرے دھیرے کچے راستے پر دوڑائے، اندھیرے راستے پر آگے بڑھنے لگا۔
بمشکل دو کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا ہوگا کہ بائیک جھٹکے سے بند ہو گئی۔ زافیر نے پٹرول چیک کیا… وہ موجود تھا۔ شاید اندرونی خرابی تھی۔ وہ بار بار کِک مارتا رہا مگر انجن نے ہلنے سے انکار کر دیا۔
،غصے سے بھرا، اس نے بائیک ایک طرف پھینک دی اور تیزی سے پیدل چلنے لگا۔ زیرِ لب جھنجھلاتے ہوئے بولا
“قیمت تو یوں مانگ رہی تھی جیسے قارون کا خزانہ بیچ رہی ہو… بہتر تھا اسی کو شکار بنا لیتا۔”
اندھیری سڑک پر اس کے قدم تیزی سے گونج رہے تھے، جیسے ہر قدم میں جھنجھلاہٹ اور بےچینی اتر آئی ہو۔ تقریباً پونے گھنٹے کی مسلسل چال کے بعد وہ ایک چھوٹے قصبے میں داخل ہوا۔ وہاں ایک سنسان گلی میں سفید آلٹو کار کھڑی نظر آئی۔
زافیر نے فوراً گاڑی کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی مگر لاک بند تھا۔ آس پاس نظریں دوڑائیں، ایک اینٹ اٹھا کر فرنٹ ونڈو پر دے ماری۔ شیشہ چٹاخ سے ٹوٹ گیا۔
اس نے کھڑکی سے اندر ہاتھ ڈال کر لاک کھولا اور جھٹ سے ڈرائیونگ سیٹ پر آ بیٹھا۔ اگلے لمحے تاروں کا گچھا نکالا، دانتوں سے دو تاریں کاٹیں، جوڑا، اور انجن دھاڑتے ہوئے جاگ اٹھا۔
قریب کے گھروں کی بتیاں ایک ایک کر کے جلنے لگیں، لوگ شاید آواز سے چونک گئے تھے لیکن زافیر اُن کے دروازے کھلنے سے پہلے ہی گاڑی لے کر ان کی دسترس سے دور جا چکا تھا۔
°°°°°°°°°°
شہر سے کچھ فاصلے پر ایک بڑی کوٹھی واقع تھی۔ اونچی چاردیواری کے اندر، ایک جانب سر سبز لان پھیلا تھا، جس کے گرد باڑ کے سلیقے سے تراشے گئے پودے قطار میں لگے تھے جبکہ باقی اطراف ٹف ٹائل سے ڈھکی زمین تھی۔
زافیر نے کوٹھی سے کچھ فاصلے پر گاڑی روکی اور خاموشی سے پیدل چلتا ہوا دیوار کے قریب جا پہنچا۔ ایک لمحے میں دیوار پھلانگی اور اندر داخل ہوتے ہی قریب موجود درخت کی اوٹ میں چھپ گیا۔ نظر دوڑائی تو کوٹھی میں آٹھ سیکیورٹی گارڈ موجود تھے۔ چار گیٹ کے قریب بیٹھے تاش کھیل رہے تھے اور باقی چار برآمدے میں لُڈو کھیل رہے تھے۔
زافیر نے اپنی پینٹ میں اُڑسا ہوا پستول نکالا، خاموشی سے گولی چیمبر میں ڈالی اور آہستگی سے گیٹ کے پاس بیٹھے گارڈز کی طرف بڑھا۔ ابھی وہ ان کے قریب ہی پہنچا تھا کہ ایک گارڈ کی نظر اس پر پڑ گئی۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھا، بندوق سنبھالنے ہی والا تھا کہ زافیر نے فائر کھول دیا۔ گولیاں گونجیں اور لمحوں میں وہ چاروں زمین پر گر چکے تھے۔
برآمدے میں موجود گارڈز کچھ سمجھ پاتے اس سے پہلے، زافیر ان پر بھی گولیاں برسا چکا تھا۔ وہ خوفزدہ ہو کر اندر کی جانب بھاگے۔ زافیر کا پستول خالی ہو رہا تھا، اس نے لپک کر ایک مردہ گارڈ سے بندوق اٹھائی، چیمبر میں گولی ڈالی اور پھر سے فائر کھول دیا۔ دو مزید زخمی ہو کر وہیں گر گئے مگر باقی دو اندر جانے میں کامیاب رہے۔
زافیر نے ایک اور بندوق اٹھائی اور احتیاط سے آگے بڑھا۔ زخمی گارڈز کے قریب پہنچ کر ان کے چہروں پر گولیاں مار کر ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا۔
اچانک ایک دروازہ کھلا اور وہی دو گارڈ بندوقیں سنبھالے فائر کرتے باہر نکلے۔ زافیر تیزی سے ستون کی آڑ میں آ گیا مگر ایک گولی اس کے بازو کو چیرتی ہوئی گزر گئی۔ وہ دانت بھینچ کر بازو تھامے ستون کے پیچھے دبکا رہا۔
،فائرنگ کی آوازیں کوٹھی کے ہر کونے میں پھیل گئیں۔ کچھ لوگ چھت پر پہنچ گئے اور کچھ بندوقیں لیے برآمدے میں نمودار ہوئے۔ باہر نکلنے والے ایک آدمی نے غصے سے چیخ کر پوچھا
“کیا ہو رہا ہے یہاں؟”
“…اندر کوئی گھس آیا ہے… اُس نے ہمارے”
وہ بمشکل اتنا ہی کہہ پایا تھا کہ زافیر ستون سے نکلا اور گولیاں برسا دیں۔ سامنے والے دونوں گارڈ وہیں ڈھیر ہو گئے۔
ایک اور گارڈ جو شاید خود کو چالاک سمجھ رہا تھا، کوٹھی کی پچھلی طرف سے آ کر سامنے نمودار ہوا مگر زافیر کی نظر اُس پر پڑ چکی تھی۔ اس کے پاس کوئی موقع نہیں تھا… وہ لمحوں میں گولیوں سے چھلنی ہو کر گر چکا تھا۔
برآمدے میں موجود محافظ گھبرا گئے اور پیچھے ہٹتے ہوئے کوٹھی کے اندر گھس گئے۔ دروازہ بند کر کے شاید نئی حکمت عملی بنانے کی سوچ تھی مگر زافیر نے فوراً دروازے پر فائرنگ کر دی۔ چند لمحوں میں دروازے کے دوسری جانب موجود سبھی افراد زخمی ہو کر گر چکے تھے۔
یہاں ایک شخص ایسا بھی تھا جسے زافیر مارنا نہیں چاہتا تھا۔ اس نے چہرے سے کالا کپڑا ہٹا دیا تاکہ وہ آدمی اسے پہچان لے اور کوئی حماقت نہ کرے۔
زافیر دروازے کی طرف بڑھا، ایک زور دار لات سے دروازہ کھولا اور فوراً دیوار کی اوٹ میں ہو گیا۔ اندر سے کوئی فائر نہیں ہوا۔ اس نے محتاط انداز میں جھانکا۔ سامنے زخمیوں کے علاوہ کوئی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ وہ جھپٹ کر اندر داخل ہوا، زخمیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
اسی لمحے، سیڑھیوں سے بھاری قدموں کی آواز آئی۔ زافیر فوراً دیوار کے پیچھے دبک گیا۔ تین افراد نیچے اتر رہے تھے۔ جیسے ہی وہ سامنے آئے، زافیر جھٹ سے نمودار ہوا اور نہایت مہارت سے دو کو گرا دیا۔ تیسرا… حبیب… چونک کر رک گیا، اس کے ہاتھ میں پستول تھا۔ اس نے فائر کیا اور گولی زافیر کے زخمی کندھے میں جا لگی۔
،زافیر غصے سے دھاڑا
“کس کے ساتھ ہو تم…؟”
حبیب کے چہرے پر ہوائیاں اُڑنے لگیں۔ ہکلاتے ہوئے بولا،
“آ… آ… آپ…!”
تبھی اس کی نظر زافیر کے پیچھے موجود ایک دشمن پر پڑی، جو اسے نشانہ بنا چکا تھا۔ حبیب نے ایک پل کی تاخیر کے بغیر گولی چلا دی، جو سیدھی دشمن کے ماتھے میں لگی۔
“آپ کے ساتھ ہوں۔” اُس نے ندامت سے جملہ مکمل کیا۔
“باقی کہاں ہیں؟” زافیر نے بندوق سنبھالتے ہوئے پوچھا، چوکس آنکھیں ہر حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھیں۔
“چار آدمی راجہ رکھا کے کمرے کے باہر ہیں اور نو بندے چھت پر۔ سب ڈرے ہوئے ہیں۔”
،زافیر نے حکم دیا
“تم راجہ رکھا کے محافظوں کو سنبھالو، میں چھت پر جا رہا ہوں۔”
،حبیب نے فوراً روکا
“!…رکیے”
،وہ ایک کمرے کی طرف لپکا اور دو سموک گرینیڈ لا کر زافیر کو دیے
“یہ آپ کے کام آئیں گے۔”
،زافیر نے گرینیڈ لیے اور تاکید کی
“…راجہ رکھا کو مارنا مت”
پھر وہ سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ سیڑھیوں کے آخر میں چھت کی طرف دروازہ کھلا ہوا تھا۔ اندازہ ہو رہا تھا کہ راجہ رکھا کے لوگ پہلے ہی اس کی آمد کے منتظر تھے۔
زافیر نے فوراً دونوں سموک گرینیڈ دروازے سے باہر پھینکے۔ دھواں پھیلتے ہی چھت پر موجود محافظوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ زافیر وہیں دبک گیا، منتظر رہا کہ فائرنگ تھمے۔
…جیسے ہی گولیاں رکیں، اس نے جھٹ سے دروازے سے باہر چند فائر کیے اور دوبارہ جھک گیا۔ چھت پر موجود افراد نے ایک بار پھر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی
°°°°°°°°°°
زافیر کے جانے کے کچھ ہی لمحے بعد، حبیب تیز قدموں سے اوپری منزل کی سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا لیکن چہرے پر اضطراب کے بجائے ایک گہری سنجیدگی طاری تھی۔ وہ سیدھا راجہ رکھا کے کمرے کے سامنے جا پہنچا۔ دروازہ اندر سے بند تھا اور چاروں محافظ اندر مستعد کھڑے تھے جیسے کسی ممکنہ حملے کے لیے پوری طرح تیار ہوں۔
،دروازے کے قریب پہنچ کر حبیب نے دروازے پر ہاتھ مارا اور تیزی سے بولا
“!…باس، دروازہ کھولیے… فوراً نکلنا ہوگا، وقت بہت کم ہے”
،اندر سے راجہ رکھا کی گرجدار آواز سنائی دی
“باہر کیا صورت حال ہے؟”
“!…چار حملہ آور تھے، ہمارے لڑکے انہیں چھت کی جانب لے گئے ہیں۔ اب زیادہ دیر محفوظ نہیں رہا جا سکتا، جلدی کیجیے”
حبیب کی آواز میں ایسی عجلت تھی جس نے لمحے بھر کو اندر والوں کو چونکا دیا۔
چند ثانیے بعد دروازہ کھلا اور حبیب سرعت سے اندر داخل ہوا۔ اس کی نگاہ فوراً کمرے میں موجود چار محافظوں پر پڑی۔ اس نے ایک پل بھی ضائع کیے بغیر پستول سنبھالی اور یکے بعد دیگرے چاروں کو گولیوں سے ڈھیر کر دیا۔
سب کچھ اتنی تیزی سے ہوا کہ راجہ رکھا، جو اس وقت گھبراہٹ میں جوتے پہن رہا تھا، ساکت رہ گیا۔ اس کے ماتھے پر پسینے کے قطرے نمودار ہو چکے تھے اور ہاتھ لرزنے لگے تھے۔
“پیسوں کے لالچ میں، بار بار ہمیں موت کے منہ میں دھکیلتے رہے… اور اب… جب اپنی باری آئی… تو کانپ رہے ہو؟”
حبیب نے دانت پیستے ہوئے کہا، اس کی آواز میں دہکتے ہوئے غصے اور دیرینہ نفرت کی جھلک صاف محسوس ہو رہی تھی۔
راجہ رکھا نے موقع کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور جھٹ سے تکیے کے نیچے ہاتھ بڑھایا… شاید وہاں چھپا پستول نکالنے کے لیے، مگر اس کی انگلی ابھی تکیے تک پہنچی بھی نہیں تھی کہ حبیب کی گولی اس کے ہاتھ میں پیوست ہو گئی۔ راجہ رکھا کی ایک تیز چیخ بلند ہوئی اور وہ درد سے ہاتھ جھاڑتے ہوئے پیچھے ہٹ گیا۔
“!…ہلکی سی حرکت بھی کی تو جان سے جاؤ گے”
حبیب دھاڑا، اس کی آنکھوں میں دبی نفرت اب لاوے کی طرح ابل رہی تھی۔
راجہ رکھا کی نظریں بےیقینی، خوف اور بے بسی کا مجموعہ بن چکی تھیں۔ وہ جان چکا تھا، اب انجام قریب ہے اور حبیب، وہ تو جیسے برسوں سے اس لمحے کا انتظار کر رہا تھا۔
°°°°°°°°°°
چھت پر ہر سو دھواں پھیل چکا تھا اور زافیر وقفے وقفے سے نشانہ باندھ کر گولیاں چلا رہا تھا۔ سامنے سے بھی جوابی فائرنگ ہو رہی تھی مگر وہ اندھیرے اور دھوئیں میں بے سمت تھی۔ اچانک، زافیر کے کانوں میں ایک مدھم “ٹھک” کی آواز گونجی… کسی دشمن کی بندوق خاموش ہو گئی تھی۔ زافیر سمجھ گیا، ان میں سے ایک کی میگزین خالی ہو چکی ہے اور غالباً باقیوں کی بھی گولیاں ختم ہونے کے قریب ہوں گی۔ اب وہ اندھا دھند گولیاں نہیں برسائیں گے۔
زافیر نے فوری ردِعمل دکھایا۔ ایک تازہ بندوق اٹھائی، چہرے پر عزم سجا اور دروازے سے باہر نکل آیا۔ دھوئیں کی دبیز تہہ میں کھڑے ہو کر اس نے بیک وقت تینوں سمتوں میں اندھا دھند گولیاں برسا دیں۔ چند لمحوں بعد چھت پر چیخوں اور کراہوں کی آوازیں گونجنے لگیں۔ مخالفین کے سنبھلنے سے پہلے ہی زافیر بجلی کی سی تیزی سے واپس پلٹ آیا اور فائرنگ روک دی۔
اس اچانک حملے سے دشمن بری طرح بوکھلا گئے تھے۔ اگلے ہی پل دروازے کی سمت اندھا دھند فائرنگ کا شور گونج اٹھا۔ وہ آنکھ بند کیے، خوف کے مارے، گولیاں برسا رہے تھے مگر زافیر جانتا تھا۔ یہ ان کی بے بسی کی آخری کوشش ہے۔ کچھ ہی دیر میں ان کی میگزینز خالی ہونے لگیں اور ایک ایک کر کے آوازیں خاموش ہوتی گئیں۔
جیسے ہی باہر خاموشی چھائی، زافیر اٹھا۔ دھوئیں سے گزرتا ہوا آگے بڑھا۔ سامنے کے منظر پر ایک نگاہ ڈالی۔ پانچ افراد مختلف سمتوں میں کھڑے، کچھ بوکھلائے، کچھ اپنے ہتھیاروں میں نئی میگزین لگا رہے تھے۔ ایک شخص نے جیسے ہی زافیر کو دیکھا، دہشت زدہ انداز میں بندوق تانی، مگر اس سے پہلے ہی زافیر کی گولی نے اسے چیر ڈالا۔ پھر وہ رکے بغیر باقی چاروں پر پل پڑا، وہ موقع پر ہی گر گئے، باقی تین پہلے سے زخمی تھے، جنہیں زافیر نے ایک ایک کر کے خاموش کر دیا۔
فضا میں اب بارود کی مہک، خون کی بُو اور موت کی خاموشی تھی۔ زافیر ایک لمحے کو رُکا، گہری سانس لی پھر بندوق سنبھالتے ہوئے سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔
°°°°°°°°°°
جیسے ہی زافیر کمرے میں داخل ہوا، ایک لمحے کو منظر جم سا گیا۔ اللہ رکھا، جو اپنے زخمی ہاتھ کو دوسرے ہاتھ سے تھامے بیٹھا تھا، زافیر کو سامنے دیکھ کر ششدر رہ گیا۔ حیرت، خوف اور غصہ، سب اس کے چہرے پر ایک ساتھ نمودار ہوئے۔ وہ جیسے بولنے کی سکت کھو بیٹھا ہو۔ کچھ لمحے بعد ہونٹ ہلے، آواز میں لرزش تھی،
“میں نے تمہارا آخر کیا بگاڑا تھا…؟”
زافیر کی نگاہ ٹھنڈی اور لہجہ سخت تھا۔ اس نے جواب دیے بغیر بندوق اللہ رکھا کی طرف تانی اور حبیب سے کہا،
“اس کے ہاتھ باندھو۔ یہ میرے ساتھ جائے گا۔”
حبیب خاموشی سے پستول نیفے میں اڑس کر کمرے سے نکل گیا۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ ہاتھ میں ایک رسی لیے واپس آیا اور بلا تردد اللہ رکھا کے ہاتھ باندھنے لگا۔ زافیر کی نظریں مسلسل اللہ رکھا کے چہرے پر جمی تھیں، اس کی نگاہوں میں تلخی اور زہر گھلا ہوا تھا۔
تم جتنا چالاک بننے کی کوشش کرتے ہو، اتنے ہو نہیں۔” زافیر نے سپاٹ لہجے میں کہا۔ “
اللہ رکھا نے زخم کی جلن کو نظرانداز کرتے ہوئے تیزی سے سر اٹھایا، آنکھوں میں چنگاریاں تھیں۔
میں نے کیا کیا ہے تمہارے ساتھ؟” وہ غرایا۔”
،زافیر نے ایک لمحے کو خاموشی اختیار کی، پھر ٹھہرے ہوئے انداز میں بولا
“میرے گھر پر حملہ کرنے والے گروہ کے لیڈر کے موبائل میں تمہارا نمبر سیو تھا۔ اور حملے سے فوراً پہلے اُسے جو کال آئی… وہ تمہارے خاص آدمی کے نمبر سے تھی۔”
یہ سن کر اللہ رکھا کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ مگر اس نے فوراً ہی پلٹ کر سخت لہجے میں سوال کیا،
“تو تمہارا مطلب ہے کہ حملے کا حکم میں نے دیا؟”
“…زافیر نے اثبات میں سر ہلایا۔ “بالکل
اللہ رکھا ہنسا، مگر اس ہنسی میں بےبسی اور درد چھپا تھا۔
“ہم تاریک راستوں کے لوگ ہیں زافیر… ہمارا نمبر ہر چھوٹے بڑے کے فون میں ہوتا ہے۔ اور تمہیں کس نے کہہ دیا کہ وہ آدمی میرا خاص تھا؟”
اب حبیب بول پڑا۔ اس کی آواز میں نرمی تھی لیکن الفاظ میں وزن تھا۔
“کال کامران کے نمبر سے گئی تھی… تمہارے چچا زاد بھائی کے فون سے۔”
،یہ سنتے ہی اللہ رکھا کا چہرہ سفید پڑ گیا۔ آنکھوں میں خوف تیرنے لگا۔ وہ زافیر کی طرف لپکا اور تیزی سے بولا
“…نہیں… سنو… تم غصہ نہ کرو… میں سب کچھ سمجھا سکتا ہوں، قسم سے”
،زافیر نے اس کے جملے کاٹ دیے۔ لہجہ نرم تھا، مگر آنکھوں میں سرد مہری
“تم سمجھانے کی کوشش مت کرو… سچ میں خود اُگلوا لوں گا۔”
پھر اس نے ایک مختصر اشارہ کیا۔ حبیب نے اللہ رکھا کو دھکیل کر دروازے کی طرف بڑھا دیا۔
زافیر چند لمحے وہیں کھڑا رہا، پھر آگے بڑھا اور کمرے کے کونے میں لگے ڈی وی آر کو اتارا۔ کیمروں کی تمام ریکارڈنگ اب اس کے قبضے میں تھی۔ اس نے وہ ڈیوائس سنبھالی اور حبیب کے پیچھے پیچھے کمرے سے باہر نکل گیا۔
کچھ دیر پہلے تک یہ کوٹھی طاقت، سکون اور اختیار کی علامت تھی۔ پھر فضا میں بارود کی بو پھیل گئی، چیخوں نے شور مچایا اور اب… صرف موت کی خاموشی باقی تھی۔
°°°°°°°°°°
اللہ رکھا کی کوٹھی سے کچھ ہی فاصلے پر وہ گاڑی کھڑی تھی جسے زافیر نے رات کی تاریکی میں چوری کیا تھا۔ زافیر اور حبیب، اللہ رکھا کو دھکیلتے ہوئے خاموشی سے وہاں تک لائے۔ گاڑی کے پاس پہنچ کر انہوں نے اُسے پچھلی سیٹ پر بٹھایا۔ حبیب نے پیچھے بیٹھ کر اس پر پستول تان لی۔
گاڑی بغیر کسی آواز کے روانہ ہوئی اور اب اس کا رخ واپس زافیر کے بنگلے کی جانب تھا۔ گاڑی کے اندر گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ نہ کوئی سوال، نہ کوئی شکوہ۔ صرف گھومتے ٹائروں کی مدھم آواز اور آنے والی گتھیوں کی خاموش گواہی۔
جب بنگلے تک صرف دو کلومیٹر کا فاصلہ باقی رہ گیا تو زافیر نے گاڑی ایک سنسان مقام پر روکی۔ پھر خود باہر نکلا اور حبیب کو بھی اشارہ کیا کہ اللہ رکھا کو باہر لے آئے۔
“اس کے دونوں پیر باندھ دو، مضبوطی سے۔”
زافیر نے سنجیدگی سے کہا اور حبیب کو اضافی رسی تھما دی۔
اللہ رکھا نے کسی قسم کی مزاحمت نہیں کی۔ وہ جان چکا تھا کہ یہاں کوئی بھی غیرضروری حرکت اس کی موت کو دعوت دے سکتی ہے۔ اب صرف وقت جیتنے کی کوشش کی جا سکتی تھی۔ دل میں کہیں ایک اُمید تھی کہ وہ شاید زافیر یا آزلان کو قائل کر لے۔ وہ اپنے لفظوں اور چالاکی پر بھروسا رکھتا تھا۔ اگر اسے ذرا سا بھی اندازہ ہوتا کہ آئندہ چند گھنٹوں میں اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے تو وہ اسی لمحے حبیب کے ہاتھ سے پستول چھین کر خود پر گولی چلا دیتا۔
جب اس کے پیر مضبوطی سے باندھ دیے گئے تو حبیب سیدھا ہو کر زافیر کی طرف متوجہ ہوا۔
“اب کیا حکم ہے؟”
زافیر نے نگاہیں سڑک پر جمائے ہوئے کہا،
“گاڑی لے جاؤ… کسی سنسان کھائی یا نہر میں پھینک دو۔ کوئی بھی ثبوت مت چھوڑنا۔ اور اس کے بعد تم جانتے ہو کہ تمہیں کیا کرنا ہے۔”
حبیب نے پراعتماد لہجے میں جواب دیا،
“بے فکر رہیں، میں سمجھ گیا۔”
یہ کہتے ہی وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا اور گاڑی کی سمت بدل گئی۔
زافیر نے اللہ رکھا کے منہ پر ایک کپڑا لپیٹا، پھر اُسے اپنے مضبوط کندھے پر ڈال لیا۔ وہ اب خاموشی سے واپس اپنے بنگلے کی جانب گامزن تھا۔
اس کے قدموں میں نہ کوئی تھکن تھی، نہ کوئی ہچکچاہٹ۔ کندھے پر پڑا بوجھ اس کے ارادوں کے سامنے ہلکا محسوس ہو رہا تھا۔ ہوا سنّاٹے میں سرگوشیاں کر رہی تھی جیسے یہ سفر اب کسی بھیانک انجام کی طرف بڑھ رہا ہو۔
°°°°°°°°°°
…جاری ہے
