ناول درند

قسط نمبر 16

باب دوّم: انتقام

مصنف: زیاد اصغر زارون

°°°°°°°°°°

سہ پہر کے سائے طویل ہو چکے تھے۔ اسلام آباد کے نواحی علاقے میں واقع انٹیلیجنس ہیڈکوارٹر کی عمارت اپنے اندر ایک سرد اور سنجیدہ سکوت سمیٹے ہوئے تھی۔ تیسرے فلور پر واقع ڈائریکٹر جنرل اکرم درانی کا دفتر ہمیشہ کی طرح منظم اور صاف ستھرا تھا۔ کمرے کی خاموشی میں صرف درازوں کی ہلکی کھٹکھٹ اور فائلوں کے صفحات پلٹنے کی آواز گونج رہی تھی۔ جنرل درانی اپنی پشت کی طرف بنی ایک شیشے کی الماری میں کسی مخصوص فائل کو تلاش کر رہے تھے۔
اسی دوران آفس کے دروازے پر ایک ہلکی سی دستک ہوئی۔ جنرل نے پلٹ کر دیکھا، ایک مستعد ایجنٹ دروازے پر موجود تھا، ہاتھ میں سرمئی رنگ کی فائل تھامے۔

“May I come in, sir?”
ایجنٹ نے مؤدب انداز میں اجازت طلب کی۔

،جنرل اکرم نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا
“Yes, come in.”

ایجنٹ نے اندر آتے ہی رسمی انداز میں سیلیوٹ کیا۔ جنرل نے مطلوبہ فائل نکال کر میز پر رکھی، اپنی کرسی پر بیٹھا، دونوں ہاتھ میز پر رکھتے ہوئے نظریں ایجنٹ پر گاڑ دیں اور ہاتھ کے اشارے سے بیٹھنے کو کہا۔

آپ کے چہرے کے تاثرات صاف بتا رہے ہیں کہ آپ کسی اہم خبر کے ساتھ آئے ہیں۔” انہوں نے سنجیدہ مگر نرمی سے کہا۔”
“”Yes, sir,”
،ایجنٹ نے فائل میز پر رکھتے ہوئے کہا

ہماری نگرانی میں ایک مشکوک فرد آیا ہے”

” نام ہے زافیر۔ بظاہر ایک عام شہری نظر آتا ہے مگر اس کے گرد حالات کچھ اور ہی کہانی سنا رہے ہیں۔

،جنرل اکرم نے بھنویں چڑھائیں
“کیا یہ کسی دہشت گرد گروہ سے منسلک ہے یا کسی غیر ملکی ایجنسی کا ایجنٹ ہے؟ مکمل بریفنگ چاہیے مجھے۔”

،ایجنٹ نے فائل کھولی اور منظم انداز میں رپورٹ پیش کرنا شروع کی
سر، ابتدائی معلومات ہمیں کمانڈر زید کے ذریعے ملیں۔”

“زافیر، سابقہ کمانڈوز، ریٹائرڈ ملٹری اور انٹیلیجنس کے ریٹائرڈ افراد کو خفیہ طور پر بھرتی کر رہا ہے۔

زید صاحب نے اعتماد بنانے کے لیے اس کے حوالے دس کمانڈوز کیے مگر ہمیں جیسے ہی اطلاع ملی، ہم نے زافیر کے پس منظر کی چھان بین شروع کر دی۔”

ایجنٹ نے پہلا صفحہ آگے بڑھایا۔
“سر، یہ شخص ممکنہ طور پر ایک گمشدہ رئیس زادے کا بیٹا ہے جو کئی سالوں بعد اچانک منظرِ عام پر آیا ہے۔”

جنرل نے ورق لیا اور غور سے جائزہ لینے لگا۔

“اس نے ایک نوجوان کو خودکشی سے بچایا، اس کی والدہ کا علاج کروایا اور وہی نوجوان… آزلان… اب اس کے ساتھ کام کر رہا ہے۔”
ایجنٹ نے دوسرا ورق بھی پیش کیا۔

افواہوں کے مطابق زافیر کا بنگلہ مکمل ڈیجیٹل فورٹ ہے۔ ایک بار چند افراد نے اس کے گھر پر حملہ کیا مگر تمام حملہ آور غائب ہو گئے۔”

مزید برآں، ایک بدمعاش اللہ رکھا کے ڈیرے پر حملہ ہوا، پورا گروہ ختم ہو گیا۔

” کوئی گواہ، کوئی ثبوت موجود نہیں مگر علاقائی اطلاعات یہی کہتی ہیں کہ یہ کارروائیاں زافیر کی ہی ہیں۔

،جنرل نے تیسرے ورق پر بھی نظر ڈالی اور بولا
“زافیر یہ سب کیوں کر رہا ہے؟ اس کا مقصد کیا ہے؟”

،ایجنٹ نے سر جھکا کر ایک اور کاغذ بڑھایا
سر، اطلاعات ہیں کہ زافیر اور آزلان کو ختم کرنے کے لیے پنجگور سے ساٹھ کروڑ کی سپاری جاری ہوئی تھی۔”

” شواہد کے مطابق، اللہ رکھا کا تعلق اسی نیٹ ورک سے تھا۔ غالباً، زافیر کو اس پر شک ہوا اور اس نے ردعمل میں کارروائی کی۔

“یعنی ہمیں اس شخص سے محتاط بھی رہنا ہے اور فائدہ بھی اٹھانا ہے۔” جنرل اکرم نے گہری سوچ میں کہا، “کیا معلوم اس کے اصل ارادے کیا ہیں؟”

،سر، میرے تجزیے کے مطابق، زافیر کوئی مجرم نہیں بلکہ ایک نجی جنگ لڑ رہا ہے۔ جس دشمن سے اس کی ٹکر ہے”

وہ پنجگور نیٹ ورک کا ماسٹر مائنڈ ہے۔ سپاری اب ساٹھ کروڑ سے ڈیڑھ سو کروڑ تک جا پہنچی ہے۔

“اگر ہم زافیر کو مہارت، وسائل اور کچھ انڈر کور سپورٹ دیں تو شاید ہم اس نیٹ ورک کا صفایا کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔

جنرل اکرم اپنی ریوالونگ چیئر پر جھولتے ہوئے خاموشی سے سوچتے رہے۔ انگلیوں میں پکڑی پنسل کو بے دھیانی میں گھما رہے تھے۔

،کچھ لمحوں بعد وہ بولے
ٹھیک ہے، لیکن یاد رکھو… اگر یہ منصوبہ بے قابو ہوا تو ادارے کی ساکھ محفوظ رہنی چاہیے۔”

” ہم بیک چینل مدد دے سکتے ہیں مگر رسمی طور پر اس کا کوئی تعلق ہم سے جوڑا نہ جائے۔ جو وسائل درکار ہوں، فراہم کرو… لیکن احتیاط سے۔

،ایجنٹ نے اثبات میں سر ہلایا
“جی سر، میں تمام کارروائی کی رپورٹ آپ تک مسلسل پہنچاتا رہوں گا۔”
یہ کہہ کر ایجنٹ نے رسمی سیلیوٹ کیا اور دفتر سے رخصت ہو گیا۔
جنرل اکرم تھوڑی دیر کرسی پر خاموش بیٹھے رہے پھر میز پر رکھی فائل کو کھول کر اس پر نگاہیں جما دیں۔

°°°°°°°°°°

نئی صبح، نئی مصروفیات لے کر آئی تھی۔ زافیر اور آزلان ایک اہم کام کے لیے روانگی کی تیاری میں تھے۔ آزلان پہلے ہی بلٹ پروف فارچونر میں موجود تھا جبکہ زافیر آہستہ قدموں سے اس کی جانب بڑھ رہا تھا۔ ڈرائیور اپنی نشست سنبھالے ہوئے تھا، ایک گارڈ گاڑی کے قریب مستعد کھڑا تھا اور باقی آٹھ محافظ دو دیگر گاڑیوں کے ساتھ موجود تھے۔

گارڈ نے زافیر کے لیے بیک ڈور کھولا۔ زافیر ابھی بیٹھنے ہی والا تھا کہ اس کے موبائل کی مخصوص رنگ ٹون بجی۔
،اسکرین پر اجنبی نمبر جگمگا رہا تھا۔ زافیر نے بیزاری سے کال وصول کی اور سرد لہجے میں پوچھا
“جی کون؟”

دوسری جانب سے ایک مانوس، نسوانی آواز ابھری،
“میں حورا ہوں… آپ کے دروازے کے باہر کھڑی ہوں۔”

یہ جملہ سنتے ہی زافیر کے دل کی دھڑکن لمحہ بھر کو تیز ہو گئی۔ جذبات کی ایک مدھم لہر اس کے اندر دوڑ گئی۔
“ایک منٹ…”
اس نے مختصر جواب دیا اور موبائل ایپ سے مین گیٹ کا لاک کھول دیا۔

پھر وہ تیزی سے قدم بڑھاتے ہوئے برآمدے کی طرف بڑھا اور آواز دی،
“!…آبرو! باہر آؤ”

آبرو، قالین پر بیٹھی مومنہ خاتون کے ساتھ ایک رجسٹر پر کچھ لکھنے میں مشغول تھی۔ اپنے بابا کی آواز سن کر فوراً اٹھ کھڑی ہوئی اور بھاگتی ہوئی باہر نکل آئی۔
“!…جی بابا”
وہ چمکتی آنکھوں اور معصومیت بھرے لہجے میں بولی۔

زافیر نے اسے اپنے بازوؤں میں بھر لیا۔ اتنے میں حورا بھی اپنی بائیک پر پارکنگ ایریا میں داخل ہو چکی تھی۔ ایک درخت تلے بائیک کھڑی کر کے وہ زافیر کی طرف بڑھنے لگی۔ وہ بنگلے، محافظوں اور قیمتی گاڑیوں کو متجسس نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔

،زافیر نے آبرو کے کان کے قریب جھکتے ہوئے سرگوشی کی
“کیسی ہے یہ لڑکی؟”

آبرو نے ناک چڑھاتے ہوئے کہا،
“پیاری نہیں ہے۔”

،زافیر نے مصنوعی ناراضی سے سرگوشی کی
“!…ایسا نہیں کہتے، گندی بچی”
تب تک حورا ان کے قریب پہنچ چکی تھی۔

“!…آپ تو خاصے امیر نکلے”
حورا نے ہلکے سے مسکراتے ہوئے حیرت کا اظہار کیا۔

،زافیر نے جواب دینے کے بجائے نرمی سے آبرو کے گال پر بوسہ دیا اور تعارف کرواتے ہوئے بولا
“یہ ہے میری بیٹی، آبرو… بابا کی جان۔ اب یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔”

،آبرو نے چِڑ کر منہ بنایا
“!…گال پر نہیں… آپ کی مونچھیں چبھتی ہیں”
یہ سنتے ہی زافیر ہنس دیا، حورا کے لبوں پر بھی مسکراہٹ آگئی اور اردگرد موجود محافظوں کے چہروں پر بھی نرم مسکان ابھری۔

“اچھا، جیسا میری شہزادی چاہے۔”
زافیر نے اس کے نازک ہاتھ پر نرمی سے بوسہ دیا اور اسے زمین پر اتار دیا۔

،حورا اب خود کو کچھ سنبھال چکی تھی، چہرے پر سنجیدگی لاتے ہوئے بولی
“ان شاء اللہ آپ کو مجھ سے کوئی شکایت نہیں ہوگی۔”

زافیر نے اثبات میں سر ہلایا۔

،اتنے میں آبرو نے اس کا ہاتھ کھینچا اور کہا
“!…پاپا! پیزا لے کر آنا ورنہ مار پڑے گی”
یہ کہتے ہوئے وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر گھورنے لگی۔

،زافیر نے قہقہہ دباتے ہوئے اسے گلے لگایا اور بولا
“لے آؤں گا۔ وعدہ رہا۔”

،پھر وہ سیدھا ہو کر حورا کی جانب متوجہ ہوا اور رسمی انداز میں کہا
“اگر کوئی سوال ہو تو بے جھجک پوچھ سکتی ہیں۔”

“سوال تو نہیں، بس شکریہ کہنا تھا کہ آپ نے مجھے نوکری کا موقع دیا۔”
حورا کی آواز میں اب قدرے ربط اور احترام شامل تھا، جیسے زافیر کی شخصیت کا رعب آہستہ آہستہ اثر دکھا رہا ہو۔

“اسے اپنا ہی گھر سمجھو۔”
زافیر نے مختصر اور نرم لہجے میں جواب دیا اور گاڑی کی جانب بڑھ گیا۔
گاڑی میں بیٹھ کر وہ مڑ کر آبرو کی طرف دیکھنے لگا، جو ہاتھ ہلا کر اسے الوداع کہہ رہی تھی۔
زافیر نے محبت بھری مسکراہٹ کے ساتھ ہاتھ ہلایا، گاڑی آہستہ آہستہ آگے بڑھ گئی اور جیسے ہی بنگلے کی حدود سے باہر نکلی، گیٹ خودکار انداز میں بند ہوگیا۔

°°°°°°°°°°

زافیر اور آزلان ایک طویل اور تھکا دینے والا سفر طے کرنے کے بعد، ایک نہایت اہم ملاقات کے لیے جہلم شہر میں، سابق کمانڈر زید کی رہائش گاہ پر پہنچے تھے۔ اب وہ دونوں اس کی رہائش سے متصل ایک علیحدہ، پرسکون بیٹھک میں موجود تھے۔
بیٹھک کے اندرونی ماحول میں وقار اور سادگی کا حسین امتزاج تھا۔ دیوار پر آویزاں تصاویر میں کمانڈر زید مختلف عسکری تقریبات میں نمایاں مقام پر کھڑا نظر آ رہا تھا، جہاں وہ اعلیٰ افسران سے تمغے اور اعزازات وصول کر رہا تھا۔ ان تصاویر سے اُس کے ماضی کی سنجیدگی اور نڈر خدمت جھلکتی تھی۔

ایک پندرہ سالہ لڑکا، ہاتھ میں ٹرے لیے خاموشی سے کمرے میں داخل ہوا۔ ٹرے میں تین کپ چائے اور دو پلیٹوں میں سادہ مگر لذیذ ناشتہ موجود تھا۔ وہ خاموشی سے سب کچھ ٹیبل پر رکھ کر، مؤدب انداز میں پلٹا اور باہر چلا گیا۔

چند لمحوں بعد دروازہ دوبارہ کھلا اور کمانڈر زید خود کمرے میں داخل ہوا۔ اُس نے سادہ ٹراؤزر پہن رکھا تھا اور بال ابھی بھیگی ہوئی حالت میں تھے، گویا وہ ابھی نہا کر آیا ہو۔
زافیر اور آزلان دونوں احتراماً اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے۔
:زید نے مسکراتے ہوئے معذرت خواہانہ لہجے میں کہا
“معاف کیجیے گا… میں غسل کرنے چلا گیا تھا، اس لیے تاخیر ہوگئی۔”

،آزلان نے نرمی سے مسکراتے ہوئے جواب دیا
“کوئی مسئلہ نہیں، ہمیں پریشانی بالکل نہیں ہوئی۔”

،زید صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولا
“میرے خیال میں ہمیں غیر ضروری باتوں میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے، بہتر ہے سیدھی بات کی جائے۔”

،آزلان نے اثبات میں سر ہلایا اور زید کی طرف دیکھ کر قدرے توقف کے بعد سنجیدگی سے پوچھا
“جس شخص کے ذریعے ہم آپ تک پہنچے، اُس کا کہنا تھا کہ آپ قابلِ بھروسہ ہیں… کیا واقعی ہم آپ پر بھروسہ کر سکتے ہیں؟”
اُس کی نظریں سوال لیے ہوئے تھیں جیسے وہ اندرونی یقین کی تصدیق چاہتا ہو۔

،زید نے پُرسکون انداز میں چائے کا کپ اٹھایا، ٹانگ پر ٹانگ رکھتے ہوئے نرمی سے گویا ہوا
آپ جانتے ہیں کہ میں ایک سابقہ کمانڈر ہوں۔ ہم وہ کام کبھی نہیں کرتے جو ملکی سلامتی کے خلاف ہو۔”

“اس کے علاوہ، انسانی بنیادوں پر جہاں ممکن ہو، میں مدد کرنے سے گریز نہیں کرتا۔

آزلان نے خاموشی سے سر ہلایا اور کچھ بولنے ہی والا تھا کہ زافیر نے اس کی ران پر ہاتھ رکھ کر اسے رکنے کا اشارہ دیا۔
،پھر وہ خود آگے جھکا، میز سے چائے کا کپ اٹھایا اور نرمی سے، مگر سنجیدہ لہجے میں بولا
آپ چاہیں تو ہمارے بارے میں اپنی سطح پر چھان بین کر سکتے ہیں۔ ہم کوئی جرائم پیشہ نہیں ہیں اور نہ ہی ایسے کسی گروہ سے تعلق ہے ہمارا۔”

بس بات یہ ہے کہ ہم ایک نہایت سنگین خطرے سے دوچار ہیں۔ ہمیں اور ہمارے خاندان کو جانی خطرہ لاحق ہے۔

” اسی لیے ہم نے آپ سے رجوع کیا ہے۔

،زید نے چند لمحے خاموشی سے اس کی آنکھوں میں جھانکا، پھر گہری آواز میں سوال کیا
“کس قسم کا خطرہ؟ اور میں آپ کی کس طرح مدد کر سکتا ہوں؟”

،زافیر نے چائے کا ہلکا گھونٹ لیا، پھر گہری سانس لے کر بولا
“اگر ہمارا سامنا کسی عام دشمن سے ہوتا تو ہم خود نمٹ لیتے۔ لیکن معاملہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔

ہمارا مقابلہ ایک ایسے شخص سے ہے جس کے پیچھے بی ایل ایف اور مجید بریگیڈ جیسی تنظیموں کا سایہ ہے۔”

اس کی طاقت کا اندازہ صرف اس سے لگا لیں کہ پنجاب جیسے محفوظ سمجھے جانے والے علاقے میں بھی اُس کا ایک مضبوط نیٹ ورک قائم ہے۔

” اب آپ ہی بتائیے… ہم جیسے محدود وسائل رکھنے والے لوگ، اتنی بڑی طاقت کے سامنے تنہا کیسے کھڑے ہو سکتے ہیں؟

کمرے میں ایک لمحے کو سکوت چھا گیا، جیسے ہر لفظ کی بازگشت دیواروں سے ٹکرا رہی ہو۔

“ہممم…” زید نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے گہری سانس لی، جیسے الفاظ کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہو۔ پھر نرمی سے پوچھا،
“لیکن وہ شخص آخر آپ لوگوں کے پیچھے کیوں پڑا ہے؟”

،زافیر نے لمحہ بھر توقف کیا، نگاہیں اس پر مرکوز کرتے ہوئے بولا
“آج سے تقریباً ڈیڑھ سال قبل… انسپکٹر ایان، جس پر میں نے بے وجہ اعتماد کیا تھا۔ وہ میری آدھی سے زیادہ جمع پونجی چرا کر فرار ہو گیا۔”

،وہ تھوڑا سا جھکا، کہنیوں کو گھٹنوں پر رکھا اور بولنے لگا
،میں نے آزلان کی مدد سے وراثتی زمین بیچ کر دوبارہ خود کو سنبھالا۔ کاروبار کھڑا کیا، خود کو سنبھال لیا… میں نے صبر کیا اور اسے بخش دیا”

اس کے پیچھے نہیں گیا۔ مگر شاید وہ مجھے بھول نہیں سکا۔

” اُس نے مسلسل میری نگرانی کروائی اور جیسے ہی اسے لگا کہ میں دوبارہ طاقتور ہو رہا ہوں، اُس نے حملہ کرنے کی ٹھانی۔

زافیر کی آواز میں اب تلخی ابھر آئی تھی۔
بنگلے کے سخت سیکیورٹی سسٹم کی بدولت وہ اندر داخل نہیں ہو سکے لیکن ہمیں جلد ہی پتہ چلا کہ ہمارے سروں پر انعام رکھا جا چکا ہے۔ “

“تفتیش سے واضح ہوا کہ یہ انسپکٹر ایان کا ہی کھیل ہے۔

،کمانڈر زید کی بھنویں تن گئیں۔ اُس نے سنجیدگی سے کہا
آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ ایک سابق پولیس افسر نے بی ایل ایف اور مجید بریگیڈ کے لیے پنجاب میں خفیہ نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے؟”

” کیا آپ کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت بھی ہے یا یہ صرف ایک قیاس ہے؟

زافیر نے آہستگی سے سر ہلایا۔
“فی الحال ہمارے پاس ثبوت تو نہیں لیکن مختلف شہروں میں اس کے کارندوں کے نام موجود ہیں، جو اس کے لیے کام کر رہے ہیں۔”

،زید کی آنکھوں میں تجسس آیا
“اور آپ تک یہ نام کیسے پہنچے؟”

زافیر کی نظریں گہری ہو گئیں، چہرے پر سنجیدگی کا عکس مزید نمایاں ہو گیا۔
“ہمارے اپنے ذرائع ہیں، جن کی تفصیل دینا فی الحال ممکن نہیں۔”

،زید کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔ وہ چائے کی پیالی میز پر رکھتے ہوئے گویا ہوا
“جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں، جب تک معاملہ ریاست کی سالمیت کے خلاف نہیں، میں آپ کے کسی بھی قدم پر اعتراض نہیں کروں گا۔”

،اس کی نظریں باری باری زافیر اور آزلان کی آنکھوں میں جھانک رہی تھیں، جیسے ان کے باطن کو پرکھنے کی کوشش کر رہا ہو۔ پھر بولا
مجھے معلوم ہے کہ کچھ مسلح افراد نے آپ کے بنگلے پر حملہ کیا تھا اور وہ آپ کے ہاتھوں مارے گئے۔”

” حتیٰ کہ اللہ رکھا بھی اسی فہرست میں شامل ہے۔ مجھے یہ بھی اندازہ ہے کہ یہی وہ لوگ تھے جن سے آپ کو یہ معلومات ملی ہیں۔

زافیر اور آزلان خاموش رہے، چہروں پر کوئی تاثر نہیں تھا، نہ تردید نہ تصدیق۔ زید سمجھ گیا کہ وہ اپنی حدیں جانتے ہیں۔

مجھے خوشی ہے کہ یہ ناسور ختم ہوئے۔” زید نے سکون سے کہا۔”

،آزلان نے نرمی سے پوچھا
“کیا آپ ہمارا ساتھ دیں گے؟”

“یقیناً… لیکن ایک شرط پر۔” زید کی نظریں سخت ہو گئیں۔

زافیر اور آزلان نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔

،زید نے بات واضح کی
ہم بیس بیس افراد کی آٹھ ٹیمیں تشکیل دیں گے۔ یہ ٹیمیں کسی بھی خاص مشن پر بوقتِ ضرورت حرکت میں آئیں گی۔”

اس کے علاوہ بیس تربیت یافتہ کمانڈوز آپ کے گھر کی 24 گھنٹے، بارہ بارہ گھنٹوں کی شفٹ میں حفاظت کریں گے۔

“مزید بیس کمانڈو ہمیشہ آپ کے ساتھ رہیں گے، جو ہر لمحے آپ دونوں کی جان کی حفاظت کو یقینی بنائیں گے۔

،اس نے سانس لے کر بات جاری رکھی
“ان تمام افراد کا اسلحہ، رہائش، تنخواہ… سب آپ کی ذمہ داری ہوگی۔”

،زید نے اپنی حدود بھی واضح کر دیں
میں خود کسی کارروائی میں شامل نہیں ہوں گا۔ باہر سے ہی ہر مشن کو مانیٹر کروں گا۔”

“میرا ایک خاص نمائندہ آپ کی ٹیم کا حصہ ہوگا، وہی ہمارے درمیان رابطے کا ذریعہ ہوگا۔

،زافیر نے فوراً کہا
“ہمیں آپ کی تمام شرائط منظور ہیں۔”

،زید نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا
“یہ تو صرف تفصیلات تھیں، اصل شرط ابھی باقی ہے۔”

،زید تھوڑا رکا، پھر آہستہ سے بولا
کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہونی چاہیے کہ آپ کی ٹیم میں ریٹائرڈ عسکری افراد شامل ہیں۔”

” سب کو یہی دکھانا ہوگا کہ یہ جاہل، بدتمیز غنڈے ہیں، جنہیں آپ نے اپنی حفاظت کے لیے پال رکھا ہے۔

،آزلان نے سنجیدگی سے سر ہلایا
“ہم پوری احتیاط رکھیں گے۔”

،زید اٹھا، آزلان کی طرف دیکھا اور کہا
“مجھے ان افراد کی لسٹ چاہیے جو ایان کے نیٹ ورک سے جڑے ہیں۔ اس کے علاوہ ابتدائی اخراجات کے لیے پچاس لاکھ روپے درکار ہوں گے۔”

وہ سائیڈ ٹیبل کی طرف گیا، ایک ڈائری اور پنسل اٹھائی اور ان کی طرف بڑھا دی۔

،آزلان نے ڈائری تھامی اور اثبات میں سر ہلایا
“نقدی اس وقت موجود نہیں، شام تک یا کل صبح بھجوا دیں گے۔”
اس نے موبائل نکالا اور ڈائری میں نام لکھنے لگا۔

،زید کچھ سوچتے ہوئے بولا
اور سب سے اہم… ہتھیاروں کے پرمٹ، سیکیورٹی لائسنس اور دیگر کاغذی کارروائی کے لیے مزید دس لاکھ درکار ہوں گے۔ “

“کام مکمل ہوتے ہی تمام اخراجات کا حساب پیش کر دوں گا۔

،زافیر نے پر اعتماد لہجے میں کہا
“وہ بھی دے دیں گے۔”

،وہ اٹھا اور مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا، زید نے گرم جوشی سے ہاتھ ملایا اور کہا
آپ کے گھر کے باہر تعینات ہونے والی ٹیم دو تین دن میں پہنچ جائے گی اور پرسنل گارڈز کی تعداد بھی اگلے ہفتے تک بڑھا دی جائے گی۔”

” باقی ٹیمیں تشکیل دینے میں ایک ماہ درکار ہوگا۔

زید نے آزلان سے بھی ہاتھ ملایا پھر دونوں کو ساتھ لیے بیٹھک سے باہر نکل گیا۔

°°°°°°°°°°

زافیر کی تینوں گاڑیاں ہائی وے پر تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہی تھیں۔ گاڑی کے اندر ماحول بظاہر پرسکون تھا۔

،زافیر اور آزلان معمول کی رسمی گفتگو میں مصروف تھے کہ اچانک فرنٹ سیٹ پر بیٹھے ڈرائیور نے پچھلی جانب جھک کر خبردار کیا
“سر… تین گاڑیاں ہمارا پیچھا کر رہی ہیں۔ سیٹ بیلٹ باندھ لیجیے۔”

،یہ کہہ کر اُس نے فوراً وائرلیس اٹھایا اور دیگر گاڑیوں سے رابطہ کیا
“سبھی الرٹ رہیں… تین مشکوک گاڑیاں ہمارے پیچھے ہیں۔”

زافیر اور آزلان نے فوراً پچھلی کھڑکی سے نظر دوڑائی۔ سڑک پر تیز رفتاری سے پیچھا کرتی ہوئی تین گاڑیاں صاف دکھائی دے رہی تھیں۔

،ڈرائیور کے ہاتھ سے وائرلیس کا بٹن ہٹا تو چند سیکنڈ بعد دوسری گاڑی سے آواز آئی
“ہمیں نظر آ چکا ہے سر۔ ایک سفید وین، ایک سفید ڈالہ اور ایک کالی کار ہمارے عقب میں ہیں۔”

اب شکوک یقین میں بدل چکے تھے۔ فضا میں تناؤ سا پھیل گیا۔ اچانک وہی کالی کار رفتار بڑھاتے ہوئے ان کی گاڑیوں کو کراس کر کے آگے نکل گئی جبکہ سفید وین زافیر کی پچھلی گاڑی کے پہلو میں آ لگی۔

،زافیر نے پُرسکون لہجے میں ڈرائیور کو حکم دیا
“اپنے ساتھیوں سے کہو، جب تک حملہ ضروری نہ ہو، کوئی فائر نہ کرے۔ خاموشی اور رفتار ہی ہمارا دفاع ہے۔”

،پھر اُس نے آزلان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
“کمانڈر زید سے رابطہ کرو۔ ہمیں فوری بیک اپ چاہیے۔”

آزلان نے بلا تاخیر موبائل نکالا اور کمانڈر زید کو کال ملائی۔ چند لمحے بیل بجی، پھر کال اٹھائی گئی۔ دوسری طرف سے زید کی خشک اور ناپسندیدگی سے بھری ہوئی آواز ابھری،
“…میں نے کہا تھا براہِ راست رابطہ نہ کیا کریں”

،لیکن آزلان نے بات کاٹتے ہوئے فوراً کہا
“ہماری نگرانی کی جا رہی ہے، کم از کم تین گاڑیاں پیچھے لگی ہیں۔ حملہ کسی بھی لمحے ہو سکتا ہے۔ ہمیں بیک اپ چاہیے۔”

،زید کی آواز سرد مگر سنجیدہ ہوئی
“لوکیشن بھیجو۔ میں کچھ کرتا ہوں۔”

اور کال فوراً منقطع کر دی گئی۔
زافیر اب بھی پُرسکون تھا لیکن آزلان کی آنکھوں میں غیر محسوس سا خوف ابھر آیا تھا۔

،زافیر نے آزلان کے کندھے پر حوصلہ افزائی کے انداز میں ہاتھ رکھا

“گھبراؤ مت… ہماری گاڑی…”

ابھی وہ جملہ مکمل بھی نہ کر پایا تھا کہ سفید ڈالہ ان کے برابر آ گیا۔ اس کے کھلے شیشوں سے اچانک دو بندوں نے سر باہر نکالا اور بلا کسی وارننگ کے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے شیشے جھنجھنا اٹھے۔ بلٹ پروف شیشوں پر چاندی جیسے نشان بنتے جا رہے تھے۔ شیشے ٹوٹ تو نہیں رہے تھے مگر مسلسل ضربیں انہیں کمزور کر رہی تھیں۔

اسی دوران، پیچھے موجود سفید وین کا سلائیڈنگ ڈور ایک جھٹکے سے کھلا۔ اندر ایک بھاری مشین گن نصب تھی۔ لمحوں میں گن برسنے لگی۔ زافیر کی پچھلی گاڑی دشمن کا نشانہ بن چکی تھی۔ گارڈز کے مزاحمت کرنے یا کچھ سمجھ پانے تک دیر ہو چکی تھی۔ چند ہی لمحوں میں ڈرائیور سمیت تینوں محافظ گولیوں کا نشانہ بن چکے تھے۔ گاڑی نے جھٹکے کھائے، اس کے ٹائروں نے سڑک پر گھومتے ہوئے چیخ ماری اور وہ قلابازیاں کھاتی ہوئی ایک طرف الٹ گئی۔

اب دشمن کی وین زافیر کی دوسری گاڑی کے قریب آ گئی۔ حملہ ابھی شروع ہونے ہی والا تھا کہ زافیر کی پچھلی گاڑی نے ذرا سی رفتار کم کی پھر پوری قوت سے سائیڈ مارتے ہوئے وین کو زبردست ٹکر دی۔ ایک عام وین کے بس کی بات نہیں تھی کہ فارچونر کی یہ ضرب برداشت کرتی۔ دشمن ڈرائیور کے ہاتھ سے اسٹیرنگ نکل گیا، گاڑی نے لڑکھڑاتے ہوئے کئی ہچکولے کھائے، پھر ایک طرف کے ٹائر سڑک سے اکھڑ گئے۔ وین بے قابو ہو کر الٹ گئی اور اپنی ہی رفتار کی شدت سے کئی بار الٹتی چلی گئی۔

وہی ترکیب زافیر کے ڈرائیور نے دہرائی۔ ایک زور دار جھٹکے کے ساتھ اُس نے اپنی فارچونر دشمن کے ڈالے سے ٹکرائی۔ ڈالہ جھول میں آیا، مگر اُس پر کوئی خاص اثر نہیں ہوا۔ وہ ابھی سنبھلنے ہی لگے تھے کہ زافیر کی پچھلی گاڑی نے پوری رفتار سے دشمن ڈالے کو پیچھے سے ٹکر ماری۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ ڈالہ 180 ڈگری پر گھومتا ہوا سڑک کنارے الٹ گیا۔ اس کی باڈی دھاتی چیخوں کے ساتھ سڑک پر چنگاریاں چھوڑتی گھسٹتی چلی گئی۔

،زافیر کے ڈرائیور نے خوشی سے نعرہ لگایا اور فوراً وائرلیس اٹھاتے ہوئے پچھلی گاڑی سے مخاطب ہوا
“رفتار کم مت کرنا، بس آگے بڑھتے رہو۔”

،دو لمحے بعد وائرلیس سے پرجوش آواز ابھری
“ہم آپ کے پیچھے ہی ہیں۔”

سامنے دشمن کی کالی کار اب بھی مخصوص فاصلہ برقرار رکھے ہوئے تھی۔ لگتا تھا وہ درست لمحے کے انتظار میں تھے۔ ڈرائیور نے ایک بٹن دبایا۔ گاڑی کی چھت کا سلائیڈر شیشہ سرکا اور گارڈ فوراً سیٹ پر کھڑا ہو کر باہر نکلا۔ اس نے بندوق نکالتے ہی کالی کار پر گولیاں برسا دیں، چلتی گاڑی کی وجہ سے اور فاصلہ زیادہ ہونے کے باعث گولیاں بے اثر رہیں۔ گارڈ نے خود کو نیچے جھکاتے ہوئے کہا،
“…گاڑی نزدیک کرو… وہ بہت دور ہے”

جملہ ابھی مکمل نہیں ہوا تھا کہ پیچھے سے ایک سنسناتی گولی آئی اور گارڈ کے سر کے پچھلے حصے کو چیرتی ہوئی چہرے کا آدھا حصہ اُڑا لے گئی۔

پیچھے تین نئی گاڑیاں نمودار ہو چکی تھیں۔ شاید وہ تازہ دم کمک تھی اور وہیں سے یہ ہلاکت خیز گولی چلی تھی۔

،ڈرائیور نے فوراً آزلان کو پکارا، لہجہ مضبوط اور فیصلہ کن تھا
“…اسے فوراً نیچے کھینچو”

آزلان گھبرا گیا، دماغ سن ہو چکا تھا۔ سمجھ ہی نہیں پایا کیا کرے۔
زافیر نے فوراً سیٹ بیلٹ کھولی، آگے کو جھکا اور گارڈ کی لاش کو نیچے گھسیٹ کر سیٹ پر بٹھایا۔ اس کے گرد سیٹ بیلٹ لپیٹی تاکہ لاش سیٹ پر ٹِکی رہے۔ ڈرائیور نے فوراً اوپر والا سلائیڈنگ شیشہ بند کر دیا۔

اسی لمحے دشمن کی کالی کار سے ایک مسلح شخص اُبھرا۔ اُس نے چھت سے نکلتے ہی اندھا دھند گولیاں برسانا شروع کر دیں، مگر اس کا ہدف گاڑی کے ٹائر تھے۔

اگلے دونوں ٹائروں کو گولیاں لگیں اور گاڑی لمحہ بھر کو لڑکھڑائی مگر ڈرائیور ماہر تھا۔

اُس نے تیزی سے رفتار کم کر کے گاڑی پر قابو پا لیا۔

کیا ہوا؟” وائرلیس پر آواز ابھری۔”

“ٹائروں کو گولیاں لگی ہیں مگر گاڑی رن فلیٹ ہے۔ مکمل پھٹ بھی جائیں تب بھی کچھ وقت نکال سکتے ہیں۔ بس پچھلے ٹائروں کو بچاؤ۔”

،دو لمحے بعد وائرلیس سے آواز ابھری
“ہم اپنی گاڑی تمہارے ساتھ جوڑ رہے ہیں، رفتار برابر رکھو۔”

مگر حالات بگڑتے جارہے تھے۔ دشمن کی گاڑیوں کی تعداد سات سے تجاوز کر چکی تھی۔ مسلسل گولیاں برس رہی تھیں اور زافیر کے گارڈز بھرپور مزاحمت کر رہے تھے۔

زافیر کی گاڑی کے سامنے تین گاڑیاں آچکی تھیں، جو مسلسل فرنٹ شیشے کو نشانہ بنا رہی تھیں۔
“ہم محفوظ ہیں، سر، لیکن…” گارڈ کی بات پوری ہونے سے پہلے ایک گولی بلٹ پروف شیشے کو چیرتی ہوئی اندر آئی اور سیدھی ڈرائیور کے ماتھے میں پیوست ہوگئی۔

مرنے سے پہلے اُس کا ہاتھ اسٹیئرنگ پر گھوما، گاڑی بے قابو ہوئی اور اپنی ہی پچھلی گاڑی سے ٹکرا گئی۔ زافیر کا ڈرائیور مر چکا تھا۔

گاڑی قلا بازیاں کھاتی سڑک پر لڑھکنے لگی۔

زافیر جو اب تک سیٹ بیلٹ نہیں باندھ سکا تھا۔ پچھلی سیٹ سے اچھل کر فرنٹ ڈیش بورڈ سے ٹکرایا۔ ہر قلابازی کے ساتھ وہ گاڑی کے اندر ایک دیوار سے دوسری دیوار سے ٹکرا رہا تھا۔ کبھی چھت سے، کبھی سیٹ سے، کبھی آزلان کے جسم سے۔ جسم پر خراشیں، زخم، اور ٹوٹی ہڈیاں دکھائی دے رہی تھیں۔

آزلان کو بھی چوٹیں آئی تھیں، مگر سیٹ بیلٹ نے اُسے بچا لیا تھا۔

گاڑی اب سڑک پر چنگاریاں چھوڑتی ہوئی گھسٹ رہی تھی۔

گاڑی رک چکی تھی اور مکمل الٹ چکی تھی۔

آزلان نے جھک کر زافیر کو دیکھا۔ اس کی دونوں ٹانگوں کی ہڈیاں ٹوٹ چکی تھیں، ایک پسلی سینہ چیر کر باہر نکل آئی تھی۔ جسم پر کئی گہرے زخم تھے۔ منہ اور ناک سے خون بہہ رہا تھا۔

زافیر نے ایک کمزور سی نظر آزلان پر ڈالی، پھیکے انداز میں مسکرایا… یوں لگا جیسے وہ آزلان کو الوداع کہہ رہا ہو اور اُس کی آنکھیں بند ہونے لگیں۔

پیچھے والی گاڑی کے گارڈز ابھی مزاحمت کر رہے تھے مگر دشمن حاوی ہوچکا تھا۔ بچاؤ کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔

کچھ ہی لمحوں میں زافیر کے باقی گارڈز بھی دشمن کی گولیوں کا شکار ہوگئے۔ اب صرف آزلان بچا تھا۔ اکیلا، بے بس اور خوفزدہ۔ وہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔ دشمن گاڑیوں سے اتر کر ان کے قریب آرہے تھے۔ ایک کے ہاتھ میں کٹر دکھائی دے رہا تھا، جو شاید بلٹ پروف شیشہ کاٹنے کے لیے لائے تھے۔
اب بیرونی مدد کے بغیر… بچنے کا کوئی امکان باقی نہیں رہا تھا۔ اور مدد کے دور دور تک آثار دکھائی بھی نہیں دے رہے تھے۔

°°°°°°°°°°

…جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *