ناول درندہ
قسط نمبر 18
باب دوّم: انتقام
مصنف: زیاد اصغر زارون
°°°°°°°°°°
زافیر مسجد کے پرانے، دھندلے رنگ کے قالین پر خاموشی سے لیٹا ہوا تھا۔ اگر کوئی عام انسان اس کی جگہ ہوتا تو کب کا دم توڑ چکا ہوتا مگر یہ متوازی دنیا کا زافیر تھا۔ ایک ایسا شخص جس کا جسم دس انسانوں کے برابر طاقت رکھتا تھا۔ ہر لحاظ سے وہ دوسروں سے منفرد اور برتر تھا۔ طاقت میں، حواس کی تیزی میں، درد سہنے کی قوت میں اور زخم بھرنے کی رفتار میں۔ اس کا بدن کسی فولادی مشین کی مانند تھا جو شدید ترین اذیت کے باوجود بھی ہار نہیں مان رہا تھا۔
اس وقت اس کا دل آزلان کی موت کے غم اور اپنی بیٹی آبرو کی فکر سے بھاری تھا۔ یہ دو چوٹیں، ایک جسم کی، دوسری دل کی، مل کر اسے بے چین کر رہی تھیں۔
اچانک مسجد کا پرانا دروازہ ہلکی سی کھڑکھڑاہٹ کے ساتھ کھلا۔ نیم اندھیرے میں ایک آدمی اندر داخل ہوا، جس نے ایک ڈاکٹر کو بازو سے پکڑ رکھا تھا۔ اس نے ڈاکٹر کی آنکھوں سے پٹی اتاری تو ڈاکٹر نے غصے سے پلٹ کر کہا،
“…تم یہ اچھا نہیں کر رہے”
،لیکن اسی لمحے، غنڈوں کا باس اندر آیا۔ اس نے تیزی سے آگے بڑھ کر ڈاکٹر کے ماتھے پر پستول کی نالی ٹکا دی اور غصے سے غرّایا
“زیادہ بکواس مت کر… خاموشی سے اس کا علاج کر، اس کی ہڈیاں جوڑ اور مرہم پٹی لگا۔”
ڈاکٹر کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا۔ وہ سنبھل کر زافیر کے قریب بیٹھ گیا اور زخموں کا معائنہ کرنے لگا۔ زافیر نے کہنی کے بل اٹھنے کی کوشش کی مگر ڈاکٹر نے فوراً اسے روکا۔
،دروازے کے قریب ایک شخص نے موبائل کا فلیش آن کر رکھا تھا۔ ڈاکٹر نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
“روشنی قریب لاؤ… یہ روشنی بہت دور ہے۔”
وہ شخص خاموشی سے آگے بڑھا اور روشنی قریب لے آیا۔ اب زافیر کے زخم صاف دکھائی دے رہے تھے اور ڈاکٹر کا دل ایک لمحے کو کانپ اٹھا۔ ایک ٹانگ بالکل الٹی ہو چکی تھی، دوسری کی باریک ہڈی گوشت پھاڑ کر باہر نکل آئی تھی۔ سینے سے نیچے آخری پسلی ٹوٹ کر جلد چیرتے ہوئے باہر ابھری ہوئی تھی۔ باقی جسم پر بے شمار گہرے اور ہلکے زخم تھے، جیسے ہر انچ پر موت کے ناخن چلائے گئے ہوں۔
،ڈاکٹر نے لرزتی آواز میں کہا
“خدا کے بندے… تم ابھی تک زندہ کیسے ہو؟”
،پھر بغیر جواب کا انتظار کیے باس کی طرف متوجہ ہوا
“اس کی حالت بہت نازک ہے، خاص طور پر پسلی کی ہڈی بری طرح ٹوٹ چکی ہے۔ اسے فوراً ہسپتال پہنچانا ضروری ہے، ورنہ یہ دم توڑ دے گا۔”
،باس نے سرد لہجے میں جواب دیا
“مرتا ہے تو مر جائے… بس اتنا کر دو کہ چار پانچ دن زندہ رہ لے۔ اس کے بعد ہم خود اس کا کام تمام کر دیں گے۔”
،ڈاکٹر نے ایک لمحہ زافیر کو ہمدردی سے دیکھا، پھر آہ بھر کر بولا
“…مجھے نہیں لگتا یہ آج کی رات بھی”
،اس کا جملہ مکمل نہیں ہوا تھا کہ باس نے پستول سیدھی اس کی پیشانی پر رکھ دی اور دھاڑ کر کہا
“!…اینوں ٹھیک کرسیں… یا ٹھوکاں تیرے سِر وچ”
،زافیر نے درد کے باوجود ڈاکٹر کے بازو پر نرمی سے ہاتھ رکھا اور دھیرے سے کہا
“جو کر سکتے ہیں، وہ کریں… میں درد برداشت کر لوں گا۔”
“میرا بیگ لے آؤ۔” ڈاکٹر نے قریبی آدمی کو اشارہ کیا۔ وہ خاموشی سے باہر نکلا اور بیگ لینے چلا گیا۔
“ڈاکٹر نے زافیر کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا، “تمہارا بلڈ گروپ کیا ہے؟
اے بی پازیٹو…” زافیر نے مختصر جواب دیا۔”
ڈاکٹر نے باس کی طرف نظر ڈال کر کہا،
مجھے پہلے کچھ وقت چاہیے تاکہ اس کے زخم صاف کر سکوں پھر لکڑی کے ٹکڑے چاہییں ہوں گے “
…اور خون کی بھی ضرورت پڑے گی
” کوئی بھی بلڈ گروپ چلے گا۔
یہ سن کر باس خاموش رہا جسے بات سن کر ان سنی کر دی ہو۔ ڈاکٹر نے دوبارہ زافیر پر دھیان مرکوز کر لیا۔
میرے پاس پین کلر انجکشن ہے، زیادہ کار آمد تو نہیں ہوگا مگر درد کچھ کم ہو جائے گا۔” اس نے کہا۔”
زافیر چھت کی طرف دیکھتا رہا، جیسے کسی اور جہان میں کھو گیا ہو۔
،اسی دوران باہر گیا آدمی واپس آیا اور بیگ ڈاکٹر کے سامنے رکھ دیا۔ باس نے خشک لہجے میں حکم دیا
“موبائل لاک کر کے ڈاکٹر کو دے دو۔ دو تین آدمی خون دینے کے لیے تیار رکھو۔”
یہ کہہ کر وہ مسجد سے باہر چلا گیا اور اس کا آدمی بھی موبائل ڈاکٹر کے حوالے کر کے نکل گیا۔
…زافیر نے چھت کو گھورتے ہوئے کہا، “میں سمجھتا تھا کہ مسلمان چاہے کتنے بھی برے ہوں، اپنی عبادت گاہوں کی عزت ضرور کرتے ہیں
” مگر یہ لوگ تو گھوڑوں اور گدھوں کی طرح اس جگہ کی بے حرمتی کر رہے ہیں۔
،ڈاکٹر نے بیگ سے قینچی نکالی اور نرمی سے زافیر کی پینٹ کاٹتے ہوئے بولا
“سب مسلمان ایک جیسے نہیں ہوتے۔ ہر مذہب میں ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اپنے ہی مقدس مقامات کی توہین کرتے ہیں۔”
پھر وہ اچانک رکا، جیسے کچھ سوچ کر چونک گیا۔
“کیا تم مسلمان نہیں ہو؟”
،زافیر نے سرد لہجے میں کہا
نہیں… میرا کوئی مذہب نہیں، لیکن میں ہر مذہب کے مقدسات کی عزت کرتا ہوں۔”
” اور اگر کوئی ان کی توہین کرے، چاہے وہ اپنے مذہب کی ہو یا کسی اور کے مذہب کی، میں اسے اپنا شکار بنانے میں دیر نہیں کرتا۔”
،ڈاکٹر نے گھٹنوں تک پینٹ کاٹ دی اور اب شرٹ پر قینچی چلاتے ہوئے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا
“مجھے لگتا ہے تم مذہبی انسانوں سے بہتر ہو۔ کم از کم تمہارے اندر انسانیت تو ہے۔”
“زافیر کے لبوں پر ایک زخمی سی مسکراہٹ ابھری، “آپ میرے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔
پھر وہ اچانک سنجیدہ ہو کر بولا، “اگر یہاں سے زندہ نکلنا چاہتے ہیں تو جیسا کہوں ویسا کریں۔ پہلے ہڈیاں اپنی جگہ پر لائیں، پھر ایک ہی وقت میں مجھے دو لوگوں کا خون لگائیے گا۔ ایک کنولا بازو کی رگ میں لگے گا، دوسرا خوراک والی نالی کے ذریعے میری گردن میں۔”
“ڈاکٹر نے چونک کر کہا، “کیا تم پاگل ہو؟ خون معدے میں گیا تو انفیکشن بن جائے گا۔
،زافیر نے آہستہ لیکن پُر عزم لہجے میں کہا
ہم دونوں جلد یا بدیر مرنے والے ہیں۔ اگر بچنا چاہتے ہیں تو یہی واحد راستہ ہے۔”
اور ویسے بھی…” اس نے دونوں ہاتھوں کے سہارے سر ذرا سا اٹھایا،
“آپ ابھی مجھے نہیں جانتے، جیسا کہا اگر ویسا ہی کریں گے تو جلد جان جائیں گے۔”
ڈاکٹر نے خاموشی اختیار کر لی۔ بیگ سے دوائیاں نکال کر اس کے زخم صاف کرنے لگا۔
،زافیر نے دھیمے مگر سخت لہجے میں کہا
“یہاں جو کچھ بھی دیکھیں، بھول جائیے گا۔ اور جب تک میں نہ کہوں، یہاں سے باہر مت نکلیے گا۔”
ابھی الفاظ زافیر کے لبوں سے ختم بھی نہیں ہوئے تھے کہ تین جوان مسجد میں دندناتے ہوئے داخل ہوئے۔ ماحول میں مزید کشیدگی بھر گئی۔
ڈاکٹر نے خاموشی سے اپنا کام جاری رکھا۔ زخم صاف کرنے کے بعد انجکشن تیار کیا اور زافیر کے بازو میں لگا کر بولا،
“یہ درد کو پوری طرح ختم نہیں کرے گا لیکن برداشت کچھ آسان ہو جائے گی۔”
مجھے درد کی پرواہ نہیں، جو کرنا ہے کریں۔” زافیر نے جھنجھلا کر کہا۔”
ڈاکٹر نے چند لمحے انتظار کیا، پھر اس کی مُڑی ہوئی ٹانگ کو آہستگی سے سیدھا کرنے لگا۔ جیسے ہی ہڈی اپنی جگہ آنے لگی، زافیر کے جسم میں ایک شدید درد کی لہر دوڑ گئی۔ اس نے دانت سختی سے بھینچ لیے، نظریں چھت پر جمی رہیں اور پورا وجود درد کو جذب کرنے میں لگ گیا۔
°°°°°°°°°°
زمار کا شکار دبے قدموں سے آگے بڑھ رہا تھا۔ اس کے کٹے بازو پر ڈوری جیسی رسی اب بھی مضبوطی سے جمی ہوئی تھی اور زخم پر ایک کپڑا خون روکنے کے لیے کس کر باندھا گیا تھا۔ کندھے پر زمار کا بھاری بیگ لدا تھا اور گلے میں پھندے کی شکل میں بندھی رسی ہر قدم پر اس کی سانس گہری کر دیتی تھی۔ چہرے پر نقاہت کی لکیریں ابھر آئی تھیں، ہونٹ پیاس سے خشک ہو چکے تھے۔ مگر سب سے بھاری بوجھ وہ یاد تھی جو دماغ سے اترنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ وہ لمحہ جب زمار نے اس کے سامنے، اس کے زندہ بازو کی کھال اتاری، اسے آگ پر بھونا اور گوشت چبا چبا کر کھا گیا۔ یہ سوچتے ہی معدہ مروڑ کھانے لگا، ابکائیاں اُبھر آئیں اور زمار کی وحشت ذہن پر چھا گئی۔
زمار آگے چل رہا تھا اور جب بھی شکار قدم روک لیتا، وہ رسی کو ایک جھٹکے سے کھینچ کر اُسے چلنے پر مجبور کر دیتا۔ مگر اس بار وہ نوجوان ٹوٹ چکا تھا… قدم لڑکھڑائے، جسم زمین پر گر پڑا اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔
زمار نے پہلے دو تین بار رسی کھینچ کر اُسے اٹھانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔
،پھر وہ خود بھی نیچے بیٹھ گیا، چہرے پر بناوٹی نرمی اور ہمدردی لاتے ہوئے طنزیہ لہجے میں بولا
“کیا ہوگیا یار…؟ بس ایک بازو ہی تو کھایا ہے میں نے… اتنی بھی کیا ناراضگی؟”
شکار آنسوؤں اور سسکیوں کے بیچ کچھ کہہ رہا تھا مگر زمار کو اس کے ایک لفظ کی بھی سمجھ نہیں آرہی تھی۔ چند لمحے یوں ہی گزر گئے، پھر زمار نے جھنجھلا کر رسی زور سے کھینچی اور چل پڑا۔ نوجوان زمین پر گرتا گِھسٹتا رہا… پتھروں پر، کانٹوں میں… جب تک کہ زمار کو محسوس نہیں ہوا کہ اب وہ اٹھنے کو تیار ہے۔ تب وہ رکا، پلٹ کر آیا، اسے پیروں پر کھڑا کیا اور آگے بڑھ گیا۔
وہ نوجوان خاموش آنسو بہاتے ہوئے، کانپتے قدموں کے ساتھ اس کے پیچھے چلنے لگا۔ زمار کے لبوں پر ایک پرانا، صدیوں سے مٹا ہوا گیت رواں تھا۔ ایسے بول جو اس دنیا سے کب کے غائب ہو چکے تھے مگر اس کے ہونٹوں پر مدھم مگر وحشت ناک دھن میں بہہ رہے تھے۔
°°°°°°°°°°
آگ کا فرمانروا کازمار اپنے شعلہ فشاں تخت پر براجمان تھا۔ وہ تخت کم اور دہکتے ہوئے الاؤ کا شعلہ زیادہ محسوس ہوتا تھا۔ جس کے گرد سرخ اور سنہری آگ کی لپٹیں سانپوں کی طرح بل کھا رہی تھیں۔ کازمار کا داہنا ہاتھ مسلسل نیلی آگ میں لپٹا ہوا تھا۔ وہ ہاتھ جو اس کی سب سے بڑی طاقت اور ہلاکت خیز ہتھیار تھا۔
کہا جاتا تھا، اگر وہ اسے کسی پہاڑ پر رکھ دے تو لمحوں میں چٹانیں پگھل کر لاوا بن جائیں۔ اس کے ہاتھ کی تپش اور وزن کو صرف اس کا تخت ہی سہہ سکتا تھا، اسی لیے وہ شاذ و نادر ہی اپنی نشست چھوڑتا تھا۔
اس کے سامنے بیس سپاہی سر جھکائے قطار میں کھڑے تھے۔ ان کے بکتر اور زرہ پر دہکتے شعلوں کی روشنی ناچ رہی تھی۔ فرش اتنا گرم تھا کہ ان کے قدموں کے نیچے سے دھواں اٹھ رہا تھا، گویا زمین خود ان کے وجود کی موجودگی سے تپ رہی ہو۔
کازمار سے ذرا فاصلے پر، رینا خاموش اور سر جھکائے کھڑی تھی۔ اس کے چہرے پر ضبط کی چادر تنی ہوئی تھی حالانکہ تیز تپش اس کی جلد کو جھلسا رہی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ ایک پل کے لیے بھی کمزوری دکھانا بادشاہ کی نظروں میں اس کی حیثیت گھٹا سکتا ہے۔
،کازمار نے گہری سانس لی اور دھیمے مگر گونج دار لہجے میں کہا
جیسا ہماری رینا کہہ رہی ہے، ویسا ہی کرو۔ سرحد پر پہرے دار بڑھاؤ اور آبیاروس کی فوج پر خاص نظر رکھو۔”
“اس کی فوج ہمیشہ اس کے ساتھ ہوتی ہے۔ اگر اس نے اچانک حملہ کر دیا تو اس کا توڑ مشکل ہوگا۔
اس کی آواز دبنگ اور پُر وقار تھی مگر الفاظ ایسے لگ رہے تھے جیسے خاموش دھماکوں کی گونج سنائی دے رہی ہو۔
،ایک پہریدار نے جھجکتے ہوئے کہا
“…لیکن وہ تو ہمیشہ امن کے داعی رہے ہیں”
یہ وہ پہریدار تھا جسے رینا کی موجودگی سخت ناگوار تھی۔ وہ مانتا تھا کہ یہ عورت ہر وقت بادشاہ کے ذہن میں زہر گھول رہی ہے اور ڈرتا تھا کہ کہیں وہ کازمار کو جنگ کی طرف نہ دھکیل دے۔
،رینا نے سر جھٹکتے ہوئے زہریلے لہجے میں کہا
“!…تمہاری یہ جرات کہ ہمارے شہنشاہ کے حکم پر سوال اٹھاؤ”
،کازمار نے ہاتھ اٹھا کر اسے خاموش کرایا اور پہریدار کی طرف دیکھتے ہوئے بولا
“کیا تم وفاداری کی ایک مثال دیکھنا چاہتے ہو؟”
،تمام پہریداروں کی نظریں فوراً اس کی طرف اٹھ گئیں۔ کازمار نے آہستہ سے رینا کی طرف رخ کیا اور حکم دیا
“…میرے تخت کو چھوؤ”
یہ ایک ایسا حکم تھا جسے بجا لانے کی ہمت سلطنت میں کسی میں نہیں تھی، مگر رینا نے ایک پل کی تاخیر کیے بغیر کازمار کے دہکتے تخت پر ہاتھ رکھ دیا۔ لمحے بھر میں سنہری آگ اس کے بازو پر لپکی اور اگلے ہی سانس میں پورا بازو شعلوں میں گھِر گیا۔ جلنے کی تیز بو اور چمڑی کے پھٹنے کی آواز فضا میں گھل گئی۔ درد کی تیز لہر اس کے جسم میں دوڑ گئی، سانسیں بھاری ہو گئیں مگر رینا کی نظریں جھکی رہیں اور ہاتھ وہیں جما رہا، جب تک کازمار کا اشارہ نہیں ہوا۔
کازمار نے ذرا سا ہاتھ ہلایا۔ رینا نے فوراً ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔ اس کے بازو کا کپڑا راکھ ہو چکا تھا اور چمڑی سیاہ کوئلے کی طرح جھلس گئی تھی مگر اس کے ہونٹوں پر ذرا سی بھی کراہ نہیں آئی۔
،کازمار نے دھیرے سے کہا
“اسے کہتے ہیں وفاداری… اور جب وفاداری کی ایسی مثال قائم ہو تو انعام بھی دیا جاتا ہے۔”
اس کے الفاظ کمرے میں گونج اٹھے۔ سامنے کھڑے پہریداروں کے چہروں کا رنگ اُڑ گیا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ انعام مہربانی نہیں… ہلاکت کی مہر ہے۔
،کازمار نے گردن موڑی، رینا کی آنکھوں میں دیکھا اور پہریداروں کی سمت اشارہ کرتے ہوئے کہا
“یہ ہاتھ کی جلن ختم کرنے کے لیے… تم ان میں سے جسے چاہو… کھا سکتی ہو۔”
رینا کے لبوں پر ایک ہلکی مگر خونی مسکان ابھری۔ فضا میں دباؤ بڑھ گیا۔ پہریدار گھٹنوں کے بل گر کر رحم کی فریاد کرنے لگے مگر اس کے چہرے پر رحم کا سایہ تک نہیں تھا۔
،مجھے اچھا نہیں لگتا کہ آپ کے پہریدار میرا نوالہ بنیں…” رینا نے مدھم لہجے میں کہا”
،پھر سر اٹھا کر ایک ایک پہریدار کو گہری نظروں سے دیکھا
“مگر جو آپ کے حکم پر سوال اٹھائے، اس کی ہڈیاں توڑ کر کھانا میں اپنا حق سمجھتی ہوں۔”
اس ایک جملے سے فیصلہ ہو چکا تھا۔ سوال کرنے والا پہریدار شکار ٹھہرایا گیا۔ کازمار کے ایک اشارے پر دو پہریداروں نے اسے دبوچ لیا۔
“لے جاؤ اسے… اور ہماری رینا کی خواب گاہ میں باندھ دو۔ یہ اب ہماری رینا کا ہے۔”
کازمار کی آواز میں حکم کا ایسا وزن تھا کہ کسی نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔
پہرے دار اسے گھسیٹتے ہوئے باہر لے جا رہے تھے۔ اس کی رحم کی پکاریں شعلوں کی گڑگڑاہٹ میں دب گئیں۔ کازمار نے رینا کی طرف محبت اور فخر سے دیکھا۔
“جب سے تم آئی ہو، ہماری سلطنت ایک محفوظ قلعہ بن گئی ہے۔ وہ وقت دور نہیں جب باقی ریاستیں ہمارے خوف سے کانپیں گی۔”
،رینا نے مؤدبانہ سر جھکایا اور نرم مگر زہر میں بجھی آواز میں کہا
“میرا مقصد صرف آپ کے راج کو محفوظ کرنا ہے… اور یہ تب ہی ممکن ہے جب ہمارے باغی اور غدار صفحۂ ہستی سے مٹ جائیں۔”
“کازمار نے مسکراتے ہوئے کہا، “یہ وقت بھی جلد آئے گا۔
مگر اسے خبر نہیں تھی کہ وہ کس بلا کے جال میں پھنس چکا ہے۔ ایسی بلا جسے نہ اس کی سلطنت کی پروا تھی، نہ اس کی زندگی کی۔ اس کے دل میں تو صرف ایک شعلہ جل رہا تھا… انتقام کا۔ اور اس انتقام کے لیے وہ دونوں جہانوں کو بھی آگ کے سپرد کرنے کو تیار تھی۔
°°°°°°°°°°
صبح کی سنہری کرنیں اب دوپہر کی تیز سفیدی میں ڈھل چکی تھیں۔ جنگل کے بیچوں بیچ واقع مسجد کے دروازے پر بڑا سا زنگ آلود تالہ جھول رہا تھا۔ سورج نکلنے سے بھی پہلے غنڈوں کا سردار جا چکا تھا، اس کے ساتھ تمام گاڑیاں بھی غائب ہو چکی تھیں۔ ہر پہاڑی پر دو دو غنڈوں کی جوڑیاں نگرانی پر مامور تھیں۔ ایک غنڈا قریبی درخت کے سائے تلے لیٹ کر اونگھتا، جبکہ دوسرا پہرہ دیتا۔ یوں پہلا دن اپنی سست مگر بوجھل رفتاری سے گزر رہا تھا۔
مسجد کے نیم تاریک ہال میں، زافیر کا جسم علاج کے مرحلے سے گزر چکا تھا۔ اس کی ٹوٹی ہوئی ہڈیاں مہارت سے جوڑ دی گئی تھیں۔ لکڑی کے سہارا دینے والے ٹکڑے مضبوطی سے باندھ کر ان پر پٹیاں لپیٹ دی گئی تھیں۔ گہرے زخموں پر احتیاط سے ٹانکے لگا دیے گئے تھے۔ سب سے خطرناک چوٹ پسلی پر تھی، جہاں ڈاکٹر نے نہایت نرمی اور مہارت سے ریڑھ کی ہڈی کو سیدھا کر کے ٹوٹی ہوئی پسلی کے ساتھ ملا دیا تھا اور اوپر باریک مگر مضبوط ٹانکے لگا دیے تھے۔
اب وہی ڈاکٹر، دیوار کے سہارے فرش پر نیم دراز، بے فکری سے سو رہا تھا۔ زافیر کے قریب دو نوجوان پہرہ دے رہے تھے۔ ایک کے بازو میں موٹی سرنج لگی تھی، جس سے خون کی نالی نکل کر زافیر کے بازو کی رگ سے جڑی تھی۔ دوسرے کے بازو سے نکلتی نالی زافیر کی گردن کے کنولا سے منسلک تھی۔ گردن میں یہ انجکشن لگانے کا جواز ڈاکٹر یہ دے چکا تھا کہ اس طرح خون کی گردش تیز اور بہتر رہتی ہے۔
وہ دونوں کافی دیر سے یوں ہی کھڑے تھے، اکتاہٹ اور بیزاری ان کے چہروں پر صاف جھلک رہی تھی۔
،پہلا نوجوان بڑبڑایا
“مجھے تو چکر آنے لگے ہیں۔”
،دوسرے نے فوراً ڈاکٹر کی طرف دیکھ کر حقارت سے کہا
ذرا دیکھ تو… مزے سے سو رہا ہے۔ چاہوں تو ابھی اسے سیدھا کر دوں۔” یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گیا۔”
،پہلا نوجوان اونچی آواز میں بولا
“اوئے ڈاکٹر… اُٹھ جا…! اوئے ڈاکٹر… سن رہا ہے نا؟”
ڈاکٹر نے کروٹ لی، ایک لمبی جمائی لی اور جیسے اچانک یاد آ گیا ہو کہ وہ اغواءکاروں کے قبضے میں ہے، فوراً سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
کیا… کیا مجھے کسی نے بلایا؟” اس نے گھبراہٹ میں پوچھا۔”
بس کر اب… ہمیں چکر آ رہے ہیں۔” پہلا نوجوان جھنجلا کر بولا۔”
ڈاکٹر سستی سے اٹھا، ان کے بازوؤں سے سرنجیں نکالیں، پھر احتیاط سے زافیر کے بازو اور گردن سے جڑی نالیاں بھی الگ کر دیں۔
ٹھیک ہے، تم دونوں جا سکتے ہو… لیکن شام سے پہلے مجھے دو آدمی اور چاہییں۔”
“اگر اسے زندہ رکھنا ہے تو وقفے وقفے سے اسے خون کی ضرورت پڑے گی۔
ڈاکٹر کے لہجے میں ایک عجیب سی عجلت تھی۔ دونوں نوجوان دروازے کی طرف بڑھے۔ ہلکی سی دستک ہوئی، باہر سے زنگ آلود تالہ کھلنے کی کھڑکھڑاہٹ سنائی دی اور اگلے لمحے وہ باہر نکل گئے۔ دروازہ دوبارہ بند ہوا اور ہال میں سناٹا پھیل گیا۔ اب وہاں صرف زافیر اور ڈاکٹر رہ گئے تھے۔
،ڈاکٹر زافیر کے قریب بیٹھ گیا اور پرسکون لہجے میں بولا
“اب درد کیسا ہے؟”
زافیر نے آنکھیں آہستہ سے کھولیں، اس کے چہرے پر کسی جنگجو کی سی بے نیازی تھی۔
“درد کی مجھے پرواہ نہیں… اصل مسئلہ یہ ہے کہ زخم بھرنے کی رفتار بہت سست ہے اور ہڈیاں جڑنے میں وقت لے رہی ہیں۔”
،ڈاکٹر نے سر ہلاتے ہوئے کہا
زخم تو چند دنوں میں ٹھیک ہو جائیں گے، مگر ہڈیاں ایسے نہیں جڑیں گی۔”
“ان کے لیے راڈ اور پلیٹیں ڈالنا پڑیں گی۔ میں نے تو فی الحال بس ہڈیاں سیدھی کر کے باندھ دی ہیں۔
،زافیر نے اس کی بات نظر انداز کرتے ہوئے آہستہ مگر یقین سے کہا
“شام تک میں بہتر ہو جاؤں گا۔ اندھیرا ہونے سے پہلے یہاں دو آدمی ہونے چاہییں تاکہ ان کی مدد سے میں اپنی حالت سنبھال سکوں۔”
،یہ کہہ کر وہ لیٹنے کی حالت میں بیٹھ گیا، کہنی فرش پر ٹکائے۔ پھر ایک لمحے توقف کے بعد بولا
بس اتنا دھیان رکھنا… جب میں ان کی چیر پھاڑ کروں گا تو شور مت مچانا۔ تم میرے پاس محفوظ ہو۔”
” میں نہ تمہیں نقصان پہنچاؤں گا، نہ ہی کسی اور کو موقع دوں گا۔
،ڈاکٹر نے ایک عجیب سی مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھا
“تم مجھے پاگل لگتے ہو۔ کئی بار یوں بات کرتے ہو جیسے کوئی آدم خور ہو۔”
،زافیر کی نظریں اس کی آنکھوں میں گڑ گئیں اور وہ ایک گہرے، سرد لہجے میں بول
“میں کسی آدم خور سے بڑھ کر ہوں… جلد ہی جان جاؤ گے۔”
°°°°°°°°°°
سورج مغرب کے کنارے پر دم توڑ رہا تھا۔ سرخ شعلوں کی لپٹیں آسمان کو خون میں نہلا رہی تھیں اور فضا میں ایک انجانی بے چینی رینگ رہی تھی۔ مسجد کے ہال میں ڈاکٹر کے اشارے پر دو آدمی داخل ہوئے۔
ڈاکٹر نے ان کے بازوؤں میں سرنج لگائی، پھر ایک سرنج زافیر کے بازو میں لگے کنولا میں لگا دی اور دوسری اس کی گردن میں لگی خوراک کی نالی میں لگے کنولا میں داخل کر دی۔ جیسے ہی ڈاکٹر نے اپنے ہاتھ پیچھے کھینچے، زافیر نے ہلکی سی آنکھ جھپک کر اشارہ کیا۔
ڈاکٹر آہستگی سے اٹھا، دبے قدموں دروازے کی طرف بڑھا اور بنا کسی آواز کے اندر سے کنڈی چڑھا دی۔
،ایک ہلکی سی کھٹ کی آواز پر دونوں مرد پلٹے، غصے سے بھرے لہجے میں بولے
“!…یہ کیا بکواس ہے؟ دروازہ کھولو”
،پیچھے سے ایک سرد، دھیمی آواز گونجی
“اس کی اب ضرورت نہیں پڑے گی۔”
دونوں نے چونک کر مڑ کر دیکھا لیکن دیر ہو چکی تھی۔ زافیر ان کے پیچھے آ کھڑا ہوا تھا۔
ایک لمحے میں، اس کا مکا بجلی کی طرح فضا کو چیرتا ہوا ایک جوان کے ماتھے پر آ گرا۔ دھماکے جیسی ٹھک کی آواز آئی، جوان کی آنکھیں گھوم گئیں اور وہ زمین پر ڈھیر ہو گیا۔
دوسرے نے فوراً مکا تان کر حملہ کرنا چاہا مگر زافیر کی گرفت فولاد کی طرح تھی۔ اس نے اس کی کلائی پکڑ کر مروڑی اور کمر سے چپکا دی۔ اگلے ہی لمحے زافیر نے جھک کر اس کی گردن میں اپنے دانت پیوست کر دیے۔
ایک وحشیانہ جھٹکے سے گوشت کا بڑا ٹکڑا نوچ کر، اس نے خون آلود ماس کا ٹکڑا فضا میں تھوک دیا۔ نوجوان کی چیخ ہال کی خاموشی کو چیرتی ہوئی باہر گونجی،
“!…بچاؤ…! کوئی مجھے بچاؤ”
زافیر کے ہونٹوں پر خون کی گاڑھی تہہ جم چکی تھی۔ نوجوان کے گلے سے خون فوارے کی طرح نکل رہا تھا اور زافیر نے دوبارہ گردن پکڑ کر دانت گاڑ دیے۔ اس بار براہِ راست گرم، نمکین خون اس کے حلق سے اترنے لگا۔
شکار تڑپ رہا تھا، اپنی آخری قوت سے چھٹکارا پانے کی کوشش کر رہا تھا مگر زافیر کی گرفت میں سے نکلنا ایسا ہی تھا جیسے موت کے جبڑوں سے آزادی کی خواہش کرنا۔ اس کا جسم ڈھیلا پڑتا جا رہا تھا اور زافیر اسے زمین پر جھکاتے ہوئے خود بھی ساتھ جھک گیا۔ شکار اوندھے منہ لیٹا ہوا اب نیم بے جان تھا۔
ڈاکٹر کی آنکھیں خوف سے پتھرا گئیں۔ باہر موجود ساتھیوں نے دروازہ بجانا شروع کر دیا، پھر زور زور سے پیٹنے لگے، دھاڑیں مار کر دھکے دیے، حتیٰ کہ بندوق کی گولیاں دروازے پر برسنے لگیں۔ مگر اندر کا منظر پہلے ہی دوزخ بن چکا تھا۔
زافیر نے اپنے شکار کو سیدھا کیا۔ وہ ابھی سانس لے رہا تھا مگر چہرہ مردہ سا زرد پڑ چکا تھا۔ اچانک زافیر نے ہاتھ اوپر اٹھا کر پوری قوت سے اس کے پیٹ پر مارا۔ ایک ہی وار میں پیٹ کی کھال، گوشت اور پسلیاں پھٹ گئیں اور اس کا ہاتھ سینے کے اندر تک اتر گیا۔
اندر دھڑکنے والے دل کو مٹھی میں جکڑتے ہی زافیر نے ایک وحشیانہ جھٹکا مارا، دل باہر تھا۔
کچا، گرم، دھڑکتا دل اس کے خون آلود ہاتھ میں کانپ رہا تھا۔ وہ اسے چیر کر کھانے لگا۔ ہر نوالے کے ساتھ اس کی آنکھوں کی سرخی گہری ہوتی جا رہی تھی۔ جیسے اندھیروں میں کوئی شعلہ بھڑک اٹھا ہو۔ اس کے ناخن خنجروں کی طرح لمبے ہو رہے تھے، ٹوٹی ہڈیاں جڑ رہی تھیں اور جسم کے زخم مندمل ہورہے تھے۔
چند ہی لمحوں میں زافیر بے رحم درندہ بن چکا تھا۔
پہلے شکار کا دل آخری نوالے تک چبا کر نگلنے کے بعد، زافیر ایک درندے کی مانند ہاتھوں اور پیروں کے بل دوسرے شکار کی طرف لپکا۔ اس کی سرخ آنکھوں میں وحشت ناچ رہی تھی۔ اس نے جھپٹ کر گردن میں دانت گاڑ دیے، ایک جھٹکے سے ماس اکھاڑ کر کنارے پھینکا اور زخم سے ابلتی خون کی تیز دھار پر اپنے ہونٹ جما دیے۔ خون کا گاڑھا، نمکین ذائقہ اس کی رگوں میں وحشی توانائی کی مانند دوڑنے لگا۔ شکار نیم بے ہوش ہو کر جھٹپٹا رہا تھا لیکن زافیر کی گرفت فولاد کی طرح سخت تھی۔
خون پینے کے بعد زافیر نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا، اس کے ہونٹوں اور دانتوں پر خون کی لپٹ چمک رہی تھی۔ اگلے ہی لمحے اس نے نوکیلے پنجے شکار کے سینے پر مارے، گوشت اور ہڈی کو ایک ساتھ چیر ڈالا۔ پسلیاں ٹوٹ کر الگ ہو گئیں اور اس کا ہاتھ سیدھا دل تک جا پہنچا۔ وہ دھڑکتا دل باہر نکال لایا اور وحشی انداز میں اسے چبانے لگا۔ ہر نوالے کے ساتھ اس کی آنکھوں کی سرخی اور گہری ہو رہی تھی، ناخن لمبے اور نوکدار ہو کر ایک انچ تک جا پہنچے تھے اور اس کے جسم میں ایک خوفناک درندے کی جھلک اب واضح تھی۔
دور دیوار کے ساتھ سہمے بیٹھے ڈاکٹر کی سانسیں پھنس رہی تھیں۔ پہلی بار وہ زافیر کی اصل حقیقت دیکھ رہا تھا اور یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ ایک عام انسان کے ساتھ نہیں بلکہ خون کے پیاسے درندے کے ساتھ بند تھا۔
دوسرے شکار کا دل بھی ختم کر کے زافیر گرجا۔ ایسی گرج جو کسی بھی انسان کے جسم میں کپکپی دوڑا دے۔ وہ آدھا جھکا، پنجوں اور ناخنوں کے ساتھ خون آلود اور آنکھوں میں ایسی وحشت لیے جو دیکھنے والے کی روح چیر دے۔
اچانک دروازہ زور دار دھماکے سے اندر گرا۔ تین مسلح افراد دہلیز پر کھڑے تھے۔ زافیر کسی چیتے کی مانند جست لگا کر دو کے گلے پر پنجے مار چکا تھا، اس سے پہلے کہ وہ گولی چلا پاتے۔ گلے کا آدھا حصہ چیر دینے سے ان کے ہاتھ ہتھیار چھوڑ کر خون روکنے میں لگ گئے۔
زافیر تیزی سے باہر لپکا۔ تیسرا شخص جو مسجد کے دروازے پر کھڑا تھا۔ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھنے کی کوشش کی لیکن تب تک زافیر اس پر جھپٹ چکا تھا۔ بندوق چھین کر دور پھینکی، پھر دونوں پنجے فضا میں بلند کر کے اس کے چہرے پر وار کرنے لگا۔ ہر ضرب کے ساتھ چہرے کا ماس اکھڑتا جا رہا تھا، چیخیں فضا کو چیر رہی تھیں۔ لمحوں میں گال کے نیچے کی ہڈیاں برہنہ ہو گئیں، آنکھیں اپنے گڑھوں سے نکل کر نیچے لٹک گئیں اور چہرہ خون آلود کھوپڑی میں بدل گیا۔
زافیر نے اسے وہیں تڑپنے کے لیے چھوڑ دیا۔ پھر ایک وحشی جست لگا کر مسجد کی تین فٹ اونچی دیوار پھلانگ گیا اور اندھیرے میں گم ہو گیا۔
چیخوں کی دل دہلا دینے والی بازگشت نے پہاڑیوں کو بھی ہلا دیا تھا۔ جیسے پتھروں کے بیچ خوف کی لہر دوڑ گئی تھی۔ ہر سمت سے مسلح ساتھی پہاڑیوں سے نیچے اتر رہے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں ہتھیار مضبوطی سے جکڑے ہوئے تھے مگر آنکھوں میں بے یقینی اور تشویش کی دھند چھائی ہوئی تھی۔ وہ جانتے تھے کہ نیچے کچھ ہولناک ہوا ہے، لیکن کس حد تک… اس کا اندازہ وہ نہیں لگا سکتے تھے۔
اچانک زافیر نے کسی وحشی بھیڑیے کی طرح ایک لمبی جست لگائی۔ ہاتھوں اور پیروں کے بل جھک کر، خوفناک سرعت سے پہاڑی کی جانب دوڑنے لگا۔ دو جوان جو نیچے اتر رہے تھے، ایک دم ساکت رہ گئے۔ ان کی طرف بڑھتا ایک سایہ، جو انسانی شکل میں ضرور تھا مگر حرکت میں خالص درندگی جھلک رہی تھی۔ وہ گھبراہٹ میں بندوقیں سیدھی کر کے فائر کرنے لگے مگر زافیر کی تیز رفتاری، بجلی جیسی پھرتی اور ہر لمحہ جگہ بدلنے کا انداز ان کے نشانے کو ناکام بنا رہا تھا۔
پھر وہ اچانک پہاڑی کی مخالف سمت دوڑ پڑا۔ جوانوں کو لگا وہ بھاگ رہا ہے مگر یہ ان کی سب سے مہلک غلطی تھی۔ لمحہ بھر میں زافیر پہاڑی کے اوپر چڑھ گیا اور اوپر سے ان پر اس طرح جھپٹا جیسے کوئی خون کا پیاسا درندہ شکار پر ٹوٹ پڑتا ہے۔ اس کی دہاڑ نے ان کے قدم منجمد کر دیے۔
اس سے پہلے کہ وہ گولیاں چلا پاتے، زافیر کے بازو پوری طرح پھیل چکے تھے اور اس کے نوکیلے پنجے ان کے چہروں میں دھنس گئے۔ گوشت پھاڑتے ہوئے اس نے چار گہری، خونی لکیرں چھوڑ دیں۔ وہ دونوں وحشت سے چہروں کو تھام کر پیچھے ہٹے اور ایسی چیخیں ماریں جیسے ان کی روح تک جل اٹھی ہو۔ اس کے ناخن زہر سے بھرے ہوئے تھے اور ان کے زخموں میں ایسا جلتا ہوا درد اترا کہ محسوس ہوا جیسے تیزاب چہروں پر بہا دیا گیا ہو۔
زافیر ڈھلوان پر لڑھکتا ہوا زمین میں پنجے گاڑ کر رک گیا۔ پھر چند فٹ گِھسٹنے کے بعد اپنے جسم کو سنبھالتے ہی دوبارہ پلٹا اور شکار پر جھپٹا۔ اس کے وار اب اور بھی سفاک ہو گئے۔ وہ چہرے چیر رہا تھا، گوشت کے ٹکڑے اڑا رہا تھا۔ ہونٹ، ناک، گال اور آنکھیں… سب ایک ایک کر کے الگ ہو رہے تھے، اور خون کے چھینٹے ہوا میں بکھر رہے تھے۔ چیخیں اور ہڈیوں کے ٹوٹنے کی آوازیں مل کر ایسا ہولناک منظر بنا رہی تھیں جو دیکھنے والے کی نیندیں ہمیشہ کے لیے حرام کر دے۔
جب وہ دونوں خاموش اور بے جان ہو گئے تو زافیر کی سرخ آنکھیں باقی افراد کی طرف مُڑیں۔ اس کے لیے وہ سب بس شکار تھے۔ انسانی گوشت اور خون نے اس کے وجود سے انسانیت نوچ کر پھینک دی تھی۔ وہ ایک خالص درندہ بن چکا تھا اور اس کی آنکھوں میں جلتی انتقام کی آگ میں بہت سے جسم اور زندگیاں بھسم ہونے والی تھیں۔
°°°°°°°°°°
…جاری ہے
