ناول درندہ
قسط نمبر 20
باب دوّم: انتقام
مصنف: زیاد اصغر زارون
°°°°°°°°°°
متوازی دنیا کے گھنے اور سنسان جنگل میں، ایک انجان مقام پر زمار کا قیدی ایک اونچے درخت کے تنے سے مضبوطی سے بندھا ہوا تھا۔ اس کا سر تھکن اور کمزوری سے جھکا ہوا تھا، آنکھیں بند تھیں اور وہ نیم بے ہوشی کے عالم میں دکھائی دے رہا تھا۔ اس کے سینے پر شرٹ نہیں تھی اور دونوں بازو کہنیوں سے اوپر تک کٹے ہوئے تھے۔ زخموں پر پرانے کپڑوں کی پٹیاں لپٹی ہوئی تھیں، جن میں خون سیاہ دھبوں کی صورت جما ہوا تھا، جیسے یہ سفاکی کئی گھنٹے پہلے کی گئی ہو۔
اس کی ایک ٹانگ بھی ران تک کاٹ دی گئی تھی اور زخم پر اس کی اپنی شرٹ کس کر باندھی گئی تھی تاکہ خون کا بہاؤ رُک سکے۔ پھر بھی شرٹ کے کپڑے سے سرخ بوندیں زمین پر ٹپک رہی تھیں اور مٹی میں خون کا ہلکا سا تالاب بنا رہی تھیں۔
قریب ہی ایک بجھا ہوا الاؤ تھا، جس کے نیچے دبی لکڑیاں اب سرخ انگاروں میں بدل چکی تھیں۔ آگ کے اوپر دو لکڑی کے کراس ٹکے ہوئے تھے، جن پر نوجوان کی وہی کٹی ہوئی ٹانگ رکھی تھی۔ چمڑی اُتَری ہوئی، جزوی جلی ہوئی، جیسے اسے آگ پر بھون کر تیار کیا جا رہا ہو۔
زمار آہستگی سے آگ کے پاس آیا، اس نے بھنی ہوئی ٹانگ کو پاؤں سے گھمایا پھر چاقو کی دھار سے گوشت کا ایک جلا ہوا گرم ٹکڑا کاٹ کر دانتوں کے نیچے دبا لیا۔
ہُممم…” وہ سر کو ہلکا سا جھٹکا دیتے ہوئے بولا، جیسے اسے کسی لذیذ ترین کھانے کا مزہ آیا ہو۔”
“اچھا ہے… اب ذائقہ بالکل صحیح ہے۔”
،اس کی نظریں قیدی کی طرف مڑ گئیں، آنکھوں میں ایک وحشی چمک ابھر آئی تھی
“کیا… اپنا گوشت کھانا چاہو گے؟”
یہ کہتے ہی وہ خود ہی قہقہوں میں پھوٹ پڑا۔
پھر اس نے قریب رکھی خون کی بوتل اٹھائی اور آہستہ آہستہ گھونٹ بھرتے ہوئے آدھی بوتل خالی کر دی۔
“واہ… مزہ آ گیا۔” اس کے ہونٹ خون سے تر تھے۔
ایک اور گوشت کا ٹکڑا کاٹ کر کھانے کے بعد، وہ ایک خالی بوتل لیے لڑکے کے قریب آیا۔ اب وہ جان چکا تھا کہ قیدی کی سانسیں آخری حد پر ہیں۔ اس نے گردن میں باریک چھری سے سوراخ کیا اور تیز دھار میں بہتا خون بوتل میں بھرنے لگا۔ کچھ ہی لمحوں میں بوتل آدھی بھر گئی پھر خون آہستہ آہستہ رک گیا۔
زمار نے رسی کھول کر لاش کو زمین پر گرایا، پھر پاؤں کی رسی باندھ کر درخت کی موٹی شاخ سے گزار کر اسے الٹا لٹکا دیا۔ اب وہ ایک ماہر قصائی کی طرح بے رحمی سے اس کا سینہ اور پیٹ چیر رہا تھا۔ دل، پھیپھڑے، جگر، کلیجہ… ایک ایک عضو نکالتا جا رہا تھا۔
°°°°°°°°°°
ایان اپنے وسیع لان میں بیٹھا تھا۔ اس کے دونوں خاص آدمی قریبی کرسیوں پر بیٹھے تھے جبکہ وہ خود ہاتھ میں موبائل تھامے ضمیر سے ویڈیو کال پر بات کر رہا تھا۔
،ایان کے چہرے پر غصے کی سرخی اور آنکھوں میں چمکدار شعلے جھلک رہے تھے۔ وہ بھڑکتے ہوئے بولا
“میں نے تمہیں واضح طور پر کہا تھا… اسے مار دو۔ لیکن تمہارے سر پر لالچ کا بھوت سوار تھا۔ تمہیں اندازہ بھی ہے، تم نے کتنی بڑی حماقت کر دی؟”
،ضمیر کا لہجہ بھی بھڑک اٹھا
“آپ کو بھی پوری معلومات دینی چاہیے تھیں۔ آپ نے پہلے کیوں نہیں بتایا کہ زافیر ایک خونخوار درندہ ہے۔”
،ایان نے تمسخرانہ ہنسی کے ساتھ جواب دیا
“یہ من گھڑت کہانیاں سنا کر اپنی ناکامی چھپانے کی کوشش مت کرو۔”
،ضمیر نے تیز لہجے میں کہا
“میں کہانیاں نہیں سنا رہا… میرے پاس ثبوت ہیں۔ میں ابھی فوٹو بھیجتا ہوں، آپ خود دیکھ لینا۔”
،اس لمحے ویڈیو کال کا فریم جَم گیا۔ چند لمحوں بعد سکرین دوبارہ حرکت میں آئی اور ضمیر کا چہرہ پھر نظر آنے لگا۔ اس کی آنکھوں میں وحشت تھی
اس درندے نے میرے آدھے سے زیادہ ساتھیوں کو مار ڈالا۔ صرف مارا ہی نہیں… ان کی لاشوں کو چیر پھاڑ کر رکھ دیا۔”
” کیا تمہیں لگتا ہے کہ یہ کسی انسان کا کام ہے؟
ضمیر کا لہجہ اب ‘آپ’ سے ‘تم’ میں بدل چکا تھا۔
ایان نے بغیر جواب دیے ویڈیو ہٹا دی اور فوراً آنے والی تصاویر ڈاؤنلوڈ کرنے لگا۔ اسکرین پر مسلی ہوئی لاشیں ابھر آئیں، کٹے پھٹے اعضاء، گہرے خون کے دھبے اور زمین پر پھیلے پیروں اور ہاتھوں کے نشانات۔ ہر تصویر، گویا ایک خون آشام داستان سنا رہی تھی۔
،ایان نے دوبارہ ویڈیو کال کھولی۔ اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی تمسخرانہ مسکراہٹ ابھری اور وہ طنزیہ لہجے میں بولا
“مجھے تو زافیر کہیں بھی درندے کے روپ میں دکھائی نہیں دیا۔ کیا تم نے اپنی آنکھوں سے زافیر کو درندہ بنتے دیکھا تھا؟”
،ضمیر کی آواز بھڑک اٹھی
“نہیں، میں نے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا… لیکن کیا یہ تصویریں دیکھ کر بھی تمہیں سمجھ نہیں آ رہی؟ کیا ابھی بھی کوئی شک باقی ہے؟”
،ایان نے دانت پیستے ہوئے جواب دیا
“تم اپنی غلطی چھپانے کے لیے ایسی ہزار تصویریں بھی بنا لو… پھر بھی انجام تو تمہیں بھگتنا ہی پڑے گا۔”
،ضمیر کا خون کھول اٹھا۔ وہ اب کھلے عام بدتمیزی پر اتر آیا
“میں نے جو کہا، وہ ایک ایک لفظ سچ ہے۔ جب وہ تمہارا کلیجہ نکالے گا تو تم خود جان جاؤ گے۔”
،ایان نے بے نیازی سے کہا
“اسے میں بعد میں دیکھ لوں گا۔ تم اپنی خیر مناؤ۔”
،ضمیر نے غصے میں تھوک نگلتے ہوئے کہا،
“!…تُو بھی بھاڑ میں جا… اور تیرے لوگ بھی۔ جو اکھاڑنا ہے، آ کر اکھاڑ لو”
ایان کے دل میں آیا کہ اسے کوئی زوردار گالی دے مگر اس سے پہلے ہی ضمیر کال کاٹ چکا تھا۔ اس نے موبائل اپنے قریبی ساتھی کو دیتے ہوئے کہا،
“اپنے جہلم والے بندے سے رابطہ کرو… کیا نام تھا اس کا…؟”
ایان نے ماتھا مسلتے ہوئے سوچا۔
،اس کا ساتھی موبائل پر تصویریں دیکھتے ہوئے بولا
“اختر… اختر نام ہے اس کا۔”
“ہاں… وہی۔ اسے کہو، ضمیر کو ختم کر دے اور اس کے سب آدمیوں کو بھی۔ یہ اب ہمارے کسی کام کا نہیں۔”
ساتھی نے موبائل میں تصویریں گھورتے ہوئے پریشان لہجے میں کہا،
“کیا ہو اگر… ضمیر سچ کہہ رہا ہو؟ اگر زافیر واقعی کوئی درندہ ہوا تو…؟”
،ایان پہلے ہی غصے میں تھا، اس بات پر اس کا پارہ اور چڑھ گیا
“کیا تمہارا دماغ بھی خراب ہو گیا ہے؟”
،پھر اس نے خود کو سنبھالتے ہوئے نسبتاً نرم لہجے میں کہا
درندے صرف کہانیوں میں ہوتے ہیں، حقیقت میں ان کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔”
لازماً زافیر کے ساتھی پہنچ گئے ہوں گے اور ضمیر اب انٹرنیٹ سے خوفناک تصویریں ڈھونڈ کر بھیج رہا ہے تاکہ ہم اس کی ناکامی معاف کر دیں۔
“اگر وہ سچا ہوتا تو کم از کم کسی ایک تصویر میں زافیر نظر آتا۔
اس کی یہ دلیل سن کر ساتھی نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ وہ پڑھا لکھا آدمی تھا اور ایسی کہانیوں پر یقین نہیں رکھتا تھا۔ ابھی چند لمحے پہلے اس کے دماغ میں وہم نے جگہ بنائی تھی مگر ایان کی دو باتوں نے اسے فوراً قائل کر دیا کہ ضمیر صرف ڈرامہ کر رہا ہے۔
اب وہ اسے جڑ سے اکھاڑنے کا منصوبہ بنا رہے تھے… مگر وہ اس حقیقت سے بے خبر تھے کہ ضمیر تو پہلے ہی زافیر کے خوف سے پاکستان چھوڑ کر جا چکا ہے۔
°°°°°°°°°°
زافیر کے بنگلے کی سمت دس گاڑیاں برق رفتاری سے بڑھ رہی تھیں۔ سب سے آگے چار ویگو ڈالے تھے، ان کے پیچھے ایک چمکتی ہوئی بلٹ پروف رینج روور اور اس کے عقب میں مزید پانچ ویگو ڈالے قطار بنائے ہوئے تھے۔ ہر ڈالے میں چار گن مین، سینوں پر بھاری بلٹ پروف جیکٹیں پہنے اور ہاتھوں میں کلاشنکوف تھامے، پوری تیاری کے ساتھ بیٹھے تھے۔
بنگلے کا گیٹ آہستہ آہستہ کھلنے لگا اور گاڑیاں پہنچنے تک مکمل کھل چکا تھا۔ جیسے ہی قافلہ پارکنگ ایریا میں رکا، گارڈز نے ایک ساتھ چھلانگ لگائی۔ بھاری بوٹ زمین سے ٹکرائے اور وہ دوڑتے ہوئے پورے بنگلے کے چاروں اطراف پھیل گئے۔
فرنٹ سیٹ سے ایک گن مین لپک کر اترا اور تیزی سے رینج روور کا پچھلا دروازہ کھولا۔ دوسری طرف ویگو ڈالے سے اترنے والے نے دروازہ تھام لیا۔ اسی لمحے، ایک طرف سے زافیر نمودار ہوا۔ اس نے سیاہ پینٹ اور شرٹ پہن رکھی تھی۔ جسمانی طور پر وہ پہلے سے کچھ کمزور نظر آ رہا تھا مگر اس کی وقار بھری شخصیت اب بھی جمی ہوئی تھی۔ کندھوں تک آتے بال حسبِ معمول سنوارے ہوئے تھے۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اب وہ کلین شیو نہیں تھا، چہرے پر ہلکی مگر سلیقے سے تراشی گئی داڑھی اور مونچھیں تھیں۔
دوسری جانب سے کمانڈر زید باہر آیا، سفید کپڑوں پر سیاہ واسکٹ پہنے، چہرے پر سنجیدگی اور آنکھوں میں گہری چمک لیے۔
اتنی گاڑیاں ایک ساتھ بنگلے میں داخل ہوتے اور گارڈز کے بھاری قدموں کی دھمک سن کر حورا گھبرا کر باہر نکلی۔ اس کی نظریں جیسے ہی زافیر پر پڑیں، وہ ساکت ہوئی مگر اگلے لمحے مڑ کر بنگلے کے اندر بھاگ گئی۔
وہ پھولے سانس کے ساتھ، مومنہ خاتون کے کمرے میں پہنچی۔ آزلان کے قتل کو آج چار دن ہو چکے تھے۔ مومنہ خاتون غم سے نڈھال، بیڈ پر پہلو بدلے لیٹی ہوئی تھیں۔ آنکھوں کے کنارے نم تھے اور کمرے میں ایک گہری، رنج بھری خاموشی چھائی تھی۔ ایسی خاموشی جو اندر آنے والے ہر دل کو چیر دیتی تھی۔
“آنٹی…! آنٹی…!” حورا نے ان کا پاؤں ہلایا۔
مومنہ خاتون نے آہستہ سے سر اٹھایا، نم آنکھوں سے حورا کی طرف دیکھا۔
،حورا ہانپتے ہوئے بولی
“وہ… وہ زافیر آ گیا ہے۔”
یہ سنتے ہی مومنہ خاتون کا زخم جیسے پھر سے ہرا ہوگیا۔ ان کی آنکھوں سے آنسو بے اختیار بہہ نکلے۔ وہ جھٹ سے اٹھی، چپل پہننے کا بھی ہوش نہ رہا، ننگے پاؤں کمرے سے باہر نکل پڑی۔
زافیر ابھی برآمدے کی سیڑھیوں تک بھی نہیں پہنچا تھا کہ مومنہ خاتون دروازے سے باہر آئیں۔ جیسے ہی ان کی نظر زافیر پر پڑی، وہ ایک دم دہاڑ مار کر رونے لگیں۔ بین کرتی ہوئی وہیں برآمدے کے فرش پر ڈھے گئیں۔
زافیر تیزی سے لپکا، گھٹنوں کے بل جھک کر انہیں اپنے بازوؤں میں سمیٹ لیا۔ اس لمحے مومنہ خاتون کے صبر کے سب بندھن ٹوٹ چکے تھے۔ ان کی ہر سسکی، ہر بین، جیسے پورے بنگلے کی دیواریں ہلا دینے کو تھے۔ بیٹے کی موت نے انہیں اس قدر توڑ دیا تھا کہ سنبھلنا ممکن نہیں رہا۔
وہ ماں تھی… ایک دکھیاری ماں، جسے زندگی کے ہر موڑ پر اپنوں نے دھتکارا، رسوا کیا، مگر بیٹے کے لیے ہمیشہ ڈٹی رہی۔ وقت کے ہر طوفان کا سامنا کیا مگر جوان بیٹے کے جنازے نے جیسے ان کی زندگی کا آخری سہارا بھی چھین لیا۔
زافیر خاموشی سے انہیں تھامے بیٹھا رہا۔ اس کی اپنی آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی، دل میں ہول اٹھ رہے تھے۔ جی چاہ رہا تھا کہ وہ بھی ٹوٹ کر رو پڑے مگر نہ وہ آنسو بہا پایا، نہ ہی آواز نکال پایا۔ آخرکار، آہستگی سے انہیں سہارا دے کر کھڑا کیا اور کندھے سے لگا کر بنگلے کے اندر لے گیا۔
حورا اس خاندان میں کچھ دن پہلے ہی آئی تھی اور ان کے لیے اس کے دل میں خاص جذبات بھی نہیں تھے، یہ منظر دیکھ کر وہ بھی اپنے آنسو روک نہیں پائی۔ بیٹے کے غم میں ٹوٹی ماں کا درد، وہ بھی برداشت نہیں کر سکی۔ آزلان کی موت پر اسے ذاتی دکھ نہیں تھا، مگر مومنہ خاتون کی اجڑی کوکھ نے اسے رلا دیا۔ ایک ماں کا غم، جس نے اپنے گھر سے جوان بیٹے کا جنازہ اٹھتے دیکھا ہو، دیکھنے والے کے دل کو بھی ہلکان کر دیتا ہے۔
وہ آنسو پونچھتی ہوئی آہستہ آہستہ ان کے پیچھے چل دی۔ آبرو بھی زافیر کے قریب آ گئی تھی مگر خاموش رہی۔ زافیر کے تین دن غائب رہنے سے وہ بھی بےچین تھی، لیکن پھر بھی قریب نہیں آئی… شاید اسے احساس تھا کہ اس وقت آزلان کی ماں کو زافیر کی ضرورت، اس سے زیادہ ہے۔
°°°°°°°°°°
مومنہ خاتون کے ساتھ کچھ دیر کمرے میں بیٹھ کر، ان کے دکھ سننے اور انہیں سہارا دینے کے بعد زافیر آہستہ آہستہ باہر آیا۔ جیسے ہی اس نے برآمدے میں قدم رکھا، اس کی نظر آبرو پر جا ٹھہری۔ وہ دروازے کے پاس کھڑی تھی، چہرے پر سہما ہوا تاثر، آنکھوں میں خوشی کی ہلکی سی جھلک۔
زافیر اس کے قریب آیا، جھک کر اس کے دونوں گال چومے، پیشانی پر نرمی سے بوسہ دیا، پھر آنکھوں پر ہونٹ رکھ کر گھٹنے ٹیکتے ہوئے اسے اپنے بازوؤں میں بھر لیا۔
،وہ کچھ لمحے یونہی اسے سینے سے لگائے رہا۔ آبرو خود پیچھے ہٹی، معصومیت سے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے دھیرے سے بولی
“آپ کہاں چلے گئے تھے، بابا؟ آپ کو پتا ہے آنٹی کتنی روئی ہیں۔”
،زافیر نے اس کے ننھے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیے۔ گہری تھکن اور کرب زافیر کے چہرے پر واضح تھا۔ آبرو پھر بولی
“وہ… وہ انکل آزلان کو لائے تھے… پھر لے گئے… کیا وہ مر گئے ہیں، بابا؟”
یہ سوال زافیر کے دل میں تیر کی طرح پیوست ہوا۔ اس کی آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو نکل کر گالوں پر بہنے لگے۔ آبرو نے اپنی ننھی ہتھیلی سے اس کے آنسو صاف کیے۔ اس کی اپنی آنکھوں میں بھی پانی بھر آیا تھا۔
“نہ روئیں نا بابا… اگر آپ بھی روئیں گے تو آنٹی کو کون چپ کرائے گا؟” وہ روہانسے لہجے میں بولی۔
،زافیر نے جلدی سے اپنے آنسو پونچھے، ایک مدھم سی مسکراہٹ لاتے ہوئے کہا
“ہم چپ کرائیں گے نا بیٹا… ہم ان کا خیال رکھیں گے۔”
،پھر اس نے ایک بار پھر اس کی پیشانی پر بوسہ دیا اور نرمی سے بولا
“چلو، اب تم آنٹی کے پاس جاؤ، ان سے باتیں کرو۔”
،آبرو نے گردن جھکاتے ہوئے ہلکے سے کہا
“میں نہیں جاؤں گی، بابا… جب میں جاتی ہوں تو وہ اور زیادہ روتی ہیں۔”
،زافیر نے نرمی سے اس کے شانے پر ہاتھ رکھا
“اچھا، پھر تم آنٹی حورا کے پاس چلی جاؤ کچن میں۔ دیکھو، وہ کیا کر رہی ہیں۔”
،آبرو نے ہلکی سی اثبات میں گردن ہلائی
“اچھا… میں دیکھتی ہوں، بابا۔”
یہ کہہ کر وہ دھیرے دھیرے کچن کی طرف چل دی جبکہ زافیر کی آنکھوں میں اب بھی نمی باقی تھی۔
،زافیر ہلکے قدموں کے ساتھ زید کے قریب آیا اور دھیمے مگر پُراعتماد لہجے میں بولا
“آپ بیٹھیں… میں پیسے لے کر آتا ہوں۔”
یہ کہہ کر وہ مڑ کر اپنے بیڈروم کی طرف بڑھا۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے بڑی الماری کھولی، پھر اس کے اندر لگا سیف کھولا تو اندر پانچ پانچ ہزار کی بےشمار گڈیاں قرینے سے رکھی ہوئی تھیں۔ الماری کا دوسرا پٹ کھول کر اس نے ایک درمیانے سائز کا شاپر نکالا اور ہاتھ میں تھامتے ہوئے، ایک ایک گڈی احتیاط سے شاپر میں رکھتا جا رہا تھا۔ بارہ گڈیاں رکھ کر، زافیر نے لمحہ بھر کے لیے سوچا اور شاپر لپیٹتے ہوئے واپس ہال میں آگیا۔
زید نے ایک ہلکی سی نظر شاپر پر ڈالی، پھر زافیر کو دیکھا۔ اس کے چہرے پر کوئی خاص تاثر نہیں تھا۔ نہ آنکھوں میں چمک، نہ وہ لالچ یا جوش جو عام لوگ اتنی رقم دیکھ کر محسوس کرتے ہیں۔
زافیر نے شاپر شیشے کے میز پر رکھ دیا اور خود سامنے والے صوفے پر بیٹھ گیا۔ زید پہلو بدل کر سیدھا بیٹھا، نظریں زافیر کی آنکھوں میں گاڑتے ہوئے بولا،
“ابھی مجھے کال آئی ہے… پتا چلا ہے کہ ضمیر اپنے خاندان کے ساتھ عمان بھاگ گیا ہے۔”
زافیر نے نفی میں سر ہلایا، جیسے یہ بات اسے کسی طور قابلِ قبول نہ ہو۔
“نہیں… نہیں زید صاحب…! مجھے وہ ہر حال میں چاہیے۔”
،زید نے ہلکے مگر سنجیدہ لہجے میں جواب دیا
“اسے پکڑنے میں تو وقت لگے گا، البتہ اس کا بھائی ہماری گرفت میں آچکا ہے۔”
“اس کا بھائی…؟”
،زافیر نے چونک کر سوال کیا، پھر جیسے ایک فیصلہ کن کیفیت میں بولا
“مجھے وہ چاہیے… شام تک… اور مجھے اپنے گھر چاہیے۔”
،زید نے تسلی دینے کے انداز میں کہا
“آپ خود کو کیوں تکلیف دے رہے ہیں… ہم اس سے پوچھ گچھ کر ہی رہے ہیں نا۔”
“…نہیں”
زافیر نے نفی میں سر ہلایا، چہرے پر ضد اور عزم نمایاں تھا۔
“آپ نے کہا تھا کہ میں جو چاہوں گا، آپ وہ سب میرے لیے کریں گے۔ مجھے یہ آدمی شام سے پہلے، ہر حال میں چاہیے۔”
،زید چند لمحے سوچ میں پڑا، پھر آہستہ سے گردن ہلاتے ہوئے بولا
“ٹھیک ہے۔”
،زافیر نے پہلو بدلتے ہوئے بات آگے بڑھائی
“میں نے آپ کی بات مانی… اور ایان پر براہِ راست وار کرنے سے پہلے، اس کا پنجاب میں موجود نیٹ ورک ختم کرنے پر رضا مند ہوں۔ لیکن… میری بھی ایک شرط ہے۔”
،زید نے ابرو چڑھاتے ہوئے پوچھا،
“کیسی شرط…؟”
،زافیر کی آنکھوں میں ایک ٹھنڈا سا عزم چمکا
“ہر گروپ کا مرکزی غنڈا مجھے چاہیے۔ ہم جس گروپ پر بھی دھاوا بولیں گے، اس کا باس میرے پاس آئے گا… زندہ اور صحیح سلامت۔”
،زید کے چہرے پر ہلکی سی ناگواری اُبھری، مگر لہجہ نرم رکھتے ہوئے بولا
“میں جانتا ہوں آپ پر بدلے کا بھوت سوار ہے… لیکن ان لوگوں کی ہمیں تفتیش کے لیے ضرورت ہوگی۔”
،زافیر نے سنجیدگی سے جواب دیا
“آپ اس کی فکر نہ کریں۔ میں آپ سے بہتر تفتیش کروں گا۔ اور ہر بار… آپ کو مکمل اور کار آمد معلومات ملیں گی۔ یہ میرا وعدہ ہے۔”
زید کچھ دیر خاموش رہا، نظریں جھکائے سوچتا رہا پھر اثبات میں سر ہلا کر اس کی شرط مان لی۔ اس نے جیب سے موبائل نکالا اور ضمیر کے بھائی کو زافیر کے بنگلے پر لانے کے انتظامات کرنے لگا۔
°°°°°°°°°°
زافیر کی ذبح گاہ میں ایک بھاری سٹیل کی میز کے اوپر ایک انیس سالہ نوجوان رسیوں میں جکڑا ہوا تھا۔ دھاتی میز کی ٹھنڈک اس کی جلد میں سرایت کر رہی تھی اور کافی دیر تک تڑپنے کے بعد اب اس کی سانسیں ہانپتی اور تھکن سے بھری ہوئی تھیں۔ پسینے اور خوف کی ملی جلی بُو کمرے میں پھیلی ہوئی تھی۔
زافیر، میز کے قریب ایک کرسی پر بیٹھا، ٹھنڈی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر کوئی جذبہ نہیں تھا۔
،نوجوان نے تھوڑی ہمت جُٹائی اور دھیمے مگر صاف لہجے میں کہا
“میں آپ کے آدمیوں کو پہلے ہی بتا چکا ہوں… میرا ضمیر کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں۔”
زافیر نے نظریں اس پر گاڑ دیں، جیسے الفاظ کی تہہ میں جھوٹ ڈھونڈ رہا ہو۔
“اور تم چاہتے ہو کہ میں تمہارے اس جھوٹ پر یقین کر لوں؟”
،یہ سچ ہے، محترم…” نوجوان نے جواب دیا، پھر ہلکی سی گردن اوپر اٹھاتے ہوئے کہا”
“آپ خود بتائیں، اگر واقعی میرا اس کے ساتھ کوئی تعلق ہوتا… تو میں ایک عام سے ہوٹل میں ویٹری کیوں کرتا؟”
زافیر لمحہ بھر کو رکا، اس کے چہرے پر ہلکی سی حیرت اُبھری، مگر فوراً سر نفی میں ہلا دیا۔
“نہیں… یہ بھی جھوٹ ہے۔”
نوجوان نے گہری سانس لی، جیسے اندر کا غبار باہر نکالنا چاہتا ہو۔
“اُف خدایا… میں آپ کو کیسے یقین دلاؤں؟”
،پھر کچھ سوچ کر تلخی سے بولا
“اگر اسے میری پرواہ ہوتی… تو کیا یوں لاوارث چھوڑ کر جاتا؟”
،زافیر کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ آئی، مگر لہجہ نرم تھا
“ظاہر ہے… پیچھے اپنا دھندا سنبھالنے کے لیے، اس نے کسی کو تو چھوڑنا ہی تھا۔”
،نوجوان کے چہرے پر شکستہ سی مسکراہٹ آئی، جیسے آخری لفظ کہہ رہا ہو
“آپ کے پاس ہر دلیل کا جواب ہے… تو میں اب کیا کہوں؟ بہتر ہے آپ… مجھے مار ہی دیں۔ شاید اس طرح… آپ کے دل کو سکون مل جائے۔”
زافیر کے لبوں پر زہریلی مسکراہٹ پھیل گئی۔ وہ آہستہ قدموں سے اوزاروں کے ٹیبل کی طرف بڑھا۔ وہاں سے اس نے قینچی، ایک چمکتا ہوا خنجر، باریک دھار والی چھری اور ایک زنگ آلود پلاس اٹھایا۔
وہ ٹرے میں اوزار سجا کر نوجوان کے قریب آیا۔ پلاس کو ہاتھ میں لیتے ہوئے اس کا لہجہ سرد اور کاٹ دار تھا۔
،یہاں موت نہیں ملتی…” زافیر کے الفاظ میں سفاکی ٹپک رہی تھی”
“لوگ موت کی بھیک مانگتے ہیں مگر انہیں موت نصیب نہیں ہوتی۔”
اس نے نوجوان کی ایک انگلی مضبوطی سے تھام لی۔ لڑکے کو فوراً اندازہ ہوگیا کہ اس کا ناخن اکھڑنے والا ہے۔ اس کی سانسیں بھاری ہوئیں مگر اس نے آنکھیں موند کر خود کو ذہنی طور پر تیار کر لیا۔
“یہاں موت تب ہی ملتی ہے… جب اس کی قیمت ادا کی جائے۔”
زافیر نے پلاس کے جبڑوں میں اس کا ناخن جکڑا اور ایک جھٹکے سے کھینچ لیا۔
ہلکی سی کراہ لڑکے کے لبوں سے نکلی مگر نہ وہ چیخا اور نہ ہی رویا۔
زافیر نے درجنوں جرائم پیشہ افراد کو اس میز پر اپنا شکار بنایا تھا۔ اکثر تو چیر پھاڑ شروع ہونے سے پہلے ہی رو پڑتے تھے اور جو نہیں روتے، وہ پہلے ہی وار پر چیخیں مارنے لگتے تھے۔ اس کے تجربے نے اسے سکھایا تھا کہ جرائم پیشہ اکثر بزدل ہوتے ہیں… مگر یہ لڑکا مختلف تھا۔ اس میں ایک عجیب سی بہادری اور درد سہنے کی غیر معمولی برداشت تھی۔
،زافیر نے پلاس واپس ٹرے میں رکھا، پھر جھک کر اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا
“مجھے کچھ ایسا بتا دو… جو مجھے تمہارے بھائی ضمیر تک پہنچانے میں مدد دے۔ بس اتنا کر دو تو میں وعدہ کرتا ہوں، تمہیں آسان موت دوں گا۔”
،نوجوان نے نفی میں سر ہلا دیا مگر ذہن پر زور ڈالنے لگا۔ اچانک کچھ یاد آنے پر چونکا اور سیدھا زافیر کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا
“آپ کے آدمیوں نے بتایا تھا کہ ضمیر نے عمان کی ٹکٹ بک کروائی تھی۔”
،زافیر نے خاموشی سے اثبات میں سر ہلایا
،نوجوان نے گردن اٹھاتے ہوئے کہا
ضمیر کے سالے عمان میں رہتے ہیں۔ وہاں ان کی ایک بڑی سپر مارکیٹ ہے… اور تین چھوٹے ریسٹورنٹ بھی ہیں۔”
” یقیناً ضمیر نے انہی کے پاس پناہ لی ہوگی۔
زافیر کی نظریں اس کی آنکھوں میں جمی رہیں۔ وہ آنکھیں جھوٹ نہیں بول رہی تھیں۔
،بہت خوب…” زافیر نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ خنجر اٹھایا”
“تم آسان موت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔”
لیکن نوجوان کی آواز میں اب بھی ایک چنگاری باقی تھی۔
“آپ چاہیں تو مجھے مار دیں… مگر وعدہ کریں، ضمیر کو آسان موت نہیں دیں گے۔ اسے تڑپا تڑپا کر ماریے گا۔”
اس کی آنکھوں میں غصے کی آگ دہک رہی تھی۔
،زافیر نے ذرا سا چونک کر پوچھا
“اور تم ایسا کیوں چاہتے ہو؟”
،لڑکے نے گردن موڑی، نظریں چھت پر جما دیں اور دھیمی آواز میں بولا
“میں اپنے باپ کے قاتل کے لیے… دردناک موت کے علاوہ اور کیا خواہش کر سکتا ہوں۔”
“تمہاری خواہش ضرور پوری ہوگی۔”
زافیر نے آہستہ سے کہا اور خنجر اس کی گردن تک لے آیا۔ لمحہ بھر کو اس نے تیزی سے وار کرنے کی کوشش کی، مگر ہاتھ قریب پہنچ کر رک گیا۔ جیسے کسی ان دیکھی طاقت نے اسے روک لیا ہو۔ اس نے خنجر پیچھے کھینچا اور اس بار سینے کا نشانہ لیا، لیکن پھر بھی وار نہیں کر سکا۔
اس کا دماغ ضد کر رہا تھا… دماغ اس نوجوان کو مارنے نہیں دے رہا تھا، مگر اسے چھوڑنا بھی ممکن نہیں تھا۔
زافیر نے خنجر ٹرے میں واپس رکھا، بھاری قدموں سے کرسی پر جا بیٹھا اور آنکھیں موند لیں۔ کافی دیر یونہی خاموش پڑا رہا، سانسیں گہری اور بوجھل تھیں۔
،پھر آہستگی سے آنکھیں کھولیں اور نرمی سے پوچھا
“تمہارا نام کیا ہے؟”
“ندیم… میرا نام ندیم ہے۔”
،ہممم…” زافیر نے ہونٹ بھینچے”
جیب سے موبائل نکالا اور
مخصوص ایپ پر
Enter
کے آئیکن کو چھوا۔
ذبح گاہ کا فرش لِفٹ کی مانند آہستہ آہستہ نیچے سرکنے لگا۔
یہ موبائل نیا تھا… پہلا موبائل گم ہو چکا تھا۔ اس نے اپنے بنگلے کے آرکیٹیکٹ سے دوبارہ ایپ منگوا کر اکاؤنٹ لاگ ان کیا تھا۔
جب فرش تہہ خانے میں جا پہنچا، زافیر نے ندیم کے ہاتھوں اور پیروں کی ہتھکڑیاں کھول دیں۔ سینے سے جمی بیلٹ بھی اتار دی اور بازو سے پکڑ کر تہہ خانے کی ایک مخصوص سمت میں لے گیا۔
وہاں فولادی سلاخوں کے چھوٹے چھوٹے سیل قطار میں بنے ہوئے تھے جو صرف زافیر کے فنگر پرنٹ سے کھل سکتے تھے۔
زافیر ایک سیل کے سامنے رکا، فنگر پرنٹ دیا، بیپ کی ہلکی سی آواز گونجی اور سبز روشنی جھلملائی۔ اگلے ہی لمحے فولادی دروازہ ایک جھٹکے سے کھل گیا۔
اس نے ندیم کو اندر دھکیلا اور دروازہ زور سے بند کر دیا۔ دوبارہ بیپ ہوئی اور سبز روشنی سرخ میں بدل گئی… مطلب سیل لاک ہو چکا تھا۔
،زافیر پلٹنے لگا تو ندیم کی آواز پیچھے سے گونجی
“تم نے مجھے کیوں نہیں مارا؟”
،زافیر رکا، مڑ کر اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا
“کیونکہ میں بے گناہ لوگوں کو نہیں مارتا۔”
“اگر تمہیں میری بے گناہی کا یقین آگیا ہے تو مجھے جانے کیوں نہیں دیتے؟” ندیم کے لہجے میں تیزی تھی۔
،زافیر نے نفی میں سر ہلایا، ہونٹ سختی سے بھینچ لیے
“نہیں… تمہیں نہیں چھوڑ سکتا۔ میرے ذبح خانے سے کوئی واپس نہیں جاتا۔ اب تم زندگی کی آخری سانس تک یہیں رہو گے۔”
اتنا کہہ کر وہ واپس ذبح گاہ کے فرش تک آیا اور موبائل نکال لیا۔
فرش آہستگی سے اوپر اٹھتا چلا گیا، کچھ دیر بعد فرش اپنی اصل جگہ پر آ گیا۔
زافیر اب ذبح گاہ میں بےچینی سے ٹہل رہا تھا۔ اس کے ذہن میں خیالات طوفان کی طرح گردش کر رہے تھے۔ اچانک ایک خیال بجلی کی مانند چمکا اور وہ چند لمحوں کے لیے رک گیا۔ پھر تیز قدموں سے فریزر کی طرف بڑھا اور اسے کھول دیا۔
ٹھنڈی بھاپ کا بادل باہر نکلا، اندر دو انسانی بازو، دو کٹی ہوئی ٹانگیں، ایک انسانی دماغ اور پھیپھڑے پڑے تھے… چھ دن پرانے، جمے ہوئے اور ایک دوسرے سے چپکے ہوئے۔
زافیر نے ایک بازو پکڑ کر پوری طاقت سے کھینچا۔ برف جمی ہوئی تھی مگر وہ ہٹ گیا۔
اسے بیسن میں رکھ کر نیم گرم پانی کا نل کھول دیا۔ پانی کے بہاؤ کے ساتھ برف پگھلنے لگی اور گوشت نرم ہوتا چلا گیا۔
°°°°°°°°°°
فرش دوبارہ آہستگی سے تہہ خانے میں اتر آیا اور زافیر دھیمے قدموں سے تہہ خانے میں داخل ہوا۔
اس کے ہاتھ میں ایک بڑی ٹرے تھی، جس پر شیشے کا گلاس، پانی کا جگ، چھری، کانٹا اور درمیان میں ایک باؤل رکھا تھا۔ باؤل سے تیز خوشبو اٹھ رہی تھی۔
وہ سیل کے سامنے پہنچا، فنگر پرنٹ اسکینر پر ہاتھ رکھا۔ ہلکی سی بیپ اور سبز روشنی کے ساتھ دروازہ کھل گیا۔ زافیر اندر داخل ہوا، ندیم کے قریب پہنچ کر ٹرے فرش پر رکھی اور خود بھی ذرا فاصلے پر بیٹھ گیا۔
باؤل میں سلیمانی کڑاہی کے انداز میں بھنا ہوا، بِنا ہڈی والا گوشت تھا، اوپر باریک کٹی ہری مرچوں کی گارنش اسے مزید نکھار رہی تھی۔ خوشبو تیز اور اشتہا انگیز تھی۔
ندیم کے نتھنوں سے ہوتے ہوئے یہ خوشبو اس کے دماغ تک پہنچی تو اس کی بھوک یکدم بھڑک اٹھی۔
،اس نے ٹرے قریب کرتے ہوئے پوچھا
“یہ کون سا گوشت ہے… بیف یا مٹن؟”
،زافیر نے ہلکا سا آگے کو جھک کر ایک بوٹی اٹھائی، زبان پر رکھی اور چباتے ہوئے بولا
“میں بیف نہیں کھاتا… تم بے فکر ہو کر کھاؤ۔”
،ندیم نے کانٹے سے ایک بوٹی اٹھا کر منہ میں رکھی اور ذائقے کو غور سے محسوس کیا۔ پھر مسکرا کر بولا
“مزیدار ہے… آپ کے ہاتھوں میں کمال ذائقہ ہے۔”
اس نے دوسری بوٹی بھی منہ میں رکھ لی۔
زافیر کے لبوں پر ایک مدھم سی مسکراہٹ پھیل گئی۔
ندیم ایک زندہ دل اور نڈر جوان تھا جو قید اور خطرے کے ماحول میں بھی خوش مزاجی کا مظاہرہ کر رہا تھا۔
…وہ تیزی سے باؤل خالی کر رہا تھا اور ہر دوسرے لقمے کے بعد تعریف کیے جا رہا تھا
بے خبر اس خوفناک حقیقت سے کہ جس گوشت کی وہ تعریف کر رہا ہے، وہ کسی جانور کا نہیں بلکہ ایک انسان کا گوشت تھا… اس جیسے ہی کسی انسان کا۔
زافیر خاموش بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں سرد چمک تھی اور ذہن میں مستقبل کی خفیہ منصوبہ بندی چل رہی تھی۔ خیالات گہرے اور خرافاتی تھے… ایسے جن سے اسے مستقبل میں بے پناہ فائدہ ہونے والا تھا۔
°°°°°°°°°°
…جاری ہے
To Be Continued…….
