ناول درندہ

قسط نمبر 23

باب سوّم: شبکہ

مصنف: زیاد اصغر زارون

°°°°°°°°°°

شادی کے محض دو دن بعد ہی زافیر نے ذبح خانے کے باہر تین بڑے فریزر منگوا لیے تھے۔ الیکٹرونکس کی دکان والے مزدور انہیں دروازے کے پاس اتار کر چلے گئے تھے۔ اس نے خاموشی سے ایک ایک فریزر دھکیل کر اندر پہنچایا اور مخصوص جگہوں پر رکھ کر بجلی کے ساتھ جوڑ دیا۔

ضمیر اب میز پر بندھا ہوا نہیں تھا۔ اس کا ایک پاؤں واش روم کے قریب مضبوط زنجیر سے باندھ دیا گیا تھا۔ زنجیر اتنی لمبی تھی کہ وہ کبھی ضرورت پڑنے پر واش روم جا سکتا تھا اور کھانے کے وقت میز تک بھی پہنچ سکتا تھا۔
Enter زافیر نے اپنے کام سے فراغت پاتے ہی موبائل نکالا اور مخصوص ایپ پر

کے بٹن کو ٹچ کیا۔ یکا یک ذبح خانے کا فرش دھیرے دھیرے نیچے کی طرف کھسکنے لگا اور تہہ خانے کا راستہ کھل گیا۔ فرش اپنی آخری حد تک جا کر رکا تو اس نے ضمیر کی زنجیر کھولی اور اسے گھسیٹتے ہوئے تہہ خانے میں لے گیا۔

وہاں موجود سبھی قیدی اس نئے مہمان کو حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ کچھ کے چہروں پر پہچان کی جھلک ابھری۔
یہ وہی ضمیر تھا، جو کبھی دہشت کا دوسرا نام تھا۔ جس کے ذکر سے لوگ کانپ اٹھتے تھے۔ اور آج زنجیروں میں جکڑا ہوا، بالکل بے بس انسان کی طرح زافیر کے پیچھے چل رہا تھا۔

ندیم اپنی کوٹھڑی میں بیٹھا کتاب کے مطالعے میں مصروف تھا۔ اس نے سر اٹھا کر ایک نگاہ ضمیر پر ڈالی۔ جیسے ہی دونوں بھائیوں کی نظریں ملیں، ضمیر کی آنکھوں میں اچانک ایک چمک جاگ اٹھی۔ جیسے برسوں بعد امید کی کوئی کرن دکھائی دے گئی ہو۔
لیکن اگلے ہی لمحے ندیم کی آنکھوں میں سخت نفرت تیرنے لگی۔ اس نے فوراً نظریں ہٹائیں اور دوبارہ کتاب پر توجہ بنا لی۔ ضمیر کی آنکھوں کی چمک بجھ گئی۔ وہ سر جھکا کر خاموشی سے زافیر کے پیچھے چلنے لگا۔

زافیر نے اسے ایک الگ کوٹھڑی میں قید کر دیا اور خود اسلحے والے حصے کی طرف بڑھ گیا۔ یہ حصہ دو دیواروں کے بیچ بنایا گیا تھا، جہاں اوپر چھت کے ساتھ ایک بڑا سا شٹر والا فولادی ڈبہ نصب تھا۔
زافیر نے دوبارہ موبائل نکالا اور ایپ پر چند لمحے مصروف رہا پھر شٹر کو بند کرنے کی کمانڈ دی۔
ہوا دار رولنگ شٹر ہلکی سی گڑگڑاہٹ کے ساتھ نیچے اترنے لگا۔ کچھ دیر بعد وہ مکمل طور پر نیچے آیا اور دونوں اطراف میں بنے چھوٹے ڈبوں میں لاک ہو گیا۔ اچانک بیپ کی آواز ابھری اور سرخ لائٹس جل اٹھیں۔ اب وہ شٹر بایومیٹرک لاک سے محفوظ تھا جو صرف زافیر کے فنگر پرنٹ پر ہی کھل سکتا تھا۔

تمام حفاظتی انتظام مکمل کرنے کے بعد زافیر، ندیم کی کوٹھڑی کی طرف بڑھا۔

،دروازہ کھولتے ہوئے گہری سنجیدگی سے بولا
“میرے ساتھ آؤ۔”
ندیم نے خاموشی سے کتاب بند کی، سرہانے رکھی اور چپل پہن کر باہر نکل آیا۔
اب دونوں کا رخ ذبح گاہ کی طرف تھا۔

°°°°°°°°°°

کرسی پر ایک جانب ندیم بیٹھا تھا اور دوسری جانب، اس کی طرف رخ کیے زافیر بیٹھا تھا۔
،زافیر نے نرم لہجے میں پوچھا
“تمہیں یہاں کوئی پریشانی تو نہیں ہو رہی؟”

ندیم کے ہونٹوں پر پھیکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
“پریشانی…؟” اس نے تلخی سے کہا۔ “کیا قید سے بڑی بھی کوئی پریشانی ہوتی ہے؟”

اس کے لہجے میں چھپا طنز ہوا میں تیر کی طرح گونج گیا۔
،زافیر لمحہ بھر کے لیے خاموش رہا، پھر آہستگی سے کرسی سے اٹھتے ہوئے بولا
“میں بھی چاہتا ہوں کہ تم قید سے آزاد ہو جاؤ… لیکن آزادی کے بدلے مجھے تمہاری وفاداری چاہیے۔”

یہ کہہ کر وہ ابتدائی طبی امداد والے ڈبے کی طرف بڑھا، وہاں سے ایک سرنج اور باریک سی پٹی نکالی۔ اپنے بازو پر پٹی کس کر باندھی، ایک سرا دانتوں میں دبا لیا، دوسرا ہاتھ سے کھینچا، یہاں تک کہ رگیں ابھر آئیں۔
پھر اس نے سرنج کی سوئی رگ میں اتاری اور آہستگی سے اپنا خون کھینچنے لگا۔ سرنج خون سے بھر گئی تو اس نے سوئی نکالی، پٹی ڈھیلی کی اور بازو آزاد کر لیا۔

،وہ ندیم کی طرف مڑا اور بولا
“اپنی شرٹ کی آستین اوپر چڑھاؤ۔”

ندیم نے چونک کر پوچھا،
“آپ کیا کرنے والے ہیں؟”
ساتھ ہی اس نے آستین کا بٹن کھولا اور فولڈ کرتے ہوئے اوپر چڑھانے لگا۔

،زافیر نے پُرسکون لہجے میں کہا
“مجھ پر بھروسہ رکھو… اور اس میز پر لیٹ جاؤ۔”

ندیم نے ایک لمحے کے لیے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ وہاں عزم اور بے رحمی دونوں جھلک رہے تھے۔ وہ جانتا تھا کہ اس کی مرضی کی کوئی وقعت نہیں۔ چپ چاپ اٹھا، آگے بڑھا اور میز پر لیٹ گیا۔

زافیر نے سرنج اور پٹی قریب رکھی، پھر ندیم کے جسم کو بیلٹوں سے کسنے لگا۔ ایک بیلٹ اس کے سینے پر جمی، دوسری نے اس کی ٹانگوں کو میز سے جکڑ دیا۔
ندیم نے دوبارہ سوال کیا، اس بار لہجے میں بے چینی تھی،
“آپ نے بتایا نہیں؟”

،زافیر نے سرنج اٹھائی اور سنجیدگی سے بولا
“میں تمہیں اپنا خونی بھائی بنانے والا ہوں۔”

یہ سن کر ندیم کے لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ پھیل گئی۔
“خونی رشتہ پیدائش اور خاندان سے بنتا ہے۔ اپنا خون دوسروں کی رگوں میں ڈالنے سے کوئی بھائی نہیں بن جاتا۔”

،زافیر اس کی آنکھوں میں گہری نظر ڈالتے ہوئے بولا
“ابھی تم کچھ نہیں جانتے… لیکن جلد سمجھ جاؤ گے۔”
یہ کہہ کر اس نے پٹی ندیم کے بازو پر کس دی۔ رگیں ابھر آئیں تو ایک موٹی رگ پر نگاہ گاڑ کر سوئی اس میں اتار دی۔ آہستگی سے سرنج کا خون ندیم کی رگوں میں اترنے لگا۔ یہ ساری کاروائی ندیم خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔
،جب سرنج خالی ہوگئی تو زافیر نے اسے نکال کر ڈسٹ بِن میں پھینکا، پھر پٹی بھی کھول کر وہیں پھینک دی
،وہ ندیم کے قریب جھکا اور پُرسکون مگر سرد لہجے میں بولا
“تمہیں اب شدید تکلیف ہوگی… لیکن مجھے یقین ہے تم برداشت کر لو گے۔”

ندیم چند لمحے یونہی بےحس لیٹا رہا۔ مگر جیسے ہی زافیر کا خون اس کی رگوں سے گزرتا ہوا دل تک پہنچا، ایک خوفناک کیفیت نے اس پر حملہ کیا۔ اس کے ماتھے پر پسینے کے قطرے جھلملانے لگے۔ اگلے ہی پل دل نے وہ اجنبی خون پورے جسم میں پھیلا دیا۔

اچانک اسے یوں محسوس ہوا جیسے ہزاروں باریک سوئیاں اس کی رگوں میں ایک ساتھ پیوست ہو رہی ہوں۔ چبھن اتنی تیز اور بےرحم تھی کہ اس کا وجود بےقابو ہو کر میز پر پھڑپھڑانے لگا۔ اس کا جسم اکڑتا اور مُڑتا، جیسے اندر سے کوئی نادیدہ طاقت اس کی رگوں کو نوچ رہی ہو۔

اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے ہزاروں چیونٹیاں رگ رگ میں دوڑ رہی ہوں اور گوشت کے اندر سے کاٹ رہی ہوں۔ اذیت بڑھتی گئی۔ اس کے دانت بھنچ گئے، آنکھوں کی سفیدی سرخ ہونے لگی اور چند ہی لمحوں بعد اس کے منہ سے جھاگ ابلنے لگا۔

زافیر پرسکون انداز میں کرسی پر بیٹھا یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا، جیسے وہ اس تکلیف سے واقف ہو اور قدیم خاندانی رسم کی ادائیگی کر رہا ہو۔

ندیم کی سانسیں بےترتیب ہوئیں، پھر لڑکھڑاتی نبض کی طرح دھیرے دھیرے کمزور پڑنے لگیں۔ اس کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے ابھر آئے، جسم کی طاقت جواب دینے لگی اور اچانک ہی وہ شدید جھٹکے کے بعد بالکل ساکت ہوگیا۔

وہ گہری اور طویل بےہوشی میں جا چکا تھا۔ زافیر جانتا تھا یہ محض آغاز ہے۔ ندیم کا جسم اب اپنے ہی خون کے خلاف بغاوت کر رہا تھا۔ زافیر کے خونی خلیات اور ندیم کے خونی خلیات کے درمیان ایک خاموش مگر ہولناک جنگ جاری تھی۔ جب تک یہ جنگ اپنے انجام تک نہ پہنچتی، ندیم اسی بےہوشی کی قید میں رہنے والا تھا۔
زافیر کرسی سے آہستگی سے اٹھا۔ اس کے چہرے پر اطمینان کی لہر ابھری۔
اب ایک آخری اور سب سے اہم کام باقی تھا۔

°°°°°°°°°°

کازمار کے عظیم دربار میں رینا کی گرفت دن بدن مضبوط ہوتی جارہی تھی۔ اس کی چالاک سازشیں اور نرم لہجے میں لپٹی دھمکیاں درباریوں کے دل و دماغ پر چھا چکی تھیں۔ اکثر درباری اب کازمار کے بجائے رینا کی چاپلوسی کرتے نظر آتے تھے۔ ان کی وفاداریاں دھیرے دھیرے رخ بدل رہی تھیں، جیسے طاقت کا مرکز آہستہ آہستہ رینا کے گرد سمٹ رہا ہو۔

اس وقت رینا اپنے کمرے کے نیم تاریک حصے میں تخت نما کرسی پر بیٹھی تھی۔ کمرے میں بھٹیوں کی سرخی، دیواروں پر لرزتے سائے ڈال رہی تھی۔ اس کے سامنے ہی اس کا ایک وفادار سپاہی کھڑا تھا۔ جس کے بدن سے حرارت اور تپش اٹھتی محسوس ہورہی تھی، جیسے اس کے پیروں کے نیچے فرش بھی جلنے لگا ہو۔

،رینا نے گہری اور پُراسرار سنجیدگی کے ساتھ پوچھا
“کیا تمہارے پاس کوئی ایسا سپاہی ہے جو حد سے زیادہ جذباتی اور جوشیلا ہو؟”

،سپاہی نے لمحہ بھر سوچ کر جواب دیا
ہم سب آگ کی اولاد ہیں، غصہ اور شدت ہماری فطرت ہے۔ “

“مگر… میری نظروں میں چند ایسے سپاہی موجود ہیں جو اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ پاتے۔

،رینا کی آنکھوں میں انجانی سی چمک ابھری
،بہت خوب۔ تو پھر طے رہا۔” اس نے دھیمے مگر کاٹ دار لہجے میں کہا”
تم ایک جذباتی سپاہی کو بادشاہ کا ایلچی بنا کر آبیاروس کے پاس لے جاؤ۔”

اسے خوب بھڑکاؤ، اس کی زبان میں اس قدر زہر بھرو کہ وہ بدتمیزی اور گستاخی کی تمام حدیں پار کر دے”

” اور اس کی زبان سے آبیاروس تک بادشاہ کا ایک خاص پیغام پہنچانا ہے۔

،سپاہی نے محتاط انداز میں پوچھا
“کیسا پیغام؟”

،رینا نے سنجیدگی اور غرور کے امتزاج کے ساتھ کہا
یہ کہ ہمارے آگ کے فرمانروا کازمار چاہتے ہیں کہ آبیاروس اپنی فوج کو سرحد پر پھیلا دے۔”

” ورنہ ایک ہی جگہ پر فوج کا جمع ہونا اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا۔

،یہ سنتے ہی سپاہی کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ اس کے لب کپکپانے لگے اور اس نے خوفزدہ لہجے میں پوچھا
“کیا واقعی آگ کے فرمانروا نے ایسا حکم دیا ہے؟”

،رینا نے تیز نظروں سے اسے گھورا اور آہستہ سے کہا
،نہیں… یہ پیغام میں بھیج رہی ہوں۔” پھر چند پل کے توقف کے بعد مزید بولی”
“اگر انہیں پہلے بتایا تو وہ شاید منع کر دیں۔ لیکن جب یہ سب ہو چکا ہوگا تو وہ میرے فیصلے کو تسلیم کرنے کے سوا کچھ نہیں کر پائیں گے۔”

سپاہی نے ایک لمحے کو سوچتے ہوئے سر جھکایا، پھر گہری سنجیدگی سے بولا،
“جی ٹھیک ہے… میں سمجھ گیا۔ میں فوراً ایک سپاہی کو تیار کرتا ہوں اور اسے ساتھ لے کر روانہ ہوجاؤں گا۔”

،رینا کرسی سے ذرا سا آگے جھکی۔ اس کی آنکھوں میں ایک خطرناک چمک ابھری اور وہ مدھم آواز میں بولی
“یاد رکھنا، روانہ ہونے سے پہلے ایک بار آخری ملاقات کے لیے میرے پاس آنا۔ اگر تم نے میرا مقصد پورا کر دیا… تو تمہیں اپنا ذاتی مشیر بنا لوں گی۔”

رینا کے یہ الفاظ سن کر سپاہی کے چہرے پر بےاختیار خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ رینا کا مشیر بننے کا مطلب صرف بادشاہ کے وزیروں سے بڑھ کر طاقت پانا نہیں تھا… بلکہ دربار کے فیصلوں پر براہِ راست گرفت حاصل کرنا تھا۔ اور طاقت کی پیاس کس کے اندر نہیں چھپی ہوتی؟

°°°°°°°°°°

ندیم کی آنکھ کھلی تو وہ اب بھی میز پر ہی پڑا تھا لیکن اب جسم آزاد تھا۔ اس کے جسم میں عجیب سی کسک اور بے نام سی تبدیلی گردش کر رہی تھی۔ جیسے رگوں میں کوئی اجنبی قوت دوڑنے لگی ہو۔ مگر وہ اس تبدیلی کو سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ آہستگی سے اٹھتے ہی اس کے کانوں میں ایک خراش دار آواز گونجی… جیسے کوئی موٹی ہڈی یا سخت لکڑی کاٹی جا رہی ہو۔

اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور اس کے اوسان خطا ہوگئے۔
ذبح گاہ کے فرش پر پندرہ کے قریب انسانی لاشیں بکھری پڑی تھیں۔ ان کے گلے کٹے ہوئے تھے اور خون آخری بوند تک نچوڑ لیا گیا تھا۔ خون کی مہک، گوشت کی بوجھل سی بُو اور تازہ کٹنے کی ہلکی بھاپ ہوا میں ملی ہوئی تھی۔ قریب ہی زافیر کھڑا تھا، ہاتھ میں ٹوکہ لیے بڑے بڑے ٹکڑوں میں انسانی لاشیں کاٹ رہا تھا اور انہیں فریزر میں سلیقے سے رکھ رہا تھا۔

،ندیم کے منہ سے لرزتی ہوئی آواز نکلی
“یہ… یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟”

،زافیر کا ہاتھ لمحے بھر کو رکا، اس نے ایک نظر ندیم پر ڈالی اور پھر اطمینان کے ساتھ دوبارہ ٹوکہ چلانے لگا۔ نرمی سے بولا
“کچھ خاص نہیں۔ بس ایک ضروری مشن پر جا رہا ہوں، چند دن یا شاید کچھ ہفتے لگ جائیں۔”

،اس نے ٹوکہ ایک طرف رکھ کر کپڑا اٹھایا اور خون آلود ہاتھ صاف کرتے ہوئے سلسلہ جوڑا
“قیدیوں کے کھانے کا بندوبست کر دیا ہے۔ میرے لوٹنے تک کھانے کی قلت نہیں ہوگی۔”

یہ سنتے ہی ندیم کا دل مچل گیا۔ اسے شدید ابکائی ہوئی۔ وہ لڑکھڑاتا ہوا میز سے اترا اور قریب رکھے ڈسٹ بِن میں زور زور سے قے کرنے لگا۔

حلق کڑوا ہوگیا،

،آنکھوں سے پانی بہہ نکلا۔ کسی حد تک سنبھلنے کے بعد وہ غصے سے کانپتی آواز میں بولا
“کیا… کیا آپ ہمیں اب تک انسانی گوشت کھلاتے رہے ہیں؟”

،زافیر کے ہونٹوں پر ایک زہریلی مسکراہٹ رینگ گئی۔ اس نے سرد لہجے میں کہا
“تم سب کو وہی کھلایا… جو خود کھاتا ہوں۔”

“!…نہیں… نہیں… ہم یہ کبھی نہیں کھائیں گے”
،ندیم نے جھنجھلا کر چیختے ہوئے کہا

زافیر آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھا۔

،ہر قدم کے ساتھ اس کے جوتے کی چاپ اور لاشوں سے ٹپکتے خون کی بوندیں فضا کو اور بھی بوجھل کر رہی تھیں۔ وہ بالکل قریب آکر بولا
“اب تمہارے پاس کوئی اور راستہ نہیں بچا۔ عام کھانا اب تمہارے معدے کے لیے زہر ہے۔”

زافیر نے خون سے تر ہاتھ ندیم کی ناک کے قریب کر دیا۔
“سونگھ کر دیکھو… کیا تمہیں خون سے کشش محسوس نہیں ہو رہی؟”

ندیم نے نفرت کے مارے منہ پھیرنے کی کوشش کی لیکن اس کا جسم جیسے اس کا ساتھ چھوڑ گیا۔ خون کی تیز، نشیلی خوشبو نتھنوں میں اتر کر پورے وجود میں پھیلنے لگی۔ وہ اس خوشبو کو کسی نشہ آور دوا کی طرح دماغ میں اتارنے لگا… یہاں تک کہ زافیر نے ہاتھ ہٹا لیا اور دوبارہ لاشوں کے پاس لوٹ گیا، ٹوکہ اٹھایا اور گوشت کے نئے ٹکڑے کاٹنے لگا۔ اس کی نظریں ندیم پر جمی تھیں۔
“آؤ… اب میری مدد کرو۔”

ندیم چند لمحے وہیں ساکت بیٹھا رہا۔ اس کے اندر کراہت اور کشش کی جنگ جاری تھی۔ لیکن خون کی مہک… گوشت کی خوشبو… اسے اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔ بالآخر دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ لرزتے قدموں کے ساتھ زافیر کی طرف بڑھ گیا۔

°°°°°°°°°°

آج آرمی چیف جنرل اکرام بھٹی نے ڈائریکٹر جنرل اکرم درانی کو ناشتے پر اپنے گھر مدعو کیا تھا۔ ڈائننگ ٹیبل پر کرسیاں بچھ چکی تھیں، دونوں آمنے سامنے بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ ملازمہ تمام لوازمات سجا کر خاموشی سے نکل گئی۔

،اکرم درانی نے جیسے ہی ایک برتن کا ڈھکن اٹھایا تو حیرت کے ساتھ جنرل اکرام کی طرف دیکھتے ہوئے بولا
“ارے… یہ کیا؟ میٹھے پراٹھے؟”

،جنرل اکرام نے فوراً پیشانی پر بل ڈالے
“ارے یار…! یہ ماسی باز ہی نہیں آتی۔ سو بار سمجھایا ہے کہ یہ میٹھے پراٹھے نہ بنایا کرے۔ یہ تو ہمیں مارنے پر تلی ہے۔”

،اکرم درانی نے ہنستے ہوئے فوراً ایک پراٹھا پلیٹ میں رکھ لیا اور شوخی سے بولا
“مار ڈالے یا زندہ رکھے، یہ پراٹھے تو میں کھاؤں گا۔ سر… یہ دیسی پراٹھے قسمت والوں کو ہی نصیب ہوتے ہیں۔”

،جنرل اکرام نے ناک سکوڑ کر سنجیدگی سے کہا
“جناب، اس میں چکنائی اتنی ہے کہ آپ کا کولیسٹرول چھت پھاڑ دے گا۔”

ابھی جملہ ختم بھی نہیں ہوا تھا کہ اکرم درانی نے پراٹھے پر پگھلا ہوا مکھن ڈال دیا۔ چمچ پہ چمچ… چار بھرپور چمچ۔
جنرل اکرام کے چہرے پر لاچاری بھری مسکراہٹ دوڑ گئی۔

،اکرم درانی نے دہی کا کٹورا اٹھایا، اس میں تین چمچ چینی ڈال کر جوش سے گھولا اور بولا
“سر، اصل مزہ تو تب ہے جب میٹھے پراٹھے، میٹھے دہی کے ساتھ کھائے جائیں۔”
،یہ کہتے ہوئے اچانک اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا
“یاد آیا سر… گاؤں میں ایک بار کھائے تھے، بس تب سے دل چاہتا تھا دوبارہ ملیں۔”

،جنرل اکرام نے مزاح کے انداز میں کہا
“چلو کھا لو بیٹا… لیکن ایک بات کان کھول کر سن لو۔ صحت بگڑی تو تمہارے علاج کے اخراجات فوج برداشت نہیں کرے گے۔”
اس نے بات بدلتے ہوئے ایک چکن سینڈوچ اٹھایا اور آرام سے اپنی پلیٹ میں رکھا۔

:اکرم درانی نے پراٹھے کا بڑا سا نوالہ توڑتے ہوئے کہا
“سر…! زندگی کا مزہ لیں، یہ کولیسٹرول، شوگر اور بلڈ پریشر کل کی فکر ہے۔ آج تو پراٹھا ہے۔”

جنرل اکرام ہلکے سے ہنس دیا۔ اس کے بعد کمرے میں بس چمچ کانٹے کی کھڑکھڑاہٹ اور لذیذ ناشتے کی خوشبو گونجتی رہی۔

اچانک جنرل اکرام کے ذہن میں ایک خیال ابھرا۔ وہ چند لمحے خاموش رہے اور پھر ذہن پر زور ڈالتے ہوئے اکرم درانی کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا،
“اوہ یار… اس کا کیا نام تھا؟ وہی… بنگلے والا… عجیب سا نام ہے اس کا۔”

اکرم درانی نے فوراً جواب دیا،
“وہ زافیر ہے سر۔”

ہاں، وہی… تو پھر اس کے معاملات کہاں تک پہنچے؟” جنرل اکرام نے تجسس سے پوچھا۔”

،اکرم درانی نے نوالہ پلیٹ میں رکھتے ہوئے بتایا
سر، آج شام سے پہلے ہی وہ…، زید اور محمود بدری کے ساتھ پنجگور کے لیے روانہ ہو جائے گا۔”

“زافیر کے جاسوس نے بی ایل ایف اور مجید بریگیڈ کے حالیہ ٹھکانوں کی تازہ معلومات فراہم کی ہیں۔

،جنرل اکرام نے چونک کر پوچھا
کیا مطلب؟ زافیر کا کوئی جاسوس بھی ہے؟” ان کے ہاتھ رک گئے تھے۔”

،اکرم درانی نے اثبات میں سر ہلایا
جی سر…! مجھے بھی کل ہی خبر ملی۔”

” مجید بریگیڈ کے اندر اس کا ایک آدمی ہے جو اسے مجید بریگیڈ اور بی ایل ایف کی سرگرمیوں کی اطلاع دیتا رہتا ہے۔

،جنرل اکرام کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری
“واہ… زافیر تو واقعی بڑی پہنچی چیز ہے۔ یہ تو میری توقع سے بھی زیادہ شاطر ہے۔”

،اکرم درانی نے بھی مسکرا کر سر ہلایا مگر فوراً سنجیدہ ہو گیا
سر، مجید بریگیڈ اور بی ایل ایف کی پِن لوکیشن ہمارے پاس ہے۔ کل صبح کی روشنی پھوٹنے سے پہلے ان پر حملہ کیا جائے گا۔”

“زید اور زافیر کے علاوہ پانچ سو سپاہی بھی اس جنگ میں شامل ہوں گے۔
تین سو سپاہی بی ایل ایف پر حملہ کریں گے، جن کی کمانڈ زید خود سنبھالے گا۔
ڈیڑھ سو سپاہی مجید بریگیڈ پر دھاوا بولیں گے، جن کی قیادت کیپٹن محمود بدری کے سپرد ہوگی۔
“جبکہ ایان کے بنگلے پر حملہ کرنے والی ٹیم زافیر کے ماتحت ہوگی اور اس ٹیم میں صرف پچاس سپاہی شامل ہوں گے۔

،جنرل اکرام نے اطمینان سے سر ہلایا اور پوچھا
“ہتھیاروں کا بندوبست؟”

،اکرم درانی نے وضاحت کی
دہشت گردوں سے ضبط کیے گئے ہتھیار اور اسمگلنگ کے دوران پکڑا گیا اسلحہ ہی استعمال ہوگا۔”

” گرینیڈ، ٹائم بم، راکٹ لانچر اور دیگر اسلحہ سب موجود ہے۔ فراہمی کی ذمہ داری ادارے نے اپنے ذمے لے لی ہے۔

“بہت خوب… منصوبہ بندی واقعی عمدہ ہے۔”

، جنرل اکرام نے کہا اور چاقو سے سینڈوچ کا ایک ٹکڑا کاٹ کر کانٹے سے اٹھایا، پھر چند لمحات بعد دوبارہ بولا
“اور سپاہیوں کے لیے مراعات؟”

،اکرم درانی نے پراٹھے کا نوالہ توڑتے ہوئے جواب دیا
“ہر سپاہی کو ایک لاکھ روپے دیئے جائیں گے اور یہ رقم زافیر خود ادا کرے گا۔”

،جنرل اکرام نے نفی میں سر ہلایا اور سنجیدہ لہجے میں کہا
،نہیں… یہ کافی نہیں”

ہر سپاہی کو ایک لاکھ روپے ضرور دو لیکن کوئی زخمی ہوتا ہے تو اسے تین لاکھ روپے ملیں گے اور جو سپاہی شہید ہو جائے،

” اس کے ورثاء کو فی کس دس لاکھ روپے دیے جائیں۔

،اکرم درانی چونک گیا
“سر، یہ تو بہت بڑی رقم بن جائے گی۔ مجھے نہیں لگتا کہ زافیر پر اتنا بوجھ ڈالنا درست ہوگا۔”

،جنرل اکرام نے پرسکون انداز میں سینڈوچ کا دوسرا ٹکڑا منہ میں رکھا اور سنجیدگی سے جواب دیا
“میں نے کب کہا کہ سارا بوجھ زافیر اٹھائے گا؟ وہ صرف پچیس کروڑ دے گا، باقی اخراجات ادارہ برداشت کرے گا۔”

،اکرم درانی کے چہرے پر اطمینان پھیل گیا۔ اس نے سکون کی سانس لیتے ہوئے کہا
“یہ بہترین فیصلہ ہے، سر۔ آپ کے فیصلے نے میرے سر سے ایک بڑا بوجھ اتار دیا ہے۔”

،جنرل اکرام نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا
“کیسا بوجھ؟” اور چاقو سے سینڈوچ کا ایک اور ٹکڑا کاٹ لیا۔
کمرے میں ناشتے کی خوشبو اور برتنوں کی ہلکی سی کھنک گونج رہی تھی۔ مگر ان دونوں کے دماغ میں صرف ایک ہی موضوع گردش کر رہا تھا۔ وہ آنے والی دو راتیں، جو ریاست کے لیے فیصلہ کن ثابت ہونے والی تھیں۔

°°°°°°°°°°

کمانڈر زید اور زافیر کے ساتھ آج ایک نیا فوجی افسر کھڑا تھا۔ وہ نہ صرف وجاہت اور عزم کی علامت لگ رہا تھا بلکہ اپنی آنکھوں کی سختی میں ایک پوری تاریخ سموئے ہوئے تھا۔ یہ تھا کیپٹن محمود بدری… جنوبی وزیرستان کا سپوت، انٹیلیجنس کا ایک ذہین، دلیر اور بے باک کیپٹن۔

محمود بدری کی کہانی خود قربانی، صبر اور حب الوطنی کا استعارہ تھی۔ اس کے والد نے کھیتوں اور مزدوری کے کٹھن دن گزار کر، پسینے اور مشقت کے سہارے بیٹے کے خواب سنوارے۔ دن میں بارہ بارہ گھنٹے پتھر توڑنے اور اینٹیں ڈھونے والے ہاتھوں نے یہ عہد کیا کہ ان کا بیٹا کتابوں اور قلم سے جڑے گا۔ اسی قربانی کے سائے میں محمود بدری نے دینی مدرسے کا آٹھ سالہ کورس بھی مکمل کیا اور اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کی۔

ذہانت اور فہم و فراست اس کی شخصیت کا خاصہ تھا۔ جب وہ فوج میں شامل ہوا تو اپنی صلاحیتوں سے جلد ہی نمایاں ہونے لگا۔ اس کی بے خوف حکمتِ عملی اور درست فیصلوں کی مہارت نے اسے انٹیلیجنس وِنگ میں جگہ دلوائی۔ وہاں اس نے کئی ایسے کارنامے انجام دیے جو بظاہر ناممکن لگتے تھے۔ کچھ آپریشن ایسے تھے جنہیں دیکھ کر بڑے بڑے افسر بھی ششدر رہ گئے۔ لیکن بدری کے لیے یہ سب ملک کے قرض کی ادائیگی تھی… قرض جسے وہ خون اور پسینے سے چکانا چاہتا تھا۔

بچپن سے ہی اس نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ اس کی زندگی کا مقصد صرف اور صرف پاکستان کی خدمت ہوگا۔ والدین کی دعائیں اور وطن سے محبت کا درس اس کے دل میں یوں رچا بسا تھا کہ ہر سانس کے ساتھ اسے اپنی مٹی کی خوشبو محسوس ہوتی تھی۔ اس کے نزدیک شہادت سب سے بڑی کامیابی اور سب سے بڑا انعام تھا۔

آج بھی اسے ایک کٹھن اور خطرناک مشن کے لیے منتخب کیا گیا تھا، مجید بریگیڈ پر حملہ۔ یہ ذمہ داری کوئی معمولی کام نہیں تھی۔ یہ اس بات کا اعتراف تھا کہ ادارہ اسے اس حد تک قابل، وفادار اور نڈر سمجھتا ہے کہ ایک فیصلہ کن لڑائی کی کمان اس کے سپرد کی گئی۔

تینوں کے سامنے دس بڑے ڈبے رکھے تھے۔ ہر ڈبے میں سادہ کی پیڈ والے موبائل، بیس ہزار روپے نقد اور ساتھ ایک پرچی تھی جو ربڑ سے نتھی کی گئی تھی۔ یہ ان کے مشن کے آلات اور نشانیاں تھیں۔

سامنے بیس قطاروں میں پانچ سو سپاہی کھڑے تھے۔ سبھی عام روزمرہ کے کپڑوں میں، جیسے کسی بارات یا گاؤں کے میلے میں شریک ہوں۔ کوئی دیکھنے والا انہیں فوجی نہ سمجھتا، مگر یہی عام چہروں والے ریٹائرڈ سپاہی اصل طاقت تھے۔ یہ لوگ اپنے وطن کے لیے اپنا آرام، سکون اور ریٹائرمنٹ کی زندگی، سب کچھ داؤ پر لگا چکے تھے۔

ان لمحوں میں ان کی آنکھوں میں چمک تھی۔ یہ وہی چمک تھی جو صرف ایک سچے سپاہی کی آنکھوں میں جھلکتی ہے جو جانتا ہے کہ اس کی زندگی کا ہر دن، ہر سانس اور خون کا ہر قطرہ صرف اپنے ملک کے نام ہے۔

کمانڈر زید سینہ تان کر بلند آواز میں بولنے لگا۔ اس کی گونجتی ہوئی آواز زمین دوز ہال میں یوں لگ رہی تھی جیسے پہاڑوں سے ٹکرا کر لوٹ رہی ہو۔
جوانو…! یہ وطن ہمیں یوں ہی نہیں ملا۔ یہ وہ زمین ہے جسے ہمارے بزرگوں نے اپنے لہو سے سینچا۔ “

معصوم بچوں نے اپنی گردنیں کٹوائیں، بہنوں کے سہاگ اجڑے، ماؤں کے لختِ جگر شہید ہوئے۔ تب جا کے یہ پاک دھرتی ہمیں نصیب ہوئی۔

یہ جناح کا خواب تھا… ایک ایسا وطن جہاں کوئی ہماری مذہبی آزادی نہ چھین سکے۔
ایسا ملک جہاں ہم سکون کی سانس لیں، رات کو چین کی نیند سو سکیں۔
ایسی ریاست جہاں قربانی کے جانور ذبح کرنے پر کوئی مسلمان پھانسی کے پھندے پر نہ لٹکایا جائے۔
جہاں ہمارے مقدسات محفوظ ہوں، ہمارے ایمان کی توہین نہ کی جائے۔
یہ ملک ہمیں اسی خواب کی تعبیر کے طور پر ملا تھا۔
لیکن ہندو بنیئے کو یہ کبھی گوارا نہیں ہوا۔
انہوں نے سازشوں کے جال پھیلائے، ہمارے اپنے ہی لوگوں کو ورغلا کر ہمارے سامنے لا کھڑا کیا۔
انہیں باغی اور غدار بنا کر ہماری ہی مٹی کو ہمارے خلاف استعمال کیا۔
ہم نے بارہا امن کا راستہ اپنانا چاہا، مگر جواب میں ہمارے جوانوں پر بم برسائے گئے۔ ہمارے شہروں کو لہو میں نہلایا گیا۔

جوانو…! آج وہ وقت ہے جب ہمیں اپنے وطن سے اس گندگی کو مٹانا ہے۔
آج وہ دن ہے جب ہمیں اس زمین کو پھر سے پاک کرنا ہے۔
ہمیں بلوچستان کے سینے پر بیٹھے سانپوں کے زہر کو کچل دینا ہے۔
آج غداروں کے سر اڑائیں گے اور شہیدوں کے لہو سے کیے گئے وعدے نبھائیں گے۔
یہ مٹی پکار رہی ہے، یہ پرچم گواہی دے رہا ہے کہ ہم خاموش نہیں رہیں گے…!”

کمانڈر زید کے ہر جملے کے ساتھ سپاہیوں کی آنکھوں میں بجلیاں کوندنے لگیں۔

ان کے سینوں میں جوش… سمندر کی لہروں کی طرح بپھرنے لگا تھا۔

، قدموں تلے دھرتی لرزتی محسوس ہو رہی تھی اور ہر دل میں ایک ہی عہد گونج رہا تھا
“!…وطن کے لیے جان دینا سب سے بڑی کامیابی ہے”

زافیر خاموشی سے یہ سب تماشہ دیکھ رہا تھا۔ ہال میں ابھرتی ہوئی نعرہ بازی، جوشیلے سپاہیوں کی آنکھوں کی چمک اور کمانڈر زید کی بلند آواز سب مل کر ایک آتش فشاں سا منظر بنا رہے تھے مگر زافیر کی آنکھوں میں یہ سب محض دھندلا سا شور تھا۔
نہ اسے وطن سے کوئی غرض تھی، نہ علیحدگی پسند تنظیموں کی شکست اور فتح سے، اور نہ ہی اس جوش بھری تقریر کے الفاظ اس کے دل کو چھو رہے تھے۔

:اس کے اندر صرف ایک ہی دھن بج رہی تھی
…ایان کا خاتمہ… آزلان کی موت کا بدلہ
…اور یہ سب ختم ہونے کے بعد حورا اور اپنی بیٹی کے ساتھ ایک پرسکون زندگی کا خواب

وہ انہی خیالات میں ڈوبا ہوا تھا کہ یکدم سپاہیوں کے فلک شگاف نعرے نے اس کی توجہ توڑ دی۔
“!…یس سر”
آواز ایسی تھی جیسے سینکڑوں تلواریں ایک ساتھ نیام سے کھینچ لی گئی ہوں۔ زافیر چونک کر حال میں لوٹ آیا۔

،کمانڈر زید کی آواز فضا میں گونجی
“کیا تم اپنا خون بہاؤ گے؟”
یس سر…!” جوانوں کے جوشیلے نعرے دیواروں سے ٹکرا کر گونجے۔

“کیا تم وطن کے لیے جان دو گے؟”
یس سر…!” فضا لرز اٹھی۔”

“کیا تم اس مٹی کے لیے مرنے کو تیار ہو؟”
یس سر…!” ہر آواز میں آگ دہک رہی تھی۔”

،زید کے چہرے پر اطمینان کی لہر ابھری، اس نے بلند لہجے میں کہا
تو پھر تیار رہو۔ ہر سپاہی ایک ایک موبائل اٹھائے۔ ساتھ سفری اخراجات کے لیے بیس ہزار روپے ہیں اور ایک پرچی بھی۔”

اس پرچی پر وہ مقام درج ہے جہاں تم نے پہنچنا ہے۔

“!… یاد رکھو، تین محاذ ہیں اور تین ٹیمیں… تمہاری تقدیر طے کرے گی کہ تم کس ٹیم کا حصہ بنو گے

باری باری سپاہی آگے بڑھے۔ ہر ہاتھ جب ڈبے میں جاتا اور موبائل، رقم اور پرچی باہر آتی تو یوں لگتا جیسے کوئی خاموش عہد لکھا جا رہا ہو۔ کچھ ہی دیر میں پانچ سو جوان قطار باندھے کھڑے تھے، سب کے ہاتھوں میں وہ امانت تھی جو ان کی زندگی اور موت کے فیصلے کا آغاز بننے والی تھی۔

،زید نے دوبارہ بلند آواز میں کہا
مطلوبہ مقام پر پہنچنے کے بعد ہر شخص اپنے موبائل پر ایک میسج کا انتظار کرے گا۔”

اس میسج میں تمہارے کمانڈر کا نام اور ٹیم کے اکٹھا ہونے کی جگہ درج ہوگی۔

میسج ملتے ہی موبائل توڑ کر سم ضائع کر دینی ہے اور اگلے چالیس منٹ کے اندر اندر تمہیں وہاں پہنچنا ہوگا۔

“! کسی بھی حال میں

،یس سر…!” سبھی بلند آواز میں بولے”

زید نے ہاتھ بلند کیا، آنکھوں میں بجلیاں چمک رہی تھیں۔
“!…نعرہ تکبیر”

اللہ اکبر…!” زمین لرز اٹھی۔”

“!…پاکستان”

زندہ باد…!” فضا میں دھماکے کی سی گونج پھیل گئی۔”

نعرے تھمتے ہی سپاہی منظم طریقے سے منتشر ہونے لگے۔ ان کے قدموں کی دھمک ہال کے فرش پر ایسے پڑ رہی تھی جیسے جنگ کا نقارہ بج رہا ہو۔ ہر ایک جانتا تھا کہ اب کھیل شروع ہو چکا ہے۔ ان کا پہلا امتحان یہ تھا کہ ہدایات کے مطابق اپنے اپنے مقام پر پہنچیں اور آنے والی کڑی ہدایت کا انتظار کریں۔

اور زافیر… وہ اب بھی خاموش کھڑا تھا۔

… باقی سب کے خون میں وطن کے لیے جوش کی آگ بھڑک رہی تھی لیکن اس کے دل میں صرف ایک شعلہ دہک رہا تھا, انتقام اور صرف انتقام

اب کمانڈر زید کی نظریں زافیر اور کیپٹن محمود بدری پر جم گئیں۔ اس کی آواز میں عزم کی سختی صاف جھلک رہی تھی۔

میں تین سو سپاہیوں کے ساتھ بی ایل ایف کے مرکزی کیمپ پر حملہ کروں گا۔”

” میری ذمہ داری ہے کشف الرحمٰن بلوچ کو زندہ پکڑنا… یا پھر ہمیشہ کے لیے ختم کر دینا۔

یہ کہہ کر وہ لمحہ بھر کو رکا پھر کیپٹن محمود بدری کی طرف متوجہ ہوا۔
کیپٹن…! آپ مجید بریگیڈ کے مرکزی کیمپ پر حملے کی قیادت کریں گے۔ آپ کے ساتھ ڈیڑھ سو سپاہی ہوں گے۔”

” عطا خان یار… اسے زندہ یا مردہ، ہر صورت قابو میں لانا ہے۔

جی سر، سمجھ گیا…!” کیپٹن محمود بدری نے مضبوط لہجے میں جواب دیا، اس کے چہرے پر عزم کی لکیر اور آنکھوں میں بجلی سی کوندی۔”

اب زید نے رخ زافیر کی طرف موڑا۔ اس کی آنکھوں میں گہری سنجیدگی تھی۔
“زافیر…! تم ایان کے بنگلے پر حملہ کرو گے۔ تم بہتر جانتے ہو کہ وہاں کیا کرنا ہے۔ تمہارے ساتھ پچاس سپاہی ہوں گے۔”

،زافیر نے پلک جھپکی، جیسے لمحہ بھر کو سوچوں میں الجھ گیا ہو۔ پھر دھیرے سے بولا
“تین مختلف محاذوں پر ایک ساتھ جنگ چھیڑنے کا جواز مجھے پوری طرح سمجھ نہیں آ رہا۔”

زید آہستہ آہستہ قدم بڑھاتا ہوا اس کے سامنے آیا۔ اس کے لہجے میں پہلی بار نرمی اتر آئی لیکن وہ نرمی بھی فولادی عزم سے بھری ہوئی تھی۔
اگر ہم صرف ایان کے بنگلے پر حملہ کریں تو خطرہ ہے کہ وہ فوری بیرونی مدد بُلا لے گا۔”

اور اگر وہ مدد پہنچ گئی تو یہ حملہ ہمارے لیے شکست کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی لیے ہم ایک ساتھ تین محاذ کھولیں گے۔

بی ایل ایف اور مجید بریگیڈ کو الگ الگ لڑائی میں الجھا دیں گے۔

” یوں اگر ایان ان سے مدد مانگے گا تو انہیں اس کی مدد کرنے کا موقع ہی نہیں ملے گا۔

ہ”ممم…” زافیر نے ہونٹ بھینچتے ہوئے سر ہلایا۔ اس کی آنکھوں میں سوچ کی گہری پرچھائیاں تھیں۔
“خیال اچھا ہے… بشرطیکہ سب کچھ منصوبے کے مطابق چلتا رہے۔”

زید اور محمود بدری کے چہروں پر سکون تھا۔ یہ دونوں پہلے بھی کئی محاذ اور جنگی میدان سر کر چکے تھے۔ لیکن زافیر کے دل میں ایک طوفان برپا تھا۔ یہ جنگ اس کے لیے عام نہیں تھی۔ گینگ وار کی مہمات، چھوٹے موٹے معرکے… وہ سب اس نے دیکھے تھے، لیکن یہ… یہ ایک باقاعدہ جنگ تھی۔
اس کا دل ماننے کو تیار نہیں تھا کہ وہ گھبراہٹ سے آزاد ہے۔ نہیں، وہ اندر ہی اندر کانپ رہا تھا۔ اسے اپنی فکر نہیں تھی لیکن پچاس سپاہیوں کا بوجھ، ان کی زندگیوں کی قیمت… یہی سوچ اس کے اعصاب پر ہتھوڑے برسا رہی تھی۔
وہ بھلے ہی آدم خور تھا، انسان کے روپ میں ایک درندہ تھا لیکن اپنے ساتھ جڑے لوگوں کی فکر اسے بھی ہوتی تھی۔ ان کی موت کا خوف، اسے بھی پریشان کرتا تھا۔

°°°°°°°°°°

…جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *