وقت کا سفر (Time Travel)
کالم نویس: زیاد اصغر زارون
یہ سائنس کا بہت ہی دلچسپ باب ہے۔ شاید ہی دنیا میں کوئی ایسا شخص ہو جو اپنے ماضی میں جا کر اپنی غلطیوں کو سدھارنا نہ چاہے۔
ہر کوئی چاہتا ہے کہ وہ مستقبل میں جا سکے، وہ دیکھ سکے کہ آنے والے وقت میں کیا ہونے والا ہے۔ اس کا کیا مقام ہوگا اور کیا حیثیت ہوگی
مگر یہ سب سوچ کر عجیب سا لگتا ہے کہ بھلا ماضی کو کیسے بدلا جا سکتا ہے اور جو مستقبل ابھی وقوع پذیر ہی نہیں ہوا، اسے کیسے دیکھا جا سکتا ہے۔
دنیا بھر کے سائنس دان اس تگ و دو میں ہیں کہ کیسے وقت کو اپنی مٹھی میں بند کیا جائے اور کیسے مستقبل وقوع پذیر ہونے سے قبل ہی جان لیا جائے، ہم اپنے ماضی کو بدل دیں، مستقبل کو روشن کر لیں۔
مگر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ کیسے ممکن ہے؟
درحقیقت ماضی جلے ہوئے تنے کی خاک جیسا ہے جو دوبارہ درخت کی حیثیت نہیں لے سکتا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جو وقت گزر چکا ہے، زمین جو چکر سورج کے گرد لگا چکی ہے، وہ کبھی واپس نہیں پلٹ سکتے۔
ماضی میں جا کر دوبارہ مستقبل میں آنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ زمین کئی دور(سائیکل) لے کر چل رہی ہے اور یہ قطعی ممکن نہیں۔
کیونکہ زمین ایک ہی سمت اور ایک متعین راستے پر چل رہی ہے۔ اس لیے ماضی کو بدلنے کا خواب محض ایک خواب ہے۔
مگر مستقبل ابھی وقوع پذیر نہیں ہوا اور وقت کے ٹھہر جانے کی مثالیں ہمیں تاریخ سے بھی ملتی ہیں جیسا کہ آپ نے اصحابِ کہف کا ذکر پڑھا ہوگا یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمانوں پر اٹھا لیا جانا اور دوبارہ زمین پر آنے پر وہ اسی عمر کے ہوں گے جس عمر میں اٹھائے گئے تھے۔
ایک سب سے الگ اور منفرد مثال۔
اگر غور کیا جائے تو سائنس کو بھی ہلا کر رکھ دے مگر بدقسمتی سے ہمارے مسلم سائنسدان کہتے ہیں کہ مذہب اور سائنس دو الگ باب ہیں۔ لیکن درحقیقت مذہب اور سائنس ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔
،اللہ تعالیٰ ایک آیت میں فرماتا ہے
آسمانوں اور زمین کی پیدائش ، رات دن کا ہیر پھیر ، کشتیوں کا لوگوں کو نفع دینے والی چیزوں کو لئے ہوئے سمندروں میں چلنا ، آسمان سے پانی اتار کر مردہ زمین کو زندہ کر دینا ، اس میں ہر قسم کے جانوروں کو پھیلا دینا ، ہواؤں کے رخ بدلنا اور بادل جو آسمان اور زمین کے درمیان مسخر ہیں ان میں عقل مندوں کے لئے قدرت الٰہی کی نشانیاں ہیں (سورۃالبقرہ 164)
:پھر مزید ایک آیت میں فرماتا ہے
اسی نے رات دن اور سورج چاند کو تمہارے لئے تابع کر دیا ہے اور ستارے بھی اسی کے حکم کے ماتحت ہیں ۔ یقیناً اس میں عقل مند لوگوں کے لئے کئی ایک نشانیاں موجود ہیں
(سورۃ النحل 12)
:آگے بڑھتے ہیں، اللہ تعالیٰ قرآن کے آغاز میں ہی فرماتا ہے
” سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے”
میں تبصرہ نہیں کروں گا مگر اک سوال ہے۔ کیا کبھی سائنس کی نظر سے اس آیت کو دیکھا گیا؟
تمام جہانوں کو پالنے سے کیا مراد ہے؟
خیر وقت کے سفر کی دو مثالیں اوپر بیان کی ہیں تیسری مثال حیرت انگیز اور سائنس میں ہلچل مچانے والی مثال ہے۔ وہ واقعہ معراج ہے۔
ہماری موجودہ سائنس کہتی ہے کہ جب کوئی روشنی کی رفتار سے سفر کرتا ہے تو دنیا میں کئی سال گزر جانے کے باوجود اس کے لیے چند لمحے ہی گزرتے ہیں، مگر یہ مثال ایک بالکل منفرد باب کھول دیتی ہے۔
کیا روشنی سے بھی کوئی تیز رفتار چیز ہے جس کے سفر کے دوران آپ کئی سال گزار کر آئیں اور دنیا میں صرف چند لمحے گزرے ہوں؟
سوال کو سمجھنے کے لیے واقعہ معراج کا مطالعہ ضروری ہے، ایک فرد پر وقت کا ٹھہر جانا اور دنیا میں کئی صدیاں گزر جانا۔
ایک شخص پر وقت چلتا رہا اور دنیا میں وقت ٹھہرا رہا۔
قرآن تو بذاتِ خود سائنس کی طرف دعوت دیتا ہے کہ آؤ غور کرو، مشاہدہ کرو اور جو پا سکتے ہو پا لو۔
سائنس کو امید ہے کہ وقت کا سفر ممکن ہے اور قرآن چودہ صدیاں پہلے ہی ثابت کر چکا ہے۔
:وقت کا سفر دو طریقوں سے ممکن ہے
ایک طریقے سے آپ ماضی اور مستقبل میں جھانک سکتے ہیں مگر اس طریقے میں آپ ماضی دیکھ سکتے ہیں مگر بدل نہیں سکتے اور مستقبل بھی آپ دیکھ سکتے ہیں مگر عین ممکن ہے کہ مستقبل جو آپ نے دیکھ لیا وہ سو فیصد ویسا نہ ہو۔ یہ وقت کا سفر مادی طور پر نہیں بلکہ دماغ کے ایک خاص حصے کو کنٹرول کر کے کیا جاتا ہے۔ ہمارا جسم حال میں ہی موجود رہتا ہے مگر ہمارا دماغ ٹائم سپیس کو توڑ کر آزادانہ گھومتا ہے مستقبل اور ماضی اس کے لیے کھلی کتاب جیسے ہوتے ہیں۔
وقت کے سفر کی دوسری قسم مادی سفر ہے، سائنس کہتی ہے کہ وقت کے سفر کے لیے کسی جسم کو روشنی کی رفتار سے دوڑانا پڑے گا مگر میرا مفروضہ ہے کہ وقت کا سفر تب ہی ممکن ہے جب کسی جسم کو روشنی کے فوٹانز میں بدل کر ایک مخصوص وقت کے لیے آزادانہ چھوڑ دیا جائے، جتنا ہم نے وقت متعین کیا، اس کے بعد وہ فوٹانز ایک دوسرے کو کشش کر کے دوبارہ اپنی پہلی حالت میں آجائیں گے مگر فوٹانز میں تبدیل ہوکر سفر کرنے والے کے احساسات اسے یہی بتائیں گے کہ وہ چند نینو سیکنڈز پہلے شدید تکلیف سے گزرا اور اب تکلیف ختم ہو گئی، اسے احساس تک نہ ہوگا کہ وہ اتنا عرصہ کہاں گم رہا، مگر جو وقت گزر گیا، وہ اس کے لیے ایک معمہ ہوگا۔
البتہ میری تحقیق کہتی ہے کہ وقت کو موڑنا ممکن نہیں۔ ہم وقت کو کاٹ کر مستقبل میں جاسکتے ہیں مگر ہم کبھی بھی واپس ماضی کی طرف سفر نہیں کر سکتے۔
سائنس تحقیق کا نام ہے۔ تحقیق ہوتی رہے گی اور علم کے نئے باب سامنے آتے رہیں گے۔ سائنس میں سب سے پہلے مفروضہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد نظریہ اور اگلا مرحلہ تھیوری ہے۔ سب سے آخر میں مشاہدات کا دور شروع ہوتا ہے۔ کئی لوگ اپنے عقل و فہم کے مطابق اپنا بیانیہ پیش کرتے ہیں ویسے ہی میں بھی کر رہا ہوں باقی اللہ رب العزت بہتر جانتا ہے کہ حق کیا ہے اور میرا بیانیہ کس حد تک حقیقت سے تعلق رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کمی بیشی معاف فرمائے۔
جزاک اللہ خیراً کثیرا
