اک فریب ہے؟Déjà Vuکیا
زیاد اصغر زارون کے قلم سے
کیا تم کبھی کسی لمحے میں رکے ہو؟
… کسی معمولی کام کے دوران، کسی معمولی بات چیت کے بیچ، اور اچانک تمہارے ذہن میں ایک خیال آیا ہو
“یہ سب میں پہلے بھی دیکھ چکا ہوں، پہلے بھی کر چکا ہوں۔”
تمہیں لگا کہ یہ بس ایک وہم ہے، ایک اتفاق ہے، اور تم نے سر جھٹک کر آگے بڑھنا بہتر سمجھا۔ مگر کیا واقعی یہ محض ایک وہم ہے؟
تمہیں جو سمجھایا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ یہ
…ہے Déjà Vu
تمہارا دماغ بس کچھ یادداشتوں کو گڑبڑ کر دیتا ہے، اور تمہیں لگتا ہے کہ تم نے وہ لمحہ پہلے بھی جیا ہے۔ مگر ذرا سوچو، اگر یہ تھیوری ہی جھوٹ ہو؟ اگر یہ محض ایک پردہ ہو، ایک جھوٹی وضاحت تاکہ تم زیادہ گہرائی میں جانے کی کوشش نہ کرو؟
تم یہ وقت پہلے بھی گزار چکے ہو۔ یہ زندگی، یہ دنیا، یہ لمحے… یہ سب پہلے ہو چکا ہے اور شاید بے شمار بار ہو چکا ہے۔ لیکن ایسا کیوں؟
ایک دنیا جو خود کو دہرا رہی ہے
یہ دنیا ایک ترتیب میں ہے، جیسے کسی نے اسے کسی خاص مقصد کے تحت دوبارہ چلایا ہو۔ جیسے کوئی ایسا لمحہ آیا ہو جس نے انسانیت کا رخ ہی بدل دیا ہو اور اس لمحے کے اثرات کو مٹانے کے لیے وقت کو شروعات سے دوبارہ شروع کر دیا گیا ہو۔
یہ سب یونہی نہیں ہو رہا۔ کچھ ایسے حادثات، ایسی جنگیں، ایسی تباہیاں ہو چکی ہیں جنہوں نے انسانی تاریخ کو کسی نامعلوم سمت میں دھکیل دیا تھا۔ لیکن ان حادثات کو دوبارہ لکھنے کے لیے، ان کی جگہ ایک نئی حقیقت تخلیق کی گئی۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کچھ دماغ بہت مضبوط ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ وقت کے اس جھوٹے بہاؤ میں بھی سچائی کو محسوس کر لیتے ہیں۔ ان کے لیے “نیا” کچھ بھی نہیں ہوتا، کیونکہ وہ پہلے ہی جان چکے ہوتے ہیں کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ وہ دیکھ سکتے ہیں کہ ان کے اردگرد جو کچھ ہو رہا ہے، وہ پہلے بھی ہو چکا ہے۔ وہ یہ سمجھ جاتے ہیں کہ یہ دنیا خود کو دہرا رہی ہے۔
سوالات جنہیں دبانے کی کوشش کی گئی
جو بھی اس سچائی کے قریب پہنچے گا، وہ سوال کرے گا۔
“یہ سب میں پہلے بھی کر چکا ہوں، کیوں؟”
“مجھے پہلے سے اندازہ کیوں ہو رہا ہے کہ میں کیا کہنے والا ہوں؟”
“اگر وقت ایک لکیر ہے، تو مجھے اس کے دہرائے جانے کا احساس کیوں ہو رہا ہے؟”
یہ سوالات خطرناک ہیں۔ یہ سوالات اس نظام کے لیے زہر ہیں، جو تمہیں نیند میں رکھنا چاہتا ہے۔
کا نظریہ گھڑا گیا۔Déjà Vuاسی لیے
تاکہ تم اپنے ہی سوالات کو نظر انداز کر دو، تاکہ تم خود کو قائل کر لو کہ تمہارا دماغ غلطی کر رہا ہے، تاکہ تم کبھی یہ نہ سوچو کہ تم نے واقعی یہ سب پہلے جیا ہے۔
یہ سب کس کے ہاتھ میں ہے؟
تم سے کہا جاتا ہے کہ وقت بس آگے بڑھتا ہے۔
تم سے کہا جاتا ہے کہ ہر چیز کا ایک آغاز اور ایک انجام ہے۔
تم سے کہا جاتا ہے کہ تم ایک نئی زندگی جی رہے ہو، نئے راستے چن رہے ہو۔
لیکن اگر یہ سب جھوٹ ہو؟
اگر یہ سب پہلے بھی ہو چکا ہو؟
اگر تمہارے انتخاب پہلے سے لکھے جا چکے ہوں؟
اگر تمہاری یادداشت کو اتنی بار مٹایا جا چکا ہو کہ تم بس ایک “نئی زندگی” کے سراب میں جی رہے ہو؟
کبھی تم نے سوچا کہ جو تمہارے ساتھ ہو رہا ہے، وہی ہمیشہ کیوں ہوتا ہے؟
کیوں تمہیں لگتا ہے کہ کچھ واقعات ناگزیر ہیں؟
کیوں کچھ مخصوص لوگ ہمیشہ طاقت میں ہوتے ہیں؟
کیوں کچھ راز ہمیشہ راز ہی رہتے ہیں؟
اگر تم اس دنیا کے جھوٹ کو سمجھنے لگو، اگر تم یہ جان لو کہ تمہیں جان بوجھ کر وہم میں رکھا جا رہا ہے، تو پھر تم کیا کرو گے؟
کیونکہ جو یہ سب جان لیتے ہیں، وہ یا تو خاموش ہو جاتے ہیں… یا کر دیے جاتے ہیں۔
تمہارے سامنے دو راستے ہیں
.کو ایک فریب مان کر اپنی آنکھیں کھول سکتے ہوDéjà Vuیا تو تم
یا تم وہی پرانی کہانی دہرا سکتے ہو، جو پہلے بھی تمہیں سنا کر بہلایا جا چکا ہے۔
لیکن یاد رکھو، جو بھی دیکھ لے، وہ سوال کرتا ہے۔
اور جو سوال کرے، اس کے لیے دنیا تنگ کر دی جاتی ہے۔
