ناول درندہ
قسط نمبر 26
باب سوّم: شبکہ
مصنف: زیاد اصغر زارون
°°°°°°°°°°
:بی ایل ایف
کمانڈر زید نے اپنی طرف سے منصوبہ بندی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ ہر پہلو پر غور کیا، دشمن کے ممکنہ ردِعمل کو پرکھا، سپاہیوں کی جگہ متعین کی، حملے کی ترتیب طے کی۔
حتیٰ کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے متبادل راستے بھی سوچ رکھے تھے۔ اس کی نظر میں یہ منصوبہ نہایت مضبوط اور ناقابلِ شکست تھا۔ مگر جنگی میدان، ہمیشہ انسان کی مرضی اور منصوبوں کے تابع نہیں ہوتے۔ یہاں ایک لمحے کی تاخیر، ایک غلط اندازہ یا دشمن کی ایک غیر متوقع چال پورے منظرنامے کو بدل کر رکھ دیتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑے بڑے جرنیل اور ماہر جنگجو بھی اس غیر یقینی فطرت کے آگے بے بس ہو جاتے ہیں۔ کمانڈر زید کو بھی یہ احساس ہو رہا تھا کہ چاہے منصوبہ بندی کتنی ہی کامل کیوں نہ ہو، میدانِ جنگ میں ہر وقت ایک نادیدہ خطرہ گھات لگائے بیٹھا رہتا ہے جو اچانک سامنے آ کر ساری تدابیر درہم برہم کر دیتا ہے۔
پہاڑ کی چوٹیوں سے برستی گولیوں کی تڑتڑاہٹ نے پورے میدان کو دہلا دیا تھا۔ رات کے اندھیرے میں بارود کی روشنی وقفے وقفے سے آسمان کو سرخ کر رہی تھی اور زمین لرزتی محسوس ہو رہی تھی۔ کمانڈر زید کے اعصاب پہلے ہی تناؤ میں تھے لیکن جیسے ہی گولیوں کی بوچھاڑ چند پل کے لیے رکی۔
اس نے فوراً ایک قریبی راکٹ لانچر تھامے سپاہی کو اشارہ کیا۔ سپاہی نے گھٹنوں کے بل بیٹھتے ہی نشانہ باندھ کر راکٹ چھوڑ دیا۔ ایک زور دار دھماکہ ہوا اور سکول کی عمارت شعلوں اور ملبے میں ڈھے گئی۔ اس دھماکے کے ساتھ ہی باقی آٹھ راکٹ لانچر بردار سپاہیوں نے بھی مختلف اہداف پر راکٹ داغے۔ لمحہ بھر میں وادی بارود اور شعلوں کی جھنکار سے گونج اٹھی۔
ایک راکٹ سیدھا مسجد کی دیوار سے جا ٹکرایا، اینٹیں اور پتھر فضا میں بکھر گئے، اذان کی صدائیں دینے والا مینار آدھا جھک گیا۔
دوسرا راکٹ عورتوں اور بچوں کے اس مکان پر لگا جہاں خوف سے سہمے لوگ دیواروں سے چمٹے بیٹھے تھے۔ لمحوں میں مکان آگ کی لپیٹ میں آ گیا، جلتی لکڑیوں اور چیختی آوازوں کا منظر اس جنگ کو اور بھی ہولناک بنا رہا تھا۔
عورتوں اور بچوں کی دل دہلا دینے والی چیخیں زید سمیت اس کے سپاہیوں اور بی ایل ایف کے جنگجوؤں کے دلوں پر بھی شدید عذاب کی طرح گزریں۔
زید کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ معصوم بچے اور عورتیں یہاں کیمپ میں موجود ہوں گی۔
گاؤں کا ایک بڑا حصہ آگ میں جل رہا تھا۔ سب سے بھیانک وہ منظر تھا جب کچھ بچے اور عورتیں آگ کی لپیٹ میں باہر بھاگے۔ یہ منظر نہ صرف زید سمیت اس کے سپاہیوں کے دل دہلا رہا تھا بلکہ دشمن کے دلوں میں بھی مزید آگ بھڑکا رہا تھا۔
راکٹ حملے نے بی ایل ایف کو جانی اور مالی دونوں اعتبار سے شدید نقصان پہنچایا تھا لیکن اس کا ردعمل بھی اتنا ہی بھیانک اور خوفناک تھا۔ پہاڑوں کی چوٹیوں پر موجود دشمن کے جنگجو پہلے تو پریشان ہوئے لیکن پھر ان کی آنکھوں میں انتقام کی آگ بھڑک اٹھی۔
انہوں نے اپنی بندوقوں کے دہانے کھول دیے اور نیچے زید کے سپاہیوں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ بارش کی طرح برستی گولیوں نے زمین کو خون سے سرخ کر دیا۔ دشمن پاگلوں کی طرح گولیاں برسا رہا تھا، ان کے دلوں میں بچوں اور عورتوں کی لاشوں کا غصہ انگاروں کی طرح دہک رہا تھا۔
زید اور اس کے سپاہی بھی اپنی پوزیشن سنبھالے، پہاڑوں کی طرف فائرنگ کر رہے تھے لیکن یہ جدوجہد ایک ناہموار جنگ کی طرح تھی۔ اونچائی پر بیٹھا دشمن زیادہ طاقتور اور محفوظ تھا۔ نیچے سے چلائی گئی گولیاں بس پتھروں سے ٹکرا کر ضائع ہورہی تھیں۔ زید خود بھی چوٹی پر موجود دشمنوں کو نشانے پر لینے کی کوشش کرتا رہا اور بڑی مشکل سے صرف ایک دشمن جنگجو کو گِرا پایا لیکن اس کامیابی کی قیمت بھاری تھی۔
اب تک زید کے سو سے زیادہ سپاہی دشمن کی گولیوں کا شکار ہو چکے تھے۔ ان کے جسم زمین پر تڑپ رہے تھے یا پھر ہمیشہ کے لیے خاموش ہوچکے تھے۔
ابھی پہاڑوں سے آنے والی گولیوں کا طوفان تھما بھی نہیں تھا کہ بی ایل ایف کے کیمپ سے اچانک کئی راکٹ لانچر دہاڑے۔ آسمان پر شعلے لہراتے دکھائی دیے اور لمحوں میں دھماکوں نے زمین کو لرزا دیا۔ کچھ راکٹ تو نشانے سے ہٹ گئے، کچھ خالی پتھریلی چٹانوں سے ٹکرا گئے لیکن باقی راکٹوں نے زید کے سپاہیوں کی صفوں کو چیر کر رکھ دیا۔ دھماکوں سے زمین میں گڑھے پڑ گئے۔ لاشیں ادھر اُدھر بکھر گئیں اور زخمیوں کی چیخوں نے فضا کو مزید خوفناک بنا دیا۔
زید کے سپاہیوں کی تعداد تیزی سے گھٹتی جا رہی تھی۔ چند لمحے پہلے جو لشکر پُرعزم انداز میں آگے بڑھ رہا تھا، اب وہ بکھرتا اور گِرتا جا رہا تھا۔ ہر طرف خون، بارود اور چیخوں کا امتزاج پھیلا ہوا تھا۔ جو سپاہی بچتے وہ پھر ہتھیار تھام کر لڑنے لگتے لیکن اگلے ہی لمحے کسی گولی یا دھماکے کی نذر ہو جاتے۔
جنگ کا یہ بھیانک رخ زید کو اندر سے کھوکھلا کر رہا تھا۔ اسے یقین تھا کہ دشمن کو وہ بڑا نقصان پہنچا چکا ہے لیکن حقیقت یہ تھی کہ اس کے اپنے لشکر کا خون زمین کو سیراب کر رہا تھا۔
ہر گزرتا لمحہ کمانڈر زید کو شکست اور موت کی طرف دھکیل رہا تھا۔ اس نے یہ حملہ ایک مضبوط حوصلے اور یقینی فتح کی امید کے ساتھ کیا تھا لیکن اب حقیقت اس کے سامنے کھڑی تھی۔ وہ خود کو دشمن کے دو طرفہ حملے کے درمیان پھنسے ہوئے محسوس کر رہا تھا۔ اوپر پہاڑوں سے گولیاں برس رہی تھیں اور نیچے وادی سے راکٹ داغے جا رہے تھے۔ جنگ کا ہر قدم اب زید اور اس کے سپاہیوں کے لیے مزید مہلک ہوتا جا رہا تھا۔ اس میدان میں اب صرف بارود کی بو، لاشوں کی بے حسی اور موت کی سایہ دار چادر پھیلی ہوئی تھی۔
،زید نے بے بسی کے ساتھ، آسمان کی طرف نگاہیں اٹھائیں اور دل میں خوف لئے دعا کی
“یا اللہ…! ہمیں غیب سے مدد عطا فرما۔ آمین۔”
لیکن جیسے ہی اس کے لبوں سے یہ الفاظ نکلے، ایک تلخ خیال اس کے دل پر دستک دینے لگا۔
وہ سوچنے لگا کہ یہی الفاظ…، یہی دعا…، شاید ابھی اسی لمحے بی ایل ایف کے سپاہیوں کے لبوں پر بھی ہو۔ ان کا خدا بھی وہی ہے جو میرا ہے، ان کی پیشانیاں بھی اسی خدا کے آگے جھکتی ہیں جس کے آگے میں جھکتا ہوں۔ وہ بھی کلمہ پڑھنے والے ہیں، وہ بھی اسی نبی کے امتی ہیں جس کا میں ہوں۔ اگر میں خدا سے مدد مانگ رہا ہوں تو کیا وہ نہیں مانگ رہے ہوں گے؟ اور اگر وہ مانگ رہے ہیں تو پھر فیصلہ کس کے حق میں ہوگا؟ خدا کس کی دعا سنے گا اور کس کی رد کرے گا؟
یہ سوچ اسے اندر تک ہلا گئی۔ جنگ کے اس میدان میں بارود اور لاشوں کے بیچ ایک سوال اس کے دل میں جڑ پکڑنے لگا کہ کیا خدا ایسے لوگوں کی مدد کرے گا جو اسی کے نام پر ایک دوسرے کے ہی گلے کاٹنے میں مصروف ہیں؟ کیا خدا کے ہاں یہ منظر قبولیت کے لائق ہوگا کہ مسلمان، مسلمان کا خون بہائے اور پھر وہی خون آلود ہاتھ، آسمان کی طرف دعا کے لئے اٹھیں؟
زید نے لمحہ بھر کو محسوس کیا جیسے اس کے اردگرد کی چیخیں، گولیوں کی تڑتڑاہٹ اور بارود کی بدبو سب اس کی سوچ کو گہرا کرنے کے لئے اکٹھی ہو گئی ہوں۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ خدا انصاف کرنے والا ہے اور انصاف یہ تقاضا کرتا ہے کہ جس کا مقصد نیک اور راست ہو، مدد بھی اسی کے حصے میں آئے۔ لیکن اس وقت جنگ میں دونوں فریق مسلمان تھے، دونوں اپنی لڑائی کو حق سمجھ کر لڑ رہے تھے۔ اس تضاد نے زید کے دل کو بوجھل کر دیا۔
،اب دعا کے بعد اس کے دل میں یقین کی بجائے ایک بے چین سا سوال گونج رہا تھا
“کیا ہمارا خدا ہماری مدد کرے گا یا ہمیں موت کا مزہ چکھنے دے گا؟ کیا یہ جنگ ہماری نیت کا امتحان ہے یا ہمارے کمزور ایمان کی سزا ہے؟”
یہ لمحہ زید کے لئے میدانِ جنگ سے زیادہ ایک میدانِ فکر بن گیا تھا۔ جہاں سوالات کی تلواریں اس پر دشمن کی گولیوں سے زیادہ کاری وار کر رہی تھیں۔
°°°°°°°°°°
:ایان کا بنگلہ اور گرینیڈ
ایان کے بنگلے کے گرد گویا موت نے اپنے پنجے گاڑ رکھے تھے۔ ہر طرف بارود کی بو، زمین پر بکھری ہوئی مٹی اور دھوئیں کی تہیں اس حقیقت کی گواہی دے رہی تھیں کہ یہ بنگلہ اب ایک قلعہ نہیں بلکہ قبرستان میں بدلنے کے دہانے پر ہے۔
بھلے ہی دیواروں اور چوکیوں کے گرد اس طرح مائن بچھائی گئی تھیں کہ کوئی پرندہ بھی اگر پر مارنے کی کوشش کرتا تو اس کا وجود چیتھڑوں میں اڑ جاتا۔ یہ جال ہی دراصل ایان کے بنگلے کی سب سے بڑی ڈھال تھا۔ لیکن ہر ڈھال کا کوئی نہ کوئی کمزور پہلو ضرور ہوتا ہے اور زافیر جانتا تھا کہ اگر ہمت اور حکمت ساتھ دیں تو موت کے اس جال کو بھی توڑا جا سکتا ہے۔
زافیر اب تک مائن دھماکوں کی وجہ سے اپنے پانچ قیمتی سپاہی کھو چکا تھا۔ ان کی لاشوں کے بکھرے ہوئے ٹکڑے، زمین پر پڑی بندوقیں اور ہوا میں پھیلتا دھواں، باقی سپاہیوں کو یہ یاد دلا رہا تھا کہ میدانِ جنگ میں ایک لمحے کی غفلت زندگی اور موت کے بیچ لکیر کھینچ دیتی ہے۔ اب یہ محض دشمن کا بنگلہ نہیں تھا بلکہ ہر قدم پر چھپی ہوئی موت کا کھیل تھا۔
،زافیر نے اپنی سانس کو قابو میں رکھتے ہوئے ہاتھ کے اشارے سے قریب ترین ساتھی کو روکا اور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اشارہ کیا
“آہستہ، دھیان سے، ہر قدم پر سوچ سمجھ کر۔”
یہ اشارہ آگے بڑھا۔ پھر اگلے ساتھی نے بھی سر ہلا کر پیغام کو مزید آگے منتقل کیا۔ جیسے ایک خاموش زنجیر وجود میں آگئی ہو جو ہر سپاہی کے دل کو موت کے ڈر سے باندھ رہی تھی۔ اب ان کے قدم آہستہ، ناپ تول کے ساتھ اور زمین کو ٹٹولتے ہوئے بڑھنے لگے۔ جنگ کا شور کچھ لمحوں کے لیے دب سا گیا تھا۔ محض دلوں کی دھڑکنیں، کپکپاتے ہونٹ اور ہوا میں بارود کی سڑتی بو باقی تھی۔ وہ لمحہ اتنا دبیز تھا کہ گویا وقت نے خود کو ساکت کر دیا ہو۔
وہ بنگلے کی چاردیواری سے بمشکل بیس فٹ کے فاصلے پر پہنچے ہی تھے کہ اچانک ایان کے بنگلے سے فائرنگ ہوئی اور زافیر کے پانچ مزید ساتھی گولیوں کا شکار ہوگئے۔
زافیر نے فوراً ہی اپنے ہاتھ کے اشارے سے سب کو روک دیا۔
چھت سے آنے والی فائرنگ انہیں آگے بڑھنے سے روک رہی تھی۔ زافیر نے چند پل سوچا اور پھر اس کی آنکھوں میں ایک ایسی چمک ابھری جس میں موت کے سائے کے ساتھ ساتھ فتح کی ایک لہر بھی جھلک رہی تھی۔ اس نے اپنے قریب موجود سپاہی کی طرف دیکھ کر اشارہ کیا، پھر وہ اشارہ زنجیر کی طرح آگے بڑھتا گیا۔ یوں ایک منٹ کے اندر ہر سپاہی ایک دوسرے کے ساتھ جڑ گیا۔ اب وہ سب ایک ہی سانس، ایک ہی دل اور ایک ہی نظریے کے ساتھ دشمن کی آخری ڈھال پر ضرب لگانے کے لیے تیار تھے۔
اب اچانک بندوقوں کی آوازیں کم ہو گئیں۔ چاروں اطراف میں موجود آدھے سپاہیوں نے اپنی بندوقیں خاموش کر دیں۔ یہ خاموشی گویا آنے والے طوفان کی تمہید تھی۔ زافیر نے اپنی بیلٹ سے ایک گرینیڈ الگ کیا۔ اس کے ہاتھ لمحہ بھر کو رکے، پھر اس نے پن کھینچی اور ایک قوس بناتے ہوئے گرینیڈ دیوار کی طرف اچھال دیا۔ ایک دھماکہ ہوا۔ زمین لرز گئی۔ گردوغبار کے بادل چھا گئے لیکن یہ محض آغاز تھا۔
اس کے فوراً بعد، ستائیس سپاہیوں نے یکے بعد دیگرے اپنے گرینیڈ دیوار پر پھینک دیے۔ ہر دھماکے نے گویا زمین کے جگر کو چیر دیا۔ دیوار چاروں طرف سے لرزنے لگی۔ بنگلے کے محافظوں کی چیخیں اور پتھروں کی کرچیاں، فضا میں اڑتی رہیں۔ کچھ جگہوں سے دیوار پوری طرح زمیں بوس ہوگئی۔ کئی چوکیوں کے ڈھانچے خاک کے ڈھیر میں بدل گئے۔ بارود کے دھماکوں نے فضا کو آگ اور دھوئیں سے بھر دیا تھا۔ زمین پر گرنے والے محافظوں کے جسموں سے خون کے چشمے پھوٹ رہے تھے۔
اب ایان کے بنگلے کی چاردیواری اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی۔ وہ مضبوطی جس پر ایان کو غرور تھا، اب محض ملبہ بن چکی تھی۔ بچے کھچے گارڈ چوکیوں سے نیچے اتر آئے تھے۔ ان کی آنکھوں میں وحشت تھی، سانسیں پھولی ہوئی تھیں اور قدم ڈگمگا رہے تھے۔ وہ جان چکے تھے کہ باہر رہنا موت کو آواز دینے کے مترادف ہے۔ اس لیے وہ بھاگتے ہوئے بنگلے کے اندر گھسنے لگے تاکہ وہاں سے دفاعی حکمت عملی ترتیب دے سکیں۔
لیکن وہ ایک حقیقت بھول گئے تھے۔ وہ دشمن جس نے انہیں چوکیوں سے ہٹا دیا، جو موت کو ہاتھ میں لے کر آگے بڑھ رہا تھا، وہ بنگلے کی دیواروں کے پیچھے چھپے ہوئے گارڈز کو بھی نہیں چھوڑے گا۔ موت کا وہ تحفہ جو ابھی چوکیوں پر برسایا گیا تھا، جلد ہی بنگلے کے اندر بھی ان کا مقدر بننے والا تھا۔ زافیر کی آنکھوں میں اب آگ کے شعلے جھلکنے لگے تھے۔ وہ جانتا تھا کہ یہ لمحہ فیصلہ کن ہے۔
°°°°°°°°°°
:مجید بریگیڈ اور سفید جھنڈا
،محمود بدری کی آواز گرج کی طرح فضا میں گونجی
“!…آگے بڑھو… کسی کو زندہ مت چھوڑنا”
اس کے لہجے میں وہ سفاکی اور فیصلہ کن سختی تھی جس نے سپاہیوں کے دلوں میں ایک نئی شدت بھر دی۔ لمحہ بھر کو ایسا محسوس ہوا جیسے میدانِ جنگ خود اس حکم کی بازگشت سے لرز اٹھا ہو۔ بارود کے دھوئیں، گولیوں کی بوچھاڑ اور ٹوٹے ہوئے مکانوں کے ملبے کی طرف بڑھتا ہوا محمود بدری کسی آتش فشاں کی طرح تھا۔ جو ہر شے جلانے پر تلا تھا۔
پورا میدانِ جنگ گویا جہنم کا ایک زندہ نقشہ بن چکا تھا۔ زمین دھماکوں سے کانپ رہی تھی، آسمان گولیوں اور شعلوں کی تڑتڑاہٹ سے چیخ رہا تھا۔ فضا میں بارود کی بدبو خون کی بُو کے ساتھ گھل مل کر ایک ایسی گھٹن پیدا کر رہی تھی کہ سانس لینا دشوار ہو گیا تھا۔ ہر سمت بکھرے ہوئے کٹے پھٹے اعضا، جلی ہوئی زمین، آگ کی لپٹیں اور زخمیوں کی دل دہلا دینے والی چیخیں موت کے رقص کی منظر کشی کر رہی تھیں۔ گویا یہ زمین کسی قیامتِ صغریٰ کا میدان بن چکی تھی، جہاں زندگی اپنی آخری ہچکیاں لے رہی تھی۔
محمود بدری اپنے سپاہیوں کے ہمراہ نہایت احتیاط اور ناپ تول کر قدم آگے بڑھا رہا تھا۔ اس کے کانوں میں گولیوں کی سیٹیاں اب مدھم لگنے لگی تھیں کیونکہ اس کے اندر کا جنگجو صرف اگلے ہدف پر مرکوز تھا۔ ہر جھاڑی، ہر شکستہ دیوار اور ہر کھڑکی کے سوراخ پر اس کی نظریں تھیں۔ جہاں ذرا سی حرکت دکھائی دیتی، وہیں گولیاں برس جاتیں۔ اس کی ٹکڑی کے سپاہی اس قدر چوکس اور منظم تھے کہ جیسے سب کی سانسیں ایک ہی دھڑکن پر بندھی ہوں۔ کسی ایک کے اشارے پر پورے گروہ کے رُخ بدل جاتے اور سامنے آنے والا لمحوں میں زمین پر گر کر تڑپنے لگتا۔
اب رفتہ رفتہ مجید بریگیڈ کے بچے کھچے جنگجوؤں کی مزاحمت کمزور پڑنے لگی تھی۔ ان کی گولیاں کم ہوگئی تھیں، ان کی آوازیں دھندلا چکی تھیں۔
وہ گولی چلانے سے پہلے خود اپنے انجام کو پہچان چکے تھے۔ محمود بدری جانتا تھا کہ آخری ہچکیوں پر کھڑی یہ مزاحمت زیادہ دیر نہیں چل سکتی پھر بھی وہ وقت سے پہلے جشن منانے والوں میں سے نہیں تھا۔
اس نے اپنے سپاہیوں کو اشارہ دیا کہ صفیں برقرار رکھو، دھیان قائم رکھو… کیونکہ آخری لمحات اکثر سب سے زیادہ دھوکہ دہ ہوتے ہیں۔
اب وہ ایک شکستہ مکان سے بمشکل تیس فٹ کے فاصلے پر تھے۔ اچانک اس مکان کی بوسیدہ دیوار کے پیچھے سے ایک ڈنڈا اوپر اٹھا، جس کے ساتھ ایک سفید کپڑا بندھا ہوا تھا۔ وہ کپڑا ہلکی ہوا میں لہرا رہا تھا۔ یہ منظر دیکھ کر لمحے بھر کے لیے میدانِ جنگ خاموش سا ہوگیا۔ یہ امن اور ہتھیار ڈالنے کی علامت تھی۔ محمود بدری اور اس کے سپاہیوں کے قدم لمحہ بھر کو رک گئے۔ گولیاں برسنے کا سلسلہ بھی تھم گیا لیکن ان کی نظریں بدستور دیوار کے پیچھے مرکوز رہیں۔ وہ جانتے تھے کہ جنگ کا ہر موڑ دھوکہ ہو سکتا ہے۔ کبھی دشمن ہتھیار ڈالنے کا ڈھونگ رچاتا ہے اور اگلے ہی لمحے گولی چلا دیتا ہے۔
چند لمحے گزرے۔ پھر ایک شخص ہاتھ بلند کیے، لرزتے قدموں سے دیوار کے پیچھے سے باہر نکلا۔ اس کا چہرہ خاک آلود اور خوف سے پیلا پڑا ہوا تھا۔ کپڑے خون اور مٹی سے اٹے ہوئے تھے۔ اس کے پیچھے ایک اور شخص نمودار ہوا، پھر ایک اور۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے مجید بریگیڈ کے تمام بچے کھچے جنگجو ایک ایک کر کے باہر آنے لگے۔ ان سب کے ہاتھ اوپر تھے۔ کچھ کے کندھے جھکے ہوئے تھے، کچھ کے قدم ڈگمگا رہے تھے۔ ان کے چہروں پر شکست اور تھکن کا احساس تھا جیسے ان سے زندگی چھین لی گئی ہو۔
وہ سب محمود بدری اور اس کے سپاہیوں کے سامنے آکر رُک گئے۔ ان کی آنکھوں میں اب لڑنے کی چمک باقی نہیں رہی تھی۔ یہ وہی لوگ تھے جو ابھی کچھ دیر پہلے موت بانٹ رہے تھے، لیکن اب وہ خود اپنی موت کے خوف میں لرز رہے تھے۔ وہ ہتھیار ڈال چکے تھے، اپنے آپ کو گرفتاری کے لیے پیش کر رہے تھے۔
محمود بدری نے ان پر نگاہ ڈالی۔ لمحہ بھر کے لیے اس کے دل میں خیال آیا کہ یہ سب مسلمان ہیں، وہی کلمہ پڑھنے والے، وہی خدا کے بندے لیکن اگلے ہی لمحے اس نے سر جھٹکا اور خود کو حقیقت کی دنیا میں لے آیا۔
یہ جنگ تھی اور جنگ میں جذبات کی گنجائش موت کی طرف دھکیل دیتی ہے۔ اس کے لبوں پر ایک باریک سا فاتحانہ تبسم آیا۔ اس نے اپنے سپاہیوں کو اشارہ دیا کہ آگے بڑھو اور ان سب کو قابو میں کر لو۔
°°°°°°°°°°
:بی ایل ایف کا آخری وار
ہر گزرتا لمحہ کمانڈر زید کے اعصاب پر ہتھوڑے برسا رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اس جنگی کھیل میں ہر گزرتا لمحہ، اس کی شکست اور موت کی لکیر کو مزید گہرا کر رہا ہے۔ جب اس نے یہ حملہ شروع کیا تھا تو اس کے دل میں فولادی حوصلہ اور یقینی فتح کی ایک آگ دہک رہی تھی۔ وہ سمجھتا تھا کہ منصوبہ بندی اتنی کامل ہے کہ دشمن کے لیے راستہ نہیں بچے گا۔ لیکن جنگ کبھی بھی صرف منصوبہ بندی پر نہیں جیتی جاتی۔ یہاں ہر گولی ایک نیا رخ بدل دیتی ہے، ہر دھماکہ نقشے کو الٹ دیتا ہے اور ہر لمحہ زندگی اور موت کے درمیان تلوار کی دھار پر توازن کا کھیل بن جاتا ہے۔
اب وہ لمحہ آچکا تھا۔ زید اپنی سانسوں کی گرمی میں یہ کڑوی حقیقت محسوس کر رہا تھا کہ فتح اس کے ہاتھ سے پھسل چکی ہے۔ اس کے گرد دھواں اتنا گھنا ہو گیا تھا کہ آنکھیں جلاتا ہوا اندر تک اترتا محسوس ہو رہا تھا۔ پہاڑوں کی چوٹیوں سے دشمن کی بندوقیں گرج رہی تھیں، گولیاں پتھروں اور درختوں کو چھیدتی ہوئی کبھی زید کے قریب سے سیٹی بجاتی گزرتیں، کبھی اس کے کسی سپاہی کو زمین بوس کر دیتیں۔ نیچے وادی سے راکٹوں کی بوچھاڑ ایسے آرہی تھی جیسے آسمان ہی زمین پر ٹوٹ رہا ہو۔ دھماکوں سے زمین لرز رہی تھی، پتھر بکھر رہے تھے اور فضا میں بارود کی مہک اتنی تیز ہو چکی تھی کہ ہر سانس موت کے ذائقے سے بھرپور لگ رہی تھی۔
زید نے اپنے اردگرد نظر دوڑائی۔ وہ چہرے جو کل جوش سے بھرپور اور پُر امید تھے، آج خون اور مٹی سے اٹے، بے جان جسموں میں تبدیل ہو چکے تھے۔ اس کے زخمی سپاہیوں کے کراہنے کی آوازیں اب مدھم ہو رہی تھیں۔ ہر لاش کے ساتھ اس کی اپنی امید کا ایک حصہ بھی زمین میں دفن ہو رہا تھا۔ اس نے خود کو دشمن کے دو طرفہ حملے میں بری طرح گھِرا پایا۔ اوپر پہاڑ کی بلندیوں سے موت برس رہی تھی اور نیچے وادی سے جہنم کے دہانے کھلے ہوئے تھے۔
اب ہر قدم، ہر حرکت اور ہر لمحہ، اس کے لیے اور اس کے ساتھیوں کے لیے جان لیوا ہوتا جا رہا تھا۔
اس نے اپنی جیب سے موبائل نکالا۔ ہاتھوں میں لرزش تھی، آنکھوں میں دھندلی سی نمی لیکن دل میں ایک عجیب سی مضبوطی اب بھی باقی تھی۔ اس نے فون کی سکرین پر تیزی سے انگلیاں چلائیں۔
“میری ٹیم کے زیادہ تر لوگ مارے جا چکے ہیں۔ ہم ہار چکے ہیں۔ بچ نکلنے کا کوئی راستہ نہیں۔ اب یہ مشن تمہاری ذمہ داری ہے۔”
یہ پیغام زافیر کے نمبر پر بھیجتے ہوئے زید کے اندر ایک انجانا سکون اتر گیا۔ جیسے ایک بوجھ اس کے کندھوں سے ہٹ گیا ہو۔ جیسے ہی اس نے موبائل اپنی جیب میں رکھا۔
اسی وقت، اچانک ایک راکٹ قریب آ کر پھٹا۔ دھماکے نے زمین کو چیر دیا۔ پتھر، مٹی اور آگ کے شعلے آسمان کی طرف اچھلے۔ دھماکے کی شدت سے زید زمین سے اوپر اچھل کر پیچھے جا گرا۔ اس کے کانوں میں ایک گرج دار آواز اٹک گئی، آنکھوں کے سامنے دھند چھا گئی۔ اس کے کانوں میں بس ایک شور تھا… ایسا شور جس میں چیخیں، دھماکے، گولیوں کی بارش اور زمین کے لرزنے کی آوازیں سب اکٹھی تھیں۔
لیکن زید نے ہمت نہیں ہاری۔ اس نے زمین پر گِرتے ہی اپنے ہاتھوں کو کھینچا اور ایک پتھر کے پیچھے خود کو گھسیٹ لیا۔ اس کے سینے میں آگ کی طرح سانس جل رہی تھی۔ اس کے سامنے جنگ کا منظر ایک لامتناہی ڈراؤنے خواب کی مانند تھا۔
زید جان چکا تھا کہ اب اس کے زندہ بچنے کے امکان تقریباً ختم ہو چکے ہیں لیکن وہ ایک کمانڈر تھا اور موت سے پہلے ہار مان لینا کمانڈر کے شایانِ شان نہیں۔ اس نے آخری بار اپنی رائفل کو مضبوطی سے تھاما، پسینے اور خون سے بھیگی انگلیوں نے ٹریگر پر گرفت مضبوط کی اور وہ پتھر کی اوٹ میں چھپتے ہوئے نیچے بی ایل ایف کے کیمپ کی طرف فائرنگ کرنے لگا۔ اس کی ہر گولی گویا زندگی کی آخری لکیر تھی، ہر دھماکہ اس کی سانسوں کی بقا کی دہائی۔ بارود کی تیز بُو اور دھواں اس کے نتھنوں میں گھس کر دم گھونٹ رہا تھا مگر اس کے ہاتھ کانپنے کے باوجود ہار ماننے کو تیار نہیں تھے۔ وہ جانتا تھا کہ اس کی گولیاں شاید اب کسی بڑے نقصان کا سبب نہ بن سکیں لیکن یہ اس کی آخری جدوجہد تھی۔ وہ جدوجہد جس کے بارے میں تاریخ لکھتی ہے کہ ایک کمانڈر آخری لمحے تک ڈٹا رہا۔
اچانک فضا میں سنسناہٹ گونجی۔ لمحہ بھر بعد دو تیز رفتار گولیاں اس کی کمر سے ٹکرائیں۔ بلٹ پروف جیکٹ نے گولیوں کو جسم میں پیوست ہونے سے روک لیا لیکن ٹکراؤ کی شدت اتنی ہولناک تھی کہ زید کو لگا جیسے کسی نے دو وزنی پتھر پوری قوت سے اس کی ریڑھ کی ہڈی پر دے مارے ہوں۔ اس کی سانس رک سی گئی، جسم سن ہو کر رہ گیا اور ایک کڑک دار آواز اس کے اندر گونجتی محسوس ہوئی جیسے ہڈیاں چٹخ گئی ہوں۔
درد کے اس جھٹکے نے اسے سنبھلنے کا موقع نہیں دیا۔ وہ منہ کے بل آگے کو گرا اور بڑے پتھر سے اس کا ماتھا زور سے ٹکرا گیا۔ دھچکا اتنا شدید تھا کہ اس کا دماغ لرز اٹھا۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ پیشانی کا گوشت پھٹا اور چہرے پر خون کی لکیریں بہہ نکلیں۔ زید کا جسم اپنی طاقت کھو بیٹھا، بندوق اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور وہ بے ہوش ہو کر پہاڑی کی ڈھلوان پر لڑھکنے لگا۔ ہر جھٹکے پر اس کے بے جان وجود سے مٹی، پتھر اور خون کے چھینٹے اُڑتے۔ وہ لڑھکتا ہی چلا گیا، کبھی کسی نوکیلے پتھر سے ٹکرا کر کٹتا، کبھی کسی سخت زمین پر گرتا، حتیٰ کہ آخرکار ایک گھنی جھاڑی نے اس کے بے حِس وجود کو اپنی کانٹوں بھری آغوش میں جکڑ لیا۔
…وہیں وہ پھنس گیا
…نیم مردہ
…بے ہوشی کے اندھیروں میں قید
اب وہ نہیں جانتا تھا کہ اس کے سپاہیوں پر کیا بیت رہی ہے، جنگ کس کروٹ بیٹھ رہی ہے۔ کس کا خون زمین رنگ رہا ہے اور کس کی چیخیں فضاؤں میں تحلیل ہو رہی ہیں۔ پہاڑ اب بھی گولیاں اگلے جا رہے تھے، وادی سے دھماکوں کی گرج اب بھی گونج رہی تھی لیکن زید کا شعور اس سب سے کٹ چکا تھا۔ اس کی آنکھیں بند تھیں اور جسم کانٹوں میں الجھا ہوا، ایک زخمی بے بس پرندے کی مانند بے حس و حرکت پڑا تھا۔
°°°°°°°°°°
:ایان کا بنگلہ
دیواروں کے گِرنے اور گرینیڈ پھٹنے سے اک غبار سا اٹھا۔ اسی غبار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے زافیر اپنے سپاہیوں کے ہمراہ شکستہ چاردیواری تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا۔ زمین اب بھی بارود کی بُو اور دھماکوں کی گونج سے لرز رہی تھی لیکن ان کے قدم اس لرزتی مٹی پر فولاد بنے ہوئے تھے۔
وہ جانتے تھے کہ ہر قدم پر موت ان کی تاک میں ہے۔ پھر بھی انہوں نے نہایت احتیاط سے قدم آگے بڑھائے اور راستے میں بچھائے گئے تمام مائن عبور کر لیے۔ ہر قدم کے ساتھ ان کے دل کی دھڑکنیں گویا کانوں میں گونجنے لگتی تھیں جیسے موت قریب سے پکار رہی ہو۔
،زافیر نے دیوار کے پیچھے سے اونچی آواز میں للکارا، اس کی آواز میں ایک فاتح سپاہی کی گونج تھی
“ایان کو ہمارے حوالے کرو اور باقی سب ہتھیار پھینک کر باہر آجاؤ… میں وعدہ کرتا ہوں کہ کسی کو بھی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔”
،یہ الفاظ ابھی فضا میں گونج ہی رہے تھے کہ اچانک چھت سے ایان گرجا
“بھیک مت مانگ… اب آیا ہے تو کچھ کر کے دکھا۔”
اتنا کہتے ہی اس نے گولیوں کی بوچھاڑ کی۔ دیوار کے قریب مٹی کے ڈھیر اور اینٹوں کے ٹکڑے بارود کی تیز بو کے ساتھ ہوا میں بکھر گئے۔ یہ فائرنگ زافیر کے لیے ایک سیدھا جواب تھی، ایک اعلان کہ ہتھیار ڈالنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
زافیر کے لبوں پر ہلکی سی مسکان پھیلی جیسے وہ سوچ رہا ہو کہ کر کے دکھا تو رہا ہوں اور کیسے دکھاؤں۔
اس نے لمحے بھر بھی تاخیر نہیں کی۔ اس نے اپنی آنکھوں میں بجلی جیسی تیزی کے ساتھ اشاروں کی زبان سے اپنی ٹیم تک پیغام پہنچایا۔ یہ اشارے ان کے درمیان موت اور زندگی کے فیصلے تھے۔ اگلے ہی لمحے آدھے سپاہیوں نے چھت اور بنگلے کی طرف اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ گولیاں رات کی خاموشی کو چیر کر بنگلے کی دیواروں میں پیوست ہورہی تھیں۔ کھڑکیوں کے شیشے کرچی کرچی ہو کر بکھر رہے تھے اور دیواروں سے مٹی کے ذرات اُڑنے لگے۔
ایان بھی چھت کی پردی کے پیچھے بیٹھ کر فائرنگ تھمنے اور موقع ملنے کا انتظار کرنے لگا تھا۔
باقی سپاہیوں نے اپنی کمر سے گرینیڈ نکالے، پن کھینچی اور پورے زور سے بنگلے کی بنیادوں کی طرف اچھال دیے۔ لمحہ بھر خاموشی چھائی اور پھر یکے بعد دیگرے دھماکوں نے فضا کو دہلا دیا۔ زمین یوں لرزی جیسے کسی عفریت نے اپنی مٹھی سے اسے کچل ڈالا ہو۔ گرد و غبار کے بادل اٹھے، ہوا بارود کی بُو سے بھر گئی اور بنگلے کی بنیادیں زخمی درندے کی طرح کراہ اٹھیں۔ چھت پر ایان کا وجود بھی چھت سمیت کانپ اٹھا۔
زافیر نے ایک بار پھر اشارہ کیا۔ جیسے ہی اس نے ہاتھ اٹھایا، آدھے سپاہیوں نے دوبارہ اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ باقی آدھے، کمر جھکائے، بیٹھنے کے انداز میں تیزی سے آگے کو بھاگے اور بنگلے کی شکستہ دیواروں تک جا پہنچے۔ اب وہ دیواروں کے سائے میں سانس لے رہے تھے۔ پسینے میں بھیگے چہروں پر گرد و غبار جم گیا تھا مگر ان کی آنکھوں میں موت سے بے خوفی کی چمک تھی۔
زافیر کے اشارے پر چاردیواری کے باہر والے سپاہیوں نے فائرنگ روک دی اور اپنے وجود دیوار کے پیچھے ہی چھپا لیے۔
ایان تیزی سے اٹھا اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی لیکن اسے جلد ہی احساس ہوگیا کہ وہ سب دیواروں کے پیچھے چھپے ہیں۔ اس نے فائرنگ روکی اور پردی کے ایک سوراخ سے نظریں باہر لگا لیں۔
اب محاذ دو حصوں میں بٹ چکا تھا۔ ایک ٹیم جو شکستہ دیواروں کے باہر تھی اور وقفے وقفے سے ہلکی پھلکی فائرنگ کر رہی تھی تاکہ دشمن دباؤ میں رہے اور دوسری ٹیم جو بنگلے کی دیواروں کے ساتھ چپکی کھڑی تھی، لمحہ بھر میں اندر گھسنے کے لیے تیار تھی۔ بنگلہ لرز رہا تھا، دیواریں چیخ رہی تھیں اور ایان ان سے بس چند قدم کی دوری پر تھا۔
…مگر یہ جنگ تھی
…جنگ کے حالات کب بدل جائیں
…کوئی نہیں جانتا
…فتح کب ہار میں بدل جائے
…یہ آخری گولی چلنے کے بعد بھی
…جاننا مشکل ہے
…یہاں تو ابھی
…ایان بھی زندہ تھا
…زافیر کا سب سے بڑا جانی دشمن
°°°°°°°°°°
…جاری ہے
