انسانی دماغ:لا محدودیت کے دروازے پر قدرتی گرہ
زیاد اصغر زارون کے قلم سے
کیا آپ چاہتے ہیں کہ 100٪ دماغ استعمال کر کے غیر مرئی طاقت حاصل کریں؟
صدیوں سے انسان اپنے دماغ کی طاقت کو جاننے اور استعمال کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ ہم آئے دن دماغ کی ساخت، اس کے کام کے طریقے اور اس کے لاشعوری گوشوں پر تحقیق کرتے ہیں مگر پھر بھی انسان اپنی دماغی صلاحیت کا صرف ایک محدود حصہ ہی استعمال کر پاتا ہے۔
تحقیقات سے ثابت ہو چکا ہے کہ ایک عام انسان اپنے دماغ کا صرف 10 سے 15 فیصد حصہ شعوری طور پر استعمال کرتا ہے۔ باقی حصہ غیر فعال نہیں بلکہ غیر شعوری سرگرمیوں کے لیے مخصوص ہوتا ہے جیسے یادداشت، خواب، احساسات، جبلت اور دیگر پیچیدہ نیورل پیٹرنز۔
دنیا کی تاریخ میں جن لوگوں نے اپنے دماغ کو اوسط سے زیادہ استعمال کیا، ان میں البرٹ آئن اسٹائن کا نام سرفہرست آتا ہے۔ آئن اسٹائن کے دماغ کی ساخت عام لوگوں سے مختلف تھی۔ پوسٹ مارٹم کے بعد نیورولوجسٹس نے اس بات کا مشاہدہ کیا کہ ان کے دماغ میں ایک مخصوص حصہ (inferior parietal lobule) عام انسانوں کی نسبت 15 فیصد بڑا تھا جو تخیل، ریاضیاتی سوچ اور خلا کے ادراک میں مدد دیتا ہے۔
مگر یہاں ایک سوال جنم لیتا ہے کہ قدرت نے انسان کے دماغ پر ایسی بندش کیوں لگائی کہ وہ مکمل دماغ استعمال نہیں کر سکتا؟ یہ محدودیت کیوں؟
اس سوال کا جواب ہمیں انسانی دماغ کی اس مخصوص گرہ (Cognitive Knot) میں ملتا ہے جو انسانی دماغ میں دریافت ہوئی۔ یہ گرہ ایک حفاظتی میکانزم ہے جو دماغ کے کچھ حصوں کو دوسرے حصوں سے مکمل طور پر مربوط نہیں ہونے دیتی۔ یہ گرہ دماغ کو مسلسل توازن میں رکھتی ہے تاکہ جذبات، علم، لاشعور اور قوتِ ارادی ایک مخصوص دائرے میں محدود رہیں۔
یہ قدرتی گرہ اس لیے اہم ہے کیونکہ اگر انسان بغیر کسی حد کے اپنے دماغ کی مکمل قوت حاصل کر لے تو وہ ایسی معلومات، احساسات اور قوتوں سے روبرو ہو سکتا ہے جن کا وہ شعوری یا جذباتی طور پر سامنا نہیں کر سکتا۔ مکمل دماغی صلاحیت حاصل کرنا گویا ایک ایسی دنیا میں داخل ہونے کے مترادف ہے جہاں ہر تصور حقیقت بن سکتا ہے، ہر خوف مجسم ہو سکتا ہے اور ہر ارادہ ایک بے قابو توانائی میں ڈھل سکتا ہے۔
اگر یہ قدرتی گرہ کسی تجرباتی یا حیاتیاتی عمل سے ہٹ جائے تو انسان کی شخصیت میں خطرناک تبدیلیاں آسکتی ہیں۔ اس کا شعور بیک وقت ہزاروں باتیں محسوس کرنے لگے گا۔ اس کے خیالات حقیقت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ وہ ماضی، حال اور مستقبل کو ایک ساتھ دیکھنے لگے گا اور جذبات کی شدت اسے پاگل پن یا خودکشی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
مزید برآں، دماغ کی مکمل طاقت حاصل ہونے پر انسان اپنی ذات کے اندر چھپی انرجی کو استعمال کر سکتا ہے، جس سے ٹیلی کینسس، ٹیلی پیتھی اور دیگر ایسی صلاحیتیں پیدا ہو سکتی ہیں جنہیں ہم آج سائنسی قیاس یا فکشن سمجھتے ہیں۔ مگر یہ صلاحیتیں بے ہنگم ہوں گی جیسے کسی بچے کو ایٹمی ہتھیار تھما دینا۔
اس لیے قدرت نے دماغ کی مکمل رسائی پر ایک گرہ لگا کر انسانیت کو خود اپنے اندر کے شیطان سے محفوظ رکھا ہے۔ یہ گرہ ایک نعمت ہے، ایک حفاظتی پردہ ہے جو ہمیں تباہی سے بچائے ہوئے ہے۔
مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ انسان اس گرہ کو جزوی طور پر چیلنج کر رہا ہے۔
میڈیٹیشن، نیوروفیڈبیک، مصنوعی ذہانت اور سائنسی تجربات کے ذریعے۔
سوال یہ نہیں کہ کیا ہم مکمل دماغ استعمال کر سکتے ہیں؟
اصل سوال یہ ہے، کیا ہم اس کے نتائج جھیلنے کے لیے تیار ہیں؟
