ایٹمی پروگرام اور نون لیگ کا کردار

تحریر: زیاد اصغر زارون

پاکستان کا ایٹمی پروگرام دنیا بھر میں ہماری خودمختاری، سلامتی اور سٹریٹیجک توازن کا ضامن سمجھا جاتا ہے۔ لیکن وقتاً فوقتاً سیاسی جماعتیں اور

خاص طور پر مسلم لیگ (ن) اس قومی اثاثے کا کریڈٹ لینے کی کوشش کرتی ہیں۔ خاص طور پر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ 1998 میں ایٹمی دھماکوں کا فیصلہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے کیا، اس لیے اس کامیابی کا سہرا صرف اسی کے سر ہے۔ لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟ آئیے حقائق کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیتے ہیں۔

درحقیقت پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد 1974 میں وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی۔ جب بھارت نے اپنا پہلا ایٹمی دھماکہ کیا۔ بھٹو نے اپنے تاریخی جملے “گھاس کھا لیں گے مگر ایٹم بم بنائیں گے” کے ذریعے قوم کو ایک واضح پیغام دیا کہ دفاعی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
اسی دور میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پاکستان بلایا گیا اور 1976 میں کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز قائم کی گئیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام مسلم لیگ (ن) کے برسراقتدار آنے سے 20 سال قبل ہی مکمل سرگرمی سے جاری تھا۔

پاکستان کے ایٹمی پروگرام میں سب سے اہم اور کلیدی کردار ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا ہے۔

وہ نہ صرف یورینیم افزودگی کے ماہر تھے بلکہ انہوں نے تکنیکی، سائنسی اور خفیہ سطح پر تمام مراحل کی خود نگرانی کی۔

،وہ متعدد بار یہ بیان دے چکے ہیں کہ
“نواز شریف کو صرف یہ فیصلہ کرنا تھا کہ دھماکے کرنے ہیں یا نہیں، باقی سارا کام ہم پہلے ہی مکمل کر چکے تھے۔”

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے مطابق 1990 تک پاکستان دھماکہ کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکا تھا اور یہ صلاحیت ن لیگ کے اقتدار میں آنے سے بھی پہلے کی ہے۔
اگرچہ مئی 1998 میں دھماکوں کا فیصلہ ن لیگ کی حکومت نے کیا لیکن یہ فیصلہ بھارتی ایٹمی دھماکوں کے جواب میں شدید عوامی، عسکری اور سفارتی دباؤ کے تحت کیا گیا۔ اس وقت کے آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت اور سائنس دانوں کی جانب سے بھی شدید دباؤ تھا کہ اگر فوری ردعمل نہ دیا گیا تو پاکستان دفاعی لحاظ سے کمزور دکھائی دے گا۔

یہ بات بھی تاریخی ریکارڈ کا حصہ ہے کہ امریکہ کی جانب سے پاکستان کو 5 ارب ڈالر تک کی پیشکش کی گئی تاکہ وہ ایٹمی دھماکے نہ کرے لیکن عسکری ادارے، سائنس دان اور عوامی جذبات دھماکوں کے حق میں تھے۔

ن لیگ اپنے بیانیے میں ایٹمی دھماکوں کا کریڈٹ مکمل طور پر خود کو دیتی ہے مگر اس کا زیادہ تر انحصار 28 مئی 1998 کی ایک دن کی سیاسی منظوری پر ہے جبکہ حقیقی طور پر یہ ایک دو دہائیوں پر محیط سائنسی، عسکری اور قومی عزم کی داستان ہے۔
ن لیگ کا خود کو کریڈٹ دینا ایسا ہی ہے جیسے کوئی فیکٹری بیس سال کی محنت سے تیار کی گئی ہو اور ربن کاٹنے والا شخص خود کو فیکٹری کا خالق قرار دے جو نہایت ہی مضحکہ خیز دعویٰ کہلائے گا۔
بلکہ کریڈٹ دینے کے بجائے یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ن لیگ نے ایٹمی پروگرام کو نقصان پہنچانے میں اپنا خصوصی کردار ادا کیا۔
2004 میں جب ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو دباؤ میں آکر ٹی وی پر معافی مانگنے پر مجبور کیا گیا، وہ وقت بھی مسلم لیگ (ن) کی پشت پناہ حکومتوں کے قریب ترین تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب پاکستان نے نہ صرف اپنے سب سے بڑے ہیرو کو دنیا کے سامنے تنہا چھوڑ دیا بلکہ اس کے بعد طویل عرصے تک ایٹمی پروگرام پر خاموشی چھا گئی۔

یہ ایک ناقابلِ تردید سچائی ہے کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیادیں ذوالفقار علی بھٹو نے رکھیں۔ سائنس دانوں نے برسوں محنت کی، افواج نے تحفظ دیا اور پوری قوم نے قربانیاں دیں۔ اگر کسی سیاسی رہنما کو اس میں حصہ دار قرار دیا جائے تو وہ فیصلہ سازی کا ایک جزو ہو سکتا ہے مکمل خالق نہیں۔

،مسلم لیگ (ن) کا دعویٰ کہ
“ہم نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا”
یہ نہ صرف تاریخی طور پر غلط ہے بلکہ ان تمام شخصیات اور اداروں کی قربانیوں کی نفی ہے جنہوں نے یہ مشن ممکن بنایا۔
ایٹمی پروگرام کسی سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں بلکہ پاکستان کا قومی اثاثہ ہے۔
آپ اس کا کریڈٹ ڈاکٹر عبد القدیر خان، ان کی ٹیم، عسکری قیادت اور عوامی قربانیوں کو دے سکتے ہیں یا اس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کو بھی کریڈٹ دیا جاسکتا ہے لیکن نواز شریف یا ن لیگ کا اس پروگرام میں کوئی کردار نہیں۔ اندھی تقلید کے بجائے حقائق اور شواہد پر اپنی رائے قائم کرنا ہی ایک اعلیٰ ظرف قوم کی نشانی ہوتی ہے۔
اللہ سے دعا ہے کہ ہمارے ملکِ پاکستان کو تاقیامت قائم رکھے اور ہمیں حق سچ لکھنے اور بولنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *