باطنی آنکھ
زیاد اصغر زارون کے قلم سے
خواب انسانی شعور کا وہ گوشہ ہے جہاں حقیقت اور خیال کی سرحدیں دھندلا جاتی ہیں۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ ہم کبھی یہ یاد نہیں رکھ سکتے کہ کوئی خواب کہاں سے شروع ہوا۔ خواب ہمیشہ ہمیں درمیان سے پکڑتے ہیں، مکمل منظرنامہ پیش کرنے کی بجائے ہمیں کسی ایسی کہانی میں لے آتے ہیں جس کا آغاز ہمارے شعور سے اوجھل رہتا ہے۔ لیکن میرا حالیہ تجربہ اس عمومی اصول سے ہٹ کر تھا۔ ایک منفرد، پراسرار اور حد درجہ باطنی لمحہ۔
یہ رات عام راتوں کی طرح ہی شروع ہوئی تھی، لیکن جیسے ہی میں نیند کی سرحد میں داخل ہونے لگا۔ مجھے ایک عجیب سی تبدیلی کا احساس ہوا۔ میری آنکھیں بند تھیں لیکن یوں لگ رہا تھا کہ میں دیکھ رہا ہوں۔ میرے شعور کے پردے پر وہی کمرے کا منظر ابھرا جس میں میں لیٹا ہوا تھا۔ کرسی، ٹیبل، صوفہ دروازہ، سب کچھ ویسا ہی دکھائی دے رہا تھا جیسا کہ بیداری کی حالت میں ہوتا ہے۔ مجھے لگا کہ کوئی باطنی آنکھ ہے جو جاگ رہی ہے۔ ایک ایسی آنکھ جو جسمانی نہیں بلکہ روحانی یا نفسیاتی سطح پر موجود ہے۔
اسی دوران مجھے لگا کہ کچھ انسانی سایے کمرے میں داخل ہو رہے ہیں۔ وہ صاف نظر تو نہیں آ رہے تھے لیکن اُن کی موجودگی کا احساس غیر معمولی حد تک شدید تھا۔ دل کی دھڑکن تیز ہو چکی تھی۔ میں نے ہمت کرکے آنکھ کھولی مگر سایے غائب ہو چکے تھے۔
شاید یہ جاگنے کا لمحہ تھا یا شاید نہیں۔ کیونکہ جیسے ہی میں نے آنکھیں دوبارہ بند کیں، وہی باطنی نگاہ پھر سے بیدار ہوگئی۔ ایک بار پھر کمرہ میرے سامنے تھا۔ بغیر آنکھیں کھولے، ہر چیز ویسے ہی واضح دکھائی دے رہی تھی۔
یہ خواب نہیں تھا، نہ بیداری بلکہ دونوں کے بیچ کا کوئی گمشدہ لمحہ تھا۔
کہاجاتا ہے۔Hypnagogic Stateایک ایسی کیفیت جسے
اس کیفیت میں انسان نہ مکمل جاگتا ہے، نہ مکمل سوتا ہے بلکہ ایک نیم شعوری خلا میں جھولتا ہے۔ لیکن جو بات میرے تجربے کو خاص بناتی ہے، وہ یہ ہے کہ اس بار یہ کیفیت کسی خواب سے جڑی ہوئی نہیں تھی بلکہ ایسا لگ رہا تھا کہ کسی پوشیدہ دنیا کا دروازہ کھلنے کو ہے۔
ایسا تجربہ میرے ساتھ اس سے پہلے بھی کبھی کبھار ہوا تھا لیکن اس مرتبہ جو چیز نمایاں تھی وہ “باطنی آنکھ” کے کھلنے کا واضح، شعوری احساس تھا۔ یہ ایک مکمل مشاہداتی تجربہ تھا۔ دل کی تیز دھڑکن، کمرے کی تمام اشیاء کا تصوراتی طور پر دکھائی دینا اور سایوں کا آنا، یہ سب کسی عام خواب یا واہمے سے بڑھ کر تھا۔
اگر ہم اس تجربے کو روحانی یا صوفیانہ نقطہ نظر سے دیکھیں تو “باطنی آنکھ” کا تصور کئی تہذیبوں اور مذاہب میں موجود ہے۔ اسے “تیسری آنکھ”، یا بھی کہا جاتا ہے۔”Inner Vision”
صوفیا کے نزدیک یہ وہ آنکھ ہے جس سے انسان حقیقت کے پردے چاک کرتا ہے، جو اسے روحانی بصیرت عطا کرتی ہے۔ اگرچہ میرے تجربے میں ایسا کچھ صوفیانہ براہِ راست انکشاف نہیں ہوا، لیکن وہ لمحہ ضرور ایسا تھا جس نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا جیسے کائنات کی کسی خاموش گواہی سے میرا سامنا ہو گیا ہو۔
نیند، خواب، شعور اور لاشعور… یہ سب انسانی دماغ کی حیران کن اور پراسرار دنیائیں ہیں۔ ان میں کبھی کبھار ایسی جھلکیاں دکھائی دیتی ہیں جو انسان کی سوچ سے باہر ہوتی ہیں۔ میری اس رات کی کیفیت شاید کوئی نایاب تجربہ نہ ہو لیکن میرے لیے یہ ایسا لمحہ تھا جس نے مجھے بیدار کر دیا۔ صرف نیند سے نہیں بلکہ سوچ کی ایک نئی دنیا کے لیے۔
یہ تجربہ نہ صرف حیرت انگیز تھا بلکہ قابلِ غور بھی تھا۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خوابوں کی دنیا کوئی سادہ یا بے مقصد سرگرمی نہیں بلکہ یہ ہمارے شعور کی گہرائیوں میں ہونے والی حرکات کی ایک پیچیدہ نمائندگی ہے۔ اور شاید کبھی کبھار، ان خوابوں میں ہماری روح، ہمارے نفس یا کائنات کے رازوں سے بھی خاموش گفتگو کرتی ہے مگر صرف اس وقت جب ہماری باطنی آنکھ کھلی ہو۔
