ناول درندہ
قسط نمبر 31
باب چہارم: بدلاؤ
مصنف: زیاد اصغر زارون
°°°°°°°°°°
زافیر کے جانے کے بعد حورا کا دل بار بار اسے پیچھے جانے پر اکسا رہا تھا مگر وہ جانتی تھی کہ یہ لاحاصل ہے۔ زافیر اب نہیں رکے گا، اس کے کہنے پر تو کبھی نہیں رکے گا۔ اب صرف ایک ہی انسان تھا جو اسے روک سکتا تھا… اور وہ تھی آبرو۔
آنکھوں سے بہتے آنسو پونچھ کر حورا نے اپنے آپ کو سنبھالا اور تیز قدموں سے آبرو کے کمرے کی طرف بڑھی۔ دروازے پر پہنچ کر بے تابی سے زور زور سے دروازہ بجانے لگی۔
آبرو…! آبرو…! خدا کے لیے دروازہ کھولو…!” اس کی آواز میں گھبراہٹ اور لرزش تھی۔”
،اندر سے آبرو کی چیختی ہوئی آواز گونجی
“!…آپ لوگ مجھے جینے کیوں نہیں دیتے؟ جائیں یہاں سے”
،حورا کی گھگھی بندھ گئی۔ وہ کانپتے ہونٹوں سے بس التجا کرتی رہی
آبرو… تمہارے بابا جا رہے ہیں… وہ ہمیشہ کے لیے جا رہے ہیں… خدا کا واسطہ ہے، انہیں روک لو…!” یہ کہتے ہوئے وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔”
اسی لمحے مومنہ خاتون نے زافیر کو بیگ اٹھائے باہر نکلتے دیکھا اور حورا کی چیختی صدا سنی تو گھبرا کر تیزی سے اس کے پیچھے بھاگیں، شاید وہی اسے روک پائیں۔
،ادھر حورا دروازہ پیٹتے ہوئے روتی جا رہی تھی
… بیٹا، ایسا مت کرو… خدا کے لیے بابا کو روک لو… اگر وہ چلے گئے تو کبھی واپس نہیں آئیں گے”
“میں جانتی ہوں…! روک لو انہیں…! تم سنتی کیوں نہیں؟
آخرکار اس کی ہمت جواب دے گئی۔ وہ دروازے کے ساتھ ہی زمین پر بیٹھ گئی، سسکیوں میں ڈوبی ہوئی۔
…آنکھیں نم، آواز بھاری اور دل چکنا چور
شاید یہاں الفاظ سب بیکار ہوچکے تھے۔ بیٹی اپنی ضد میں باپ سے بھی دو قدم آگے نکل گئی تھی اور حورا ان دونوں کی ضد کے بیچ پِس کر ٹوٹ رہی تھی۔ مگر نہ زافیر کو اس کا احساس تھا نہ آبرو کو۔
حورا کے رونے اور سسکنے کے باوجود کمرے کے اندر خاموشی موت کی طرح چھائی رہی… اور باہر، زافیر کے قدم آہستہ آہستہ بنگلے سے دور ہوتے جا رہے تھے۔
°°°°°°°°°°
زافیر بیگ گاڑی کی ڈگی میں رکھ رہا تھا کہ اچانک مومنہ خاتون ہانپتی ہوئی بھاگتی آئیں۔
،ان کی آنکھوں میں غصہ اور دل میں خوف جھلک رہا تھا۔ وہ بھاری آواز میں چیخیں
“زافیر…! یہ کیا کر رہے ہو تم؟ کیا پاگل ہوگئے ہو؟”
زافیر نے کوئی جواب نہیں دیا۔ خاموشی سے ڈگی بند کی اور ڈرائیونگ سیٹ کی طرف بڑھ گیا۔
مومنہ خاتون نے جھٹ سے اس کا بازو تھام کر کھینچ لیا۔
“!…رکو…! میں نے کہا، رکو”
زافیر نے پلٹ کر انہیں دیکھا۔ آنکھوں میں نمی اور ہونٹوں پر ایک پھیکی سی مسکراہٹ تھی۔
“…بہت دیر ہوگئی آنٹی”
یہ بس اتنا ہی کہہ سکا۔ پھر ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھول کر بیٹھنے لگا۔
مومنہ خاتون نے جھٹ سے دروازہ پکڑ لیا۔ انداز ایسا تھا کہ اگر وہ بند کرتا تو ان کا ہاتھ کچل جاتا۔ زافیر چند لمحے چپ سا بیٹھا رہا، پھر دھیرے سے ان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔ آنکھوں میں بیٹے جیسی حسرت اور دل توڑ دینے والی نرمی تھی۔ ہلکی مسکان کے ساتھ ان کا ہاتھ دروازے سے ہٹا دیا اور فوراً دروازہ بند کرلیا۔
گاڑی اسٹارٹ ہوئی۔ جیسے ہی گیئر میں ڈالا، مومنہ خاتون گاڑی کے آگے آنے کو لپکیں مگر زافیر کو پہلے ہی یہ اندیشہ تھا۔ ان کے قدم بڑھنے سے پہلے ہی گاڑی آگے بڑھ گئی۔
وہ سائیڈ ویو مرر میں دیکھ رہا تھا… مومنہ خاتون وہیں ڈھے گئیں تھیں اور بس رونے لگیں۔ لمحے بھر کو زافیر کا دل لرزا، ایک پل کو چاہا کہ رک جائے… مگر وہ جانتا تھا اب واپسی ممکن نہیں۔
اس نے گہری سانس لی، آنکھوں کی نمی روکی اور سامنے نظریں جما دیں۔ گاڑی کی رفتار دھیمی تھی مگر دل کی دھڑکنیں بھاری۔ دکھ کی گہری لہریں اس کے وجود کو ڈبو رہی تھیں۔
چند ہی لمحوں میں گاڑی گیٹ سے باہر نکل گئی… اور یوں لگ رہا تھا جیسے اس گھر کی خوشبو، اس کا سکون اور اس کی زندگی بھی اس کے ساتھ ہی رخصت ہوگئی ہو۔
اب وہ بنگلے کی چاردیواری سے نکل کر موڑ مُڑنے ہی والا تھا کہ اچانک نگاہ سائیڈ ویو مِرر پر ٹھہر گئی۔ دل زور سے دھڑکا اور ناچاہتے ہوئے بھی پیر پوری قوت سے بریک پر دب گیا۔ بریک اتنی شدت سے لگا کہ گاڑی ایک جھٹکے سے رکی اور زافیر کا وجود بھی آگے کو لڑھک گیا۔
اس نے کانپتے دل کے ساتھ دوبارہ مِرر میں دیکھا… وہ آبرو تھی۔
آنسوؤں میں بھیگی، کپکپاتے وجود کے ساتھ بند ہوتے گیٹ سے باہر دوڑ آئی تھی۔ وہ اس طرح بھاگ رہی تھی جیسے لمحہ بھر کی تاخیر اس کے بابا کو ہمیشہ کے لیے چھین لے گی، جیسے ایک پل کی کوتاہی پوری کائنات کو اندھیروں میں ڈبو دے گی۔
اچانک اس کا پاؤں مڑ گیا۔ وہ توازن نہ رکھ سکی اور منہ کے بل زمین پر گر پڑی۔
زافیر کے دل پر خنجر سا چل گیا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے آبرو نے دھاڑیں مار کر روتے ہوئے سر اٹھایا۔ پیشانی رگڑ کھا گئی تھی، ناک سے خون بہنے لگا تھا اور ایک سرخ لکیر چہرے پر بہہ آئی تھی۔
زافیر نے گھبراہٹ میں گاڑی نیوٹرل کی، دروازہ جھٹ سے کھولا اور تیزی سے آبرو کی طرف لپکا۔
پیچھے بنگلے کا بھاری آہنی دروازہ بند ہوچکا تھا۔ سلاخوں کے پار حورا اور مومنہ خاتون چیختی بلکتی آنکھوں میں آنسوؤں کا سمندر لیے گیٹ کے قریب آرہی تھیں۔ آج کا سورج اس گھر کے لیے گویا روشنی نہیں، صرف سیاہ بادل اور آنسوؤں کا طوفان لے کر طلوع ہوا تھا۔ کوئی آنکھ ایسی نہیں تھی جس میں نمی نہ ہو۔
زافیر لڑکھڑاتے قدموں سے آبرو تک پہنچا، زمین پر گھٹنے ٹیک کر بیٹھ گیا اور کانپتے ہاتھوں سے اس کے کندھے تھام کر سیدھا کیا۔
اس کا چہرہ لہو اور آنسوؤں کے امتزاج سے لال ہوچکا تھا۔ آنسو خون میں گھل کر اور بھی ہولناک منظر بنا رہے تھے۔
زافیر کی آنکھوں سے صبر کے بندھن ٹوٹ گئے۔ اس نے جھٹ سے اپنی بیٹی کو سمیٹ کر سینے سے لگا لیا… اور یوں لگا جیسے پوری دنیا ایک ہی لمحے میں ساکت ہوگئی ہو۔
وہ ہچکیوں کے درمیان ٹوٹتی ہوئی آواز میں بمشکل بولی،
“بابا…! میرا بھی وہی گوشت ہے بابا…”
آنسوؤں کے ساتھ نکلتے یہ لفظ زافیر کے دل پر یوں برسے جیسے تیر ایک کے بعد ایک کلیجے میں پیوست ہوتے چلے جا رہے ہوں۔
“…وہی سرخ خون ہے بابا”
اس کی کپکپاتی آواز اور روتے ہوئے لرزتے ہونٹ زافیر کو زمین میں دھنسا رہے تھے۔
“!…آپ یہی پی لیں بابا”
آبرو کی دھاڑیں مارتی فریاد، زافیر کی درندگی پر جلتے انگارے کی مانند گہرا زخم بنا رہی تھی۔
“!…مجھے کھا لیں… لیکن دوسروں کو مت کھائیں بابا”
یہ جملہ گویا درد کی انتہا تھا۔ زافیر کے کانوں میں گونجتے ہوئے اس کی روح کو چھلنی کر گیا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے زمین اور آسمان گھومنے لگے۔
اسی لمحے گیٹ خودکار انداز میں کھلا۔ حورا اور مومنہ خاتون دوڑتی ہوئی باہر آئیں اور آبرو کے گرد بیٹھ گئیں۔
مومنہ خاتون نے کانپتے ہاتھوں سے اس کا پیر تھاما جبکہ حورا نے اپنے دوپٹے سے بیٹی کے چہرے سے خون پونچھنا شروع کیا۔
زافیر نے آبرو کو سینے سے جکڑ رکھا تھا اور زار و قطار رو رہا تھا۔ آنسوؤں کی جھڑی تھی جو تھم ہی نہیں رہی تھی۔
،حورا نے اس کے کندھے جھنجھوڑتے ہوئے پکارا
“زافیر… ہوش کرو…! آبرو کا خون بہہ رہا ہے۔”
لیکن زافیر جیسے ہوش و حواس سے عاری ہو گیا تھا۔ وہ صرف ایک ٹوٹے ہوئے باپ کی طرح اپنی بیٹی کو سینے سے لگائے رو رہا تھا۔
حورا کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا۔ اس نے بے بسی اور غصے میں اس کے چہرے پر ایک کے بعد ایک تین تھپڑ مارے۔
پھر جیسے زافیر کی روح واپس وجود میں پلٹی۔
اس نے کانپتے ہاتھوں سے آبرو کو دیکھا۔ بہتے خون کے منظر نے اس کے وجود کو دہلا دیا۔
وہ جھٹکے سے اٹھا، آبرو کو بانہوں میں سمیٹا اور تیز قدموں سے گاڑی کی طرف بڑھا۔
اب وہ رو نہیں رہا تھا، مگر اس کے گالوں پر آنسوؤں کی نمی جلتے داغوں کی طرح چمک رہی تھی۔
اس نے پیار اور لرزتے ہاتھوں سے آبرو کو پچھلی سیٹ پر لٹایا۔
مومنہ خاتون بھی گھبراہٹ میں اسی سیٹ پر بیٹھ گئیں۔
حورا بھاگتی ہوئی دوسری جانب پہنچی اور فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی۔
زافیر نے گاڑی اسٹارٹ کی۔
…گاڑی دھیرے سے آگے بڑھی، پھر رفتار پکڑتی گئی اور ویران سڑک پر دور نکل گئی
بنگلے کا آہنی گیٹ خودکار انداز میں بند ہورہا تھا۔ اس بار صرف دروازہ ہی نہیں، درندگی کا ایک خوفناک باب بند ہورہا تھا۔
نیا دور شروع ہونے کو تھا لیکن ایک اٹل حقیقت ہے جو کبھی نہیں بدلتی۔
…جیسے شرافت سے برائی کی دلدل میں اترنا آسان ہے مگر نکلنا نہایت مشکل
…ویسے ہی درندہ بننا آسان ہے لیکن درندگی سے ابھرنا ایک کٹھن مرحلہ ہے
مستقبل کوئی نہیں جانتا لیکن اتنا طے تھا کہ زافیر کی زندگی یکسر بدلنے والی تھی۔ یہ تبدیلی اسے روشنی کی طرف لائے گی یا مزید اندھیروں میں دھکیل دے گی۔
…کوئی نہیں جانتا
…صرف وہی جانتا ہے
جو یقین رکھتا ہے
…جو کئی دنیاؤں کے رازوں سے واقف ہے
…جسے زافیر
…اندھیری رات کے سپنوں میں
…اپنی خونی داستان
…مکمل سنا چکا ہے…
…ایک ایسا انسان
…جو لکھ تو سکتا ہے
…مگر بدل کچھ نہیں سکتا
°°°°°°°°°°
رینا اور زمار نہایت احتیاط سے قدم بڑھاتے ہوئے دلدل کو پار کر رہے تھے۔ کہیں بیچوں بیچ بڑے بڑے پتھر ابھرے ہوئے تھے اور کہیں پختہ زمین کے چھوٹے ٹکڑے۔ کئی بار انہیں لمبی چھلانگ لگا کر خشک زمین پر قدم جمانا پڑتا اور کبھی کبھار وہ باآسانی سینکڑوں میٹر آگے نکل جاتے۔
وہ کئی گھنٹوں سے اس دلدل کے پھیلے ہوئے میدان میں بھٹک رہے تھے۔ تھکن ان کے جسموں پر بوجھ کی طرح حاوی ہو رہی تھی اور بھوک نے ان کی ہمت نچوڑ لی تھی۔
آخرکار، گھاٹی کا اختتام ہوا۔ اب سامنے شاہِ سموم کی سلطنت تھی… ایک بنجر سرزمین۔ خشک درخت، مٹی میں دراڑیں اور فضا میں عجیب سی گھٹن۔ پانی کا کوئی نام و نشان نہیں تھا اور ہوا بھی جیسے مر چکی تھی۔
دونوں ایک دوسرے کو خاموشی سے دیکھتے رہے اور پھر ایک سوکھے درخت کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑے ہوگئے۔
،ابھی انہوں نے سکون کا سانس ہی لیا تھا کہ اچانک ایک مدہم، پراسرار سرگوشی نے فضا کو چیر ڈالا
“…مت جاؤ… یہ سفر خطرناک ہے”
رینا اور زمار نے چونک کر ایک دوسرے کو دیکھا۔
،ابھی وہ کچھ سوچ ہی رہے تھے کہ ایک اور سرگوشی ابھری، اس بار کسی اور کے لہجے میں
“نہیں… بڑھتے رہو… منزل قریب ہے۔”
،اس کے فوراً بعد پہلے لہجے کی سرگوشی گونجی، سخت اور خوفناک
“نہیں… وہ اِنہیں مار دے گی۔”
رینا کا دل زور سے دھڑکا۔ اس نے زمار کو اشارہ کیا کہ فوراً آگے بڑھو، یہاں کچھ ٹھیک نہیں۔ دونوں تیزی سے قدم بڑھانے لگے۔
مگر سرگوشیوں نے پیچھا نہیں چھوڑا،
“وہ نہیں مارے گی… وہ تو مرنے بھی نہیں دے گی۔”
رینا نے گھبرا کر زمار کی طرف دیکھا اور رفتار اور تیز کر دی۔
،اب ایک اور خوفناک جملہ ان کے کانوں میں گونجا
“…یہ بیوقوف اندھیر نگری کی طرف جا رہے ہیں”
رینا کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ اسے ایسا محسوس ہوا جیسے دو غیر مرئی وجود ان کے ساتھ ساتھ چل رہے ہوں۔
،وہ قدم تیز کرتے ہوئے بے اختیار بولی
“!…ہم اندھیر نگری نہیں جا رہے”
،اس پر ایک پراسرار آواز نے حیرت بھری سرگوشی کے انداز میں پوچھا
“پھر کہاں جا رہے ہو؟ کیا تمہیں مدد چاہیے؟”
،دوسری آواز فوراً ابھری، کمزور اور بجھی ہوئی
“…نہیں… ہم مدد نہیں کر سکتے، ہم بہت کمزور ہیں”
،زمار نے ہمت مجتمع کی اور بلند آواز میں پکارا
“تم ہو کون؟”
،اچانک ایک سرگوشی ابھری
“…ہم شاہِ سموم کے سپاہی تھے… جب شاہِ سموم کو قید کیا گیا تو ہم پیچھے ہی رہ گئے۔ کمزور اور لاچار”
،اسی لمحے دوسری سرگوشی گونجی، پہلے سے زیادہ پرجوش اور پراسرار
“!…نہیں… اب نہیں رہیں گے۔ کیا تم نے دیکھا نہیں؟ ان کے پاس شاہِ سموم کا تاج ہے”
،یہ الفاظ سن کر رینا کے دل میں ایک روشنی سی جاگی۔ وہ بے اختیار بولی
“کیا تم ہمیں شاہِ سموم تک پہنچا سکتے ہو؟”
،سرگوشی ابھری
“ہاں… ضرور پہنچا سکتے ہیں”
،فوراً ہی دوسری آواز بلند ہوئی، تھوڑی فکر اور غصے والی
“نہیں… شاہِ سموم اب کمزور ہو چکے ہیں۔ یہ انہیں مار دیں گے…! کیا تم بھول گئے؟ ان کے پاس شاہِ سموم کا تاج ہے۔”
،رینا گھبرا کر جلدی سے بولی
“نہیں… نہیں… تم غلط سمجھ رہے ہو۔ ہم انہیں مارنے نہیں آئے۔ ہمیں صرف ان کی مدد چاہیے۔ یہ تاج ہم ان کے لیے… تحفے کے طور پر لائے ہیں۔”
،سرگوشی کچھ لمحے رکی، پھر سوالیہ انداز میں ابھری
“کیا واقعی… یہ تاج ان کے لیے لائی ہو؟”
،ایک اور سرگوشی شک کے ساتھ گونجی
“کہیں تم ہمیں دھوکہ تو نہیں دے رہی؟”
،رینا نے مضبوط لہجے میں کہا
“نہیں… بالکل نہیں…! ہمیں ان کی مدد چاہیے۔ اور ہم جانتے ہیں کہ اس تاج کے بغیر وہ ہماری مدد نہیں کر سکیں گے۔”
یہ کہتے ہی وہ خاموش ہوگئی۔ مگر اب فضا میں سنّاٹا چھا گیا۔ کوئی سرگوشی دوبارہ نہیں ابھری۔
،زمار نے نظریں دوڑاتے ہوئے بے چین لہجے میں کہا
“یہ لوگ کہاں غائب ہوگئے؟”
،رینا نے سختی سے سانس بھری
“پتا نہیں… لیکن ہمیں آگے بڑھنا ہوگا۔ ہم وقت ضائع کر رہے ہیں۔”
،اس نے قدم آگے بڑھایا اور زمار بھی اس کے ساتھ چل پڑا۔ مگر اچانک پھر سرگوشی ابھری
“یہ راستہ طویل اور خطرناک ہے… ہمیں ملکہ دارونتھا کی سلطنت سے بچ کر نکلنا ہوگا۔”
،پھر دوسری سرگوشی، جیسے کوئی اشارہ دے رہی ہو
“…اندھیر نگری سے بچ کر چلنا ہے۔ ہم تمہیں راستہ دکھائیں گے۔ اس طرف آؤ”
ان الفاظ کے ساتھ ہی زمین کے ایک کونے سے ہلکی سی دھول اٹھی۔ رینا اور زمار نے ایک دوسرے کو دیکھا اور بلا جھجک اس سمت قدم بڑھا دیے۔
اب وہ اکیلے نہیں تھے۔
ان کے ساتھ… شاہِ سموم کے دو پراسرار سپاہی بھی تھے۔
…لیکن سوال یہ تھا کہ
وہ واقعی سپاہی تھے یا کسی مہلک جال کے خطرناک پیادے؟
رینا نے دل ہی دل میں خود کو ہر انجام کے لیے تیار کر لیا۔
°°°°°°°°°°
آبرو ہسپتال کے ایک سفید کمرے میں بیڈ پر لیٹی تھی۔ ماتھے پر سفید پٹی بندھی تھی جس پر ابھی تک ہلکی سی نمی جھلک رہی تھی۔ ایک نرس خاموشی سے اس کے پاؤں پر گرم پٹیاں لپیٹ رہی تھی۔ کمرے میں دوا کی تیز بو پھیلی ہوئی تھی۔
حورا اس کے سرہانے بیٹھی، انگلیوں سے نرمی سے اس کے بالوں کو سہلا رہی تھی۔ زافیر اور مومنہ خاتون ایک طرف لکڑی کی بینچ پر بیٹھے تھے۔
،نرس نے آخری پرت چڑھائی، مسکرائی اور تسلی دی
“بس معمولی سی موچ ہے… تھوڑی دیر تک گھر بھیج دیں گے۔”
یہ کہہ کر وہ ایکسرے فائل میز سے اٹھا کر دراز میں رکھتی ہوئی، کمرے سے نکل گئی۔ آبرو کی نظریں اس کے قدموں کے پیچھے جمی رہیں، دروازہ بند ہونے تک وہ اسی سمت دیکھتی رہی۔ پھر آہستہ سے گردن موڑی اور حورا کو دیکھا۔
،اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سنجیدگی تھی
،وہ دھیمی آواز میں بولی
“مجھے بابا سے اکیلے میں بات کرنی ہے۔”
حورا نے خاموشی سے اس کے ماتھے کو چوما، مسکراہٹ میں ہلکی لرزش تھی۔
“ٹھیک ہے بیٹا۔”
وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور مومنہ خاتون کو ہلکے سے اشارہ کیا۔ دونوں کمرے سے نکل گئیں۔ لمحہ بھر کے لیے کمرے میں صرف دل کی دھڑکنوں کی آواز باقی رہ گئی۔
آبرو نے زافیر کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر آج بلا کی سختی اور سنجیدگی تھی۔
“میرے پاس بیٹھیں۔”
زافیر آہستہ سے اٹھا۔ قدم جیسے بوجھل تھے۔ وہ آ کر بیڈ پر اس کے پہلو میں بیٹھ گیا۔ نگاہیں جھکی ہوئی تھیں، جیسے آنکھ اٹھانے کی ہمت ہی نہ ہو۔
آبرو نے ہاتھ بڑھایا۔ زافیر نے فوراً اس کا ہاتھ تھام لیا۔ اس کی گرفت نرمی میں بھی لرزش لیے ہوئے تھی۔
:آبرو چند لمحے اسے دیکھتی رہی، پھر دھیرے مگر مضبوط لہجے میں بولی
“مجھے لگا تھا… آپ یہ سب چھوڑ چکے ہیں۔”
یہ الفاظ بجلی کی طرح زافیر کے وجود کو کاٹ گئے۔ اس کی آنکھیں بے ساختہ اوپر اٹھیں۔ آبرو کا چہرہ سپاٹ اور آنکھیں سنجیدہ تھیں۔ کوئی لرزش نہیں، کوئی بچپن والی معصومیت نہیں… صرف ایک بیٹی کا خالص سوال۔
“زافیر کا دل دہل گیا۔ اندر سے ایک چیخ اٹھی، “یہ کیسے جانتی ہے؟ یہ کیسے جانتی ہے کہ میں آدم خور تھا؟
…سوال اس کے ذہن میں کوندتے رہے مگر ہونٹ جیسے بند کر دیئے گئے تھے۔ وہ جواب نہیں دے سکا۔ بس نظریں دوبارہ جھکا لیں
آبرو نے زافیر کی طرف دیکھا، اس کی آنکھوں میں خوف، فریاد اور حکم سب ایک ہی نگاہ میں یکجا تھے۔ اس کی آواز دھیمی تھی، مگر ہر لفظ کا اثر دھماکے کی طرح دل پر گرا۔
“آپ آج کے بعد کسی انسان کو نہیں ماریں گے؟”
زافیر خاموش رہا، کچھ کہنا ممکن نہیں تھا۔
،آبرو کہنیاں ٹِکا کر بیٹھ گئی اور لہجے میں مضبوطی لے آئی
“کسی انسان کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ کبھی درندگی نہیں کریں گے۔ میرے سر کی قسم کھائیں۔”
،زافیر نے سر جھکایا، اندر سے لڑتا ہوا، مگر لب کھولے بغیر بولا
“بہت مشکل ہے، آبرو۔”
،آبرو خاموش ہو گئی لیکن چند پل کے بعد اس نے اور بھی سخت لہجے میں پوچھا
“میں یا انسانی گوشت؟”
،زافیر کے ہونٹ ہلکے سے کھلے، فوراً کہا
“تم… صرف تم…”
،پھر رک کر جھٹ سے بولا
“…لیکن”
،آبرو نے سر ہلکا سا جھکایا، زافیر کے ہاتھ کو اپنے سر پر رکھا اور آنکھوں میں فیصلہ کی آگ لیے بولی
“مجھے مزید کچھ نہیں سننا… آپ میرے سر پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائیں کہ دوبارہ یہ سب نہیں کریں گے۔”
زافیر چند لمحے کے لیے ہکا بکا اسے دیکھتا رہا۔ اندر سے اسے پتہ تھا کہ یہ فیصلہ اذیت ناک، ناقابلِ واپسی ہے۔ پھر اس نے گہری سانس بھری، آنکھیں اٹھائیں اور آبرو کی آنکھوں میں گہرائی سے دیکھا۔
،اس کی آواز اب سنجیدگی اور عزم سے بھرپور تھی
“بیٹا… جو ہو چکا، اسے میں بدل نہیں سکتا۔ لیکن میرا وعدہ ہے… دوبارہ میں کسی انسان کا خون نہیں بہاؤں گا اور نہ ہی اس لعنت کے قریب جاؤں گا۔”
یہ سنتے ہی آبرو کے لبوں پر گہری مسکان پھیل گئی۔ وہی مسکان جو زافیر کو جینے کی وجہ دیتی تھی، امید اور سکون کی مانند۔
ایک اور وعدہ کریں…” آبرو نے اپنی گہری نگاہیں زافیر کی آنکھوں میں گاڑ دیں، جیسے اس کی سچائی اور وعدے کو پرکھ رہی ہو۔”
“آپ واپس اس کمرے میں نہیں جائیں گے اور جو میز پر بندہ تھا اسے بھی کچھ نہیں کہیں گے۔”
،زافیر کے لبوں پر ہلکی سی پھیکی مسکان آئی، پھر اگلے لمحے سنجیدگی سے بولا
“بس ایک آخری بار وہاں جانے دو۔ میں وعدہ کرتا ہوں، کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔”
آبرو نے مسکرا کر گردن اثبات میں ہلائی، پھر پیچھے ہٹتے ہوئے دونوں بازو پھیلا دیئے۔ زافیر نے تیزی سے اسے گلے لگا لیا۔ کافی دیر وہ یونہی اپنی بیٹی کو سینے سے لگائے بیٹھا رہا۔ پھر الگ ہوتے ہوئے اس نے آبرو کی دونوں آنکھوں کو چوما اور اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔
“میں تمہاری ماما اور آنٹی مومنہ کو بلا کر لاتا ہوں۔”
وہ مسکراتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھا۔ دل میں ایک عزم تھا، ایک مضبوط ارادہ کہ آنے والے دن چاہے کتنے بھی مشکل کیوں نہ ہوں، وہ اپنی بیٹی آبرو کے لیے کچھ بھی کر گزرے گا۔
°°°°°°°°°°
آبرو کو ہسپتال سے گھر بھیج دیا گیا تھا۔ گھر پہنچتے ہی اس نے خود اپنے بابا کو ذبح خانے بھیج دیا تھا۔ محدود وقت دیا کہ جو بھی کام نمٹانے ہیں، وہ نمٹا لیں اور اس کے بعد وہ کمرہ ہمیشہ کے لیے بند کر کے واپس لوٹیں۔
اب زافیر ذبح خانے میں کھڑا تھا۔ ندیم اس کے سامنے ٹیبل پر بیٹھا تھا، نظریں سیدھی زافیر پر جمی ہوئی تھیں۔
،زافیر کرسی پر کافی دیر خاموش بیٹھا رہا، فرش کو گھورتے ہوئے۔ بالآخر ندیم نے خاموشی توڑی
“کیا بات ہے؟ آپ پریشان لگ رہے ہیں۔”
زافیر نے اک لمحے کو اس کی آنکھوں میں دیکھا، پھر نظریں جھکا لیں۔
میں نے تمہارے ساتھ زیادتی کی، ہوسکے تو مجھے معاف کر دو۔” وہ شرمندگی سے بولا۔”
،ندیم کے چہرے پر ہلکی سی مسکان پھیل گئی، پھر اداسی بھرے لہجے میں بولا
“کیا فرق پڑتا ہے؟ اب بہت دیر ہو چکی ہے۔”
،زافیر نے گہری نگاہ سے اسے ٹٹولا، پھر پوچھا
“میرا ایک کام کرو گے؟”
جی… بتائیں… کیا کرنا ہے؟” ندیم نے پوری توجہ زافیر پر مرکوز کر دی۔”
تہہ خانے میں موجود سبھی قیدیوں کو مار دو… اور اس کے بعد میں تمہیں آزاد کر دوں گا۔” زافیر نے نرمی سے کہا۔”
ندیم چند لمحے بس اسے گھورتا رہا، پھر میز سے اتر کر اس کے سامنے کھڑا ہو گیا۔
“نہیں… اگر ایسا کرنا ضروری ہے تو آپ خود کریں۔ اور رہی بات آزادی کی، تو وہ اب مجھے نہیں چاہیے۔ یہی میری دنیا ہے۔”
اس کے لہجے میں ٹھوس پن تھا، یوں لگ رہا تھا جیسے اس نے یہ قید اپنا مستقل مسکن مان لیا ہو۔
لیکن تمہیں تو آزادی چاہیے تھی۔ پھر اب کیوں نہیں؟” زافیر نے حیرت بھری آواز میں پوچھا۔”
،ندیم ذبح خانے کے دوسرے حصے کی طرف بڑھتے ہوئے خاموشی سے بولا
“…تب بات الگ تھی، لیکن اب”
،وہ چِلر کے پاس پہنچا، خون کی بوتل نکالی اور گلاس میں خون انڈیلا، ہلکے گھونٹ لیتے ہوئے کہا
“اب باہر کی دنیا میں جینا مشکل ہے۔”
زافیر دکھ اور شرمندگی سے اسے خون پیتے دیکھ رہا تھا۔ وہ خود تو راستہ بدل چکا تھا لیکن اپنی جگہ ایک نیا زافیر تیار کر چکا تھا۔ پھر بھی دل کو تسلی تھی کہ ندیم کی نیت صاف ہے، وہ بے وجہ کسی کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔
اچانک وقت کے تیزی سے گزرتے لمحوں کا احساس ہوا۔ جیب سے موبائل نکالا اور دیکھا کہ آبرو کے دیے گئے وقت میں سے صرف سولہ منٹ باقی ہیں۔
،زافیر کرسی سے اٹھا اور ندیم پر نظریں جمائیں
“میرے پاس وقت کم ہے۔ اگر میں یہاں سے چلا گیا تو واپس کبھی نہیں آؤں گا۔ اور تم سب یہاں تڑپ تڑپ کر بھوکے مر جاؤ گے۔”
،ندیم فوراً بولا
“کیا آپ واقعی ہمیشہ کے لیے جارہے ہیں؟”
زافیر نے اثبات میں سر ہلایا۔
،ندیم چند لمحے سوچ میں پڑ گیا پھر سنجیدہ چہرے کے ساتھ تیز لہجے میں بولا
اگر آپ مجھے اس جگہ کی مکمل ذمہ داری دے دیں، تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ کسی کو بھوکا مرنے نہیں دوں گا۔”
” ان کی تربیت کروں گا… اور میرا وعدہ ہے… یہ لوگ ضرورت پڑنے پر آپ کے وفادار بنیں گے۔
زافیر چند لمحے خاموش سوچ میں ڈوبا رہا۔ حالات کی شدت اور بے رحم ساتھیوں کی ضرورت اسے واضح ہو چکی تھی۔
،آخر کار اس نے فیصلہ کیا
“آج سے ذبح خانے کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہوگا۔ میں تمہیں تہہ خانے سے خفیہ راستے کا مکمل کنٹرول دے دیتا ہوں۔”
یہ کہتے ہوئے زافیر نے جیب سے موبائل نکالا، چند لمحوں بعد فرش لِفٹ کی طرح تہہ خانے کی طرف نیچے اترنے لگا۔
،زافیر نے جیب سے اپنا والٹ نکالا۔ ایک پرچی اور ڈیبٹ کارڈ اس میں سے نکالتے ہوئے بولا،
“میں تمہارے مکمل اخراجات اٹھاؤں گا، لیکن میری ایک شرط ہے۔”
کیسی شرط؟” ندیم نے تجسس بھرے لہجے میں پوچھا۔”
“تم کسی معصوم انسان یا بے گناہ کو نقصان نہیں پہنچاؤ گے۔ اور جو کچھ بھی کرو گے، نہایت احتیاط کے ساتھ کرو گے۔”
یہ کہہ کر زافیر نے پرچی اور ڈیبٹ کارڈ ندیم کی طرف بڑھا دیا۔ ندیم نے پرچی پر لکھے پِن کوڈ اور موبائل نمبر پر ایک نگاہ دوڑائی۔
،نرمی سے دونوں کو جیب میں رکھ لیا اور عزم بھری آواز میں بولا
“آپ نے مجھے آدم خوری کی نحوست میں دھکیلا لیکن پھر بھی آپ میرے محسن ہیں۔ آپ کو مایوس نہیں کروں گا۔”
زافیر خاموش رہا، ندیم بھی اب خاموشی سے کھڑا تھا۔
فرش جب اپنی آخری حد پر پہنچا تو زافیر اسے لے کر تہہ خانے کی ایک دیوار تک گیا۔ وہاں ایک بایو میٹرک پینل لگا تھا۔ زافیر نے موبائل ایپ پر تھوڑی دیر چھیڑ چھاڑ کی، پھر ندیم کو کہا کہ اپنا انگوٹھا وہاں رکھے۔
ندیم نے انگوٹھا رکھا تو ایک سرخ لائن اوپر سے نیچے بار بار حرکت کرتی ہوئی اس کے فنگر پرنٹ کو سکین کرنے لگی۔ اچانک ایک کھٹکا سا ہوا، دروازہ پیچھے کو ہلکا سا کِھسک گیا اور پھر ایک طرف ہو کر دیوار کے ساتھ لگ گیا۔
سامنے ایک گلی نما راہداری تھی جو سیدھی چڑھائی کے ساتھ آگے بڑھ رہی تھی۔ زافیر ندیم کے ساتھ آگے بڑھا۔ کافی دیر چلنے کے بعد وہ اختتام پر پہنچے، جہاں ایک اور دروازہ تھا۔ وہی عمل دہرا کر ندیم نے اپنا انگوٹھا بایو میٹرک پینل پر رکھا۔
یہ دروازہ بنگلے سے کافی دور ایک اندھیرے اور خشک کنوئیں میں کھل رہا تھا۔ سامنے والی دیوار پر ایک سیدھی دھات کی سیڑھی بنی ہوئی تھی جو اوپر لے جاتی تھی۔ کنوئیں کے اوپر ایک کمرہ بھی تھا، جس کے دروازے پر ایک عام سا تالہ لگا ہوا تھا۔
،زافیر نے جیب سے ایک چابی نکالی اور ندیم کی طرف بڑھاتے ہوئے نرمی سے بولا
“یہی تمہارا راستہ ہوگا۔ اب سے یہ تہہ خانہ تمہارا ہے۔”
ندیم نے خاموشی سے چابی پکڑ لی۔ زافیر نے ہاتھ مصافحے کے لیے بڑھایا، تو ندیم نے مسکراتے ہوئے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
شاید ہم دوبارہ کبھی نہ مل پائیں۔” زافیر نے سنجیدگی سے کہا۔”
ندیم نے اس کے سینے سے لگتے ہوئے جواب دیا،
“ہم ضرور ملیں گے۔ میں ملاقات کا موقع ڈھونڈ لوں گا۔”
پھر وہ الگ ہوا، کنوئیں کی سیڑھی تھام کر اوپر چڑھنے لگا۔ زافیر چند لمحے اسے دیکھتا رہا، پھر دروازہ بند کیا اور واپس پلٹ گیا۔
زندگی کے نئے باب دونوں کے لیے کھلنے والے تھے۔ زافیر عام زندگی کی طرف پہلا قدم بڑھا رہا تھا، جبکہ ندیم درندگی کی دلدل میں دھنس رہا تھا۔
زافیر کو ابھی یہ نہیں معلوم تھا کہ ندیم کا مستقبل کیا ہوگا اور آگے چل کر اس کی درندگی کی انتہا کہاں تک جائے گی۔ کیا ندیم معصوم اور سفاک لوگوں میں فرق کر پائے گا یا سب کو اپنی خوراک کا ذریعہ سمجھ کر مارنا شروع کر دے گا؟ اس سوال کا جواب وقت ہی دے سکتا تھا۔
°°°°°°°°°°
متوازی دنیا کی فضائیں ایک غیر مرئی لرزہ محسوس کر رہی تھیں۔ پہاڑ خاموش تھے مگر ان کی جڑوں میں آگ کے شعلے ابلنے لگے تھے۔ زمین کی تہہ میں بہتا پانی پرسکون تھا مگر اندر ہی اندر طوفان انگڑائیاں لے رہا تھا۔ گویا متوازی دنیا قیامت کی خبر دے رہی تھی۔
یہ دونوں بادشاہ پہلے بھی ایک بار آمنے سامنے آ چکے تھے۔ تب کازمار کو برتری حاصل تھی مگر پھر شاہِ سموم کے خطرے کے پیشِ نظر وہ جنگ سے پیچھے ہٹ گئے تھے۔ مگر اب صورتحال الگ تھی، دونوں ہی طاقت میں بے مثال تھے۔ فتح کسی کی بھی ہوتی مگر تباہی طے تھی۔
دونوں عظیم بادشاہ اپنے اپنے لشکر تیار کر رہے تھے۔
ایک طرف آگ کا فرمانروا کازمار تھا۔ اس کے دائیں ہاتھ پر جلتی ہوئی نیلی آگ کا الاؤ لرز رہا تھا۔ اتنا شدید اور طاقتور کہ پہاڑ اس کی تپش سے پگھل کر لاوے میں بدل جاتے تھے۔ جب وہ چلتا تو اس کے قدموں تلے زمین دہکتی اور پگھل کر دریائے آتش بن جاتی۔ اس کے اردگرد بیس لاکھ آتشیں سپاہی اکٹھا ہورہے تھے، آنکھوں میں شعلے اور جسموں میں لاوا لیے ہوئے۔
دوسری طرف پانی کا بادشاہ آبیاروس اپنے لشکر کو مجتمع کر چکا تھا۔ وہ جنگ نہیں چاہتا تھا لیکن اس کی چاہت کے برعکس جنگ دہلیز پر کھڑی تھی۔ وہ بھی طاقت میں کازمار سے کم نہیں تھا۔ اس کے وجود سے پانی بہہ کر ندیوں کی صورت اختیار کر لیتا۔ وہ قدم بڑھاتا تو زمین کے ہر کونے سے آبشاریں پھوٹنے لگتیں۔ اس کے دائیں ہاتھ سے نکلنے والی پانی کی آبشار اتنی طاقتور تھی کہ پورے پورے شہر کو بہا کر غرق کر سکتی تھی۔ اس کے ساتھ چالیس ہزار گوشت پوست کے سپاہی تھے جن کے جسموں سے پانی رس رہا تھا اور ان کے پیچھے چالیس لاکھ خالص پانی سے بنے سپاہی کھڑے تھے جو کبھی دریا بن کر بہہ جاتے اور کبھی طوفان میں ڈھل جاتے۔
…اب وہ لمحہ قریب تھا
کازمار اور آبیاروس کی فوجیں ایک دوسرے کے مقابل آنے والی تھیں۔ یہ وہ جنگ ہونے والی تھی جس میں آسمان جلتی ہوئی بھاپ سے بھرنے والا تھا۔ زمین دہکتے لاوے اور بہتے دریاؤں کے بیچ چیخنے والی تھی۔ ایک طرف آگ کی لپٹیں سب کچھ جلا دینے کو تیار تھیں اور دوسری طرف پانی کی موجیں سب کچھ بہا لے جانے کو بے تاب تھیں۔
یہ جنگ محض دو بادشاہوں کی نہیں تھی۔ یہ متوازی دنیا پر اترنے والا ایک قہر تھا جس کا اثر صرف متوازی دنیا تک محدود رہنے والا نہیں تھا۔
شنداق اس گھمبیر صورتحال سے بے خبر نہیں تھا لیکن وہ صبر کا دامن تھامے بیٹھا ہوا تھا۔ وہ چاہ کر بھی ان کی جنگ میں مداخلت نہیں کر سکتا تھا۔
جہاں یہ جنگ کی تیاریاں جاری تھیں… وہیں رینا بھی شاہِ سموم کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ہر لمحہ، گزرتا وقت اسے شاہِ سموم کے نزدیک لے جارہا تھا۔ شاہِ سموم اور اس کی فوج پھر سے ابھرنے والے تھے۔ ایسا طاقتور طوفان جو پہاڑوں کو ذرات میں بکھیرنے کی طاقت رکھتا تھا، طاقتور ترین آگ کو بھی بجھانے کی ہمت رکھتا تھا۔ گرم ہواؤں کی ایسی آندھی جو لمحوں میں پانی کو بھی بھاپ میں اڑانے کی اہلیت رکھتی تھی۔
اور اب وہ لوٹنے والا تھا… رینا کی راہ میں ایسی کوئی رکاوٹ نہیں تھی جو اسے روک پاتی۔
ایک ایسی جنگ شروع ہونے کو تھی جسے روکنا کسی کے بس میں نہیں تھا اور اس کے اثرات سے بچ پانا، ناممکن تھا۔
°°°°°°°°°°
…جاری ہے
