ناول درندہ

قسط نمبر 34

باب چہارم: بدلاؤ

مصنف: زیاد اصغر زارون

°°°°°°°°°°

ندیم کئی گھنٹوں سے ذبح خانے کی ٹھنڈی اور ویران فضا میں ایک اسٹیل کے ٹیبل پر لیٹا ہوا تھا۔ اردگرد خون کی بو پھیلی ہوئی تھی اور دیوار سے لٹکی زنجیریں ہولناک آواز کے ساتھ ہل رہی تھیں۔ اس کی آنکھیں چھت پر جمی ہوئی تھیں مگر ذہن کے اندر ایک طوفان برپا تھا۔ نفس اور ضمیر کی جنگ اپنے عروج پر تھی۔

،نفس بار بار اسے بہلا رہا تھا
“جو کچھ کیا، وہی حق تھا… یہ سب دنیا کو پاک کرنے کے لیے تھا۔”

،مگر ضمیر کی آواز زیادہ گہری اور تیز تھی
“نہیں ندیم، یہ ظلم تھا… وہ ایک بچہ تھا۔ حالات نے اسے مجبور کیا، اس کی خطا معمولی تھی، سزا موت نہیں ہونی چاہیے تھی۔”

،نفس پھر ورغلانے لگا
آج اس نے چوری کی، کل کو یہی بچہ بڑا ہو کر جانیں لیتا، لوگوں کا مال لوٹتا، عورتوں کی عزت پامال کرتا۔”

“تم نے ایک جان کے بدلے کئی جانیں بچا لی ہیں۔ یہ صرف قربانی نہیں، انسانیت کی خدمت ہے۔

ندیم کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ ضمیر کی آواز اندر تک ہلا رہی تھی، نفس کی دلیلیں کمزور پڑتی جا رہی تھیں۔ وہ محسوس کر رہا تھا کہ پلہ ضمیر کی طرف جھک رہا ہے۔ لیکن نفس نے ہار ماننے کے بجائے آخری، سب سے مہلک وار کیا۔

،اس نے ندیم کے دماغ میں زہر گھولتے ہوئے کہا
ہاں، تم سے ظلم سرزد ہوا ہے۔ ایسا ظلم جس کی کوئی معافی نہیں۔ تم نے جو خون بہایا ہے، اس کا کفارہ صرف اپنا لہو بہا کر ہی دیا جا سکتا ہے۔”

“وہ درد جو تم نے بچے کو دیا، وہ تکلیف اب خود پر وارد کرو۔ یہی انصاف ہے۔

یہ آواز تیر کی طرح ندیم کے دل کو چیر گئی۔ اس کے وجود پر لرزہ طاری ہوگیا۔ وہ جھٹکے سے ٹیبل سے اٹھ کھڑا ہوا، جیسے اندر سے کوئی فیصلہ صادر ہو چکا ہو۔ اس نے اپنے دماغ میں چلتی سبھی آوازوں کو یکایک خاموش کر دیا۔ نہ نفس کی سرگوشی باقی رہی نہ ضمیر کی پکار۔ بس ایک خالی پن اور شدید پچھتاوے کا بوجھ رہ گیا۔

وہ آہستہ آہستہ ذبح خانے کے ایک کونے میں رکھی الماری کی طرف بڑھا۔ اس کے قدم بوجھل مگر فیصلہ کن تھے۔ الماری کھول کر اس نے ایک موٹی رسی نکالی۔ پھر دراز کھینچ کر کیلوں کی ایک ڈبیا اور ہتھوڑی نکالی۔

کمرے میں بس ہتھوڑی کے واروں کی آواز گونجنے لگی جو سرد دیواروں سے ٹکرا کر اور زیادہ خوفناک معلوم ہوتی تھی۔ ندیم رسی پر ایک ایک کر کے کیل ٹھونک رہا تھا۔ اس کے چہرے پر ایک عجب سکون اور ایک ہی وقت میں وحشت طاری تھی جیسے وہ اپنے لیے سزا تیار کر رہا ہو، جیسے اپنے ہی ہاتھوں اپنے مقدر پر آخری فیصلہ لکھ رہا ہو۔

تھوڑی ہی دیر میں ندیم نے رسی کے اگلے سرے سے تین فٹ تک جگہ جگہ کیل ٹھونک دیے۔ کمرے میں ہتھوڑی کی آواز گونج رہی تھی، جیسے ہر ضرب اس کے اپنے دل پر پڑ رہی ہو۔ وہ اندر ہی اندر جل رہا تھا، گھل رہا تھا اور خود کو کوس رہا تھا کہ اس نے ایک معصوم سا لڑکا مار ڈالا، وہ بھی محض ایک معمولی چوری پر۔

اس نے بےتابی سے قمیض اتاری، پھر بنیان کھینچ کر اتار پھینکی۔ اس کے پسینے سے بھیگا جسم لرز رہا تھا۔ اس نے رسی کو مضبوطی سے تھام کر پوری شدت سے کمر پر دے ماری۔ کیل لمحے بھر میں گوشت کے اندر پیوست ہوگئے۔ ایک تلخ کراہ اس کے ہونٹوں سے نکلی لیکن فوراً ہی اس نے دانت بھینچ لیے، جیسے درد کو قید کر دینا چاہتا ہو۔

اس نے جھٹکے سے رسی کھینچی تو کیل کمر کا ماس چیرتے ہوئے باہر نکل آئے۔ خون چھلک کر پیٹھ سے بہنے لگا۔ ندیم نے دوبارہ پوری طاقت سے رسی کمر پر دے ماری اور پھر ویسی ہی وحشیانہ حرکت دہرا دی۔ ہر بار جب وہ رسی کو کھینچتا، گوشت پھٹنے کی بھیانک آواز اور خون کے چھینٹے فرش تک پہنچتے۔

وہ باری باری دائیں اور بائیں کندھے سے رسی گزار کر کمر پر برساتا رہا۔ دیکھتے ہی دیکھتے خون اس کی پیٹھ سے بہہ کر ٹانگوں تک جا پہنچا اور پھر پیروں کو تر کرتا ہوا فرش پر پھیل گیا۔ آغاز میں درد ناقابلِ برداشت تھا لیکن جیسے جیسے زخم گہرے ہوتے گئے، کمر کا ماس سن ہونے لگا۔ اب وہ ہر وار کے ساتھ ایک عجیب لذت محسوس کر رہا تھا۔

وہ سمجھ رہا تھا کہ اپنے گناہ کی سزا خود کو دے رہا ہے اور یہ لذت گناہ کا کفارہ ہے لیکن حقیقت اس سے مختلف تھی۔ ایک بار پھر وہ اپنے نفس کا شکار ہو چکا تھا۔ نفس نے اسے سزا کے بہانے ایک نئے زہر، ایک نئے نشے کی طرف دھکیل دیا تھا اور یہ نشہ تھا خود اذیتی کا۔

خود اذیتی… ایک ایسی بلا ہے کہ جو ایک بار انسان کو جکڑ لے تو رفتہ رفتہ اس کی رگوں سے احساس چھین لیتی ہے۔ جو شخص خود کو تکلیف دے کر خوشی محسوس کرے، وہ جلد ہی دوسروں کو اذیت پہنچا کر بھی مزید شدت اور وحشت کے ساتھ لطف اٹھانے لگتا ہے۔

ندیم کا ضمیر اس خونی کھیل میں ہار گیا تھا۔ اس کا ہر وار ضمیر کو مزید کمزور کر رہا تھا، اسے اندھیروں کی اس اتھاہ گہرائی میں دھکیل رہا تھا جہاں سے واپسی ممکن نہیں تھی۔ وہ درندگی کے اس جہان میں اتر رہا تھا جہاں قدم رکھنے کی ہمت زافیر نے بھی کبھی نہیں کی تھی۔

°°°°°°°°°°

صبح کی ہلکی روشنی کھڑکی کے پردوں سے چھن کر اندر آرہی تھی۔ کمرے میں ایک مدھم سی نیم تاریکی پھیلی ہوئی تھی جسے صرف دل کی دھڑکن ماپنے والی مشین کی سبز روشنی اور اس کی مسلسل ہلکی بیپ توڑ رہی تھی۔ حورا ایک سخت لکڑی کے بینچ پر کروٹ لیے سو رہی تھی۔

یہ ایک پرائیویٹ ہسپتال تھا مگر یہاں کا اصول عجیب تھا۔ مریض کے ساتھ رہنے والے کو آرام دہ ماحول میسر نہیں کیا جاتا تھا۔ چاہے رات ہو یا صبح، اسے انہی بینچوں پر بیٹھ کر جاگنا پڑتا تھا اور تھکن میں نیند آجائے تو وہیں سو جانا پڑتا تھا۔ کمبل تک اوڑھنے کی اجازت نہیں تھی… شاید اس لیے کہ وہ بیدار رہے، مریض کے حال سے ہر دم باخبر رہے۔

زافیر ابھی تک بے ہوش پڑا تھا۔ یہ قدرتی بے ہوشی تھی یا شاید ڈاکٹر نے جان بوجھ کر اسے دوا کے زیرِ اثر غنودگی میں رکھا ہوا تھا۔ حورا کے قریب آلے کی بیپ اور اس کی مدھم مگر بھاری سانسیں کمرے کے سکوت کو بھر رہی تھیں۔

اسی دوران دروازہ آہستگی سے کھلا۔ آبرو اندر داخل ہوئی۔ وہی آبرو، جو ہمیشہ کھلے بال کمر تک لہراتی ہوئی آتی تھی، آج نہایت سلیقے اور نفاست کے ساتھ اسکارف اوڑھے ہوئے تھی۔ اس کے قدم نرم اور محتاط تھے جیسے کسی مقدس فضا میں داخل ہورہی ہو۔

،وہ آہستہ سے قریب آکر ماں کے کندھے پر جھکی اور نرمی سے ہلایا
“…ماما… ماما”

حورا چونک کر جاگ گئی۔ سب سے پہلے اس کی نگاہ بے اختیار زافیر کی طرف گئی۔ جب اس نے دیکھا کہ وہ ٹھیک ہے تو اس کے دل کا بوجھ کچھ ہلکا ہوا اور اس نے ایک لمبی سانس کھینچ کر خارج کی۔ پھر نظر آبرو پر ٹھہری۔

ہاں…” وہ آہستہ سے بولی۔”

لیکن اگلے ہی لمحے اس کی آنکھوں نے کچھ ایسا دیکھا جس نے اس کے اندر خوشی کی ایک نرم لہر دوڑا دی۔ آبرو کے سر پر نفاست سے جمایا ہوا اسکارف۔

کیا… نماز پڑھنے گئی تھی؟” حورا نے مسکراتے ہوئے، بے یقینی اور خوشی کے امتزاج سے پوچھا۔”

یہ حیرت بجا تھی۔ کیونکہ آبرو اس کے بار بار اصرار کے باوجود کبھی نماز کے قریب نہیں جاتی تھی۔ ہمیشہ کہتی، “اچھا پڑھ لوں گی…” مگر مصلے تک نہیں جاتی تھی۔ اور آج… آج وہ واقعی نماز پڑھ کر آئی تھی۔ یہ لمحہ حورا کے لیے حیران کن بھی تھا اور سکون و خوشی کا باعث بھی۔

ہاں… بابا کے لیے دعا کرنی تھی۔” آبرو نے نہایت سنجیدگی اور پختگی سے کہا۔”

،پھر اچانک لہجہ بدل گیا، جیسے کوئی نئی سوچ دل میں آئی ہو
“ماما… کیا آپ کے پاس دودھ والے انکل کا نمبر ہے؟

،حورا نے چونک کر اسے دیکھا
“ہاں ہے، لیکن تمہیں کیا کرنا ہے؟”

،آبرو نے ہچکچاہٹ کے بغیر جواب دیا
ان سے کہیں کہ بکری کا دودھ دے جائیں۔” اس کی آواز میں عجیب نرمی تھی جیسے کوئی راز چھپا ہو۔”

“بکری کا دودھ؟” حورا کی پیشانی پر حیرت کے بل پڑ گئے۔ “تمہیں کیا کرنا ہے اس کا؟”

آبرو کے لبوں پر پھیکی سی مسکراہٹ ابھری، مگر آنکھوں میں معصوم سنجیدگی اتر آئی۔
“میں اس پر دم کروں گی… اور بابا کو پلاؤں گی۔”

،یہ جملہ سن کر حورا کے دل میں بیٹی کے لیے بے تحاشا محبت اور نرمی کی لہر دوڑ گئی۔ اس نے دھیرے سے کہا
“آؤ، میرے پاس بیٹھو۔”

،آبرو آہستگی سے اس کے قریب بینچ پر بیٹھ گئی۔ حورا نے نرمی مگر وضاحت کے ساتھ سمجھایا
بیٹا، مجھے پتا ہے کہ تمہیں بابا کی فکر ہے۔ لیکن ڈاکٹر نے سختی سے کہا ہے کہ انہیں کچھ کھانے پینے کو نہیں دینا۔ “

“دودھ تو دور کی بات، یہاں تک کہ پانی کے چند گھونٹ بھی ان کی حالت بگاڑ سکتے ہیں۔

،آبرو کی سنہری آنکھیں ایک پل کو خاموش رہیں، پھر وہ ماں کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے عجیب اور پراسرار لہجے میں بولی
“ماما… میں نے کہا نا… دودھ منگوائیں۔ آپ نے سنا؟”

اس کی آنکھوں میں ایک چمک اُبھری، ایسی چمک جس میں ضد نہیں بلکہ کوئی انجانی طاقت جھلک رہی تھی۔ حورا کے جسم میں یکدم جھرجھری دوڑ گئی۔ اس کے دل میں گھبراہٹ سی ہوئی۔ وہ کچھ لمحوں کے لیے گنگ رہی، دلیل کے لیے الفاظ لبوں تک آئے مگر بول نہ سکی۔

،آخر ہکلاتے ہوئے کہا
” ا…اچھا، میں کرتی ہوں کال۔”

وہ میز سے موبائل اٹھانے لگی۔ اس کی انگلیاں ہلکی لرزش کے ساتھ نمبر تلاش کرنے لگیں۔ دوسری طرف آبرو کی نگاہیں زافیر پر جمی تھیں۔ وہ نگاہیں بابا کے چہرے پر یوں ٹکی تھیں جیسے طواف کر رہی ہوں۔ ان آنکھوں میں لامحدود پیار، ٹوٹ کر چاہنے والی اپنائیت اور ایک عجیب سا عزم چھپا ہوا تھا۔

°°°°°°°°°°

رینا اور زمار دھیرے دھیرے قدم بقدم آگے بڑھتے جارہے تھے۔ نہ انہیں وقت کا اندازہ تھا کہ کتنا بیت چکا ہے، نہ ہی یہ خیال کہ کب تک چلتے رہیں گے۔ اس لمحے ان کے ذہن پر صرف ایک بوجھ سوار تھا… بھوک کا بوجھ۔

زمار نے جھکے کندھوں کے ساتھ بیگ کھولا اور اس میں سے خون کی بوتل نکالی۔ بوتل تقریباً خالی ہوچکی تھی، صرف چند گھونٹ باقی تھے۔

،اس نے وہ رینا کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
“لو… یہ تم پی لو۔”

رینا ہانپتے ہوئے گھٹنوں کے بل زمین پر جھک گئی۔ اس کے سینے میں تیز سانسوں کی آواز گونج رہی تھی۔

،اس نے نحیف لہجے میں کہا
“نہیں… تم پی لو۔”

،زمار نے بوتل اس کے اور قریب کر دی، لہجہ نرم مگر اٹل تھا
“ضد مت کرو… تم تھک چکی ہو۔ تمہیں اس وقت اس کی زیادہ ضرورت ہے۔”

رینا نے سر اٹھا کر ایک لمحے کے لیے اس کی آنکھوں میں دیکھا جیسے وہاں سے حوصلہ تلاش کر رہی ہو۔ پھر بوتل تھام لی اور باقی ماندہ خون ایک ہی سانس میں پی لیا مگر یہ ناکافی تھا۔ اس کے اندر کی بھوک مزید بھڑک اٹھی۔

،اس نے اردگرد نگاہ دوڑائی اور غیر مرئی وجود کو اونچی آواز میں پکارا
“کیا تم لوگ سن رہے ہو؟”

،چند لمحے مکمل سکوت رہا۔ پھر اچانک فضا میں وہی پراسرار غیر مرئی سرگوشی ابھری
“ہمیں پتا ہے کہ تم بھوکے ہو۔ میرا دوسرا ساتھی گیا ہے… کسی انسان کی تلاش میں۔”

،زمار چونکا، اس کی آنکھوں میں حیرت ابھری
“کیا یہاں بھی انسان مل جاتے ہیں؟”

،ہاں…” آواز پھر ابھری، دھیمی مگر پُراسرار”
“یہاں ایک دروازہ ہے جو حقیقی دنیا میں کھلتا ہے۔ کبھی کبھار بھٹکے ہوئے انسان یہاں آ نکلتے ہیں۔”

،رینا نے آنکھیں تنگ کر کے مشکوک لہجے میں پوچھا
“اور تمہیں یقین ہے کہ کوئی مل جائے گا؟”

“…ہاں… مجھے”
آواز آتے آتے اچانک کٹ گئی۔ لمحہ بھر کو فضا اور زیادہ بوجھل اور پراسرار ہوگئی۔

،رینا نے بےچینی سے چاروں طرف نظریں دوڑائیں، دھڑکتے دل کے ساتھ بولی
“کیا ہوا؟ تم اچانک چپ کیوں ہوگئے؟”

میرا ساتھی لوٹ آیا ہے… اور اسے ذرا دور ایک جوان عورت دکھائی دی ہے۔ لگتا ہے وہ کافی دنوں سے وہاں موجود ہے۔ “

“اس کے پاس… دو انسانی جسم ٹنگے ہوئے ہیں۔
پراسرار سرگوشی فضا میں لرز اٹھی۔

،رینا نے چونک کر زمار کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک اُبھری تھی۔ وہ جوشیلے لہجے میں بولی
“…لگتا ہے یہ بھی ہمارے جیسی ہے”

،پھر اس نے فوراً غیر مرئی وجود کو پکارا
“رستہ دکھاؤ… ہمیں اس کے پاس لے چلو۔”

اچانک فضا میں ایک سمت سے ہلکی سی گرد اٹھی۔ جیسے کسی نے دھیرے سے پردہ ہلایا ہو۔
“میرے ساتھ آئیے۔”
سرگوشی ابھری اور وہ دھندلے اشارے کے پیچھے چل پڑے۔

،زمار نے قدم آگے بڑھاتے ہوئے رینا سے پوچھا
“تم کیا کرنے کا سوچ رہی ہو؟”

،رینا نے پلٹ کر اس کی آنکھوں میں گہری نظر ڈالی۔ پھر اپنے ہونٹوں پر ایک شیطانی مسکان سجا لی اور آہستگی سے بولی
“ہم اسے ختم کر دیں گے… اور اس کا شکار اپنے قبضے میں لے لیں گے۔ جب کھانا خود چل کر سامنے آ جائے تو محنت کی کیا ضرورت؟”

یہ سن کر زمار کی آنکھوں میں خطرناک چمک ابھری۔ اس کے لبوں پر بھی شریر سی مسکراہٹ رینگ گئی۔ خون کی پیاس اور مارنے کا جوش اس کے رگ و پے میں دوڑنے لگا۔ وہ تو ویسے ہی لڑائی جھگڑے اور قتل و غارت گری میں لطف محسوس کرتا تھا۔ اب اپنے ہی جیسے ایک درندے سے ٹکر لینے کا خیال اس کے وجود کو بے قابو کر رہا تھا۔

وہ دونوں غیر مرئی وجود کے پیچھے تیز قدموں سے بڑھتے گئے۔ بھوک سے نڈھال جسم لمحہ بھر پہلے بوجھل لگ رہے تھے مگر شکار کی امید نے ان کی رگوں میں تازہ جان ڈال دی تھی۔

…اندھیرے میں بھٹکتے ہوئے ان کے وجود اب ایک ہی سوچ پر مرکوز تھے
خون اور گوشت کی مہک۔

°°°°°°°°°°

آج پھر ندیم دن چڑھے ہی اپنے نئے شکار کی تلاش میں نکل آیا تھا۔ گزشتہ رات کا دکھ اور لڑکے کو مارنے کا پچھتاوا، اس کی کمر کے زخموں سے بہتے خون کے ساتھ ہی جیسے دھل گیا تھا۔ اب وہ مطمئن تھا۔ اپنے دل کو یہ یقین دلا چکا تھا کہ یہ سب ایک مجبوری تھی۔ اس نے جو کچھ بھی کیا، انسانیت کی بھلائی کے لیے کیا۔

اس کی نظر میں بڑے مجرموں کو تو قانون کی گرفت آ ہی جاتی تھی مگر اصل خطرہ ان ابھرتے ہوئے مجرموں سے تھا۔ جن پر کسی کی نظر نہیں جاتی تھی۔ وہ انہیں ناسور سمجھتا تھا جو وقت پر نہ کاٹے جائیں تو پورے جسم کو گلا دیتے ہیں۔

گاڑی ایک سنسان سڑک پر دوڑتی جا رہی تھی کہ اچانک ندیم کی نظر سڑک کے کنارے ایک کھیت کی طرف اٹک گئی۔ وہاں دو وجود کھڑے تھے، ایک باپ اور اس کا جوان بیٹا۔ وہ کسی بات پر الجھ رہے تھے۔ ندیم نے فوراً گاڑی ایک طرف کھڑی کی اور خاموشی سے انہیں دیکھنے لگا۔ اس کے تیز حواس نے ان کی آوازوں کو صاف سن لیا۔

اب باپ نے غصے میں بیٹے کو دھکے دینا شروع کر دیے تھے اور بیٹے کی آواز ہر لمحہ بلند ہوتی جا رہی تھی۔

،بیٹے نے لرزتی آواز میں مگر ہمت سے کہا،
میری اپنی بھی کوئی زندگی ہے…! خدا کے لیے مجھے جینے دیں۔”

” آپ نے ساری زندگی ماں کو بھی سکون کا سانس نہیں لینے دیا اور نہ ہی ہمیں جینے دیا۔

،باپ کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا۔ وہ گرجا
“!…میں آکھیا آپنڑی بکواس بند کر”
یہ کہہ کر اس نے پوری قوت سے بیٹے کے گال پر تھپڑ دے مارا۔

بیٹا تھپڑ کھا کر ایک لمحے کو سنبھلا، پھر آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔

،وہ دکھی لہجے میں بولا
“جس دن آپ مریں گے، میں اپنے رب کا شکر ادا کروں گا… کہ اس نے زمین کا بوجھ ہلکا کر دیا۔”

یہ الفاظ سنتے ہی باپ کا غصہ بھڑک اٹھا۔ وہ دھاڑا،
“!…دفع ہو جا ایتھوں… مر تے مغروں لے میرے”

بیٹا آنکھوں سے آنسو بہاتا، دل میں زہر لیے پلٹا اور تیز قدموں سے دور نکل گیا۔ باپ لمحہ بھر کے لیے پتھرائی ہوئی آنکھوں سے اسے دور جاتے دیکھتا رہا پھر سر جھکا کر تھکے قدموں سے دوبارہ کھیت کے کام میں لگ گیا۔

ندیم گاڑی میں بیٹھا یہ سارا منظر ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک اتر آئی تھی۔ اسے لگا جیسے آج کا شکار خود چل کر سامنے آگیا ہو۔

چند لمحوں بعد ندیم گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلا اور آہستہ آہستہ کسان کی طرف قدم بڑھانے لگا۔ دھوپ کھیتوں پر تیز تھی اور ہوا میں پسینے اور مٹی کی ملی جلی بو رچی ہوئی تھی۔ جب وہ کسان کے قریب پہنچا تو لڑکا کافی دور جا چکا تھا۔ ندیم نے قریب جا کر خوش اخلاقی سے سلام کیا،

“السلام علیکم، چاچا جی۔”

بڑی عمر کا کسان ہلکا سا سیدھا ہوا۔ ماتھے پر پسینے کے قطرے چمک رہے تھے۔

،اس نے ندیم کو اجنبی نظروں سے دیکھا اور بھاری آواز میں جواب دیا
“وعلیکم السلام… خیر اے پُتر؟”

ندیم کی نظریں ابھی تک اُس دور جاتے لڑکے پر جمی تھیں۔ وہ اینٹوں اور گارے سے بنے ایک پرانے سے گھر میں داخل ہو رہا تھا۔

،جیسے ہی لڑکا گیٹ سے اندر گیا، ندیم کی نظریں کسان پر واپس لوٹ آئیں۔ اس نے دھیمے لہجے میں پوچھا
“کیا یہ آپ کا بیٹا تھا؟”

،کسان نے ایک لمحے کے لیے گھر کی طرف دیکھا، پھر لبوں پر طنزیہ ہنسی لاتے ہوئے بولا
“جیا… جے اولاد بےغیرت نکل آوے تے زندگی حرام ہو جاندی اے۔”

کسان کی نظر دوبارہ گھر کی طرف اُٹھی ہی تھی کہ ندیم نے جیب سے تیزی سے ایک سرنج نکالی۔ ایک لمحے میں اُس نے سوئی کسان کی گردن میں پیوست کر دی اور دوا انجیکٹ کر دی۔ تیز چبھن پر کسان کا ہاتھ گردن تک جا پہنچا، اُس کی آنکھوں میں غصے کی لالی اُبھر آئی اور اُس نے ندیم کو گھور کر دیکھا۔ وہ کچھ بولنے کی کوشش ہی کر رہا تھا کہ جسم بھاری ہونے لگا، سر گھومنے لگا۔

شدید غصے میں اُس نے ندیم کی طرف ہاتھ بڑھایا مگر ندیم ایک شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ دو قدم پیچھے ہٹ گیا۔ اگلے ہی لمحے بوڑھا کسان گھٹنوں کے بل جھکا اور زمین پر منہ کے بل دھڑام سے جا گِرا۔

ندیم نے سکون سے آگے بڑھ کر اُس کے وجود کو پیر سے سیدھا کیا۔ پھر ایک زہریلی سنجیدگی کے ساتھ نظریں گھر پر جما دیں اور آہستہ آہستہ اس کی طرف قدم بڑھانے لگا۔

°°°°°°°°°°

آبرو کمرے کے ایک کونے میں، دیوار کی جانب رخ کیے فرش پر بیٹھی تھی۔ اس کے سامنے دودھ کا گلاس رکھا تھا جس میں ایک چمچ تھی اور پاس ہی جامِ شیریں کی بوتل رکھی تھی۔

، اس نے دونوں ہاتھ دعا کے لیے اٹھائے، آنکھیں موند لیں اور مدھم لہجے میں بولی
“یا اللہ… میرے بابا کو شفا عطا فرما۔”

یہ کہہ کر اس نے آہستگی سے بوتل کا ڈھکن کھولا، جامِ شیریں دودھ کے گلاس میں انڈیلا اور چمچ سے اسے ہلانے لگی۔ ساتھ ہی زیرِ لب قرآن کی چند آیات پڑھ کر دعا کرنے لگی جیسے ہر لفظ کو دودھ میں گھول دینا چاہتی ہو۔

دوسری طرف، زافیر کے بستر کے قریب بینچ پر بیٹھی حورا مسلسل بیٹی کو دیکھ رہی تھی۔ آبرو کی پشت اس کی طرف تھی، اس لیے وہ اندازہ نہیں کر پا رہی تھی کہ وہ کیا پڑھ رہی ہے اور دودھ پر کس طرح کا دم کر رہی ہے۔ حورا کے دل میں ایک عجیب سا تجسس اور بےچینی اکٹھی ہونے لگی۔

کچھ دیر بعد آبرو نے دعا ختم کی، گلاس اور بوتل دونوں کو نہایت احتیاط سے ہاتھوں میں اٹھایا اور میز پر آ کر رکھ دیا۔ پھر دھیمے قدموں کے ساتھ چلتی ہوئی حورا کے قریب بینچ پر بیٹھ گئی۔ دونوں کے درمیان خاموشی چھا گئی، صرف مشین کی بیپ سنائی دے رہی تھی۔ آبرو کی نظریں بس اپنے بابا کے چہرے پر جمی تھیں جیسے انتظار میں ہو کہ وہ کسی بھی لمحے آنکھیں کھول دیں گے۔

°°°°°°°°°°

ندیم اب اُس گھر کے قریب پہنچ چکا تھا جہاں باپ سے جھگڑنے کے بعد لڑکا آیا تھا۔ یہ دراصل مال مویشیوں کا ایک ڈیرہ تھا، کچی اینٹوں اور گارے کی دیواروں کے ساتھ، جہاں باپ بیٹا دن رات کی محنت سے جانوروں کی دیکھ بھال کرتے تھے۔ دروازے کے قریب پہنچتے ہی ندیم نے چہرے پر گہری پریشانی اور عجلت کے تاثرات سجا لیے۔ پھر اُس نے اتنی شدت سے دروازہ کھٹکھٹانا شروع کیا کہ یوں لگا جیسے ابھی دروازہ ٹوٹ جائے گا۔

انداز میں بے چینی اور گھبراہٹ اس قدر تھی کہ چند ہی لمحوں بعد دروازہ زور سے کھلا اور وہی جوان لڑکا غصے سے باہر نکلا۔

،آنکھوں میں جھنجھلاہٹ اور آواز میں کڑواہٹ لیے بولا
“اوہ… تیرا دماغ خراب اے؟ آرام نال نی بجا سکدا؟”

،ندیم نے سانس پھولا ہوا دکھاتے ہوئے پریشانی کی اداکاری کی اور کپکپاتی آواز میں بولا
“!…وہ… وہ… اک بندہ بے ہوش ہوگیا ہے”

،لڑکے کا غصہ لمحہ بھر کو مدھم پڑا، ماتھے پر شکنیں ابھریں اور اس نے فوراً پوچھا
“کون بے ہوش ہوگیا ہے؟”

،ندیم نے گھبراہٹ میں الفاظ گڑبڑاتے ہوئے کہا
میں سڑک سے گزر رہا تھا… اچانک اُس آدمی کو چکر آیا اور وہ گِر کر بے ہوش ہوگیا۔”

“میں نے اُسے گاڑی تک لے جانا چاہا تاکہ ہسپتال لے جاؤں… مگر وہ بہت بھاری ہے، میں اُٹھا نہیں پایا۔

،لڑکے کے چہرے پر اب فکر کے ساتھ سختی بھی نمودار ہوگئی۔ اُس نے تیزی سے سوال کیا
“کون بے ہوش ہوا ہے؟ اور وہ ہے کہاں؟”

ندیم نے فوراً اپنے ہاتھ سے پیچھے کھیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا،
“…وہاں… وہیں کھیت میں گرا ہے۔ پتا نہیں کون ہے بیچارہ”

یہ سنتے ہی لڑکے کا رنگ فق ہوگیا۔ اُسے فوراً اندازہ ہوگیا کہ یہ اُس کے باپ کی بات کر رہا ہے۔ گھبراہٹ نے اُس کے قدموں کو بے قابو کر دیا اور وہ تیزی سے کھیت کی طرف بھاگ پڑا۔

ندیم بھی اُس کے پیچھے لپکا۔ ایک لمحے کو اُس کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ ابھری… ایک مسکراہٹ جو اُس کی کامیاب چال کی گواہی دے رہی تھی۔ مگر اگلے ہی پل اُس نے فوراً چہرے پر دوبارہ فکر اور پریشانی کا لبادہ اوڑھ لیا تاکہ سب کچھ حقیقت جیسا لگے۔

لڑکا جیسے ہی اپنے باپ کے پاس پہنچا، فوراً گھٹنوں کے بل گر گیا۔ کانپتے ہاتھوں سے اس کے سینے کو ہلاتے ہوئے، لرزتی آواز میں بار بار پکارنے لگا:
“!…ابو…! ابو آنکھیں کھولیں… ابو”

اس کی آنکھوں میں خوف اور دل میں گھبراہٹ امڈ آئی تھی۔ پسینے کی بوندیں ماتھے سے بہہ کر گالوں پر مل رہی تھیں۔ وہ حد سے زیادہ پریشان اور بے چین تھا۔

،ندیم تیزی سے آگے بڑھا اور مصنوعی عجلت و فکر کے ساتھ سخت لہجے میں بولا
“!…وقت ضائع مت کرو…! انہیں فوراً ہسپتال لے جانا ہوگا۔ جلدی کرو، وہاں میری گاڑی کھڑی ہے”

اس نے سڑک پر کھڑی گاڑی کی طرف اشارہ کیا۔ لڑکے نے فوراً اپنے باپ کو کندھوں سے تھاما جبکہ ندیم نے ٹانگوں سے پکڑ لیا۔ دونوں مل کر بوڑھے کا بھاری وجود سنبھالتے ہوئے کھیت پار کرنے لگے۔ بوڑھے کا ڈھیلا جسم ان کے ہاتھوں سے بار بار پھسلنے کو تھا لیکن لڑکے کی گھبراہٹ اور ندیم کی جلد بازی اسے سنبھالتے ہوئے گاڑی تک لے آئی۔

گاڑی کے پاس پہنچ کر ندیم نے جلدی سے پچھلا دروازہ کھولا۔ دونوں نے احتیاط سے مل کر بزرگ کو سیٹ پر لٹا دیا۔ لڑکا بے تابی سے گاڑی کی دوسری طرف دوڑا، دروازہ کھولا اور پچھلی نشست پر بیٹھ کر فوراً اپنے باپ کا سر اپنی گود میں رکھ لیا۔ اس کے آنسو ایک ایک کر کے والد کی پیشانی پر ٹپکنے لگے۔

ندیم نے بغیر وقت ضائع کیے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی، اگنیشن گھمایا اور گاڑی تیزی سے سڑک پر دوڑا دی۔ انجن کی آواز اور گاڑی کی رفتار لڑکے کے رونے کی شدت کے ساتھ ہم آہنگ معلوم ہو رہی تھی۔

لڑکا اپنے باپ کے جھریوں بھرے چہرے کو سہلاتا، بار بار جھک کر پیشانی چومتا اور روتے ہوئے التجا کرتا،
“…ابو… مجھے معاف کر دیں… میں کچھ زیادہ ہی بول گیا تھا… خدا کے لیے ابو… مجھے معاف کر دیں”

اس کی آواز ٹوٹتی، گھلتی اور پھر گھٹی سی آواز بن کر نکلتی۔ ہر معافی کے ساتھ وہ باپ کی پیشانی کو اور بھی شدت سے چوم لیتا جیسے اپنی نادانی کے زخم ان بوسوں سے بھر دینا چاہتا ہو۔

ندیم کبھی کبھار ریئر ویو شیشے میں نظر دوڑاتا اور پھر نظریں دوبارہ سڑک پر جما دیتا۔ گاڑی سنسان راستے پر بڑھ رہی تھی، فضا میں صرف انجن کی گڑگڑاہٹ اور لڑکے کے رونے کی سسکیاں سنائی دے رہی تھیں۔

جب گاڑی ایک ویران جگہ پر پہنچی تو ندیم نے اچانک اگنیشن بند کیا اور بریک پر دباؤ ڈال کر گاڑی کو دو تین جھٹکے دے کر روک دیا۔ گاڑی کے یکدم رکتے ہی لڑکے کے دل میں اور بھی گھبراہٹ جاگی۔

اوہ ہو…! اس مصیبت نے بھی ابھی خراب ہونا تھا!” ندیم نے مصنوعی غصے سے اسٹیرنگ پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔”

،لڑکا فوراً چونک کر بولا
“کیا ہوا بھائی؟”

،ندیم نے ایک جھوٹ گھڑتے ہوئے پرسکون لہجے میں کہا
“ایک منٹ… شاید بیٹری کا ٹرمینل ڈھیلا ہوگیا ہے۔ میں دیکھتا ہوں۔”

یہ کہہ کر وہ جلدی سے گاڑی سے باہر نکلا، بونٹ اٹھایا، لمحہ بھر اوپر نیچے دیکھا اور فوراً بند کر دیا۔

،پھر مصنوعی عجلت کے ساتھ گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولتے ہوئے لڑکے کی طرف بڑھا
“سیٹ کے نیچے دیکھو یار… ایک چابی پڑی ہوگی۔”

لڑکے نے فوراً اپنے باپ کا سر احتیاط سے سیٹ پر رکھا اور جھک کر سیٹ کے نیچے دیکھنے لگا۔ اندھیرا ہونے کے باعث وہ مزید نیچے جھک گیا تاکہ اچھی طرح دیکھ سکے۔

اسی لمحے ندیم کی آنکھوں میں ایک شیطانی چمک ابھری۔ اس نے جیب سے سرنج نکالی اور ایک جھٹکے سے لڑکے کی گردن میں چبھو دی۔ دوا تیزی سے رگوں میں اترنے لگی۔

آہ…” لڑکا کراہتے ہوئے فوراً پلٹا مگر ندیم نے بجلی کی سی پھرتی سے اس کے منہ پر ہاتھ جما دیا اور دوسرے ہاتھ سے اسے ساکت کر دیا۔”

لڑکے نے پوری طاقت سے مزاحمت کی لیکن لمحہ بہ لمحہ اس کے وجود میں ڈھیلا پن آتا گیا۔ آنکھیں بوجھل ہوئیں، سانس دھیمی ہوئی اور چند ہی لمحوں میں وہ ندیم کی گرفت میں بے ہوش ہو کر ڈھیلا پڑ گیا۔

ندیم نے سکون کا سانس لیتے ہوئے ہاتھ ہٹایا، دروازہ بند کیا اور شیطانی اطمینان کے ساتھ واپس ڈرائیونگ سیٹ پر آ بیٹھا۔ اگنیشن گھمایا اور اگلے ہی پل گاڑی سنسان سڑک پر تیزی سے دوڑنے لگی جیسے اندھیری رات خود اس کے جرم کو چھپانے کے لیے پردہ ڈال رہی ہو۔

°°°°°°°°°°

زافیر نے غنودگی میں ہی بوجھل پلکیں چند بار جھپکانے کے بعد آہستگی سے آنکھیں کھول دیں۔ سانسیں مدھم اور کمزور تھیں مگر نظریں جیسے ہی بینچ پر بیٹھی حورا پر پڑیں تو ان میں اک روشنی سی جھلک اٹھی۔ اس نے لبوں کو بمشکل جنبش دی،
“آ… آ… آبرو… کہاں ہے؟”

یہ سنتے ہی حورا اور دوسری جانب سے آبرو، دونوں تیزی سے اس کے قریب آگئیں۔
حورا نے لرزتے ہاتھوں سے اس کا ہاتھ تھام لیا۔

،زافیر نے اس کے لمس کو محسوس کرتے ہی تھکن زدہ مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھا اور کمزور لہجے میں کہا
“…تم بہت اچھی ہو”

حورا کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا، مگر آواز لبوں تک نہیں پہنچ پائی۔ پاس ہی کھڑی آبرو خاموش، سنجیدہ نظروں سے اپنے باپ کو تکتی رہی۔ زافیر نے ایک لمحے کو اسے دیکھا اور لبوں پر پیار بھری مسکراہٹ سجا لی۔

،پھر آہستگی سے نظریں دوبارہ حورا پر مرکوز کرتے ہوئے بولا
“…آبرو کا خیال رکھنا… اگر میں نہ رہا”

“خدا کے واسطے زافیر…!” حورا کی آواز ٹوٹ گئی، “ایسا نہ کہیں… کچھ نہیں ہوگا آپ کو۔”

،زافیر نے تھکن اور اداسی سے بھری سانس لی، جیسے اپنے دل کا یقین دہرا رہا ہو
“نہیں… میں نہیں بچ پاؤں گا۔”

ابھی یہ الفاظ فضا میں گونج ہی رہے تھے کہ آبرو بنا کچھ کہے قریب کی میز تک گئی۔

اس نے وہاں رکھا دودھ کا گلاس اٹھایا، جس میں جامِ شیریں گھلا ہوا تھا اور دھیمے قدموں سے اپنے بابا کے پاس آ گئی۔

، گلاس دونوں ہاتھوں میں تھامے، وہ نرمی سے بولی
“بابا… آپ کو کچھ نہیں ہوگا۔ بس یہ دودھ پی لیں۔”

“…آبرو”
حورا نے گھبراہٹ اور خفگی کے ملے جلے لہجے میں بیٹی کو پکارا۔ اس کی نظریں واضح طور پر روکنے کا اشارہ دے رہی تھیں جیسے کہہ رہی ہو کہ یہ سب ابھی مت کرو۔

مجھ پر بھروسہ رکھیں ماما۔” آبرو نے پُراعتماد لہجے میں کہا۔”

زافیر نے ہلکا سا سر اٹھانے کی کوشش کی تو حورا نے فوراً اس کی گردن کے نیچے ہاتھ رکھ کر اسے سہارا دیا۔
…زافیر نے بمشکل لبوں کو جنبش دی اور پہلا گھونٹ پیا۔ پھر دوسرا
ایک لمحے کو وہ پیچھے ہٹا جیسے مزید پینے کی سکت نہ ہو مگر دودھ کے ذائقے اور جامِ شیریں کی مٹھاس نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔ وہ ایک ایک گھونٹ پیتا گیا یہاں تک کہ پورا گلاس خالی ہو گیا۔

،حورا نے نرمی سے اسے دوبارہ تکیے پر لٹایا اور اس کے چہرے پر اطمینان دیکھ کر مسکرا دی۔ پھر نرم لہجے میں بولی،
“آپ کی آبرو نے آج نماز پڑھی… آپ کے لیے دعا کی۔ اور جانتے ہیں؟”

،وہ لمحہ بھر کو رکی۔ زافیر نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا تو وہ اور زیادہ مسکرا دی
“آبرو نے اس دودھ پر دم بھی کیا ہے۔ دیکھیے گا، اسی کی برکت سے آپ بہت جلد ٹھیک ہو جائیں گے۔”

زافیر کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھر آئی۔ فضا میں ایک لمحے کو سکون سا چھا گیا، جیسے سب کچھ بہتر ہونے والا ہو۔ مگر عین اسی لمحے کمرے کا دروازہ کھلا۔ ایک نرس کے ہمراہ ڈاکٹر اندر آیا۔

اس کی نگاہ سیدھی آبرو کے ہاتھ میں موجود خالی گلاس پر جا ٹھہری۔

،ماتھے پر شکنیں ابھرتے ہی وہ خشک اور کڑک لہجے میں بولا
“میں نے واضح ہدایت دی تھی کہ مریض کو کچھ بھی کھانے یا پینے کو نہ دیا جائے۔ پھر بھی آپ نے وہی حرکت کی۔”

،حورا گھبرا کر فوراً بولی
“یہ آبرو نے دودھ پر دم کیا تھا… اس نے پاک کلام پڑھی تھی۔ کیا معلوم خدا اسی کے صدقے انہیں شفا دے دے۔”

یہ سن کر ڈاکٹر لمحے بھر کو خاموش ہوگیا۔ وہ پہلے ہی زافیر کے زندہ بچنے کی امید چھوڑ چکے تھے، اس لیے مزید بحث کرنا بے فائدہ سمجھا۔ اس کے ذہن میں بھی یہ خیال آیا کہ اگر دوا کارگر نہیں تو شاید دعا ہی معجزہ دکھا دے۔

وہ دھیمے قدموں سے قریب آیا اور زافیر کے چیک اپ میں مصروف ہوگیا۔ ہر زاویے سے معائنہ کیا۔ دل کی دھڑکن، سانسوں کی رفتار، جسم کی کمزوری… سب کچھ ویسا ہی تھا جیسا وہ چھوڑ کر گیا تھا۔ نہ کوئی بگاڑ، نہ کوئی نمایاں بہتری۔ صرف ایک ساکت، تھمی ہوئی کیفیت۔

معمول کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد اس نے زافیر کے بازو میں نیند کا انجکشن لگا دیا تاکہ وہ سکون سے مزید آرام کر سکے۔ پھر چند ہدایات نرس کو دے کر کمرے سے باہر نکل گیا۔

آج کی رات فیصلہ کُن تھی۔ اگر زافیر کی حالت میں ذرا سا بھی سدھار نظر آیا تو زندگی کی ڈوبتی شمع دوبارہ جل سکتی تھی۔ لیکن جمود برقرار رہتا تو امید کا دیا ہمیشہ کے لیے بجھ سکتا تھا۔

ایک طرف وہ شخص تھا جو درندگی کی زندگی چھوڑ کر… توبہ کے بعد موت کی دہلیز پر کھڑا تھا۔ اور دوسری طرف وہ انسان تھا جو اب درندے کے روپ میں مذہب کی آڑ لے کر معصوم جانوں کو ظلم کا شکار بنا رہا تھا۔
اسے روکنے والا صرف زافیر تھا… لیکن زافیر تو خود اپنے آخری سانسیں گن رہا تھا۔

°°°°°°°°°°

…جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *