ناول درندہ

قسط نمبر 35

باب چہارم: بدلاؤ

مصنف: زیاد اصغر زارون

°°°°°°°°°°

رینا اور زمار، ہاتھوں میں خنجر مضبوطی سے تھامے ایک موٹے، سوکھے تنے کی اوٹ سے سانس روکے کھڑے تھے۔ ان کی نظریں سامنے کے منظر پر جمی تھیں، جہاں ایک نئی آدم خور عورت اپنی بھیانک موجودگی کے ساتھ ظاہر ہوئی تھی۔ وہ بظاہر بتیس سالہ حسینہ تھی، جو ان کی طرف پشت کیے آگ کے بڑے الاؤ کے سامنے بیٹھی تھی۔ جلتی لکڑیوں کی تڑتڑاہٹ کے ساتھ تپش کبھی مدھم اور کبھی تیز ہورہی تھی۔

ایک طرف سوکھے درخت سے دو جوان مرد الٹے لٹکے جھول رہے تھے۔ ان کے چہرے پیلے اور خوف سے لرزاں تھے۔ وہ عورت سے زندگی کی بھیک مانگ رہے تھے لیکن عورت ان کی چیخوں پر بے نیاز تھی، جیسے یہ سب اس کے لیے محض موسیقی کا ایک حصہ ہوں۔

رینا اور زمار نے لمحہ بھر صورتحال کا بغور جائزہ لیا۔ پھر دونوں ہی دبے قدموں، ایک دوسرے کو اشارہ کرتے ہوئے، درخت کی اوٹ سے نکلے اور آہستگی سے اس عورت کی جانب بڑھنے لگے۔

عورت اب بھی ان کی طرف پشت کیے بیٹھی تھی۔ لیکن جیسے ہی وہ قریب پہنچے، اچانک اس کی آواز گونجی۔ آواز تھی نرم، ملائم اور پُر ترنم… مگر اس کے لہجے میں ایسا زہر چھپا تھا جو ان دونوں کے دلوں میں کپکپی دوڑا گیا۔

“لگتا ہے… تم دونوں کو بہت بھوک لگی ہے۔”

یہ کہتے ہوئے وہ آہستگی سے اٹھی اور پھر مسکراتے ہوئے ان کی طرف پلٹی۔

زمار کی آنکھیں جیسے پلک جھپکنا بھول گئیں۔ وہ لمحہ بھر کو اپنی جگہ ساکت رہ گیا۔ عورت کی صورت میں ایک عجیب جادو چھپا تھا۔ لمبے، سنہری بال جو کمر تک لہراتے گر رہے تھے، روشنی میں سونے کے تاروں کی مانند چمک رہے تھے۔ نین نقش ایسے تراشیدہ جیسے کسی ماہر سنگ تراش نے پتھر پر کمال کاریگری دکھائی ہو۔

زمار کے دل کی دھڑکن بے قابو ہو گئی تھی۔ بھوک اور شکار کی پیاس لمحہ بھر کو پس منظر میں چلی گئی تھی۔ اس کے سامنے اب صرف ایک انمول، پراسرار اور خطرناک مورت کھڑی تھی جو اپنی مسکراہٹ میں ہیبت اور کشش دونوں سمیٹے ہوئے تھی۔

رینا نے ایک نظر زمار پر ڈالی اور فوراً اس کے دل کی کیفیت کو بھانپ لیا۔ اس کی نظریں بار بار عورت کے سراپے پر ٹھہر رہی تھیں۔

،رینا نے بھنویں چڑھائیں اور عورت کی طرف متوجہ ہو کر سفاک لہجے میں بولی
“یہ دونوں شکار ہمارے حوالے کر دو… شاید پھر ہم تمہاری جان بخش دیں۔”

عورت کی قہقہہ مارتی ہنسی خاموش فضا میں گونج اٹھی۔ اس کے سفید موتیوں جیسے دانت روشنی میں اور زیادہ خیرہ کن لگ رہے تھے۔

،زمار تو اس کی ہر ادا پر فریفتہ سا ہوتا جا رہا تھا۔ عورت نے انگلی نفی میں ہلاتے ہوئے ترنم بھرے مگر زہر آلود لہجے میں کہا
“نہ نہ نہ نہ نہ… بھول جاؤ۔”
وہ ایسے بول رہی تھی جیسے ان دونوں کی موجودگی اس کے لیے محض ایک کھیل ہو، کوئی حقیقی خطرہ نہیں۔

رینا کی آنکھوں میں غصے کی بجلیاں کوندیں۔ اس نے خنجر کا رخ عورت کی طرف کیا اور طنزیہ لہجے میں کہا،
“چلو پھر ٹھیک ہے… اگر تم مرنا چاہتی ہو تو ہمیں کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔”

اس نے زمار کی طرف دیکھا۔ مگر زمار کبھی حسینہ کو دیکھ رہا تھا اور کبھی التجائیہ نظروں سے رینا کو، جیسے آنکھوں ہی آنکھوں میں کہہ رہا ہو،
“اسے مت مارو…”

رینا نے اسے گھور کر دیکھا تو زمار یکدم چونک اٹھا، جیسے ہوش میں آ گیا ہو۔ وہ فوراً لڑائی کے موڈ میں آیا اور خنجر عورت کی طرف تان دیا۔

اب وہ بھی تیار تھا مگر دل کی گہرائیوں میں کشمکش باقی تھی۔

،وہ عورت لبوں پر ایک طنزیہ، پُراسرار مسکراہٹ سجا کر بولی
“رکے کیوں ہو؟ آگے بڑھو… اگر ہمت ہے تو چھین لو شکار مجھ سے۔”

یہ الفاظ گویا کھلی للکار تھے۔ رینا تیزی سے آگے لپکی اور زمار بھی لمحہ بھر کی جھجک کے بعد اس کے پیچھے بڑھ گیا۔ ان کے قدموں کی چاپ اور خنجر کی چمک آگ کے الاؤ کی لپٹوں میں وحشت گھولنے لگی تھی۔

وہ عورت سراسر پرسکون انداز میں کھڑی تھی، جیسے آنے والے حملے کا اسے پہلے ہی اندازہ ہو۔
رینا نے جیسے ہی قریب پہنچ کر خنجر اس کی گردن کی طرف بڑھایا، حسینہ نے گردن ایک جانب کرتے ہوئے بجلی کی سی سرعت سے اس کی کلائی جکڑ لی۔ رینا نے غصے میں بایاں ہاتھ مکا بنا کر اس کے پہلو پر مارنا چاہا مگر وہ ہاتھ بھی حسینہ کے قابو میں آگیا۔

اگلے ہی لمحے، نہایت مہارت سے اس نے رینا کے خنجر والے ہاتھ کو مروڑا اور خنجر کا پچھلا حصہ اس کے سینے پر دے مارا۔ رینا ایک ہلکی کراہ کے ساتھ پیچھے کو لڑکھڑائی اور زمین پر جا گری۔

تب تک زمار بھی جھپٹ کر قریب پہنچ چکا تھا۔ اس نے پوری قوت سے خنجر سیدھا اس کے دل کی سمت چلایا مگر حسینہ نے نازک مگر فولادی گرفت سے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ دوسرے ہاتھ سے اس کی گردن دبوچ لی۔ زمار نے چھڑانے کی پوری کوشش کی لیکن اگلے ہی لمحے وہ اپنے ہی خنجر سے محروم ہوچکا تھا۔ حسینہ نے مسکراتے ہوئے ہاتھ کلائی سے اوپر بڑھاتے ہوئے خنجر چھینا اور گردن کو جھٹکا دیتے ہوئے زمار کو چند قدم دور پھینک دیا۔ وہ بے بسی سے زمین پر گرا اور ہانپنے لگا۔

حسینہ نے اس وقت بھی اپنی پرسکون مسکان برقرار رکھی ہوئی تھی۔ اس نے ہاتھ میں تھامے خنجر کی دھار کو غور سے دیکھا جیسے اس کے تیز کناروں سے کھیل رہی ہو پھر بے پرواہی سے مڑ کر اسے دہکتے ہوئے الاؤ میں پھینک دیا۔ آگ کے شعلے لپکے اور خنجر جلتی لکڑیوں میں گم ہوگیا۔

لیکن جیسے ہی وہ مڑی، رینا نے موقع غنیمت جانا۔ وہ اچانک ایک شاندار قلابازی لگاتے ہوئے فضا میں بلند ہوئی۔ ارادہ تھا کہ حسینہ کے سر کے اوپر سے نکل کر سیدھا اس کی کمر میں خنجر گھونپ دے۔ لمحہ بھر کو منظر میں وحشت اور تحیر جم سا گیا۔

مگر حسینہ نے پلک جھپکتے ہی ردِعمل دیا۔ جیسے ہی رینا قریب پہنچی، اس نے فضا ہی میں اس کا ہاتھ دبوچ لیا اور اگلے ہی لمحے بجلی کی تیزی سے اس کی گردن جکڑ لی۔ رینا کا توازن بگڑ گیا۔ وہ حسینہ کے ایک ہاتھ میں جھولتی ہوئی بے بسی سے کسمسا رہی تھی۔

اس کا آزاد ہاتھ گردن کی گرفت توڑنے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔ مگر حسینہ کا ہاتھ فولاد کی طرح مضبوط تھا۔ وہ اسے بلندی پر جھولتے دیکھ کر مسکرا رہی تھی… ایک ایسی مسکراہٹ، جس میں نفاست بھی تھی اور سفاکی بھی۔

زمار تیزی سے زمین سے اٹھا اور پوری طاقت کے ساتھ حسینہ پر جھپٹا۔ لیکن وہ ابھی قریب پہنچا ہی تھا کہ حسینہ نے رینا کو جھولتے ہوئے سیدھا اس پر دے مارا۔ دونوں زور سے ٹکرا کر زمین پر جا گرے۔

بہت ضدی ہو تم دونوں…” حسینہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔ اس کی مسکراہٹ میں طنز بھی تھا اور غرور بھی۔”

چند لمحے پہلے تک رینا اور زمار کو یہ گھمنڈ تھا کہ دونوں مل کر اسے زیر کر لیں گے مگر اب حقیقت کھل کر سامنے آگئی تھی۔ وہ نہ صرف طاقتور تھی بلکہ لڑائی کے فن میں بھی بے مثال تھی۔

دونوں ایک نئے عزم کے ساتھ دوبارہ اٹھے اور حسینہ پر ٹوٹ پڑے۔ اب کی بار وہ اپنی پوری مہارت آزما رہے تھے۔ کبھی گھونسوں کا وار، کبھی بازوؤں کی گرفت، کبھی پیچھے سے لات مارنے کی کوشش اور کبھی رینا خنجر کے ساتھ جھپٹتی۔
لیکن حسینہ کی پھرتی اور مہارت دیکھ کر یوں لگ رہا تھا جیسے کوئی ماہر استاد دو اناڑی شاگردوں کے ساتھ کھیل رہا ہو۔ وہ ہر وار کو نہایت آسانی اور سکون سے روک رہی تھی۔ ایک وار بھی اس کے جسم کو چھو نہ سکا۔

رینا اور زمار خود بھی ماہر لڑاکا تھے، تیز، طاقتور اور خونخوار لیکن حسینہ کے سامنے ان کی مہارت ماند پڑ گئی تھی۔ وہ مسلسل حملہ کرتے کرتے تھکنے لگے۔ سانسیں بے قابو، قدم لڑکھڑانے لگے۔

تب ہی حسینہ نے پہلا پلٹ وار کیا۔
اس نے بجلی کی سی سرعت سے رینا کے سر پر کھلی ہتھیلی سے وار کیا۔ دھڑک کی گونج سنائی دی۔ رینا کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ وہ ڈگمگائی اور اگلے ہی لمحے زمین پر گر کر بے ہوشی کے اندھیروں میں ڈوب گئی۔

زمار ابھی صورتحال کو سمجھ ہی رہا تھا کہ حسینہ نے بجلی کی طرح اس کی گردن دبوچ لی۔ ایک جھٹکے کے ساتھ اسے ہوا میں ہلکا سا بلند کیا اور پھر پوری طاقت سے زمین پر دے مارا۔ دھڑام کی آواز گونجی۔ زمار کو یوں محسوس ہوا جیسے اس کی کمر کی ہڈیاں ٹوٹ کر بکھر گئی ہوں۔ اس کے منہ سے بے اختیار ایک بھیانک کراہ نکلی۔

حسینہ اسے زمین پر پٹخنے کے بعد جھک گئی، اس کی کلائی دبوچ لی اور گھسیٹتے ہوئے اس درخت کی طرف کھینچنے لگی جہاں کچھ ہی دیر پہلے وہ اور رینا چھپے ہوئے تھے۔
درخت کے پیچھے، بیگ کے قریب پہنچ کر اس نے زمار کو زمین پر چھوڑا اور اپنا ایک پیر اس کی گردن پر جما دیا۔ دباؤ اتنا شدید تھا کہ زمار کا دم گھٹنے لگا۔ پھر وہ بیگ میں ہاتھ ڈال کر تیزی سے رسی کے دو گچھے نکال لائی۔

زمار اس کے پیر تلے تڑپ رہا تھا۔ کبھی اپنی ٹانگیں جھٹکتا تو کبھی اس کی فولادی پنڈلی پر مکے برساتا، لیکن حسینہ پر کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔ وہ یوں کھڑی تھی جیسے لوہے کا مجسمہ ہو جسے کسی وار کی پرواہ ہی نہیں۔

اس نے سکون اور مہارت سے رسی اٹھائی۔ ایک ہاتھ سے زمار کی کلائیوں کو جکڑ کر باندھنے لگی۔ رسی کی گرہیں ایسی مضبوط تھیں کہ ہلنے کی بھی گنجائش باقی نہیں رہی۔
پھر اس نے زمار کو بالوں سے کھینچتے ہوئے اس سوکھے درخت کی طرف گھسیٹا جہاں پہلے ہی دو جوان الٹے لٹکے کراہ رہے تھے۔

°°°°°°°°°°

ندیم کے ہاتھ میں ایک بھاری ٹوکہ تھا۔ اس نے میز پر رکھے انسانی بازو کو یوں کاٹا جیسے گوشت کی عام بوٹیاں بنائی جا رہی ہوں۔ دھات سے دھات کے ٹکرانے کی ٹھک ٹھک فضا میں گونج رہی تھی اور اس کی ہر ضرب میں ایک سرد وحشت چھپی ہوئی تھی۔

اسٹیبل ٹیبل پر کسان ہتھکڑیوں میں جکڑا ہوا تڑپ رہا تھا جبکہ اس کا بیٹا دیوار سے جُڑے دھاتی پائپ کے ساتھ زنجیروں میں قید تھا۔ کسان کی نظروں سے وہ پرے تھذ لیکن وہ جانتا تھا کہ ان کا اغوا کار کس کام میں مصروف ہے۔ البتہ لڑکے کی آنکھوں کے سامنے سب کچھ ہو رہا تھا اور وہ خوف و وحشت میں ڈوبا، کانپتے وجود کے ساتھ سارا منظر دیکھ رہا تھا۔

“ہم نے تمہارا کیا بگاڑا ہے؟ آخر ہمیں بتاتے کیوں نہیں؟”
لڑکے نے غصے اور خوف کے امتزاج کے ساتھ چیخ کر کہا مگر ندیم کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ وہ خاموشی سے اپنی ہی دنیائے ظلم میں مگن تھا۔

،اب کی بار کسان کے لب کپکپائے اور وہ رندھی ہوئی آواز سے بولا
“!…جے تینوں پیسے چاہی دے نیں… ساڈے گھر کال کر… اوہ مویشی ویچ کے تینوں پیسے دے دینڑ گے۔ خدا دا واسطہ میرے پُتر نوں چھڈ دے”

،لڑکے کی آنکھوں میں آنسو تیر گئے۔ اس نے افسوس بھری نظر اپنے باپ پر ڈالی، پھر غصے اور بے بسی سے ندیم کو گھورتے ہوئے کہا
“!…ابو جی…! اسے پیسے نہیں چاہییں… میں نے کہا نا، یہ آدم خور ہے…! یہ خبیث، انسانوں کا گوشت کھاتا ہے”

ندیم کے چہرے پر اس لمحے بھی ایک بھیانک سکون تھا جیسے وہ لڑکے کے الزام کو خاموشی میں قبول کر رہا ہو۔

،کسان کو اچانک یہ خدشہ ہوا کہ اس کے بیٹے کا لہجہ کہیں اغوا کار کو مزید طیش نہ دلا دے۔ اس نے ماحول کو نرم کرنے کے لیے جلدی سے کہا
“اینج نئیں کئیں دا پتر… کوئی انسان کیویں اپنے ورگے انسان دا گوشت کھا سکدا اے؟ اے وی ساڈے وانگوں عام بندہ اے، بس راہ توں تھوڑا ہٹ گیا اے۔”

،پھر اس نے ندیم کی طرف خوشامدانہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا
پتر… مینوں لگدا اے تُو کسے اچھے گھر دا ایں۔ پڑھے لکھا تے سیانڑا لگدا ایں۔”

” سانوں جانڑ دے۔ جیویں تیری ماں تینوں پیار کردی اے، ایویں میرے پتر دی ماں وی اینوں لبھ ری ہوسی۔

،یہ الفاظ سنتے ہی ندیم کے چہرے پر ایک بھیانک تبدیلی آئی۔ اس کے لبوں پر اک لمحے کو کھنچاؤ آیا، پھر وہ یکدم دھاڑا

“!…بکواس بند کرو…! میں کوئی بھٹکا ہوا نہیں ہوں… میں خدا کا چُنا ہوا انسان ہوں…! جسے تم جیسے ناسور مٹانے کے لیے بھیجا گیا ہے”

اس کی گرجدار آواز نے کمرے کی فضا کو لرزا دیا۔ کسان اور اس کا بیٹا دونوں سہم گئے۔ بیٹے نے خوفزدہ آنکھوں سے باپ کو دیکھا جبکہ کسان کی آواز کپکپانے لگی۔

“پتر… ساڈا قصور کی اے؟ دس تے سہی… سانوں ایہ عذاب کیوں مل ریہا اے؟”

ندیم نے ٹوکہ ایک طرف رکھا، کپڑے سے خون آلود ہاتھ صاف کیے اور آہستہ آہستہ کسان کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ اس کے لبوں پر سرد مسکراہٹ تھی۔
،دھیما مگر کرخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے بولا
باپ اور بیٹے کا رشتہ… ایک خوبصورت رشتہ ہوتا ہے۔ مگر تم دونوں نے اسے داغدار کر دیا۔”

” تم، ایک باپ ہوکر ظالم بنے… اور دوسروں کے سامنے یہ مثال قائم کی کہ باپ کو سفاک ہونا چاہیے۔ یہ ایسا جرم ہے جس کی کوئی معافی نہیں۔

وہ چند لمحے رکا، پھر میز پر رکھی تیز دھار چھری اٹھائی اور آہستہ آہستہ لڑکے کی طرف بڑھا۔ اس کی آنکھوں میں وحشت کی لالی تھی۔
،اور تم…” وہ زہریلے انداز میں بولا”
تم نے دنیا کے سامنے نافرمانی کی بدترین تصویر رکھی۔”

” اپنی گھٹیا حرکتوں سے سب کو پیغام دیا کہ باپ سے جھگڑو، بدتمیزی کرو، اسے مرنے کی بددعائیں دو… اور پھر بھی یہ کوئی بڑی بات نہیں۔
،وہ لمحہ بھر خاموش ہوا، پھر غرایا
“ایسا مجرم صرف ایک سزا کا حق دار ہے… موت کا حقدار۔”

یہ سنتے ہی لڑکے کا چہرہ سُن پڑ گیا۔ اس کی آنکھوں میں سکتہ اور خوف جمنے لگا۔ کسان کا وجود اندر تک لرز گیا۔ وہ فریاد کرتے ہوئے ٹیبل پر جھٹپٹا کر گڑگڑانے لگا،
“تینوں خدا دا واسطہ ای… میرے پتر نوں کچھ نہ آکھیں… مینوں پاویں مار دے، پر میرے بچے دی جان بخش دے۔ تینوں اپنے ماں پیو دا واسطہ… میرے پتر نوں چھڈ دے…!”

اس کی آواز ٹوٹ گئی اور وہ بے اختیار رونے لگا۔ اپنے باپ کو آنسوؤں میں ٹوٹتا دیکھ کر لڑکے کی آنکھیں بھی بھر آئیں۔ اس کی سانسیں بھاری ہونے لگیں جیسے موت کا سایہ ان کے اوپر جھک آیا ہو۔

،وہ لڑکا غصے سے پھٹ پڑا۔ اس کی آواز میں خوف کے ساتھ ساتھ بغاوت بھی تھی
“!…ابو…! خدا کا واسطہ ہے، آپ اس حیوان کے سامنے آنسو نہ بہائیں۔ یہ درندہ ہے، اس پر رحم یا آنسوؤں کا کوئی اثر نہیں ہوگا”

،ندیم کے چہرے پر ایک سرد، خبیث مسکراہٹ ابھری۔ اس نے لمحہ بھر کے لیے لڑکے کو گھورا اور پھر قاضی کے انداز میں فیصلہ سنانے لگا
“تم نے اپنی زبان سے اپنے باپ کی شان میں گستاخی کی۔ وہ الفاظ ادا کیے جو ناقابلِ معافی ہیں۔”

یہ کہتے ہی وہ آہستہ آہستہ لڑکے کے قریب آیا۔

اچانک جھپٹ کر اس کا منہ زبردستی کھول دیا اور ایک ہاتھ سے اس کی زبان کو زور سے باہر کھینچ لیا۔

،لڑکے کے باپ کے کلیجے پر خنجر پھر گیا۔ وہ چیختے ہوئے فریاد کرنے لگا
“!…اوہ میرے پتر کوئی گناہ نئیں کیتا…! جے کیتا فیر وی میں اینوں معاف کر دتا… خدا دا واسطہ، میرے بچے نوں چھڈ دے”

،مگر ندیم پر اس کی باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ اس کی آنکھوں میں وحشت ناچ رہی تھی۔ وہ بولا
“تمہاری پہلی سزا یہ ہے… کہ تمہاری ناپاک زبان کاٹ دی جائے۔”

اگلے لمحے تیز دھار چھری بجلی کی طرح چمکی۔ ایک ہی جھٹکے میں لڑکے کی زبان کٹ کر ندیم کے ہاتھ میں تھی۔

خون کا فوارہ اس کے منہ سے پھوٹا، چیخ فلک شگاف تھی۔ اس کا منہ، اس کی ٹھوڑی، اس کے کپڑے اور فرش سب خون میں بھیگ گئے۔

باپ بے بسی اور کرب سے دیوانہ وار چیخ رہا تھا۔ اس کی آنکھیں آنسوؤں میں ڈوب چکی تھیں لیکن وہ کچھ کر نہیں سکتا تھا۔ ادھر ندیم کا چہرہ، خون آلود زبان ہاتھ میں تھامے اور زیادہ شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ پہلے سے بھی زیادہ بھیانک دکھائی دے رہا تھا۔

اب وہ واپس پلٹا۔ میز پر رکھا بھاری ٹوکہ اٹھایا اور کسان کے بالکل سامنے آ کھڑا ہوا۔

،اس کی آنکھوں میں ایک خونی چمک تھی۔ سرد مگر لرزہ خیز لہجے میں بولا

“تم نے اپنی اولاد کو ذلیل و رسوا کیا… اپنے ہی جوان بیٹے کے چہرے پر تھپڑ مارا۔ یہ ایک ایسا گناہ ہے جس کی معافی ممکن نہیں۔”

،اتنا کہہ کر اس نے کسان کا دایاں ہاتھ جھپٹ کر قابو میں لیا۔ ٹوکہ اوپر اٹھایا اور قاضی کے لہجے میں اعلان کیا
“!…اس جرم کی پہلی سزا یہ ہے… کہ تیرا ہاتھ کاٹ دیا جائے”

اگلے ہی لمحے فولادی ٹوکہ بجلی کی طرح گرا۔ ایک زوردار آواز گونجی۔ کسان کی کلائی سے ہاتھ الگ ہو کر خون کے فوارے کے ساتھ فرش پر جا گرا۔ دھاتی میز پر گوشت اور ہڈی ٹکرانے کی آواز سن کر پورا کمرہ لرز سا گیا۔ کسان کی فلک شگاف چیخ فضا میں گونجی اور اس کا بیٹا بندھی زنجیروں میں تڑپ اٹھا۔ دونوں باپ بیٹے چیخ رہے تھے، رو رہے تھے لیکن ندیم کے چہرے پر ایک پرسرور مسکراہٹ تھی۔

وہ خود کو منصف سمجھ رہا تھا… ایسا منصف جو معاشرے کی اصلاح کے نام پر درندگی کو انصاف کا لبادہ پہنا رہا تھا۔

پھر وہ اچانک پلٹا۔ قریب سے ایک دو دھاری خنجر اٹھایا۔ پہلے کسان کے قریب گیا اور ایک ہی جھٹکے میں اس کی گردن پر وار کیا۔ خنجر کی دھار نے گوشت اور ہڈی کو چیرتے ہوئے گردن کو آدھا کاٹ ڈالا۔ کسان کے لبوں پر چیخ بھی پوری نہیں نکل پائی تھی کہ اس کا سر نیم مردہ حالت میں ڈھلک گیا اور وہ تڑپنے لگا۔

ندیم نے لمحہ بھی ضائع نہیں کیا۔ فوراً بیٹے کی طرف لپکا اور تیزی سے خنجر اس کے گلے پر بھی چلا دیا۔ کمرے میں آخری چیخ ابھری اور پھر یکدم خاموشی چھا گئی۔ دونوں باپ بیٹے خون کے تالاب میں ڈھیر ہو چکے تھے اور ندیم… وہ اب بھی خود کو ایک خدا کے چنے ہوئے قاضی کے طور پر دیکھ رہا تھا۔

اپنے کام کو انجام تک پہنچا کر وہ اس بار بھی یوں پلٹا جیسے کوئی بھاری فرض ادا کر کے واپس لوٹا ہو۔ اس نے خنجر آہستگی سے میز پر رکھا اور چند لمحے دونوں باپ بیٹے کی بے جان لاشوں کو گھور کر دیکھتا رہا۔ خون میں تر بتر ان اجسام کی خاموشی میں ایک عجیب سی دہلا دینے والی گونج تھی جیسے کمرے کی دیواریں بھی اس منظر کی گواہ بن گئی ہوں۔

ندیم کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔ اگلے ہی لمحے وہ فرش پر پھیلے خون پر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔

سر جھکا، لب کانپنے لگے اور پھر آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔

،اس نے دونوں ہاتھ لرزتے ہوئے آسمان کی طرف اٹھائے اور گڑگڑاتے ہوئے بولا
…یا خُدا… یہ کیسی آزمائش میں ڈال دیا ہے تو نے مجھے؟”میں نہیں جانتا کہ تیرے امتحان پر پورا اتر رہا ہوں یا نہیں۔ میں یہ قتلِ عام نہیں چاہتا

لیکن تیری مخلوق کی حفاظت کے لیے، یہ بوجھ میرے کندھوں پر ڈال دیا گیا ہے۔

” یا اللہ…! مجھے طاقت دے… ہمت دے… کہ میں تیرے امتحان پر سرخرو ہو سکوں۔

یہ کہتے ہی اس کی آواز ٹوٹ گئی۔ اس نے ہاتھ نیچے گرنے دیے اور سر جھکا کر زاروقطار رونے لگا۔ خون سے بھیگے فرش پر اس کے آنسو، جیسے پچھتاوے اور جنون کے بیچ ڈولتی روح کی گواہی دے رہے تھے۔

اس کے باطن میں چھپا ہوا شیطان اس کی حالت پر قہقہے لگا رہا تھا جیسے اس کے رونے، گڑگڑانے اور فریادیں کرنے سے محظوظ ہو رہا ہو۔ وہ شیطان خوشی سے جشن منا رہا تھا کہ اس کا شکار اپنے ہی ہاتھوں تباہی کے دہانے پر آ پہنچا ہے۔

کسی بھی انسان کے لیے، خواہ وہ کتنا ہی گناہ گار کیوں نہ ہو، واپسی کا ایک راستہ ضرور باقی رہتا ہے۔ توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہوتا ہے۔ معافی کی گنجائش رہتی ہے۔ لیکن ندیم… اس نے اپنے لیے وہ تمام راستے بند کر دیے تھے۔ کیونکہ جب کوئی انسان اپنے گناہوں کو، اپنے ظلم کو اور اپنی درندگی کو عبادت کا درجہ دینے لگے… جب وہ اپنی سفاکی کو خدا کی مرضی اور اپنی حماقت کو وحی سمجھنے لگے… تو پھر اس کی واپسی کے سبھی دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہو جاتے ہیں۔

ندیم اب اسی اندھے جال میں پھنس چکا تھا۔ یہ جال نہ تو لوہے کا تھا اور نہ ہی زنجیروں کا بلکہ یہ شیطان اور نفس کے فریب سے بُنا گیا جال تھا۔ ایک ایسا جال جس میں سے نکلنے کی کوئی سبیل باقی نہیں رہی تھی۔ اس کے لیے انسانی جان لینا اب درندگی نہیں رہا تھا، بلکہ ایک مقدس فرض بن گیا تھا۔ اور یہی وہ لمحہ تھا جب وہ انسان نہیں رہا بلکہ ایک ایسا درندہ بن گیا تھا جو اپنے ظلم کو نیکی اور اپنی سفاکی کو عبادت سمجھ کر انجام دیتا ہے۔

زافیر بھی ایک درندہ ہی تھا۔ ظلم، سفاکیت اور خون‌ ریزی میں اس نے بھی حدیں پار کر لی تھیں لیکن پھر بھی وہ ندیم کی طرح کبھی مکمل شیطان نہیں بن سکا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ تقدیر نے اسے زبردستی درندگی کی اس دلدل سے باہر کھینچ لیا۔ زندگی اور موت اپنی جگہ، لیکن کم از کم وہ آدم خوری اور وحشت کے راستے سے پلٹ آیا تھا۔ اگر اسے مزید چند سانسیں نصیب ہوتیں تو شاید وہ اپنے وجود کو ایک نئے روپ میں ڈھالتا۔ ایک ایسا انسان جو اندھیروں کے بجائے روشنی کی طرف سفر کرتا اور انسانیت کے اعلیٰ مرتبے کو چھو لیتا۔

ندیم اور زافیر میں ایک اور بڑا فرق بھی تھا۔
زافیر کے دل میں ایک کمزور رگ تھی… اس کی بیٹی، آبرو۔ وہ اس کے لیے سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہوگیا۔ اپنی سفاکی، اپنی درندگی، حتیٰ کہ اپنی وحشت بھی اس نے صرف ایک رشتے کے لیے پیچھے چھوڑ دی۔

مگر ندیم… ندیم کی کوئی کمزوری نہیں تھی۔ اس کے دل میں نہ کوئی نرم گوشہ تھا، نہ کوئی رشتہ جو اسے روک سکتا۔ زافیر سے عقیدت ضرور رکھتا تھا لیکن اس کی جو سوچ بن چکی تھی۔ اس کا بگڑا ہوا زاویۂ نظر… اب کسی کے قابو میں نہیں تھا۔ وہ ایک ایسا باؤلا درندہ تھا جو اپنے خون آلود ہاتھوں کو پاکیزگی کی علامت سمجھتا تھا۔ اس کی نگاہ میں وہ خود نیکوکار، منصف اور برگزیدہ انسان تھا جبکہ دنیا کے باقی سبھی لوگ بدکار، ظالم اور مجرم تھے۔

°°°°°°°°°°

سورج مغرب کی سمت جھک رہا تھا۔ ڈھلتی کرنیں شیشے کی بڑی کھڑکی سے چھن کر ہاسپٹل کے کمرے میں داخل ہو رہی تھیں اور ہلکی سنہری روشنی پورے ماحول کو ایک پر سکون سا لمس بخش رہی تھی۔ کمرے میں خاموشی تھی، بس مانیٹر کی ہلکی بیپ اور کبھی کبھار آہستہ چلتے پنکھے کی سرسراہٹ سنائی دیتی تھی۔

بینچ پر آبرو چپ چاپ بیٹھی تھی، اس کی آنکھوں میں دن کی تھکن کے ساتھ ساتھ ایک عجیب سی طمانیت بھی جھلک رہی تھی۔ حورا زافیر کے بستر کے پہلو میں کھڑی تھی، اس کے چہرے پر اطمینان اور شکر گزاری کا نور بکھرا ہوا تھا۔ قریب ہی ڈاکٹر رپورٹس کو بغور دیکھ رہا تھا، بار بار فائل کے اوراق پلٹتا اور پھر زافیر کی طرف نظر دوڑاتا۔

زافیر کی حالت اب پہلے سے کہیں بہتر تھی۔ آکسیجن اتار دیا گیا تھا، بلڈ پریشر نارمل حدوں میں آ چکا تھا اور بخار بھی نمایاں طور پر اتر گیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق اس کے اندرونی اعضا پہلے سے بہتر کارکردگی دکھا رہے تھے۔ ڈاکٹر کے ماتھے پر حیرت کی لکیریں ابھر آئیں۔

،اس نے گہری سانس لی اور دھیرے لہجے میں بولا
“یہ کسی معجزے سے کم نہیں… اتنی جلدی اس حالت سے سنبھل جانا تقریباً ناممکن تھا۔”

زافیر خاموش رہا۔ اس کے چہرے پر ایک ایسی سنجیدگی چھائی ہوئی تھی جیسے وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہو۔
،حورا نے اس کی طرف محبت بھری مسکراہٹ ڈالی پھر ڈاکٹر کی طرف متوجہ ہو کر خوشی سے بولی
“یہ سب ہماری بیٹی کا کمال ہے۔ اس نے صبح خدا کے حضور دعا کی، دودھ پر دم کیا اور زافیر کو پلایا۔ یہ سب اسی کی برکت ہے۔”

یہ سنتے ہی اس نے پیار سے آبرو کی طرف دیکھا۔ آبرو کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔ کمرے کی سنہری روشنی میں اس کے معصوم چہرے کی چمک اور بھی نمایاں ہوگئی۔ زافیر نے بھی اپنی بیٹی کو دیکھا، اس کی آنکھوں میں شکر گزاری اور بے پناہ محبت تیرنے لگی۔
،ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے فائل بند کی اور میز پر رکھ دی۔ پھر خوشگوار لہجے میں بولا
“تبھی تو کہتے ہیں… جہاں دوا بے اثر ہوجائے، وہاں دعا اپنا کمال دکھا دیتی ہے۔”

اس نے اپنی بات کے ساتھ ہی آبرو کی طرف دیکھا اور مزید مسکرا کر کہا،
“اور جب ایک بیٹی اپنے بابا کے لیے دل کی گہرائیوں سے دعا کرے، تو بھلا کیسے ممکن ہے کہ انہیں کچھ ہو جائے۔”

یہ سن کر آبرو کا چہرہ خوشی سے دمک اٹھا۔ اس کی آنکھوں میں امید کی روشنی اور لبوں پر ایک گہری مسکراہٹ بکھر گئی۔ زافیر بھی اپنی بیٹی کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ اس کی نگاہوں میں شکر گزاری اور بے پناہ محبت چھلک رہی تھی۔

یہ وہ لمحہ تھا جسے آبرو دل میں قید کر لینا چاہتی تھی۔ ایک ایسا حسین لمحہ، جب اس کے بابا موت کی دہلیز سے پلٹ آئے تھے۔ کمرے کی ہلکی روشنی میں اس لمحے کی حرارت اور خوشبو کچھ ایسی تھی جیسے قدرت نے ایک بار پھر ان سب کو اکٹھے زندگی کے خوشگوار لمحات گزارنے کا موقع دے دیا ہو۔

°°°°°°°°°°


درخت کی ایک جانب موٹی شاخ کے ساتھ دو بدن لٹک رہے تھے۔ پہلا قیدی الٹا لٹکا ہوا تھا جبکہ دوسرا قیدی اپنی پہچان کھو چکا تھا… اس کی کھال نوچ لی گئی تھی، بازو اور ٹانگیں غائب تھیں، صرف ایک مسخ شدہ دھڑ باقی تھا جو پیروں کے بل جھول رہا تھا۔ دوسری جانب رینا اور زمار تھے، ان کی بندھی کلائیوں سے رسی گزار کر موٹی شاخ سے باندھا گیا تھا۔ وہ یوں لٹک رہے تھے کہ ان کے پاؤں زمین سے دو فٹ بلند تھے۔

،زمار ہوش میں تھا مگر رینا اب تک بے ہوشی کے غلاف میں ڈوبی ہوئی تھی۔ وہ بار بار کانپتی آواز میں اسے پکار رہا تھا
“!رینا… رینا آنکھیں کھولو… رینا”

رینا کی پلکیں بند تھیں مگر آوازیں اس کے شعور کے پردوں پر دستک دینے لگی تھیں۔ دماغ بوجھل تھا، جیسے زمین و آسمان کے درمیان کسی خلا میں قید ہو۔ دھیرے دھیرے حواس لوٹنے لگے۔ اس نے بھاری پلکیں کھولیں تو سب سے پہلا منظر جو نظر آیا وہ حسینہ تھی، جس کے لبوں پر ایک گہری، پراسرار مسکان کھیل رہی تھی۔

اس کے سامنے آگ کا ایک بڑا الاؤ دہک رہا تھا۔ شعلے بجھ چکے تھے اور ان پر رکھی لوہے کی سیاہ جالی انگاروں کی تپش سے سرخ ہورہی تھی۔ جالی پر انسانی بازو اور ٹانگیں رکھی تھیں جو آہستہ آہستہ گل رہے تھے۔ گوشت کی بھینی مگر دل دہلا دینے والی مہک فضا میں پھیل رہی تھی۔ رینا کی آنکھوں نے جالی پر گلتا انسانی گوشت دیکھا تو اس کی بھوک چمک اٹھی۔
لیکن اگلے ہی پل اس کے دماغ میں پلک جھپکتے ہی پوری لڑائی کا منظر تازہ ہوگیا۔ وہ سہم گئی، تیزی سے ہاتھ پاؤں جھٹکے مگر وہ ایک مضبوط شاخ کے ساتھ بندھی ہوئی تھی۔ اوپر دیکھا تو رسی اس کی کلائیوں کو کاٹ رہی تھی۔ بائیں جانب نظر دوڑائی تو وہاں زمار بھی اسی حالت میں تھا۔ مگر وہ پرسکون انداز میں لٹکا ہوا تھا، گویا کئی بار کوشش کرکے ہار مان چکا ہو اور اب خاموشی قبول کرلی ہو۔

،اچانک حسینہ کی نرم مگر سفاک آواز گونجی
“کھانا کھاؤ گے… یا پھر ایک بار پھر مار کھانے کا ارادہ ہے؟”
وہ لبوں پر مسکراہٹ سجائے، خنجر گھماتی ہوئی ان کے قریب آتی گئی۔

،رینا کے لبوں سے گھبراہٹ میں نکلا
“تم آخر چاہتی کیا ہو؟”

حسینہ چند قدم اور قریب آئی، رینا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مدھم مگر کاٹ دار لہجے میں بولی،
“میں نے کب کہا کہ میں کچھ چاہتی ہوں؟ بدمعاشی تو تم دونوں نے کی تھی… میں تو بس تمہیں روک رہی تھی۔”

،رینا کچھ لمحے خاموش رہی، پھر اس کی آواز نرم ہوئی
“اگر تم ہمیں جانے دو… تو ہم وعدہ کرتے ہیں کہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے۔”

یہ سنتے ہی حسینہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑی۔ اس کی ہنسی میں ایک عجیب وحشت اور غرور تھا۔
،نقصان؟” وہ ہنستے ہنستے جھک گئی، پھر سیدھی ہوکر طنزیہ لہجے میں بولی”
ہاہاہا… نقصان تو مجھے ہو ہی نہیں سکتا۔ تم لوگ میرے لیے کیا ہو؟ کیڑے مکوڑے… مجھے ذرا پرواہ نہیں۔”

“بلکہ… میں تو چاہتی ہوں کہ تم دونوں میرے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاؤ۔

یہ کہتے ہی اس نے خنجر کو بلند کیا اور زمار کے ہاتھوں کی رسی کاٹ دی۔ زمار دھڑام سے نیچے گرا مگر زمین سے صرف دو فٹ اونچا تھا، اس لیے سیدھا پیروں پر کھڑا ہوگیا۔ اگلے ہی لمحے حسینہ نے رینا کی رسی بھی کاٹ ڈالی۔ دونوں کلائیاں رگڑتے ہوئے آزاد ہوئے اور حسینہ کو گہری، شکی نظروں سے دیکھنے لگے۔

حسینہ خاموشی سے پلٹی اور آگ کے الاؤ کے قریب پہنچ کر بیٹھ گئی۔ خنجر کی نوک سے آگ پر رکھی ہوئی انسانی ٹانگ کو الٹنے لگی۔ اس کے انداز میں ایک عجیب سکون اور برتری جھلک رہی تھی۔ رینا اور زمار آہستہ آہستہ اس کے قریب آ بیٹھے۔

،رینا نے کچھ دیر تک جالی پر پڑے گوشت کو للچائی نظروں سے دیکھا پھر نظریں اٹھا کر حسینہ پر گاڑ دیں اور دھیمی آواز میں پوچھا
“تم آخر ہو کون؟ اور یہاں کب سے ہو؟”

حسینہ نے نگاہیں اٹھائے بغیر، خنجر سے گوشت پلٹتے ہوئے لبوں پر مسکراہٹ سجا لی۔
“بہت لمبی کہانی ہے… تمہارے جنم سے بھی پرانی۔”

،زمار نے اس کے الفاظ پر طنزیہ ہنسی چھوڑی اور تیز لہجے میں بولا،
“ہماری زندگی سے زیادہ پرانی؟ ہم سات سو سال سے اس دنیا میں ہیں۔”

اس بار حسینہ نے آہستگی سے رخ موڑا۔ اس کی آنکھوں میں ایک انوکھی روشنی چمکی اور چہرے پر اعتماد بھری مسکان ابھر آئی۔
“کہا نا… یہ کہانی تمہارے وجود سے بھی پرانی ہے۔ البتہ تم چاہو تو… مجھے پیار سے ملکہ کہہ سکتے ہو۔”

یہ کہہ کر وہ پلک جھپکائے بغیر انہیں دیکھتی رہی۔ اس کی آنکھوں میں ایسی پراسرار چمک تھی جیسے وہ ان کی روحوں کو بھید رہی ہو۔

زمار اور رینا ایک لمحے کے لیے ساکت رہ گئے۔ دونوں نے حیرانی سے ایک دوسرے کا چہرہ دیکھا۔
سات سو سال کے عرصے میں انہوں نے بے شمار وحشتوں اور خوفناک ہستیوں کا سامنا کیا تھا مگر اس عورت کا دعویٰ کچھ اور ہی تھا۔ اگر وہ واقعی ان سے بھی پرانی تھی… تو آخر یہ کون سی ملکہ تھی جو صدیوں سے ان کی آنکھوں سے اوجھل رہ کر اب اچانک ان کے سامنے آ کھڑی ہوئی تھی؟

یہ سوال دونوں کے ذہنوں میں جلتی ہوئی آگ کی مانند لپک رہا تھا… اور اس کا کوئی جواب ان کے پاس نہیں تھا۔

°°°°°°°°°°

شام کے سائے کمرے پر اور بھی گہرے ہو چکے تھے۔ زافیر کو مزید ذہنی سکون کے لیے نیند کی دوا دی گئی تھی اور اب وہ کچھ ہی دیر میں جاگنے والا تھا۔ کمرے میں خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ صرف ایئرکنڈیشن کی ہلکی سی سرسراہٹ اور دل کی مانیٹر پر ابھرتی دھڑکنوں کی ٹک ٹک سنائی دے رہی تھی۔

حورا کینٹین کی طرف جا چکی تھی تاکہ کچھ کھانا لا سکے۔ اس کے جاتے ہی آبرو کے چہرے پر اضطراب صاف جھلکنے لگا۔ ماتھے پر پسینے کے قطرے موتیوں کی مانند چمک رہے تھے۔ وہ دھیرے دھیرے اٹھی، میز کی طرف بڑھی اور دراز کھول کر اس میں سے ایک پٹی اور ایک سرنج نکال لی۔ اس کے ہاتھ ہلکے سے لرز رہے تھے۔

اس نے ایک لمحے کے لیے گہری سانس لی اور پھر قدموں کی چاپ دبائے واش روم کی طرف بڑھی۔ اندر داخل ہوتے ہی دروازے کو کنڈی لگا دی۔ روشنی قدرے مدھم تھی۔ آبرو نے سرنج کو دانتوں میں دبایا اور اپنے بازو پر پٹی کس کر باندھی۔ دوسرے ہاتھ سے وہ اپنے بازو کو رگڑتی رہی تاکہ رگیں نمایاں ہو سکیں۔

کافی کوشش کے بعد ایک باریک نیلی رگ ابھری۔ اس نے تیزی سے سوئی کا خول دانتوں سے کھینچ کر ہٹایا اور رگ پر سوئی جما دی۔ ایک ہلکی سی کراہ کے ساتھ سوئی رگ میں اتر گئی۔ لمحے بھر بعد سرنج میں سرخ خون جمع ہونے لگا، جیسے زندگی خود اس شیشے میں قید کی جا رہی ہو۔

جب سرنج آدھے سے زیادہ خون سے بھر گئی تو آبرو نے ہاتھ کی لرزش کے ساتھ سوئی نکال لی۔ دوسرے ہاتھ سے سوئی کا خول دوبارہ چڑھایا اور پٹی ڈھیلی کرتے ہوئے بازو سے ہٹا دی۔ پھر سرنج کو اپنی آستین میں چھپا لیا۔ اس کی سانسیں تیز تھیں اور آنکھوں میں ایک عجیب سا خوف اور فیصلہ جھلک رہا تھا۔

واش روم کی کنڈی کھول کر وہ باہر نکلی۔ قدموں کی چاپ اتنی دبی ہوئی تھی جیسے کوئی چور اندھیرے میں چھپ کر چل رہا ہو۔ اس کے ہر قدم کے ساتھ اس کے چہرے پر گھبراہٹ کی پرچھائیاں لرز رہی تھیں۔ آنکھوں میں خوف صاف جھلک رہا تھا… جیسے ابھی کوئی اسے پکڑ لے گا۔

اس نے پٹی واپس دراز میں رکھی اور دبے قدموں دوسرے میز کی طرف بڑھی۔ وہاں سے بوتل اٹھا کر دودھ ایک گلاس میں انڈیلا۔ پھر ایک پل کو رکی، پیچھے مڑ کر چوری چوری اپنے بابا پر ایک نظر ڈالی۔ نگاہوں میں محبت بھی تھی اور ایک انجانا خوف بھی۔ اگلے لمحے اس نے آستین سے سرنج نکالی اور دودھ میں خون انجیکٹ کر دیا۔ سفید شفاف دودھ سرخی مائل ہوتے ہی عجیب سا منظر پیش کرنے لگا۔

اس نے جلدی سے سرنج ڈسٹ بن میں پھینک دی اور جامِ شیریں کی بوتل اٹھا کر گلاس میں انڈیلی۔ چمچ سے دودھ ہلانے لگی تو اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ دل اتنی تیزی سے دھڑک رہا تھا جیسے پسلیاں توڑ کر باہر نکل آئے گا۔ وہ زیرِ لب مسلسل دعا مانگ رہی تھی:

“یا خدا… مجھے معاف کر دے۔ میں مجبور ہوں، میں اپنے بابا کو مرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی۔ تیرا ہی فرمان ہے نا کہ جب زندگی اور موت کا معاملہ ہو تو مصلحتاً حرام بھی حلال ہو جاتا ہے۔ مجھے معلوم ہے جو کر رہی ہوں غلط ہے مگر اس کے سوا میرے پاس کوئی اور راستہ نہیں۔ میرے اللہ… مجھے معاف کر دے۔”

وہ لب ہلا رہی تھی، دعائیں دہرا رہی تھی اور اسی دوران اس کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔ دو آنسو کناروں سے پھسلے، رخساروں سے گزرتے ہوئے ٹھوڑی پر ٹھہرے اور پھر بوند بوند ٹپک کر دودھ کے گلاس میں گِر گئے۔ وہ گلاس… جس میں خون کی مہک دبانے کو جامِ شیریں ڈالی گئی تھی۔ اب اس میں صرف خون اور شربت ہی نہیں بلکہ وہ آنسو بھی شامل ہو گئے تھے… وہ انمول آنسو جو باپ کی محبت میں بہے تھے اور اس کی زندگی بچانے کی نیت سے اس مشروب کا حصہ بن چکے تھے۔

°°°°°°°°°°

…جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *