ناول درندہ
قسط نمبر 36
باب چہارم: بدلاؤ
مصنف: زیاد اصغر زارون
°°°°°°°°°°
باہر مکمل اندھیرا چھا چکا تھا اور ہسپتال کے کمرے میں چھت پر لگی سیلنگ لائٹس کمرے کو سفید روشنی سے سے بھر رہی تھیں۔
زافیر نیند سے جاگ رہا تھا، پلکیں لرزیں اور اس کی آنکھ آہستہ سے کھل گئی۔ اس نے سر ذرا سا موڑا تو سامنے بینچ پر حورا اور آبرو بیٹھی کھانا کھا رہی تھیں۔ کمرے کی مدھم روشنی میں ان کے سامنے رکھی پلیٹ میں مصور کی دال اور دو تین روٹیاں تھیں۔ دونوں ایسے بے نیاز تھیں جیسے لمحہ بھر کو دنیا کی کوئی فکر نہ ہو۔ زافیر کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی، اس نے گہری اپنائیت سے چند لمحے اپنی بیوی اور بیٹی کو دیکھا،
،پھر نرم لہجے میں آہستہ سے پوچھا
“کیا آنٹی مومنہ چلی گئیں؟”
دونوں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ وہ فوراً اٹھنے لگیں لیکن زافیر نے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا۔
“نہیں… آرام سے کھانا کھاؤ، میں بالکل ٹھیک ہوں۔”
،حورا نے نرمی سے جواب دیا
“جی… میں نے انہیں کل شام ہی بھیج دیا تھا۔ گھر بالکل خالی پڑا تھا، تو سوچا کوئی تو وہاں ہونا چاہیے۔”
زافیر خاموش ہوگیا۔ اس کی نظریں چھت پر ٹک گئیں جیسے وہ کسی سوچ میں ڈوبا ہو۔
،چند لمحے بعد اس نے آبرو کو مخاطب کیا
“بیٹا… وہ جو صبح تم نے مجھے دودھ والا شربت دیا تھا، کیا وہ ختم ہوگیا؟”
یہ سنتے ہی آبرو نے فوراً گھبراہٹ میں ایک گھونٹ پانی پیا اور پھر جلدی سے بینچ سے اٹھ کر قریب رکھی میز کی طرف بڑھ گئی۔
،زافیر نے بے چینی سے کہا
“!…اوہ ہو… کھانا تو کھا لو”
،آبرو نے پیچھے مڑ کر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا
“نہیں بابا، میں کھا چکی ہوں۔”
اس نے میز پر رکھا گلاس اٹھایا، پلیٹ کو ایک طرف سرکایا اور پھر گلاس آہستگی سے اپنے بابا کے ہاتھ میں تھما دیا۔
،حورا نے بینچ سے اٹھتے ہوئے آگے بڑھ کر زافیر کو سہارا دینا چاہا مگر اس نے نرمی سے ہاتھ روک دیا اور مسکرا کر بولا
“نہیں… میں خود ہی اٹھ جاؤں گا۔ اب اچھا لگ رہا ہے۔”
وہ آہستہ آہستہ سیدھا ہوا اور بیڈ کے سرہانے سے ٹیک لگا لی۔ آبرو نے گلاس آگے بڑھایا تو اس نے شکر گزار نگاہوں سے بیٹی کی طرف دیکھا اور گلاس تھام کر گھونٹ گھونٹ پینے لگا۔ ہر گھونٹ کے ساتھ یوں لگ رہا تھا جیسے ٹوٹی ہوئی جان پھر سے بدن میں بہنے لگی ہو، جیسے رگوں میں نئی توانائی اتر رہی ہو۔
زافیر کو اندازہ بھی نہیں تھا کہ اس دودھ کو صرف جامِ شیریں نے نہیں، بلکہ آبرو کے اپنے لہو نے بھی سرخی بخشی ہے۔ اگر وہ حقیقت جان لیتا تو شاید موت قبول کر لیتا مگر کبھی بھی اپنی بیٹی کے خون کو ہاتھ نہ لگاتا۔
،چند گھونٹ پی کر اس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا
“یہ بہت میٹھا ہے… اور بے حد مزیدار بھی۔ آخر یہ ریسپی ہے کس کی؟”
،آبرو کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا۔ اس کی آنکھوں میں چمک آگئی اور لبوں پر مسکراہٹ گہری ہوگئی۔ وہ چہکتے ہوئے بولی
بابا، یہ خالص بکری کا دودھ ہے… اس میں کئی بیماریوں کی شفا ہے۔”
” …میں نے اس میں جامِ شیریں ملائی، پھر آپ کی صحت کے لیے دعا کی، پھونک ماری اور
یہاں اس نے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی۔ مسکراہٹ میں معصومیت اور شرارت مزید بڑھ گئی۔
،زافیر نے مسکراتے ہوئے اگلا گھونٹ لیا اور تجسس سے پوچھا
“اور کیا؟”
،آبرو نے بازو پھیلا کر شوخی سے کہا
“!…اور آبرو کا اپنے بابا کے لیے… ڈھیر سارا پیار بھی ڈالا ہے”
یہ سن کر حورا اور زافیر دونوں کے ہونٹوں پر ایک روشن مسکراہٹ پھیل گئی۔ کمرے کی فضا جیسے لمحہ بھر کو بوجھل غموں سے آزاد ہوگئی۔ یہی تو بیٹیاں ہوتی ہیں… اپنی معصوم باتوں اور شرارتوں سے باپ کے دل کے زخموں پر مرہم رکھ دیتی ہیں۔ اس پل زافیر کے دل میں صرف ایک ہی تمنا تھی کہ اس کی بیٹی ہمیشہ یوں ہی ہنستی مسکراتی، اس کی زندگی کو روشنی دیتی رہے۔
°°°°°°°°°°
سوکھے اور بے جان درخت کی بھاری شاخ سے ایک انسان الٹا جھول رہا تھا۔ اس کا چہرہ خوف اور دہشت سے سفید پڑا ہوا تھا۔ آنکھیں سہمی ہوئی اور سانسیں بے ربط چل رہی تھیں۔ اس کے سامنے تینوں آدم خور زمین پر نیم دائرہ بنائے بیٹھے تھے۔ ان کے گردونواح میں جلتے ہوئے گوشت کی مہک اور خون کی بُو پھیلی ہوئی تھی۔
ملکہ، جس کی آنکھوں میں سفاکی اور لبوں پر شیطانی مسکراہٹ تھی۔ خنجر کی دھار سے انسانی ٹانگ سے گوشت کا ٹکڑا الگ کرتی۔ پہلے وہ ٹکڑا رینا کے ہاتھ میں دیتی، پھر دوسرا زمار کو اور آخر میں اپنے لیے کاٹ کر وحشت سے چبانے لگتی۔ تینوں دیر سے یونہی خاموش، اپنی بھوک مٹانے میں مصروف تھے۔ صرف گوشت چبانے کی آواز ہی خاموشی کو چیر رہی تھی۔
…اچانک فضا میں ہلکی سی سرسراہٹ اٹھی، جیسے کوئی سایہ سانس لے رہا ہو۔ پھر غیر مرئی سرگوشی ابھری
“میری پیاری ملکہ…! میں نے حقیقی دنیا کے دروازے سے ایک لڑکی کو داخل ہوتے دیکھا ہے۔ کیا آپ اس کا شکار کرنا چاہیں گی؟”
یہ سرگوشی صرف ایک کے کانوں تک نہیں پہنچی تھی بلکہ تینوں کے دلوں میں ایک ساتھ اتر گئی۔ رینا اور زمار کے چہروں پر دہشت اور حیرت کی لکیریں دوڑ گئیں۔ انہوں نے لرزتے ہوئے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ وہ دو سائے جو انہیں راستہ دکھا رہے تھے درحقیقت وہ ملکہ کے ہی وفادار تھے۔
،ملکہ نے فوراً ہی ان کی گھبراہٹ بھانپ لی۔ اس کے لبوں پر سفاک مسکراہٹ گہری ہوگئی۔ وہ مدھم آواز میں بولی
“پریشان مت ہو… یہ دونوں میرے ہی وفادار ہیں۔ میرے حکم پر ہی تمہارے گائیڈ بنے تھے۔”
یہ کہتے ہی اس نے خنجر کی نوک سے مزید گوشت کا ایک ایک ٹکڑا کاٹ کر رینا اور زمار کی طرف بڑھا دیا۔
،پھر اپنے لیے ایک لوتھڑا الگ کرتے ہوئے گوشت کا ذائقہ چکھا اور غیر مرئی وجود کو مخاطب کرتے ہوئے بولی
“نہیں، میری جان… ابھی نہیں۔ ابھی اسے گھوم پھر لینے دو۔”
اس کے الفاظ کے ساتھ ہی فضا ایک دم ساکت ہوگئی۔ خاموشی ایسی تھی کہ جیسے درختوں کی شاخیں بھی دم سادھ کر اس ملکہ کے اگلے الفاظ کی منتظر ہوں۔
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد ملکہ نے اچانک زمار کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سی چمک اور تمنا جھلک رہی تھی۔
،ملکہ کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔ وہ نیم طنزیہ انداز میں بولی
“…تمہاری آنکھوں میں یہ جو محبت نامی فضول جذبہ جھلک رہا ہے نا… بظاہر یہ بہت حسین دکھائی دیتا ہے، مگر”
،یہ کہتے ہی اس کی مسکراہٹ ایک دم غائب ہوگئی اور چہرہ سنگین سنجیدگی میں ڈھل گیا۔ اس کی آواز اب مزید گہری اور سرد تھی
“جب میری حقیقت جان جاؤ گے… تو یہ جذبات محبت کے نہیں رہیں گے۔ یہ خوف، دہشت… اور موت کی آرزو میں بدل جائیں گے۔”
زمار کا دل ایک جھٹکے سے کانپ گیا۔ وہ نظریں چرا کر جلتی آگ پر رکھے انسانی بازو کو گھورنے لگا، جیسے اپنے خوف کو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہا ہو۔
،اسی لمحے رینا نے ملکہ کو گہری اور پرکھتی ہوئی نظروں سے دیکھا اور تعجب سے بولی
“ہم نے آپ کے بارے میں کبھی کچھ نہیں سنا… حتیٰ کہ دادی نے بھی کبھی ذکر نہیں کیا۔”
یہ سنتے ہی ملکہ کے لبوں پر ایک بھیانک قہقہہ ابھرا۔ اس کا قہقہہ فضا میں گونجتے ہوئے یوں پھیلا جیسے درختوں کی سوکھی شاخیں بھی لرز گئی ہوں۔
!…ہاہاہاہا… تمہاری دادی؟ وہ تو ایک سنکی اور پاگل بوڑھیا تھی۔ بھروسے کی اندھی پُجاری “
“اُس نے اپنی عقل پر نہیں، اپنے خاندان پر اعتماد کیا اور اسی اندھے بھروسے نے اسے موت کے اندھیرے کنویں میں دھکیل دیا۔
،رینا کا چہرہ ایک پل کو غصے سے لال ہو گیا۔ آنکھوں میں چنگاریاں سی لپکنے لگیں۔ مگر اس نے ضبط کیا اور سخت لہجے میں پوچھا
“کیا آپ ہماری دادی کو جانتی تھیں؟”
،ملکہ کے لبوں پر پھر وہی پُراسرار مسکراہٹ لوٹ آئی۔ وہ آہستہ، تقریباً سرگوشی جیسی آواز میں بولی
کیا صرف تمہاری دادی کو…؟ میں تو تمہارے پورے خاندان کو جانتی ہوں۔”
” ان سب کو… اور یہ بھی جانتی ہوں کہ تم شاہِ سموم کی تلاش میں کیوں بھٹک رہی ہو۔
رینا کے دل میں اس کی ہر ادا چبھنے لگی۔ یہ عورت ہر سوال، ہر بات کے بعد جب مسکراتی تھی تو رینا کا جی چاہتا تھا کہ اسی لمحے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے اس کی مسکراہٹ ہمیشہ کے لیے ختم کر دے۔
،رینا نے کن اکھیوں سے اسے گھورا اور طنزیہ لہجے میں پوچھا
“تو کیا آپ ہمیں روکنے کے لیے یہاں آئی ہیں؟”
،وہ زور سے کھلکھلا کر ہنسی، پھر نرم مگر پُراسرار انداز میں بولی
“ارے نہیں… ہرگز نہیں۔ میں خود ہی تو تمہیں صحیح راستے کی طرف لائی ہوں۔”
،یہ کہتے ہوئے اس نے ہاتھ اٹھا کر سامنے دکھائی دینے والے پہاڑ کی طرف اشارہ کیا
“…اس پہاڑ کی دوسری طرف تمہاری منزل ہے۔ مگر یاد رکھو”
وہ اچانک رکی، نظریں گہری کر کے رینا کو دیکھنے لگی۔ پھر یکدم اس کا چہرہ سخت ہوگیا اور آنکھوں میں خون اترا سا لگنے لگا۔ اس کی نظریں زمار پر جم گئیں، جو اب بھی اسے للچائی نگاہوں سے گھور رہا تھا۔
،ملکہ غصے سے دہاڑی
“!…اگر دوبارہ یوں مجھے گھورا… تو تمہاری آنکھیں نوچ کر نکال لوں گی”
زمار کی روح کانپ اُٹھی۔ اس نے فوراً سر جھکا لیا اور پسینے میں بھیگ گیا۔
،رینا نے اس پر تیز نگاہ ڈالی اور غصے سے بھڑکتے ہوئے بولی
“آخر تم اپنی گھٹیا حرکتوں سے باز کیوں نہیں آتے؟”
زمار کے لب سلے رہے۔ اس نے کوئی جواب نہیں دیا، بس شرمندگی اور خوف سے سر جھکائے رکھا۔ رینا نے چند لمحے اس کے جھکے سر کو گھور کر دیکھا پھر بیزاری سے منہ موڑ کر دوبارہ ملکہ کی طرف متوجہ ہوگئی۔
“کیا کہہ رہی تھیں آپ؟”
،ملکہ کی آنکھوں کی چمک دھیمی پڑ گئی۔ وہ دوبارہ پُراسرار سنجیدگی کے عالم میں بولی
“پہاڑ کے اُس پار ایک ایسی کھڑی چٹان ہے جو آسمان سے باتیں کرتی ہے۔ وہ چٹان جنوب کی طرف سینکڑوں کلو میٹر تک پھیلی ہوئی ہے، گویا ایک قدرتی دیوار کی مانند۔ مگر شمال کی سمت جہاں یہ چٹان ختم ہوتی ہے… وہاں سے اندھیر نگری کا آغاز ہوتا ہے۔ اندھیر نگری… جو لامتناہی گہرائیوں اور سیاہ وحشتوں سے بھری ہے۔”
،اس نے ایک لمحے کو اپنی نظریں آسمان کی طرف اٹھائیں اور پھر آہستگی سے گویا ہوئی
“اسی اندھیر نگری اور چٹان کے درمیان وہ پگڈنڈی نما تنگ راستہ ہے… جو تمہیں شاہِ سموم کے قید خانے تک لے جائے گا۔”
،رینا نے الجھے ہوئے انداز میں سوال کیا
“کیا آپ وہاں جا چکی ہیں؟”
،ملکہ کی مسکراہٹ ذرا گہری ہوگئی۔ وہ نرمی سے بولی
“نہیں… مگر میں جانتی ہوں کہ وہاں تک پہنچنے کا صرف یہی ایک راستہ ہے۔”
یہ سن کر رینا کے دل میں وسوسے سر اٹھانے لگے۔ وہ دو راہے پر کھڑی تھی۔ کیا اس اجنبی عورت کی باتوں پر بھروسہ کرے یا یہ محض ایک فریب ہے؟ شاید یہ سب ایک مکاری ہو۔
،ملکہ نے اس کے چہرے پر ابھرتے شک کو بھانپ لیا۔ اس کی آنکھوں میں پراسرار روشنی جھلکی اور وہ مدھم ہنسی کے ساتھ بولی
“تم صرف وہی جانتی ہو جو تمہیں بتایا گیا ہے۔ مگر میں… میں وہ بھی جانتی ہوں جو سب سے چھپایا گیا ہے۔”
یہ کہتے ہوئے اس کا لہجہ یکدم بدل گیا۔ چہرے کی مسکراہٹ تحلیل ہوئی اور اس پر گہری سنجیدگی چھا گئی۔
،وہ مدھم مگر بھاری آواز میں گویا ہوئی
چٹان اور اندھیر نگری کے بیچ ایک نہایت باریک راستہ ہے۔”
اتنا تنگ کہ چلنے والا بس اپنی کمر اور ایڑھیاں چٹان سے جوڑے ہی آگے بڑھ سکتا ہے۔
اگر تمہارا ایک قدم بھی ڈگمگا گیا… اگر جسم کا ایک حصہ بھی اندھیرے میں داخل ہوگیا… تو ملکہ دارونتھا تمہیں اپنی گرفت میں کھینچ لے گی۔
اور اگر ایک بار تم اندھیر نگری میں گِر گئے تو وہ نہ تمہیں مرنے دے گی، نہ جینے دے گی۔
“تم دائمی اذیت کے اندھیرے میں یونہی تڑپتے رہو گے… جب تک زمین خود پھٹ نہ جائے اور اس کے ساتھ تمہارا وجود بھی ریزہ ریزہ نہ ہوجائے۔
،اس بیان کی دہشت رینا کے وجود پر لرزہ طاری کر گئی۔ وہ سنبھلنے کی کوشش کرتے ہوئے بولی
“کیا آپ ہمارے ساتھ چلیں گی؟”
ملکہ کے ہونٹوں پر پھر وہی پراسرار ازلی مسکراہٹ لوٹ آئی۔
“نہیں… مگر میں تمہاری واپسی اور کامیابی کی راہ ضرور دیکھوں گی۔”
،رینا نے گہری سانس لی، پھر چند لمحے خاموش رہ کر آہستگی سے کہا
“لیکن… ایک بات میری سمجھ سے باہر ہے۔”
،ملکہ نے بھنویں چڑھا کر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔ رینا نے ذرا جھجکتے ہوئے پوچھا
“آپ ہماری مدد کیوں کر رہی ہیں؟ کیا آپ بھی کسی سے انتقام لینا چاہتی ہیں؟”
،ملکہ کے چہرے پر اچانک ایک خوفناک قہقہہ بکھر گیا۔ اس کی ہنسی وادی میں گونجنے لگی۔ وہ زہر خند مسکراہٹ کے ساتھ بولی
“انتقام…؟ انتقام تو کمزور لیتے ہیں۔ تم ابھی کچھ نہیں جانتی۔ تم کبھی نہیں سمجھ پاؤ گی کہ میں کیا چاہتی ہوں۔”
رینا کے پاس اب مزید کوئی سوال باقی نہیں رہا۔ اس نے خاموشی اوڑھ لی۔ اس کا دل صرف ایک ہی خواہش میں الجھا تھا کہ اس کی بھوک مٹ جائے اور وہ کسی طرح یہاں سے نکل جائے۔ پھر ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر اپنی اصل منزل کی طرف روانہ ہو جائے۔
°°°°°°°°°°
نیا دن ڈھل چکا تھا اور شام کی تاریکی آہستہ آہستہ جنگل پر چھا رہی تھی۔ ندیم کنوئیں کے اوپر بنی کوٹھڑی سے نکلا، دروازے کو تالا لگایا اور ہلکی چال میں جنگل کی طرف بڑھ گیا۔ آج اس کے دل میں شکار کا کوئی ارادہ نہیں تھا، بس تنہائی اور سکون کی تلاش میں نکل آیا تھا۔
وہ یونہی خیالوں میں گم چلتا جا رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر ایک اٹھارہ سالہ لڑکے پر پڑی۔ دبلا پتلا سا طالب علم تھا، کمر پر کتابوں کا بیگ لٹکائے ہوئے، ایک ہاتھ میں بند کتاب اور دوسرے ہاتھ میں باریک سی چھڑی تھامے ہوئے۔ اس کے آگے بکریوں کا ریوڑ تھا جسے وہ ہلکی پھٹکار اور چھڑی کے اشارے سے قابو میں رکھے چل رہا تھا۔
ندیم چند لمحوں کے لیے ٹھٹک گیا۔ وہ درخت کے تنے سے کمر ٹکا کر لڑکے کو غور سے دیکھنے لگا۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک اُتر آئی تھی۔ لڑکے کی معصوم ہمت، محنت اور علم کی جستجو نے اس کے دل کو چھو لیا تھا۔ یوں محسوس ہوا جیسے وہ اپنے بچپن کو دیکھ رہا ہو… وہی بچپن جس میں باپ کی موت کے بعد اس نے بھی شدید محنت کر کے اپنی تعلیم مکمل کی تھی۔
لڑکا یونہی آگے بڑھ رہا تھا اور جب بھی تھوڑی دور نکل جاتا تو ندیم دبے قدموں اس کے پیچھے آ جاتا۔ وہ تعاقب کرنے کے لیے اس کے پیچھے نہیں تھا۔ بس وہ اس دلکش منظر کو کھونا نہیں چاہتا تھا۔ اس کا دل ہلکا ہو رہا تھا۔ جنگل کی ہوا، ڈھلتی شام کا سکوت اور ایک محنتی لڑکے کی جھلک… یہ سب مل کر ندیم کے دل میں ایک ایسا سکون اتار رہے تھے جس کی اسے مدتوں سے کمی محسوس ہو رہی تھی۔
لڑکا جیسے ہی جنگل کے کنارے پہنچا تو سامنے ہری بھری گندم کا کھیت آ گیا۔ کھیت دیکھتے ہی بکریوں کا سارا ریوڑ قابو سے باہر ہو گیا اور لپک کر کھیت کی طرف دوڑ پڑا۔ لڑکا گھبرا کر فوراً ان کے پیچھے بھاگا اور چھڑی لہرا کر ایک ایک بکری پر برسانے لگا۔ جو بھی اس کے قریب آتی، وہ پوری شدت سے اسے چھڑی مار کر باہر دھکیلنے کی کوشش کرتا اور ساتھ ہی تلخ گالیاں دیتا جا رہا تھا۔
ندیم کے چہرے پر چند لمحے پہلے جو سکون اور خوشی تھی، وہ پل بھر میں غائب ہو گئی۔ اس کے چہرے کے خد و خال بدل گئے، آنکھوں میں غصے کی بجلیاں بھر گئیں۔
،وہ تیز قدموں سے لڑکے کی طرف لپکا اور دھاڑتے ہوئے بولا
“انہیں کیوں مار رہے ہو؟”
،لڑکے کا ہاتھ ہوا میں رکا۔ اس نے غصیلی نگاہ ندیم پر ڈالی، پھر دانت بھینچ کر قریب کی بکری کو چھڑی مارتے ہوئے بولا
“کیا تمہیں نظر نہیں آ رہا کہ یہ کسی غریب کی فصل برباد کر رہی ہیں؟”
،ندیم کی آواز سخت اور تیز ہو گئی
“!…تو پھر کیا ہوا؟ انہیں مت مارو… یہ بے زبان جانور ہیں”
اس کے لہجے کی سختی لڑکے کو شدید ناگوار گزری۔ اس کی آنکھوں میں چبھن سی اتر گئی۔
،وہ دانت پیستے ہوئے ایک اور بکری کے کان پر چھڑی مار کر جھنجھلائے لہجے میں بولا
“چل جا یار… دماغ خراب مت کر۔”
اتنا کہہ کر اس نے آخری بکری کو بھی کھیت سے باہر ہانک دیا۔ کھیت کا سکون بحال ہو گیا لیکن ندیم کے دل میں طوفان برپا ہو چکا تھا۔
تم جیسے غلیظ انسانوں کے لیے ہی مجھے بھیجا گیا ہے…!” ندیم غصے سے دہاڑا اور بجلی کی سی تیزی سے لڑکے کی طرف لپکا۔”
،لڑکا ایک دم تن گیا، چھڑی مضبوطی سے تھامتے ہوئے خبردار کیا
“!…میرے قریب مت آنا… ورنہ ان بکریوں کی طرح تمہاری بھی کھال ادھیڑ دوں گا”
لیکن ندیم اس کی دھمکی کو روندتا ہوا لمحوں میں اس کے سامنے پہنچ چکا تھا۔ لڑکے کے حواس گم ہوگئے۔ اس نے گھبرا کر چھڑی پوری قوت سے ندیم کے بازو پر دے ماری مگر ندیم کے لیے وہ وار گویا کسی تنکے سے ہوا کو چیرنے جیسا تھا۔ اس نے آگے بڑھتے ہی لڑکے کی گردن دبوچ لی۔
لڑکا چھٹکارا پانے کے لیے ندیم کی ٹانگوں پر چھڑی مارنے لگا مگر وہ وحشی درندہ اس کی کوششوں سے بالکل بے اثر رہا۔ ندیم نے آہنی گرفت کے ساتھ لڑکے کو زمین سے دو فٹ اونچا اٹھایا اور زور سے ایک طرف پٹخ دیا۔ گرتے ہی لڑکے کے ہاتھ سے کتاب اور چھڑی چھوٹ کر دور جا گری۔ کمر پیچھے موجود پتھر سے ٹکرائی اور وہ درد کے مارے چیخ پڑا۔
،آنسوؤں میں ڈوبی آواز کے ساتھ وہ رونے لگا
“!…میں… میں گھر جا کر ابو کو بتاؤں گا… دیکھنا، وہ تمہارا کیا حال کرتے ہیں”
ندیم کی آنکھوں میں وحشت اور بڑھ گئی۔ وہ جھپٹ کر دوبارہ اس کے قریب پہنچا۔ لڑکا ابھی زمین سے اٹھ بھی نہیں پایا تھا کہ ندیم نے اسے دوبارہ گردن سے جکڑ کر کھڑا کیا اور پھر پہلے سے زیادہ زور سے زمین پر دے مارا۔
اب وہ شدت سے رونے اور ہچکیاں لینے لگا۔ ندیم کو ایک بار پھر اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر خوف سے کانپ گیا اور منت سماجت میں پھوٹ پڑا،
“!…نہیں ماروں گا… اب کبھی بکریوں کو نہیں ماروں گا…! اللہ کی قسم نہیں ماروں گا…! مجھے مت مارو”
،ندیم اس کے قریب جھکا، گردن دبوچی اور سرد لہجے میں بولا
“اب بہت دیر ہو گئی بچے… اوپر سے تمہاری سزا کا حکم اتر چکا ہے۔”
یہ کہہ کر اس نے جیب سے رومال نکالا اور زبردستی اس کے منہ میں ٹھونس دیا۔ پھر گردن چھوڑ کر ایک پیر ٹخنے کے قریب سے پکڑ لیا اور گھسیٹتے ہوئے جنگل کی طرف بڑھنے لگا۔
لڑکے کا جسم آدھا زمین پر گھسٹ رہا تھا۔ اس کا سر اور کمر پتھریلی مٹی پر رگڑ کھا رہے تھے، باقی وجود اوپر لٹکا ہوا تھا۔ اس کے منہ سے دبی دبی چیخیں اور سسکیاں گھٹی سی آوازوں میں بدل رہی تھیں۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ آگے اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ جو کچھ ابھی تک ہوا تھا، وہ اسے ظلم لگ رہا تھا… مگر اصل وحشت تو ابھی باقی تھی۔ ندیم کی درندگی کا اصل روپ اس نے ابھی دیکھا ہی نہیں تھا۔
°°°°°°°°°°
رینا اور زمار، ملکہ سے اجازت لے کر وہاں سے نکل آئے تھے اور اب پہاڑ کی کھڑی ڈھلوان پر چڑھ رہے تھے۔ ہوا میں ٹھنڈک گھلی ہوئی تھی مگر ان کے وجود میں تازہ انسانی گوشت کی حرارت سرایت کر چکی تھی۔ اسی طاقت کے سہارے وہ تیز اور مضبوط قدموں سے چوٹی کی سمت بڑھ رہے تھے۔ چوٹی کے پار ہی وہ خوفناک چٹان اور اندھیر نگری پھیلی ہوئی تھی۔
،چند لمحوں کی خاموشی کے بعد زمار نے تیوری چڑھاتے ہوئے کہا
“مجھے تو یہ عورت بہت عجیب لگی۔”
،یہ سنتے ہی رینا کے لبوں پر ہنسی چھوٹ گئی۔ وہ شوخی سے بولی
“ہاہاہاہا… پہلے تو دلکش حسینہ لگ رہی تھی، لیکن جیسے ہی اس نے دھتکار دیا تو فوراً عورت بن گئی، ہے نا؟”
،زمار نے اسے ناگواری سے گھورا اور خفگی بھرے لہجے میں کہا
“وہ حسین نہیں ہے… صرف ایک ظالم، گھٹیا اور بے رحم عورت ہے… اور کچھ نہیں۔”
رینا ایک بار پھر قہقہہ لگا بیٹھی۔ اس کی آنکھوں میں طنز کی چمک ابھر آئی۔
“واہ… وہ بے رحم ہے اور تم جیسے ہزاروں انسانوں کے مسیحا ہو۔”
وہ یہ کہتے ہوئے جان بوجھ کر زمار کے چہرے کو تکنے لگی جہاں غصہ اور جلن واضح تھی۔
،رینا نے مزید چوٹ کی اور شرارت سے ہنستے ہوئے بولی
“ذرا دیکھو تو… کیسے جل بھن رہے ہو۔ حوصلہ رکھو، تمہاری قسمت اچھی رہی تو مل ہی جائے گی تمہیں۔”
،زمار نے دانت بھینچ کر منہ پھیر لیا۔ اس کے لہجے میں زہر ٹپکنے لگا
“لعنت بھیجتا ہوں اس پر… اس کا گوشت کھا کر درندہ بن جانا مجھے زیادہ پسند ہے۔”
یہ کہتے ہوئے اس کا چہرہ بجھ سا گیا جیسے یہ لفظ اس نے اپنے دل کو زبردستی قائل کر کے نکالے ہوں۔ اس کی آنکھوں میں وہی ضد اور ٹوٹ پھوٹ جھلک رہی تھی جو صرف کسی ایسے شخص میں ہوتی ہے جس نے اپنی کمزوری کو چھپانے کے لیے سخت لہجہ اختیار کر لیا ہو۔
،ارے… ارے… پریشان نہ ہو۔” رینا نے نرمی اور تسلی آمیز لہجے میں کہا”
“میں اس سے بات کروں گی۔ اور دیکھنا… وہ مان بھی جائے گی۔ بھلا اسے میرے بھائی جیسا کہاں کوئی اور ملے گا؟”
،یہ الفاظ سنتے ہی زمار کے چہرے پر جیسے بہار اُتر آئی۔ وہ بےچینی سے سیدھا اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا
“کیا واقعی… تم اس سے بات کرو گی؟”
،رینا نے پُر اعتماد مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا
“بالکل…! اور دیکھ لینا، وہ ضرور تمہارے ساتھ زندگی گزارنے کو تیار ہو جائے گی۔”
یہ سن کر زمار کے چہرے پر خوشی اور آنکھوں میں امید کی روشن چمک ابھر آئی۔ اس لمحے وہ خود کو دنیا کا سب سے خوش قسمت انسان سمجھ رہا تھا… ایسا بھائی جس کی بہن اس کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتی ہے۔
وہ انہی باتوں میں کھوئے قدم بڑھاتے رہے۔ پہاڑ کی بلندی اب قریب آتی جا رہی تھی۔ آخرکار وہ چوٹی پر پہنچ گئے۔ سامنے ایک انجانا سا خوف چھپا تھا۔ دلوں پر ایسا بوجھ سا اتر رہا تھا جیسے یہ عجیب منظر انہیں کسی خطرے کی خبر دے رہا ہو۔
ایک طرف دیو قامت چٹان نما دیوار تھی جو جنوب کی سمت یوں پھیلتی چلی جا رہی تھی کہ اس کا آخری کنارہ نگاہوں کی پہنچ سے بہت دور غائب ہو جاتا تھا۔ دیوار کے بالکل ساتھ ہی اندھیرا شروع ہو رہا تھا… ایسا سیاہ، گہرا اور دبیز اندھیرا جو دیوار کی مانند سیدھا کھڑا تھا، جیسے تاریکی کے بادل آسمان کی گہرائیوں تک بلند ہو گئے ہوں۔
نہ اندھیر نگری کے پار کوئی منظر دکھائی دیتا تھا اور نہ ہی شمال کی طرف اس تاریکی کا دوسرا سرا۔ یوں لگتا تھا جیسے آسمان کی حدیں بھی اسی اندھیری نگری کے کنارے پر ختم ہو گئی ہوں۔
پہاڑ کی چوٹی سے دیکھنے پر یہ منظر کسی ماورائی پہیلی کی مانند لگ رہا تھا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے چٹان اور اندھیری نگری آپس میں جُڑ کر ایک ناقابلِ عبور دیوار بن گئے ہوں۔ شاید یہی وہ فطری آڑ تھی جس نے شاہِ سموم کے قید خانے کو صدیوں سے اس سیاہ پردے کے پیچھے قید کر رکھا تھا۔
رینا اور زمار چند لمحے اُس ہیبت ناک منظر کو مفلوج سی حالت میں دیکھتے رہے۔ پھر جیسے کسی ان دیکھے اشارے پر وہ دونوں آہستگی سے پہاڑ کی ڈھلوان کی طرف بڑھنے لگے۔ ہر قدم کے ساتھ ہوا کی سنسناہٹ اور فضا کی سنجیدگی ان کے دلوں پر مزید بوجھ ڈال رہی تھی۔
°°°°°°°°°°
ذبح خانے کی فضا ساکت مگر بوجھل تھی۔ ٹھنڈی دیواروں پر نمی چمک رہی تھی اور لڑکے کی روتے ہوئے فریاد کرنے کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ وہ آوازیں اتنی کربناک تھیں کہ جیسے ہر اینٹ اور ہر دیوار ان کی بازگشت میں لرز رہی ہو۔
اسے اسٹیل کے بھاری میز پر الٹا لٹا کر ہاتھوں اور پیروں میں لوہے کی ہتھکڑیاں ڈال دی گئی تھیں۔ ہتھکڑیوں کی ٹھنڈک اس کے نازک جسم میں کانٹے کی طرح چبھ رہی تھی۔ وہ تڑپ رہا تھا، ہلکی ہلکی کوشش کر رہا تھا کہ خود کو آزاد کر لے مگر اس کی کمزور کلائیاں ان فولادی زنجیروں کے سامنے بالکل بے بس تھیں۔
دوسرے کونے میں، اوزاروں سے بھری میز کے پاس ندیم کھڑا تھا۔ اس کی نظریں ایک ایک آلے پر پہنچ کر پلٹ رہی تھیں۔ وہ فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کہ کس ہتھیار سے سزا کی شروعات کرے۔ کمرے میں خاموشی اور لڑکے کے کراہنے کی آوازیں ملی جلی تھیں۔ آخرکار ندیم کا دایاں ہاتھ ایک قینچی پر ٹھہر گیا۔
،اس نے قینچی اٹھائی، پھر آہستہ آہستہ لڑکے کی طرف پلٹتے ہوئے بولا
“…جب میں نے تمہیں پہلی بار دیکھا تھا تو دل میں تمہارے لیے پیار جاگا تھا۔ لگا تھا کہ شاید دنیا ابھی نیک اور بھلے لوگوں سے خالی نہیں ہوئی”
یہ کہتے کہتے اس کے چہرے پر ناگہانی وحشت چھا گئی۔ اس کی آنکھیں سرخ ہوگئیں، لب کپکپانے لگے اور آواز زہر سے بوجھل ہو گئی۔
“لیکن تم…”
اس نے اچانک قینچی کی دھار لڑکے کی قمیض پر چلائی۔ کپڑا چرچراتی آواز کے ساتھ کٹنے لگا اور لمحوں میں اس کی کمر ننگی ہوگئی۔
ندیم کا سانس بھاری ہو رہا تھا، آنکھوں میں نفرت دہکتی جا رہی تھی۔
،وہ قینچی کو ہوا میں لہرا کر بولا
“تم بھی باقیوں کی طرح درندے نکلے… بلکہ ان سے بھی زیادہ بدتر۔ وہ جو بے زبان جانوروں پر ظلم کرتے ہیں، تم تو سب انسانوں سے نیچ ہو۔”
،لڑکا لرزتے ہوئے رو رہا تھا، آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور آواز ٹوٹتی جا رہی تھی
“میں نے کوئی ظلم نہیں کیا… میں تو بس ایک غریب کسان کی فصل بچانے کی کوشش کر رہا تھا۔”
ندیم کے ہونٹوں پر ایک لمحے کو مسکراہٹ ابھری، مگر اگلے ہی پل وہ مسکراہٹ سرد سنگینی میں بدل گئی۔
،اس کے ضمیر کسی مردہ چراغ کی مانند ٹمٹمایا اور اسے جھنجھوڑا
“تم بھی تو یہی کر رہے ہو… اپنے ظلم کے لیے جواز تراش رہے ہو۔”
لیکن فوراً ہی نفس نے زہر سے بھرے دلائل پیش کر کے ضمیر کی نحیف آواز کو خاموش کر دیا۔
ندیم آہستہ آہستہ الماری کی طرف بڑھا۔ کمرے کا سناٹا جیسے ہر قدم کی چاپ کو گونج بنا رہا تھا۔ اس نے الماری کھولی اور وہاں سے ایک پرانی رسی نکالی، وہی خون آلود رسی جس پر تیز دھار کیل جڑے ہوئے تھے۔
جیسے ہی وہ رسی ہاتھ میں لے کر لڑکے کے قریب آیا، لڑکے کی آنکھوں میں خوف اُتر گیا۔ اس کے دل نے آنے والے لمحوں کی خبر دے دی تھی۔
،وہ کانپتی آواز میں چیخا
“!…نہیں…! ایسا مت کرو…! مجھے معاف کر دو… خدا کے لیے معاف کر دو”
ندیم نے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ اس نے رسی کا ایک سرا اپنی کلائی کے گرد لپیٹا اور اسے پوری شدت کے ساتھ جھٹکا دے کر لڑکے کی ننگی کمر پر دے مارا۔
کیلیں اس کی نرم جلد کو چیرتی ہوئی گوشت میں پیوست ہوگئیں۔ لمحے بھر کو کمر کے پٹھے شل ہوگئے اور اسی لمحے اس کے حلق سے ایک ایسی چیخ نکلی جس نے ذبح خانے کی دیواروں کو ہلا کر رکھ دیا۔
ندیم نے سکون بھری سفاکی کے ساتھ رسی کو جھٹکا دے کر واپس کھینچا۔ ہر کیل گوشت اور ماس کے ٹکڑوں کو چیرتا ہوا باہر نکلا۔ لڑکے کے جسم سے لہو کے چھینٹے اڑے اور اس کی کمر پر سرخ لکیر کے ساتھ زخم کھلنے لگے۔
اس کی فلک شگاف چیخوں نے ہوا کو چیر ڈالا۔ آنسو، خون اور درد ایک ساتھ بہنے لگے۔ کمرے کی ٹھنڈی فضا اب اس معصوم کی اذیت سے دہکنے لگی تھی۔
اس نے دوسری بار رسی پوری شدت سے اس کی کمر پر ماری اور جھٹکے سے کھینچی تو تازہ زخموں نے ایک اور دل دہلا دینے والی چیخ کو جنم دیا۔
اب وہ دیوانہ وار… پے در پے… وار کر رہا تھا۔ ہر بار پوری طاقت کے ساتھ۔ لڑکے کی کمر سے ماس اور خون کے چھینٹے کبھی ندیم کے چہرے پر گر رہے تھے اور کبھی فضا میں اڑ کر دیواروں پر لکیریں بنا رہے تھے۔ کمر کا نرم گوشت چاک ہو رہا تھا اور ہر چیخ فضا کو لرزا رہی تھی۔ لیکن ندیم اپنی سفاکی میں برابر ثابت قدم تھا، جیسے اس کے اندر کا انسان مر گیا ہو اور صرف ایک وحشی درندہ باقی رہ گیا ہو۔
رفتہ رفتہ لڑکے کی چیخیں مدھم پڑنے لگیں۔ کمر کی کھال جگہ جگہ سے اتر گئی تھی، ماس لوتھڑوں کی طرح لٹک رہا تھا اور رسی کے کیل خون میں لت پت ہو کر مزید وحشی لگ رہے تھے۔ ندیم کی وار کی گئی ہر ضرب اب نیم مردہ جسم کو جھٹکا دیتی۔ آخرکار روح نے جسم کو چھوڑ دیا اور وہ درد سہتے سہتے زندگی کی بازی ہار گیا۔
لڑکا مر چکا تھا لیکن وہ پھر بھی مسلسل مارتا رہا، اس وقت تک جب تک لڑکے کی کمر سے گوشت کے آخری ریشے بھی جھڑ نہ گئے اور ہڈیاں صاف دکھائی دینے لگیں۔
آخر کار ندیم کا ہاتھ رکا۔
،اس کا ہاتھ ڈھلک گیا اور خون آلود رسی فرش کی جانب جھک گئی، اس نے گہری سانس لی اور افسردہ لہجے میں بڑبڑایا
“میں ایسا کبھی نہیں چاہتا تھا… لیکن میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا۔”
اسی لمحے اس کے باطن سے ایک کمزور مگر شدید آواز اُبھری… ضمیر کی چیخ۔ ندیم کے اندر اب ایک شیطانی مزاحمت جاگی۔ اس نے وہی خونی رسی دوبارہ مضبوطی سے تھامی اور اچانک پوری قوت سے اپنی ہی کمر پر دے ماری۔ زخم پہلے ہی تازہ تھے، درد کی شدت نے اس کے بدن کو دہلا دیا۔ لیکن جیسے ہی وہ ابتدائی اذیت برداشت کر گیا، اس کے جسم نے درد کو سن کر لیا۔
اب وہ پوری جنونیت کے ساتھ اپنے اوپر وار کرنے لگا۔ رسی کیلوں سمیت اس کی کمر پر چبھ رہی تھی، خون رس رہا تھا، لیکن اس کی آنکھوں میں ایک نشہ سا اتر آیا تھا۔ وہ درد کو سزا نہیں، لذت بنا کر سہہ رہا تھا۔
وہ لمحہ لمحہ اپنی ہی اذیت میں ڈوب رہا تھا جیسے اپنی درندگی کا کفارہ بھی خود ہی اپنے جسم پر ادا کرنا چاہتا ہو۔ ہر وار کے ساتھ اس کا وجود ٹوٹتا جا رہا تھا مگر اس کے اندر کا وحشی درندہ، اس اذیت کو ہی زندگی سمجھنے لگا تھا۔
°°°°°°°°°°
…جاری ہے
