ناول درندہ
قسط نمبر 41
باب پنجم: کاسر العاکم
مصنف: زیاد اصغر زارون
°°°°°°°°°°
کافی وقت بیت چکا تھا مگر شاہِ سُموم اب تک واپس نہیں لوٹا تھا۔ رینا کی بے چینی ہر لمحے بڑھ رہی تھی۔ وہ ہموار میدان میں مسلسل ٹہل رہی تھی، جیسے قدموں کو قرار ہی نہ ہو۔ اس کے ذہن میں صرف ایک ہی خیال گردش کر رہا تھا… زمار۔ اپنے بھائی کی فکر، اس کے لیے دل میں پلتا غم، لمحہ بہ لمحہ زیادہ گہرا ہوتا جا رہا تھا۔
ہر بار جب اس کے ذہن میں ملکہ دارونتھا کا تصور آتا تو اس کی بے قراری اور بڑھ جاتی۔ ناجانے وہ زمار پر کیسا ظلم ڈھا رہی ہوگی؟ ناجانے اس کا بھائی کس اذیت اور کرب سے گزر رہا ہوگا؟ یہ سوچیں اس کے دل پر بوجھ کی طرح بیٹھتی جا رہی تھیں۔ رینا کے قدم بھلے ہموار زمین پر پڑ رہے تھے، لیکن اس کے دل میں ہچکولے ایسے تھے جیسے کسی طوفانی سمندر میں کشتی بہہ رہی ہو۔
وہ انہی سوچوں میں بے قراری سے ٹہل رہی تھی کہ اچانک کالا دھواں چٹان اور اندھیر نگری کے بیچوں بیچ پگڈنڈی سے ابھرتا ہوا نمودار ہوا اور آ کر اس سے چند قدم کے فاصلے پر تھم گیا۔ رینا کے قدم بے اختیار آگے کو بڑھے مگر شاہِ سُموم نے ہاتھ کے ہلکے اشارے سے اسے وہیں رکنے پر مجبور کر دیا۔ اگلے ہی لمحے، اس کا وجود رینا کو حیرت اور خوف کے بھنور میں دھکیلتا ہوا اندھیر نگری کے دہانے میں داخل ہوگیا۔
رینا کا دل جیسے سینہ پھاڑ کر باہر نکلنے کو بے تاب تھا، دھڑکنیں بے قابو تھیں اور چہرے پر گھبراہٹ صاف جھلک رہی تھی۔ نگاہیں دروازے پر جمی تھیں لیکن دماغ سوالوں کے طوفان میں گھرا ہوا تھا…،
اب کیا ہونے والا ہے؟
کیا وہ واقعی اس کے بھائی کو زندہ سلامت واپس لا پائے گا؟
یا پھر زمار کو بچانے کی کوشش میں خود بھی اندھیر نگری کے اندھیروں میں ہمیشہ کے لیے ڈوب جائے گا؟
°°°°°°°°°°
موسلادھار بارش اب پوری شدت کے ساتھ برس رہی تھی۔ تیز برستی بوندیں یوں لگ رہی تھیں جیسے آسمان سے پتھر پھینکے جارہے ہوں۔ ہر ضرب چہرے اور جسم پر درد بھری چوٹ کی طرح محسوس ہورہی تھی۔ زافیر نے آبرو کو اپنی باہوں میں اٹھا رکھا تھا، اس کا نازک چہرہ اپنے کندھے سے چپکا دیا تاکہ بارش کے بے رحم تھپیڑے اس تک نہ پہنچ سکیں۔ دوسرے ہاتھ سے وہ حورا کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے ہوئے تھا اور حورا نے آگے بڑھتے ہوئے اپنی انگلیاں مومنہ خاتون کے ہاتھ میں جکڑ رکھی تھیں۔ یوں وہ سب ایک زنجیر کی مانند ایک دوسرے سے بندھے پہاڑ کی ڈھلوان سے نیچے اتر رہے تھے۔
بارش کی یلغار سے بچنے کے لیے تینوں اپنے بازوؤں سے چہرے ڈھانپتے، قدم سنبھالتے ہوئے اتر رہے تھے۔ مگر ڈھلوان پر بہتا پانی زمین پر پھسلن بنا چکا تھا۔ ہر قدم پر یوں لگتا جیسے اب گر جائیں گے جیسے زمین ان کے پیروں تلے سے کھسک رہی ہو۔
زافیر نے ایک پل کو بازو چہرے سے ہٹایا اور سر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا۔ لرزتی نگاہوں نے دیکھا کہ لگ بھگ آدھے آسمان پر خون جیسی سرخی چھا چکی تھی اور وہ سرخی ہر لمحہ شمال کی سمت بڑھتی جارہی تھی، گویا آسمان بھی زمین پر آنے والی کسی بڑی تباہی کا اشارہ دے رہا ہو۔
،وہ گھبراہٹ سے بھرے لہجے میں بلند آواز میں بولا
“!ہمیں مزید تیز چلنا ہوگا”
،حورا نے ہانپتے ہوئے چیخ کر جواب دیا
“!ہم اس سے زیادہ تیز نہیں چل سکتے… بارش کی ہر بوند ایسے لگ رہی ہے جیسے پتھر برس رہے ہوں”
وہ قدم جما کر اسی رفتار سے آگے بڑھ رہے تھے کہ اچانک زافیر کی نگاہ ڈھلوان کے آخری کنارے پر جا ٹھہری۔ منظر دیکھتے ہی اس کے چہرے پر حیرت و خوف یکجا ہو گیا۔
اس کا ڈرائیور ویگو ڈالے کو بےتحاشا رفتار سے سیدھا ان کی جانب ناہموار پہاڑی پر چڑھاتا چلا آ رہا تھا۔
،وہ غصے سے دھاڑا
“یہ پاگل کا بچہ کس موت کو دعوت دے رہا ہے؟”
،حورا نے بھی تیزی سے نظر دوڑائی۔ لمحے بھر کو اس کے اوسان خطا ہوئے اور وہ قدم آگے بڑھاتے ہوئے لرزتی آواز میں بولی
“کیا اسے مرنے کا شوق ہے؟”
اس کے بعد خاموشی چھا گئی۔ بارش کی تیز بوندیں کانوں کو بہرا کرنے لگیں، ہوا کی سرسراہٹ بدن کو کاٹتی ہوئی محسوس ہوئی اور وہ لرزتے قدموں کے ساتھ ڈھلوان سے اترتے رہے، گویا موت ان کا تعاقب کر رہی ہو۔
ڈرائیور نے اچانک ایک جھٹکے کے ساتھ گاڑی کو تیز کیا اور پہاڑ کی ڈھلوان پر چڑھانا شروع کر دیا۔ ویگو سانپ کی مانند بل کھاتی ہوئی ناہموار سطح پر آگے بڑھ رہی تھی۔ ہر موڑ پر پتھریلی زمین گاڑی کو پھسلانے کی کوشش کرتی مگر ڈرائیور کی مہارت کمال کی تھی۔ وہ لمحہ بھر میں زمین کا جائزہ لیتا، نسبتاً ہموار جگہ تلاش کرتا اور تیزی سے اس طرف گاڑی موڑ دیتا۔
گاڑی کے پہیے بار بار کڑکڑاتے پتھروں پر پھسلتے، مگر ڈرائیور مسلسل قابو پائے ہوئے تھا۔ جوں جوں پہیے اوپر کی طرف بڑھتے گئے، ویگو کی رفتار گھٹتی گئی۔ انجن کی گڑگڑاہٹ ہوا میں گھل کر ایک خوفناک شور پیدا کر رہی تھی۔ کچھ ہی لمحوں میں وہ ان کے خاصا قریب پہنچ آیا مگر اس سے آگے بڑھانا گویا ایک ناممکن کام تھا۔
ڈرائیور نے تیزی سے دروازے کا شیشہ نیچے کھسکایا۔ ہوا کا ایک تیز جھونکا اندر آیا اور ساتھ ہی بارش کی ٹھنڈی بوندیں اس کے چہرے پر بکھر گئیں۔ اس نے گردن اٹھا کر سرخی میں ڈوبے آسمان کو دیکھا، جیسے کسی نے خون کے رنگ میں افق کو رنگ دیا ہو۔ لمحے بھر کو اس کی آنکھوں میں گھبراہٹ جھلکی۔
،پھر ان کی طرف رخ موڑا اور جلدی میں لرزتی آواز میں چیخ کر بولا
“!سر، فوراً آئیں! وقت نہیں ہے… بہت بڑا طوفان آنے والا ہے”
زافیر نے قدم اور تیز کر دیے۔ بارش کی موٹی بوندیں اس کے چہرے پر پتھروں کی طرح برس رہی تھیں مگر وہ پرواہ کیے بغیر گاڑی تک پہنچ گیا۔ جیسے ہی پچھلا دروازہ کھولا، اس نے جلدی میں سب کو باری باری بٹھانا شروع کیا۔ سب سے پہلے مومنہ خاتون اندر بیٹھیں پھر حورا کو سہارا دے کر اندر کیا اور آخر میں آبرو کو بھی اپنے بازوؤں سے الگ کرتے ہوئے احتیاط سے سیٹ پر بٹھا دیا۔ اس کے اپنے دل پر جیسے بوجھ سا پڑ رہا تھا لیکن وقت کی تنگی اسے مہلت نہیں دے رہی تھی۔
وہ تیزی سے گاڑی کے گرد لپکا، بارش میں پھسلتے قدموں کو سنبھالتے ہوئے دوسری طرف جا پہنچا اور ڈرائیور کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر ڈھیر سا ہو کر بیٹھ گیا۔
،سانسیں پھولی ہوئی تھیں مگر زبان پر پہلا جملہ غصے اور گھبراہٹ کے ملے جلے تاثر کے ساتھ پھٹ پڑا
“کیا تم پاگل ہو؟ اگر گاڑی الٹ جاتی؟ تم مر جاتے تو پھر…؟”
ڈرائیور نے جواب دینے کے بجائے فوراً ہاتھ بڑھا کر ریورس گیئر لگایا۔ گاڑی کے پہیے کیچڑ میں پھسلے مگر اگلے ہی لمحے قابو میں آگئے۔
،وہ بیک ویو مرر پر نظریں جما کر گاڑی کو دھیرے دھیرے موڑتے ہوئے بولا
“تو کیا آپ کو یونہی چھوڑ دیتا؟ میں نے وہی کیا جو مجھے کرنا چاہیے تھا۔”
اس لمحے زافیر کے پاس کہنے کو کچھ نہیں رہا۔ حقیقت یہ تھی کہ ڈرائیور غلط نہیں تھا۔ اگر بات صرف زافیر تک محدود ہوتی تو الگ بات تھی لیکن زافیر کے گھر کی خواتین ساتھ تھیں۔ اور ڈرائیور اچھے سے جانتا تھا کہ اس کا باس خود وہ شخص ہے جو کسی اجنبی کی جان بچانے کے لیے بھی اپنی جان داؤ پر لگا دیتا۔ وہ تو پھر بھی ڈرائیور کا مالک تھا… تو بھلا ایک وفادار ڈرائیور اپنے باس کے گھر والوں کو موت کے منہ میں کیسے چھوڑ دیتا؟
،زافیر نے تیزی سے پچھلی سیٹ کی طرف رخ موڑ کر بلند آواز میں کہا
“!اپنے سیٹ بیلٹ باندھ لو… جلدی کرو”
یہ کہہ کر وہ دوبارہ اپنی نشست پر سیدھا ہو گیا اور جھٹ سے اپنی بیلٹ بھی باندھ لی۔ ڈرائیور نے گاڑی کا رخ سیدھا کرتے ہی بریک پر دباؤ بنایا اور گاڑی کو احتیاط سے ڈھلوان پر ڈال دیا۔ باہر طوفانی بارش پہاڑ کو اندھا دھند بھگو رہی تھی اور پھسلن زدہ ڈھلوان پر ذرا سی لغزش بھی انہیں سیدھا موت کے دہانے پر پھینک سکتی تھی۔ انجن کی گھڑگھڑاہٹ اور بارش کے تیز تھپیڑوں کے بیچ ڈرائیور کی نظریں پوری طرح راستے پر جمی رہیں۔ وہ بڑی مہارت سے گاڑی کو قابو میں رکھے، قدم بہ قدم نیچے اتارتا رہا۔
بالآخر وہ ڈھلوان کی صعوبتیں پار کر کے ہرے بھرے میدان میں اترے اور پھر گاڑی دھیرے سے سڑک پر چڑھ آئی۔ جیسے ہی پہیے ہموار سطح پر پہنچے، زافیر کے دل پر پڑا بوجھ ذرا ہلکا ہوا۔ اس نے پلٹ کر پیچھے دیکھا اور نرم لہجے میں پوچھا،
“تم سب ٹھیک ہو نا؟”
،آبرو کے چہرے پر خوف کی جگہ شوخی لوٹ آئی۔ وہ ہنستے ہوئے بولی
“اوہ توبہ… یہ بارش تھی یا پتھر…! لیکن جو بھی تھا، مزہ بہت آیا۔”
اس کی بات سن کر حورا اور مومنہ خاتون بھی کھلکھلا اٹھیں۔ جیسے موت کے سائے سے نکل کر پھر زندگی کی روشنی نے انہیں اپنی بانہوں میں بھر لیا ہو۔
،حورا نے ہنستے ہنستے سر کو پیچھے جھٹکا اور بولی
“میرے تو کان لال ہوگئے… خدا کی پناہ! ایسی بارش کے تھپیڑے تو میں نے کبھی سوچے بھی نہیں تھے۔”
ان کی باتیں سن کر زافیر کے چہرے پر بھی ایک ہلکی سی مسکراہٹ ابھری مگر وہ لمحہ بھر میں سنجیدہ ہوگیا۔ اس نے نرمی سے رخ سیدھا کیا اور نگاہیں سڑک پر گاڑ دیں۔
،پھر ڈرائیور کو مخاطب کرتے ہوئے دھیمی مگر پرعزم آواز میں بولا
“ہمیں فوراً ہوٹل پہنچاؤ… سامان پیک کرتے ہی واپس جانا ہے۔ جتنا جلد ہوسکے۔”
،ڈرائیور نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا۔ اس طوفان میں واپسی کا ارادہ کسی پاگل پن سے کم نہ تھا۔ وہ جھجکتے ہوئے بولا
“سر، آپ کی بات بجا ہے لیکن میرا خیال ہے ہمیں طوفان تھم جانے کا انتظار کرنا چاہیے۔”
،زافیر کی آنکھوں میں ایک اجنبی سا اضطراب بھڑکا۔ اس نے تیزی سے جواب دیا
“نہیں… بالکل نہیں…! یہاں بہت خطرہ ہے۔”
،وہ لمحہ بھر کو رکا، پھر گہری سانس لے کر ڈرائیور کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا
“جو میں جانتا ہوں… وہ تم نہیں جانتے۔”
اس کی آواز میں ایسی شدت اور راز کی گونج تھی کہ ڈرائیور مزید کچھ کہہ نہ سکا۔ وہ الجھن اور خوف کے باوجود فرمانبرداری پر مجبور تھا۔ گاڑی موسلادھار بارش کے تھپیڑوں کو چیرتی ہوئی سڑک پر رواں دواں رہی۔ کالے بادلوں سے ڈھکے آسمان پر سرخی پھیلتی جارہی تھی اور ہر لمحہ وہ سرخی مزید گہری ہوتی محسوس ہو رہی تھی۔
پیچھے زافیر کی ذاتی گاڑی قریب ہی چل رہی تھی، جس میں چاروں گارڈز موجود تھے۔ وہ بھی اپنی ہیبت ناک رفتار میں ان کے پیچھے لگے ہوئے تھے، جیسے کسی نادیدہ خطرے کے تعاقب سے سب ایک ساتھ بھاگ رہے ہوں۔
°°°°°°°°°°
زمار کی فلک شگاف چیخیں اندھیروں میں گونجتی رہیں اور وہ مسلسل پستیوں میں لڑھکتا چلا جا رہا تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے زمین ختم ہوچکی ہو اور وہ کسی بے انتہا کھائی میں گر رہا ہو جس کی تہہ ہی نہ ہو۔
اسے محسوس ہوا جیسے اس کے خون کا ہر قطرہ پھٹ کر بیج میں بدل رہا ہے۔ بیج جو اس کی رگوں میں جمی ہوئی مٹی کی طرح جڑ پکڑ رہے ہیں۔ لمحہ لمحہ ان بیجوں سے باریک سبز کونپلیں پھوٹ رہی تھیں جو بے رحمی سے اس کے گوشت اور ہڈیوں کو چیرتی ہوئی باہر نکلنا چاہتی تھیں۔
یہ اذیت الفاظ سے ماورا تھی۔ ہر کونپل کی جڑ جیسے ہڈی کے گودے میں گھس کر اپنی جگہ بنا رہی تھی۔ اس کی ہڈیوں میں سوراخ پڑ رہے تھے، ان میں جڑیں دھنس رہی تھیں اور وجود کی بنیادوں کو چاٹ رہی تھیں۔ زمار کا جسم اندر سے کسی خونی باغیچے میں بدل گیا تھا، جہاں ہر نئی کونپل اس کی زندگی کو مزید نوچتی جاتی۔
وہ نہ رک سکتا تھا نہ سنبھل سکتا تھا۔ چیخ اس کے گلے میں اٹک اٹک کر نکلتی اور پھر وحشت ناک آواز بن کر اندھیرے میں بکھر جاتی۔ اس کے اعصاب کھنچ کر ٹوٹنے کے قریب تھے۔ ایسا لگتا تھا جیسے گوشت، خون اور ہڈیاں سب اس کے دشمن بن گئے ہوں اور اندر ہی اندر اسے زندہ کھا رہے ہوں۔
اس کا وجود ایک اذیت ناک بوجھ بن گیا تھا اور ہر لمحہ اس بوجھ کا وزن بڑھتا جارہا تھا۔ مگر گرنے کا سفر ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا… ایک نہ ختم ہونے والی پستی، ایک نہ ختم ہونے والا عذاب۔
ابھی وہ اذیت اپنے عروج پر تھی کہ اچانک پورے جسم میں سے گھاس کی مانند باریک مگر تیز پودے پھوٹنے لگے۔ ہر کونپل اس کے ماس کو چیرتی، گوشت پھاڑتی اور خون میں لت پت ہوکر باہر نکل رہی تھی۔ لمحہ لمحہ اس کا وجود سبز اور سرخ کے خوفناک امتزاج میں ڈھلتا جارہا تھا۔
زمار کا جسم اب ایک زخم زدہ کھیت لگ رہا تھا… جہاں زمین کی جگہ گوشت اور خون تھا۔ اس سے اگتی ہر گھاس اس کے لیے نئی اذیت کا پیغام تھی۔ اس کے جسم کے ہر مسام سے، ہر رگ سے، ہر درز سے سبز ٹہنیاں نکل رہی تھیں جو مسلسل لمبی ہوتی جارہی تھیں۔
زبان سے بھی گھاس اگ آئی تھی جو تیزی سے بڑھ کر پورے منہ کو بھرنے لگی۔ وہ نہ چیخ سکتا تھا نہ کراہ سکتا تھا۔ چیخنے کی طاقت موجود تھی لیکن زبان اس کی دشمن بن چکی تھی۔ آنکھوں کی جھلیاں بھی پھٹ چکی تھیں اور ان میں سے ننھے پودے باہر نکل کر لٹک رہے تھے۔ اس کی آنکھیں اب بینائی کا نہیں بلکہ وحشت کا مرکز بن گئی تھیں۔
یہ اذیت آگ اور تیزاب کے عذاب سے کہیں بڑھ کر تھی۔ یہ سبز خوف… یہ اسے زندہ رکھتے ہوئے اندر سے باہر تک چیر رہا تھا۔
وہ مسلسل اندھیرے میں گرتا جارہا تھا۔ نہ اوپر کوئی آسمان تھا، نہ نیچے زمین کا نشان۔ بس ایک بے انتہا گہرائی تھی اور اس کے وجود کے اندر جاری قیامت۔ وہ پاگلوں کی طرح تڑپ رہا تھا مگر کچھ کر نہیں سکتا تھا۔ نہ بچ سکتا تھا نہ مر سکتا تھا۔
اور پھر اس اذیت کے بیچ چمکتی سفید آنکھیں دکھائی دیں… ملکہ دارونتھا کی آنکھیں۔ وہ آنکھیں جو ہر لمحہ اس کے تعاقب میں رہتی تھیں۔ اب بھی وہ قریب تھیں مگر اس کی پھٹی ہوئی جھلیاں اور ان سے اگتے پودے اسے دیکھنے نہیں دے رہے تھے۔
اچانک وہ آنکھیں اندھیرے میں ایک لمحے کو مزید چمکیں اور پھر غائب ہوگئیں۔
°°°°°°°°°°
شاہِ سموم اندھیر نگری کی خالی فضا میں معلق تھا۔ سیاہی ایسی تھی کہ نہ اوپر کا کوئی نشان تھا اور نہ نیچے کا۔ ابھی اسے وہاں پہنچے ایک لمحہ بھی نہیں گزرا تھا کہ اچانک ایک لرزہ خیز خاموشی کو چیرتی ہوئی ملکہ دارونتھا آن پہنچی۔ اندھیروں نے اس کے وجود کو نگل رکھا تھا مگر اس کی سفید، چمکتی ہوئی آنکھیں اندھیرے کے سمندر میں دو دہکتے چراغوں کی طرح لرز رہی تھیں۔
جیسے ہی وہ قریب آئی، اس نے ایک جھٹکے سے ہاتھ بڑھایا اور شاہِ سموم کی گردن کو دبوچنے کی کوشش کی۔ مگر اگلے ہی لمحے اس کا ہاتھ خلا میں سے یوں پار نکل گیا جیسے گردن وہاں موجود ہی نہ ہو، اس نے دوسری کوشش کی اور ایسے ہی تیسری بار بھی دبوچنا چاہا مگر ناکام رہی۔ ہواؤں اور آندھیوں کے شاہ کو چھو پانا اس کے بس کی بات نہیں تھی۔
یہ منظر دیکھ کر ملکہ لمحہ بھر کو ساکت رہ گئی پھر آہستگی سے پیچھے ہٹی اور اس کے سامنے ہی فضا میں معلق ہوگئی۔ اندھیروں میں اس کی آنکھوں کی سفیدی بجلی کی لپک کی طرح چمک رہی تھی اور اس کے وجود سے نکلنے والی سرد تپش نے اندھیر نگری کی فضاؤں کو تھرا دیا۔
،ملکہ نے سر ذرا جھکایا، پھر اس کی آواز، جو گویا کسی آتش فشاں کی گہرائیوں سے پھٹ رہی ہو، فضا میں گونجی
“تو… تم لوٹ آئے ہو؟”
شاہِ سموم کے لبوں پر ایک ہلکی سی مسکان ابھری۔
،وہ نرم لہجے میں بولا
“ایک دن تو لوٹنا ہی تھا۔”
،اگلے ہی لمحے اس کے چہرے پر سنجیدگی چھا گئی، آنکھوں کی روشنی جیسے تھم گئی ہو۔ اس نے ٹھہرے ہوئے مگر بھاری لہجے میں کہا
“میں آپ سے ایک قیدی کی آزادی کی درخواست لے کر آیا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ اسے آزاد کر دیں۔”
اندھیرے میں اچانک ملکہ دارونتھا کی گرجدار آواز گونجی۔ اس کی آواز میں ایسا ارتعاش تھا جیسے پہاڑ ٹوٹ پڑیں،
“قیدی… کون سا قیدی؟ یہاں تو ہزاروں قیدی ہیں!”
شاہِ سموم کی آواز اب بھی نرم تھی لیکن اس نرمی میں ایک ایسی طاقت چھپی تھی جو ملکہ کے غصے کو چیلنج کرتی محسوس ہوتی تھی،
“آپ کا نیا قیدی… جو آج ہی آپ کی گرفت میں آیا ہے۔”
،ملکہ کی آنکھیں اور زیادہ دہک اٹھیں۔ اس کی چیخ اندھیر نگری کی فضاؤں کو ہلا گئی
“!نہیں… نہیں… نہیں”
،اس کی آواز اب قہر اور کرب کے امتزاج میں ڈوبی ہوئی تھی
…وہ تمہیں نہیں مل سکتا…! انہوں نے… میری بیٹی کو مارا ہے! میری آزادی کی واحد امید کو”
“!میری نجات کی کنجی کو… وہ بیٹی جس میں یہ طاقت تھی کہ مجھے اس اندھیر نگری کی قید سے نکال سکے
اندھیروں میں اس کی صدا گونجتی رہی، جیسے دیواروں نے بھی اس کے درد کو قید کر لیا ہو۔
،شاہِ سموم کے چہرے پر حیرت پھیل گئی۔ اس کی آنکھوں میں بے یقینی کی جھلک تھی، وہ لرزتی ہوئی آواز میں بولا
“کیا واقعی…؟ مجھے تو آپ کی کسی بیٹی کے بارے میں علم نہیں۔”
،اندھیروں کو چیرتی ہوئی ملکہ دارونتھا کی گرج ابھری۔ اس کی آواز میں صدیوں کا قہر اور دکھ لرز رہا تھا
“تمہیں ابھی… بہت کچھ معلوم نہیں۔ اور میری بیٹی… وہ تو پیدا ہی تینتیس برس پہلے ہوئی تھی۔ تمہیں بھلا کیسے پتا ہو سکتا ہے؟”
یہ سن کر شاہِ سموم کے دل میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی۔ وہ جانتا تھا کہ ملکہ پہلے ہی قہر و غضب کا مجسمہ تھی اور اب اس بیٹی کا قصہ اس کے غصے کو اور بھڑکا رہا تھا۔
،اس نے پوری سنجیدگی اور تحمل کے ساتھ سوال کیا
“کیا آپ کو یقین ہے… کہ یہی قیدی قاتل ہے؟”
کچھ لمحوں کے لیے سناٹا چھا گیا۔
اندھیری فضا جیسے سانس روک کر کھڑی ہوگئی۔
،پھر اچانک ملکہ کی گرجدار آواز گونجی، اس بار اس میں قہر کے ساتھ ایک خوفناک امکان کی جھلک بھی تھی
“نہیں… یہ نہیں ہے…! مگر اس کا بھائی… زافیر… ہاں… شاید وہی…! اور اگر ایسا ہے… تو وہ بھی یہاں پہنچ سکتا ہے۔”
اس کے آخری الفاظ اندھیروں میں ایسے گونجے جیسے طوفان آنے سے پہلے بادل پھٹنے کو ہوں۔
،وہ کبھی نہیں آئے گا… کیونکہ وہ ان کا دشمن ہے۔” شاہِ سموم نے پُرسکون مگر مضبوط لہجے میں کہا۔ پھر لمحے بھر کے توقف کے بعد گویا ہوا”
“اگر آپ میرے مطلوبہ قیدی کو آزاد کر دیں، تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ بہت جلد زافیر کو آپ تک پہنچا دوں گا۔”
،ملکہ کی گرج اندھیروں میں گونجی، ہر لفظ بپھری ہوئی آندھی کی مانند تھا
“میں تم پر اعتبار کیوں کروں؟”
شاہِ سموم نے اس کی قہر بھری گرج کے جواب میں ہمیشہ کی طرح مؤدب اور نرم لہجہ اختیار کیا۔
،اس کی آواز میں ایک ایسی سکون دہ طاقت تھی جو ملکہ کے قہر کو چیلنج بھی کر رہی تھی اور تھام بھی رہی تھی
“کیا آپ کے پاس… اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ ہے؟”
یہ جملہ اندھیروں میں تیر کی طرح پیوست ہوا۔ لمحوں کے لیے فضا پر خاموشی چھا گئی۔
،پھر ملکہ نے سر نہیں جھکایا مگر اس کے لہجے کی شدت میں کمی ضرور آگئی۔ گرجدار مگر تھوڑا نرم لہجے میں وہ بولی
“ٹھیک ہے… وہ قیدی اس وقت اذیت میں ڈوبا ہوا ہے۔ جاؤ… جہاں سے تم نکلو گے، وہیں سے قیدی کو باہر بھیج دیا جائے گا۔”
شاہِ سموم نے ادب سے سر خم کیا، اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی شکر گزاری کی لہر ابھری،
“آپ ہمیشہ سے ہی مجھ پر مہربان رہی ہیں… اس احسان کا شکریہ۔”
یہ کہہ کر وہ پلٹا اور اندھیر نگری کی گھٹن آلود تاریکی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے فضا میں ہی اڑتے ہوئے باہر چلا گیا۔ اندھیرے نگری کے آخری کناتے پر اندھیروں نے اسے گھیرنے کی کوشش کی مگر شاہِ سموم اپنی ہی فضا میں لپٹا ہوا روشنی کی ایک لکیر کی مانند اندھیر نگری سے باہر نکل گیا۔
°°°°°°°°°°
شاہِ سُموم جیسے ہی اندھیر نگری سے باہر آیا، رینا بے تابی سے دوڑتی ہوئی اس کے قریب پہنچی۔
،اس کی آنکھوں میں خوف اور امید کی ملی جلی چمک تھی۔ ہانپتے ہوئے، کپکپاتی آواز میں اس نے پوچھا
“میرا بھائی…؟ آپ اسے ساتھ کیوں نہیں لائے؟”
،شاہِ سُموم نے چند لمحے خاموشی اختیار کی، پھر دھیرے مگر پُر اعتماد لہجے میں بولا
“حوصلہ رکھو… وہ آرہا ہے۔”
یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگیا اور اس کی نظریں پھر سے اندھیر نگری کے گھپ اندھیروں پر جم گئیں۔ رینا کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ وہ بھی بے چینی اور گھبراہٹ کے عالم میں اسی سمت دیکھنے لگی۔ وقت کا ہر لمحہ صدیوں کی طرح بھاری لگ رہا تھا۔
اچانک ایک بھاری جھٹکے کے ساتھ اندھیروں نے کراہتی ہوئی آواز میں کچھ باہر اُچھالا۔ اگلے ہی لمحے زمار کا نیم مردہ وجود اندھیر نگری سے باہر پھینکا گیا… بالکل ایسے جیسے کوئی بیکار کچرے کو بے رحمی سے باہر پھینک دے۔
وہ زمین پر زور سے ٹکرا کر، لڑھکتا اور گھسٹتا گیا، اور آخرکار اوندھے منہ جا گرا۔
رینا کی آنکھوں سے چیخ نما رونا پھوٹ پڑا۔
،وہ دیوانہ وار دوڑتی ہوئی اس تک پہنچی، کانپتے ہاتھوں سے اسے سیدھا کیا اور سسکتے ہوئے پکارنے لگی
“!زمار… زمار… تم ٹھیک تو ہو نا؟ خدا کے لیے کچھ بولو”
اس کے آنسو زمار کے چہرے پر گر رہے تھے لیکن وہ اب بھی نیم بے ہوش، اذیت اور تھکن کے مارے سانس لینے کے لیے جدوجہد کر رہا تھا۔
زمار نے آہستگی سے اپنی آنکھیں کھولیں۔ پلکوں کے نیچے سے جھانکتی ہوئی نظر ایسے تھی جیسے وہ کسی بھیانک خواب کے سائے سے ابھی ابھی چھٹکارا پا کر جاگا ہو۔ دھندلائی نگاہ کے سامنے جیسے ہی رینا کا چہرہ ابھرا، اس کی آنکھوں میں ایک دم سے پہچان کی روشنی اُبھری۔ اگلے ہی لمحے وہ کانپتے وجود کے ساتھ اپنی بہن سے لپٹ گیا اور دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔
،اس کی سسکیاں اذیت کے بوجھ سے بھاری تھیں، وہ چیختے ہوئے ہکلایا
“…وہ… وہ بہت ظالم ہے… بہت ظالم”
اس کی آواز ایسی لگ رہی تھی جیسے ہر لفظ میں صدیوں کا زہر اور خوف بھر گیا ہو۔ اذیت ابھی تک اس کے وجود سے رخصت نہیں ہوئی تھی۔ ہر اعصاب، ہر رگ جیسے اب بھی جلتی ہوئی دھات میں تپ رہے ہوں۔ دماغ پر اس عذاب کی ایسی گہری چھاپ بیٹھ چکی تھی کہ وہ نیم پاگل سا دکھائی دیتا تھا۔
رینا کے آنسو بہے جارہے تھے۔ وہ اسے اپنے بازوؤں میں تھامے تسلی دینے لگی، مگر اس کے دل پر خود بھی ایک قیامت گزر رہی تھی۔
،ٹوٹی ہوئی آواز میں اس نے کہا
“بس… بس حوصلہ رکھو… اب تم آزاد ہو۔ دیکھو، اپنی بہن کے پاس ہو… اپنی رینا کے پاس ہو۔”
یہ کہہ کر اس نے زمار کو تھوڑا سا خود سے الگ کیا اور اس کے زخموں سے بھرے ماتھے پر محبت اور درد سے لرزتے ہونٹوں کے ساتھ بوسہ دیا۔ لیکن زمار اب بھی روئے جا رہا تھا… ایسے جیسے وہ چاہ کر بھی اپنے اندر ٹوٹے ہوئے طوفان کو روک نہیں سکتا تھا۔
شاہِ سموم کچھ لمحے خاموشی سے ان کا یہ فیملی ڈرامہ دیکھتا رہا لیکن جلد ہی اُکتا کر آہستہ قدموں کے ساتھ اس دیوار نما بلند و بالا چٹان کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ اس نے گہری سانس لی، آنکھیں موند لیں اور اپنے دونوں ہاتھ چٹان کی طرف پھیلا دیے۔
اگلے ہی لمحے اس کے وجود سے ایک تیز، بے قابو آندھی لپکی۔ ایسی آندھی کہ اگر کوئی انسان اس کے سامنے آجاتا تو اس کا جسم ذروں کی صورت بکھر جاتا اور ان بکھرے ذروں کے سامنے ریت کے ذرے بھی پہاڑ محسوس ہوتے۔
آندھی چٹان سے جا ٹکرائی۔ لمحے بھر میں فضا لرز اٹھی اور چٹان پر زلزلے کی سی کیفیت طاری ہوگئی۔ وہ اپنے ہی بوجھ تلے دبتی، کپکپاتی، چیختی سی محسوس ہونے لگی۔ چند لمحے یوں ہی اس کی ہولناک کپکپاہٹ جاری رہی پھر یکایک ایک دہلا دینے والا دھماکہ ہوا۔
چٹان ہزاروں ٹکڑوں میں بکھر گئی۔ مٹی اور پتھر کے دیو ہیکل تودے فضا میں اچھل کر کئی میل دور جا گرے۔ ہوا گردوغبار اور گرج کی آواز سے بھر گئی، جیسے زمین خود چیخ اٹھی ہو۔
چٹان کا ایک عظیم حصہ اب مکمل طور پر بکھر چکا تھا۔ تنگ اور خطرناک پگڈنڈی کی جگہ ایک وسیع خلا نمودار ہوچکا تھا، ایسا خلا جس سے صرف چند افراد نہیں بلکہ لاکھوں کی فوج بھی باآسانی گزر سکتی تھی۔
دھماکے کی گرجدار آواز اب بھی فضا میں گونج رہی تھی۔ زمار لرزتے ہوئے سنبھلا، ایک نظر اس بکھری ہوئی چٹان پر ڈالی اور فوراً رینا کی طرف دیکھنے لگا۔ اسی لمحے اس کی نظریں رینا کے ماتھے پر جم گئیں، جہاں شاہِ سُموم کا تاج جگمگا رہا تھا۔
،وہ ہچکچاہٹ اور حیرت میں ڈوبا ہوا بولا
“کیا یہ تاج…؟”
اس نے سوال کو وہیں ادھورا چھوڑ دیا، گویا الفاظ کا بوجھ اس کے حلق میں اٹک گیا ہو۔
،رینا نے اسے کھڑا کرنے کے لیے سہارا دیا۔ اس کی آواز نرم مگر پُراعتماد تھی
“یہ شاہِ سُموم کی طرف سے مجھے ملا تحفہ ہے… یہ اب میری ملکیت ہے۔”
،زمار نے بمشکل کھڑے ہوتے ہوئے کانپتی آواز میں سوال کیا
“تو کیا… شاہِ سُموم کی طاقت… لوٹ آئی ہے؟”
رینا نے ایک لمحے کو خاموشی سے تھوڑے فاصلے پر کھڑے شاہِ سُموم کی طرف دیکھا، اس کی آنکھوں میں تشکر کی روشنی جھلک رہی تھی۔
،پھر آہستہ سے بولی
“ہاں… اور وہی ہیں جنہوں نے تمہیں اس قید سے آزادی دلائی۔”
زمار نے نگاہ اٹھائی۔ اس کی آنکھوں میں حیرت، عقیدت اور شکر گزاری کی جھلک تھی۔ اس لمحے وہ جان چکا تھا کہ شاہِ سُموم محض ایک نجات دہندہ نہیں بلکہ اس کا اصل محسن ہے… وہ محسن جس نے اسے ابدی اذیت اور تاریکی سے نکال کر زندگی کی روشنی میں واپس لا کھڑا کیا تھا۔
شاہِ سُموم نے رینا کی طرف قدم بڑھائے اور آہستہ سے ہاتھ بڑھایا۔ یہ خاموش اشارہ تھا، میرے پاس آؤ۔
رینا فوراً تیز قدموں سے بڑھی اور اس کا ہاتھ تھام لیا۔ لمحہ بھر میں شاہِ سُموم کا وجود دھیرے دھیرے کالے دھوئیں میں تحلیل ہونے لگا۔ یہ دھواں سانپ کی مانند رینا کے گرد گھومنے لگا، پھر گول دائروں کی شکل میں پورے وجود کو لپیٹنے لگا۔ دھوئیں کی گردش لمحہ بہ لمحہ تیز ہوتی گئی اور اچانک رینا کا وجود اس کی گرفت میں اوپر اٹھنے لگا۔ وہ خلا کو چیرتی ہوئی، روشنی اور اندھیرے کے راستوں سے گزرتی، آزاد دنیا کی سمت بڑھ گئی۔
اس کے پیچھے باقی تمام سیاہ سائے بھی خلا سے نکلنے لگے۔ ان میں سے چند سپاہی زمار کے قریب آئے، اسے فولادی گرفت میں جکڑ کر اوپر اٹھایا اور خلا کے پردے سے باہر لے گئے۔
اب شاہِ سُموم اور اس کی فوج کا رُخ شنداق کی طرف تھا۔ شنداق… وہ بادشاہ جو پہلے ہی جنگ کے لیے تیار بیٹھا تھا۔
دونوں جانتے تھے کہ یہ ٹکر ہولناک ہوگی، لیکن انجام کا علم کسی کو نہیں تھا۔ پھر بھی دونوں اپنی پوری طاقت کے ساتھ اس خونریز معرکے کے لیے آمادہ تھے۔
°°°°°°°°°°
:آبیاروس اور کازمار کا سامنا
اگرچہ آبیاروس کی فوج میلوں دور سے پیش قدمی کرتے ہوئے آگے بڑھ رہی تھی، مگر اس کی عقابی نگاہوں نے آسمان پر ابھرتا کالا دھواں فوراً دیکھ لیا۔ دھواں لمحہ بہ لمحہ گھنا ہوتا گیا اور پھر ایک انسانی وجود میں ڈھل گیا۔ آبیاروس پلک جھپکنے سے پہلے ہی سمجھ گیا کہ یہ شاہِ سُموم ہے، جو نمودار ہو کر کچھ وقت کازمار کے پاس رکا اور پھر واپس لوٹ گیا۔
مگر دوسری طرف کازمار نے اپنی فوج کے ساتھ پیش قدمی جاری رکھی۔ اب کسی شک کی گنجائش نہ رہی تھی، کازمار نے شاہِ سُموم کے ساتھ اتحاد کر لیا تھا۔ اس حقیقت نے خطرے کو کئی گنا بڑھا دیا تھا۔
آبیاروس کے دل میں جیسے ہی یہ احساس انگارے کی طرح دہکا، اس نے بازو آسمان کی طرف اٹھایا۔ اگلے ہی لمحے اس کی پوری فوج قدم روک کر پتھروں کی مانند کھڑی ہوگئی۔ اس کے پیچھے چالیس ہزار فولادی سپاہی صف بستہ کھڑے تھے، اور ان کے پیچھے ظّلاب کی لہر خیز فوج تھی… پانی سے تراشے ہوئے وہ انسانی وجود جو غضبناک سمندر کی طرح بے قابو ہو کر لہرا رہے تھے۔
آبیاروس پلٹا اور اپنی ظّلاب فوج پر نگاہ ڈالی۔ یہ وہ فوج تھی جو اپنی کوئی سوچ یا ارادہ نہیں رکھتی تھی، ان کی ہر حرکت صرف آبیاروس کے دماغی سگنل پر منحصر تھی۔ وہ جیسے ہی آنکھیں موند کر دوبارہ سامنے کی طرف متوجہ ہوا، فضا پر ایک ہیبت ناک سکوت طاری ہوگیا۔
اگلے ہی لمحے لاکھوں کی ظّلاب فوج اپنے جسمانی خول سے محروم ہو گئی۔ وہ سب پانی میں ڈھل کر ایک ہولناک دھڑام کے ساتھ زمین پر گرنے لگے۔ لمحوں میں ساری زمین، پانی کے چھناکے کی آوازوں سے گونج اٹھی۔ ہر طرف پانی ہی پانی پھیل گیا۔
یہ پانی اب ایک بے قابو سیلاب کی شکل میں ان کے قدموں کے بیچ سے بہتا ہوا آگے بڑھنے لگا۔ مگر آگے جا کر اچانک اس نے اپنی شکل بدلی… پانی ایک زبردست بھنور میں تبدیل ہوگیا۔
کازمار جنگ کی نیت سے آیا تھا، مگر پہلا وار آبیاروس نے کر دیا تھا۔ بھنور اپنی تیز گردش میں اردگرد کے ہر قطرے کو کھینچنے لگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے سارا پانی اکٹھا ہو کر ایک ہیبت ناک عظیم الجثہ وجود میں ڈھل گیا۔
کازمار نے جیسے ہی چند میل دور ایک خوفناک بھنور کو جنم لیتے دیکھا تو اس کی آنکھوں میں تشویش اور غصے کی چمک ابھر آئی۔ وہ فوراً سمجھ گیا کہ آبیاروس وقت سے پہلے ہی اپنا مہلک وار کر چکا ہے۔
،کازمار نے یک دم قدم روکے اور اپنی گرجدار آواز میں حکم دیا
“!…دائرہ بناؤ”
اس کی آواز زمین و آسمان پر گونجی اور لمحوں میں ہزاروں سپاہی متحرک ہو گئے۔ وہ اپنی جگہوں سے سرکتے ہوئے گولائی میں صفیں بنانے لگے۔ ایک دائرے کے اندر دوسرا دائرہ بنتا گیا۔ یہاں تک کہ ایک وسیع و عریض گول دائرہ دار حصار وجود میں آگیا۔ ہر سپاہی اپنے مقام پر جم کر کھڑا ہو گیا، گویا وہ کسی مہیب دیوار کے اینٹیں ہوں۔
اس دوران بھنور کی گردش مزید تیز ہو چکی تھی۔ وہ زمین پر گول چکر میں گھومتے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا۔ بھنور کسی لٹو کی طرح زمین پر تھوڑی جگہ سمیٹے ہوئے تھا لیکن جوں جوں آسمان تک بلند ہوتا جارہا تھا، اس کا پھیلاؤ بڑھتا جارہا تھا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے آسمان سے طاقت کھینچ کر زمین تک پہنچا رہا ہوں۔ بھنور کی اونچائی سے تیز لہر پیدا ہوتی جو تیزی سے نیچے کی طرف لپکتی اور پھر گہرے دھماکوں کے ساتھ زمین پر گر جاتی۔ اس کی گھن گرج فضا کو لرزا رہی تھی، جیسے زمین کے اندر سے کوئی دیو بیدار ہو کر باہر نکلنے والا ہو۔ اب وہ ہولناک بھنور کازمار کی فوج کی طرف لپک رہا تھا۔
،کازمار نے دونوں ہاتھ فضا میں بلند کیے اور آسمان کو چیرتی ہوئی اس کی آواز گونجی
“!…تیار رہو… بھڑکیلی آگ کے لیے… ٹکراؤ کے لیے”
آتشیں سپاہیوں نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا دیئے اور ہاتھوں سے نیلی آگ کی تیز لپٹیں نمودار ہونے لگیں۔ ان کی آنکھوں میں خوف کم اور جنون زیادہ تھا۔ ہر سپاہی جانتا تھا کہ یہ کوئی عام پانی نہیں، بلکہ ایک زندہ قہر ہے جو سب کچھ بہا لے جائے گا۔
بھنور اب اتنا قریب آ چکا تھا کہ اس کی گونج سے زمین کانپنے لگی تھی۔ اس کی رفتار اور طاقت اس قدر شدید تھی کہ یوں لگ رہا تھا جیسے راہ میں آنے والی ہر شے کو پلٹ کر نیست و نابود کر دے گا۔
°°°°°°°°°°
…جاری ہے
