ناول درندہ

قسط نمبر 44

باب پنجم: کاسر العاکم

مصنف: زیاد اصغر زارون

°°°°°°°°°°

کازمار کے سپاہی منظم ترتیب سے اپنی صفیں مکمل کر چکے تھے۔ ان کی ہولناک موجودگی فضا میں ایک گھٹن پیدا کر رہی تھی۔ وہ کمان کے خم کی طرح جھک کر کسی بھی ٹکراؤ کے لیے تیار کھڑے تھے۔ ہر سپاہی کی آنکھوں میں وحشی پن چمک رہا تھا۔ وہ کازمار کے چار احکام میں سے پہلا مرحلہ “پھیلاؤ” انجام دے چکے تھے۔ اب تمام نگاہیں اگلے حکم کی تکمیل پر جمی تھیں۔ “گھیراؤ”۔ لیکن یہ مرحلہ تب ہی مکمل ہو سکتا تھا جب ظّلاب کا سیلابی ریلا ایک بار پھر ان پر موت بن کر ٹوٹ پڑتا۔
فضا میں ایک خوفناک، سنسناتا ہوا ٹھہراؤ تھا۔ ہر طرف سناٹا چھایا ہوا تھا، جو آنے والی تباہی کا پیش خیمہ تھا۔ پانی کے ٹھاٹھیں مارتے غیض و غضب سے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کسی بھی لمحے بپھر کر ان کی صفوں پر لپکنے والا ہے۔ یہ وقفہ ایسا تھا جیسے قیامت سے پہلے کی ایک آخری، سانس روک دینے والی خاموشی ہو۔

اچانک، سارا پانی ایک بڑی، قہر آلود لہر کی شکل میں مجتمع ہوا اور اگلے ہی پل ایک وحشی درندے کی طرح سپاہیوں کی صفوں کی طرف بڑھا۔ موت کا یہ ریلا ان کی طرف تیزی سے آتا دیکھ کر، تمام سپاہیوں نے دونوں اطراف سے جگہ بدلتے ہوئے پوری طاقت سے آگ برسانا شروع کر دی۔ پانی کی وہ ہولناک لہر اب بالکل ان کے قریب پہنچ چکی تھی، اس کا شور کان پھاڑ رہا تھا۔ کمان کے خم جیسی ان کی صفیں اب تیزی سے گولائی میں پھیل کر اس خوفناک سیلابی ریلے کو گھیرنے لگیں۔ یہ کوئی جنگ نہیں تھی، یہ بقا کا وحشی کھیل تھا جس میں ہر لمحہ موت کا خوف غالب تھا۔

پانی کی وہ خوفناک اور بلند لہر تیزی سے سپاہیوں کے بنتے دائرے میں داخل ہوئی۔ اسی لمحے، کازمار نے دونوں ہاتھ آگے بڑھا کر شدید آگ برسانا شروع کر دی۔ سپاہیوں کا نشانہ لہر کے نچلے حصے پر تھا، جب کہ کازمار لہر کے درمیانی حصے پر اپنی غضب ناک آگ کی بارش کر رہا تھا۔ لہر کے پہلی صف چیرنے سے پہلے ہی، اس پر نیلے رنگ کی آگ کا جہنم کھول دیا گیا تھا۔ کچھ سپاہی نچلے حصے پر، کچھ درمیانی حصے پر اور کچھ آخری حصوں پر آگ برسا رہے تھے۔ ان سب کی صرف ایک ہی کوشش تھی کہ اس بار اس لہر کو کسی بھی قیمت پر گرنے نہ دیا جائے۔

اس برستی ہوئی آگ میں لہر کا پانی کھول رہا تھا۔ ہر طرف ہولناک بھاپ کا ایک بڑا طوفان آسمان کی طرف بلند ہو رہا تھا، جس میں گھٹن محسوس ہو رہی تھی۔ لہر کا دیو ہیکل حجم تیزی سے کم ہوتا جا رہا تھا۔ لہر کا حجم کم ہوتے دیکھ کر سپاہیوں کے چہروں پر ایک وحشی جوش ابھر آیا۔ وہ اب وحشت زدہ آوازوں میں دہاڑتے اور چیختے ہوئے مزید شدت اور جنون سے آگ برسانے لگے تھے۔ جہاں کہیں بھی پانی گرنے لگتا، وہاں سے آگ کا ایسا زبردست طوفان ٹکراتا کہ پانی وہیں فضا میں معلق رہنے پر مجبور ہو جاتا۔ یہ ایک جنونی مقابلہ تھا جہاں آگ اور پانی ایک دوسرے کو فنا کرنے پر تُلے ہوئے تھے۔

اگلے ہی پل کازمار نے غصے میں آگ برساتے ہوئے اپنے قدم آگے بڑھا دیئے۔ وہ اپنے سپاہیوں کی صفیں چیرتا ہوا بجلی کی سی تیزی سے آگے بڑھنے لگا۔ پانی کی وہ تیز، زندہ لہر، سپاہیوں کے دائرے میں ایسے مچل رہی تھی جیسے کسی چوہے کو دائروی پنجرے میں بند کر دیا گیا ہو اور بے چینی سے باہر نکلنے کی کوشش میں ہو۔ لیکن مضبوط دیواریں اس کی قید بن چکی ہوں۔
ساری صفیں پار کرتے ہوئے کازمار لہر کے بالکل قریب پہنچ گیا۔ اس بار وہ آگ برساتے ہوئے ہی ہلکا سا آگے جھکا، سانس چند لمحے روکی اور پھر ایک خوفناک دہاڑ کے ساتھ اپنے پورے وجود سے آگ کی ایک تیز اور تباہ کن لہر چھوڑی جو ظّلاب کے طوفانی ریلے سے ٹکرا گئی۔ سارا پانی ایک ہی وار میں بھاپ بن کر ہوا میں تحلیل ہو گیا۔

جہاں چند لمحے پہلے ایک خوفناک طوفانی لہر موجود تھی، وہاں اب صرف گھٹن اور بھاپ کا ایک ہولناک بادل اٹھ کر فضا میں پھیل رہا تھا۔ آبیاروس کی ظّلاب فوج مٹ چکی تھی۔ اگرچہ اس کے پہلے حملے نے کازمار کو کافی نقصان پہنچایا تھا اور اس کے ہزاروں آتشیں سپاہی تباہ ہو گئے تھے، لیکن یہ کافی نہیں تھا۔ آبیاروس جس حد تک کازمار کو کمزور کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا، وہ اس ہدف کو حاصل نہیں کر پایا تھا۔ ایک خوفناک خاموشی ہر طرف چھا گئی۔

موت کے اس ہولناک کھیل میں پہلی فتح کے بعد، کازمار کے سپاہی وحشیانہ جوش سے چیخ رہے تھے اور دہاڑ رہے تھے۔ ان کی آوازیں پورے میدان میں گونج رہی تھیں، جو اب بھاپ اور راکھ سے اٹا ہوا تھا۔ ہر سپاہی کے چہرے پر فتح کا ایک بھیانک اور جنونی تاثر تھا۔
کازمار، جس کے چہرے پر چند لمحے پہلے تک ایک گہرا اضطراب اور بے چینی چھائی ہوئی تھی، اب اس کی جگہ ایک مسکراتی ہوئی رونق لوٹ آئی تھی۔ یہ مسکان کسی عام انسان کی نہیں، بلکہ ایک ایسے بادشاہ کی تھی جس نے تباہی کے دہانے پر کھڑے ہو کر فتح حاصل کی تھی۔ انہوں نے ایک بڑی رکاوٹ کو پار کر لیا تھا اور اب ان کا غرور آسمان کو چھو رہا تھا۔ یہ فتح محض ایک کامیابی نہیں تھی، بلکہ آنے والے خوفناک تصادم کی ایک جھلک تھی۔

°°°°°°°°°°

بارش تھم چکی تھی، آسمان سے برستی آگ بھی رک گئی تھی مگر دونوں گاڑیاں پانی کے تیز بہاؤ میں بہتی ہوئی سڑک سے اتر کر ایک عفریت جیسے برساتی نالے میں جا گری تھیں۔ پانی لمحہ بہ لمحہ گاڑی کے اندر بڑھتا چلا جارہا تھا۔ نالے کی وحشی لہر اتنی تیز تھی کہ بار بار گاڑی کو الٹ دیتی اور ہر بار الٹنے پر حورا، مومنہ خاتون اور آبرو کی چیخیں گاڑی کے اندھیرے قید خانے میں خوف کی گونج بن کر ٹکرا جاتیں۔ دل ایسے لرز رہے تھے جیسے پسلیوں کا پنجرہ کسی بھی لمحے ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوجائے۔

بپھرے ریلے نے گاڑی کو دور تک گھسیٹ لیا تھا۔ اب وہ اس مقام پر تھی جہاں نالہ چوڑا ہو رہا تھا، لہٰذا پانی کا بہاؤ اگرچہ کچھ مدہم پڑ گیا تھا مگر خطرہ لمحہ بھر کو بھی کم نہیں ہوا۔ گاڑی کا انجن مکمل طور پر پانی میں ڈوب چکا تھا۔ چھت اور پچھلے شیشے کے سوا ہر حصہ پانی کے اندھے غرّاتے طوفان میں دفن تھا۔ اندر، ان کے گھٹنوں تک پانی بھر چکا تھا اور بڑھتا جا رہا تھا… جیسے کسی پوشیدہ ہاتھ نے ان کے قدموں کو جکڑ لیا ہو اور اب انہیں آہستہ آہستہ قبر میں اتارا جا رہا ہو۔

اب گاڑی نالے کے بے رحم پانی کے ساتھ بہے جا رہی تھی مگر حیرت انگیز طور پر اب وہ الٹ نہیں رہی تھی۔ زافیر نے تیزی سے ڈرائیور کی طرف دیکھا، اس کی آنکھوں میں ایک ہی فیصلہ چل رہا تھا۔

،وہ سرگوشی کی مانند مگر تیز لہجے میں بولا
“میں پچھلا شیشہ توڑنے والا ہوں۔ جیسے ہی شیشہ ٹوٹے گا، تم آنٹی کو لے کر فوراً باہر نکلنا… اور انہیں اس ریلے سے باہر لے جانا۔”

یہ کہہ کر اس نے جھٹکے سے سیٹ بیلٹ کھولا اور پیچھے کی طرف مڑنے ہی والا تھا کہ اچانک ڈرائیور نے اس کا بازو آہنی گرفت میں تھام لیا۔

،اس کی بھاری، کانپتی ہوئی آواز خاموشی کو چیر گئی
سر…! یہ بلٹ پروف گاڑی ہے۔ وہ شیشہ کبھی نہیں ٹوٹے گا۔”

“ہمیں یہیں بیٹھ کر انتظار کرنا ہوگا… جب تک یہ گاڑی اندر سے مکمل طور پر پانی سے بھر نہ جائے۔

یہ الفاظ بجلی کی طرح زافیر کے اعصاب میں اتر گئے۔ اس کے دل کو جھٹکا لگا، سانس ایک لمحے کو رک سی گئی۔ اپنی عجلت پر اسے اپنی ہی نادانی کا احساس ہوا اور وہ دھیرے سے واپس سیٹ پر گر سا گیا۔ پانی کی بڑھتی سطح اب اس کے گھٹنوں سے اوپر آ رہی تھی۔

وہ مڑا اور حورا کی آنکھوں میں جھانکا جو خوف سے لرز رہی تھیں۔

،آواز بھاری اور سنجیدہ تھی، جیسے ہر لفظ موت کا اعلان ہو
“کیا تمہیں تیرنا آتا ہے؟”

حورا نے کپکپاتے ہونٹوں اور لرزتے سر کے ساتھ نفی میں اشارہ کیا۔

” …اس کے گلے سے گھٹی گھٹی سی آواز نکلی، “نہیں

یہ سن کر زافیر چند لمحے پتھر کا مجسمہ بنا بیٹھا رہا۔

پھر اچانک جیسے کسی آگ نے اس کے اندر فیصلہ بھڑکا دیا ہو، اس نے جھپٹ کر سیٹ کا ہیڈ ریسٹ کھینچ کر نکال لیا۔

،اس کی آواز خوف اور جلدی میں تیزی سے ابھری
“!…ہم پانی بھرنے کا جوکھم نہیں اٹھا سکتے”

یہ کہہ کر اس نے ہیڈ ریسٹ پوری قوت سے سن روف پر دے مارا۔ پہلی ضرب پر شیشے میں دو گہرے زخم اُبھر آئے۔ دوسری ضرب پوری شدت سے ماری تو شیشے میں لمبی دراڑیں دوڑ گئیں۔ تیسری ضرب… اور لمحہ بھر بعد شیشہ چیختے ہوئے کرچیوں میں ٹوٹ کر سیٹوں پر بارش کی طرح برس گیا۔ گاڑی کے اندر ایک سرد، خوفناک خاموشی چھا گئی۔

،زافیر نے سانس بھرتے ہوئے ڈرائیور کی طرف دیکھا اور حکم بھری آواز میں بولا
!اب فوراً باہر نکلو۔ تمہارے بعد آنٹی مومنہ کو بھیجوں گا۔ جیسے ہی وہ نکلیں… انہیں سنبھال لینا۔ یاد رکھنا”

“گاڑی تھامے رکھنا… یہ اب تمہاری ذمہ داری ہیں۔

ڈرائیور کے چہرے پر پسینے اور خوف کے قطرے پانی میں گھل رہے تھے۔ وہ لرزتے ہاتھوں کے ساتھ اپنی سیٹ سے اٹھا، سن روف سے رینگتے ہوئے اوپر نکلا اور گاڑی کی چھت پر لیٹ گیا، جیسے سانس لینے کے لیے آخری پناہ ملی ہو۔

اب زافیر نے مومنہ خاتون کا کانپتا ہوا ہاتھ تھاما۔ ان کے وجود سے بے بسی ٹپک رہی تھی۔ انہیں سہارا دیتے ہوئے آگے بڑھایا۔ آہستہ آہستہ انہیں سن روف تک لے آیا اور دونوں ہاتھوں سے سہارا دے کر باہر دھکیل دیا۔ ڈرائیور نے جھپٹ کر ان کا ہاتھ تھاما اور اگلے ہی پل، اندھیری موت کے بہاؤ میں چھلانگ لگا دی۔ کالا مٹیالا پانی انہیں نگلنے کو لپکا لیکن ڈرائیور نے جان کی بازی لگا کر مومنہ خاتون کو تھامے رکھا اور بہاؤ کے رخ پر بمشکل تیرنے لگا۔

گاڑی کے اندر پانی اب بےرحمی سے اوپر چڑھ رہا تھا۔ صرف ایک دو منٹ باقی تھے کہ چھت کے سوراخ سے بھی پانی ابل کر اندر بھرنے والا تھا اور یہ گاڑی مکمل طور پر پانی میں غرق ہونے والی تھی۔

چلو حورا… آگے بڑھو!” زافیر نے کپکپاتے ہوئے ہاتھ سے اسے تھاما اور سن روف کے نیچے کھڑا کیا۔”

پھر آبرو کا نازک سا ہاتھ جکڑ کر اسے بھی قریب کھینچ لیا۔ لمحے گزر رہے تھے اور ہر لمحہ ان کا سانس تنگ ہوتا جا رہا تھا۔

زافیر سب سے پہلے خود سن روف کے کنارے لپکا اور پوری طاقت سے باہر نکل آیا۔ اس کی سانس پھولی ہوئی تھی۔ پھر اس نے ہاتھ نیچے بڑھایا اور آبرو کو اوپر گھسیٹ لیا۔

،اسے اپنی کمر سے لگاتے ہوئے اس کی آواز بجلی کی کڑک کی طرح نکلی
“!مجھے مضبوطی سے تھامے رکھو”

ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اس نے دوبارہ نیچے جھانکا اور حورا کو بھی اوپر کھینچ نکالا۔ پانی کی بو، گندگی اور اندھیرا ان سب کو لپیٹ میں لیے جا رہا تھا۔ زافیر نے دونوں کے گرد بازو کس دیے اور مناسب وقت کا انتظار کرنے لگا۔
اسی لمحے سن روف سے بھی پانی دھاڑتا ہوا اندر داخل ہوا۔ گاڑی جھٹکے کھا کر مزید ڈوبنے لگی۔ نیچے گاڑی ایسے غرق ہو رہی تھی جیسے کوئی دیو پانی میں نگل رہا ہو۔

،زافیر نے ایک پل کو ڈوبتی گاڑی کو دیکھا پھر اس نے کانپتی ہوئی آواز میں دونوں کو کہا
“جہاں تک ممکن ہو… پانی میں ہاتھ پیر مارتے رہنا۔ لیکن گھبرانا مت… میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا۔”

دونوں نے خوف سے کپکپاتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔ زافیر نے ایک پل کے لیے ڈرائیور اور مومنہ خاتون پر نظر ڈالی جو بہاؤ کے ساتھ جدوجہد کرتے ہوئے کنارے کے قریب پہنچ چکے تھے۔ پھر اس نے دانت بھینچ کر دونوں کو کودنے کا اشارہ دیا اور خود بھی موت کے منہ جیسے اس نالے میں چھلانگ لگا دی۔

پانی کی برف سی ٹھنڈ اور وحشی شور نے ان کے وجود کو گھیر لیا۔ زافیر نے دونوں کو ایک ساتھ تھام رکھا تھا مگر بہاؤ اتنا بے رحم تھا کہ ہر لمحے لگتا تھا جیسے ان کے جسم اس کی گرفت سے چھوٹ کر اندھیروں میں گم ہو جائیں گے۔ وہ انہیں سہارا دیتے ہوئے اور اپنی سانس قابو میں رکھتے ہوئے پانی کو ترچھا کاٹنے لگا۔

ابتدا کے چند لمحے اس پر قیامت ڈھا گئے۔ بہاؤ بار بار اسے گھماتا، کھینچتا، گہرائی میں لے جانے کی کوشش کرتا۔ اس کی آنکھوں میں جلتا ہوا پانی چبھ رہا تھا، کانوں میں شور کانٹے کی طرح گھس رہا تھا مگر اس کے بازو اپنی گرفت سے ڈھیلے نہیں ہوئے۔ وہ بار بار لڑکھڑا رہا تھا، انہیں سنبھالنے کے چکر میں اسے غوطے لگ رہے تھے لیکن وہ ہمت باندھے بہاؤ کے رخ پر، کنارے کی طرف بڑھتا رہا۔

کچھ پل مزید لگے خود کو سنبھالنے میں لیکن آخر اس نے اپنی سمت سیدھی کر لی۔ اس کے سینے میں فولاد سا عزم بھر گیا۔ وہ کنارے کی طرف تیرنے لگا، پانی کی ہر بپھری لہر کو چیرتا ہوا۔
خطرہ اب بھی سر پر منڈلا رہا تھا مگر امید کی لکیریں ان کے قریب جھلملانے لگی تھیں۔ بس تھوڑا سا اور… پھر وہ اس خونخوار سیلاب کے جبڑوں سے نکلنے والے تھے۔

°°°°°°°°°°

زافیر اور اس کے ساتھی آخرکار موت کے جبڑوں جیسے سیلاب سے نکلنے میں کامیاب ہو چکے تھے۔ مگر باہر کی دنیا اب بھی کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھی۔ آسمان پر چھائی لالی مٹ چکی تھی لیکن گہرے سیاہ بادل ابھی تک پھیلے ہوئے تھے۔ ہوا میں نمی اور گندگی کے ساتھ ایک ان دیکھی وحشت رینگ رہی تھی۔

وہ سب ایک قریبی آبادی کی طرف بڑھ رہے تھے، جہاں شاید عارضی پناہ مل سکے۔ آبرو اور مومنہ خاتون پیچھے نیم مردہ قدموں سے چل رہی تھیں، آنکھوں میں خوف کی چھاپ اور کپڑوں سے اب بھی پانی ٹپک رہا تھا۔ گارڈز بھی ان کے قریب بکھر کر چل رہے تھے مگر ان کے چہروں پر بےبسی اور خوف رقصاں تھا۔ بھاری اسلحہ وہ گاڑیوں میں چھوڑ آئے تھے، بس اب دو کے پاس پستولیں تھیں جو پینٹ میں اڑسی ہوئی کسی آخری آس کی طرح ساتھ لگی تھیں۔

زافیر ان سب سے چند قدم آگے چل رہا تھا۔ اس کے ساتھ ہی حورا دبے قدموں آگے بڑھ رہی تھی۔ وہ بار بار آسمان کی طرف دیکھتی اور پھر زمین پر نظریں جھکا لیتی، جیسے کچھ ناقابلِ فہم اس کے اعصاب میں اتر رہا ہو۔

چلتے چلتے اس نے اچانک زافیر کی طرف دیکھا۔

،اس کی آنکھوں میں سوال سے زیادہ خوف چھپا ہوا تھا۔ کپکپاتی آواز میں وہ بولی
“!کیا آپ کو پتا ہے یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ یہ کیسا عذاب ہے؟ آسمان سے بارش کے ساتھ آگ برسنا… یہ تو کبھی بھی نہیں ہوا”

زافیر نے حورا کا لرزتا ہوا ہاتھ تھام لیا۔ اس کی آنکھوں میں حیرت اور اضطراب کی سرخی بھڑک رہی تھی۔

،چلتے ہوئے وہ آہستہ آواز میں بولا
مجھے بھی نہیں معلوم… یہ کیا ہورہا ہے۔ سات صدیوں میں کئی بار تمہاری دنیا میں آیا ہوں۔”

کئی بار سالوں اس سر زمین پر گزارے… مگر نہ تو متوازی دنیا میں کبھی ایسا دیکھا، نہ ہی اس حقیقی دنیا میں کبھی آگ کے ایسے طوفان کا سنا ہوا۔

“میں اتنا ہی حیران و پریشان ہوں… جتنا تم ہو۔

،حورا نے اس کی بات غور سے سنی، پھر یکدم اس کی آواز میں ایک پختہ یقین کی گھنٹی بجی
“یہ قدرت کا قہر نہیں ہے… لازماً کہیں نہ کہیں کچھ گڑبڑ ہے جس نے یہ آگ برسا دی۔”

،زافیر کے قدم ایک لمحے کو رک گئے۔ وہ چونک کر اس کی طرف مڑا، آنکھوں میں سوال کی چمک بھڑک اٹھی
“تمہیں کیسے پتا کہ یہ قدرت کا قہر نہیں ہے؟”

حورا نے اس کا ہاتھ مزید مضبوطی سے تھام لیا، جیسے وہ خود بھی اس قوت سے سہارا لے رہی ہو۔

،چلتے ہوئے اس نے اس کی آنکھوں میں ڈوبتے ہوئے کہا
“کیونکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ میری امت پر اللہ تعالیٰ پچھلی امتوں والا اجتماعی عذاب کبھی نازل نہیں کرے گا۔”

یہ الفاظ سن کر ایک پل کے لیے فضا میں عجیب سکوت چھا گیا۔ کالی گھٹاؤں کے نیچے ان کے قدموں کی چاپ اور بہتے پانی کا شور سب مدھم لگنے لگا۔
،حورا نے تھوڑی دیر بعد سر اٹھایا، آنکھوں میں پختہ ایمان کی روشنی تھی جو اندھیرے کو چیرتی ہوئی نکل رہی تھی
…اسی لیے میرے ایمان کا تقاضا ہے کہ یہ قدرت کا عذاب نہیں… بلکہ کوئی بھیانک حادثہ ہے”

” کوئی ایسا حادثہ جو زمین پر بارش کے ساتھ آگ بھی برسا رہا ہے۔

زافیر خاموش رہا۔ اس نے کوئی جواب نہیں دیا، بس ہولے ہولے قدم بڑھاتا رہا۔ خاموشی اور بےبسی کے اس سفر میں وہ سب بالآخر ایک گاؤں کے دہانے پر پہنچ گئے۔ گاؤں پہاڑ کے دامن میں بسا ہوا تھا اور چونکہ برساتی نالہ اس سے نیچے بہہ رہا تھا، اس لیے پانی یہاں داخل نہیں ہو سکا۔ مگر آسمان سے برسی ہوئی آگ… اس نے اس بستی کو بھی جھلسا کر رکھ دیا تھا۔

گاؤں کے اندر داخل ہوتے ہی موت کی بُو، جلی ہوئی لکڑی اور گوشت کی سڑاند ان کے نتھنوں سے ٹکرائی۔ چند گھروں سے عورتوں کے بین اور رونے پیٹنے کی آوازیں ابھر رہی تھیں۔ لگتا تھا اس آفت نے کئی گھروں کے چراغ گل کر دیے تھے۔

وہ سب احتیاط سے قدم رکھتے آگے بڑھتے گئے۔ اردگرد کی جھونپڑیاں اور مٹی کے مکان غربت کی تصویریں پیش کر رہے تھے۔ ٹوٹی ہوئی چارپائیاں، ادھ جلے برتن اور مکانوں کی کچی دیواریں… سب اس گاؤں کی بےبسی کا اعلان کر رہی تھیں۔

زافیر اور اس کے ساتھیوں کی آنکھوں میں الجھن تھی… سمجھ نہیں آ رہا تھا کہاں رُکیں، کہاں جائیں۔
ایسے میں اچانک ایک خاتون قریب آ گئی۔ وہ باقی گاؤں والوں سے مختلف دکھائی دیتی تھی۔ لباس صاف ستھرا، چہرے پر سنجیدگی اور انداز سے لگتا تھا کہ کسی نسبتاً خوشحال گھرانے کی ہے۔ اس نے ان سب کو یوں دیکھتے پایا جیسے یہ اجنبی راستہ بھولے ہوں۔

،وہ نرمی سے بولی مگر لہجے میں حیرت اور تجسس دونوں جھلک رہے تھے
“جی باجی… کتھے جانڑا جے؟ کیہڑی فوتگی تے آئے او؟”

،حورا نے نرمی سے بتایا
“ہم سیلابی ریلے میں بہہ گئے تھے۔ ہماری گاڑیاں بھی بہہ گئی ہیں اور… اور ہم رات گزارنے کے لیے یہاں آئے ہیں۔”

عورت نے افسوس سے “اوہ ہو…” کہہ کر سر ہلایا۔ اس کی نظریں ایک پل کو حورا سے ہٹ کر مومنہ پر جا ٹھہریں، پھر معصوم سی آبرو کے لرزتے چہرے پر رک گئیں۔ گاؤں کی ویرانی کے بیچ یہ ننھی کلی اسے اور زیادہ قابلِ رحم محسوس ہوئی۔ اس نے ایک نظر باقی گارڈز پر ڈالی، پھر تحمل سے زافیر کی طرف دیکھتے ہوئے اردو میں بولی،
“بھائی، آپ اپنی بیوی، بیٹی اور والدہ کے ساتھ ہمارے گھر آجائیں۔ لیکن… آپ کے محافظوں کو جانوروں والے باڑے میں رات گزارنی پڑے گی۔”

اس کی بات پر زافیر کے لبوں پر پھیکی سی مسکراہٹ ابھری۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سا سکون جھلکا جیسے انسانوں کی یہ چھوٹی سی ہمدردی اس کا انسانیت پر مزید یقین بڑھا رہی ہو۔

،وہ تحمل سے بولا
“کوئی مسئلہ نہیں باجی، بس رات گزارنے کو چھت مل جائے۔”

،چلیں پھر میرے ساتھ…” عورت نے نرمی سے کہا اور قدم آگے بڑھاتے ہوئے حورا کو خود ہی تعارف دیتے ہوئے بولی”
“میں زینب ہوں، آپ کا کیا نام ہے؟”
یونہی باتوں میں مصروف وہ تنگ گلیوں سے گزرتے ہوئے ایک دو موڑ مڑے۔ اردگرد ہر طرف جلی ہوئی کچی دیواروں کی سڑاند، آدھے جلے درختوں کی کرچیاں اور ویران چہروں والے لوگ دکھائی دے رہے تھے۔ کہیں کوئی عورت اپنے جل کر سیاہ ہو چکے چھپر کے سامنے دھاڑیں مار مار کر رو رہی تھی، کہیں کوئی بوڑھا خاموش بیٹھا آسمان کو دیکھ رہا تھا۔

زافیر ان سب مناظر کو خاموشی سے دیکھتا رہا۔ ہر قدم کے ساتھ اس کے دل میں عجیب سا بوجھ اترتا جا رہا تھا۔ وہ جب بھی ایسے مددگار انسانوں سے مدد پاتا تھا تو اسے لگتا تھا کہ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے اسے اپنے آپ کو بدلنے کی ضرورت تھی۔ اس کے دل میں انسانیت کے لیے محبت ہر پل اور گہری ہوتی جا رہی تھی۔

°°°°°°°°°°

غربت زدہ گاؤں میں بجلی تو موجود تھی لیکن خراب موسم کی وجہ سے بجلی بند ہوگئی تھی۔ پورا دیہات اندھیرے میں ڈوب چکا تھا۔ رات کی سیاہی اور بادلوں کی گرج، ہر منظر کو اور زیادہ خوفناک بنا رہی تھی۔ زینب کا گھر گاؤں کے باقی بوسیدہ گھروں کے مقابلے میں ذرا بہتر تھا۔ سرخ اینٹوں کی دیواروں پر چونا کیا گیا تھا اور صحن میں ایک طرف مٹی کا خشک چولہا اب بھی ٹھنڈا پڑا تھا، یوں لگ رہا تھا جیسے بارش رکنے کے بعد اسے نکال کر باہر رکھ دیا گیا ہو۔

کمرے کے اندر زینب ایک پرانی مگر صاف ستھری چارپائی پر بیٹھی تھی۔ وہ ایک خوش مزاج اور مددگار عورت تھی۔ اس نے حورا اور مومنہ خاتون کو اپنے جوڑے دیئے تھے اور زافیر کو اپنے شوہر کا قدرے بہتر جوڑا دے دیا تھا۔ آبرو کو بھی اپنی بیٹی کا جوڑا دے دیا تھا تاکہ وہ گیلے اور گندے کپڑوں سے آزاد ہوسکیں۔
ابھی اس کے سامنے حورا اور مومنہ خاتون تھیں، جو ابھی تک تھکن اور صدمے کے زیرِ اثر اپنی روداد سنا رہی تھیں۔ ان کی آواز میں وہ کپکپاہٹ تھی جو بار بار موت کا سامنا کرنے کے بعد ہی آتی ہے۔ زینب کی آنکھوں میں سنجیدگی اور دل میں دکھ جھلک رہا تھا، وہ ہر لفظ کو پوری توجہ سے سن رہی تھی۔

کمرے کے دوسرے کونے میں آبرو اور زینب کی بیٹی دبے دبے قہقہوں اور کھسر پھسر میں مگن تھیں۔ آبرو کی زندہ دلی اس لمحے بھی جھلک رہی تھی۔ وہ اجنبی ماحول میں بھی تیزی سے گھل مل گئی تھی جیسے خوف اور غم کی دھند کو اپنے ہنسنے بولنے سے کاٹ دینا اس کی عادت ہو۔

دوسری جانب، زینب کا شوہر دوسرے کمرے میں جنریٹر کے کنکشن سے نبرد آزما تھا۔ گاؤں کے لوگوں کی طرح وہ بھی بجلی بند ہونے پر، مٹی کے چراغ یا ٹمٹماتے لالٹین کے محتاج تھے لیکن مہمانوں کی موجودگی میں یہ کافی نہیں تھا۔ جنریٹر ان کے پاس ذاتی طور پر تو نہیں تھا مگر مہمانوں کی غیر متوقع آمد پر زینب کا شوہر مسجد سے کرایے پر جنریٹر لایا تھا تاکہ کم از کم گھر میں روشنی کا انتظام ہو سکے۔

صحن کے اوپر گھنے بادلوں کی گرج اور دور کہیں جلتی ہوئی لکڑی کی بھینی بھینی بو، ماحول کو مزید بوجھل بنا رہی تھی اور اس اندھیرے میں یہ چھوٹی سی روشنی کی کوشش زافیر کے دل میں پھر سے انسانوں کے لیے احترام کو جگا رہی تھی۔

کمرے میں اندھیرے کے ساتھ ساتھ مچھروں کی بھنبھناہٹ اور چھوٹے کیڑوں پتنگوں کی ٹکراؤ نے سب کو بے حال کر رکھا تھا۔ گویا تھکن اور خوف کے بعد یہ ایک نیا امتحان تھا۔ سب کی نظریں بس ایک امید پر جمی تھیں کہ جنریٹر کے چلتے ہی کم از کم پنکھے کی ہوا ان اذیت ناک لمحوں سے نجات دلا دے گی۔

چند ہی لمحوں بعد باہر سے جنریٹر کی بھاری گڑگڑاہٹ سنائی دی اور کمرے کا بلب ٹمٹمایا، پھر یکایک روشنی نے اندھیرے کو چیر دیا۔ ایک پل کو سب کے چہرے جگمگا اٹھے۔ زینب کے چہرے پر حقیقی خوشی کی لہر دوڑ گئی، جیسے اندھیرے کے بعد روشنی صرف کمرے میں ہی نہیں بلکہ اس کے دل میں بھی پھیل گئی ہو۔

،وہ فوراً کھڑی ہوئی اور جلدی سے بولی،
“آپ گپ شپ کریں، میں جلدی سے آپ کے لیے کھانا بنا لیتی ہو۔”

یہ کہہ کر وہ ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ تیزی سے کمرے سے باہر نکل گئی۔ اس کے جاتے ہی چند لمحوں کے لیے کمرے میں سکوت چھا گیا۔ صرف پنکھے کے گھومتے پروں کی آواز اور جنریٹر کی گڑگڑاہٹ باقی رہ گئی۔

اسی خاموشی کو توڑتے ہوئے حورا زافیر کے قریب جھک آئی۔

،اس کے لہجے میں نرمی بھی تھی اور فکر مندی بھی، وہ سرگوشی کے انداز میں بولی
“صبح منہ اٹھا کر واپس مت چل دیجیے گا۔ جاتے وقت ان کی بیٹی کو کوئی پیسے دے کر جانے ہیں۔”

زافیر نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں حیرانی تھی اور آواز میں معصوم سا سوال بھی۔
“پیسے کیوں دینے ہیں؟ اور ویسے بھی نوٹ سارے گیلے ہوچکے ہیں۔”

،حورا نے جھنجھلا کر ماتھے پر ہاتھ مارا اور بھڑک اٹھی
“تو باہر نکالیں نا کپڑوں سے…! مجھے دے دیں، میں جاتے وقت خود ہی دے دوں گی۔”

زافیر خاموشی سے اٹھا۔ دروازے کے قریب لٹکی اپنی پینٹ سے گیلی جیب ٹٹول کر نوٹ نکالے، جن پر پانی کی نمی اور سلوٹیں واضح تھیں۔ وہ دھیرے سے آ کر حورا کے ہاتھ میں تھما دیے۔

حورا نے نوٹ دونوں ہاتھوں سے لے کر فوراً چارپائی پر پھیلانا شروع کر دیے تاکہ نمی کچھ کم ہو جائے۔ ٹمٹماتے بلب کی روشنی میں گیلی کرنسی چمک رہی تھی اور اس لمحے زافیر خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ جیسے اس کے دل میں یہ سوال ابھی تک موجود ہو کہ کیا واقعی ان کی نیت شکریے کے بجائے پیسے دینے سے پوری ہوگی… یا یہ بس حورا کے دل کا سکون ہے؟

°°°°°°°°°°

زینب باورچی خانے میں لکڑی کے چولہے پر ہانڈی چڑھائے بیٹھی تھی۔ لکڑیوں کی ٹک ٹک اور دھواں کمرے کے کونے میں اٹک رہا تھا لیکن اس کی عادت سی ہو چکی تھی۔ وہ ایک ہاتھ سے ہانڈی ہلاتی اور دوسرے سے چولہے میں لکڑیاں سرکاتی جاتی۔

اسی وقت آبرو دبے قدموں وہاں آن پہنچی۔

،زینب نے پل بھر کے لیے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا، ہلکی سی مسکراہٹ دی اور دوبارہ ہانڈی کی طرف متوجہ ہو کر نرم لہجے میں بولی
“!…ہاں پتر”

،آبرو قریب آ کر چارپائی پر رکھے چھوٹے کپڑوں کے ڈھیر پر بیٹھ گئی اور نرمی سے بولی
“بابا کے لیے ایک گلاس دودھ چاہیے تھا، کیا وہ مل جائے گا؟”

،زینب نے فوراً لکڑیوں پر پھونک مار کر آگ بھڑکائی، پھر ہاتھ کے اشارے سے فریج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
“فریج میں پڑا ہے… پیلی بالٹی والا۔”

آبرو نے جلدی سے ایک ٹوکری میں سے شیشے کا صاف ستھرا گلاس نکالا اور فریج کھول کر دودھ انڈیلنے لگی۔ ٹھنڈے دودھ کی خوشبو کمرے میں پھیل گئی تو وہ بچوں جیسی معصومیت سے چونک کر بولی،
“کیا آپ کے گھر میں جامِ شیریں ہے؟”

،زینب کے چہرے پر ایک کھری مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے سر کو ذرا سا ہلایا اور ہنستے ہوئے کہا
“نہیں… وہ تو ہم صرف رمضان میں ہی لاتے ہیں۔”

آبرو کے لیے یہ معاملہ دل کو کاٹنے والا بن چکا تھا۔ پہلے تو وہ جامِ شیریں کے ذائقے اور خوشبو سے خون کی آمیزش چھپا لیتی تھی لیکن اب وہ کیا کرتی۔ اندر کی گھٹن اور باہر کی خاموشی نے اسے بوجھل کر دیا تھا۔ وہ ایک لمحے کے لیے کچھ سوچے بغیر شیڈ کی طرف بڑھی اور بےتکلفی سے چینی کا ڈبا اٹھا لیا۔ دودھ کے گلاس میں دو چمچ ڈال کر بے صبری سے چمچ گھماتی رہی۔ جیسے جیسے چینی حل ہوتی گئی، اس کی سانسیں تیز ہوتی گئیں۔ لیکن یہ سب بس ایک بہانہ تھا، ایک ڈھال… اصل طوفان اس کے دل میں اٹھ رہا تھا۔

چینی گھلنے کے بعد اس نے ایک نظر زینب پر دوڑائی، پھر دبے قدموں ٹوکری سے ایک چھری بھی اٹھا لی۔ نگاہوں میں خوف، دل میں ہچکچاہٹ اور قدموں میں لرزش لیے وہ باورچی خانے سے باہر نکلی۔ دھڑکتے دل کے ساتھ وہ دیوار کے پیچھے چھپ گئی اور زمین پر بیٹھ گئی۔

اس نے آستین اوپر چڑھائی، بازو ننگا کیا اور چھری ہاتھ میں لے کر کئی بار بازو پر رکھنے کی کوشش کی مگر ہر بار ہمت جواب دے جاتی۔ انگلیاں خوف سے پھسلنے لگیں۔ آخرکار اس نے آنکھیں زور سے بند کر لیں، دانت پیس لیے اور ایک ہی جھٹکے میں چھری بازو پر چلا دی۔

ایک ٹھنڈی مدہم سی کراہ اس کے لبوں سے پھسل گئی۔ زبان سے نکلی یہ ہلکی کراہ اندھیرے میں ہی دب گئی۔ جسم خوف اور درد سے کانپ گیا۔ لمحہ بھر کو وہ پتھرائی بیٹھی رہی، پھر آنکھیں کھول کر اپنے بازو کو دیکھا۔ سرخ قطرے موتیوں کی طرح ابھرنے لگے تھے اور پھر ایک ایک کر کے نیچے گرنے لگے۔

اس نے چھری زمین پر رکھی اور اپنے کپکپاتے ہاتھ سے گلاس اپنے بازو کے نیچے کیا۔ ہر قطرہ خون کا دودھ میں گِر رہا تھا اور دودھ کا سفید رنگ رفتہ رفتہ سرخی مائل ہوتا جا رہا تھا۔ جلد ہی گلاس خون جیسا لال ہوگیا۔ وہ سانس روک کر اسے دیکھتی رہی، جیسے اپنے ہی وجود کو خون میں تحلیل ہوتا محسوس کر رہی ہو۔

پھر اس نے کپکپاتے ہاتھ سے انگلی گلاس میں ڈبو کر خون کو اچھے سے مکس کیا۔ دودھ کا ہر قطرہ سیاہی مائل سرخی میں ڈوبنے لگا۔ لیکن جیسے ہی اس نے بازو پر نگاہ ڈالی تو دہشت نے اس کے حواس گم کر دیے۔ خون رُکنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ اس نے کانپتے ہاتھ سے زخم کو زور سے دبا دیا مگر اس کے ہاتھ کی ہتھیلی لمحوں میں سرخ تالاب بن گئی۔ بازو کی آستین کے نچلے کنارے بھی خون سے بھیگ کر چمکنے لگے تھے۔

وہ ہڑبڑاہٹ میں اردگرد نظریں دوڑانے لگی۔ اندھیرے میں کپڑوں والی ایک تار لٹکتی دکھائی دی۔ وہ گلاس اور چھری وہیں کچی زمین پر چھوڑ کر لپکی، کپکپاتی سانسوں کے ساتھ دوپٹہ جھٹکے سے کھینچا اور تیزی سے واپس آئی۔ ہر قدم پر اس کے پیچھے خون کے قطرے زمین پر ٹپک رہے تھے۔

اس نے دوپٹے کو بازو پر رکھتے ہوئے شدت سے دبایا، مگر خون بہنے کا سلسلہ تھمنے کے بجائے اور تیز لگ رہا تھا۔ اس کے کپکپاتے ہونٹوں پر ہلکی کراہیں تھیں اور آنکھوں میں وحشت بھری نمی۔

پہلے وہ ہمیشہ سرنج سے تھوڑا سا خون نکال لیتی تھی۔ وہاں سب کچھ قابو میں ہوتا۔ مگر اس بار… اس بار عجلت اور حماقت میں وہ اپنی ہی نس کاٹ بیٹھی تھی۔ یہ کوئی معمولی خراش نہیں تھی… یہ ایک کھلا زخم تھا جو مسلسل بہہ رہا تھا۔ اور یہ اس کے لیے ایک نئی اور جان لیوا مصیبت بن چکا تھا۔

°°°°°°°°°°

…جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *