ناول درندہ
قسط نمبر 46
باب پنجم: کاسر العاکم
مصنف: زیاد اصغر زارون
°°°°°°°°°°
ندیم نے اپنے خرافاتی منصوبے کی تکمیل سے پہلے قیدیوں کو پوری طرح تیار کر لیا تھا۔ آج اس نے انہیں پیٹ بھر کر انسانی گوشت کھلایا اور خون بھی خوب سیر ہو کر پلایا تھا۔ ذبح گاہ کے ماحول میں وحشت اور گھناؤنے جشن کی سی بو پھیل چکی تھی۔
اسی دوران زمین نے ہولناک انگڑائیاں لینی شروع کر دیں۔ بار بار آنے والے زلزلے کے جھٹکوں نے تہہ خانے اور ذبح گاہ کی مضبوط چھت کو لرزا کر رکھ دیا تھا۔ دیواروں ہِل رہی تھیں، فرش کپکپانے لگا اور لوہے کی زنجیریں آپس میں ٹکرا کر خوفناک شور پیدا کرنے لگیں لیکن یہ ایک بنکر کی مانند تھا جو کسی بھی آفت میں محفوظ تھا۔
ندیم کا دماغ اپنی ہی دنیا میں قید تھا۔ اس کی آنکھوں میں جنون کی چمک تھی اور ذہن میں ایک ہی خیال گونج رہا تھا۔
یہ دنیا گناہوں اور غلاظت سے بھر چکی ہے، اسی لیے آسمان سے آگ برسی ہے اور زمین چیخ اٹھی ہے۔ وہ خود سے بڑبڑاتا، اپنے فیصلے پر مزید پختہ ہوتا گیا۔ اس کے نزدیک وقت ہاتھ سے نکل رہا تھا، اگر اس نے دنیا کو گناہوں سے پاک نہ کیا تو معصوم لوگ بھی اس بوجھ تلے کچل کر مر جائیں گے۔
اور اب… اسی جنون کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے… وہ آخری اور سب سے خطرناک حربہ آزمانے والا تھا۔
ندیم اب ذبح خانے سے باہر نکلا تو اس کے ہاتھوں میں ایک بڑی ٹرے تھی۔ مگر اس ٹرے پر کھانے کے بجائے ایک چمکتا ہوا چاقو اور چھتیس انجیکشن رکھے تھے۔ ہر انجیکشن میں سرخ مائع بھرا تھا… وہی اس کا اپنا خون۔ یہ خون اب زہر بھی تھا اور دوا بھی، قید میں پڑے ہر سپاہی کے لیے ایک انجکشن مخصوص تھا۔
وہ آہستہ قدموں سے سلاخوں کے قریب آیا۔ ٹرے کو فرش پر رکھا تو لوہے سے ٹکرانے کی ہلکی کھنک تہہ خانے میں گونج گئی۔ پھر اس نے ٹرے سے چاقو اٹھا لیا۔ قیدیوں کی نظریں یکدم اس کے ہاتھوں میں جم گئیں۔ ان کی آنکھوں میں حیرت اور خوف کی ملی جلی جھلک تھی، جیسے وہ سوچ رہے ہوں کہ اب یہ خونی کھیل کس رخ پر مڑے گا۔
مگر دل کی گہرائی میں ان سب کو ندیم پر کامل یقین تھا۔ وہ اسے “چُنا ہوا” سمجھتے تھے… جیسے وہ خود بھی کسی خفیہ انتخاب کا حصہ ہوں۔ ان کے ذہنوں میں یہی گمان تھا کہ ندیم ان کے لیے وہی کرے گا جو بھلائی کا راستہ ہے، چاہے وہ بھلائی خون کے سمندر سے ہو کر ہی کیوں نہ گزرتی ہو۔
وہ سب کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے ایک قدم آگے بڑھا۔ اس کی آواز میں اب گونج تھی، جیسے ہر لفظ قید خانے کی دیواروں سے ٹکرا کر دلوں میں اتر رہا ہو۔
…میں شکر گزار ہوں زافیر صاحب کا”
جنہوں نے مجھے اپنا خونی بھائی بنایا۔
…اور آج
میں تم سب کو بھی وہی موقع دینے جا رہا ہوں۔
…لیکن یہ صرف ایک رشتہ نہیں ہوگا
یہ ایک عہد ہوگا، ایک طاقت ہوگی۔
…میں تمہیں اپنا خون پلاؤں گا
…تاکہ میری رگوں میں دوڑتی ہوئی طاقت
تمہارے جسم کا حصہ بن جائے۔
…یہ انعام ہے… قدرت کی طرف سے
،اسے قبول کرو اور میرا ساتھ دو
…تاکہ ہم مل کر دنیا سے جرم کا خاتمہ کر سکیں
“اور اس مٹتی دنیا کو بچا سکیں۔
یہ کہہ کر اس نے ٹرے پر رکھا چاقو اٹھایا اور اپنی کلائی پر ایک گہرا کٹ لگا دیا۔ خون دھار کی صورت فرش پر بہنے لگا، سلاخوں کے نیچے سے سرکتا ہوا قیدیوں کے قدموں تک پہنچنے لگا۔
،وہ مزید بلند آواز میں بولا
“آؤ! اپنے محسن کے خون سے وہ طاقت حاصل کرو… جو ہمارے مقصد کو حقیقت میں بدل سکے۔”
اندھیرے قید خانے میں اس کے الفاظ، خون کی بو اور جلتی ہوئی نگاہیں سب کو ایک لمحے کے لیے سحر زدہ کر گئیں۔
یہ کہہ کر ندیم نے سلاخوں کے بیچ سے ہاتھ آگے بڑھایا۔ خون سے لال ہوتی کلائی ان قیدیوں کے سامنے تھی۔
ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی۔ سب کی نظریں اس سرخ بہاؤ پر جمی رہیں۔
بالآخر ایک قیدی جھجکتے ہوئے آگے بڑھا۔ اس کی سانسیں بھاری تھیں، آنکھوں میں خوف اور لالچ دونوں جھلک رہے تھے۔ وہ ندیم کی کلائی پر جھکا اور ہونٹ لگا دیے۔ گرم خون اس کے حلق میں اترا تو اس کی آنکھوں میں عجیب سی چمک اتر آئی۔ چند لمحے پینے کے بعد وہ ہٹا اور پیچھے جا کھڑا ہوا۔
پھر دوسرا بڑھا، پھر تیسرا اور یوں ایک ایک کرکے سب قیدی اس کی کلائی سے بہتا ہوا خون پیتے گئے۔ کچھ کے چہروں پر لالچ تھا، کچھ کے چہروں پر وحشت، مگر سبھی کے ہونٹ اور داڑھیاں خون سے سرخ ہو گئیں۔ قید خانے کی نیم تاریکی میں ان کے چہرے خون میں تر دیوانوں کی مانند لگ رہے تھے۔
،ندیم نے آہستہ سے ہاتھ پیچھے کھینچا، ٹرے اٹھائی اور دوبارہ سلاخوں کے قریب کر دی۔ اس کی آواز میں اب وحشت بھری سنجیدگی تھی
اب ایک ایک سرنج اٹھاؤ… اس میں میرا پاکیزہ خون ہے۔”
“ایسا خون جو تمہیں بے پناہ طاقت دے گا… تمہیں میرا اور زافیر صاحب کا خونی بھائی بنا دے گا۔
قیدیوں نے سر جھکائے ایک ایک کر کے سرنج اٹھائی۔ ان کی نظریں اب ندیم کے اشارے پر مرکوز تھیں۔ سب پیچھے ہٹتے جا رہے تھے، جیسے جنگ سے پہلے اپنے سردار کے اگلے حکم کے منتظر ہوں۔
،ندیم نے اگلا حکم سنایا، اس کی آواز میں وحشت اور یقین کی گونج تھی
“یہ خون اپنی رگوں میں انجیکٹ کرو… ہاں، وقتی تکلیف ضرور ہوگی… لیکن اس کے بعد عمر بھر کی طاقت اور راحت تمہارا مقدر بن جائے گی۔”
یہ سنتے ہی سبھی قیدیوں نے ایک لمحے کو ایک دوسرے کی طرف دیکھا، پھر جیسے کسی انجانی کشش نے انہیں جکڑ لیا ہو۔ وہ بیک وقت اپنی آستینیں اوپر چڑھانے لگے۔ ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے مگر آنکھوں میں ایک عجیب سا جنون بھڑک اٹھا تھا۔
ایک ایک کر کے وہ سرنج اپنی رگوں میں اتارنے لگے۔ سوئیاں گوشت کو چیرتی گئیں اور ندیم کا خون ان کے جسموں میں اترنے لگا۔
جب سبھی اس حکم کی تعمیل کر چکے تو سرنج واپس ٹرے پر رکھنا شروع کر دیئے۔
چند لمحے خاموشی میں ہی گزرے لیکن پھر ندیم کے خون نے اثر دکھانا شروع کر دیا۔ کچھ قیدی درد سے دانت پیسنے لگے، کچھ کی رگیں پھڑکنے لگیں اور کچھ نے دبی چیخیں ماریں مگر خوف کسی کے بھی چہرے پر نہیں تھا۔
ندیم اس منظر کو محبت بھری، تقریباً پرمسرت آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔ اس کے ہونٹوں پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ ابھری۔ اس کے لیے یہ لمحہ کسی جشن سے کم نہیں تھا۔
اب وہ اکیلا نہیں تھا۔
اب اس کے پاس درجنوں بھائی تھے۔
ایسے بھائی جو اس کی درندگی میں اس کے ساتھی بننے کو تیار تھے۔
°°°°°°°°°°
:یاددہانی،دو سال قبل:ٓ
آبرو اپنے بابا زافیر کے کندھے پر سر رکھے، خاموشی سے لیٹی ہوئی تھی۔ زافیر دھیرے دھیرے اُسی کہانی کے الفاظ دہرا رہا تھا جو وہ کئی بار سنا چکا تھا لیکن آبرو کو ہر بار وہ نئے رنگوں میں نظر آتی تھی۔
،اچانک معصومیت سے لبریز اُس کی چھوٹی سی آواز نے زافیر کو بات کرتے کرتے روک دیا
“بابا… جو دوسری دنیا والی کہانی آپ نے سنائی تھی… جس میں وہ ملکہ دونوں دنیاؤں کو اپنی اندھیر نگری میں لانا چاہتی تھی؟”
“کیا وہ کامیاب ہو گئی تھی؟
،زافیر نے نرمی سے مسکراتے ہوئے اس کی پیشانی چومی اور جواب دیا
نہیں بیٹا… تینوں بادشاہوں نے مل کر ایک ایسی غیر مرئی دیوار کھڑی کر دی تھی، جس نے ملکہ کی اندھیر نگری کو محدود کر دیا۔”
“وہ ہمیشہ کے لیے وہیں قید ہو گئی۔
،آبرو نے دلچسپی سے مزید پوچھا
“اور شاہِ سُموم کی فوج کا کیا بنا؟”
،زافیر نے گہری آواز میں کہا
وہ فوج بھی ہمیشہ کے لیے اندھیر نگری کے پیچھے قید ہو گئی۔”
کہتے ہیں ان تک پہنچنے کے کئی خفیہ راستے ہیں مگر وہ صرف تینوں بادشاہوں کو معلوم تھے۔
“اور انہوں نے قسم کھائی تھی کہ وہ نہ خود وہاں جائیں گے، نہ کسی کو راستہ دکھائیں گے۔
پھر تینوں بادشاہ واپس چلے گئے تھے؟” آبرو نے آنکھیں پھیلائے سوال کیا۔”
ہاں، لیکن ان کے پیچھے وہ راستے کھلے رہ گئے جو دونوں دنیاؤں کو آپس میں جوڑتے تھے۔”
“انہی راستوں سے ایک انسانی خاندان متوازی دنیا میں جا بسا۔
،زافیر لمحے بھر کو رُکا، جیسے ماضی کی دھند میں کچھ ڈھونڈ رہا ہو پھر بولا
میری دادی بتاتی تھیں کہ متوازی دنیا کی فضا حقیقی دنیا سے بالکل مختلف تھی۔ وہاں کا ماحول، وہاں کا وقت، سب کچھ الگ تھا۔ “
پھر اُس خاندان میں عجیب سی وحشت اُتر آئی۔ وہ لوگ آنے والے انسانوں کو پکڑ کر کھا جاتے تھے۔
“یہاں تک کہ ان میں کچھ ایسے بھی تھے جن کی بھوک کبھی ختم نہ ہوتی۔ ایک بار… وہ اپنی ہی بہن کو کاٹ کر کھا گئے اور اس کا خون پی لیا۔
،آبرو نے خوف زدہ انداز میں سر اٹھا کر کہا
“کتنے ظالم تھے وہ…! پھر کیا ہوا بابا؟”
،زافیر کی آنکھوں میں اداسی سی تیرنے لگی
جنہوں نے اپنی بہن کا گوشت کھایا اور خون پیا، وہ سب پاگل ہو گئے۔ ان کی بھوک اور بڑھ گئی۔”
وہ مکمل درندے بن گئے، ایسے درندے جو دوبارہ کبھی انسان نہیں بن سکتے تھے۔
” ان کے خاندان نے انہیں نکال دیا… اور وہ جنگلوں میں بھٹکنے لگے۔ ہمیشہ کے لیے… تنہا اور وحشی۔”
°°°°°°°°°°
تہہ خانے میں اب بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس ہو رہے تھے۔ دیواریں کانپ رہی تھیں، چھت چرچراہٹ کے ساتھ لرز رہی تھی اور ہوا میں ایک دبی ہوئی سی گھٹن بھاری بوجھ کی طرح پھیلی ہوئی تھی۔ مگر ان سب کے بیچ ندیم ایک کرسی ڈال کر سکون سے بیٹھا تھا۔ اس کی نظریں کوٹھڑی پر جمی تھیں، جیسے وہ آنے والے کسی شاندار تماشے کا منتظر ہو۔
کوٹھڑی کے اندر کا منظر لرزہ خیز تھا۔
سبھی قیدی زمین پر لوٹ پوٹ ہو رہے تھے۔ ان کے جسم مڑ مڑ کر سختی سے اکڑ رہے تھے، رگیں نیلی اور سرخ ابھر آئی تھیں اور ان کے منہ سے اذیت ناک چیخیں نکل رہی تھیں جو تہہ خانے کی دیواروں سے ٹکرا کر گونج رہی تھیں۔ ان کے وجود میں کرب کا ایسا طوفان برپا تھا جس کی کوئی انتہا نہیں تھی۔ اور اس سب کا ذمہ دار وہی تھا… ندیم کا زہریلا خون جو ان کی رگوں میں دوڑ رہا تھا۔
ندیم کے چہرے پر کوئی حیرت نہیں تھی۔ وہ اس اذیت کو اچھی طرح جانتا تھا، کیونکہ یہ سب وہ خود بھگت چکا تھا۔ زافیر کے خون نے پہلے اسے بھی اسی اذیت کی آگ میں جلایا تھا لیکن پھر وہی خون اسے ناقابلِ شکست طاقت دے گیا تھا۔
،وہ پُرسکون انداز میں ان کی چیخیں سنتا رہا۔ اس کے دل میں ایک ہی یقین تھا
…یہ قیدی زیادہ دیر نہیں تڑپیں گے۔ جلد ہی بے ہوش ہوجائیں گے۔ اور جب دوبارہ جاگیں گے
تو وہ عام انسان نہیں رہیں گے۔
وہ ایک نئے وجود میں ڈھل چکے ہوں گے۔
آدم خوروں کے قبیلے کا حصے بن چکے ہوں گے۔
اس کے خونی بھائی بن چکے ہوں گے۔
سبھی قیدی زمین پر تڑپ رہے تھے۔ ان کے منہ سے جھاگ بہہ رہا تھا، آنکھیں الٹ گئی تھیں اور وہ اذیت کی شدت سے چیخ چیخ کر ہوا کو چیر رہے تھے۔ ندیم کو پورا یقین تھا کہ بس چند لمحوں میں وہ سب بے ہوش ہوجائیں گے، جیسے وہ خود ہوا تھا لیکن اس بار کچھ اور ہی ہونے لگا۔
قیدیوں کے جسموں میں ایک خوفناک تبدیلی شروع ہوگئی تھی۔ ان کے ہاتھوں اور پیروں کی انگلیاں پھٹنے لگیں اور ان سے بڑے، نوکیلے، خم دار ناخن نکلنے لگے۔ ایسے ناخن جو خنجر کی طرح چمک رہے تھے۔ ان کے جسم پر پلک جھپکتے میں سیاہ گھنے بال اگ آئے تھے، جیسے انسان اور جانور کا ملاپ ہو رہا ہو۔
یہ سب دیکھ کر ندیم کا دل دہل گیا۔ یہ منظر اس کے لیے بالکل غیر متوقع تھا۔ وہ حیرت اور خوف کے ملے جلے احساس کے ساتھ انہیں دیکھ رہا تھا۔ اس کے دماغ میں ایک ہی سوال گونج رہا تھا،
یہ کیا ہو رہا ہے؟
یہ سب کیوں بدل رہے ہیں؟
یہ درندے کیوں بنتے جارہے ہیں؟
قیدی اب انسان نہیں لگ رہے تھے۔ ان کی ریڑھ کی ہڈی اس قدر خم کھا گئی تھی کہ وہ سیدھے کھڑے ہونے کے قابل نہیں رہے۔ وہ ہاتھوں اور پیروں کے بل جھک کر کبھی دھاڑتے، کبھی ایک دوسرے سے ٹکرا کر گر پڑتے، کبھی فرش نوچتے اور کبھی سلاخوں سے ٹکرا جاتے۔ ان کی شکلیں بگڑ کر ایسی سفاک اور خونی لگ رہی تھیں کہ لگتا تھا گویا تہہ خانے میں درندوں کا ایک نیا قبیلہ جنم لے رہا ہو۔
یہ سب دیکھ کر ندیم ہکّا بکّا رہ گیا۔ وہ گھبرا کر فوراً اٹھا اور تیز قدموں سے ذبح خانے کی طرف بڑھنے لگا۔ اس کے دماغ میں ایک طوفان برپا تھا، ہزاروں سوال ایک ساتھ ابھر رہے تھے۔
ندیم ابھی تک حقیقت قبول کرنے کو تیار نہیں تھا۔ وہ خود تو زافیر کے خون کی اذیت جھیل کر دوبارہ انسانی روپ میں لوٹ آیا تھا، اس لیے اس کے دل میں امید باقی تھی کہ شاید یہ قیدی بھی وقت ملنے پر واپس انسان بن جائیں۔ مگر یہ محض ایک فریب تھا، ایک جھوٹی تسلی۔
حقیقت یہ تھی کہ اس نے ان سب کو تاحیات درندگی کی گہرائیوں میں دھکیل دیا تھا۔
اب وہ انسان نہیں رہے تھے۔
…وہ وحشی جانور بن چکے تھے، ایسے جانور جن کے دماغ سے عقل و شعور مٹ چکا تھا اور جن پر صرف ایک ہی جنون طاری تھا
…شکار کا جنون
…بھوک کی تڑپ
اور انسانی جسم کی چیر پھاڑ کرنے کی وحشی خواہش۔
ندیم کے سامنے اب کوئی قیدی نہیں تھے، بلکہ ایک ایسا قبیلہ کھڑا تھا جسے اس نے اپنے ہاتھوں سے جنم دیا تھا۔
°°°°°°°°°°
زافیر حورا کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے اندھا دھند بھاگ رہا تھا۔ وہ گاؤں سے خاصا دور نکل آئے تھے مگر زمین کے زلزلہ خیز جھٹکے ابھی تک تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ اب تو فضا میں چلتی ہلکی سی ہوا بھی غیظ و غضب کا روپ دھار چکی تھی۔ لمحہ لمحہ وہ اور زیادہ وحشی ہوتی جا رہی تھی جیسے قدرت خود ان کا تعاقب کر رہی ہو۔
سڑک کی جانب بڑھتے ان کے قدم اچانک ایک تیز جھونکے سے ڈگمگا گئے۔ چند لمحوں میں وہ جھونکا ایک خوفناک آندھی میں بدل گیا۔ ہوا کی گرج ایسی تھی جیسے ہزاروں دیو غصے سے دھاڑ رہے ہوں۔ دباؤ اس قدر شدید تھا کہ تینوں کے قدم زمین پر جمنے سے انکاری ہوگئے۔
اگلے ہی لمحے وہ پیروں سے اکھڑ گئے اور خشک پتوں کی طرح بائیں جانب اچھل کر زمین پر جا گرے۔ وہ الٹ پلٹ ہوتے مٹی، پتھروں اور سوکھے تنکوں کے ساتھ زمین پر لڑھکتے چلے گئے۔ زافیر نے بے قراری میں آبرو کو اپنے بازوؤں میں مزید مضبوطی کے ساتھ دبوچ لیا تاکہ اسے جھٹکوں اور آندھی سے بچا سکے لیکن اس ہنگامے میں حورا کا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔
حورا تیزی سے لڑھکتی ہوئی ان سے دور جا رہی تھی۔ اس کی چیخیں آندھی کے شور میں چھید ڈال رہی تھیں۔ وہ دہشت کے عالم میں بار بار زافیر کو پکار رہی تھی مگر اس کی آواز بھی طوفان کے رحم و کرم پر تھی۔
،زافیر کے دل میں ایک لمحے کو شدید وحشت نے پنجے گاڑ دیے، مگر وہ پورے زور سے چلایا
“!حورا! سنبھل کر… حوصلہ رکھو… میں آرہا ہوں”
زافیر نے اگلے ہی پل ایک ہاتھ زمین پر جما کر پوری قوت کے ساتھ حورا کی سمت میں دوڑ لگائی۔ ہر قدم پر یوں محسوس ہوتا جیسے پیچھے سے اٹھنے والی ہوا اسے کسی عام تنکے کی طرح آسمان کی طرف اچھال دے گی۔ مگر اس کے وجود میں صرف ایک ہی آگ بھڑک رہی تھی… حورا تک پہنچنا۔
وہ ابھی چند ہی قدم آگے بڑھا تھا کہ اچانک زمین نے ایک دہلا دینے والی چیخ مار کر اپنے سینے کو چیر ڈالا۔ حورا کے پیروں تلے کی مٹی ہولناک آواز کے ساتھ دھنسنے لگی۔ لمحہ بھر میں وہاں ایک گہرا شگاف نمودار ہوگیا جو وحشی درندے کی طرح اسے اپنی تاریک گہرائیوں میں کھینچ رہا تھا۔
“!زافیر… زافیر… بچاؤ مجھے”
حورا کی آواز ہوا کے شور میں لرز کر چیخ میں بدل گئی۔ وہ خوف سے پھسلتی ہوئی اندھیرے کی طرف جا رہی تھی۔
اسی لمحے اس کی انگلیاں ایک باریک درخت کی جڑ سے جا لپٹیں۔ اس کے بازو کی رگیں تن گئیں، آنکھوں میں موت کا سایہ لہرانے لگا لیکن جڑ کی کمزوری اس پر بھی عیاں تھی۔
زافیر تقریباً اس کے پاس پہنچ چکا تھا۔ وہ پوری وحشت کے ساتھ آگے کو جھکا اور اپنا ہاتھ حورا کی طرف بڑھایا۔ اس کی آنکھوں میں امید کی ایک آخری جھلک ابھری۔
لیکن جیسے ہی زافیر کی انگلیاں اس کے ہاتھ سے بس ایک بالشت دور رہ گئیں، وہ جڑ بھی ایک دل دہلا دینے والی آواز کے ساتھ اکھڑ گئی۔ اگلے ہی لمحے حورا کا وجود تاریکی میں ڈوب گیا۔ وہ سینکڑوں فٹ گہرائی والے شگاف میں لڑھکتی چلی گئی اور اس کی چیخیں اندھیروں میں گم ہونے لگیں۔
آبرو جو زافیر کے بازو میں دبی ہوئی تھی، اس کی آنکھیں دہشت سے پھیل گئیں۔ وہ چیخی نہیں، بس لرزتے ہوئے اپنا چہرہ زافیر کے کندھے میں چھپا لیا۔
زافیر گھٹنوں کے بل بیٹھا ہوا تھا، دونوں ہاتھ آگے کو پھیلے ہوئے… مگر وہ خالی خلا کو تھامنے پر مجبور تھا۔ اس کی نظریں وحشت کے ساتھ شگاف کی تاریکی میں گڑی تھیں، جہاں سے حورا کی دل دہلا دینے والی چیخیں اوپر تک گونج رہی تھیں۔
“!حورا۔۔۔”
زافیر کی آواز غم اور بے بسی سے لرز گئی۔ مگر اندھیرے نے اسے کوئی جواب نہیں دیا۔ آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے اور دل یوں بجھ سا گیا جیسے کسی نے اندر کا دیا گل کر دیا ہو۔
چند لمحے ہی گزرے تھے کہ وہ چیخیں بھی اچانک تھم گئیں۔ فضا پر ایک مہلک خاموشی چھا گئی۔ زافیر کا سانس سینے میں اٹک گیا، آنکھیں مزید پھیل گئیں۔ اور پھر… اندھیرے کی تہہ میں ایک عجب سا معجزہ برپا ہوا۔
گہرے شگاف کے سینے میں ایک ہلکی سی چمک ابھری، جیسے کسی نے اندھیرے کے پردے پر روشنی کی لکیر کھینچ دی ہو۔ لمحہ لمحہ وہ چمک پھیلنے لگی پھر یکدم ایک ہالہ سا بن گیا۔ زافیر کی آنکھیں حیرت اور یقین کے درمیان جھولنے لگیں۔
اسی ہالے میں حورا کا وجود ابھرا۔
اس کے پیروں تلے سفید روشنی کی لہریں تھیں، گویا کوئی غیر مرئی طاقت اسے سہارا دیے ہوئے تھی۔ وہ روشنی اسے نرمی مگر پختگی سے اوپر کی طرف دھکیل رہی تھی، جیسے تاریکی کو چیر کر زندگی نے اسے دوبارہ جنم دینا شروع کر دیا ہو۔
زافیر کا دل دھڑکنے لگا، آبرو نے اپنے چہرے کو کندھے سے ہٹایا اور آنکھیں پھیلائے یہ منظر دیکھنے لگی۔
زافیر کے لیے یہ سب کچھ ناقابلِ یقین تھا۔ اس کی نگاہیں حیرت اور الجھن میں جمی رہیں جب وہ سفید روشنی کا بادل حورا کو سہارا دیے ہوئے ان کے عین اوپر جا ٹھہرا۔ وہ لمحہ لمحہ اوپر اٹھتی رہی اور پھر ان سے چند فٹ کے فاصلے پر جا رکی۔
حورا کے قدم لڑکھڑا رہے تھے مگر دل میں جینے کی تڑپ غالب تھی۔ وہ دوڑتے ہوئے، ٹھوکریں کھاتی، زمین پر گرتی اور پھر اٹھتی ہوئی زافیر تک پہنچی۔ جیسے ہی قریب آئی، اس کے بازوؤں میں سمٹ گئی۔ وہ خوف اور معجزاتی بچاؤ کی شدت سے دھاڑیں مار مار کر رو رہی تھی۔ زافیر ابھی تک ایک گھٹنا زمین پر ٹکائے بیٹھا تھا، اس کے ایک بازو میں حورا تھی اور دوسرے بازو سے اس نے آبرو کو تھام رکھا تھا۔
مگر اس کی نظریں کسی اور طرف تھیں۔ وہ اب بھی آسمان میں معلق اُس سفید ہالے پر جمی تھیں، جو لمحہ لمحہ بلندی کی طرف کھسک رہا تھا۔ پھر اچانک، بغیر کسی انتباہ کے، وہ ہالہ یوں پھٹا جیسے کسی نے بجلی کا طوفان زمین پر انڈیل دیا ہو۔
اگلے ہی پل چہار سُو ایک تیز، آنکھوں کو جھلسا دینے والی روشنی پھیل گئی۔ وہ روشنی اتنی شدید تھی کہ لمحہ بھر کے لیے ساری دنیا گویا سفید ہوگئی۔ زافیر کی آنکھیں چندھیا گئیں۔ اس نے جھٹکے سے پلکیں بھینچ لیں، مگر بند آنکھوں کے پیچھے بھی وہ روشنی زبردستی رس رہی تھی، جیسے اس کے وجود تک کو بھسم کر ڈالے گی۔
جب یہ تیز روشنی کا دھماکہ چند لمحوں کے لیے مدہم ہوا تو زافیر نے آنکھیں کھولیں اور حیرت سے دیکھا کہ گہری اندھیری رات اب مکمل روشنی میں نہا چکی تھی۔ یہ روشنی نہ سورج کی تھی، نہ چاند کی بلکہ صرف روشنی کا ایک ہالہ پھٹ کر چاروں طرف پھیل گیا تھا۔ یہ محدود علاقے تک محدود نہیں رہی بلکہ ہر جانب پھیل گئی اور یہ منظر اپنے حجم اور شدت میں ایسا شاہکار تھا کہ دیکھنے والا حیرت اور پریشانی کے سمندر میں غرق ہو جائے۔
یہ سب دیکھ کر زافیر کی نگاہیں شک سے بھری ہوئی حورا کی طرف گئیں۔ زلزلے کے جھٹکے ابھی بھی زمین کو ہلا رہے تھے لیکن چند پل کے لیے زافیر کا ذہن اس کمال کے منظر میں محو ہو گیا۔
،اس نے حورا کو خود سے ہلکا سا الگ کرتے ہوئے انتہائی سنجیدگی اور اضطراب کے ساتھ پوچھا
“کون ہو تم؟”
حورا نے حیرت سے زافیر کی آنکھوں میں دیکھا اور اگلے ہی پل ان تینوں کے گرد روشنی کی ایک گہری چادر سی چھا گئی۔ یہ چادر اتنی گہری تھی کہ اردگرد کچھ بھی نظر نہیں آ رہا تھا اور انہیں مجبوراً اپنی آنکھیں بند کرنی پڑیں۔ حورا ایک لمحے کے لیے زافیر کے ساتھ لپٹ گئی، جیسے کوئی نامعلوم خطرہ ان کے قریب آ گیا ہو۔
،آبرو نے خوفزدہ لہجے میں زافیر کو اور مضبوطی سے پکڑ لیا اور لرزتے ہوئے بولی
“بابا… یہ کیا ہو رہا ہے؟ مجھے ڈر لگ رہا ہے۔”
،زافیر نے حوصلہ افزا لہجے میں جواب دیا
“…کچھ نہیں ہوگا بیٹا… بابا ہیں نا”
لیکن حقیقت یہ تھی کہ وہ خود بھی گھبراہٹ میں مبتلا تھا۔ زلزلے کی شدت اور اس کے بعد پیدا ہونے والی غیر معمولی روشنی، جو رات کے اندھیرے کو چیر کر چاروں طرف پھیل گئی تھی، اس کے ذہن کو الجھا رہی تھی۔ حورا کا روشنی کے ہالے پر سوار ہو کر سامنے آنا اور ہر شے کو روشن کر دینا، اسے ایک نئی اور غیر متوقع حقیقت کا سامنا کرنے پر مجبور کر رہا تھا۔
وہ انہی سوچوں میں گم تھا کہ اچانک روشنی کا گہرا ہالہ ان کے قدموں سے اٹھا اور تینوں کو دھیرے دھیرے فضا میں بلند کرنے لگا۔ ہر لمحے کے ساتھ زمین نیچے دھنس رہی تھی اور ہوا میں وہ بے وزن ہو کر تیرنے لگے تھے۔ زافیر نے آنکھیں کھول کر دیکھنے کی کوشش کی، مگر روشنی اتنی تیز اور سفید تھی کہ ہر چیز دھندلی سی محسوس ہو رہی تھی، گویا حقیقت اور خواب کے درمیان کی سرحد مٹ گئی ہو۔
ان کے اردگرد کا منظر بدل رہا تھا، زمین، گاؤں اور دھنسی ہوئی زمین کے مناظر، سب غائب ہو چکے تھے۔ ایک عجیب سکون اور ساتھ ہی خوف کی کیفیت نے دل میں جگہ بنا لی تھی۔ وہ تیز روشنی کے ہالے کے رحم و کرم پر تھے جو ہر لمحہ انہیں اوپر کی طرف کھینچ رہا تھا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے دنیا کی ہر طاقت ان کے اردگرد ساکن ہو گئی ہو۔
یہ لمحہ مصیبت تھا یا کسی ماورائی مدد کی نوید، سمجھنا مشکل تھا۔ زافیر نے محسوس کیا کہ مزاحمت کرنے کی کوئی گنجائش نہیں، بس یہ روشنی اور اس کا اسرار ہی ان کے مقدر کا فیصلہ کرے گا۔ وہ اپنی بیٹی آبرو کو قریب تھامے اور حورا کے ہاتھ کو مضبوطی سے پکڑے رہا، لیکن دل میں ایک عجیب کھچاؤ اور حیرت بھی موجود تھی… ایک ایسی حیرت جو خوف اور تعجب کا ملا جلا اثر تھی۔
°°°°°°°°°°
آبیاروس اور کازمار کی فوجیں میدانِ جنگ میں آمنے سامنے آکھڑی ہوئی تھیں۔ دونوں طرف کے سپاہی جنگی جنون سے پاگل درندوں کی طرح دہاڑتے اور اپنے ہتھیار لہراتے آگے بڑھ رہے تھے۔ زمین ان کے قدموں کی لرزش سے تھرتھرا رہی تھی اور فضا ان کی چیخوں اور نعرہِ جنگ سے کانپ رہی تھی۔
کازمار اور آبیاروس ابھی تک خاموش کھڑے تھے، ان کی آنکھیں اپنے اپنے لشکروں کی وحشیانہ لپک کو دیکھ رہی تھیں۔
ایک لمحے کے لیے میدان میں گیری خاموشی چھا گئی… پھر اگلے ہی پل قیامت ٹوٹ پڑی۔
آتشیں سپاہی لپکتے ہوئے پانی کے سپاہیوں سے جا ٹکرائے۔ جیسے ہی آگ اور پانی کی یہ ابدی دشمن قوتیں آپس میں ٹکرائیں، میدان ایک ہولناک تھرتھراہٹ میں بدل گیا۔ ہر طرف بھاپ اور دھوئیں کے طوفان اٹھنے لگے، سپاہیوں کے چیخنے اور جھلسنے کی آوازیں آسمان چیر رہی تھیں۔ آگ کے شعلے گوشت کو بھونتے، ہڈیاں تڑختیں اور پانی کی تیز لہریں سپاہیوں کے جسموں کو توڑتی بکھیرتی جارہی تھیں۔
فضا میں بھاپ کی گھٹن اور جلتے خون کی سڑاند نے سانس لینا دشوار کر دیا تھا۔ زمین پر گرے ہوئے سپاہیوں کے جسم تڑپتے، کچھ آگ میں جھلس کر چیختے تو کچھ پانی کی تیز دھار میں ڈوب کر بجھ رہے تھے۔ ہر چیخ، ہر دھماکہ اور ہر گرنے والے قدم کے ساتھ ایسا لگ رہا تھا جیسے خود زمین بھی ان کے وحشی پن سے کراہ رہی ہو۔
یہ صرف جنگ نہیں تھی، یہ بقا کی وحشیانہ چیخ تھی۔ ایک ایسا منظر جسے دیکھنے والا شاید زندگی بھر بھول نہ پائے۔
ایک آتشیں سپاہی نے وحشت سے دہاڑتے ہوئے اپنے جلتے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور اگلے ہی پل نیلی آگ کا طوفان اس نے آبیاروس کے ایک سپاہی پر برسا دیا۔ آگ کی لپک نے فضا کو چیرا تو جواب میں اس سپاہی کے وجود سے اچانک پانی کا ایک تیز بہاؤ ابھرا، جو ڈھال کی مانند اس کے گرد لپٹ گیا۔ آگ اور پانی کے تصادم سے ایسی چیخ سنائی دی جیسے دھات پگھل رہی ہو، جیسے زمین خود جل کر کراہ اٹھی ہو۔
پانی کے سپاہی نے ہولناک سنجیدگی کے ساتھ تلوار سنبھالی اور ایک ہی جھٹکے میں آتشیں سپاہی کو دو ٹکڑوں میں کاٹ ڈالا۔ خون کی گرم دھار پانی میں ملتے ہی ابلنے لگی اور اس کے مردہ جسم کے حصے پانی میں گرتے ہی ہولناک آواز کے ساتھ بجھنے لگے۔
فضا میں اچانک ایک ناقابلِ برداشت بوجھ بھر گیا۔ بھاپ، جلتے گوشت کی سڑاند اور گرم پانی کی جھلسا دینے والی بھینی سی خوشبو نے سانس لینا دشوار کر دیا۔ زمین پر پڑے آتشیں سپاہی کا دھواں اگلتا گوشت یوں تڑپ رہا تھا جیسے ابھی تک موت اسے پوری طرح نگل نہ سکی ہو۔
یہ محض ایک سپاہی کا انجام تھا، لیکن میدان میں ایسے مناظر ہر سمت جنم لے رہے تھے۔ ہر چیخ، ہر دھماکہ اور ہر بجھتی ہوئی لاش جنگ کی ہولناکی کو کئی گنا بڑھا رہی تھی۔ یہ صرف جنگ نہیں تھی، یہ وحشت کا جہنم تھا۔ جہاں زندگی اور موت دونوں کو بھسم کرتی آگ اور پانی کی بے رحم لڑائی جاری تھی۔
آبیاروس کی فوج تعداد میں کم ضرور تھی، مگر ان کے سپاہی اتنے تیز، پھرتیلے اور بے رحمی سے وار کرنے والے تھے کہ آتشیں لشکر کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں مل رہا تھا۔ ہر وار، ہر ضرب میں وحشت اور انتقام کی آگ جھلک رہی تھی۔ میدانِ جنگ میں تلواروں کی ٹکر اور آگ کے دہکتے شعلے پانی کے شور کے ساتھ گُھل کر ایک بھیانک سنگیت تخلیق کر رہے تھے۔
آسمان پر دھوئیں کے سیاہ بادل اور اُڑتی بھاپ نے روشنی کو نگل لیا تھا۔ جیسے زمین اور آسمان کے بیچ گھٹن کا قفل لگا دیا گیا ہو۔ سانس لینا دشوار ہو رہا تھا۔ ہر طرف ماس جلنے کی ناقابلِ برداشت بُو تیز ہو کر فضا کو زہر آلود بنا رہی تھی۔
زمین پر گرتے جسم، آدھے جلے اور آدھے کٹے ہوئے، خون اور پانی میں بہہ کر کیچڑ بناتے جا رہے تھے۔ سپاہیوں کی دہاڑیں، زخمیوں کی کراہیں اور مرنے والوں کی گھٹی گھٹی چیخیں، اس وحشیانہ منظر کو مزید ہولناک بنا رہی تھیں۔
°°°°°°°°°°
کافی دیر سے زافیر، حورا اور آبرو روشنی کے ہالے میں قید کسی انجان منزل کی طرف بڑھ رہے تھے۔ ہر لمحہ ایسا لگ رہا تھا جیسے وقت نے اپنا وجود ہی چھوڑ دیا ہو۔ وہ باہر کے حالات سے مکمل طور پر کٹے ہوئے تھے… زلزلے، ہوا کے جھونکے اور زمین کی لرزشیں ان تک پہنچنے کی سکت کھو چکی تھیں۔
روشنی اتنی تیز اور طاقتور تھی کہ ہر آواز کو گونجنے سے روک رہی تھی اور ہر منظر کو چھپائے ہوئے تھی۔ باہر کا ماحول، خوف یا حادثے کی شدت… یہ سب اب ان کے احساسات تک پہنچ نہیں پا رہی تھی۔ ان کے گرد کی دنیا مکمل طور پر بدل گئی تھی، جیسے ہر چیز ایک نہ ختم ہونے والے روشن بادل میں گھل گئی ہو اور وہ تینوں بس اس بادل میں معلق، بے وزن اور بے پناہ حیرت کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھے۔
وہ فضا میں رواں دواں تھے، جیسے ہوا میں معلق ہو کر زمین سے بالکل آزاد۔ ہر لمحہ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ آسمان کی وسعتوں میں تحلیل ہو جائیں گے۔ اچانک انہیں یہ احساس ہوا کہ وہ واپس نیچے، زمین کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ یہ حس کچھ لمحوں تک قائم رہی، پھر ان کے قدم زمین پر جم گئے۔ روشنی کا ہالہ آہستہ آہستہ مدھم ہونے لگا اور جیسے ہی ان کی آنکھیں کھلیں، وہ حیران رہ گئے۔
وہ اس وقت اپنے بنگلے کے برآمدے میں کھڑے تھے، چاروں طرف پھیلی غیر مرئی روشنی اب دھندلی پڑ رہی تھی۔ زلزلے کے جھٹکے ابھی تک تھمے نہیں تھے۔ باہر بارش اور آگ کی برسات دوبارہ شروع ہوچکی تھی۔ اس بار آگ کی شدت حد سے بڑھ چکی تھی اور آسمان سے ٹپکنے والے شعلے زمین پر تباہی کی پیشگوئی کر رہے تھے۔
انہیں احساس ہوا کہ فضا میں ان کے اس سفر کے دوران ہی بارش اور آگ برسنا شروع ہو گئی تھی مگر روشنی کا ہالہ ایک محافظ کی مانند ان سب پر چھایا رہا۔ جو انہیں بیرونی آفت سے محفوظ رکھے ہوئے تھا۔ اب وہ اپنے اردگرد کے منظر کو دیکھ سکتے تھے… بادلوں کی گرج، آگ کے لپکتے شعلے اور بارش کے قطروں کی ٹپ ٹپ، سب کچھ ایک ساتھ ایک ہولناک لیکن دلفریب امتزاج بنا رہا تھا۔
یہ لمحہ کسی روپوش مہربان کی غیبی امداد کا تھا… ایسا کچھ جو ان کی سوچ سے بالکل ماورا تھا۔ مگر زافیر کی نظر کا محور صرف حورا پر تھا۔ وہ اسے شک کی نگاہ سے دیکھ رہا تھا اور دل میں محسوس کر رہا تھا کہ یہ کوئی عام لڑکی نہیں بلکہ شاید روشنی کا سارا کھیل اسی نے رچایا ہے۔
زافیر نے آبرو کو برآمدے میں کندھے سے اتار کر کھڑا کیا۔ تھوڑی دیر وہ باہر کی طرف نظریں جمائے رہا، پھر خاموشی سے، بغیر کسی الفاظ کے، بنگلے کے اندر چلا گیا۔ اس کے جاتے ہی آبرو فوراً حورا سے لپٹ گئی اور رونے لگی۔
“مجھے معاف کر دیں، ماما… میں نے صرف بابا کو بچانے کے لیے انہیں اپنا خون پلایا۔ اگر ایسا نہ کرتی، تو مجھے ڈر تھا کہ وہ نہیں بچیں گے۔”
یہ کہتے ہی وہ اور زیادہ زوروں سے رونے لگی، اس کی آنکھوں میں بے بسی اور خوف کے ملے جلے جذبات نمایاں تھے۔ ہوا میں اس کے رونے کی آواز لرزتی ہوئی گونج رہی تھی۔
حورا نے آبرو کے گرد اپنے بازو لپیٹ لیے اور چند لمحے اسے اپنے سینے سے بھینچے رکھا۔ اس ایک لمحے میں اسے خاموشی اور سکون کی ایک لہر محسوس ہوئی، جیسے دنیا کی بھاگ دوڑ کچھ دیر کے لیے تھم گئی ہو۔
،پھر حورا نے آہستہ آہستہ است خود سے الگ کیا اور نرم لہجے میں بولی
“میں تمہارے جذبات سمجھتی ہوں، میری بچی… لیکن تمہارے بابا کو سمجھانا آسان نہیں ہوگا۔”
یہ سنتے ہی آبرو نے اور زیادہ شدت سے رونا شروع کر دیا، اس کی معصوم سسکیاں دل کو چیر رہی تھیں۔
،حورا نے احتیاط سے اس کے آنسو پونچھے اور چہرے پر ایک پھیکی سی مسکان سجا دی۔ پھر پراعتماد انداز میں بولی
“تم پریشان مت ہو… ہم انہیں سمجھا لیں گے۔”
اس کی باتوں میں ایک مٹھاس اور اطمینان چھپا ہوا تھا اور آبرو کے دل میں بھی ہلکا سا سکون اترنے لگا۔ جیسے امید کی کرن نے اندھیری رات میں روشنی کی پہلی جھلک دکھا دی ہو۔
°°°°°°°°°°
…جاری ہے
