چینی تجزیہ کار ژیانگ ویوئی

چینی تجزیہ کار ژیانگ ویوئی کے مطابق، ایران کے خلاف حالیہ امریکی اسرائیلی فوجی کارروائی نہ صرف اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے بلکہ الٹا اس کے سنگین نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کی یہ سوچ کہ ایران کے سپریم لیڈر اور اعلیٰ فوجی کمانڈروں کو نشانہ بنا کر پورے نظام کو مفلوج کیا جا سکتا ہے، ایک بھاری اسٹریٹجک غلطی ثابت ہو رہی ہے۔ جہاں امریکہ اور اسرائیل کو توقع تھی کہ ایران عوامی بغاوت اور اندرونی انتشار کا شکار ہو جائے گا، وہیں اس حملے نے قومی یکجہتی کو فروغ دیا ہے۔ایرانی عوام بیرونی جارحیت کے سامنے متحد ہو کر کھڑے ہو گئے ہیں اور اس جنگ کو امریکی استحصال کے خلاف مزاحمت کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

دوسری جانب، ایران کا جوابی حملہ غیر معمولی طور پر منظم، تیز رفتار اور طاقتور رہا۔ ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے نہ صرف خلیج فارس میں موجود امریکی بحری اڈوں کو نشانہ بنایا بلکہ اسرائیل کے تقریباً تمام بڑے شہر، بشمول تل ابیب، شدید حملوں کی زد میں آئے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیل کی وزارت دفاع، فوجی مراکز اور تجارتی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے پہلے سے ایک جامع اور موثر جوابی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی اور وہ اپنے کچھ اہم رہنماؤں کی شہادت کے باوجود اپنی دفاعی صلاحیتوں کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔

ژیانگ ویوئی کا مزید کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی سب سے بڑی غلط فہمی ایران کا لیبیا یا شام سے موازنہ کرنا ہے۔ ایران ہزاروں سال پرانی فارسی تہذیب کا حامل ملک ہے، جس کی ایک مضبوط قومی شناخت اور تاریخی ورثہ ہے۔ وہ نہ صرف اپنی صنعتی بنیادوں اور فوجی ٹیکنالوجی میں خود کفیل ہے بلکہ علاقائی سطح پر ایک مؤثر طاقت کے طور پر ابھرا ہے۔ چھ ماہ قبل ہونے والی بارہ روزہ جنگ کے مقابلے میں اس بار ایرانی میزائلوں کی شدت اور درستگی میں واضح بہتری آئی ہے، جو اس کی تکنیکی ترقی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

چینی ماہر کے مطابق ٹرمپ کی خارجہ پالیسی اور فیصلہ سازی کا انداز اکثر عجلت اور گہرے تجزیے کی کمی کا شکار رہا ہے۔ چاہے تجارتی جنگ ہو یا ٹیکنالوجی کی جنگ، ان میں سے بیشتر فیصلے مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہے ہیں۔ ایران پر حملہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس کا مقصد کم لاگت میں بڑا اسٹریٹجک فائدہ حاصل کرنا تھا۔ تاہم، نتیجہ اس کے بالکل برعکس نکلا ہے۔یہ جنگ نہ تو امریکہ کو دوبارہ عظیم بنائے گی اور نہ ہی مشرق وسطیٰ میں اس کے گرتے ہوئے اثرورسوخ کو بحال کرے گی۔ بلکہ اس سے امریکی طاقت کا زوال مزید تیز ہو گا اور ایران ایک مضبوط اور متحد قوم کے طور پر عالمی سطح پر ابھرے گا۔

ساجدہ اصغر آرائیں ✍🏼