ناول: وارث کون

باب اؤل: دہلیز

قسط نمبر 3

مصنف: زیاد اصغر زارون

°°°°°°°°°°

خوشیوں کے ہنگامے تھم چکے تھے اور فرحان کی شادی کی گہما گہمی کو گزرے اب ایک ہفتہ بیت چکا تھا۔ گھر کے در و دیوار پر چھائی وہ رونق رخصت ہو چکی تھی اور تمام رشتہ دار اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے تھے۔
رات کا پچھلا پہر تھا، جب پوری دنیا گہری نیند کی آغوش میں تھی، عائشہ اپنے بستر میں رضائی تلے دبکی ہوئی تھی۔ کمرے کا دروازہ مضبوطی سے مقفل تھا اور وہ موبائل کو کان سے چپکائے نہایت دھیمی سرگوشیوں میں محوِ گفتگو تھی۔

نقیب! اس شادی کے ہنگاموں نے تو مجھے نڈھال ہی کر دیا،” اس نے تھکن سے چور آواز میں سرگوشی کی۔”

تمہیں آرام کرنا چاہیے عائشہ، میں کہیں بھاگا تھوڑی جا رہا ہوں۔ ہم کل بھی بات کر سکتے تھے،” نقیب کی آواز موبائل کے اسپیکر سے کسی ریشمی ڈور کی طرح ابھری۔”

نہیں… نہیں،” عائشہ نے جلدی سے تردید کی۔”

“اسی تھکاوٹ کو اتارنے کے لیے ہی تو تمہیں کال کی ہے۔ تمہاری آواز سنے بغیر تو سکون ہی نہیں ملتا۔”

سچ کہوں تو میں خود ان دنوں بہت اداس رہا،” نقیب کے لہجے میں افسردگی گھل گئی۔”

ہماری ڈھنگ سے بات ہی نہیں ہو پاتی تھی۔”

“تمہارے بھائی کی شادی کے ان مصروف دنوں میں مجھے شدت سے احساس ہوا کہ تم میرے لیے کتنی اہم ہو۔

وہ کیسے؟” عائشہ نے محظوظ ہوتے ہوئے پوچھا، اسے نقیب کے لہجے کی یہ تڑپ بھلی لگ رہی تھی۔”

ظاہر ہے، تم خوشیوں میں مگن تھی اور میں یہاں تمہارے ایک ایک میسج کو ترستا تھا۔”

“،تمہارے میسجز بھی ان دنوں یوں آتے تھے جیسے کوئی رئیس کسی بھکاری کی جھولی میں خیرات ڈالتا ہے
نقیب نے بڑی مہارت سے تشبیہ دی تو عائشہ کو اس کی اس بات پر غصہ آنے کے بجائے ایک عجیب سی لذت محسوس ہوئی۔

اب ایسی باتیں تو نہ کرو،” عائشہ نے بناوٹی غصے سے کہا۔”

“یہی سچ ہے عائشہ! اب مجھ سے تمہارے بغیر نہیں رہا جاتا،” نقیب کی آواز اب سنجیدہ اور پُرکشش ہو چکی تھی۔

“ایسا کیوں؟”

عائشہ اسے مزید کریدنا چاہتی تھی، وہ چاہتی تھی کہ نقیب اس کے ان جذبات کی زبان بنے جو وہ خود اپنے اندر محسوس کر رہی تھی۔

اگر سچ کہہ دیا تو تم برا مان جاؤ گی، اور میں تمہیں کسی قیمت پر کھونا نہیں چاہتا۔”

مجھے یہ دوستی اپنی جان سے زیادہ عزیز ہے،” نقیب نے مہرے بچھاتے ہوئے کہا۔

،نہیں مناتی برا… جو بھی دل میں ہے، صاف صاف کہہ دو”

“عائشہ نے اسے حوصلہ دیا تو دوسری طرف خاموشی چھا گئی۔

وہ… دراصل… بات یہ ہے کہ…” نقیب ایسے ہچکچایا جیسے کوئی بہت بڑا راز فاش کرنے والا ہو۔”

ہاں ہاں! بولو نقیب،” عائشہ نے اسے شہ دی۔”

“،عائشہ…! سچی بات تو یہ ہے کہ… مجھے تم سے پیار ہو گیا ہے”

نقیب کے ان الفاظ نے عائشہ کے وجود میں ایک سنسنی دوڑا دی۔

اس کے دل کی دھڑکن یکدم اتنی تیز ہوئی کہ اسے اپنے کانوں میں سنائی دینے لگی۔ زبان جیسے تالو سے چپک گئی تھی۔ وہ اندر سے نہال ہو رہی تھی، مگر اپنی صنف کے وقار کو برقرار رکھتے ہوئے اس نے خود پر حیرت طاری کر لی۔

لیکن نقیب! ہم تو صرف بہترین دوست ہیں۔ میں نے تو کبھی اس زاویے سے سوچا ہی نہیں،” اس نے جھوٹ موٹ کا صدمہ ظاہر کیا، حالانکہ اس کا پورا وجود خوشی سے جھوم رہا تھا۔”

“پلیز عائشہ! میں اب تمہارے بنا ادھورا ہوں۔ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں، پلیز مجھے ٹھکرا مت دینا۔”

نقیب کی منت آمیز آواز نے عائشہ کے دفاع کی آخری دیواریں بھی گرا دیں۔

نقیب! تم نے تو مجھے ابھی تک دیکھا بھی نہیں۔ تمہیں پتا بھی ہے کہ میں کیسی دکھائی دیتی ہوں؟”

بنا دیکھے یہ کیسا پیار ہے؟” عائشہ نے اپنی آخری حجت پیش کی۔

مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا،” نقیب نے جذباتی لہجے میں کہا۔”

میرا پیار تمہارے چہرے کا محتاج نہیں، تمہاری روح سے ہے۔”

تمہاری سیرت، تمہارا کردار اور تمہاری باتیں میرے لیے کافی ہیں۔

“تم جیسی پاکیزہ لڑکی اس دور میں ملنا کسی معجزے سے کم نہیں۔
نقیب کی یہ لفاظی عائشہ کے لیے کسی آسمانی نعمت سے کم نہیں تھی۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ اس مادہ پرست دور میں بھی کوئی اس کی روح سے محبت کر سکتا ہے۔

،اس نے خود کو سنبھالا اور دھیمے لہجے میں بولی
نقیب، یہ فیصلہ اتنا آسان نہیں۔ میں تمہارے جذبات کی قدر کرتی ہوں، مگر مجھے تھوڑا وقت چاہیے۔”

“میں کل تک تمہیں سوچ کر جواب دوں گی۔

“،ٹھیک ہے… مگر وعدہ کرو کہ جواب جو بھی ہو، ہماری دوستی پر حرف نہیں آئے گا،”

نقیب نے فریاد کی تو عائشہ خاموش رہی۔

:چند لمحوں کی بوجھل خاموشی کے بعد عائشہ نے موضوع بدلا

“چلو نا، کوئی اور بات کرتے ہیں۔ تم نے اپنی وہ نئی تصویر ابھی تک نہیں بھیجی۔”

میں تو بھیج دوں گا، مگر تم نے بھی تو شادی کی کوئی تصویر نہیں دکھائی نا،” نقیب نے فوراً اپنا مطالبہ سامنے رکھا۔”

“،میں نے کہا نا، کل تک کا وقت دو، پھر دیکھوں گی کہ کیا کرنا ہے”
عائشہ نے بات ٹال دی۔ نقیب نے بھی سمجھداری کا ثبوت دیتے ہوئے موضوع بدل دیا اور اپنے دن بھر کی روداد سنانے لگا، مگر عائشہ اب اس کی باتوں میں نہیں، بلکہ اپنے مستقبل کے ان سپنوں میں گم تھی جو نقیب نے ابھی ابھی اس کی آنکھوں میں سجائے تھے۔

°°°°°°°°°°

نئے دن کا سورج آسمان کی وسعتوں میں بلند ہو چکا تھا اور گھڑی کی سوئیاں گیارہ بجنے کا اعلان کر رہی تھیں۔ گھر کے در و دیوار پر ایک عجیب سا سکون اور سناٹا طاری تھا۔ عائشہ کا بھائی فرحان اپنی نئی نویلی دلہن کے ساتھ سسرال کی میزبانی کا لطف اٹھانے گیا ہوا تھا۔ کومل اور ایمان اپنے سکول میں تھیں، جبکہ کمال احمد اپنے روزمرہ کے فرائض کی ادائیگی کے لیے ڈیوٹی پر جا چکے تھے۔
گھر کے تمام کام کاج نمٹانے کے بعد، بلقیس بیگم بھی دوسرے محلے میں اپنی بہن کی خیریت دریافت کرنے نکل گئیں، اور یوں عائشہ کو وہ مقدس تنہائی میسر آ گئی جس کا اسے شدت سے انتظار تھا۔ تنہائی کے ان نایاب لمحات میں اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ موبائل نکالا اور نقیب کا نمبر ڈائل کر دیا۔ چند لمحوں کی بیپ نے اس کے انتظار کی اذیت کو بڑھایا، اور پھر دوسری طرف سے وہ جانی پہچانی آواز ابھری۔

کیسے ہو نقیب؟” عائشہ نے اپنی آواز میں لرزتے ہوئے اشتیاق کو چھپاتے ہوئے پوچھا۔”

“،بہت اچھا ہوں… بس تمہاری ہی یادوں کے حصار میں مقید تھا”
نقیب کا وہی سحر انگیز اور دلفریب انداز، جو عائشہ کے ہوش اڑانے کے لیے کافی تھا۔

عائشہ کے گلابی لبوں پر ایک شرمیلی مسکان رقص کرنے لگی۔
کبھی کوئی اور کام بھی کر لیا کرو، کیا دنیا میں میرے علاوہ سوچنے کو کچھ اور نہیں بچا؟” اس نے لاڈ سے جتایا۔”

“مجھے اس مادہ پرست دنیا کی ضرورت ہی کب ہے؟ میرے لیے تو تمہارا خیال ہی پوری کائنات ہے۔”

نقیب نے گویا لفظوں سے جادو بن دیا۔

اچھا جی! پھر تو میں خود کو بہت خوش نصیب تصور کرتی ہوں۔” وہ ایک ادا سے بولی۔”

“نہیں عائشہ… خوش نصیب تو میں ہوں جسے تمہاری جیسی نیک سیرت اور باکردار شریکِ سفر ملنے کی امید ہے۔”

نقیب کی آواز میں ایک خاص قسم کی سنجیدگی اور مٹھاس گھل گئی۔

چھوڑو ان باتوں کو، یہ بتاؤ کہ ابھی کیا کر رہے تھے؟” عائشہ نے موضوع بدلنا چاہا تاکہ اپنی دھڑکنوں پر قابو پا سکے۔”

کچھ خاص نہیں… بس وہ پڑوس والی ضعیف خالہ بیمار تھیں۔”

“ان کا کوئی بیٹا نہیں ہے نا، تو ان کی تیمارداری اور گھر کے سودا سلف کی ذمہ داری مجھ پر ہی ہے۔

،انہیں ڈاکٹر کے پاس لے کر گیا تھا

“دوائی لا کر دی، کچھ راشن کا بندوبست کیا اور ابھی انہیں گھر چھوڑ کر لوٹا ہی تھا کہ تمہاری کال آ گئی۔

نقیب نے نہایت انکساری سے اپنی نیکیوں کی داستان سنائی۔

عائشہ کا دل عقیدت اور محبت کے ملے جلے جذبات سے بھر گیا۔ اسے اپنی قسمت پر رشک آنے لگا کہ اسے ایک ایسا محبوب ملا ہے جس کے سینے میں انسانیت کے لیے درد ہے۔

،وہ ستائشی لہجے میں بولی
نقیب! مجھے تمہاری یہی صفت سب سے زیادہ عزیز ہے کہ تم بے لوث ہو کر دوسروں کے کام آتے ہو۔”

“تم واقعی بہت پاکیزہ انسان ہو۔

یہ تو ہمارا انسانی فریضہ ہے عائشہ۔”

“ہمیں تو شکر گزار ہونا چاہیے کہ خالقِ کائنات ہمیں ایسے نیک کاموں کے لیے منتخب کرتا ہے۔
،نقیب نے تقویٰ کا وہ لبادہ اوڑھا جس نے عائشہ کی رہی سہی عقل پر بھی پردہ ڈال دیا۔ پھر یکدم اس نے لہجہ بدلا

“خیر یہ بتاؤ… تم نے رات والی بات پر کیا فیصلہ کیا؟”

عائشہ چند لمحوں کے لیے خاموش ہوگئی۔ اس کے ذہن میں گھر کی دہلیز، ماں باپ کا مان اور بھائیوں کی غیرت کے نقش ابھرے، مگر نقیب کی پارسائی ان سب پر بھاری پڑ گئی۔

،وہ نہایت دھیمے اور پر یقین لہجے میں بولی
نقیب! تمہاری جگہ اگر کوئی اور ہوتا تو میں شاید کبھی ہاں نہ کہتی… لیکن تم سب سے الگ ہو۔”

“مجھے اکثر ایسا لگتا ہے کہ تم میری زندگی کی کسی بھولی بسری نیکی کا انعام ہو۔

کوئی ایسی نیکی جس سے میرا رب خوش ہوا اور اس نے تمہاری صورت میں مجھے ایک مخلص دوست اور ہم سفر عطا کر دیا۔

تو کیا… میں اسے ہاں سمجھوں؟” نقیب کی آواز میں فتح کی چمک تھی۔”

ہاں نقیب… میں تمہارے ساتھ ہی اپنی زندگی کی بنیاد رکھوں گی۔”

اب تمہارے بنا کسی اور کا تصور بھی محال ہے،” عائشہ نے گویا اپنی تقدیر کا سودا کر دیا۔

آئی لو یو عائشہ… لو یو سو مچ!” نقیب کی آواز خوشی سے چہک رہی تھی۔”

“!عائشہ کی پلکیں حیا سے جھک گئیں، وہ نرمی سے بولی، “لو یو ٹو… میری جان
تین ماہ کے طویل انتظار کے بعد، عائشہ نے پہلی بار تمام حجابات اٹھا کر اسے میری جان کہہ کر پکارا تھا۔ ایک بے نام رشتہ، جو ایک اتفاقیہ کال سے شروع ہوا تھا، اجنبیت کی وادیوں سے گزرتا ہوا اب محبت کے اس مقام پر پہنچ چکا تھا جہاں واپسی کا راستہ بند ہو جاتا ہے۔ یہ رشتہ آنے والے وقت میں کیا رنگ دکھائے گا اور اس کا انجام کیا ہوگا، یہ ان دونوں کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ عائشہ کے دل میں صرف ایک ہی یقین پنہاں تھا کہ نقیب اس کائنات کا بہترین انسان ہے، اور اس کے ساتھ اس کا مستقبل محفوظ ہے۔ وہ جینے مرنے کے عہد و پیماں کر رہے تھے، یہ جانے بغیر کہ جن جذباتی بنیادوں پر وہ اپنے سپنوں کا محل تعمیر کر رہے ہیں، ان کے نیچے کی زمین کتنی کھوکھلی ہے۔

°°°°°°°°°°

محبت کے باقاعدہ اظہار کو تین روز بیت چکے تھے اور ان تین دنوں میں وقت جیسے پر لگا کر اڑنے لگا تھا۔ اب ان کے درمیان تکلف کی وہ آخری دیواریں بھی گر چکی تھیں جو اجنبیت کے دور میں حائل تھیں۔ گفتگو کے موضوعات بدل چکے تھے اور لہجوں میں وہ بیباکی آ گئی تھی جو صرف کسی بہت قریبی تعلق میں میسر ہوتی ہے۔

رات اپنے پورے جوبن پر تھی اور گھر کے تمام مکین نیند کی آغوش میں تھے، مگر عائشہ کی آنکھوں میں نقیب کی باتوں کا خمار جاگ رہا تھا۔ وہ رضائی کے گرم حصار میں دبکی، موبائل کی مدھم روشنی میں نقیب سے وٹس ایپ پر محوِ گفتگو تھی کہ اچانک اسکرین پر ایک ایسا پیغام نمودار ہوا جس نے اس کے دل کی دھڑکنوں کی ترتیب بدل دی۔
،نقیب نے بڑی مہارت سے لفظوں کا جال بنتے ہوئے لکھا تھا
عائشہ! ہمیں بات کرتے ہوئے تین ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔”

،میں نے آج تک نہ کبھی تم سے تقاضا کیا اور نہ ہی تمہیں دیکھنے کی خواہش ظاہر کی

“…مگر کیا تمہیں نہیں لگتا کہ اب، جب ہم نے ایک دوسرے سے جینے مرنے کے عہد کر لیے ہیں، تو
پیغام ادھورا تھا، مگر اس میں چھپی تمنا عائشہ کے پور پور میں سرایت کر گئی۔

عائشہ چند لمحوں کے لیے سوچوں کے گرداب میں پھنس گئی۔ اس کے ذہن میں حیا اور احتیاط کی شمعیں ٹمٹمائیں، مگر نقیب کی محبت کا طوفان ان پر بھاری پڑ گیا۔

:اس نے کانپتے ہوئے پوروں سے ٹائپ کیا
“آخر کیا کرو گے مجھے دیکھ کر؟”

:نقیب نے فوراً ایک اور پانسہ پھینکا
“اگر تمہیں مجھ پر اعتبار نہیں یا تم اپنی تصویر نہیں بھیجنا چاہتیں تو کوئی بات نہیں۔ میں دوبارہ کبھی تم سے یہ فرمائش نہیں کروں گا۔”

اس جملے میں موجود مصنوعی اداسی عائشہ کے نرم دل پر تیر کی طرح لگی۔

“،نہیں نقیب! ایسی بات نہیں ہے۔ مجھے تم پر خود سے بڑھ کر اعتبار ہے”

” عائشہ نے گویا اپنے دفاع کی آخری ڈھال بھی توڑ دی۔ “رکو… ابھی بھیجتی ہوں۔

اس نے لرزتے ہاتھوں سے گیلری کھولی، اپنی ان چند بہترین تصاویر کا انتخاب کیا جن میں اس کا روپ نکھرا ہوا تھا، اور ایک گہری سانس لے کر سینڈ کا بٹن دبا دیا۔

تصاویر پر بلیو ٹِک نمودار ہونے کے بعد، وہ چند سیکنڈ عائشہ کے لیے کسی اذیت ناک انتظار سے کم نہیں تھے۔ پھر اچانک موبائل وائبریٹ ہوا اور اسکرین پر حیرت زدہ (😳) ایموجی ابھری۔

:اگلا پیغام کسی جادوئی منتر کی طرح تھا
عائشہ! تم تو میری سوچ اور تخیل سے بھی کہیں زیادہ حسین ہو۔ خدا کی قسم! تم تو کسی قدیم اور عظیم سلطنت کی شہزادی معلوم ہوتی ہو۔”

“!میں نے آج تک ایسی سحر انگیز خوبصورتی نہیں دیکھی۔ تم تو کمال ہو یار
نقیب کے ان ستائشی کلمات نے عائشہ کے پورے وجود میں جیسے چراغاں کر دیا۔ اس کے لبوں پر ایک فاتحانہ مسکان پھیل گئی اور گالوں پر حیا کی ایسی سرخی اتری جو اندھیرے کمرے میں بھی نمایاں تھی۔

،اس نے فوراً عجز و انکسار کا لبادہ اوڑھا
“نہیں تو نقیب… میں تو بہت عام سی ہوں۔ مجھے تو کبھی نہیں لگا کہ میں پیاری ہوں۔”

ایک بار خود کو میری نظر سے دیکھو عائشہ… تمہیں اندازہ ہوگا کہ تم قدرت کا کتنا حسین شاہکار ہو۔ تمہارا یہ حسن کسی کی بھی مت مار سکتا ہے۔”

لو یو سو مچ میری جان!” نقیب کے الفاظ نے عائشہ کے شعور پر دھند طاری کر دی۔
ان تعریفی کلمات نے عائشہ کے من میں لڈو پھوڑ دیے تھے۔ اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ ہواؤں میں اڑ رہی ہو۔ نقیب، جو اس کی نظر میں پہلے ہی ایک فرشتہ صفت انسان تھا، اب اس کے لیے اس کی کل کائنات اور واحد سہارا بن چکا تھا۔

°°°°°°°°°°

عائشہ اور نقیب کے اس پر اسرار رابطے کو اب پندرہ ماہ بیت چکے تھے۔ ایک ایسی مسافت، جس میں محبت کے دعوؤں اور عہد و پیماں کو ایک سال کا عرصہ گزر چکا تھا۔
آج کمال احمد کا گھر خوشیوں کا گہوارہ بنا ہوا تھا۔ گھر کے آنگن میں ننھے قدموں کی آہٹ گونجی تھی۔ عائشہ کے بھائی فرحان اور بھابھی رفعت کے ہاں بیٹے کی ولادت ہوئی تھی۔ صبح سے شام تک مہمانوں کا تانتا بندھا رہا، مٹھائیاں بانٹی جا رہی تھیں اور مبارکبادوں کا ایک لامتناہی سلسلہ تھا جو تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔

مغرب کی اذانیں فضا میں گونج رہی تھیں، جب عائشہ سب ہنگاموں سے دور اپنی بھابھی رفعت کے کمرے میں موجود تھی۔ کمرے میں نیم اندھیرا تھا اور ایک مخصوص خاموشی۔ رفعت بڑے سکون سے اپنے ننھے وجود کو فیڈر سے دودھ پلا رہی تھی، جبکہ عائشہ اس کے قریب ہی بستر پر گم سم، اپنی ہی سوچوں کے گرداب میں ڈوبی بیٹھی تھی۔

،رفعت نے محسوس کیا کہ عائشہ کا جسم تو یہاں ہے، مگر روح کہیں اور بھٹک رہی ہے۔ اس نے ننھے جانشین پر نظریں جمائے ہوئے ہی دھیمے لہجے میں پوچھا
“عائشہ! کیا بات ہے؟ اج اتنی خوشی کے موقع پر بھی تم اتنی پریشان کیوں لگ رہی ہو؟”

“عائشہ کی خاموشی نہیں ٹوٹی۔ رفعت نے دوبارہ اسے کریدا، “بتاؤ تو سہی، کیا نقیب نے پھر کچھ کہا ہے؟

عائشہ نے بوجھل پلکیں اٹھا کر اپنی سہیلی اور بھابھی کو دیکھا۔
“نہیں رفعت… وہ بے چارہ کیا کہے گا؟ بس اب مجھے خوف محسوس ہونے لگا ہے۔”

اس کی آواز میں ایک انجانا ڈر لرز رہا تھا۔

خوف؟ کس بات کا خوف؟” رفعت نے حیرت سے پوچھا۔”

رفعت! میں نقیب کے بغیر جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتی،” عائشہ نے روہانسے لہجے میں اپنا دل کھول کر رکھ دیا۔”

“مگر میں یہ بھی جانتی ہوں کہ ابو اور بھائی کبھی نہیں مانیں گے۔”

ماننا تو دور کی بات، اگر انہیں نقیب کے بارے میں ذرا سی بھی بھنک پڑ گئی تو وہ غیرت کے نام پر میرا گلا گھونٹ دیں گے۔

،رفعت نے ایک گہری سانس لی اور اسے حوصلہ دیتے ہوئے کہا

پریشان مت ہو، میں کوئی مناسب موقع دیکھ کر فرحان سے بات کروں گی۔”

“مجھے امید ہے کہ وہ تمہارے جذبات کو سمجھے گا۔

یہ سنتے ہی عائشہ کے چہرے پر زردی چھا گئی۔
“نہیں رفعت! پلیز ایسا مت کرنا۔ ایک جو بھرم باقی ہے، وہ بھی ٹوٹ جائے گا۔ گھر میں آگ لگ جائے گی۔”

،رفعت کو عائشہ کی اس بزدلی اور دوغلے پن پر افسوس ہوا۔ اس نے تیکھی نظروں سے اسے دیکھا اور سنجیدگی سے بولی
عائشہ! تمہارے بھائی فرحان کو مجھ سے محبت تھی، مگر جب تم نے مجھے یہ بتایا تھا تو میں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ سیٹنگ کروا دو۔”

فرحان نے بھی کبھی غلط راستے کا انتخاب نہیں کیا۔

“…اس نے وہی راستہ چنا جو حق اور حلال تھا۔ اس نے عزت کے ساتھ نکاح کا پیغام بھیجا اور مجھے اپنا لیا۔ لیکن تم
،رفعت کا لہجہ سخت ہو گیا

تم ایک غلط راستے کی مسافر ہو۔ ایک ایسے رشتے میں بندھی ہو جس کی کوئی شرعی یا قانونی حیثیت نہیں۔”

،میں نے اب تک صرف تمہاری دوستی کی خاطر تمہارا پردہ رکھا ہوا ہے

“ورنہ نند بھابھی کے رشتے سے دیکھوں تو میں تمہارے ساتھ اب تک بہت بڑی زیادتی کرتی آئی ہوں۔

تو پھر تم ہی بتاؤ میں کیا کروں؟” عائشہ نے بے بسی سے ہاتھ پھیلا دیے۔”

“میں نقیب کے بنا مر جاؤں گی اور گھر میں کسی سے بات کرنے کی مجھ میں سکت نہیں۔”

فکر نہ کرو، میں آج فرحان سے طریقے سے بات کروں گی۔” رفعت نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔”

“یہ سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے۔ یا تو نکاح ہو اور یہ رشتہ سب کے سامنے آئے، یا پھر اسے ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ دو۔ یہ چھپا ہوا گناہ اب مزید نہیں چل سکتا۔”

عائشہ نے کوئی جواب نہیں دیا اور خاموشی سے سر جھکا لیا۔ اسے احساس تھا کہ بے فکری کے دن رخصت ہو چکے ہیں اور اب آزمائش کی گھڑی قریب ہے۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں یہ انکشاف اس کی آزادی اور اس کے رابطے ہمیشہ کے لیے ختم نہ کر دے۔ مگر اس کے دل کے کسی گوشے میں ایک موہوم سی امید اب بھی باقی تھی کہ شاید بھائی فرحان، جس نے خود محبت کی تھی، وہ اس کی تڑپ کو سمجھ لے اور کوئی معجزہ ہو جائے۔

°°°°°°°°°°

رات کی سیاہی اپنے پورے جوبن پر تھی اور کمرے میں پھیلا نیم اندھیرا ایک عجیب سے سکون اور سحر کا احساس دلا رہا تھا۔ کھڑکی کے پردوں سے چھن کر آتی چاند کی مدھم روشنی بیڈ کے ایک کونے کو منور کر رہی تھی، جہاں فرحان اور رفعت زندگی کی سب سے بڑی خوشی کے ہمراہ لیٹے ہوئے تھے۔ ان کے درمیان ان کا چند روزہ بیٹا، جو ان کی محبتوں کا جیتا جاگتا ثبوت تھا، معصومیت کی چادر اوڑھے پرسکون نیند سو رہا تھا۔

فرحان آنکھیں موندے دن بھر کی تھکن اتارنے کی کوشش کر رہا تھا، جبکہ رفعت کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔ اس کا ایک ہاتھ مامتا کی تڑپ کے ساتھ بچے کے سینے پر تھا، مگر اس کا ذہن کسی بہت بڑے طوفان کی زد میں تھا۔ وہ پچھلے کئی گھنٹوں سے اپنے دل میں ایک ایسا راز چھپائے بیٹھی تھی جو اس گھر کے سکون کو تہہ و بالا کر سکتا تھا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ بات کا سرا کہاں سے تھامے، مگر عائشہ کی بے بسی اسے خاموش رہنے کی مہلت نہیں دے رہی تھی۔

،کافی دیر تک تذبذب اور کشمکش کے بھنور میں ہچکولے کھانے کے بعد، اس نے بالآخر ہمت مجتمع کی اور نہایت دھیمے، لرزتے ہوئے لہجے میں خاموشی کا سینہ چاک کیا
“فرحان! مجھے آپ سے ایک بہت ضروری بات کرنی تھی۔”

،فرحان نے آنکھیں کھولے بغیر ہی جواب دیا
ہاں… بولو، میں سن رہا ہوں۔” اس کی آواز میں نیند کا خمار واضح تھا۔”

پہلے آپ مجھ سے ایک وعدہ کریں… کہ میں جو بھی کہوں گی، وہ بات صرف ہم دونوں کے درمیان رہے گی۔ دیواروں کو بھی اس کی بھنک نہیں ہونی چاہیے۔” رفعت نے اصرار کیا۔”

“اس پراسرار لہجے نے فرحان کی نیند اڑا دی۔ اس نے بوجھل پلکیں جھپکائیں اور رخ بدل کر رفعت کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا، “خیریت تو ہے نا؟ تم اتنی سنجیدہ کیوں ہو رہی ہو؟

“پہلے وعدہ کریں کہ آپ غصہ نہیں کریں گے اور صبر سے میری بات سنیں گے۔”
رفعت نے گویا اس کے غصے کی آگ پر پہلے ہی پانی ڈالنے کی کوشش کی۔

فرحان نے ایک گہری سانس لی، بیڈ کے تکیے کو درست کر کے اس سے ٹیک لگائی اور سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
“ٹھیک ہے، میں وعدہ کرتا ہوں، اب بتاؤ بھی، کیا معاملہ ہے؟”

،رفعت نے دھڑکتے دل کے ساتھ تمہید باندھی
فرحان! ہمارا دینِ اسلام کسی بھی لڑکی کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے فیصلے اپنی پسند کے مطابق کرے۔”

،والدین اور بزرگوں کا فرض ہے کہ وہ بچوں کے ہاتھ پیلے کرنے سے پہلے ایک بار ان کی منشا ضرور پوچھیں”

“کیونکہ عمر بھر کا ساتھ جبر کی بنیاد پر نہیں نبھایا جا سکتا۔

فرحان کے چہرے پر ایک تلخ مسکراہٹ رینگ گئی۔
ہاں… کتابی باتیں تو یہی ہیں، مگر ہمارا معاشرہ ان حقیقتوں سے بہت دور ہے۔”

“یہاں روایتیں مذہب پر غالب آ جاتی ہیں۔ بدقسمتی ہے، مگر یہی سچ ہے۔

مگر جب اسلام ہمیں حق دیتا ہے، تو ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کو وہ حق دیں۔”

،اب آپ خود ہی دیکھیں…” رفعت نے لہجے میں اپنائیت گھولتے ہوئے کہا
“آپ مجھ سے محبت کرتے تھے۔”

،شروع میں امی اور ابو اس رشتے کے سخت خلاف تھے”

،مگر وہ عائشہ ہی تھی جس نے آپ کی خوشی کے لیے دیوار بن کر ہر مخالفت کا سامنا کیا

“اور والدین کو اس رشتے پر مجبور کیا۔

رفعت کے منہ سے عائشہ کا نام سنتے ہی فرحان کے ماتھے پر بل پڑ گئے اور اس کے دل میں ایک انجانا اندیشہ ناگن کی طرح سر اٹھانے لگا۔ وہ ایک باشعور مرد تھا، اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ رفعت جس راستے پر اسے لے جانا چاہ رہی ہے، وہ کسی بارودی سرنگ سے کم نہیں۔

“رفعت! جو بھی بات ہے، صاف لفظوں میں کہو۔ یہ پہیلیاں میرا جی جلا رہی ہیں۔”

اس کے لہجے میں اب سختی آ گئی تھی۔

،رفعت نے ایک بار معصوم سوئے ہوئے بچے کو دیکھا، پھر فرحان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی
فرحان! عائشہ آپ کی محبت کے لیے ڈھال بنی رہی، اس نے آپ کے گھر بسانے کے لیے دن رات ایک کر دیے۔”

،اب اگر وہی عائشہ کسی ایسے ہی موڑ پر کھڑی ہو

“جہاں اسے ایک سہارے کی ضرورت ہو… تو کیا آپ اس کا ساتھ دیں گے؟

یہ سننا تھا کہ فرحان کا چہرہ غصے سے تمتما اٹھا۔
“کہیں اس کا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا؟ کیا ہوش کھو بیٹھی ہے وہ؟”

وہ دھاڑا، مگر رفعت نے فوراً اس کے لبوں پر ہاتھ رکھ دیا۔

خدا کے لیے فرحان! آواز دھیمی رکھیں، امی ابو برابر والے کمرے میں ہیں۔” رفعت نے لجاجت سے کہا۔”

،فرحان نے اپنے ابھرتے ہوئے جذبات کو بمشکل قابو کیا اور دانت پیستے ہوئے بولا
دیکھو رفعت! میری بات الگ تھی۔ میں مرد ہوں، معاشرہ مجھے رعایت دیتا ہے۔”

اگر یہی مطالبہ تمہاری طرف سے شادی سے پہلے ہوتا، تو تمہارے گھر والے بھی تمہیں زندہ دفن کر دیتے۔

ہم جس برادری میں رہتے ہیں، وہاں ناک کی قیمت جان سے زیادہ ہوتی ہے۔ اگر عائشہ کسی ایسے چکر میں ہے، تو اسے سمجھاؤ۔

“اگر یہ بات ابو یا کامران بھائی کے کانوں تک پہنچی، تو اس گھر میں لاشیں گر جائیں گی۔

رفعت کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، اس نے فرحان کا ہاتھ تھام لیا۔
اسی لیے تو میں آپ کے سامنے جھولی پھیلا کر بیٹھی ہوں، آپ سے بھیک مانگ رہی ہوں کہ اسے تنہا مت چھوڑیں۔”

وہ غلطی پر ہے، میں مانتی ہوں، مگر دل کے ہاتھوں مجبور ہے۔

” آپ کو اپنے اس ننھے بچے کا واسطہ… اسے اپنی بہن سمجھ کر اس کی زندگی بچا لیں۔

فرحان نے خونخوار نظروں سے رفعت کو دیکھا، جیسے اسے کچا چبا جائے گا۔ وہ چند لمحے ساکت رہا، پھر نظریں پھیر کر دیوار کو تکنے لگا۔ اس کے اندر ایک جنگ چھڑی ہوئی تھی۔ ایک طرف خاندانی غیرت تھی اور دوسری طرف وہ بہن جو اس کی جان تھی۔

،بالآخر، اس نے ایک بوجھل سانس لی اور دل پر پتھر رکھتے ہوئے پوچھا
“لڑکے کے بارے میں بتاؤ۔ کون ہے؟ کہاں رہتا ہے؟ کیا کرتا ہے؟”

،رفعت کا حال یہ تھا، جیسے ڈوبتے کو تنکے کا سہارا مل گیا ہو، اس نے جلدی سے جواب دیا

“اس کا نام نقیب ہے اور وہ تحصیل پھالیہ کے قریب بمبلی گاؤں کا رہنے والا ہے۔”

“پھالیہ؟ منڈی بہاؤ الدین؟” فرحان چونک اٹھا۔ “یہ تو یہاں سے میلوں دور ہے۔ عائشہ اسے کیسے جانتی ہے؟”

وہ… عائشہ اس سے کبھی ملی نہیں ہے، نہ ہی انہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ہے۔”

بس موبائل پر ہی ان کی بات چیت ہوتی ہے،” رفعت نے انکشاف کیا۔

“اور وہ اس گھٹیا پن کو محبت کہتی ہے؟” فرحان کا لہجہ طنز اور نفرت سے بھر گیا، “وہ مرے گی میرے ہاتھوں سے۔”

پلیز فرحان! وہ بہت پریشان ہے۔ آپ ایک بار خود اس لڑکے کی چھان بین تو کر لیں۔”

،اگر وہ واقعی نیک اور شریف ہوا

“تو کیا یہ بہتر نہیں کہ عائشہ کی شادی کسی ایسے شخص سے کر دی جائے جسے وہ پسند کرتی ہے؟

تمہیں اندازہ بھی ہے کہ پھالیہ کتنی دور ہے؟”

اگر لڑکا فرشتہ بھی ہوا، تب بھی ابو اتنی دور رشتہ کرنے پر کبھی راضی نہیں ہوں گے۔” فرحان کا جی چاہ رہا تھا کہ اپنا سر پیٹ لے۔

،آپ کوشش تو کریں”

کم از کم عائشہ کی نظروں میں تو سرخرو ہو جائیں کہ اس کے بھائی نے اس کے لیے ہمت دکھائی تھی،” رفعت نے منت کی۔

فرحان نے اپنی آنکھیں سختی سے بند کر لیں، اس کے ذہن میں سوچوں کا تانتا بندھ گیا۔

،وہ سوچ رہا تھا کہ اس دور افتادہ علاقے کے کسی انجان لڑکے کا حسب نسب کیسے معلوم کرے گا۔

،آخر کار اس نے رفعت سے پوچھا
“عائشہ اسے کب سے جانتی ہے؟ اور تمہیں یہ سب کب پتا چلا؟”

رفعت ایک پل کو بوکھلا گئی۔ اسے اپنی چھت اور اپنا گھر بہت عزیز تھا۔ اگر وہ یہ بتاتی کہ وہ مہینوں سے عائشہ کی رازدار تھی، تو فرحان کا اعتبار اس پر سے بھی اٹھ جاتا۔

،اس نے فوراً جھوٹ کا سہارا لیا
عائشہ تو اسے ایک سال سے جانتی ہے… مگر مجھے آج صبح ہی پتا چلا۔”

“جیسے ہی اس نے مجھ سے ذکر کیا، میں نے فوراً آپ کو بتانا ضروری سمجھا۔

،فرحان نے شک بھری نظروں سے اسے دیکھا، پھر گویا ہار مانتے ہوئے بولا
ٹھیک ہے… میں پتا کرواتا ہوں۔ مگر عائشہ کو کانوں کان خبر نہ ہو کہ میں جانتا ہوں۔”

کل کسی بہانے سے اس لڑکے کا پورا نام، برادری اور اس کے چند قریبی لوگوں کے نام لکھوا لینا۔

“جب تک میں اس کے خمیر سے واقف نہیں ہو جاتا، مجھ سے کوئی امید مت رکھنا۔

اتنا کہہ کر فرحان نے ایک جھٹکے سے کروٹ لی اور دوسری طرف رخ کر لیا۔ وہ ایک ایسی اذیت ناک آزمائش میں مبتلا ہو گیا تھا جو کسی بھی غیور بھائی کے لیے جان لیوا ہوتی ہے۔

،مگر اس کے دل کے کسی نہاں خانے میں یہ دعا بھی سر اٹھا رہی تھی کہ
“یا اللہ! لڑکا واقعی نیک اور روزگار والا ہو… تاکہ میں ابو کے سامنے اس کا مقدمہ لڑنے کے قابل تو ہو سکوں۔”

کمرے میں دوبارہ وہی بوجھل خاموشی چھا گئی، مگر اب اس خاموشی میں ایک نئی تشویش اور خوف کی لہریں موجزن تھیں۔

°°°°°°°°°°

شام سے پہلے کی خنکی آہستہ آہستہ اپنے پر پھیلا رہی تھی اور سورج کی آخری نارنجی کرنیں افق پر دم توڑ رہی تھیں۔ فرحان، جس کے دل میں ایک انوکھا ہیجانی طوفان برپا تھا، اپنی بائیک نکال کر گھر کی گھٹن سے باہر نکل آیا تھا۔ وہ شہر کے ایک پرانے پارک کے کونے میں، گھنی جھاڑیوں کے پاس لگی ایک بنچ پر ساکت بیٹھا تھا، مگر اس کا ذہن کسی بپھرے ہوئے سمندر کی طرح موجزن تھا۔
پچھلے کئی گھنٹوں سے وہ موبائل اسکرین پر نظریں جمائے، لامتناہی کالز اور پیغامات کے سلسلے میں مصروف تھا۔ وہ اپنے ہر اس جاننے والے تک پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا جس کا ذرا سا بھی تعلق اس علاقے سے ہو سکتا تھا، مگر اب تک کی تمام تگ و دو رائیگاں گئی تھی۔ نقیب نامی اس سائے کے بارے میں کوئی بھی مستند معلومات میسر نہیں آ رہی تھیں، اور یہی بے خبری فرحان کے اعصاب کو چٹخا رہی تھی۔

کافی دیر کے ذہنی کرب اور ناکام کوششوں کے بعد، اسے اپنے ایک پرانے دوست کا خیال آیا جو گجرات میں مقیم تھا۔ تھرتھراتے ہاتھوں سے اس نے نمبر ڈائل کیا۔ چند لمحوں کی بیپ فرحان کو صدیوں پر محیط محسوس ہوئی، اور پھر دوسری طرف سے جانی پہچانی آواز ابھری۔ رسمی علیک سلیک اور خیریت دریافت کرنے کے بعد، فرحان نے اپنے لہجے کو جتنا ممکن ہو سکے نارمل رکھنے کی کوشش کی، مگر اس کی آواز میں چھپی جھجھک کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی۔
“یار… تجھ سے ایک بہت ضروری کام تھا۔”
فرحان نے ایک لمبی سانس لے کر بات کا آغاز کیا۔

“ہاں بولو! خیریت تو ہے نا؟ تیرا لہجہ کچھ اکھڑا ہوا لگ رہا ہے۔”

“ہاں، سب ٹھیک ہے… بس ایک لڑکا ہے، تحصیل پھالیہ کا رہنے والا۔ اس کے بارے میں کچھ معلومات درکار تھیں۔ کیا تو وہاں کسی کے ذریعے کچھ پتا کروا سکتا ہے؟”

پھالیہ؟ وہ تو خاصا بڑا علاقہ ہے۔ کیا وہ خاص شہر کا رہائشی ہے؟ اور اس کا نام کیا ہے؟” دوست نے تفتیشی انداز میں پوچھا۔”

خاص شہر کا تو نہیں، اس نے اپنا پتا شاید شہر کے مضافات میں واقع کسی بمبلی نامی گاؤں کا بتایا ہے۔”

اگر تو کہے تو میں اس کے تمام کوائف جو میرے پاس ہیں، تجھے وٹس ایپ کر دیتا ہوں۔” فرحان نے گویا اپنی آخری امید اس کے سامنے رکھ دی۔

بمبلی…؟ ہاں، نام تو سنا ہوا لگتا ہے۔ خیر، تو اس کی مکمل تفصیل بھیج۔”

“میرا ایک قریبی بندہ اسی پٹی میں رہتا ہے، میں اس سے رابطہ کرتا ہوں۔

دوست کی یقین دہانی نے فرحان کے ابلتے ہوئے ذہن پر جیسے ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارے۔

ٹھیک ہے، مگر یار… ذرا جلدی۔ مجھے کب تک جواب مل جائے گا؟” فرحان کی بے چینی اب چھپائے نہیں چھپ رہی تھی۔”

“پریشان نہ ہو، میں تجھے ایک گھنٹے کے اندر اندر واپس کال کروں گا۔”
دوست نے تسلی دی اور کال منقطع ہوگئی۔

فرحان نے فوراً رفعت سے حاصل کردہ تمام تفصیلات… نام، ولدیت، برادری اور گاؤں کا پتا… اپنے دوست کو روانہ کر دیں اور موبائل ایک طرف رکھ دیا۔
وہ ایک گھنٹہ اس کے لیے کسی کڑی آزمائش سے کم نہیں تھا۔ بنچ پر بیٹھے رہنا اب اس کے لیے محال ہو گیا تھا، لہٰذا وہ اٹھا اور بوجھل قدموں سے بائیک کی طرف بڑھ گیا۔
پارک کے عین باہر ایک چھوٹا سا ڈھابہ نما ہوٹل تھا، جہاں سے چائے کی پتی اور الائچی کی خوشبو فضا میں گھلی ہوئی تھی۔ فرحان وہیں ایک خالی میز پر جا بیٹھا۔ ہوٹل میں لوگوں کا شور، برتنوں کے ٹکرانے کی آوازیں اور ٹی وی اسکرین پر چلتا ہوا کوئی مدھم سا گیت اس کے اندر کے شور کو دبانے میں ناکام تھے۔ اس نے چائے کا آرڈر تو دے دیا تھا، مگر اس کی نظریں مسلسل موبائل کی اسکرین پر جمی تھیں، جیسے وہ اسکرین نہیں بلکہ اس کی بہن کی تقدیر کا فیصلہ سنانے والی کوئی لوحِ محفوظ ہو۔

°°°°°°°°°°

…جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *