ناول: وارث کون

باب دوم: شکستہ تقدس

قسط نمبر 7

مصنف: زیاد اصغر زارون

°°°°°°°°°°

کچہری سے باہر کی سڑک پر گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی آمدورفت کا شور تھا۔ عائشہ اور نقیب اب اس تپتی ہوئی سڑک پر آچکے تھے، جہاں زندگی رواں دواں تھی۔ عائشہ کا موبائل نقیب کے مضبوط ہاتھوں میں تھا۔
جیسے ہی فرحان کی طرف سے موصول ہونے والے وائس نوٹ کی بیپ بجی، نقیب کے کان کھڑے ہوگئے۔ اس نے ایک لمحے کے لیے عائشہ کے زرد چہرے کی طرف دیکھا، جس کی آنکھوں میں ویرانی کے ڈیرے تھے۔
“عائشہ! تم ایک منٹ یہاں رکو، میں ذرا سامنے سے کوئی رکشہ دیکھ لوں۔” نقیب نے نہایت مشفقانہ انداز میں جھوٹ بولا اور اس سے چند قدم کے فاصلے پر چلا گیا۔
اس نے موبائل کان سے لگایا اور اسپیکر کی آواز اتنی دھیمی کر دی کہ فرحان کی آواز صرف اس کے اپنے کانوں تک پہنچ سکے۔ فرحان کے لہجے میں موجود کرب، غصہ اور باپ کے ہارٹ اٹیک کی خبر نقیب کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھی۔ اس کے لبوں پر ایک ایسی شیطانی مسکان رقص کرنے لگی جو صرف ان لوگوں کے چہروں پر آتی ہے جن کا ضمیر مر چکا ہو۔

اس نے بڑی عیاری سے وہ وائس نوٹ اپنے وکیل کو فارورڈ کیا۔ یہ اس کے لیے ایک حفاظتی ڈھال تھی تاکہ کل کو اگر فرحان کوئی الٹی سیدھی حرکت کرے، تو وہ اسے اشتعال انگیزی ثابت کر سکے۔ اس کے بعد، اس نے عائشہ کے موبائل سے واٹس ایپ ان انسٹال کر دیا۔ اس کا مقصد صرف رابطہ ختم کرنا نہیں تھا، بلکہ عائشہ کو اس کے ماضی سے مکمل طور پر کاٹ دینا تھا۔

“،اچھا ہے… بڈھا مر ہی جائے تو بھلا ہے”
“اس نے زہریلے لہجے میں خود کلامی کی، “بلکہ تم سب بھی مر جاؤ تو میرا ڈر ختم ہوجائے۔ مردے کم از کم پیچھا تو نہیں کرتے۔

وہ چہرے پر وہی جھوٹی ہمدردی سجا کر دوبارہ عائشہ کے قریب پہنچا، جو تپتی سڑک پر کسی لاوارث سائے کی طرح کھڑی تھی۔
عائشہ…!” اس نے دھیمے لہجے میں پکارا۔”

جی…!” عائشہ نے جواب دیا، مگر اس کی آواز میں اب وہ زندگی نہیں تھی جو کبھی نقیب کے نام پر مچل جایا کرتی تھی۔”

وہ اب ایک ایسی مٹی کی مورت تھی جسے نقیب جیسا چاہتا، ڈھال لیتا۔

دیکھو میری جان! پولیس اور تمہارے بھائی بہت چالاک ہیں۔ وہ ہمارے موبائل کی لوکیشن ٹریس کر کے ہمیں ڈھونڈ سکتے ہیں،” نقیب نے اسے خوفزدہ کرتے ہوئے تحفظ کا احساس دلایا۔”
“ہمیں یہ دونوں موبائل اور اپنی سمیں ابھی اسی وقت ضائع کرنی ہوں گی۔ یہ ہماری حفاظت کے لیے ضروری ہے۔”

“عائشہ، جو اپنی کائنات اجاڑ کر آئی تھی، اب اس کے پاس کھونے کو کچھ نہیں بچا تھا۔ اس نے سر جھکا کر نہایت بے بسی سے کہا، “جیسے آپ کو بہتر لگے۔
اس کا یہ آپ دراصل اس کی مکمل سپردگی کا اعتراف تھا۔
نقیب نے پھرتی سے دونوں موبائلز کی سمیں نکالیں۔ سموں کو پوروں سے مروڑ کر توڑ ڈالا اور سڑک کنارے پڑے کوڑے کے ڈھیر میں اچھال دیا۔ اب باری موبائلز کی تھی۔ نقیب جیسا بخیل انسان شاید کبھی مہنگا فون ضائع نہ کرتا، مگر آج اسے زیور اور نقدی کی اس پوٹلی پر پورا بھروسہ تھا جو عائشہ کے بیگ میں چھپی تھی۔ اسے اندازہ تو نہیں تھا کہ ان کی مالیت کتنی ہوگی لیکن پھر بھی ان موبائلوں کی قیمت اس مالِ غنیمت کے سامنے کچھ نہیں تھی۔

چلو عائشہ! اب ہم آزاد ہیں۔ اب ہمیں کوئی نہیں ڈھونڈ پائے گا۔” نقیب نے فاتحانہ انداز میں اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا۔”
“آؤ، اب ہم اپنی نئی زندگی کی شروعات کریں۔”

عائشہ نے ایک نظر اس ہاتھ کی طرف دیکھا اور پھر اپنی ٹھنڈی انگلیاں اس کی گرفت میں دے دیں۔ نقیب نے اس کا ہاتھ تھاما اور اسے لے کر سڑک پر چلنے لگا۔
وہ دونوں اب ایک ایسی بھیڑ کا حصہ بن چکے تھے جہاں کوئی کسی کو نہیں جانتا تھا۔ عائشہ کے قدم اٹھ تو رہے تھے، مگر اسے محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ ہر قدم کے ساتھ اپنی روح کے ایک حصے کو پیچھے چھوڑ رہی ہے۔ وہ نئی زندگی کی طرف جا رہی تھی، مگر اس زندگی کی قیمت اس نے اپنے باپ کی سانسوں اور خاندان کی عزت کی صورت میں ادا کی تھی۔

°°°°°°°°°°

ہسپتال کے سفید کمرے میں پھیلی خاموشی کسی گہری گھٹن کا احساس دلا رہی تھی۔ کمرے کی سفیدی، جو پاکیزگی کی علامت ہوتی ہے، آج کمال احمد کی زندگی کی ویرانی کا اشتہار بنی ہوئی تھی۔ وہ بیڈ پر نیم دراز تھے، ان کا وجود جو کبھی ایک تناور درخت کی مانند تھا، آج کسی سوکھے ہوئے پتے کی طرح بے جان لگ رہا تھا۔ ان کی آنکھیں چھت کے ایک ہی نقطے پر جمی تھیں، جیسے وہ اس خالی سفیدی میں اپنی زندگی کی تمام محنتوں کو رائیگاں ہوتے دیکھ رہے ہوں۔

بلقیس بیگم ان کے پیروں کی جانب بیٹھی، اپنے لرزتے ہاتھوں سے ان کے پاؤں دبا رہی تھیں۔ ان کی حرکات میں ایک عجیب سی عجلت اور بے چینی تھی، جیسے وہ ان پیروں کو دبا کر اس شخص کو دوبارہ زندگی کے احساس سے جوڑنا چاہتی ہوں جس کا اعتبار اس کی اپنی ہی اولاد نے توڑ دیا تھا۔ دائیں جانب کامران اور فرحان دو مجسموں کی طرح کھڑے تھے۔ کامران کے چہرے پر ایک ضبط شدہ کرب تھا، جبکہ فرحان کی آنکھوں میں غصے کی چنگاریاں اب بھی دہک رہی تھیں۔ گھر کے باقی افراد ہسپتال کی اس بوجھل فضا سے دور گھر کی تنہائی میں قید تھے، جہاں اب رونق کی جگہ صرف سسکیوں کا راج تھا۔
کمرے میں موجود کسی بھی شخص میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ کمال احمد کی اس خاموش اذیت میں مخل ہو سکے۔

آخر کار، کمال احمد نے خود ہی اس جان لیوا سناٹے کو چیر ڈالا۔

،ان کی نظریں اب بھی چھت کی بے رنگی میں پیوست تھیں جب ان کے خشک لبوں سے ایک دھیما مگر بھاری سوال نکلا
“عائشہ… عائشہ کے بارے میں کچھ پتا چلا؟”
اس سوال نے کمرے میں موجود دونوں بھائیوں کے سینوں میں جیسے نشتر چبھو دیے۔ فرحان نے بے بسی سے کامران کی طرف دیکھا۔

اس کی آنکھوں میں ایک التجا تھی کہ “بھائی! مجھ میں ہمت نہیں، آپ ہی اس زہر کو الفاظ کا پیراہن پہنائیں”۔
کامران نے ایک گہری سانس لی اور نہایت آہستہ سے قدم آگے بڑھائے۔ کمال احمد کے بستر کے پہلو میں بیٹھتے ہوئے ان کا وہ ہاتھ تھام لیا جو اب کسی بوڑھے درخت کی ٹہنی کی طرح نحیف ہو چکا تھا۔
ابو! آپ ان باتوں کو چھوڑیں، بس آرام پر توجہ دیں۔ ہم سب سنبھال لیں گے۔” کامران نے تسلی دینی چاہی۔”

،مگر کمال احمد کی روح زخمی تھی اور زخمی روح کو تسلی مطمئن نہیں کرتی
جو پوچھا ہے… اس کا جواب دو،” ان کی آواز دھیمی تھی مگر اس میں وہ خاندانی رعب اب بھی باقی تھا جو کسی کو انکار کی مہلت نہیں دیتا تھا۔”
کامران نے چند لمحوں کے لیے اپنی نظریں جھکائیں، جیسے وہ الفاظ کو ترتیب دے رہا ہو جو اس کے باپ کے دل پر ایک اور کاری ضرب لگانے والے تھے۔
“ابو… اس نے… اس نے نکاح کر لیا ہے۔”
کامران نے یہ لفظ ادا تو کر دیے مگر اسے یوں لگا جیسے اس نے اپنے باپ کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ہو۔
“لیکن آپ فکر نہ کریں، ہم جلد ہی ان کے ٹھکانے کا پتا لگا لیں گے۔ وہ زیادہ دور نہیں جا پائیں گے۔”

کمال احمد نے ایک لمبی، ٹھنڈی اور اذیت ناک آہ بھری۔ ان کی آنکھوں میں موجود وہ ویرانی اب ایک تاریک کھائی میں بدل چکی تھی۔
“کوئی ضرورت نہیں… اسے ڈھونڈنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ وہ جہاں ہے، اسے وہیں مرنے دو۔ میرے لیے وہ اب اس دنیا میں نہیں رہی۔”

فرحان، جس کا غصہ ابھی تک ٹھنڈا نہیں ہوا تھا، ضبط کا دامن ہاتھ سے چھوڑ بیٹھا۔
“ابو! ایسے کیسے رہنے دیں؟ وہ صرف ہماری عزت ہی نہیں لے گئی، وہ گھر سے سارا زیور اور وہ نقدی بھی لے گئی ہے جو ہم نے اس کے جہیز اور گھر کے کاموں کے لیے جوڑ رکھی تھی۔”

کامران نے فوراً فرحان کو ایک تیکھی اور غصیلی نظر سے دیکھا اور اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ اسے احساس تھا کہ یہ باتیں اس وقت کمال احمد کے زخموں پر نمک پاشی کا کام کریں گی، مگر دیر ہو چکی تھی۔ فرحان نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔
کمال احمد کی آنکھوں میں نمی ابھر آئی۔ اگلے ہی پل، آنسوؤں کے دو موٹے قطرے ان کے کنپٹیوں سے ہوتے ہوئے تکیے میں جذب ہو گئے۔

زیور؟… پیسے…؟” وہ بڑبڑائے۔”

“کامران! جب عزت کی چادر ہی تار تار ہوگئی، تو ان سونے کے ٹکڑوں کا کیا کرنا ہے۔ کیا وہ زیور میری پگڑی پر لگے اس داغ کو ڈھانپ سکے گا؟”

“کیا وہ پیسے زمانے بھر میں ہونے والی اس رسوائی کا ازالہ کر سکیں گے؟

،کامران نے جھجکتے ہوئے وضاحت پیش کی
“ابو! وہ بات تو ٹھیک ہے، مگر لوگ باتیں کریں گے۔ اگر ہم اسے واپس نہ لائے تو زمانے بھر میں یہ طعنہ رہے گا کہ کمال کی بیٹی بھاگ گئی۔”

کمال احمد نے تڑپ کر کامران کی طرف دیکھا۔
“!…بیٹا! جو داغ لگ چکا، وہ اب کبھی نہیں مٹے گا۔ کیا اسے واپس لانے سے وہ پاکیزگی لوٹ آئے گی؟ کیا اس گھر کی دیواریں دوبارہ اسی تقدس سے کھڑی ہو سکیں گی؟ کبھی نہیں”

بلقیس بیگم، جو اب تک ایک خاموش سائے کی طرح ان کے پیر دبا رہی تھیں، ان کا وجود لرزنے لگا۔ مگر کمال احمد کے اگلے الفاظ نے جیسے فضا کو منجمد کر دیا۔ وہ الفاظ نہیں تھے، وہ ایک تڑپتے ہوئے باپ کے دل سے نکلتی ہوئی وہ بددعا تھی جو عرش ہلا دینے کی طاقت رکھتی تھی۔
کمال احمد کی آواز اب بے بسی اور جلال کے ایک عجیب سنگم پر تھی۔
“…میں تھک گیا ہوں… میں اب بس اتنا چاہتا ہوں”
ان کی آواز رندھ گئی، آنسوؤں کا ایک سیلاب تھا جو رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔
“عائشہ نے میری عزت کو چوراہے پر نیلام کیا… اس نے میرے سفید بالوں کا لحاظ نہیں کیا… خدا کرے وہ بھی عمر بھر پیروں تلے روندی جائے۔”
وہ ایک ایک لفظ بڑی مشکل سے ادا کر رہے تھے، جیسے ان کے الفاظ ان کے اپنے حلق کو چھلنی کر رہے ہوں۔
“اس نے اس گھر کی چاردیواری کے تقدس کو پامال کیا… خدا کرے اس کی گود کبھی ہری نہ ہو… اس کا کوئی وارث نہ بنے… وہ کسی لاوارث لاش کی طرح سسک سسک کر دم توڑے۔”

یہ بددعا نہیں تھی، یہ اس مان کا جنازہ تھا جو کمال احمد نے اپنی بیٹی پر کیا تھا۔ بلقیس بیگم ایک ماں تھیں، اور ایک ماں کا دل چاہے کتنا ہی زخمی کیوں نہ ہو، وہ اپنی اولاد کے لیے ایسے الفاظ برداشت نہیں کر سکتا۔ انہیں یوں محسوس ہوا جیسے کمرے کی دیواریں ان پر گر رہی ہیں۔ وہ یک دم اٹھیں اور اپنی سسکیوں کو دوپٹے میں دبائے، زاروقطار روتی ہوئی کمرے سے باہر بھاگ گئیں۔

انہیں اس ہولناک سچ کا احساس ہو رہا تھا کہ ایک صابر اور شفیق باپ جب ٹوٹتا ہے، تو اس کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ تقدیر کی لکیر بن جاتے ہیں۔ ان کا دل چیخ رہا تھا کہ کمال احمد کے ان الفاظ کا بوجھ عائشہ کی زندگی کو کچل کر رکھ دے گا۔ یہ الفاظ اس کے سکھ، اس کے چین اور اس کے مستقبل کا پیچھا آخری سانس تک کریں گے۔

°°°°°°°°°°

نقیب نے عائشہ کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے پہلی رات ایک نہایت پرتعیش ہوٹل میں قیام کیا تھا، جہاں کی چمکتی روشنیاں، مخملی بستر اور بہترین روم سروس عائشہ کے لیے اس سراب کا حصہ تھے جس کا خواب اسے دکھایا گیا تھا۔ اسے لگا تھا کہ شاید اس کی زندگی کا نیا سفر اسی شاہانہ انداز سے شروع ہوگا۔ مگر حقیقت کا کڑوا گھونٹ اسے اگلی صبح ہی بھرنا پڑا۔
سورج طلوع ہونے کے چند گھنٹوں بعد ہی نقیب اسے شہر کے ایک گنجان اور پسماندہ علاقے میں واقع ایک بوسیدہ پلازے میں لے آیا۔ جیسے ہی عائشہ نے اس عمارت کی سیڑھیوں پر پہلا قدم رکھا، ایک ایسی ناگوار اور سڑاند بھری بو اس کے نتھنوں سے ٹکرائی کہ اس کا جی متلانے لگا۔ جوں جوں وہ اوپر کی منزلوں کی طرف چڑھ رہی تھی، گندگی، سیم زدہ دیواروں اور کچرے کے ڈھیروں سے اس کا دل بوجھل ہوتا جا رہا تھا۔ اسے خواب میں بھی یہ توقع نہیں تھی کہ اس کے عشق کا مسکن ایسا ہوگا۔ پلازے کی دیواروں سے جا بجا پلستر جھڑ رہا تھا اور رنگ و روغن کی جگہ سیاہ کائی نے لے رکھی تھی۔

تیسری منزل کے کونے میں واقع ایک فلیٹ کے سامنے رک کر نقیب نے پلائی وڈ کے ایک کمزور سے دروازے کے تالے میں چابی گھمائی۔ جیسے ہی کواڑ کھلے، اندر سے تعفن کا ایک ایسا بھبھکا نکلا جس نے عائشہ کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ یہ محض ایک کمرہ نہیں تھا، بلکہ غلاظت اور بے ترتیبی کا نمونہ تھا۔ کمرے کے وسط میں ایک پرانی چارپائی بچھی تھی جس کا بستر اتنا میلا تھا کہ اس کی اصل رنگت پہچاننا محال تھا۔ ایک کونے میں سروس کے پرانے بوٹ پڑے تھے، جن میں موجود جرابوں کی بو پورے کمرے میں زہر گھول رہی تھی۔ دیوار پر لگی ایک کِلی سے چند میلے کپڑے لٹک رہے تھے، جبکہ فرش کے کونوں میں گندے کپڑوں کے ڈھیر کسی لاوارث میت کی طرح بکھرے پڑے تھے۔
بے اختیار عائشہ کا ہاتھ اپنے ناک تک پہنچ گیا۔ اس کے ضمیر نے اس لمحے اسے ایسی زوردار دستک دی کہ اس کی روح کانپ اٹھی۔ اسے لگا جیسے کمرے کی ہر غلیظ چیز اسے طعنہ دے رہی ہو کہ “عائشہ! تم نے صرف دہلیز پار نہیں کی، بلکہ تم نے اس پاکیزہ گھر کے تقدس کو پامال کیا ہے جس کی چھاؤں میں تم نے ہوش سنبھالا تھا”۔
اسے فرحان بھائی کے کہے ہوئے الفاظ یاد آ رہے تھے کہ نقیب ایک آوارہ اور نشئی شخص ہے۔ گھر کی یہ حالت چیخ چیخ کر گواہی دے رہی تھی کہ نقیب وہ ہرگز نہیں ہے جس کا گمان عائشہ نے پالا تھا۔

،اس کے دل میں ایک ہولناک وسوسہ اٹھا
کیا ہو اگر فرحان بھائی کی کہی ہوئی ہر بات سچ ہو؟” یہ خیال اس کے وجود کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی تھا۔”

نقیب، جو عائشہ کی بدلتی ہوئی رنگت اور آنکھوں میں ابھرتی وحشت کو بھانپ چکا تھا، فوراً حرکت میں آیا۔ اس نے بڑے پیار سے عائشہ کے کندھوں کے گرد بازو حمائل کیا اور اسے کمرے کے اندر لے آیا۔
عائشہ! میں سمجھ سکتا ہوں کہ تم اس فلیٹ کی حالت دیکھ کر پریشان ہو،” اس نے لہجے میں مصنوعی افسردگی اور مٹھاس گھولتے ہوئے کہا۔”
مگر تم جانتی ہو نا کہ میری ماں فوت ہو چکی ہے، بھائی اپنی اپنی زندگیوں میں مگن ہیں۔”

“اکیلے مرد کے لیے مکان صرف سر چھپانے کی جگہ ہوتا ہے، اسے گھر تو صرف ایک عورت ہی بناتی ہے۔

“اس نے بیگ چارپائی پر پٹخا اور عائشہ کے سامنے آکر اس کی ٹھوڑی سے اس کا چہرہ اوپر اٹھایا۔ “اب تم آگئی ہو نا… تو دیکھنا، ہم مل کر اس ویرانے کو جنت بنا دیں گے۔
عائشہ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔

“اس نے دھیمی آواز میں کہا، “صفائی بھی کرنی پڑے گی اور ہمیں بنیادی سامان کی بھی ضرورت ہے۔ یہاں تو سر چھپانے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔

نقیب نے ایک طویل سانس لی اور بڑی فنکاری سے اداسی کا ناٹک شروع کیا۔
تمہاری بات ٹھیک ہے عائشہ، مگر تمہیں لانے، وکیل کی فیسیں بھرنے اور رات ہوٹل کے کرائے نے میری جیب خالی کر دی ہے۔ اب میرے پاس صرف چند ہزار روپے بچے ہیں۔”

“میں ابھی کچھ راشن اور ایک چارپائی کا بندوبست کرتا ہوں، باقی سامان تنخواہ آنے پر لے لیں گے۔

عائشہ نے ایک پل کے لیے اپنے ماضی اور مستقبل کا موازنہ کیا، پھر اپنے بیگ کی طرف بڑھی۔

“نقیب! میں اپنے ساتھ کچھ رقم لائی تھی۔ آپ وہ لے جائیں اور گھر کی ضرورت کا سامان خرید لیں۔”
“نقیب نے فوراً خودداری کا لبادہ اوڑھ لیا۔ “نہیں عائشہ! وہ تمہارے پیسے ہیں، میں وہ نہیں لے سکتا۔ میں کوئی راستہ نکال لوں گا۔

عائشہ کے لبوں پر ایک تلخ اور بوجھل مسکان پھیل گئی۔ “کوئی بات نہیں نقیب… ویسے بھی تو میرے گھر والوں نے مجھے جہیز دینا ہی تھا… اسے میرا جہیز سمجھ کر قبول کر لیں۔” عائشہ کے حلق میں ابو کا لفظ آتے آتے رک گیا، اسے لگا جیسے اس گندے کمرے میں اپنے باپ کا ذکر کرنا اس عظیم رشتے کی توہین ہے۔

نقیب نے اب زیادہ بحث کرنا مناسب نہ سمجھا اور خاموشی سے عائشہ کے بیگ کی طرف دیکھنے لگا۔ عائشہ نے بیگ کی خفیہ جیب سے چابی نکالی اور اسے کھولا۔ نقیب کی نظریں بھوکے عقاب کی طرح بیگ میں پڑی دو مختلف رنگ کی پوٹلیوں پر پڑیں جن میں زیور کی چمک صاف محسوس ہو رہی تھی۔ عائشہ نے بیگ کی ایک تِہہ سے وہ شاپر نکالا جس میں نقدی تھی۔
شاپر پھٹا تو پانچ ہزار، ایک ہزار اور پانچ سو کے نوٹوں کا ڈھیر باہر نکل آیا۔ یہ رقم تقریباً تین لاکھ سے زائد تھی۔ نقیب کی آنکھوں میں ایک ایسی شیطانی چمک ابھری جسے عائشہ اپنی سادگی میں دیکھ نہیں پائی۔ اس کا جی چاہا کہ وہ ابھی یہ سب چھین لے، مگر وہ جانتا تھا کہ عائشہ تو خود ہی اپنا سب کچھ اس کے قدموں میں ڈھیر کر رہی ہے۔

،نقیب نے مصنوعی آنسوؤں کے ساتھ کہا
“عائشہ! میرا دل نہیں مان رہا… رہنے دو، میں تنخواہ کا انتظار کر لوں گا۔”

عائشہ نے زبردستی وہ نوٹ نقیب کے ہاتھ میں تھما دیے۔

“یہ ہمارے پیسے ہیں نقیب۔ آپ جائیں اور ضروری فرنیچر، برتن اور بستر لے آئیں، تب تک میں اس جگہ کو رہنے کے قابل بناتی ہوں۔”

،نقیب نے عائشہ کی پیشانی چومی اور فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ بولا

“میرا وعدہ ہے عائشہ، میں تمہیں کبھی اپنوں کی کمی محسوس نہیں ہونے دوں گا۔ میں تمہاری زندگی کو خوشیوں سے بھر دوں گا۔”
نقیب پیسے جیب میں ٹھونستے ہوئے تیزی سے باہر نکل گیا۔ عائشہ اس بدبودار کمرے میں تنہا کھڑی تھی، جہاں اب اسے صفائی نہیں بلکہ اپنی زندگی کے اس سب سے بڑے فیصلے کی غلاظت کو دھونا تھا، جس کا آغاز دھوکے اور انجام بددعاؤں کی زد میں تھا۔

°°°°°°°°°°

نقیب کے قدموں کی چاپ جیسے ہی سیڑھیوں میں مدہم ہوئی، فلیٹ کے اس حبس زدہ ماحول میں ایک ایسی ہولناک خاموشی چھا گئی جو عائشہ کے اعصاب پر ہتھوڑے برسانے لگی۔ وہ چند لمحے ساکت کھڑی اس بوسیدہ دروازے کو تکتی رہی، جس کے پار اس کا عشق اپنی نئی زندگی کی بنیادیں رکھنے نکلا تھا۔ اس کے کانوں میں اب بھی نقیب کے وہ میٹھے وعدے گونج رہے تھے، لیکن نظروں کے سامنے پھیلی غلاظت اسے کسی تلخ حقیقت کا آئینہ دکھا رہی تھی۔
اس نے ایک گہری اور بوجھل سانس لی، اپنے دوپٹے کو سختی سے کمر کے گرد لپیٹا اور اس تعفن زدہ کمرے کی طرف مڑی۔ وہ عائشہ، جو اپنے گھر میں ایک گلاس پانی خود اٹھا کر پینا اپنی شان کے خلاف سمجھتی تھی، جس کے کمرے کی ترتیب ذرا سی بگڑتی تو پورے گھر میں اودھم مچ جاتا تھا، آج اسی غلاظت کے ڈھیر کو گھر بنانے کا عزم لیے کھڑی تھی۔

اس نے کمرے کا جائزہ لیا۔ صفائی کے نام پر وہاں کچھ بھی تو موجود نہیں تھا۔ کچن کے ایک کونے میں اسے ایک پرانا، جھاڑو ملا جس کے تنکے ٹوٹ کر اپنی آخری سانسیں لے رہے تھے۔ وہ جھاڑو نہیں، بلکہ نقیب کی مفلسی کا ایک نوحہ تھا۔

عائشہ نے سب سے پہلے اس بستر کا رخ کیا جس کی بساند پورے کمرے میں زہر گھول رہی تھی۔ اس نے کراہت سے اپنی انگلیاں ان میلی چادروں میں پیوست کیں اور انہیں جھٹکے سے چارپائی سے الگ کر دیا۔ نقیب کے بکھرے ہوئے میلے کپڑے، وہ بدبودار جرابیں جو کسی لاوارث میت کی طرح جوتوں میں پڑی تھیں، عائشہ نے ایک ایک کر کے ان سب کو اکٹھا کیا۔ اسے محسوس ہو رہا تھا جیسے یہ غلاظت اس کے اپنے وجود سے چمٹ رہی ہو۔ وہ ان سب چیزوں کو گھسیٹتی ہوئی واش روم میں لے گئی اور نلکے تلے رکھ کر پانی پوری قوت سے کھول دیا۔ مٹیالا اور بدبودار پانی بہنے لگا تو اسے تھوڑا اطمینان ہوا۔

واش روم سے نکل کر اس نے اپنا بھاری بیگ، جس میں اس کی پوری کائنات مقید تھی، اٹھا کر چارپائی کے ایک پائے کے ساتھ رکھ دیا اور نقیب کے جوتے ایک کونے میں ترتیب دیے۔ اب باری تھی اس گرد و غبار کی جو برسوں سے اس فرش کا مقدر تھی۔ اس نے وہ اجڑا ہوا جھاڑو تھاما اور کمرے کے ایک کونے سے صفائی کا آغاز کیا۔

جوں جوں جھاڑو فرش پر رگڑ کھاتا، دھول کے بادل فضا میں بلند ہوتے جاتے۔ عائشہ کی آنکھوں میں وہ دھول چبھ رہی تھی، مگر وہ رکی نہیں۔ کچرے کا ایک ایسا ڈھیر لگ چکا تھا جس میں مٹی، ردی کاغذات،شاپر اور نقیب کی تنہا زندگی کے بے شمار گندے آثار موجود تھے۔ اس نے اس ڈھیر کو سمیٹ کر شاہروں میں بھرا اور فلیٹ کے باہر رکھ دیا کہ نقیب خود ہی آکر اسے باہر پھینکے گا۔

اب اگلا مرحلہ فرش دھونے کا تھا، مگر یہاں نہ تو وائپر تھا اور نہ ہی کوئی کپڑا۔ عائشہ نے بے بسی سے خالی کمرے کو دیکھا۔ وہ دوسرے فلیٹوں کا دروازہ کھٹکھٹا کر مدد مانگنے کی ہمت نہیں رکھتی تھی۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں ان کی نظریں اس کے ماتھے پر لگی فرار کی مہر نہ پڑھ لیں۔
اس نے اپنا بیگ کھولا اور اسے ٹٹولنے لگی۔ اس کی نظر اپنی ایک پرانی مگر نفیس چادر پر پڑی۔ یہ وہی چادر تھی جو اس کے ابو نے اسے پچھلے جاڑوں میں بڑے چاؤ سے لا کر دی تھی۔ ایک لمحے کے لیے اس کا ہاتھ کانپا۔ اس کے دل میں ایک ٹیس سی اٹھی۔ ل
“کیا میں اس چادر سے فرش صاف کروں گی؟”
مگر پھر اسے نقیب کا وہ مسکراتا ہوا چہرہ یاد آیا اور اس نے اپنی ممتا اور پیار کی اس نشانی کو قربان کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

اس نے واش روم جا کر اس چادر کو پانی میں بھگویا۔ پھر واپس کمرے میں آئی اور فرش پر دوزانو بیٹھ گئی۔ اس کے ہاتھ ٹھنڈے اور گندے فرش کو رگڑ رہے تھے۔
وہ چادر کو فرش پر پھیرتی، اسے دوبارہ واش روم جا کر دھوتی اور پھر آ کر وہی عمل دہراتی۔ اس کے گھٹنے چھلنے لگے تھے، کمر میں شدید درد کی لہریں اٹھ رہی تھیں، مگر اس کے اندر کی عورت پوری طرح بیدار ہو چکی تھی۔ وہ عائشہ جو کبھی خوابوں کی شہزادی تھی، آج ایک ایسی حقیقت پسند بیوی بننے کی کوشش کر رہی تھی جو اینٹوں اور غلاظت سے بنے اس فلیٹ کو اپنی محنت سے گھر میں بدلنا چاہتی تھی۔

بھاری مشقت کے بعد جب فرش چمکنے لگا اور کمرے سے وہ گھٹن زدہ بو کم ہوئی، تو عائشہ نڈھال ہو کر چارپائی کے کنارے پر بیٹھ گئی۔ اس کے بال بکھرے ہوئے تھے، ماتھے پر پسینے کے قطرے تھے اور کپڑے جگہ جگہ سے گیلے ہو چکے تھے۔ مگر اس ویران کمرے میں اب ایک نظم و ضبط نظر آ رہا تھا۔
اس کی نظریں بار بار دروازے کی طرف اٹھ رہی تھیں۔ وہ نقیب کی منتظر تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ نقیب آئے، سامان لائے، بستر اور برتن لائے تاکہ یہ فلیٹ واقعی ایک گھر بن سکے۔ اس نے اپنے آپ کو یقین دلا رکھا تھا کہ اس کی یہ مشقت رائیگاں نہیں جائے گی۔ اسے یقین تھا کہ نقیب اس کی اس محنت کو دیکھ کر اسے سینے سے لگا لے گا اور کہے گا کہ “عائشہ! تم نے واقعی کمال کر دیا۔”

وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ جس اینٹوں کے فلیٹ کو گھر بنانے کی کوشش کر رہی ہے، اس کی بنیادیں ہی ریت پر رکھی گئی ہیں۔ وہ سلیقہ مندی سے اپنا مستقبل سنوارنے کی تگ و دو میں مصروف تھی، جبکہ تقدیر اسے اس کے باپ کی ان بددعاؤں کی طرف لے جا رہی تھی جو اب ہسپتال کے اس بوجھل کمرے سے نکل کر اس کی تلاش میں نکل چکی تھیں۔
شام کے سائے گہرے ہونے لگے تھے اور عائشہ اس ادھورے گھر کے ادھورے بستر پر بیٹھی نقیب کے قدموں کی آہٹ سننے کی کوشش کر رہی تھی، یہ جانے بغیر کہ جس سچے پیار کی امید میں اس نے اپنا سب کچھ وار دیا ہے، وہ سچائی اس غلیظ فرش سے بھی زیادہ بھیانک ہونے والی ہے۔

°°°°°°°°°°

عصر کی ڈھلتی ہوئی روشنیوں کے سائے پلازے کی راہداریوں میں طویل ہو رہے تھے جب نقیب کی واپسی ہوئی۔ اس کے ساتھ دو مزدور تھے جو گاڑی سے کندھوں پر فرنیچر اٹھا کر فلیٹ میں لا رہے تھے۔ کمرے کے اس خالی پن میں اب آوازیں پیدا ہونے لگی تھیں۔
بیڈ جوڑا گیا، اس پر سفید میٹرس بچھایا گیا اور جب عائشہ نے اس پر نئی چادریں اور تکیے سیٹ کیے، تو اسے پہلی بار اس اجنبی چھت کے نیچے اپنائیت کی ایک موہوم سی خوشبو آئی۔ ایک سادہ سا صوفہ سیٹ، کپڑوں کی الماری اور کچن کا کچھ ضروری سامان، جو کچھ بھی آیا، عائشہ نے اپنی سگھڑ مندی سے اسے ترتیب دینا شروع کیا۔ کچھ دیر کے لیے وہ اپنے دکھ بھول گئی، اسے لگا جیسے وہ واقعی ایک گھر بسا رہی ہے۔ مگر یہ خوش فہمی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔

جب مزدور رخصت ہوئے اور نقیب نڈھال ہو کر نئے بیڈ پر دراز ہوا، تو عائشہ نے بڑی امید سے اس کے قریب بیٹھ کر اس کا ہاتھ تھاما۔
،آپ آرام کر لیں، میں باقی سامان سنبھال لوں گی۔” اس نے نرمی سے کہا، مگر پھر اسے اپنی سب سے بڑی ضرورت یاد آئی”
“نقیب! ایک چھوٹا ریفریجریٹر بھی لے آتے تو آسانی ہو جاتی۔”

“نقیب کے جواب نے عائشہ کے پیروں تلے سے زمین نکال دی۔ اس نے اپنی جیب سے محض بیس تیس ہزار روپے نکال کر اس کی طرف بڑھائے اور بڑی ڈھٹائی سے بولا، “بس یہی بچے ہیں۔

عائشہ کا دل ایک لمحے کو تھم گیا۔ اس نے کمرے میں بکھرے ہوئے سامان پر نظر دوڑائی۔ ایک بیڈ، ایک سادہ صوفہ، چند برتن اور ایک چولہا۔ اس کی دی ہوئی تین لاکھ کی رقم اور سامنے پڑا یہ چند ہزار کا سامان… جوڑ کہیں سے بھی نہیں مل رہا تھا۔
عائشہ بھلے ہی بازار کے ریٹوں سے ناواقف تھی، مگر وہ اتنی نادان بھی نہیں تھی کہ اسے یہ سمجھ نہ آتا کہ اس کی دی گئی رقم سے صرف چند لکڑی کے تختے اور پلاسٹک کی بالٹیاں ملی ہیں۔
،کیا صرف یہی پیسے بچے ہیں؟” عائشہ حیران تھی”

“تمہیں کیا پتا باہر کس قدر مہنگائی ہے۔ یہ رکھ لو تم۔”
نقیب نے پیسے اس کی طرف بڑھا دیئے۔
نقیب کی مہنگائی والی منطق اسے کسی گہری کھائی کی طرف اشارہ کرتی محسوس ہو رہی تھی۔

پاس ہی رکھ لیں، کوئی قسطوں پر بائیک لے لیجیے گا،” عائشہ نے اپنے اٹھتے ہوئے سوالات کا گلا گھونٹ کر کہا۔ اسے اس وقت بحث سے زیادہ اس رشتے کے بھرم کو بچانے کی فکر تھی۔”

عائشہ ابھی سامان ترتیب دینے کی کوشش ہی کر رہی تھی کہ نقیب نے دوسرا دھماکہ کر دیا۔
“آج میرج ہال پر فنکشن ہے، میرا جانا ضروری ہے۔”

عائشہ کے ہاتھ سے گیس کا چولہا چھوٹتے چھوٹتے بچا۔ اس نے بے چارگی سے نقیب کو دیکھا۔
“آج مت جائیں نقیب… یہاں ہماری پہلی رات ہے۔ مجھے اس اجنبی جگہ پر ڈر لگے گا۔”

نقیب کے لہجے میں اب وہ پہلے والی تڑپ نہیں تھی، بلکہ ایک پیشہ ورانہ سختی تھی۔
“کہا نا میری جان، جانا پڑے گا۔ میرے بغیر وہاں کا نظام نہیں چلتا۔”

اس نے عائشہ کی التجاؤں کو اپنی مجبوری کے لبادے میں چھپا دیا اور ایک سرسری سا پیار جتا کر دروازے سے باہر نکل گیا۔

نقیب کے جاتے ہی دروازہ بند ہونے کی آواز عائشہ کے سینے میں گولی کی طرح لگی۔ اب وہ تھی اور وہ فلیٹ جس کی دیواروں سے اب بھی اسی بدبو کی رمق آ رہی تھی جسے اس نے صبح دھویا تھا۔
پلازے کی اونچی منزل پر بنے اس فلیٹ میں باہر کی ٹریفک کا شور تو آ رہا تھا، مگر اندر کی خاموشی اس سے کہیں زیادہ ہولناک تھی۔

°°°°°°°°°°

شہر کے شور و غل سے دور، ماربل فیکٹری کی چھت پر بنا وہ اکلوتا کمرہ کسی انسانی بستی کے بجائے گناہوں کی آماجگاہ معلوم ہوتا تھا۔ دیواریں کچی تھیں، جن پر بدسلیقگی سے تھوپا گیا چونا سفیدی کے بجائے ایک وحشت زدہ زردی کا احساس دلا رہا تھا۔ فرش کا سیمنٹ جگہ جگہ سے اکھڑ چکا تھا۔ فضا میں ایک ایسی ناگوار اور بوجھل سڑاند رچی بسی تھی جو پھیپھڑوں میں اترتے ہی جی متلانے پر مجبور کر دیتی۔ فرش پر بچھے میلے اور بدبودار بستروں پر چار جوان دیواروں سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ ان کی آنکھیں پتھرائی ہوئی تھیں اور چہروں پر وہ مخصوص وحشت تھی جو صرف نشے کی قید میں ملتی ہے۔

کمرے کے اندر ایک خاموش مگر گھناؤنی سرگرمی جاری تھی۔ ایک نوجوان سگریٹ کے لمبے کش لے کر دھواں فضا میں بکھیر رہا تھا، جبکہ باقی تینوں نہایت مہارت سے سگریٹ کا تمباکو نکال کر اس میں چرس بھرنے میں مصروف تھے۔ ایک نے ماچس کی تیلی پر چرس کی گولی جلائی، جس سے اٹھنے والا کثیف دھواں اور اس کی تیکھی، گندی مہک پورے کمرے کو آلودہ کر رہی تھی۔
،تبھی نقیب نے دھکا دے کر دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوا۔ چاروں جوانوں کی نظریں اس کی طرف اٹھیں۔ ایک نوجوان نے نہایت غلیظ لہجے میں استقبال کیا
“واہ اوئے… شہزادے کو آخر کار ہماری یاد آ ہی گئی۔ کہاں مر گیا تھا *** تین دن سے؟”

،نقیب کے لبوں پر ایک زہریلی مسکان آئی، اس نے جوابی گالی دی اور بولا
“میرے پاس تم *** کے علاوہ اور بھی بڑے کام ہیں۔”

“،چھوڑ یار… غصہ کیوں کرتا ہے، لے کش لگا”
سگریٹ پینے والے نے چرس سے بھرا سگریٹ اس کی طرف بڑھایا۔
نقیب نے سگریٹ تھاما، اسے ایک تحقیر آمیز نظر سے دیکھا اور اگلے ہی پل اسے فرش پر پٹخ کر اپنے جوتے تلے مسل دیا۔

اوئے *** انسان بن! یہ تیری **** کے جہیز سے نہیں آئی،” ایک نوجوان غصے سے تلملا اٹھا۔ مگر نقیب کے چہرے پر اس غلیظ گالی نے غصے کے بجائے ایک عجیب سی تسکین پیدا کر دی۔”

اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور ہیروئن (پاؤڈر) کا ایک بڑا پیکٹ نکال کر ہوا میں اچھالا۔
پیکٹ کے سفید سفوف پر نظر پڑتے ہی ان چاروں کی آنکھوں میں وہ درندگی اور چمک اتری جو بھوکے بھیڑیے کی آنکھوں میں گوشت دیکھ کر آتی ہے۔ چرس کا نشہ ان کے لیے اب بے معنی ہو چکا تھا۔
“نقیب نے فاتحانہ لہجے میں جملہ مکمل کیا، “یہ سستے نشے غریب اور ناچار لوگ کرتے ہیں۔ تمہارا بھائی اب امیروں والے نشے کرتا ہے۔

“اوئے ہوئے…!” ایک نوجوان نے چرس والا سگریٹ کان کے پیچھے اڑسا اور چاپلوسی بھرے لہجے میں بولا، “لگتا ہے بھائی نے کوئی تگڑا ہاتھ مارا ہے؟”

نقیب نے پیکٹ ان کی طرف اچھال دیا اور قریب ہی بیٹھتے ہوئے اپنی شیخی بگھارنے لگا۔
“تیرے بھائی نے نکاح کر لیا ہے اور تیری بھابھی ڈھیر سارا سونا اور نقدی ساتھ لائی ہے۔ بس اب عیش ہی عیش ہے۔”

ابے **** تجھے کس نے لڑکی دے دی؟” ایک نے ہنستے ہوئے فقرہ کسا۔”

“نقیب کے چہرے پر غرور کی چمک ابھری، “کسی کی ہمت تھی جو مجھے رشتہ دیتا؟ بھگا کر لایا ہوں۔ بڑی حسین ہے تیری بھابھی۔

“یہ سنتے ہی چاروں کی آنکھوں میں ہوس کی لہر دوڑ گئی۔ ایک نے رال ٹپکاتے ہوئے پوچھا، “پھر ہمیں کب دکھائے گا اپنی معشوقہ؟

،اس جملے نے نقیب کے اندر کے شوہر کو وقتی طور پر جگا دیا۔ وہ غصے سے پھنکارا
“بکواس بند کر! وہ صرف میری ہے۔ اگر کسی نے اس کی طرف غلط نگاہ بھی ڈالی تو جان سے مار دوں گا۔”

“محفل میں ایک لمحے کے لیے سناٹا چھا گیا۔ دوسرے جوان نے پینترا بدلا، “اچھا یار! تُو تو بپھر گیا۔ وہ تو بس مذاق کر رہا تھا۔

اس کے بارے میں کوئی مذاق نہیں۔” نقیب اب بھی درشت لہجے میں بولا، مگر اس کا یہ تقدس محض ایک دکھاوا تھا۔”

جس شخص نے اس لڑکی کے باپ کی عزت مٹی میں ملا دی تھی، وہ اس کی حفاظت کا دعویٰ کر رہا تھا۔

“تیسرے نوجوان نے کشیدگی ختم کرنے کے لیے ہیروئن کا پیکٹ جھپٹا۔ “چھوڑو ان باتوں کو، آؤ پُڑی بناتے ہیں۔
اس نے پیکٹ دانتوں سے کاٹا، ایک اسٹیل کی پلیٹ میں سفوف نکالا اور سگریٹ کی ڈبی کے ٹکڑے سے اسے سلیقے سے لکیروں میں سجانے لگا۔ پھر ایک خالی ڈبی کی پنی کو گولائی میں موڑ کر نلکی بنائی، اس کا ایک سرا ناک میں دیا اور دوسرا ہیروئن کی لکیر پر رکھ کر بھرپور سانس کھینچا۔

اگلے ہی لمحے اس کا وجود لکڑی کی طرح اکڑ گیا، دماغ کی تہوں تک وہ زہریلا خمار اتر گیا۔ “واہ! بڑا کڑک مال ہے،” اس نے ہنستے ہوئے نلکی دوسرے کی طرف بڑھا دی۔
نقیب انہیں کسی بادشاہ کی طرح دیکھ رہا تھا۔ اسے اس بات کا احساس ہی نہیں تھا کہ وہ جس مال پر اترا رہا ہے، وہ ایک بوڑھے باپ کی زندگی بھر کی کمائی اور ایک لڑکی کی بربادی کی قیمت ہے۔ وہ ایک نشئی تھا اور نشئی کی سوچ صرف آج کے نشے تک محدود ہوتی ہے۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ جب یہ نقدی ختم ہوگی تو یہی یار بیلی اس کی اوقات اسے یاد دلائیں گے اور اس کی حسین بیوی، اس کی زندگی کا سب سے بڑا بوجھ بن جائے گی۔

°°°°°°°°°°

…جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *