ناول: وارث کون
باب دوم: شکستہ تقدس
قسط نمبر 8
مصنف: زیاد اصغر زارون
°°°°°°°°°°
وقت کو پر لگ گئے تھے اور دن کسی سرپٹ دوڑتے گھوڑے کی مانند گزر رہے تھے۔ عائشہ، جو کبھی اپنے گھر کے معطر اور کشادہ کمروں کی عادی تھی، اب اس پرانے فلیٹ کی گھٹن زدہ دیواروں اور اجنبی فضاؤں میں خود کو ڈھالنے کی تگ و دو کر رہی تھی۔ وہ عائشہ جو کبھی خوابوں کی شہزادی تھی، اب حقیقت کی سنگلاخ زمین پر قدم جما رہی تھی۔
نقیب کے رویے میں ایک خاموش تبدیلی آ رہی تھی۔ فرار کے ابتدائی دو تین دن تو اس نے اپنے نشئی دوستوں کے ساتھ سخاوت کے وہ ڈرامے رچائے کہ گویا دولت کا کوئی ختم نہ ہونے والا چشمہ اس کے ہاتھ لگ گیا ہو، لیکن جلد ہی اسے احساس ہوا کہ یہ مالِ غنیمت برف کی طرح پگھل رہا ہے۔ پیسے ختم ہونے کا دھڑکا اسے اندر ہی اندر کھانے لگا، چنانچہ اس نے بڑی عیاری سے اپنے یاروں سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ اب وہ کسی چور کی طرح، اپنی ہی شریکِ حیات سے چھپ کر، اپنی نشے کی لت مٹانے کے لیے تنہائی کے گوشے ڈھونڈنے لگا۔ اس احتیاط کے باوجود، عائشہ کے لائے ہوئے پیسوں میں سے جو ڈیڑھ لاکھ روپے سامان کی خریداری کے بعد بچے تھے، وہ ایک ماہ کی قلیل مدت میں یوں غائب ہوئے جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔
نقیب کی زندگی اب دوہرے خوف کے حصار میں تھی۔ ایک طرف عائشہ کے بھائیوں کا ڈر اسے گھبراہٹ میں مبتلا کر رہا تھا کہ کہیں وہ اسے ڈھونڈ کر اس کا انجام عبرتناک نہ کر دیں اور دوسری طرف پولیس کا خوف اس کے اعصاب پر کسی جن کی طرح سوار رہتا۔ ایک عادی نشئی کے لیے یہ ذہنی دباؤ ناقابلِ برداشت تھا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس کے نشے کی مقدار میں ہولناک حد تک اضافہ ہو گیا۔ وہ دن کا آغاز ہیروئن کے اس بھاری خمار سے کرتا جو اسے دنیا و مافیہا سے بے خبر کر دیتا، اور باقی سارا دن چرس کے زہریلے دھوئیں کے سہارے کاٹتا، تاکہ ہوش و حواس کے درمیان وہ باریک سی لکیر برقرار رہے جس سے وہ عائشہ کی نظروں میں نارمل دکھ سکے۔
اس کا روزانہ کا معمول ایک مشینی بے حسی میں ڈھل چکا تھا۔ صبح نو بجتے ہی وہ کسی ناگزیر کام کا بہانہ بنا کر گھر سے نکل جاتا اور رات کے پچھلے پہر، جب شہر کی روشنیاں دم توڑنے لگتیں، وہ واپس لوٹتا۔ کمرے میں قدم رکھتے ہی اس کے چہرے پر تھکن کا ایک مصنوعی نقاب ہوتا۔ وہ بنا کسی بات چیت کے، تھکاوٹ کا سہارا لے کر اوندھے منہ بیڈ پر گر جاتا اور نیند کی آغوش میں پناہ لیتا، ایک ایسی نیند جو قدرتی کم اور نشے کی مرہونِ منت زیادہ ہوتی۔
عائشہ، جس کی آنکھیں اب شک کی دہلیز پر کھڑی تھیں، نقیب کے بدلتے ڈھنگ دیکھ کر تذبذب کا شکار ہونے لگی تھی۔ نقیب کی آنکھوں میں پھیلی وہ مستقل سرخی، جو ڈوروں کی طرح سفید حصے پر رقص کرتی تھی، اور اس کی اپنی ہی ذات کے غار میں گم رہنے کی عادت عائشہ کے دل میں وسوسوں کے بیج بو رہی تھی۔ اسے رہ رہ کر محسوس ہوتا کہ اس کا جیون ساتھی کسی مہلک راستے کا مسافر بن چکا ہے، لیکن محبت کی اندھی عقیدت اور انا کی ضد اسے اس کڑوے سچ کو قبول کرنے سے روکتی تھی۔ اس کا دل، جو سب کچھ ہار کر یہاں پہنچا تھا، اس ہولناک حقیقت کو ماننے کے لیے تیار ہی نہیں تھا کہ اس نے جس کے لیے اپنا سب کچھ وار دیا، وہ خود کو نشے کے دھویں میں اڑا رہا ہے۔
حیرت کی بات یہ تھی کہ اس تمام تر غلاظت اور نشے کے باوجود نقیب کا لہجہ عائشہ کے لیے ریشم کی طرح نرم اور شہد کی طرح میٹھا رہا۔ وہ جب بھی بولتا، محبت کی ایسی چاشنی گھولتا کہ عائشہ کے تمام شکوے لمحوں میں دم توڑ جاتے۔ مگر اس غیر معمولی محبت کے پیچھے کیا چھپا تھا؟ کیا یہ نقیب کے دل کی وہ سچی تڑپ تھی جو وہ عائشہ کے لیے رکھتا تھا، یا پھر عائشہ کے بیگ میں پڑی ان سونے کی پوٹلیوں کی چمک تھی جو نقیب کی ہوس زدہ آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھیں؟ عائشہ کا سونا اس کے لیے شاید وہ آخری سیڑھی تھی جو اسے نشے کی جنت تک لے جا سکتی تھی۔ اس محبت اور مکر کے درمیان موجود باریک پردے کو اٹھانا ابھی باقی تھا اور عائشہ اس فریبِ نظر کو اپنی زندگی کی واحد جیت سمجھ کر جی رہی تھی۔
°°°°°°°°°°
وقت کی بے رحم لہروں نے ایک ماہ کا سفر پلک جھپکتے ہی طے کر لیا تھا۔ نقیب، جس کی جبلت میں محنت کے بجائے عیاشی رچی بسی تھی، عائشہ کے لائے ہوئے پیسوں کی ریل پیل دیکھ کر اپنی ملازمت کی بیڑیاں پہلے ہی کاٹ چکا تھا۔ عائشہ کی نظروں میں اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لیے نقیب نے مہینے کے آغاز میں پندرہ ہزار روپے تنخواہ اس کی ہتھیلی پر رکھی تھی، مگر اسے کیا خبر تھی کہ نقیب کی جیب اب خالی ہو چکی ہے۔ اس کی جیب میں بچے ہوئے آخری بارہ سو روپے اس کے اندر کے نشئی کے لیے کسی موت کے پیغام سے کم نہیں تھے۔ نقدی ختم ہو چکی تھی، نوکری پیچھے رہ گئی تھی اور اب سامنے صرف اندھیرا تھا۔ اسی ہولناک خلا نے اسے اس آخری حد کو پار کرنے پر مجبور کیا جس کا منصوبہ اس نے کچہری کی سیڑھیوں پر ہی بنا لیا تھا، یعنی عائشہ کا سونا ہتھیا کر اپنی رگوں میں زہر بھرنے کا وقت آ چکا تھا۔
آج نقیب کے تیور بدلے ہوئے تھے۔ اس نے نہایت احتیاط سے نشے کی مقدار کم رکھی تھی تاکہ اس کے حواس بیدار رہیں اور مکر کا جال بنتے وقت زبان لڑکھڑانے نہ پائے۔ شام ڈھلے وہ فلیٹ میں داخل ہوا، تو چہرے پر تھکن کا وہی فرسودہ نقاب تھا جو اس کے ہر جھوٹ کا سہارا بنتا تھا۔ وہ بیڈ پر اوندھے منہ لیٹ گیا، مگر بند آنکھوں کے پیچھے ایک شاطرانہ ذہن زیور ہتھیانے کی تدبیریں تراش رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ زبردستی عائشہ کو باغی کر سکتی ہے، اس لیے وہ اسے محبت اور ضرورت کے اس مقام پر لانا چاہتا تھا جہاں وہ خود اپنے ہاتھوں سے اپنا اثاثہ اس کے قدموں میں ڈھیر کر دے۔
کچن سے سالن کی مہک اور روٹیاں پکنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ عائشہ، جو اپنے گھر کے عیش و آرام کو بھلا کر اس دو کمروں کے قید خانے کو گھر بنانے کی تگ و دو میں مصروف تھی، ہاتھوں میں پانی کا جگ اور گلاس لیے داخل ہوئی۔ اس نے بیڈ کے پاس پڑی چھوٹی سی میز کو نقیب کے نزدیک کیا، جیسے اسے اس کی تھکن کا بے پناہ احساس ہو۔
،چند لمحوں بعد وہ گرم روٹیاں اور سالن کی پلیٹ لیے لوٹی، تو اس کی آواز میں ایک مانوس سی اپنائیت تھی
“اٹھیں نقیب! کھانا کھا لیں۔”
نقیب نے مشاق اداکار کی طرح آہستہ سے آنکھیں کھولیں اور کسی بوجھل وجود کے ساتھ اٹھ کر بیٹھ گیا۔ دونوں کے درمیان ایک گھمبیر خاموشی چھائی تھی، جس میں صرف برتنوں کی ہلکی سی چاپ سنائی دے رہی تھی۔ نقیب نے لقمہ تو اٹھایا مگر اس کی نظریں کسی نامعلوم نقطے پر جمی تھیں۔
،عائشہ، جو اس کی خاموشی کو محسوس کر رہی تھی، آخر کار ضبط نہ کر سکی
“کیا بات ہے نقیب؟ آپ جب سے آئے ہیں، کہیں کھوئے ہوئے سے ہیں۔ کیا پریشانی ہے؟”
“نقیب نے ایک لمبی اور مصنوعی سرد آہ بھری۔ “کچھ نہیں عائشہ… بس اپنے مستقبل اور تمہاری زندگی کو دیکھ کر دل کڑھتا رہتا ہے۔
کیوں؟ ہمارے مستقبل کو کیا ہوا؟” عائشہ نے حیرت سے پوچھا۔”
تمہیں پتا ہے نا کہ میرے بھائیوں سے میرے تعلقات کیسے ہیں۔ کل میں گاؤں گیا تھا، اپنا شرعی حصہ مانگنے، مگر ان کے دل پتھر ہو چکے ہیں۔”
وہ مجھے زمین کا ایک انچ دینے کو تیار نہیں۔” نقیب نے لہجے میں مظلومیت بھرتے ہوئے کہا۔
“عائشہ کے اندر کی غیرت جاگ اٹھی۔ “یہ تو صریحاً زیادتی ہے! آپ بھی تو اسی باپ کی اولاد ہیں، پھر یہ ناانصافی کیوں؟
وہ طاقتور ہیں عائشہ، اور میں اکیلا۔ مجھے خاموش ہونا پڑا، مگر یہ کرائے کا فلیٹ اور یہ در در کی ٹھوکریں… کب تک؟”
“کل کو ہمارے بچے ہوں گے، کیا میں انہیں بھی یہی زندگی دوں گا؟ اگر آج ہم نے اپنا ٹھکانہ نہ بنایا تو وقت ہمیں روند کر گزر جائے گا۔
“عائشہ کا دل پسیج گیا۔ “اللہ مالک ہے نقیب، آپ ہمت نہ ہاریں، کھانا کھائیں۔
“نقیب نے اب اپنے ترکش کا آخری تیر نکالا۔ “عائشہ! میں سوچ رہا تھا کہ تھوڑی سی زمین خرید لیں، جس پر ہم اپنا چھوٹا سا گھر بنا لیں گے۔
مگر… اتنے پیسے کہاں سے آئیں گے؟” عائشہ نے تشویش سے پوچھا۔”
نقیب چند لمحے خاموش رہا، جیسے کوئی بہت بڑا بوجھ اپنے سینے سے اتارنے والا ہو۔ “میں سوچ رہا تھا کہ…” اس نے بات ادھوری چھوڑ دی، جیسے ضمیر اسے اجازت نہ دے رہا ہو۔
ہاں… بتائیں نقیب، کیا سوچ رہے تھے؟” عائشہ نے اس کا ہاتھ تھام کر حوصلہ دیا۔”
“یہی کہ… ہمارے پاس جو زیور رکھا ہے، وہ کس دن کام آئے گا؟ اسے بیچ کر زمین لے لیتے ہیں۔ زیور تو انسان دوبارہ بنا لیتا ہے، مگر چھت بار بار نہیں بنتی۔”
نقیب نے یہ جملہ اس طرح ادا کیا جیسے وہ عائشہ کے لیے اپنی انا قربان کر رہا ہو۔
“عائشہ کے چہرے پر پریشانی کے سائے گہرے ہو گئے۔ “نقیب! آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ وہ زیور میرے خاندان کی آخری نشانی ہے، میں اسے نہیں بیچنا چاہتی۔
عائشہ! کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے۔ ویسے بھی میں سارا زیور نہیں مانگ رہا، بس آدھا بیچ کر زمین پکڑ لیتے ہیں۔”
“جب بنیادیں کھڑی ہو جائیں گی تو گھر بنانا مشکل نہیں رہے گا۔
عائشہ گہری سوچ میں ڈوب گئی۔ اس کے سامنے اس کے میکے کی عزت، اس کا فرار اور نقیب کے ساتھ بنے ہوئے مستقبل کے سپنے ایک فلم کی طرح چل رہے تھے۔
،اسے لگ رہا تھا کہ شاید ایک گھر ہی وہ واحد راستہ ہے جو اس کی رسوائی کو کامیابی میں بدل سکتا ہے۔ کافی دیر کی خاموشی کے بعد اس نے ایک لمبا سانس لیا
ٹھیک ہے نقیب… لیکن میری ایک شرط ہے۔ یہ زیور بیچ کر جو رقم ملے گی، اس سے پہلے آپ مجھے وہ زمین خرید کر دکھائیں گے۔”
“گھر بن جائے تو زیور کی کوئی اہمیت نہیں، وہ تو دوبارہ بھی بن جائے گا، مگر اس بار کوئی کوتاہی نہ ہو۔
نقیب کے اندر ایک فاتحانہ لہر دوڑ گئی، مگر چہرے پر اس نے سنجیدگی برقرار رکھی۔
“میں بھی تو یہی چاہتا ہوں میری جان! تم دیکھنا، جب ہمارا اپنا گھر ہوگا تو ہم دوبارہ یہ سب بنا لیں گے۔”
ٹھیک ہے، صبح آپ زیور لے جائیے گا۔” عائشہ نے بجھے ہوئے دل کے ساتھ کہا۔”
کمرے میں دوبارہ خاموشی چھا گئی، مگر اس بار یہ خاموشی نقیب کے لیے سکون کی اور عائشہ کے لیے ایک انجانے خوف کی نوید تھی۔ وہ دونوں کھانا کھا رہے تھے، مگر ایک کا ذہن نشے کی اگلی پُڑی کے خواب دیکھ رہا تھا اور دوسری کی آنکھوں میں ایک ادھورے گھر کی تصویر دھندلا رہی تھی۔
°°°°°°°°°°
اگلی صبح کا سورج عائشہ کے لیے امید کی ایک نئی کرن لے کر طلوع ہوا تھا، مگر نقیب کے لیے یہ ہوس اور عیاری کی ایک نئی منزل تھی۔ عائشہ نے اپنا آدھا زیور، نقیب کے حوالے کر دیا تھا۔ نقیب نے اسے تھامتے وقت چہرے پر تو مجبوری اور شکر گزاری کے تاثرات سجائے رکھے، مگر جیسے ہی وہ فلیٹ کی سیڑھیاں اتر کر گلی میں پہنچا، اس کی آنکھوں میں ایک وحشیانہ چمک لہرا گئی۔
اس نے پہلی فرصت میں ہی شہر کے ایک تنگ و تاریک بازار میں واقع سنار کی دکان کا رخ کیا۔ اسے معلوم تھا کہ وہ زیور کی اصل قیمت نہیں پا سکے گا، مگر ایک نشئی کے لیے وقت کی قیمت سونے سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس نے وہ نفیس زیور اونے پونے داموں فروخت کر دیا، بالکل ویسے ہی جیسے اس نے عائشہ کے اعتبار کا سودا کیا تھا۔ اب اس کے پاس نوٹوں کی وہ گڈی تھی جس کی خوشبو اسے کسی بھی وراثتی زمین سے زیادہ عزیز تھی۔ وہ اتنا بیوقوف ہرگز نہیں تھا کہ یہ محنت سے حاصل کی گئی رقم کسی زمین کے ٹکڑے پر لٹا دے۔ اس کے نزدیک یہ رقم ہیروئن کے ان سفید لمحوں کی قیمت تھی جن کا وہ اسیر تھا۔
نقیب ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا، اس کی اس حالت کے پیچھے سات سال کی وہ تاریک داستان تھی جس نے اسے ایک انسان سے ایک درندے میں بدل دیا تھا۔ نشے کی یہ لت سات سال قبل ایک شوق سے شروع ہوئی تھی، جو پانچ سال پہلے ایک ایسی ہولناک طلب میں بدل گئی جس کے سامنے رشتے، ناطے اور اخلاقیات سب ڈھیر ہو گئے۔ جب معمولی ملازمتوں سے حاصل ہونے والی قلیل آمدن اس کے لہو میں لگی آگ کو بجھانے میں ناکام رہی، تو اس نے چھوٹی موٹی چوریوں اور اٹھائی گیری کا راستہ اپنا لیا۔
کہتے ہیں کہ گناہ کی رسی دراز تو ہوتی ہے مگر ابدی نہیں۔ ایک دن قدرت نے اسے قانون کے شکنجے میں جکڑ ہی لیا۔ تھانے کی حوالات کی سلاخوں کے پیچھے اس کی وہ چھترول ہوئی کہ اس کی روح تک کانپ اٹھی۔ اس کے بھائی، جو علاقے میں اپنی سفید پوشی اور نیک نامی کے لیے جانے جاتے تھے، جب تھانے پہنچے تو انہیں شرمندگی کے مارے زمین میں دھنس جانے کا جی چاہ رہا تھا۔ انہوں نے گاؤں کے نمبردار کے پاؤں پکڑ کر، واسطے دے کر اور منت سماجت کر کے، پرچہ کٹنے سے پہلے ہی اسے پولیس کی گرفت سے نکلوایا۔ مگر اس آزادی کی قیمت نقیب کو اپنے گھر کی چھت سے چکانی پڑی۔ بھائیوں نے اسے گھر سے نکال دیا، اور وہ تب سے شہر کے اس تعفن زدہ فلیٹ میں اپنی غلاظت کے ساتھ زندگی کاٹ رہا تھا۔
آج وہ ایک بار پھر اسی گاؤں کی طرف گامزن تھا، مگر اس بار وہ پچھتاوے کے لیے نہیں بلکہ ایک نئی چال چلنے جا رہا تھا۔ اسے عائشہ کا اعتماد بحال رکھنے کے لیے زمین کے ایک ایسے ٹکڑے کی اشد ضرورت تھی جسے وہ اپنا کہہ کر اسے دکھا سکے۔ اس کے ذہن میں وراثتی زمین کا وہ حصہ تھا جو اس کے باپ نے چھوڑا تھا، اور جس پر اب اس کے بھائی قابض تھے۔
اس نے بس کی کھڑکی سے باہر اڑتی ہوئی دھول کو دیکھا اور اس کے لبوں پر ایک زہریلی مسکان پھیل گئی۔ اسے معلوم تھا کہ اس کے بھائی اسے دیکھنا بھی پسند نہیں کریں گے، مگر اسے یہ بھی پتہ تھا کہ وہ اپنی وراثتی زمین کا مطالبہ کر کے ان کے سکون میں تلاطم برپا کر سکتا ہے۔ وہ اس زمین کو کاشت کرنے یا وہاں گھر بنانے نہیں جا رہا تھا، بلکہ وہ اسے ایک ڈھال کے طور پر استعمال کرنا چاہتا تھا تاکہ عائشہ کی باقی ماندہ پونجی پر بھی ہاتھ صاف کر سکے۔
نقیب کی یہ ہجرت محبت کے لیے نہیں تھی، بلکہ یہ ایک نشئی کی وہ آخری جدوجہد تھی جس میں وہ اپنے خاندان کی بچی کھچی عزت اور عائشہ کی اندھی عقیدت کو ایک ہی آگ میں جلانے کی تیاری کر چکا تھا۔ گاؤں کی کچی سڑکوں پر اڑتی دھول اس کے کالے کرتوتوں کی گواہی دے رہی تھی، مگر وہ بے حس انسان صرف اپنی اگلی پُڑی اور عائشہ کے باقی ماندہ زیور کے خواب دیکھ رہا تھا۔
°°°°°°°°°°
بمبلی گاؤں کی گرد آلود گلیوں میں جب نقیب نے قدم رکھا، تو اسے محسوس ہوا جیسے فضا میں موت کی سی خاموشی چھا گئی ہو۔ لوگ اسے ان نظروں سے دیکھ رہے تھے جیسے کوئی منحوس سایہ یا کوئی خبیث آسیب بستی میں در آیا ہو۔ وہ نظریں جھکائے، قدم تیز کرتا ہوا اپنے آبائی گھر کی دہلیز تک پہنچا۔ وہ گھر جو کبھی اس کا اپنا تھا، اب ایک اجنبی ڈیرے کا منظر پیش کر رہا تھا۔
گھر کی وسعت اب بھی وہی تھی، کچی چھتیں، کچا صحن اور فضا میں مال مویشیوں کے گوبر اور چارے کی مخصوص باس رچی بسی تھی۔ صحن کے ایک گوشے میں کرم داد پوری جانفشانی سے بھینسوں کی کھرلی میں چارہ ڈال رہا تھا، جبکہ دوسری طرف رحم داد ایک بھاری بھرکم کلہاڑے سے لکڑیاں چیرنے میں مصروف تھا۔ کلہاڑے کے ہر وار کے ساتھ لکڑی کے ٹوٹنے کی آواز صحن کے سناٹے کو چیر رہی تھی۔
جیسے ہی نقیب گیٹ سے اندر داخل ہوا، رحم داد کی نظر اس پر پڑی۔ اس نے کلہاڑے پر اپنی گرفت ڈھیلی کی، سیدھا ہوا اور ایک زہریلی، تحقیر آمیز ہنسی ہنستے ہوئے بولا:
“دیکھو تو سہی! آج ہمارے گھر پوڈری آئے ہیں۔ سورج کدھر سے نکلا ہے آج؟”
نقیب کے اندر ایک پل کو وحشیانہ غصہ بیدار ہوا۔ اس کا جی چاہا کہ جھپٹ کر بھائی کے ہاتھ سے کلہاڑا چھین لے اور اس کا سر قلم کر دے، مگر نشے کی کمزوری اور حالات کی سنگینی نے اسے حوصلہ ہارنے پر مجبور کر دیا۔ وہ غصے کا کڑوا گھونٹ پی کر رہ گیا۔
کرم داد نے جب بھائی کی آواز سنی تو چارے کی خالی ٹوکری ایک طرف پٹخی اور تپی ہوئی نظروں کے ساتھ نقیب کے سامنے آ کھڑا ہوا۔
اب یہاں کیا لینے آئے ہو؟ تمہیں سختی سے منع کیا تھا کہ اس گھر کی سمت دوبارہ قدم مت رکھنا۔” کرم داد کا لہجہ کسی بپھرے ہوئے شیر کی طرح تھا۔”
،نقیب کی آواز بھی بلند ہوئی، جس میں برابری کا دعویٰ جھلک رہا تھا
“!یہ گھر میرا بھی اتنا ہی ہے جتنا تم دونوں کا! میں بھی اسی باپ کا خون ہوں جس کا تم ہو۔ ذرا تمیز سے بات کرو مجھ سے”
“تیرا گھر؟” رحم داد نے ایک طنزیہ قہقہہ لگایا، “دوبارہ یہ لفظ زبان پر مت لانا، ورنہ یہ کلہاڑا تیرے سر کے دو ٹکڑے کرنے میں دیر نہیں لگائے گا۔”
نقیب نے دیکھا کہ معاملہ ہاتھ سے نکل رہا ہے، تو فوراً مکر و فریب کا لبادہ اوڑھ لیا۔ “بھائی! آپ بڑے ہیں، اگر مجھے مار بھی دیں تو میں برا نہیں مانوں گا، مگر میری بات تو سن لیں۔”
“زیادہ لفاظی مت کرو، تم جیسے نشئی کے منہ سے یہ باتیں اچھی نہیں لگتیں۔” کرم داد نے حقارت سے تھوکا۔ “صاف بتاؤ، یہاں کیوں آئے ہو؟”
“میں نے شادی کر لی ہے،” نقیب نے سر جھکا کر کہا، اسے امید تھی کہ شاید اس کی شادی کا سن کر ان کے دل پسیج جائیں گے۔
،مگر رحم داد کا طنز اب زہر بن چکا تھا
“شادی؟ کیا وہ بھی تیری طرح کسی نالی میں پڑی ملی تھی یا کسی کوٹھے سے اٹھا لائے ہو اسے؟”
یہ الفاظ نقیب کے صبر کا آخری بندھن توڑنے کے لیے کافی تھے۔ اس کے چہرے کی رگیں پھول گئیں، مگر وہ اب بھی اپنے مشن پر تھا۔
“میں یہاں شوق سے نہیں آیا، اب میری اپنی فیملی ہے اور میں وہ لینے آیا ہوں جو میرا ہے۔ مجھے زمینوں میں اپنا قانونی حصہ چاہیے!”
،جیسے ہی نقیب نے حصے کا نام لیا، دونوں بھائیوں کے چہروں پر ایک ہولناک وحشت چھا گئی
کون سا حصہ؟ یہاں تیرے لیے صرف جوتے ہیں! اب خاموشی سے نکل جا یہاں سے،” کرم داد نے دھاڑ کر کہا۔”
ایسے نہیں جاؤں گا! میرا حصہ دے کر نشان دہی کرو، ورنہ میں نمبردار کو بیچ میں لاؤں گا!” نقیب نے بھی غصے سے چیخ کر کہا۔”
!”تجھے زمین چاہیے نا؟ ٹھہر، میں دیتا ہوں تجھے زمین”
کرم داد نے ایک طرف زمین پر پڑا ڈنڈا اٹھا لیا اور بھوکے بھیڑیے کی طرح نقیب پر جھپٹا۔ پہلا ہی وار نقیب کے کندھے پر پڑا تو وہ بلبلا اٹھا، مگر غصے میں وہ بھی جوابی وار کے لیے کرم داد سے گتھم گتھا ہو گیا۔
اگلے ہی لمحے رحم داد بھی کود پڑا۔ صحن میں گالیوں، چیخوں اور مار پیٹ کی آوازیں گونجنے لگیں۔ نقیب اکیلا تھا اور وہ دو۔
انہوں نے اسے زمین پر پٹخ دیا اور بے رحمی سے اس کے پیٹ اور چہرے پر ٹھڈے مارنے لگے۔ نقیب کی چیخ و پکار نے پورے محلے میں کہرام مچا دیا۔ محلے کے کچھ مرد دوڑتے ہوئے گیٹ سے اندر داخل ہوئے اور بڑی مشکل سے نقیب کو ان کے چنگل سے چھڑایا۔
نقیب کی ناک اور لبوں سے خون بہہ رہا تھا اور اس کی قمیض پھٹ چکی تھی اور وہ روتے ہوئے اپنے بھائیوں کو بددعائیں دے رہا تھا۔ دوسری طرف کرم داد اور رحم داد اب بھی مرنے مارنے پر تلے ہوئے تھے۔ چند لوگ نقیب کو گھسیٹتے ہوئے باہر لے گئے، جبکہ باقی دونوں بھائیوں کو ٹھنڈا کرنے لگے۔
سچ تو یہ تھا کہ بھائیوں کے لیے نقیب کا نشہ ایک نعمت ثابت ہوا تھا۔ انہوں نے پانچ سال پہلے اسے گھر سے صرف اس لیے نکالا تھا تاکہ جائیداد کا ایک دعویدار کم ہو جائے اور وہ اس کے حصے پر قابض رہ سکیں۔ آج نقیب کی واپسی نے ان کے اس چھپے ہوئے مفاد پر ضرب لگائی تھی، اور وہ کسی صورت بھی اس پوڈری کو اپنی زمین کا ایک انچ بھی دینے کو تیار نہیں تھے۔
°°°°°°°°°°
بمبلی گاؤں کے نمبردار کا ڈیرہ اس وقت ایک مخصوص بھاری پن کی گرفت میں تھا۔ فضا میں تمباکو کے کڑوے دھوئیں اور مٹی کی سوندھی مہک رچی بسی تھی۔ نقیب، جس کی حالت اس وقت کسی پٹے ہوئے شکاری کتے سے بھی بدتر تھی، نمبردار کے سامنے بچھے ہوئے ایک پرانے بان کے چھپر کھٹ پر ڈھیر تھا۔ اس کے بال مٹی اور دھول سے اس قدر اٹے ہوئے تھے کہ ان کی اصل رنگت پہچاننا مشکل تھا۔ چہرے پر سوجھن کے نیلے اور سرخ نشانات اس وحشیانہ تشدد کی گواہی دے رہے تھے جو ابھی کچھ دیر پہلے اس کے بھائیوں نے اس پر ڈھایا تھا۔
نقیب سسکیاں بھرتے ہوئے اپنی بپتا سنا رہا تھا، اس کی آواز میں وہ مخصوص لجاجت اور مظلومیت تھی جو ایک نشئی کو اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے ورثے میں ملتی ہے۔ وہ بار بار اپنے سوجے ہوئے گالوں کو چھوتا اور پھر نمبردار کی طرف دیکھتا، جیسے یہ پوچھ رہا ہو کہ کیا ایک انسان کے ساتھ اس کے اپنے بھائی ایسا سلوک کر سکتے ہیں؟
نمبردار، جو اپنی سفید گھنی مونچھوں اور رعب دار شخصیت کے ساتھ کرسی پر براجمان تھا، ادھ کھلی آنکھوں سے نقیب کو سن رہا تھا۔ اس کے چہرے سے یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ وہ نقیب کے دکھ میں برابر کا شریک ہے یا محض ایک تماشائی۔
جب نقیب کی داستانِ غم اپنے اختتام کو پہنچی اور اس کی ہچکیاں ذرا تھمیں، تو نمبردار نے حقے کی نلکی اپنے لبوں سے ہٹائی۔ دھوئیں کا ایک لمبا مرغولہ فضا میں اچھالتے ہوئے اس نے اپنے مخصوص کھردرے لہجے میں اپنے خاص ملازم کو پکارا،
“!…بشیرے… اوہ بشیریا”
آواز کی گونج ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ ایک دبلا پتلا، خستہ حال نوجوان، جس کے ماتھے پر پسینے کی بوندیں چمک رہی تھیں، دوڑتا ہوا ڈیرے میں داخل ہوا۔
،اس نے بڑے احترام سے نمبردار کے سامنے ہاتھ باندھے اور سر جھکا کر بولا
“جی چوہدری صاحب! حکم کریں۔”
،نمبردار نے حقے کا ایک اور کش لیا اور کچی دیوار کی طرف دیکھتے ہوئے بولا
اوہ یار! جا ذرا کرمو اور رحمو کو بلا کر لا۔ انہیں کہنا چوہدری صاحب نے ابھی اسی وقت یاد کیا ہے۔”
“یہ کچھ زیادہ ہی بدمعاش بنے ہوئے ہیں، اپنے ہی بھائی پر ہاتھ اٹھاتے انہیں شرم نہیں آئی؟
“بشیر نے فوراً فرمانبرداری میں سر ہلایا۔ “جی چوہدری صاحب، میں ابھی گیا اور ابھی انہیں لے کر آیا۔
اتنا کہتے ہی وہ الٹے قدموں پیچھے ہٹا اور پھر تیزی سے حویلی کے بڑے گیٹ سے باہر نکل گیا، جیسے اسے اندیشہ ہو کہ تاخیر ہونے پر چوہدری کا غصہ اسے بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔
نمبردار نے دوبارہ نقیب کی طرف دیکھا، جس کی آنکھیں ابھی بھی نم تھیں۔ نقیب کی بدحالی دیکھ کر چوہدری کے ماتھے پر تیوری چڑھی۔
تُو اب فکر نہ کر نقیبیا! جب تک میں زندہ ہوں، بمبلی گاؤں میں کسی کی اتنی جرات نہیں کہ یتیم کا حق مار جائے۔”
“میں دیکھتا ہوں کہ وہ تجھے زمین سے حصہ کیسے نہیں دیتے۔ میری چوہدراہٹ پر حرف آئے گا اگر میں نے یہ مسئلہ حل نہ کیا۔
نقیب نے تشکر بھری نظروں سے چوہدری کو دیکھا اور روتے ہوئے ہی اثبات میں سر ہلا دیا، جیسے اسے یقین ہو گیا ہو کہ اس کے گھر کا خواب اب شرمندہ تعبیر ہونے والا ہے۔
،مگر نمبردار کو نقیب کی یہ سسکیاں اور کمزوری ایک آنکھ نہ بھائی۔ اس نے ایک دم غصے سے حقے کی نلکی میز پر پٹخی اور گرج کر بولا
“اب بس کر، چپ کر جا! کیا زنانیوں کی طرح ٹسوے بہا رہا ہے۔ مرد بن، مرد! زمینیں رونے دھونے سے نہیں، حوصلے سے لی جاتی ہیں۔”
چوہدری کے اس جاہ و جلال نے نقیب کو اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔ اس نے فوراً اپنی میلی آستین سے آنکھیں پونچھیں، ایک لمبی ہچکی لی اور سر جھکا کر بالکل خاموش ہو کر بیٹھ گیا۔ نمبردار دوبارہ اپنے حقے کے ساتھ مشغول ہو گیا، گاہے بگاہے حقے کے گڑگڑانے کی آواز ڈیرے کے سناٹے کو چیرتی رہی۔ اب انہیں کرم داد اور رحم داد کا انتظار تھا، جن کے آنے پر اس زمین کے تنازعے کا وہ فیصلہ ہونا تھا جس پر عائشہ کے زیور اور نقیب کی اگلی پُڑی کا دارومدار تھا۔
°°°°°°°°°°
نمبردار کے ڈیرے پر تناؤ کی لہریں واضح محسوس کی جا سکتی تھیں۔ ایک طرف نقیب اپنی مظلومیت کا لبادہ اوڑھے گردن جھکائے بیٹھا تھا، دوسری طرف کرم داد اور رحم داد کی آنکھوں سے نکلتی نفرت کی چنگاریاں اسے بھسم کر دینے کے لیے کافی تھیں۔ نمبردار نے حقے کی نلکی ایک طرف رکھی اور کسی گرجتے ہوئے بادل کی طرح ان دونوں بھائیوں کی طرف متوجہ ہوا۔
“اوئے! تم دونوں اپنے آپ کو کوئی بڑا بدمعاش سمجھنے لگے ہو؟”
نمبردار کی آواز میں حاکمانہ جلال تھا جو ڈیرے کی خاموشی کو چیرتا ہوا ان دونوں بھائیوں کے اعصاب سے ٹکرایا۔
،رحم داد نے اپنی پگڑی کے پلو کو درست کیا اور بڑی عاجزی مگر چالاکی سے بولا
نہیں چوہدری صاحب! ایسی کوئی بات نہیں۔ اس نے گھر آکر محلے بھر کے سامنے ہمیں گالیاں دیں اور ہمارے بچوں کے سامنے ہماری پگڑیاں اچھالیں۔ “
“اب آپ ہی بتائیں، غیرت مند بھائی ایسے میں کیا کریں؟ ہم نے تو بس اسے سبق سکھایا تھا۔
“،اوہ بس کر! تو بڑا پردھان نہ بن”
،نمبردار نے اسے وہیں جھڑک دیا، جیسے اس کی چالاکی کو بھانپ لیا ہو۔ پھر وہ کرم داد کی طرف مڑا
“کرمو! تو بتا، اسے زمین کا شرعی حصہ کیوں نہیں دے رہے؟ یہ کوئی غیر نہیں، تمہارے باپ کا خون ہے۔”
،کرم داد نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور چہرے پر ہمدردی سجاتے ہوئے عذر تراشا
چوہدری صاحب! ہمیں زمین دینے سے انکار نہیں۔ مگر یہ بندہ تو پوڈری ہو چکا ہے۔ یہ تو وراثت کو ایک رات کے نشے میں اڑا دے گا۔”
“ہم بس یہ چاہتے ہیں کہ یہ پہلے بندے کا پتر بنے، پھر اپنی زمین سنبھالے۔
،نمبردار نے تیکھی نظروں سے کرم داد کو دیکھا اور بولا
یار! اس نے شادی کر لی ہے، اس کی اب ایک زندگی ہے۔ وہ کرائے کے ایک بدبودار فلیٹ میں ذلیل ہو رہا ہے۔”
“تم لوگ چپ چاپ اس کی زمین اس کے حوالے کرو، ورنہ میں اچھے سے جانتا ہوں کہ تم دونوں کے حلق سے زمین کیسے نکالنی ہے۔
نمبردار کا جاہ و جلال پورے گاؤں میں مشہور تھا۔ وہ جتنا سخت تھا، اتنا ہی اصول پسند بھی تھا۔ وہ کسی کا حق دبانے والوں کے لیے لوہے کا چنا ثابت ہوتا تھا۔ کرم داد اور رحم داد اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے کہ چوہدری کے فیصلے کے سامنے سر اٹھانا اپنی ہی جڑیں کاٹنے کے مترادف ہے۔
،کرم داد نے ہار مانتے ہوئے لہجے کو پست کیا
“ٹھیک ہے چوہدری صاحب! آپ کا حکم سر آنکھوں پر۔ ہم اسے زمین دے دیتے ہیں، مگر کیا ضمانت ہے کہ یہ ہمارے باپ دادا کی محنت کو نشے کی نذر نہیں کرے گا؟”
،نمبردار نے نظریں گھما کر نقیب کی طرف دیکھا
“ہاں وئی نقیبیا! کیا کہتے ہو پھر؟”
نقیب نے فوراً مکر و فریب کی چادر اوڑھ لی اور روہانسی آواز میں بولا،
“چوہدری صاحب! خدا کی قسم لے لیں، میں نے نشہ چھوڑ دیا ہے۔ اب تو بس کبھی کبھار سگریٹ پی لیتا ہوں، اس کے سوا کچھ نہیں۔”
،نمبردار نے ایک طنزیہ ہنکارا بھرا
ہاں! وہ تو تیری ان سرخ آنکھوں سے صاف دکھائی دے رہا ہے کہ تو نے کتنا نشہ چھوڑا ہے۔” نقیب کچھ مزید صفائی دینا چاہتا تھا مگر نمبردار کے ہاتھ کے اشارے نے اسے خاموش کر دیا۔”
،نمبردار دوبارہ کرم داد کی طرف متوجہ ہوا
“کرمو! زمین تو دینی پڑے گی۔ میں اپنے جیتے جی یہ ناانصافی نہیں ہونے دوں گا۔”
،دونوں بھائیوں نے ایک دوسرے کو ایک معنی خیز نظر سے دیکھا۔ انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ اب بچ نکلنے کا کوئی راستہ نہیں، اس لیے انہوں نے ایک نیا پینترا بدلا۔ کرم داد بولا
چوہدری صاحب! آپ کا حکم ٹالنا ہمارے بس میں نہیں۔ مگر ایک احسان کریں، ابھی اسے ساری زمین نہ دلوائیں۔ اسے گھر بنانے کے لیے دس مرلے دے دیتے ہیں۔”
“اگر ایک سال تک اس نے شرافت دکھائی اور ہمیں لگا کہ یہ سنبھل گیا ہے، تو باقی زمین بھی اس کے حوالے کر دیں گے۔”
،نمبردار نے چند لمحے سوچا اور پھر اپنا حتمی فیصلہ سنایا
“ٹھیک ہے! اسے ابھی دس مرلے زمین دو، لیکن ایک اور بات… اسے وہاں دو کمرے بھی تیار کر کے دو تاکہ یہ اپنی بیوی کو لے کر وہاں آ سکے۔”
“اس فیصلے نے دونوں بھائیوں کے ہوش اڑا دیے۔ کرم داد نے پریشانی سے کہا، “مگر چوہدری صاحب! ہمارے پاس اتنے پیسے کہاں کہ ہم اسے مکان بنا کر دیں؟
“اوئے! تم لوگ اس کی زمین پر سانپ بنے بیٹھے ہو اور اپنے باپ کے بنائے ہوئے بڑے مکان پر بھی قابض ہو۔ کیا اس غریب کو دو کمرے بنا کر دینا تمہاری اوقات سے باہر ہے؟”
نمبردار کی گرج نے انہیں سہمنے پر مجبور کر دیا۔
“…رحم داد نے دوبارہ کچھ کہنا چاہا، “پر چوہدری صاحب
زیادہ بڑ بڑ نہ کر! جو کہا ہے وہی ہوگا۔ دو کمرے بنا کر دو، بات ختم،” نمبردار نے فیصلہ سنا کر حقے کی نلکی دوبارہ سنبھال لی۔”
جی ٹھیک ہے چوہدری صاحب! جیسے آپ کی مرضی،” کرم داد نے بوجھل دل کے ساتھ ہتھیار ڈال دیے۔”
نقیب کے دل میں اس وقت لڈو پھوٹ رہے تھے۔ اس نے تو صرف زمین کی پیمائش کا سوچا تھا تاکہ عائشہ کو دکھا کر اس کا اعتبار جیتا جا سکے، مگر یہاں تو قدرت اس پر مہربان ہو رہی تھی۔ اب اسے عائشہ کے زیور سے حاصل ہونے والی رقم مکان کی تعمیر پر خرچ کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اس کے ذہن میں شیطانی حساب چلنے لگا۔ اب عائشہ کا زیور اگلے چھ ماہ تک اس کے سفید نشے کی ضمانت بن چکا تھا، جبکہ گھر اسے مفت میں ملنے والا تھا۔ وہ نظریں جھکائے بیٹھا تھا، مگر اس کے اندر ایک ہولناک فاتحانہ مسکراہٹ جنم لے رہی تھی۔
°°°°°°°°°°
…جاری ہے
